Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 1
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 1
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
دسمبر کی آمد۔۔
جسموں کو جما دینے والی سردی۔۔۔
اندھیری کوٹھری۔۔۔۔
جس میں بھینسوں کو رکھا جاتا تھا۔۔۔
لیکن آج ان بھینسوں ، مویشیوں کے ساتھ کوئی اور وجود بھی موجود تھا جو کہ دیوار پر بنتے سائے کی بنا پر کسی صنفِ نازک کا معلوم ہوتا تھا۔۔۔
“مجھے ونی نہ کریں ذیشان خدا کے لئے رحم کریں مجھ پر، ایسا ظلم نہ کریں۔۔میں ونی نہیں ہونا چاہتی۔۔”
“نہیں۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی خواب سے بیدار ہوئی تھی جب اس نے خود کو اس ویران کمرے میں پایا تھا کڑک سردی کے باوجود چہرے پر چھایا پسینہ کس ڈراؤنے سپنے کا پتہ دیتا ہے۔۔
ہاں وہ ڈراؤنا ضرور تھا مگر سپنا نہیں۔۔۔
وہ حقیقت تھی ؛ اس کی زندگی کی تلخ حقیقت۔۔۔
اب اسے جینا تھا اس تلخی اور بے بسی کے ساتھ۔۔۔
«««««««««
سحر آنگن میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی جب کوئی پیچھے سے آیا اور اس کے سر پر لال چنری ڈال گیا۔
وہ جو کتاب میں کھوئی تھی اس آفت پر یکدم سے پلٹی۔۔۔
“ز۔۔زیشان۔۔۔؟؟؟”
سر پر ڈالی گئی چنری کو وہ اتارنے لگی جب زیشان نے ان حرکت کرتے ہاتھوں کو تھام لیا تھا۔۔۔
“مت اتارو اسے ۔۔
میں دیکھنا چاہتا ہوں تم جب میری دلہن بن کر یہ چنری اڑھو گی تب کیسے لگو گی؟؟”
ان کے ہاتھوں کو تھامے وہ پیار سے بولا تھا کہ سحر بے اختیار شرما گئی۔۔۔
“او۔۔۔غضب ہو گیا۔۔۔!!!
بھائی غضب ہو گیا۔۔”
گلی کے کونے پر رہتا نوید چیختے ہوئے گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ اس کی چیخ پر سب پریشان ہو گئے تھے ۔
“کیا ہوا نوید کیوں اتنا چیخ رہے ہو؟”
زیشان بھی پریشانی سے آگے بڑھا ۔۔
“آپ کے بھائی سے چوہدری کے بیٹے کا قتل ہو گیا۔۔۔۔
انہوں نے اسے قید میں رکھا ہے اور آپ سب کو بلا رہے ہیں۔۔۔
مجھے تو بڑا خوف آرہا ہے۔۔۔
چوہدری لوگ کافی غصے میں ہیں۔۔۔
باہر ساری پنچائیت بیٹھائی گئی ہے۔۔۔”
نوید گھبرائے ہوئے انداز میں بول رہا تھا۔۔۔
جبکہ زیشان کے ماں باپ کا اس ہولناک خبر کو سن کر دل ہی دہل گیا تھا ۔۔۔۔
زیشان ، اسکے ماں باپ بھاگتے ہوئے پنچایت میں پہنچے تھے۔۔
“چوہدری ص۔۔۔صاحب ص۔۔صاحب معاف ک۔۔کر دیں ہمارے ب۔۔بچے کو اس نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا ہوگا۔۔۔”
وہ دونوں ماں باپ اس چوہدری کے سامنے گڑگڑائے تھے جب کہ چوہدری جس کے سر پہ خون سوار تھا وہ چیخ پر خاموش کروا گیا تھا انہیں۔۔۔
“م۔۔معاف۔۔۔؟؟؟
معاف کر دوں تمہارے بیٹے کو جس نے میرے جگر کے ٹوٹے کو مارا ہے۔۔۔”
لال انگارا آنکھوں سے ان سے سوال کیا تھا۔۔۔
“خون کا بدلہ خون ہوتا ہے۔۔۔جو کہ ہم تمہارے لال کا بہائیں گے۔۔۔”
سر پہ سوار خون کے باعث انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔۔۔
لیکن ان تینوں نفوس کا سکون چھین لیا تھا ان کی اس بات نے۔۔۔
ا”ن۔۔نہیں ہم پیسے دینے کو تیار ہیں آپ چاہیں تو ہم سے ہماری زمینیں بھی لے لیں۔۔مگ۔۔مگر ہمارے بیٹے کو چھوڑ دیں۔۔۔”
اب کے وہ باپ بیٹے کی جان کے لئے ان کے قدموں میں گرا تھا ۔۔
جبکہ زیشان کونے میں کھڑا بہت غور سے انہیں دیکھ رہا تھا اور کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔
نجانے کیا سوچ رہا تھا وہ۔۔۔؟؟
“کیا میرے بیٹے کو اتنا بے مول سمجھا ہے تم لوگوں نے۔۔۔
کہ میں اس کی جان کی قیمت لگاؤں گا؟؟”
غصے سے برہم ہوتے چارپائی سے کھڑے ہو گئے تھے۔۔
ا”گر تم اپنے بچے کی جان کی بخشش چاہتے ہو تو ہمیں ونی چاہیے!!!!!”
