Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 28

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

صبح سویرے لگ بھگ چھ یا سات بجے قریب ، شہیر نے زمینوں پر جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ زمینوں پر جا کر ، اس کے انتظامات و کاموں کو دیکھنے کے بعد اس نے شہر میں جا کر آفس کا چکر بھی لگانا تھا۔

ابھی وہ تیار ہو ہی رہا تھا کہ کسی ہولناک دھماکے کی آواز سن اسے دھجکا سا لگا تھا وہ چہرے پر عجیب و تفکر بھرے تاثرات سجائے باہر کی جانب سے دوڑا کہ باہر مچی افراتفری و کچن کے پاس سے اٹھتا دھواں اسے لمحے بھر کے لئے ساکت کر گیا لیکن وہیں وہ اپنے ہواس میں واپس لوٹا تھا جب سحر کے چیخنے و چلانے کی صدائیں کیچن میں سے آئیں۔

وہ دوڑتے ہوئے لمحوں کے ہزارویں حصے میں کچن تک پہنچا جہاں تقریباً آگ پھیلے اپنا راج دکھا چکی تھی اور پورے زور و شور سے دھواں اٹھتا تنفس میں مسائل پیدا کر رہا تھا لیکن اسے کچھ پروا نہیں تھی وہاں کھڑے اپنے والدین کی بنا پرواہ کیے وہ پاس رکھی موٹی چادر سے خود کو اچھی طرح کوور کیے ان کود چکا تھا جہاں اس کی متاع جاں گھٹنوں کے بل بیٹھ لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کرتی تقریباً نڈھال ہو چکی تھی پاس رکھا اس کا دوپٹہ پورے کچن کے ساتھ آگ کی لپیٹ میں تھا۔

“س۔۔۔س۔۔۔سحر م۔۔میری ج۔ج۔۔جان ! “

خود کو آگ سے بچائے احتیاط سے وہ اپنی متاعِ حیات تک پہنچا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھے چہرے پر تھپکی دئیے ہوش میں لانا چاہا لیکن شہیر کا سانس بھی وہیں رکنے لگا تھا جب اس کی نظر سحر کے دائیں ہاتھ پر گئی جو کہ خود کے دفاع کے درمیان جل چکا تھا شہیر کا سر بھاری ہونے لگا تھا وہ اسے مزید بے چینی سے اٹھانے کی سہی کرنے لگا لیکن شائد اس وقت یہ نا ممکن تھا وہ نازک صفت لڑکی جو کہ اس شہزادے کی جان تھی اس وقت آگ کی تپش کے باعث پسینے پسینے ہو رہی تھی چہرا اس کا پورا پسینے سے تر تھا چہرے پر موجود وہ ریشم جیسے بال ، اس لمحے پسینے میں بھیگتے چہرے پر چپکے ہوئے تھے۔

“ش۔۔ش۔۔شہ۔۔شہیر آ۔۔آپ ‘”

وہ اپسرا نیم غنودگی میں بس یہ کچھ ہی ٹوٹے پھوٹے لفظ اپنی زبان سے ادا کیے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی۔

“س۔۔سحر “…

شہیر پوری شدت سے چلایا تھا اپنی جان ، اپنی حیات کو خود میں زور سے بھینچے۔ وہ لڑکی اس کی زندگی تھی اور اپنی ہی زندگی کو یوں گھٹتا دیکھ اس کی اپنی جان لبوں پر آئی تھی۔

“چھوڑوں گا نہیں اسے میں جان لے لونگا کیونکہ یہ حادثہ نہیں مکمل سازش معلوم ہوتی ہے۔”

