Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 33
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 33
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
شہیر کے فیصلے کے مطابق آج پہلی بار گاؤں میں کوئی لڑکی ونی جیسی رسم کی بھینٹ چڑھنے سے بچائی گئی تھی۔آج پہلی بار سزا قاتل کو دی گئی تھی نا کہ قاتل کی بہن یا بیٹی کو۔
پورا گاؤں خوش تھا کہ اب ان کی بہن بیٹیاں محفوظ ہیں لیکن مقتول کے بھائی اور باپ کے سر پر قاتل کو سزا دلوانے کے باوجود بھی خون سوار تھا وہ ونی لینا چاہتے تھے لیکن شہیر کے فیصلے کی وجہ سے ان کی یہ ضد پوری نہ ہو پائی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ؟ “
“کچھ نہیں بس یہ دیکھ رہی ہوں کہ ہوں کہ میں کتنی خوش قسمت ہوں جس کی زندگی میں اللہ نے آپ جیسے جیون ساتھی کا ساتھ رکھا ہے۔”
چہرے پر دونوں ہاتھ ٹکائے وہ لان میں موجود کرسی پر بیٹھی شہیر کے چہرے کو دیکھ لہجے میں اپنائیت بھرا احساس سمیٹے بولی تھی کہ اس کی بات سن کر جواب میں وہ بھی مسکرا دیا۔
“جب ساحلِ سمندر کوئی مچھلی غلطی سے پانی سے باہر نکل آتی ہے تو اس کا دم گھٹنے لگتا ہے وہ تڑپ رہی ہوتی ہے دل میں امنگ سی بیدار ہوتی ہے کہ کاش کوئی ایسا مسیحا آجائے جو اسے اس کی زندگی یعنی پانی تک پہنچا دے کچھ دیر انتظار کرتی رہتی ہے اسی امید کے ساتھ کہ شاید ہی کوئی آجائے گا لیکن رفتہ رفتہ اس کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دم توڑ جاتی ہے۔۔
جانتے ہیں پہلے مجھے اپنا آپ اس مچھلی کی مانند لگتا تھا کہ شاید میں بھی ، صرف امید لگائے مسیحا کے انتظار میں ایک دن اپنا دم توڑ جاؤں گی لیکن ۔۔۔۔۔”
“لیکن ایسا نہیں ہوا ” شہیر نے سحر کی بات کو درمیان میں ہی کاٹ دیا کہ وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“ساحلِ سمندر پر وہ مچھلیاں بھی ہوتی ہیں جو غلطی سے خشکی پر آجائیں لیکن تھوڑی ہمت کر کے وہ واپس زندگی کی راہ کو لوٹ جاتی ہیں کیونکہ ان کے دل میں مرنے کے خوف سے زیادہ خود کو زندہ رکھنے کی لگن ہوتی ہے اور یہی لگن انہیں واپس زندگی کی جانب لاتی ہے وہ امید کے ساتھ ساتھ دل میں شاید دعا بھی کرتی ہوں اس خالق کے سامنے “
“اور تمہارا آپ اس مچھلی کی مانند نہیں جس نے صرف امید لگائی تھی بلکہ تم تو وہ ہو جس نے امید کے ساتھ ساتھ خدا کی ڈور کو بھی تھامے رکھا اپنے بچاؤ کے لئے ہاتھ پیر ہلائے بے شک جو بھی تھا کم ہی صحیح لیکن تم نے آواز اٹھائی ہمت دیکھائی۔
آج تک جتنی لڑکیاں ونی ہوئیں انہوں نے اپنی دفاع کے لئے نا کچھ کہا اور نہ ہی کبھی آواز اٹھائی اپنی قسمت سمجھ کر بس وہی انسانی بے حرمتی والی زندگی گزارتی رہیں لیکن تم نا نا صرف آواز اٹھائی بلکہ اس رسم کو ختم بھی کروایا ہے سحر۔”
اپنی نشست سے اٹھ کر وہ سحر کے ساتھ جا کر بیٹھا۔
“ہمم مگر ، میں ایسا کبھی نا کر پاتی اگر آپ کا ساتھ نا ہوتا یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے شہیر سائیں۔”
دھیمی آواز میں کہتی وہ اپنا سر اس کے کاندھے پر ٹکا گئی تھی کہ شہیر اس کے پہلی بار سائیں کہنے وہ دل سے مسکرایا۔ اس کے لبوں سے ادا کیا جانے والا نام ” شہیر سائیں ” اس کی خوشی دیدنی کر گیا تھا۔