“پ۔۔پر ہ۔۔ہم۔۔”
“ٹھیک ہے!!!”
اپنے باپ کی بات بیچ میں ہی کاٹ گیا تھا زیشان جب کٹہرے میں اس کی ہامی کی آواز گونجی تھی۔۔۔
“پ۔۔۔پر وہ منگیتر ہے تمہاری زیشان۔۔!!!”
“م۔۔مجھے فرق نہیں پڑتا لڑکیاں بہت مل جائیں گی۔۔۔
پر بھائی ای۔۔ایک ہی ہے۔۔۔”
وہ کہتے گھر کی جانب بھاگا تھا اور کچھ ہی دیر میں کالی چادر میں لپٹی سحر کو لئے اپنے ساتھ لایا تھا۔۔۔
اس بیچاری کو تھوڑی دیر سے پہلے وہ جو دلہن بننے کے خواب دیکھا رہا وہ سب خود ہی چکنا چور کر گیا۔۔۔۔
“مجھے ونی نہ کریں زیشان خدا کے لئے چاچی روکو نا انہیں ۔۔۔۔
چاچا میں تو آپ کی لاڈلی ہوں نہ پلیز میرے ساتھ ایسا ظلم نہ کریں۔مجھے جیتے جی نہ ماریں۔۔۔” سحر روتے گڑگڑاتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔جبکہ اس کا منگیتر خود غرض بنا اس کو کھینچتا ہوا کٹہرے میں لایا تھا۔۔۔وہ کسی اور کی امانت تھی جبکہ اسکے گھر والے اس کا سودا کرنے پر تلے تھے۔۔۔۔اس کا دل یہ سوچ کر کانپ رہا تھا کہ اس کا وجود ونی ہونے جا رہا ہے۔اور اس بات سے وہ اچھے سے واقف تھی کہ ونیوں کے ساتھ کس قسم کے سلوک کیے جاتے ہیں۔۔
“یہ لو چوہدری ۔۔ میں اپنی کزن کو ونی کر رہا ہوں۔۔اب میرے بھائی کو چھوڑ دیں۔۔” زیشان نے سحر کو چوہدری کے قدموں میں پھینکا تھا ۔۔
“ابھی کہاں!!!
پہلے اس لڑکی کا نکاح ہو گا پھر۔۔”
وہ چوہدری اکڑ کر اپنی چارپائی پر براجمان ہوا تھا۔۔۔
“اس کی بھی کیا ضرورت ہے۔ایسے ہی لے جاؤ ۔۔۔”
بے بسی کی انتہاہ پر پہنچتی وہ چیخ کر کہتی وہاں موجود سب لوگوں کو دنگ کر گئی تھی۔۔
احمر نے سر اٹھا کر شولا بار نظروں سے اس صنفِ نازک کو دیکھا تھا جو اپنے نازک وجود کو کالی شال سے ڈھانپے ہوئے تھی۔۔۔
لڑکی تو بڑی زباں دراز ہے۔۔۔خیر کوئی نہیں میرا پت میرا شیر ٹھیک کر دے گا۔۔۔
چوہدری شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے احمر کی پیٹھ کو تھپک کر بولا ۔۔
“چل بہت ڈراما ہو گیا مولوی نکاح شروع کرو۔۔۔
سحر اسلم آپ کا نکاح احمر چوہدری سے سکہ رائج الوقت دس ہزار روپے میں دیا جاتا ہے کیا قبول ہے؟؟؟”
مولوی کے الفاظ اس کو کسی گرم سیال کی مانند لگ رہے تھے۔۔۔
“ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔” ایک بار پھر وہاں خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔احمر کا دل کیا اس لڑکی کا حشر بگاڑ دے جو اپنے ساتھ اس کا تماشہ بنانے پر تلی تھی۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔ زیشان کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے اس کے حواس سلب کیے تھے۔۔۔۔
“اوئے کیا تماشہ ہے یہ۔۔۔ نکالو اس کے بھائی کو باہر اور قلم کر دو اس کا سر۔۔۔۔۔”
چوہدری نے اپنے بندوں کو حکم دیا تھا۔۔۔۔
“نہیں چوہدری یہ نکاح کرے گی۔آپ میرے بھائی کو کچھ نہ کرنا۔۔
سحر اگر اپنی عزت عزیز ہے تو نکاح کر لو ورنہ یہ تمہیں ایسے ہی لے جائیں گے۔۔۔۔”
زیشان نے اسے خبردار کیا تھا زخمی ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔
“عزت؟؟؟
