Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 4

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

“سحر کی آنکھ درد کی ٹیس اپنے سر پر محسوس کیے کھلی تھی”….

“اپنے دکھتے سر پر ہاتھ رکھے مندی مندی آنکھیں کھولیں تو خود کو صوفے پر لیٹے پایا تھا “…

“اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے”…؟؟؟

” کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے دماغ پر زور نہیں دے نہیں پا رہی تھی”….

“لیکن جیسے ہی اسکی نظر بیڈ پر ٹانگ پہ ٹانگ دھر کے بیٹھے احمر پر گئی “…

“جو ایک ہاتھ سر کے پیچھے رکھے جبکہ دوسرے سے سیگریٹ پھونکتے اس کی ہی جانب دیکھ رہا تھا”….

“ادھر آؤ”…!!!

“سگار منہ میں دبائے شہادت کی انگلی اٹھائے اپنے پاس آنے کا حکم دیا تھا اسے”…

“جبکہ سحر اسے ہراساں نظروں سے دیکھ رہی تھی”….

“کیونکہ کل صبح کا واقع اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا”…

“ارمان کا آنا”….

“اسکا ملنا “….

“پھر احمر کی لڑائی”…

“اور آخر میں …

“اسکو بری طرح دیوار پر مارنا”……..

“سب مناظر ایک ایک کر کے اسکے سامنے آنے تھے”..

“ادھر آؤ”….

“اب کے تھوڑا دھاڑ کر بولا تھا”…

“کہ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے قدم سست روی سے اٹھانے لگی تھی”….

©©©

“وہ خوبصورت فل سائز شیشے کے سامنے کھڑی خود کے عکس کو دیکھ رہی تھی”….

“لال رنگ کی فراک پر گولڈن رنگ کی خوبصورت چنری اوڑھے وہ کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی”…

سائڈ ڈریسنگ پر رکھی گئی چوڑیاں اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں پہنی تھیں”…

پھر کاجل کو اٹھا کر اپنی آنکھوں کی زینت بنایا جس کے باعث وہ مخمور آنکھیں مزید دلکش لگنے لگی تھیں”….

“پھر اپنے ہونٹوں کو ہلکے گلابی رنگ کے گلوز سے رنگا تھا”…

“جس سے چہرے پر ایک نیا نکھار آیا تھا”….

“جانچتی نظر خود کے وجود پر ڈالی تھی “…

“بے شک وہ خوبصورت دیکھ رہی تھی لیکن اسکے چہرے پر کوئی خوشی اور آنکھوں میں کوئی چمک نہ تھی”…

“جو ایک روایتی دلہن کے چہرے پر ہوتی ہے “…

“بلکہ اسکے بر عکس اسکی آنکھیں پھیکی اور چہرا مرجھایا ہوا معلوم ہو رہا تھا”….

آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے

اور زخم جدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا

©©©

“دستک بنا آئے غم بھی عجیب ہے

جانتے نہیں ہیں ان کو پھر کیوں نصیب ہیں”….

“وہ اس انجان سڑک پر بے خود سا چلتا جا رہا تھا”…

“وہ نہیں جانتا تھا اس کے قدم اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں “…

“کیونکہ وہ ایک بد نصیب شخص تھا”….

“جس کی قسمت نے اسکے ساتھ مزاق کیا تھا”…..

“نیلے رنگ کی شرٹ پر کالی جینس زیب تن کیے بکھرے بالوں کے ساتھ وہ کافی غمگین معلوم ہو رہا تھا”….

“اسکی انجانے میں کی گئی غلطی کی سزا اسکی بہن کاٹ رہی تھی”…

“وہ آس پاس سے بے خبر چلتا جا رہا تھا “…

“اسکو پرواہ نہیں تھی اپنی جان کی”….

“وہ چلتی ٹریفک کے بیچ میں کھویا کھویا سا چل رہا تھا “….

“کہ سامنے سے آتے ٹرک کو بھی نہ دیکھ سکا”..

“جو کہ ہارن بجا بجا کر اسے الرٹ کر رہا تھا”….

“وہ شائد جان بوج کر اگنور کر رہا تھا بس چلتا چلا جا رہا تھا”….

“ٹرک اس کے بہت نزیک آ چکا تھا”…

“اس سے پہلے کے وہ ٹرک ارمان کو کچلتا کسی نے کھینچ کر اسے سائڈ پر کیا تھا اور کھینچ کر اس کے منہ پر تمانچہ رسید کیا”…..

“ارمان کے ہاتھ میں موجود بیگ سائڈ پر جا گرا تھا”…

“شہیر جو شاپ سے کچھ سامان لے کر واپس گاڑی میں بیٹھ رہا تھا کہ اس کی نظر دور ایک لڑکے اور کب سے ہارن بجاتے ٹرک پر پڑی جو اس ٹرانس سی کیفیت میں چلتے لڑکے کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا”……

“لڑکے کو ہٹتے نہ دیکھ وہ جلدی سے بڑھا تھا وہاں”…

“اور اس کو کھینچ کر سائڈ پر کیا تھا”…

“لڑکے پاگل ہو گئے ہو کیا تم”….؟؟؟

“جو یوں بیچ سڑک میں کھڑے اپنی جان دینے پر تلے ہو”..؟؟؟

” اپنے ماں باپ کی زندگی کو عذاب بنانے کا زیادہ شوق ہے”….؟؟؟؟؟

“وہ تیش میں آئے غصے سے چیخ رہا تھا اس پر”….

