Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 12

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

“رات کے پہر سحر کی آنکھ ایک انجانی سی تکلیف کے احساس سے کھلی تو اس نے خود کو تنہاہ کمرے میں پایا ۔آس پاس نظریں دوڑا کر احمر کو دیکھنا چاہا تو وہ کہیں بھی نہ ملا ہر گزرتے وقت کے ساتھ تکلیف کا احساس دگنا ہو رہا تھا ۔

احمر اسے شہر میں بنے ایک اپارٹمنٹ میں لایا تھا جو کہ تقریباً ہزار گز کے رقبے پر خوبصورت انداز میں بنایا گیا تھا اسکی ہر چیز حویلی کی طرح ہی اعلیٰ طرز جیسی ہی تھی ۔ اتنے بڑے گھر میں وہ کیسے اس ستمگر کو ڈھونڈتی یہ ناممکن تھا ۔

آہہہ۔۔درد کو ضبط کرتی بیڈ کے کنارے کو تھام وہ زمین پر ہی بیٹھتی چلی گئی۔

ا۔۔۔اح۔۔احمر۔۔۔!! نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس دشمنِ جاں کا نام پکار بیٹھی تھی ۔

“دوسرے کمرے میں موجود احمر جو کہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا سگار کے گہرے گہرے کش لگا رہا تھا سحر کی درد بھری آواز سن شاطر سا مسکرا دیا ۔

اس کا انتظار ختم ہوا تھا ۔

پچھلے کچھ گھنٹوں سے وہ جس چیز کے انتظار میں یہاں بیٹھا خود کو سلگا رہا تھا اس کو راحت سی پہنچی ۔

“آہہ۔۔ سحر کی پکار جب دوبارا اسکے کانوں سے ٹکرائی تو وہ کھڑا ہوا تھا اور ہاتھ میں موجود سگار کو پاؤں تلے کچلتے ساتھ والے کمرے میں گیا جہاں وہ اپنا پیٹ تھامے نیچے زمین پر گری تکلیف سے تڑپ رہی تھی اس کی اطراف کی جگہ میں سارا خون بہہ رہا تھا ۔

“ا۔۔احمر ہ۔۔۔ہس۔۔۔ہسپتال م۔۔می۔۔میرا ب۔۔بچہ۔۔۔۔۔۔” ہاتھ بڑھائے اکھڑے سانس کے ساتھ مدد کے لئے التجا کی ۔اس وقت وہ قابلِ رحم حالت میں موجود تھی لیکن مقابل کو کوئی فکر ، کوئی پرواہ نہ تھی وہ سرد تاثرات کے ساتھ مسکراتا اس تک آیا تھا اور بنا اسکی بات پر کان دھرے اس کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں اٹھاتے ہسپتال کے لئے روانہ ہوا ۔

©©©

“شادی کے کافی عرصے بعد وہ اس گھر کی دہلیز پر آئی تھی ۔جہاں بچپن سے لے کر جوانی تک کی اسقدء کی تمام خوشگوار یادیں موجود تھیں۔اسکے باپ کی محبت و شفقت ، وہ اپنایت ، بہنوں کی محبت ، ان کی لڑائیاں ، روٹھنا ، منانا ، شرارتیں یہ سب سوچ وہ دھیمے سے مسکرا دی۔ ہاتھ میں موجود کہوا کا ایک گہرا سپ لیا تھا جس کو پیتے ہی اسکو اپنے جسم میں سکون سا دوڑتا محسوس ہوا ۔

ساتھ ہی وہ مشل اور اپنے بابا کے ریکشن کو سوچ کر دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی جو کہ اسکو اتنے عرصے بعد دیکھنے کا نتیجہ تھے ۔

آج جب اس نے گھر میں قدم رکھا تو پشمینہ اپنے باپ و بہن کے چہرے دیکھتی رہ گئی جہاں صرف و صرف خوشی نمایاں تھی ۔انہیں گویا یقین نہ آ رہا تھا کہ پشمینہ ان کے سامنے ہے ۔منصور صاحب تو اشک بار ہوئے تھے اپنی بیٹی کو بانہوں کے گھیرے میں لئے ۔البتہ ان دونوں ہی نے بہت چاہت سے اس کا استقبال کیا ۔منصور صاحب نے تو کھانا بھی خود بنا کر انہیں کھلایا جسے ان دونوں نے مل کر انجوائے کیا تھا ۔

“چاند نکلا تھا بادلوں کی اوٹ سے جس کی چمک پشمینہ کے چہرے پر پڑتے ہوئے اسکے نین نقش کو مزید واضح کر رہی تھی ۔

