Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 29

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

شہیر کی غیر موجودگی میں احمر چوہدری ہسپتال میں داخل ہوا تھا جہاں وہ نازک صفت لیکن مضبوط کردار کی مالک لڑکی دوائیوں کے زیرِ اثر نیند کی وادیوں میں تھی۔

وہ خاموشی سے چلتا بیڈ تک آیا تھا اور خاموش نظروں سے اس کے وجود کو دیکھنے لگا اس خوبصورت ماہ جبین سے چہرے کو آکسیجن ماسک نے ڈھکا ہوا تھا وہ بس ٹکٹکی باندھے اس کے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں بیٹھا رہا تھا کہ بے ساختہ طور پر اس کی نظر سحر کے جلے ہوئے ہاتھ پر گئی تھی۔

“چ۔۔۔چھوڑ۔۔۔چھوڑیں ۔۔م۔۔میرا ہاتھ۔۔۔۔”

اس کے مضبوط ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکلوانے کی کوشش کر رہی تھی۔

“کیوں چھوڑ دوں ؟؟”

سحر کے ہاتھ پر مزید دباؤ بڑھائے بولا ، کہ اسکی سسکی نکلی تھی۔۔

“م۔۔مجھے ر۔۔۔روٹی بنانی ہے۔۔۔”

ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی وہ اٹک اٹک کر بولی تھی …

“اووووووووووو۔۔۔۔”

کچھ سوچتے اس کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں آنسوں بہنے کو بے تاب تھے کچھ سمجھنے کا موقع دیے بنا اسکا ہاتھ اس تیز جلتے توے پر رکھا تھا پوری حویلی میں تقریباً سحر کی چیخیں گونج رہی تھیں۔

کیا کچھ نہیں یاد کرایا تھا اس منظر نے ، “یہ وہی ہاتھ تھا جسے احمر چوہدری نے آج سے کچھ سال پہلے اپنے ہاتھوں میں لئے جلایا تھا تب اسے اس لڑکی کی تکلیف و آنسوں کی بالکل پرواہ نہیں ہو رہی تھی تو پھر آج کیوں ؟

آج کیوں وہ سحر کی ، اس تکلیف کو محسوس کر پا رہا تھا۔

کیا کچھ بدلا تھا ان گزرے ماہ و سال میں؟

احمر چوہدری یا پھر اس کے دلی جذبات ؟

اس کا فیصلہ ، خود احمر کو کرنا تھا جو کہ اس کے لئے خود نا ممکن سا تھا کیونکہ انا و خود غرضی نے اس کے پورے وجود سمیت اس کی روح کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔

“تم کتنی اچھی ہو نا اور ساتھ ہی نرم دل ! کاش اس بات کا اندازہ مجھے کچھ سال پہلے ہو جاتا تو تمہیں کبھی تکلیف نا دیتا۔ “

گہرا سانس بھرتے کرب و اذیت سے سوچا تھا چوہدری احمر نے ساتھ ہی ایک آنسوں بے مول ہو کر گرا تھا اس کی آنکھ سے۔

وہ بس لبوں کو بھینچے ، خود پر ضبط کیے اس کے چہرے کو تکتا جا رہا تھا کہ نرس کے اندر داخل ہونے پر وہ اس خواب ناک ماحول سے لوٹا تھا وہ رکنا چاہتا تھا وہاں لیکن نرس کی موجودگی کو محسوس کیے خاموشی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

آنکھ یہ نم ہے ٹوٹا بھرم ہے

تو ہی وجہ ہے یہ تیرا کرم ہے

©©©

“کہیں جا رہی ہو تم ؟ “

چوہدری احمر کمرے میں داخل ہوا تو عمارہ کو نک سک سا تیار ہوتے دیکھ کافی حیرانی کے عالم میں پوچھا۔

“ہاں جی ! ہسپتال جا رہی ہوں ، سحر کا پتہ کرنے۔”

ڈوپٹے کو خود پر سیٹ کرتی ساتھ ہی اپنا سراپا شیشے میں دیکھ وہ مصروف سے انداز میں بولی تھی کہ احمر کی اگلی بات پر اس کا ڈوپٹہ سیٹ کرتا ہاتھ تھما تھا۔

“اچھا ! مگر کس کے ساتھ ؟ کیونکہ میں تو بالکل تمہیں وہاں نہیں لے کر جاؤں گا .”