دانت کچکچاتے ، نفی میں سر ہلاتے وہ آس پاس کا جائزہ لیے بولا پھر نہایت ہی نرمی سے اس نے سحر کے نازک وجود کو اپنے ساتھ ہی شال میں لپیٹا اور باہر کی جانب جانے کی کوشش کرنے لگا کیونکہ جیسے ہی وہ قدم بڑھاتا تھا آگ کے شولے اٹھنے لگتے بالآخر ہوا میں ایک سرد آہ خارج کیے خدا کا نام لیے اس نے باہر کی جانب تیز قدم بڑھائے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دونوں تو احتیاطاً باہر آگئے لیکن وہ شال آگ کی ضد میں آئے راکھ ہونے کو تیار تھی۔

تقریباً سب اراکین ، ان کے پاس فکر مندی سے پہنچے تھے اور خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ وہ بنا کسی بڑے نقصان کے باہر آ چکے ہیں لیکن وہ سب یہ نہیں جانتے تھے نقصان چھوٹا ہو یا بڑا نقصان ، نقصان ہی ہوتا ہے۔ سب اس سے سحر کی حالت طلب کر رہے تھے لیکن شہیر ، وہ اس وقت کسی سے بات کرنے یا جواب دینے کی حالت میں نہ تھا اس نے بنا وقت ضائع کیے سحر کو گاڑی میں بیٹھائے ہسپتال کی راہ لی تھی کیوں کہ اس کی سانسیں بہت دھیمی رفتار میں چل رہی تھیں لیکن جاتے جاتے نورے بیگم پر ایک کٹیلی نظر ڈالنا نہ بھولا جب ان کے عجب الفاظ اس کے کانوں سے ٹکرائے “ہائے ربا ، میری نئی شال کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ، خدا کا غارت کرے تم لوگوں کو زرہ تمیز نہیں “

شہیر کا تو دل چاہا کہ رک کر انہیں تفصیلاً جواب دے مگر وہ نظر انداز کیے نفرت آمیز نگاہوں سے گھور کر جا چکا تھا کیونکہ اس وقت وہ ان پر وقت ضائع نہیں کر سکتا کیونکہ اس متاع حیات اس کی بانہوں میں قابلِ رحم حالت میں موجود تھی۔

“نورے تم میں ، زرہ برابر تہذیب نہیں ؟

چلو تہذیب کو تو چھوڑ دو کیا رشتوں یا انسانیت سے بھرپور احساس بھی نہیں ؟

تم دیکھ بھی رہی ہو ، اس وقت گھر کی حالت کیا ہے پھر بھی اپنی من گھڑت جلاد پن سے باہر نہ آئی۔ تھوڑی عقل ہو تو اس کا استعمال کر لو یہ گھر کسی اور کا نہیں تمہارا بھی ہے اور یہاں کے باورچی خانے میں نورے نامی بلا جیسی آگ لگی ہوئی ہے۔”

نورے بیگم پر ، باتوں باتوں میں طنز کے تیر چلاتے میمونہ بیگم نے اچھا خاصا ذلیل کیا تھا لیکن وہ نورے ہی کیا جس پر کسی بات کا اثر ہو جائے۔ وہ منہ منائے ، من ہی من میں بڑبڑاتی وہاں سے چل دی تھی کیونکہ اس وقت فائز بریگیڈ آچکے تھے آگ بجھانے کو۔

©©©

شہر کے مہنگے ترین ہسپتال میں اس وقت افراتفری مچی ہوئی تھی کیونکہ شہیر چوہدری کی بیوی کا وجود ایک سنگین کیس کے طور پر لایا گیا تھا ڈاکٹر ، نرس سمیت وہاں کا تمام عملہ گھنو چکر بنا ہوا تھا چوہدری وقار اس کے ساتھ وہیں ہسپتال میں موجود تھے جب کہ وہ سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا کافی بے بس معلوم ہو رہا تھا۔

کل وہ دونوں کتنے خوش و مکمل تھے لیکن آج ، آج ان دونوں کی خوشیوں کو نظر لگ گئی اس کی پری کو نظر لگ چکی تھی کہ وہ اندر قابلِ رحم حالت میں موجود تھی۔