“ب۔۔بھائی کیوں بچایا ہے مجھے آپ نے”…؟؟

“مر جانے دیتے “….

“ایسی زند۔۔زندگی نہیں چاہیے مجھے جس میں ، میں اپنی بہن کی زندگی کو برباد ہونے سے نہیں بچا سکوں”…..

“وہ رو رہا تھا”……

“اسکی آواز بھاری ہو رہی تھی لہجے میں بہت کرب تھا” ۔۔

“دیکھو میں نہیں جانتا تمہاری بہن کے ساتھ کیا ہوا ہے “…

“مگر تمہاری باتوں سے یہ اندازا تو ہو گیا ہے کہ جو ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا”….

“اور اسی سب سے مایوس ہو کر تم یہ قدم اٹھا رہے ہو جو کہ گناہ ہے”….

“اللہ پر صبر رکھو قہ ضرور تمہاری مدد کرے گا”….

“اب جلدی سے اپنے گھر کا پتہ دو”…

“تاکہ تمہیں تمہاری منزل پر چھوڑ دوں”….

“اسکے شانوں پر ہاتھ رکھے شہیر نے ارمان سے کہا تھا”….

“چھوڑ آیا ہوں اس گھر “…

“اس علاقے کو”…

“جہاں میری بہن کو جیتے جیتے جہنم میں پھینکا گیا ہے”…

“بنا کسی گناہ کے”….

“کہتے اسکی آواز رندھ سی گئی تھی”….

“شہیر نے بغور اسے دیکھا”…

“آج پہلی بار ایک بہن کے لئے کسی بھائی کو روتے دیکھا تھا اس نے”….

“شہیر نے خاموشی سے اسے شانوں سے تھاما اور گاڑی کی جانب لے گیا”..

©©©

“اٹھاؤ انہیں”….

“نیچے جلا کر پھینکی گئی سیگرٹوں کی جانب اشارہ کیے بولا تھا جو کہ تعداد میں کافی زیادہ تھیں”…

“بنا اسکی جانب دیکھے وہ جھک کر وہ سیگرٹوں کو اٹھانے لگی تھی جس میں جلی اور بجھی ہوئی دونوں ہی موجود تھیں”….

“وہ فرصت سے اسکو بیٹھے سیگریٹ کا کچرا اٹھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا “…

“کہ کل اسکا ارمان کے پاس جانا”…

“اسکے گلے لگ کر رونا “…

“وہ سب یاد آیا تو آنکھوں میں سرخی سی گھلی تھیں”…

“تم کسی غیر مرد کے گلے لگی تھی”…؟؟؟

“وہ بھی احمر چوہدری کے نکاح میں ہوتے ہوئے”..؟؟؟

“اسکے جوڑے میں مقید بالوں کو اسطرح سے اپنی گرفت میں لیا تھا کہ ماتھے پر کی گئی پٹی بھی ڈھیلی پڑی تھی “….

“و۔۔۔وہ غ۔۔غیر ن۔۔نہیں م۔۔میرا ب۔۔بھائی ہے”….

“درد کو برداشت کیے وہ مقابل کی آنکھوں میں دیکھ بولی “….

“سگا تو نہیں ہے نا”…؟؟؟

“اسکی آنکھوں میں دیکھ طنزیہ بولا تھا”….

“جبکہ آنکھوں میں آگ کا جہاں آباد تھا”…

” ،”اگر اسے میرا بھائی نہیں مانتے”…..تو اس کے حصے کا بدلہ مجھ سے کیوں لیا جا رہا ہے”…

“لہجہ نم جب کہ آنکھیں بند تھیں”….

©©©

“وہ اپنے خیالوں میں کھوئی کسی گہری سوچ میں محو تھی”….

“آج تک ان دونوں بہنوں کی ملاقات فاتح سے نہ ہوئی”….

“تو وہ کیسے جانتے تھے مشل کو “…

“یا اگر ان کی ملاقات ہوئی ہے تو کہاں پر”….؟؟؟

“کیونکہ آج تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ اکیلی گئی ہوں”….

“ایسے ہی کئی سولات تھے جو پشمینہ کے ذہن پر سوار تھے”…

“اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا جب فاتح اپنی کل رات والی ہی حالت میں روم میں داخل ہوا”….

“بکھرے بال ، لال آنکھیں چہرے پر چھائی کرخت سنجیدگی”……

“وہ اپنے لبوں پر قفل لگائے داخل ہوا تھا اور خاموشی سے ہاتھ میں موجود کوئی چیز پٹخنے کے سے انداز میں ٹیبل پر رکھی تھی اور اپنے کپڑے الماری سے نکالے واشروم میں چلا گیا”….

“اس نے ایک غلط نگاہ پشمینہ پر ڈالنا گوارا نہ کیا تھا”….

“اتنا تو شکوہ خود سے ہے مجھ کو

ملنے سے پہلے جانا نہ تجھ کو “

“تھوڑی دیر میں وہ فریش ہو کر باہر آیا تو پشمینہ کو اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ اسکے ماتھے پر شکنیں نمایاں ہوئی تھیں”..