اس چمکتے ہوئے پورے چاند پر پشمینہ کی نظریں جیسے ہی ٹکرائی تھیں بے ساختہ اس کے ذہن پر فاتح کی یادوں کا عکس نمایاں ہوا ۔

اس کا کچھ گھنٹوں پہلے کا وہ روپ ، اسکی گستاخیاں وہ محبت یاد کیے وہ سرخ پڑ گئی تھی “

“واقعی وہ دھوپ چھاؤں سا عالم رکھنے والے شخص ہیں کبھی بے انتہاہ محبت اور کبھی بالکل ہی انجان “

وہ بس سوچتی رہ گئی ، لیکن اچانک ہی اس کے فون کی اسکرین جگمگائی اور اسکی چنگھاڑتی رنگ ٹون پورے کمرے میں گونجی تھی جس نے سوچوں میں کھوئی پشمینہ کو بھی جگایا “

پشمینہ نے حیران نظروں سے فون کی جانب دیکھا جہاں فاتح کا نام اپنی شان کے ساتھ جگمگا رہا تھا۔اسے یقین نہ تھا کہ وہ فون کرے گا اس نے گھڑی کی جانب دیکھا جو صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی پھر خود کو کمپوز کرتے کال اٹھائی۔

“السلام عليكم”۔۔۔۔

“وعلیکم سلام جاناں کیسی ہو “..؟؟

مقابل کی پرجوش آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔

“ٹھیک ہوں آ۔۔آپ کیسے ہیں۔۔؟؟ “

پشمینہ کی میٹھی آواز نے مقابل کو مسکرانے پر مجبور کر دیا ۔

کیا سو رہی تھیں ۔۔؟؟”

“نہیں “۔۔۔

“پھر کیا جاگ کر میری کال کا منتظر تھیں “..؟؟

ن۔۔نہیں تو “

وہ شرارتاً گویا ہوا مقابل کے لہجے میں چھپی شرارت نے پشمینہ کو گڑبڑانے پر مجبور کر دیا کیونکہ وہ ایسا ہی تھا نا چاہتے ہوئے بھی اسے فاتح کی کال کا انتظار تھا لیکن اسے جتانا نہیں چاہتی تھی تبھی انکار کر گئی .

“اسکا مطلب میرا کال کرنا تمہیں پسند نہیں آیا “

وہ مصنوعی اداس بھرے لہجے میں گویا ہوا ۔

“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا “

وہ فوراً صفائی دیتے ہوئے بولی ۔

“اسکا مطلب ، تمہیں انتظار تھا ۔رائٹ”…؟؟؟

اس نے تائید چاہی …

ن۔۔نہیں م۔۔میرا مطلب ہ۔۔ہاں۔۔۔۔۔

پہلے پہل وہ انکار کرنے لگی لیکن جانتی تھی انکار سے کوئی فائدہ نہیں تب ہی اقرار کر گئی جبکہ اسکے شرم خوف جھجھک سے پر لہجے میں پنپتا اقرار فاتح کو اندر تک شرسار کر گیا وہ مسکرا اٹھا تھا پشمینہ کے عکس کو سوچتا ، اسکا شرم و حیاء سے جھکتا وہ چہرا اسکی نظروں سے گرد گھوم رہا تھا “

“م۔۔میں جاؤں اب “..؟؟؟

کافی دیر سے فاتح کو خاموش دیکھ وہ بولی تھی ۔

“نو”

سنجیدگی سے سرسراتے جواب نے اسے منجمد کر دیا۔

“ابھی میں اپنی جان سے طویل گفتگو کرنا چاہتا ہوں اسکے بعد ناجانے موقع ملے یا نا ملے۔

شرارت ،محبت ،جذبات سے چور لہجے میں وہ بولا تھا اور پھر ہوا بھی یہی ڈیڑھ گھنٹہ لگاتار وہ اس سے باتیں کرتا رہا ، باتیں بھی وہ جس نے پشمینہ کو تپنے پر مجبور کر دیا کبھی وہ شرم سے سرخ ہوتی یا صبر کے گھونٹ بھر کے رہ جاتی جبکہ اسکی جوابی کاروائی اور اسے تپے تپے چہرے کو سوچتے وہ محظوظ ہوتے قہقہ لگا جاتا ۔

فاتح زبان و بریک تب لگی تھی جب پشمینہ کی بوجھل سانسیں اسے فون سے آتی محسوس ہوئیں یقیناً نیند کی وادیاں اسے اپنی آغوش میں لے جا چکی تھیں گہرا سانس خارج کیے وہ بھی کال بند کر گیا ۔