“بیگم جانی ، کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسلئے یہ کام ہم دونوں کی ہی بدولت ہوا ہے اس لئے صرف مجھے کریڈیٹ نہ دیں۔”
سحر کے ہاتھوں کو تھام ہلکا سا اپنے لبوں سے چھوا تھا کہ وہ لبوں پر شرمیلی مسکان سجائے اس کے سینے میں ہی چہرا چھپائے آنکھیں موند گئی تھی جب کہ اپنی پری کی اس ادا پر وہ مسکرا کر رہ گیا۔
°°°°
سحر اپنے ہاتھوں کی جانب دیکھتی ہوئی شہیر کے خیالوں گم اس کی باتوں کو سوچتی مسکرا رہی تھی کہ احمر چوہدری سامنے والے صوفے پر آ بیٹھا تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے احمر چوہدری کی آنکھوں میں مرچیں سی چبھنے لگی تھیں سحر کو شہیر کے حصار میں دیکھ کر وہ ان دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے محبتوں کا جہاں دیکھ سکتا تھا اور یہی چیز اس کے برداشت سے باہر تھی۔ بھلا یہ کسی انسان سے کہاں برداشت ہو پاتا ہے کہ کبھی جس چیز یا انسان پر اس کا اختیار ہو بعد میں وہ کسی اور کے پاس ہو کچھ ایسا ہی حال احمر چوہدری کا ہو رہا تھا۔
“کیا بات خود میں ہی مسکرا رہی ہو؟ “
“ویسے س۔۔سحر اج کل کافی خوش دکھائی دینے لگی ہو ؟”
“ہمم خوش تو ہوں لیکن مجھے خوش دیکھ آپ خوش دیکھائی نہیں دے رہے۔”
“نہیں ایسی بات نہیں ہے میں بھلا کیوں اداس ہوں گا؟”
شانے اچکائے وہ نارمل لہجے میں گویا ہوا کہ سحر نے ہنس کر طنزیہ مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا۔
“لفظ اداس تو میں نے استعمال ہی نہیں کیا یہ تو آپ کی ہی تخلیق کردہ سوچ ہے۔”
“ہمم ! “وہ بس صرف ایک لفظ بول پایا تھا جواب میں۔
‘مجھے تم سے کبھی بھی محبت نہیں تھی سحر اور نا میں یہ سوچ سکتا تھا کہ اپنے ہی بھائی کے قاتل کہ بہن سے محبت کروں گا لیکن میں غلط تھا کیوں کہ جب تم مجھ سے دور ہوئی تو یہ دل عجیب سا ہونے لگا اس کی کیفیت میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔
مجھے ہر چیز بے رنگ سی لگ رہی ہے سحر میں نہیں جانتا کیوں مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے تم سے محبت ہونے لگی تھی بس میری قسمت دیکھو اس کا اندازہ مجھے تب ہوا جب تم میری نا رہی۔
مجھے نہیں اچھا لگتا جب تم شہیر کے ساتھ ہوتی ہو تم دونوں کو ساتھ دیکھ کر وحشت سی ہونے لگتی ہے۔
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے سحر کاش تم میرے پاس واپس لوٹ کر آسکتی ،کاش اپنی زندگی کے ان تلخ سالوں کو نوچ کر اپنی زندگی سے نکال پاتا۔”
آج احمر چوہدری کے لہجے میں نا ہی انا شامل تھی نا ہی وہ وحشت جو اکثر اس کے لب و لہجے میں پائی جاتی۔آج وہ بالکل دھیمی آواز میں گویا ہوا جیسے زندگی سے ہارا ہوا شخص ہو۔
“مسٹر احمر آپ کو مجھ سے محبت نہیں ، عداوت ہے حسد ہے۔
آپ کی ذات سے برداشت نہیں ہو پارہا کہ میں ایک ونی ، سکون بھری زندگی کیسے جی رہی ہوں ارے آپ کے ذہن میں تو میری ذات آج بھی ونی اور صرف قاتل کی بہن ہے اور آپ جو بات کر رہے ہیں کہ کاش واپس آجاؤ ! تو مجھے زرہ یہ بتائیے گا کہ ایک بار گھڑے میں گر کر چوٹ کھایا انسان واپس اس گھڑے میں گرنا چاہے گا؟”