“تم گئی نہیں ابھی تک”….؟؟؟؟

“بالوں کو تولیے سے رگڑتا وہ بے زاری سے بولا “….

“ک۔۔کہاں”…؟؟؟

“وہ نا سمجھی سے گویا ہوئی تھی”….

“تمہاری بہن اور پاپا آئے ہیں نیچے”…

“فاتح کی بات سن اس نے خوشی سے باہر قدم بڑھائے لیکن اس کے وہ بڑھتے قدم تھم گئے تھے جب فاتح نے اس کی کلائی سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا”….

“کدھر “…؟؟؟؟

“میں نے کہا ابھی جانے کو”….؟؟؟

“بھنونے اچکائے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ بولا تھا”…

“جس کی پلکیں فاتح کی اتنی نزدیکی پر جھکی ہوئی تھیں جبکہ دل کی دھڑکنیں تیز رفتار سے دھڑک رہی تھیں”…..

“آ۔۔آپ نے کہا کہ پاپا اور مشل آئے ہیں”…

“وہ جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ بولی تھی”…

“ہاں میں نے بتایا ضرور ہے مگر جانے کا نہیں کہا”…

“کہتے اس کو آئینے کے سامنے کھڑا کیا اور ڈرسینگ پر رکھے گئے باکس میں میں ایک بھاری نفیس ہار نکال اس کی دودھیا سراہی دار گردن کی زینت بنایا”….

“اگر کوئی تم سے رونمائی کے تحفے کا پوچھے تو یہ سیٹ تم اسے دیکھاؤ گی”…..

“بے شک دیکھاوے کے لئے صحیح لیکن تم بتاؤ گی”….

“ہار کا ہک باندھتے وہ آئینے میں سے نظر آنے والے اسکے خوبصورت سراپے پر نظر ڈالے بولا”….

“ہار پہنانے کے بعد اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا”…

“چہرے پر پھیلے ان ملائم گھنے آبشار جیسے بالوں کو کان کے پیچھے کیا اور ایک ایک کر کے وہ جھمکے اس کے کانوں کی زینت بنائے”…..

“تمہارے چہرے پر جو یہ بارہ بجے ہیں”….

“ایسا روڈ فیس میں بالکل نہیں مانگتا “…..

“اسلئے تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ جب تم نیچے جا کر اپنی بہن اور باپ سے ملو تو اپنا موڈ ٹھیک رکھو”…..

“کیونکہ تمہارے باپ کی نظروں میں میرا ایک ایمیج بنانا ہے جسے میں قائم رکھنا چاہتا ہوں”….

“ان سے ملو گی تم مسکراتے ہوئے”……

“ایسا شو کرو گی جیسے تم خوش ہو”…….

“اسکے کان کے پاس جھکے وہ گھمبیر مگر سخت لہجے میں بولا تھا”….

“جبکہ اسکی بات سن پشمینہ نے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا اسے”….

“چلو اب”….

“اسکے ہاتھوں کو تھام وہ باہر کی جانب بڑھا تھا”……

©©©

“سحر کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن اس ستمگر کو کیا پرواہ”…..

“اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا”…

“نہ ان انسوں سے نہ اس کے زخموں سے”…

“جب تم یہاں اس حویلی میں لائی گئی ہو تو تمہارے سارے رشتے ختم کر دیے گئے تھے”…

“پھر بھی تم اسکے ساتھ رابطے میں تھی میرے بھائی کے قاتل کے ساتھ”….

“جب کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ بات بدل گیا تھا لیکن اسکو تکلیف دینا نہ بھولا تھا”……

“م۔۔میں رابطے میں ن۔۔نہیں تھی”…..!!

“…و۔۔وہ خود آیا تھا”….

“اووو”….؛!!

“سیریسلی”….

“ہونٹوں کو گول شکل میں موڑے کہا تھا اور ساتھ ہی ایک تمانچہ اسکے گال پر رسید کر گیا “…

“پاگل سمجھا ہے مجھے”……..

“بے و قوف ہوں میں”…؟؟؟؟؟؟

“تم ہی نے بلایا تھا اسے”…

“ورنہ جہاں کسی کی لڑکی ونی کی گئی ہو ان کے گھر والے خود نہیں آتے جب تک انہیں بلایا نہ جائے”…..

“اس کو دھکا دیا تھا پیچھے کی جانب “….

“اور خود پر سکون سا ہو کر بیڈ پر بیٹھا تھا”……..

“وہ نا سمجھی کی کیفیت میں بیٹھی تھی اس ماربل کے فرش پر “…..

“سحر”…..

“وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ وہ گھبرا کر یکدم ہی پیچھے ہوئی تھی اسکی آنکھوں میں اسکا خوف صاف نمایاں ہو رہا تھا”……

“اس کمرے میں احمر چوہدری کا قہقہ گونجا تھا”…….….

“اچھا ہے”….

“خوف اچھا ہے”….

“ان آنکھوں میں یہ خوف اچھا ہے”….

“ایسا ہی خوف ہر غلام اور باندی کی آنکھوں میں ہونا چاہیے اپنے مالک کا”….