نیند اسکی آنکھوں سے تو کوسوں دور تھی کیونکہ لندن میں اس وقت دن ہی کا وقت تھا تب ہی اٹھتے وہ باہر کی جانب بڑھا جہاں کا خوبصورت موسم اسے راحت بخش رہا تھا ۔

©©©

اس وقت وہ شہر کے مہنگے ترین ہسپتال کے ایک روم میں موجود پچھلے پندرہ منٹ سے لیڈی ڈاکٹر سے بحث کرنے میں مشغول تھا اور ساتھ ہی اپنی مٹھیاں بھینچے اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

وہ جس حالت میں سحر کو ہسپتال لایا وہاں کے عملہ نے یہ کہتے ہوئے کیس لینے سے صاف انکار کر دیا کہ “یہ ایک پولیس کیس ہے “

اور اسی بات کو سنبھالنے کے لئے کہ یہ بات میڈیا تک نہ جائے وہ ڈاکٹر کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ بہت مشکل ثابت ہوا باآخر اسے اپنا آپ ظاہر کرنا پڑھا۔

“میں آخری مرتبہ پوچھ رہا ہوں اور یاد رہے انکار مجھے پسند نہیں

فیصلہ آپ پر ہے کیا چاہتی ہیں آپ “..

وہی اپنا مغرور و جلال بھرا لہجہ اپنائے کہا تھا اور ساتھ ہی جیب سے نوٹوں سے بھری گڈی اور گن نکال ڈاکٹر کے ٹیبل پر رکھی جسے دیکھ سامنے کھڑی وہ ڈاکٹر اپنی جگہ پر منجمد سی ہوئی تھی ، ان کے چہرے کا رنگ زرد سا پڑ گیا تھا احمر کے پاس گن دیکھ کر “

“اب بتا دیں کہ آپ سیدھی طرح راضی ہو رہی ہیں یا پھر ”….

جان بوجھ کر اپنا جملا ادھورا چھوڑا تھا اس نے ۔۔

”م۔۔میں تیار ہوں “

کہتے وہ اندر اوپریشن تھیٹر کی جانب بڑھی تھی جبکہ اپنی فتح پر وہ قہقہ لگاتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔

©©©

شہیر اس وقت کمرے میں سکینہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا جبکہ عادت کے مطابق وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں شہیر کی بچپن کی عادتوں میں سے ایک تھی جب بھی وہ کبھی پریشان ہوتا اسی طرح سکینہ بیگم کے پاس آتا تھا ۔

“میرے بیٹے کی پری مل گئی کیا “..؟؟

انہوں نے اسکا دھیان بھٹکانے کیلئے یہ سوال داغا تھا کیونکہ وہ جب سے آیا تھا خاموش لیٹا تھا ۔

“نہیں “

یک لفظی جواب دئے وہ واپس خاموش ہو گیا.

“ان شاءاللہ مل جائے گی “

انہوں نے محبت سے اسکا گال سہلایا ۔

“نہیں ماں اب وہ شائد مجھے کبھی نہ مل پائے “

وہ نا امیدی سے بول رہا تھا ، اسکے لہجے میں بے بسی ، نمی ، اداسی کتنے ہی جذبات شامل تھے۔

بالوں میں چلتا سکینہ بیگم کا ہاتھ پل بھر کے لئے رکا تھا اس کے لہجے کی سنجیدگی ، اداسی کو محسوس کئے۔

“چندہ ! جب دعا ماں کے دل سے نکلی ہو تو وہ عرش ہلا دیتی ہے اور یہ تیری ماں کی دعا ہے وہ لڑکی جہاں بھی ہے ، جیسی بھی ہے میرے بیٹے کی قسمت میں ہے ، وہ شہزادی ہے میرے اس شہزادے کی “

اٹل و مضبوط لہجے میں کہا تھا ان نے اور ساتھ ہی شہیر کے ماتھے پر بوسہ لیا۔اس کے دل سے آمین کی سدا نکلی تھی ۔

©©©

“سحر کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ہسپتال کے بستر پر موجود پایا اٹھنے کی کوشش کی لیکن ڈرپ لگی ہونے کے باعث یہ ناممکن تھا تب ہی بے ساختہ طور پر نظریں صوفے پر بیٹھے احمر پر گئیں جو کہ سر ہاتھوں پر گرائے اس کی تمام حرکات ملحفضہ فرما رہا تھا “۔

اس کو دیکھ اس کے حواس صحیح معنوں میں بحال ہوئے تھے ذہن گھر پر ہوئی کاروائی کی جانب گھومنے لگا ایک ایک کر کے تمام تر مناظر کسی فلم کی مانند اس کے ذہن پر سوار ہونے لگے۔ خیال اپنے بچے کی جانب گیا تو احمر کی آنکھوں میں ڈرتے ڈرتے دیکھا جہاں صرف و صرف سنجیدگی نمایاں تھی جب کہ لبوں پر تبسم ۔۔۔

“فتحیاب تبسم “…..