سنجیدگی سے کہتا وہ وہیں پاس رکھے صوفے پر براجمان ہو چکا تھا۔

“شہیر بھائی کے ساتھ ۔”

کندھے اچکاتے کہا تھا ساتھ ہی احمر کی آنکھوں میں دیکھ مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی۔

“بیٹھ جاؤ ! آرام سے کہیں نہیں جانا تم نے۔”

غصیلی لہجے میں کہتا وہ اپنا سر صوفے کی بیک پر ٹکا گیا تھا۔

“احمر آپ کی بھابھی ہسپتال میں ہیں ہمیں جانا چاہیے۔

میں تو یہ کہوں گی کہ شہیر بھائی کے بجائے ، یہ آپ کا فرض ہے کہ مجھے لے کر جائیں۔”

“عمارہ ! خدا کا واسطہ سمجھ جایا کرو بحث نہ کرو مجھے نہیں جانا کہیں بھی اسلئے اب دوبارا بحث نہ کرنا۔”

وارن کرنے کے سے انداز میں کہتا وہ سگار جلائے اس کے گہرے گہرے کش لیتا خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

“آپ سحر سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ بھابھی ہے وہ آپ کی۔”

“بھابھی نہیں ! سابقہ بیوی جسے تمہارے ہی کہنے پر طلاق دی تھی۔”

اب کے سگار کا ایک گہرا کش لگائے دھواں عمارہ کے چہرے پر چھوڑا تھا جب کہ وہ احمر چوہدری کی بات سن کر سناٹوں کی ضد میں آئی تھی۔

“م۔۔مطل۔۔مطلب ، و۔۔وہ ۔۔وہ ل۔۔لڑکی کوئی اور نہیں س۔۔سحر ہی تھی ؟”

بے یقینی ، ہی بے یقینی نمایاں تھی عمارہ کے چہرے پر ، جسے دیکھ احمر کے لبوں پر نا چاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ طاری ہو چکی تھی کیونکہ وہ جو چاہتا تھا ہو چکا ، اس کی کوشش تھی کہ عمارہ سحر سے بدگمان ہو جائے لیکن یہ صرف اس کی سوچ تھی۔

“او ! تو یہی وجہ ہے کہ آپ سحر سے اتنی نفرت کرتے ہیں؟”

لہجے میں افسوس سمیٹے وہ سامنے کھڑے لاپرواہ احمر چوہدری سے مخاطب ہوئی تھی۔

“نہیں ! کس نے کہا میں اس سے نفرت کرتا ہوں؟”

“تو پھر ! عزت بھی تو نہیں کرتے نا آپ ۔”

جواب دوبدو آیا تھا کہ احمر نے چند ثانیے کے لئے عمارہ کی جانب دیکھا لیکن پھر واپس ہی وہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔

“میں عزت کروں ، یا بے عزت ، نفرت کروں یا محبت یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے ڈرائنگ تم اپنے کام سے کام رکھو۔”

چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ ، سجائے احمر عمارہ کو تنبیہ کر رہا تھا لیکن وہ عمارہ ہی کہاں ، جو کسی کی سن لے۔

“اچھا تو پھر میں یہ سمجھوں کہ یہ جلن ہے جو آپ اپنے بھائی سے کرتے ہیں یا اپنی سابقہ بیوی سحر سے کہ ” وہ آپ کے بھائی کے ساتھ کتنی خوش ہے “

“عمارہ جسٹ شٹ اپ ! “

وہ پوری شدت سے چلایا تھا لیکن پھر بھی عمارہ کو کوئی فرق نہ پڑا تھا وہ آج احمر کے صبر کا امتحان لینا چاہتی تھی۔

“ویسے یقین جانیں ، اس کی حالت دیکھ کہیں سے نہیں لگتا کہ وہ آپ کی بیوی رہ چکی ہے احمر ، انہیں دیکھ تو کچھ ایسا گمان ہوتا ہے کہ وہ دونوں بس ایک دوسرے کے لئے بنے ہوں “

روانی سے کہتی وہ احمر چوہدری کے من میں آگ لگا گئی تھی اس سے پہلے وہ مزید بھڑکتا ساتھ والے کمرے آتی ، نورے بیگم کی چیخ نے دونوں کو متوجہ کروایا۔