“سیگریٹ کا دھواں اسکے چہرے پر چھوڑ کہا تھا اس نے”…

“جبکہ وہ کھانستے ہوئے تھوڑا پیچھے کھسکی تھی”…

“غداری کی سزا ملے گی تمہیں”…

“ہائے اللہ”… اب کون سی سزا”…؟؟؟

“اس کے دل سے با ساختہ یہ آواز آئی تھی”…..

“لیکن ایک آواز دماغ سے بھی رونما ہوئی تھی”….

“کہ وہ تو آئی ہی یہاں سزائیں جھیلنے کے لئے ہے”….

“ان گناہوں کی سزا جو اس نے کبھی کیے ہی نہیں”……

“غداری کی سزا”…

“احمر کی آواز خیالوں سے باہر نکال لائی تھی اسے”….

“احمر چوہدری کے ساتھ غداری کی سزا”….

“پورے دو دن اس کمرے میں رہو گی “…

“بنا کھائے پیے”…

“یہاں پر رہتے ہوئے میرا ہر کام کرو گی”….

“اگر یہاں سے باہر نکلی تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا”……

“عجیب سی سزا سنائے وہ تو جا چکا تھا مگر اسے پیچھے سوچوں کے محور میں چھوڑ گیا تھا”….

“اے خدا تیرے سوا میرا یہاں محرم کوئی نہیں

گھاؤ ہیں کیا کیا میرے دل پر لگے مرہم کوئی نہیں” ..

©©©

“اسلام وعلیکم”…

“وہ دونوں نیچے آئے تھے جہاں منصور صاحب بیٹھے انہیں کا انتظار کر رہے تھے”…

“جبکہ مشل تو آنکھیں بڑی کیے وہاں کی ڈیکوریشن دیکھ رہی تھی”….

“وہ ریزورٹ چھوٹا سا تھا لیکن کافی خوبصورت اور دلکش تھا”…

“وعلیکم السلام”…

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ”…

“جیتے رہو”….

“منصور صاحب فاتح سے بگل گیر ہوئے پشمینہ کے پر پہ پیار دیتے ہوئے بولے”…..

“جب کہ اپنے جیجا کے روپ میں فاتح کو دیکھ مشل کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھیں”…..

“بیٹا آج آپ دونوں چلے جائیں گے اسلئے ہم ایک رسم کے طور یہ سب لائے ہیں کیونکہ جہیز تو آپ نے لینا گوارا نہ کیا “…

“لیکن ایک باپ کی خوشی کو سمجھتے ہوئے یہ سب رکھ لیں”…

“تو مجھے خوشی ہو گی”…..

“انہوں نے ٹیبل پر رکھی گئی چیزوں کی جانب اشارہ کیا “… جن میں خشک میوہ جات ، موسمی پھل اور دوسری تیسری بہت سی چیزیں جیسے نئے کپڑے اور دوسری ضروریات کا سامان تھا “….

“بہت بہت شکریہ اس نوازش کا انکل”….

“وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا”…..

“پشمینہ ناشتہ لگاؤ جا کر پھر جانا بھی ہے ہمیں”….

“ہاتھ میں موجود گھڑی پر ایک نظر ڈالے پشمینہ سے کہا تھا جو کہ اثبات میں سر ہلائے مشل کے ساتھ کیچن کی جانب روانہ ہوئی”….

“مینہ”….

“یار کتنی خوبصورت سجاوٹ کروائی ہے بھائی نے”….

“وہ پورے ریزورٹ کو پھولوں ، لائٹ اور موم بتیوں سے سجا دیکھ بولی تھی”…

“اس سجاوٹ کو دیکھ ایسا لگ رہا ہے جیسے بھائی بہت رومینٹک ہیں”…

“پشمینہ کے چہرے کو دیکھ وہ آنکھ ونک کیے بولی تھی”….

“ہاں ب۔۔بہت “…

“تمہاری سوچ سے بھی زیادہ”…

“لبوں پہ تلخ مسکان لہجے میں اذیت سموئے وہ کھوئے ہوئے “….

“جسے منہ سائڈ پر ہونے کے باعث مشل غور نہ کر سکی”…

“یار ویسے تم دونوں کا کپل کتنا اچھا لگتا ہے”….

“تم جا کر انہیں اور پاپا کو بلا لاؤ”….

“مشل کی بات اگنور کیے بولی تھی کہ وہ مصنوعی گھوری سے دیکھتے باہر گئی تھی”….

©©©

“احمر “…

“وہ ونی کہاں ہے بلا اسے زرہ میرے کپڑے استری کرنے ہیں “…

“مونچھوں کو تاؤ دیے وقاص چوہدری اپنے ازلی غرور کے ساتھ بولے تھے”….

“بابا سائیں وہ نہیں آئے گی”…

“ان ہی کے چارپائی پر انہیں کے ساتھ بیٹھے احمر چوہدری بولا تھا”…

“جب کہ احمر چوہدریوں کی بات سن چوہدری وقاص کے ماتھے پر شکنیں نمایاں ہوئی تھیں”….