ابھی کچھ دیر پہلے ہی ڈاکٹر آئے تھے جہاں ان کی پہلی خبر نے اسے سے پر سکون کیا تھا لیکن وہیں ان کی اگلی بات نے شہیر چوہدری سمیت چوہدری وقار کو بھی تشویش میں ڈال دیا۔

“دیکھیں ، یہ بہت اچھا ہوا کہ آپ انہیں وقت پر لے آئے ہیں جس کے باعث وہ موت کے منہ میں جانے سے بچ چکی ہیں لیکن دھواں زیادہ مقدار میں پھیپھڑوں تک جانے کے باعث ان کا نظامِ تنفس متاثر ہوا ہے اور ساتھ ہی ان کا ہاتھ بہت برے طریقے سے جل چکا ہے کسی دوائی یا ٹیوب سے اس کا ٹھیک ہونا نا ممکن ہے اسلئے اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس کے لئے سرجری درکار ہے ورنہ پوری زندگی ہی انہیں اس طرح رہنا ہو گا۔”

چہرے پہ پہنا گیا وہ سرجیکل ماسک ڈاکٹر نے ٹھیک کرتے اپنے پروفیشنل انداز میں کہا تھا کہ شہیر جنونیت سے اس میل ڈاکٹر کے دونوں ہاتھوں کو تھام گیا۔

٫

“آپ لوگوں نے جو کرنا ہے جیسے کرنا ہے جلدی کیجئیے مگر ، مگر میری بیوی کو ٹھیک کر دیں۔”

جنونی انداز میں کہتا وہ اس وقت اپنی بیوی سے بے انتہاہ محبت کرنے والا شخص معلوم ہو رہا تھا جس کے چہرے پر تفکر کے آثار نمایاں تھے واقعی یہ حقیقت بھی تھی کہ ، وہ اپنی سحر سے دیوانوں کی حد تک محبت کرتا ہے۔

©©©

وقار چوہدری ، بیٹھے شہیر کی حالت پر غور کر رہے تھے کہ ان کا بیٹا کیسے اس لڑکی کی پرواہ کر رہا ہے ایک طرح سے ان کے دل کو خوشی ہوئی تھی اپنے بیٹی کی فکر پر لیکن ان کو سوچوں کے محور سے باہر لا پٹخا تھا فون کی اس آنے والی کال نے ، ایک نظر ریسیپشن اسٹاف پر ڈالے وہ فون کال سننے سائڈ پر آ چکے تھے۔

“ہیلو ! وقار سائیں ۔

بیٹی کی طبعیت کیسی ہے ؟

ڈاکٹر نے کیا کہا ؟

سب خیریت تو ہے نا سائیں؟

کم از⁦ کم گھر پر آگاہ ہی کر دیتے۔”

دوسری جانب ، میمونہ بیگم بھی فکر مند لہجے میں گویا ہوئیں۔

“ارے ! بیگم تھوڑا صبر حوصلہ رکھیں ، فکر کی کوئی بات نہیں بس یوں سمجھیں بڑے نقصان سے بچ چکے ہیں باقی ڈاکٹر نے ہاتھ کی سرجری کا کہا ہے وہ بھی ہو جائے تو سحر بالکل صحت یاب ہو جائے گی ان شاءاللہ۔ بس آپ لوگ دعا کریں کہ سب بہتر ہو جائے۔”

آتے جاتے لوگوں کا سرسری سا جائزہ لئے وہ میمونہ بیگم سے حرف بہ حرف گویا ہوئے تھے۔

آمین ” خدا سے بہتر کی امید ہے”

کہتے وہ کال منقطع کر گئی تھیں۔

©©©

پوری حویلی میں اس وقت ہو کا عالم تھا کیونکہ شہیر چوہدری اس وقت زندگی میں پہلی بار اپنے اصل غصے و جلال کے ساتھ کھڑا ہر سب سے تشویش کر رہا تھا کرتا بھی کیوں نا ، یہاں سوال اس کی زندگی کا نہیں بلکہ اس کی پری کی زندگی تھا۔