سر جھٹکتے وہ نفرت و غصہ بیک وقت لہجے میں سموئے گویا ہوئی۔
“پر سحر میں سچ میں تم سے مح۔۔۔”
“خبردار احمر جو دوبارا اپنی اس زبان سے میرے لئے یہ لفظ استعمال کیا ویسے شرم تو آپ کو آتی نہیں اپنی بیوی کے ہونے کے باوجود کسی اور کی بیوی سے فصول کا اظہارِ محبت کرتے ہوئے۔”
افسوس کن لہجے میں کہتی وہ وہاں سے اٹھ اندر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔جب کہ پیچھے بیٹھا احمر چوہدری اس کو یونہی جاتے دیکھتا رہا۔
دشمنوں سے کیا شکوہ کیا گلا رقیبوں سے
یہ سانپ آستینوں میں ہم نے خود ہی پالے ہیں
نہ پوچھ پری زادوں سے یہ ہجر کیسے جھیلا ہے
یہ تن بدن تو چھلنی ہے اور روح پر بھی چھالے ہیں۔
°°°°
پہلے کے مقابلے میں ذیادہ تر اب نورے بیگم اپنے کمرے میں پائی جاتی تھیں جہاں وہ دن بھر سوتی رہتی حویلی میں ہونے والی تمام تر کاروائیوں سے فلحال وہ بے خبر تھیں۔
ابھی کچھ دیر پہلے چوہدری وقاص باہر سے واپس لوٹے تھے کہ ان کا استقبال کمرے میں پھیلتی سگریٹ کی عجیب سی خوشبو نے کیا۔
چند ثانیوں کے لئے وہ حیران ہوئے کہ ان کے کمرے میں بھلا کون سگریٹ پی سکتا ہے لیکن ان کے اس سوال کا جواب بھی انہیں چند سیکنڈوں میں ہی مل چکا تھا جب نظر نورے کے سرہانے رکھے گئے سگریٹ کے باکس ، ایش ٹرے پر گئی ساتھ ہی وہاں چھوٹے چھوٹے پیکٹس میں ڈرگز رکھے ہوئے تھے۔
چوہدری وقاص کا دماغ گھوم کر رہ گیا تھا وہ اشتعال کے عالم میں نورے کی جانب بڑھے اور انہیں جھنجھوڑ کر اٹھایا آج انہیں زندگی
میں پہلی بار ان پر غصّہ آیا تھا۔
“نورے ۔۔۔
یہ سب کیا تماشہ ہے ہاں ؟
اور کب سے چل رہا ہے یہ سب ؟”
کندھے پر پہنی وہ شال غصے سے اتار کر بیڈ پر پھینکی تھی جب کہ نورے بیگم آنکھوں کو کھولے انہیں دیکھتے ہوئے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
‘سائیں جائیں نا تنگ کریں سونے دیں۔ کیا صبح صبح یوں چیخ رہے ہیں ؟ “
منہ بنائے نخوت زدہ سے لہجے میں کہتی وہ واپس لیٹنے کو تھیں کہ چوہدری وقاص نے ان کا ہاتھ تھام واپس بیٹھایا۔”نورے بیگم، یہ صبح نہیں شام کے سات بج رہے ہیں۔اگر آپ کا یہ نشہ اتر گیا ہو تو آس پاس غور فرما لیں۔
نورے آج تو ٹھیک لیکن آئندہ یہ سب میں تمہارے آس پاس بھی نہ دیکھوں اگر آج کے بعد تم نے ان سب چیزوں کا استعمال کیا نا تو مجھے تو اپنے لئے انتہائی برا پاؤ گی۔”
اپنی بات کے اختتام پر وہ تمام ڈرگز اٹھائے تھے انہوں نے۔
“میرا دماغ نا خراب کریں یہ سب دھونس سکینہ پر جمایا کریں مجھے پریشان نا کریں اور میرے معمالات سے دور رہیں سائیں۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کے رویے سے ، بس مجھے میری یہ چیزوں دے دیں۔”
بیزاریت سے بھرپور تاثرات چہرے پر سجائے ان کو سائیڈ پر دھکیلے وہ ڈرگز واپس لینے کو تھیں کہ چوہدری وقاص کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے انہیں کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا۔وہ حیرت کی زیادتی سے کبھی تیش میں کھڑے چوہدری وقاص کو دیکھ رہی تھیں۔
“یہ پہلی اور آخری بار تھا نورے آج کے بعد تم مجھے اس حالت میں دوبارہ دیکھائی نہ دو۔”