“احمر چوہدری تم اس ونی کی طرف داری کر رہے ہو”…؟؟؟؟

“اپنی بڑی ماں کا ہمدردی کا بھوت تمہارے دماغ پر بھی سوار ہو چکا ہے”…؟؟؟

“یا بھول گئے ہو اپنے بھائی کے خون کو “…؟؟؟؟

“ماتھے پر بلوں کے جال بچھائے وہ نہایت کرختگی سے بولے تھے”…..

“بابا سائیں” ۔۔۔۔

“میں کچھ نہیں بھولا”…..

“سب یاد ہے مجھے اور کوئی ہمدردی کا بھوت نہیں چڑا مجھ پر”….

“احمر چوہدری سب بھلا سکتا ہے مگر اپنے بھائی کا خون اور اپنی بے عزتی نہیں”….

“آنکھوں میں چھائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے باپ سے مخاطب ہوا تھا”…..

” کہاں ہے وہ “…؟؟؟؟

“ہکے کا ایک گہرا کش لیے ہوا کے سپرد کرتے وہ احمر سے مخاطب ہوئے”….

“بس یوں سمجھ لیں اپنی اصل جگہ پر ہے”…..

“چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے ان کی جانب دیکھا تھا اس نے”….

“احمر کی بات کا مطلب سمجھ چوہدری وقاص کے چہرے پر بھی شیطانیت سے بھرپور مسکراہٹ آئی تھی”….

“شاباش”……..

“آج تو نے ثابت کر دیا ہے کہ تو ہمارا بیٹا ہے”……

“اس کے کاندھے کو تھپکا تھا انہوں نے”….

” وہاں میدان میں دونوں باپ بیٹے کا قہقہ گونجا تھا”…..

“اس بات سے انجان کہ یہی قہقے بہت جلد اذیت اور آنسوں میں بدلنے والے ہیں کیونکہ جو قہقہ کسی دوسرے کو تکلیف دینے پر لگائے جاتے ہیں بعد میں وہی قہقے بدل جاتے ہیں چیخ و پکار میں”….

“مشل وہ ٹیشو دینا”….

“پشمینہ نے مشل سے کہا تھا جس کے سامنے ہی ٹیشو باکس رکھا تھا”…

“او ہو “…

“مینہ “…!

“کیوں تنگ کر رہی ہو اسکو “..؟

“جب میں ہوں تمہارے پاس”…

“کہتے فاتح نے پاکٹ میں موجود ٹیشو نکال کر پشمینہ کا چہرا صاف کیا تھا”….

“جبکہ پشمینہ حیرانی سے فاتح کی اس عنایت کو دیکھ رہی تھی اپنے سرخ چہرے کے ساتھ “…

“کیا دکھاوا کرتا تھا وہ شخص “…

“اسکے باپ کے سامنے”…..

“وہ بس سوچ کر رہ گئی تھی “…

“اب کھاؤ دھیان سے”….

“ٹیشو سائڈ پر رکھے اس کو مسکراتے ہوئے تنبیہ کی تھی “…

“م۔۔میں ب۔۔بس “….

“کہتے وہ کھڑی ہو گئی تھی اور باہر کی جانب چل دی”…….

“منصور صاحب دل سے مسکرائے تھے فاتح کی فکر دیکھ “….

“ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہوا تھا فاتح کا رویہ پشمینہ کے ساتھ دیکھ کر لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب دکھاوا تھا “….

“انہیں دھوکہ دینے کے لئے”…..

©©©

“زمینوں سے لوٹ کر احمر جب کمرے میں داخل ہوا تو سحر کو اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ ماتھے پر شکنیں نمایاں ہوئی تھی”….

” تم نے ابھی تک کپڑے نہیں دھوئے”…؟؟؟؟

“نخوت سے اسکے وجود کو تکتے ہوئے کہا تھا”…..

“و۔۔وہ ….

“میری باتیں بکواس ہوتی ہیں جو تمہاری سمجھ میں نہیں آتی “…؟؟؟؟

“اسکے جبڑوں کو اپنی مضبوط گرفت میں دبوچے غرایا تھا”….

“کہ اسکی بات ہی منہ میں رہ گئی تھی”…..

” احمر کی سخت انگلیاں اسکو اپنے جبڑوں میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی”….

“کتنے گھنٹے پہلے کہا تھا تم سے”…؟؟؟

“گرفت مزید سخت کرے وہ چیخا تھا”….

“د۔۔۔دو گ۔۔گھنٹے”…….

“آنسوں کو بہنے سے روکے وہ بھاری آواز سے بولی تھی”….

“تو پھر میرا حکم کیوں نہیں مانا “…؟؟

“کہیں میں نے تمہاری سزا کم تو نہیں رکھ دی”….

“جو تم اس انتظار میں ہو کہ میں تمہاری سزا بڑھاؤں تو پھر تم کام کرو”….

“آنکھیں چھوٹی کیے وہ دانت کچکچا کر بولا تھا”..

“کہ سحر نے بے بسی سے اسکی جانب دیکھا تھا پہلے ہی وہ جسم دکھنے کے باعث کام نہیں کر رہی تھی لیکن وہ سنگدل سزا بڑھانے کی بات کر رہا تھا”……

“تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹا ہے جس میں تم سارے کپڑے دھو گی”..

“کہتے بنا اسکی تکلیف کی پرواہ کیے جھٹکے سے واشروم کی جانب دھکیلا تھا اسے”….