“کون ہے وہ جس نے کچن کا گیس کھلا چھوڑا تھا ؟”

ملازمین سمیت آج وہ گھر کے ہر ایک فرد کے تاثرات کا معائنہ بھی بہت باریکی سے کر رہا تھا۔

“کون تھا وہ ؟”

اب کی بار کو پورے اشتعال میں چلایا تھا کہ اس کی رگیں سفید نگت پر ابھرتی صاف واضح ہونے لگی تھیں۔

“و۔۔وہ مج۔۔مجھ سے غ۔غلطی ہ۔۔ہو گی ص۔۔”

رجو (ملازمہ ) نورے کی جانب دیکھ شہیر کے قدموں میں گڑگڑاتے بولی تھی کہ وہاں مجھ عمارہ کی آواز نے یکدم ہی سب کے سروں پر بم لا پھوڑا تھا۔

“نورے آنٹی ! آپ نے سحر کو چائے بنانے کا کہا تھا نا اور جہاں تک میں نے دیکھا تھا رجو سے پہلے آپ کچن سے نکلی تھیں۔”

“سر آپ جانتے ہیں ، جب میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے لئے چائے بنانے چلی جاتی ہوں تو جانتے ہیں انہوں نے اتنی زور سے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بیٹھا لیا کہتی ہیں نہیں وہ تو سحر کے ہاتھوں کی ہی چائے پیئیں گی لو بھلا اب اس میں کون سا فرق ..

کیا میں ان کی بہو نہیں ، کیا ہوتا اگر یہ میرے ہاتھ کی چائے پی لیتیں۔

آنٹی آپ بتائیں ! کیا آپ سحر کو “صرف اپنی بہو مانتی ہیں مجھے نہیں مانتیں ؟

نورے بیگم کے ہاتھوں کو تھام عمارہ خفا خفا سے لہجے میں گویا ہوئی تھی کہ وہ کچھ کہہ بھی نہ پا رہی تھیں ان کے لفظ کہیں دب سے گئے تھے کیونکہ ان کی چہیتی بہو نے ان کا راز جو کھول ڈالا تھا سب پر ۔

جہاں سکینہ و میمونہ بیگم کی دبی دبی ہنسی گونجی تھی عمارہ کے اسٹائل وہیں نورے بیگم کا چہرا لٹھے کی مانند سفید ہوا تھا لیکن شہیر کی آنکھوں میں نفرت ، کدورت مزید ابھرنے لگی اس کی آنکھوں میں جو غصہ و جنوں ہلکورے کھا رہا تھا اس سے صاف واضح تھا کہ اب ان کی خیر نہیں۔

“اتنا تو میں جانتا ہوں کہ آپ کی زندگی میں نہ تو خوشیاں ہیں اور نہ ہی آپ دوسروں کو خوش رہنے دے سکتی ہیں کیونکہ آپ سے برداشت جو نہیں ہوتا مگر اب کان کھول کر سن لیں سب یہ گھر ، یہ جائیداد سب سحر کے نام ہے اللہ نے کرے لیکن اگر اس کی جان جاتی ہے تو یہ حویلی ، یہ جائیداد سب کچھ ٹرسٹ میں چلا جائے گا اور پھر ، جس چیز پر آپ سب غرور ہے ہے نا وہ خاک میں مل کر رہ جائے گا اسلئے بہتر ہو گا کہ اس کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو ۔