“ا۔۔احم۔۔۔احمر “….؟؟

اس کی مغرور آنکھوں میں امید بھری نظروں سے دیکھتی وہ اپنے سوال کی متلاشی تھی کہ جو وہ سوچ رہی ہے وہ صرف ایک جھوٹ ہو ، ایسا کچھ نہ ہو لیکن احمر کے جملوں نے اسکی تمام تر خوش فہمیوں کو ملیامیٹ کیا۔ زمین پر لاپٹخا تھا اس شہزادی کو ۔

“پاس کھڑی نرس کو باہر جانے کا اشارہ کیا جو کہ احمر کی نظروں کی سرد مہری کو جانچتی فوراً سے غائب ہوئی تھی “.

“آئی ایم سوری ڈارلنگ ! وہ کیا ہے نا کہ میں کل تک کا انتظار نہیں کر سکتا تھا تو اسلئے مجھے یہ راستہ اپنانا پڑا ۔تمہاری آنکھوں میں بغاوت تو میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا تو انتظار بیکار سا لگا مجھے ۔ویسے بھی چوہدری احمر جو ایک بار ٹھان لے اسے کر گزرتا ہے “

سحر کے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے اپنی شان کے ساتھ چلتا اس تک آیا اور ساتھ اس کی حالت کا جائزہ لیا، بکھرے بال ، آنکھوں کے نیچے پڑے کالے ہلکے ، زرد پیلی رنگت جن میں کبھی گلال ہوا کرتا تھا ، زرد ہونٹ ہاتھوں میں لگائی گئی ڈرپ اس کے وجود میں کمزوری صاف طور پر نمایاں تھی وہ واقعی اس وقت قابلِ رحم حالت میں موجود تھی مگر اسکو فکر نہ تھی احمر کے لئے وہ صرف ایک جیتی جاگتی مرتی تھی جس کے ساتھ جیسا سلوک کیا جائے اسے فرق نہیں پڑتا لیکن حقیقتاً ایسا بالکل نہ تھا “وہ انسان تھی ایک جیتی جاگتی انسان ، جو کہ اپنے بھائی کا کفارہ کاٹ کر رہی تھی ۔ وہ خوبصورت لڑکی اپنے بھائی کے خون کی بھینٹ چڑھائی گئی جس کے باعث آج وہ یہ جبر برداشت کر رہی تھی “۔

“م۔۔میرا ب۔۔بچہ “….

وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں کہتی بڑبڑا رہی تھی کہ اسکی حالت بگڑنا شروع ہوئی اب پورے کمرے میں اسکی آواز گونج رہی تھی ۔

“م۔۔م۔۔میرا بچہ مار دیا تم نے “

“ق۔۔۔قا۔۔۔۔ اس کے باقی کے لفظ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اپنا بھاری ہاتھ اسکے لبوں پر رکھ اسکے لفظوں کا گلا گھونٹ چکا تھا “

“خاموش بالکل خاموش ! یہ ہسپتال ہے میں یہاں تمہارا ڈرامہ بالکل برداشت نہیں کروں گا اسلئے اپنا یہ پاگل پن اپنے اندر رکھو “

وہ سنجیدگی سے کہتا دبا دبا غرایا تھا جب کہ وہ یک ٹک سی اسکی آنکھیں میں دیکھ رہی تھی ویرانگی ، تڑپ ، تکلیف کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں لیکن مقابل کی آنکھوں پر شائد چربی چھائی تھی جو کہ ان آنکھوں کی وہ تڑپ نہ دیکھ سکا ۔

اس کے لبوں سے وہ ہاتھ ہٹا چکا تھا ، سحر پل بھر کے لئے خاموش رہی پھر ناجانے اسے کیا سوجی کہ کھینچ کر وہ ڈرپ خود سے علیحدہ کی، خود کی لکیریں بہتی ہوئی چادر پر گر رہی تھیں تکلیف سی نمایاں ہوئی تھی اسکے وجود میں لیکن اسے پرواہ نہ تھی کیونکہ یہ تکلیف اس ستمگر کے دئیے گئے زخموں سے کم تھی ۔

نیکسٹ کچھ دیر میں کرتی ہوں