©©©

“تمہارے گاؤں کا نام کیا ہے”..؟؟؟

” شہیر نے پوچھا تھا سامنے بیٹھے ارمان سے جو سر جھکائے بیٹھا تھا”…

“شائد اپنی بے بسی کی وجہ سے وہ نڈھال سا تھا”….

“بہ۔۔۔۔

“اسکو اپنی بات مکمل کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا تھا کیونکہ شہیر کے فون کی چنگھاڑتی آواز نے تسلسل کو توڑا تھا”….

“ایکسکیوز می”….

“وہ معذرت کرتا وہاں سے کھڑا ہوتا باہر کی سمت آیا”…

“میمونہ بیگم کی کال دیکھ مسکرایا تھا پھر فون اٹینڈ کیے کان سے لگایا “…

“اسلام وعلیکم “۔۔

“ماما کیسی ہیں آپ”.؟؟؟؟

“اپنے مخصوص انداز میں ان کی خیریت دریافت کر گیا تھا”..

“وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں بیٹا تم سناؤ کیسے ہو”…؟؟؟

“بس آپ کی دعائیں ہیں”…

“بیٹا گاؤں کب چکر لگاؤ گے”…

“مجھے تو ایسا لگتا ہے گاؤں کا رستہ ہی بھول بیٹھے ہو تم “….

“جو یہاں آنا گوارہ نہیں کرتے”….

“ہاہاہاہا ماما ایسی بات نہیں ہے”.. ۔”دراصل یہاں کام اتنا ہوتا ہے کہ موقع نہیں ملتا ان شاءاللہ جلد آؤں گا”..

” خدا تمہیں کامیاب کرے جلد چکر لگانا “..

“مگر شہیر اپنے قیمتی وقت سے کچھ وقت نکال کر حویلی چکر ہی لگا لیا کرو”…..

“جی ماں ضرور چکر لگاؤں گا”…

“سب کو میرا سلام کہیے گا”….

“اور چھوٹا ارتضیٰ کیسا ہے”…؟؟

“اسے میرا پیار دیجئے گا”…

“وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا”…..

“لیکن وہاں بیٹھی میمونہ بیگم کی مسکان سمٹی تھی شہیر کی بات سن”…

“چلیں ماں اب فون رکھتا ہوں”..

خدا حافظ”……

©©©

“یہ کیا ہے “….

“اتنا نمک”..؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

“ٹیبل پر موجود سالن کی پلیٹ کو اٹھا کر نیچے فرش پر پٹخا تھا”…

“سکینہ بیگم پہلے تو چوہدری وقاص کے بھڑکنے ہر گھبرا گئی تھیں لیکن نہایت افسوس بھری نگاہ سے دیکھا تھا ان کی جانب جب انہوں نے کھانے کی بے حرمتی کرتے ہوئے سالن زمین پر پھینکا تھا”….

“ڈھلتی عمر کو پہنچ گئی ہیں لیکن کھانا بنانے کی تمیز چھو کر نہیں گزری “…..

“ملامت بھری نظروں سے ان کی جانب دیکھا تھا”….

“جبکہ وہ شکوہ بھری نظروں سے چوہدری وقاص کو دیکھ رہی تھیں”…

“جنہوں نے پہلے زبردستی اسے کیچن میں بھیج کر کوفتے بنوائے دے “…

“اور جب وہ اتنی محنت سے ان کے ذائقے کے مطابق بنا کر لائی تھیں”…

“ساری محنت کو خاک کر دیا تھا وہ سارا کھانا فرش کی نظر کر کے”…

“وہ سکینہ کو تمیز سکھا رہے تھے کیا بڑتی عمر کے ساتھ انہیں بھی تمیز نہ آئی تھی کہ رزق کو فرش پر نہیں پھینکتے “….

“وہ بس سوچ کے رہ گئی تھیں “….

“وقاص سائیں “….

“آپ غصہ نہ کریں دیکھیں میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے کشمیری پلاؤ بنایا ہے”….

“باورچی کھانے میں سے نورے بیگم نمودار ہوئی تھیں ہاتھوں میں تھامے تھامے پلاؤ کے ساتھ”….

“واہ بیگم واہ یہ اچھا کیا تم نے”….

“ورنہ اس عورت نے مجھے بھوکا رکھنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی”…

“اس عورت کے نصیب میں ہی نہیں کہ مجھے خوش رکھ سکے”…

“وہ نخوت سے سکینہ کو دیکھتے ہوئے بولے تھے”….

“جب کہ چوہدری وقاص کے الفاظ تیر بن کر سکینہ بیگم کے دل پر لگے تھے”….

“کون سا ایسا لمحہ نہیں تھا جس میں وہ ان کو خوش رکھنے کی کوشش نہیں کرتی تھی”….

“آج تک کون سا ایسا دن تھا جس میں سکینہ نے ان کی خلاف ورزی کری ہو”….

“ہاں البتہ وہ بات الگ تھی کہ وہ تو کبھی ان سے خوش ہی نہ تھے”…

“وہ تو ہمیشہ کوشش کرتی تھیں ان اختلافات کو مٹانے کی مگر چوہدری وقاص شائد ان اختلافات کو مٹانا ہی نہیں چاہتے تھے کیونکہ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی “نورے کے نام کی پٹی”….