“ن۔۔نہیں م۔۔میں یہ نہیں چھوڑوں گی اگر یہ میں نے پینا چھوڑ دیا تو مجھے ارتضیٰ دیکھائی دے گا وہ ۔۔وہ پھر مجھے مار دے گا میں ، میں پاگل ہو جاوں گی سائیں۔”
اچانک ہی نورے بیگم کی حالت خراب ہونا شروع ہوئی تھی چیختے ہوئے وہ کسی نیم پاگل کی طرح دیکھائی دے رہی تھیں۔
“نورے بیگم ! کیا ہو کیا گیا ہے تمہیں ؟؟”
“وقاص سائیں جانتے ہیں ، میں بہت بری ہوں اپنی دوست کے ساتھ غداری کی میں نے اس سے حسد کرتی آئی میں یہاں تک کہ آج اس حسد کی آگ میں خود جل رہی ہوں میں تباہ ہو گئی میں پاگل ہو گئی ہوں سائیں۔ سکینہ کی بددعا نے تباہ کر دیا مجھے۔”
“نورے ہوش کریں کیا اول فول بولے چلی جارہی ہیں ؟؟؟”
“م۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں ” میں نے حسد و غصے میں آکر اپنی دوست کا گھر تباہ کر دیا سائیں میں نے سکینہ کے سات۔۔ساتھ غ۔۔غلط کیا م۔۔میں نے ن۔۔نا انصافی۔۔۔”
اتنا کہے وہ چوہدری وقاص کے ہاتھوں میں بہوش ہو گئی تھیں۔
°°°°
نورے بیگم کی طبعیت ناساز تھی جب کہ سکینہ بیگم اور میمونہ بیگم دونوں سحر کے ہمراہ کسی کام سے پاس والے گاؤں گئے تھے۔
اسلئے آج کھانا پروسنے کی تمام تر زمہ داری عمارہ کے سپرد تھی۔
“افف کیا زمانہ آگیا ہے کہ لوگ جائیداد ، دولت ،زمینوں کے پیچھے ایک دوسرے کا قتل کرتے پھر رہے ہیں مطلب حد ہے انسان ،انسان کا ہی دشمن بنا پھر رہا ہے۔ میری نظر میں تو ایسے لوگوں کو کھانے میں زہر دے کر مار دینا چاہیے۔
کیوں بابا سائیں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ؟”
چوہدری وقاص کی پلیٹ میں چاول نکالتے وہ ان کی آنکھوں میں دیکھ عجب چمک و مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی تھی کہ چوہدری احمر سمیت ، چوہدری وقار کا کھانا کھاتا ہاتھ تھما جب کہ چوہدری وقاص کے ماتھے پر لاتعداد بل نمایاں ہوئے تھے عمارہ کی بات سن کر۔
“لڑکی کون ہو تم اور یہاں حویلی میں آنے کا تمہارا کیا مقصد ہے صاف صاف بتاؤ؟”
کھانا چھوڑ وہ اشتعال کے عالم میں کھڑے ہوئے تھے۔
“ارے بابا سائیں آپ کو نہیں معلوم میں تو آپ کی ، اس حویلی کی بہو ہوں احمر کی بیوی ، کیوں احمر آپ نے بتایا نہیں اپنے بابا سائیں کو یا یہ جان کر بے خبر بن رہے ہیں؟”
ہنستے ہوئے کہتی وہ کرسی سیدھی کیے بیٹھ چکی تھی۔
“عمارہ اس بات کا بھلا یہاں کھانے پر تو کوئی تُک نہیں تھا بہتر تھا تم فصول گوئی سے پرہیز کرتی۔”
چوہدری وقاص کا موڈ تیش میں دیکھ وہ عمارہ کو جھڑکتے ہوئے بولا جو کہ سکون سے کھانا تناول فرما رہی تھی۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کہا حقیقت بیان کی ہے ، اگر سچ کڑوا ہو تو برا تو لگتا ہی ہے ۔”
شانے اچکائے اس نے کہا تھا جیسے اسے کسی بھی چیز سے کوئی سرو کار نہیں۔
“احمر بہتر ہو گا اگر تم اپنی بیوی کو یہاں حویلی میں رہنے کے کچھ طور طریقوں سے آگاہ کر دو ساتھ اگر ہو سکے تو تھوڑی تربیت بھی دے دینا۔”
اشتعال کے عالم میں کہتے وہ بنا کھانا کھائے اٹھ کر کمرے میں چل دئیے جب کہ ان کو یوں غصے میں دیکھ عمارہ لب دبائے مسکرائی تھی جیسے اس کے دل کو راحت سی پہنچی ہو۔