اور ہاں ” آپ نے اس بات کا خاص خیال رکھنا ہے “

اپنی بات روانی سے کہتے وہ سب کے سروں پر بم پھوڑتا جا رہا تھا لیکن آخر میں نورے بیگم کی جانب اشارہ کیے وہ ان ہی کی زمہ داری سحر کی جان کی حفاظت کے طور پر لگاتے ہوئے انہیں وارن بھی کر گیا جب کہ وہ جلتی کڑتی رہ گئی تھیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ آج تک جس کی جان کی دشمن بنتی آئی ہیں اس کی حفاظت کریں گی ایسا تو نا ممکن ہے وہ نخوت زدہ سا چہرا بنائے بنا کسی پر غور کیے اوپر کی جانب چل دیں جب کہ شہیر نے ملازمین کو بھی جانے کا اشارہ کیا تھا جو کہ جان بخشی پر شکر ادا کیے چل دیے۔

جاری ہے 💞

#Rape_Base_Rude_Possesive_Hero_Most_Romantic_CARING_loving_hero_innocent_mecure_heroin_REVENGE_BASE💞💫

اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی کہ سفیر نے سختی سے اس کے جبڑوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا اور اپنی خون جھلکتی آنکھیں مہمل کی آنکھوں میں گاڑیں۔

“کیا سمجھتی ہو تم خود کو ؟

بہت کوئی توپ چیز ہو ؟

چلو مان لیا تم نے انہیں بتا بھی دیا تو کیا وہ تمہارا یقین کریں گے ؟

ہے کوئی ثبوت میرے خلاف؟

کیوں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے ، اس دن میں گھر والوں کی نظر میں شہر سے باہر تھا اور تم تو اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی کا کہہ کر گئی تھی۔

نفی میں سر ہلائے افسوس بھرے لہجے میں کہتا اپنا سر پیچھے کی جانب گرائے قہقہ لگانا لگا تھا کہ مہمل نے درد بھری نظروں سے اس بے وفا ہرجائی کو دیکھا جو کل تک تو اس سے محبت کا دعویدار تھا لیکن آج ، آج اُس کو اِس نے زمین پر لا پٹخا اِس کے تمام اس طرح خواب چکنا چور کر ڈالے کہ وہ انہیں دوبارہ سمیٹنے کے قابل بھی نہ رہے۔

بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں آپ ؟

لبوں پر شکوہ ، آنکھوں میں اداسی ، لہجے میں بے بسی لیے وہ گویا ہوئی تھی سامنے کھڑے اس پتھر دل شخص سے جسے اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔

ہاہاہا ، سفیر خانزادہ غلطیوں کا شوقین ہے اور یقین جانو ، اس دفع کی غلطی بہت ہی دلچسپ تھی۔

قہقہ لگاتے وہ اس کے وجود کو بے باک نگاہوں سے گھورنے لگا تھا کہ مہمل نفرت و تلخی سے اپنا رخ پھیر گئی۔

خدا کرے آپ برباد ہو جائیں سفیر “

آپ کو محبت سے بڑھ کر عشق ہو “

کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے آپ “

سفیر خانزادہ کی آنکھوں میں دیکھے وہ اٹل لہجے میں گویا ہوئی تھی کہ اس نے بے دردی سے ، مہمل کے وجود کو زمین پر پھینکا تھا کہ وہ کراہ کر رہ گئی۔

“سفیر خانزادہ دوسروں کو اپنی توجہ و شخصیت سے متاثر کرنا جانتا ہے نا کہ دوسروں کی شخصیت سے خود متاثر کرنا “

اسلئے اپنی یہ فضول باتیں اپنے پاس رکھو کیونکہ عشق و محبت جیسی چیزیں سفیر خانزادہ کی فطرت میں نہین سویٹ ہارٹ”

لبوں پر طنزیہ مسکان سجائے وہ مہمل سے تلخی و انا بیک وقت لہجے میں سمیٹے گویا ہوا تھا اور ساتھ ہی اس پر الوادعی نظریں ڈالے کمرے سے چل دیا۔ جب کہ پیچھے زمین پر بیٹھی وہ لڑکی اپنی قسمت پر افسوس کرتی ، محبت کی نا قدری پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