“بیگم جلدی جلدی کھانا پروسیں ، اتنی شاندار خوشبو آ رہی ہے کہ بھوک مزید بڑھ گئی ہے اب اور صبر نہیں ہو رہا “…

“اپنے دونوں ہاتھوں کو وہ آپس میں رگڑتے ہوئے بولے تھے”….

” میرے سر کے سائیں “..

“یہاں نہیں کمرے میں”…..

“کیونکہ بہت سے لوگ بیٹھے ہیں گندی نظریں لگانے کو”….

“ایک جتاتی نظر سکینہ بیگم کے وجود پر ڈالی تھی جن کی آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوئے ہوئے تھے”…

“پھر وہ چوہدری وقاص صاحب کا ہاتھ تھامے لے جا چکی تھیں”……

“چوہدری وقاص نے سکینہ بیگم کی جانب دیکھنا گوارہ نہ کیا تھا”…..

“سکینہ بیگم نے بھیگی آنکھوں سے ان دونوں کو جاتے دیکھا تھا جن کے قہقے انہیں یہاں تک سنائی دے رہے تھے”۔

“اپنے آنسوں کو پونچھتے وہ فرش کو صاف کرنے لگی تھیں جو ان کے نام نہاد شوہر اپنی انا اوع جلال کے باعث خراب کر چکے تھے”….

“اوپر کھڑی میمونہ بیگم نے نہایت افسوس سے اپنی بڑی بہن کی جانب دیکھا تھا جو اتنے سالوں سے کبھی اپنے حق کیلئے نہ لڑی تھیں

بلکہ خاموشی سے اپنے شوہر کی ہر اذیت کو سہہ جاتیں”..

اور شائد یہی وجہ تھی کہ ان یہی خاموشی نے نورے بیگم اور چوہدری وقاص کو شیر بنا دیا تھا جبھی ان کے ساتھ نا انصافی کر جاتے تھے”….

©©©

“سنو”..!!

“وہ جو کپڑے تھامے واشروم میں لے جارہی تھی دھونے کیلئے احمر کی پکار پر نا سمجھی سے دیکھا تھا “….

“پہلے یہ بیڈ کی چادر تبدیل کرو اور اسکو بھی لے جا کر دھو “….

“ہنوز فون میں مصروف بنا اسکی جانب دیکھے کہا تھا اس نے”…

“پہلے ی۔۔یہ آ ۔۔آپ کے کپڑے دھو لوں پھر یہ بھی دھو لوں گی”….

“ڈرتے ڈرے کہا تھا سحر نے کہ کہیں وہ کم عقل انسان پھر سے نہ شروع ہو جائے”…

“سحر کی بات سن فون سے نظریں ہٹائی تھیں اور بھنونے سکیڑے اسکی جانب دیکھا “….

“بحس کرنے کا نہیں کہا “…!

“جتنا کہا یے اتنا کرو”…

” گھورتے ہوئے کہا تھا احمر نے جیسے سحر کی بات اسے زیادہ پسند نہ آئی ہو”….

“وہ بھی کپڑے ایک جانب رکھے خاموشی سے نئی بیڈ شیٹ نکال کر لائی تھی اور بیڈ پر بچھی پرانی شیٹ کو اتار کر نئی شیٹ چڑھانے لگی”٫…

“اسکی تمام کاروائی احمر سامنے لگے شیشے میں سے بغور دیکھ رہا تھا”….

©©©

“کیا ہوا بیگم سائیں اتنی گم سم کیوں ہیں”…؟؟؟

“چوہدری وقار نے کھڑکی کے پاس اپنے خیالوں میں کھوئی کھوئی کھڑی میمونہ بیگم کو دیکھ کر کہا تھا”…

“جو نا جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھیں”….

“میں سوچ رہی ہوں کہ جیٹھ سائیں نے ایسا کیوں کیا ہے”…

“کیا مطلب”..؟؟؟

“چوہدری وقاص نے نا سمجھی سے میمونہ بیگم کی جانب دیکھا “…

“مطلب کہ شہیر کو ارتضیٰ کی موت سے بے خبر کیوں رکھا ہے”..

“آخر ایک نا ایک تو اسے معلوم ہو ہی جائے گا پھر وہ ہم سے ناراض ہو گا کہ ہم نے بھی اسے نہیں بتایا”…..

“سائیں آپ جانتے ہیں”…

“آج شہیر سے بات ہوئی “….

“ارتضیٰ کا پوچھا تھا اس نے”….

بند ہیں گلیوں میں گلیاں ہیں گھروں سے گھر جدا

ہے کوئی شہر میں شہرِ دگر سب سے الگ

“وہ تو جانتا بھی نہیں دور بیٹھے جس کا حال پوچھ رہا ہے وہ تو ہم میں رہا ہی نہیں”….

“انتہائی کرب آمیز لہجے میں بولی تھیں وہ”.…..

“آللہ پر یقین رکھیں میمونہ بیگم سب بہتر ہو جائے گا”….

“بے شک وہ جو کرتا ہے اس میں اسکی مصلحت ہوتی ہے”….

“میمونہ بیگن نے اثبات نے سر ہلایا جیسے ان کی بات سے متفق ہوں”….