عمارہ کو وہیں چھوڑ وہ دوڑتا ہوا نورے بیگم کے کمرے کی جانب گیا تھا جہاں وہ زمین پر بیٹھی ، گھٹنوں میں چہرا چھپائے چیختے ہوئے کانپ رہی تھیں۔

“ماں ! کیا ہوا آپ کو ؟”

ان کے پاس پہنچ وہ فکر مندی سے گویا ہوا تھا کہ احمر کی آواز سن نورے بیگم نے کانپتے ہوئے الماری کی جانب اشارہ کیا۔

“و۔۔وہا۔۔وہاں ا۔۔ار۔۔ارتضی ، ارتضیٰ ہے۔

و۔۔ہ۔۔وہ وہ م۔۔مجھے مار دے گا۔”

ان کی بات سن احمر نے الماری کی جانب دیکھا ، جہاں پر کوئی بھی نا تھا۔

“ماں وہاں کوئی نہیں ہے۔ سب ٹھیک تو ہے۔

مجھے لگتا ہے آپ کا وہم ہے۔”

اپنے لہجے کو نارمل رکھے وہ نورے سے مخاطب ہوا تھا لیکن احمر کی بات سن ، نورے بیگم نے کھا جانے والی نظروں سے احمر کو گھورا تھا۔

“میں نے جب کہا ہے کہ وہ تھا وہاں تو تمہیں سمجھ نہیں آتی۔”

احمر کے کارلر کو جھنجھوڑ وہ غرانے کے سے انداز میں بولی تھیں کہ احمر گھبرا گیا ان کی حالت دیکھ کر خوف و دہشت کی وجہ سے ان کا پورا چہرا پسنے سے بھیگا ہوا تھا۔

“م۔۔ماں ! ماں ریلیکس

آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں چلیں ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”

نورے بیگم کی طبعیت کو نارمل کرنا چاہا تھا اس نے لیکن ، احمر چوہدری کی بات سن ، وہ نظریں چراتے چڑچڑی سی ہوئی تھیں۔

“ن۔۔نہیں مجھے کہیں نہیں جانا ، ت۔۔تم جاؤ یہاں سے اور خبردار کسی کو ۔۔ک۔۔کمرے میں مت آنے دینا۔”

زبردستی احمر کو کمرے سے باہر نکال وہ دروازے کو لاک کر چکی تھیں اور ساتھ ہی ڈرتے ڈرتے الماری کی جانب آئیں اور اندر رکھی اپنی مطلوبہ چیز کو بے تابیِ سے تلاشنا شروع کیا اور بالآخر کافی لمحے ڈھونڈنے کے بعد وہ اپنی مطلوبہ چیز تک پہنچ پائی تھیں۔

جسے پیتے ہی وہ سکون کی وادیوں میں کھو سی گئی تھیں۔

©©©

سمجھے نا کوئی دل کو دکھا کے

جھکنا ہے آخر آگے خدا کے

ہسپتال کے کمرے میں لیٹی وہ سامنے لگی اس تصور کو بغور دیکھ تو رہی تھی لیکن سوچوں کا محور اسے ماضی کی دنیا میں لے جا چکا تھا جب وہ احمر چوہدری کی سلطنت و اس کی ملکیت میں ہوا کرتی تھی۔ کیسے وہ اس سے جانوروں کی مانند بدسلوکی کیا کرتا تھا کہ ان آنسوں پر بھی اس کا بس نہ ہوا کرتا تھا۔

آج سے کچھ سال پہلے ، یہی ہسپتال ، یہی کمرا ، یہی بستر اور قسمت تو دیکھیں لڑکی بھی وہی تھی جس کو کچھ سال پہلے احمر چوہدری لایا تھا برباد کرنے کو لیکن آج ، وہ برباد کرنے کے لئے نہیں لائی گئی تھی۔ اسی گھر کا فرد جو اس کا شوہر تھا وہ اسے لایا تھا دوبارا آباد کرنے کے لئے ، ایک نئی زندگی بخشنے کے لئے۔