” سائیں آپ ہماری جان ہیں”…

“یوں اداس نہ ہوا کریں”….

“ہمارے دل کی دنیا ویران ہونے لگتی ہے آپ کو یوں اداس دیکھ “….

“چوہدری وقار اتنے پیار سے بولے تھے کہ وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی تھیں”….

©©©

“بھائی کتنا پیارا ریزورٹ ہے میرا تو جانے کا ہی دل نہیں چا رہا “…

“ستائشی نظریں پورے ریزورٹ میں گھومائی تھیں مشل نے “…

“تو آپ یہاں رہ لیں جب تک آپ یہاں رہنا چاہتی ہیں”….

“فاتح مشل کی بات سن کر مسکراتے ہوئے بولا تھا”….

“نہیں بیٹا رہنے دو یہ تو ہے ہی پاگل “…..

” منصور صاحب نے مشل کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا جو کہ فاتح کی بات پر کافی ذیادہ خوش ہو چکی تھی “….

“نہیں انکل کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر یہ رہنا چاہتی ہیں تو رہ سکتی ہیں”…

“بھائی رہنے دیں پاپا کو تو میری خوشی راس ہی نہیں”…

“وہ منہ بنائے سائیڈ پر کھڑی ہو گئی تھی”….

“جبکہ منصور صاحب اچھا خاصا شرمندہ ہوئے تھے مشل کی حرکت پر “…..

©©©

“تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹا رہ گیا ہے”….

“اور ابھی تک تم نے صرف یہی تین سوٹ دھوئے ہیں”…؟؟؟؟

“ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے ، تیوری چڑھائے ‘ کپڑے دھوتی سحر کو دیکھ بولا تھا”….

“احمر کی نظریں اور آواز اپنے عقب پر محسوس کیے اس کے کام کرتے ہاتھ ساکت ہوئے تھے”…..

“واش۔۔واشنگ م۔۔مشین م۔موجود نہیں ورنہ میں آ۔۔آدھے گھنٹے میں ہی یہ سب دھو لیتی ، ہ۔۔ہاتھ سے دھونے میں ٹائم لگتا ہے”….

“اب کے سحر کی نظریں جھکی ہوئی نہیں تھیں وہ دیکھ رہی تھی مقابل کھڑے چوہدری احمر کی آنکھوں میں ، جس کی آنکھوں میں ہمیشہ سحر کے لئے نفرت اور حقارت موجود ہوتی تھی”…..

“سحر کی بات سن احمر نے بھنونے اچکائے حقارت سے اسے دیکھا “…

“جیسے کہنا چا رہا ہو کہ تمہاری اوقات ہے واشنگ مشین میں کپڑے دھونے کی”…..

“میں کچھ نہیں جانتا وقت پر کام مکمل کرو “..…

“جتنا دیر کرو گی زندگی اتنی ہی انجیرن ہو گی تمہاری”….

“سفاکیت سے کہے وہ تو جا چکا تھا جبکہ نہایت افسوس سے احمر کی پشت کو دیکھا تھا اس نے”….

“جو بے تکی بات کہے جا چکا تھا”…

“اسکی بات میں نہ کوئی وزن تھا اور نہ جواز”….

“سر جھٹکتے وہ واپس کام میں مشغول ہو گئی تھی”…..

©©©

“ائم سوری بھائی”…

“گاڑی کی خاموشی میں مشل کی آواز گونجی تھی”….

“کس لئے”…؟؟؟

“گاڑی ڈرائیو کرتے فاتح نے کندھے اچکائے مشل کو فرنٹ مرر سے دیکھ کر کہا”….

“وہ اس دن دامنِ کوہ پر میری جب آپ سے ٹکر ہوئی تھی “…

“میں نے بنا سوچے سمجھے آپ سے بد تمیزی کر دی”…

“وہ نا مجھے معلوم نہیں تھا کی آپ میرے جیجا بھائی بننے والے ہیں اگر پتہ ہوتا تو کبھی میں ایسا نہیں کرتی”……

“بھائی ویسے آپ بہت اچھے ہیں”…..

“کہ آپ نے مجھے ڈانٹا بھی نہیں”…….

“میری اتنی بدتمیزی پر ورنہ کوئی اور ہوتا تو ایک دو لگا ہی دیتا”…

“پہلے وہ خوشی سے چہکی تھی مگر بھی سر جھکائے منہ پھلائے بولی کہ فاتح کے چہرے ہر مسکراہٹ ٹھہر گئی تھی”…..

“اٹس اوکے پرنسس”…..

وہ ہنستے ہوئے بولا تھا اور ساتھ ہی گاڑی کو بریک لگائی کیونکہ ان کا گھر آ چکا تھا”…

“منصور صاحب اور مشل گاڑی سے اتر چکے تھے انہیں خدا حافظ کہے”….

“جبکہ پشمینہ کا دماغ وہیں مشل کی بات پر اٹکا تھا”….

“کہ دامنِ کوہ پر ہوئی تھی ان کی ملاقات “……

“اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی “…..

“اس سے بات کرتے وقت تو فاتح کے لہجے میں کانٹے موجود ہوتے جبکہ مشل سے گفتگو کے دوران اسکے لبوں سے مسکان جدا نہ ہوئی تھی”…….