کیا وہ خوش قسمت تھی ؟

یہ ایک سوال تھا جو اس کے ذہن میں نمودار ہوا ۔

ہاں وہ لڑکی واقعی خوش قمست تھی جس کی زندگی میں شہیر چوہدری جیسا فرد لکھ دیا گیا تھا۔وہ لڑکی کئی آزمائشوں سے گزر کر اس مرحلے پر پہنچی تھی کہ ہر کوئی اس پر رشک کرتا تھا۔

کچھ گھنٹے بعد اس کی سرجری تھی۔

یہ سوچتے ہی ایک طویل سانس اس نے ہوا کے سپرد کیا تھا۔

کن پھڑ کے دسناں چاواں

جیندے جی میں مردی جاواں

کوئی وی سنے نا میری

سوچوں کے محور سے باہر آئی تھی جب کسی کے قدموں کی چاپ کمرے میں محسوس کیں آنکھیں کھولیں تو سامنے وہی شہزادہ موجود تھا جس نے اس کو بچانے کے لئے اپنی جان تک کی بھی پرواہ نہ کی۔اپنی پری کو بچانے کے لئے خود کی جان جوکھوں میں ڈال آگ میں کود گیا۔شہیر کی محبت کی انتہاہ کو سوچ کبھی کبھار سحر کو دل بھر آتا تھا اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ روئے۔ زندگی نے اتنے زخم دئیے تھے اسے کہ اب وہ ہنسا بھول چکی تھی۔جب جب وہ زندگی کی جانب لوٹنے لگتی تھی کوئی نا کوئی ایک ایسا حادثا ہو جاتا تھا جس سے وہ واپس اپنے خیالات میں چلی جایا کرتی تھی۔

اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیر اس کو ٹیک لگوا کر صحیح سے بیٹھایا تھا۔

“یہ دیکھو میں آپ کے لئے لئے اسپیشل سوپ بنا کر لایا ہوں۔

آپ کو بہت پسند ہے نا ، ویجی سوپ ؟”

اس کی آنکھوں میں دیکھ مسکرا کر کہا تھا ساتھ ہی سوپ کا چمچ اس کے لبوں کے قریب کیا جسے وہ خاموشی سے پی گئی تھی۔

“یہ سوپ آپ نے خود بنایا ہے ؟”

شہیر کی جانب دیکھ وہ حیران کن لہجے میں بولی تھی وہ مسکرا کر رہ گیا۔

“بالکل بیگم جانی ! ویسے کیسا لگا ؟”

بھنونے اچکائے وہ تعریف وصول کرنے کے انداز میں بولا تھا کہ سحر ہنس دی تھی۔

“بہت شاندار ! لیکن یہاں ہسپتال میں آپ نے کیسے ؟ “

“اف ہو ، گھر سے بنا کر لایا ہوں ، ٹینشن نہ لیں اب جلدی سے اسے ختم کرنا ہے اس کے بعد جانتی ہیں نا آپ کی ہاتھوں کی سرجری ہے۔”

“جی ! “

جواباً وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی۔ کیونکہ کچھ دیر پہلے جو اس کے لبوں پر مسکان تھی وہ کچھ یاد آنے پر سمٹ کر رہ گئی۔

جسے شہیر محسوس کر گیا تھا تب ہی اس کا دھیان بھٹکانے کے لئے مزید باتیں کرنے لگا۔

“ویسے سردارنی صاحبہ ، بہت ہی غلط بات ہے اکیلے اکیلے سوپ پی رہی ہیں یہ نہیں کہ بندہ بیچارے غریب شوہر سے ہی پوچھ لے۔”

وہ مصنوعی خفگی ظاہر کرتے بولا کہ سحر بے ساختہ مسکرا دی تھی شہیر کے چہرے پر اتار چڑھاؤ دیکھ۔

“ہاہاہا آپ کو ملنا بھی نہیں کیوں کہ سوپ ختم ہو چکا ہے “

وہ ہنستے ہوئے بولی تھی کہ شہیر بھی مسکرا دیا اور پورے مان کے ساتھ جھک اپنے لب سحر کے ماتھے پر پیوست کیے۔

“ان شاءاللہ اب میری جان جلد ہی بہتر ہو جائیں گی۔ “

شہیر کا مان ، اس کے ہونے کا احساس سحر کو نئے احساسات سا آشنا کروا رہا تھا۔

میں عشق تے کر لیا ہے مینوں وفا چاہیے

اکھیاں نوں تیری دید دی پناہ چاہیے۔