تم عزت کی بات کرتے ہو؟
جو خود اپنی منگیتر کو غیر مردوں کے بیچ لایا ہے۔۔۔ونی کرنے۔۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی کچھ بھی کہے یا کچھ بھی کرے ۔۔۔کیونکہ میری عزت تب ہی خراب ہو چکی ۔۔
جب غیروں میں ، میں کسی جانور کی مانند پیش کی گئی۔۔۔”
تلخی سے کہتی وہ کونے پہ کھڑی ہوئی تھی جبھی احمر غصے میں آگے بڑتا اس کو بازوں سے کھینچتا گاڑی میں ڈالے لے جا چکا تھا۔۔وہ مسلسل مزاحمت کرتی رہی ، چیختی رہی لیکن اس کی فریاد سننے کو کوئی وہاں موجود نہ تھا۔
یہ پنجاب کا گاؤں بہاولپور تھا۔۔۔
جہاں آج بھی پرانے زمانے کی مردہ رسومات کا راج تھا۔۔۔
بھائی باپ کے کیے کی سزا بہن ، بیٹی کو بھگتنی ہوتی تھی۔۔۔
جہاں ان کا نکاح کسی بھی غیر سے کر کے ہمیشہ کے لئے ان سے لا تعلق ہو جایا جاتا تھا۔۔۔
ان کے اپنوں کو ان کی کوئی خبر نہ ہوتی کہ وہ بیچاری ظلم سہتے سہتے زندہ ہیں یا مر گئی۔۔۔
ایسے ہی سحر اسلم بھی چوہدری خاندان کو ونی کر دی گئی تھی۔۔جہاں اب اس کی آئندہ زندگی بھی دکھ ، کرب اور اذیت میں ہی گزرنی تھی۔۔۔
®®®®
“چ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔
ج۔۔جنگلی انسان۔۔۔”
احمر نے لا کر لاونچ میں پٹخا تھا اسے کہ گرنے کے باعث سر کونے پر رکھی ٹیبل سے ٹکرا گیا۔۔۔
ایک درد کی ٹیس اس کے سر میں اٹھی تھی۔۔۔
“ماں۔۔۔
ماں۔۔۔۔
حلیہ درست کرائیں اسکا۔۔۔نکاح کے کچھ دیر میں۔۔۔
یہ ونی ہو کر آئی ہے ہمارے ارتضیٰ کی جگہ۔۔۔”
حقارت سے اس کے وجود کو دیکھتا وہ باہر جانے لگا تھا کہ سحر کی بات نے اس کے قدم جکڑے تھے۔۔
“ت۔۔تف ہے آپ لوگوں کے چوہدری ہونے پر۔۔۔
ذات اتنی بڑی ا۔۔۔اور کام اتنے کی پست۔۔۔۔۔”
ہاتھ زمین پر ٹکائے اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے احمر کے وجود کو دیکھتے طنزیہ کہا تھا اور اس کی یہی بات احمر چوہدری کو صحیح معنوں میں مرچیں لگا گئی تھی۔۔۔
چٹاخ۔۔۔
اس بیچاری کے پہلے سے سوجے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کیا تھا۔۔۔۔۔
“کیا بکواس کی ہے؟.
دوبارا کہنا۔۔!!!!
تم ابھی تک چوہدریوں کو جانتی نہیں ہو کہ وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں؟
آئندہ ہم پر بہتان لگانے سے پہلے اپنی حیثیت کو مدِ نظر رکھ لینا ورنہ اچھے سے بتا دوں گا کہ چوہدری کیا کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔”
غصے سے غراتے وہ جا چکا تھا۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں مولوی کو لیے حاضر ہوا تھا۔۔۔۔
جس میں وہ بیچاری نکاح کے پاک رشتے میں بندھتے ہوئے مکمل طور پر ونی ہو چکی تھی۔۔
سحر کا دل چاہا چیخ چیخ کر روتے ہوئے اپنا دکھ بیان کرے۔۔۔
مگر کس سے؟؟؟
کوئی نہیں تھا اسکا اپنا۔۔۔
جو اس بیچاری دکھوں کی ماری کی سننتا۔۔۔۔
نکاح کے بعد اسے لا کر چھوڑ دیا گیا تھا۔۔۔
ان مویشیوں کے بیچ۔۔۔۔
@@@@@
“رجو!!
جا دیکھ وہ ونی کدھر ہے؟
بلا کر لا اسے۔۔۔”
نورِ بیگم نے رعب سے کہا تھا کہ رجو بھاگتے ہوئے پیچھے باڑے میں گئی تھی۔۔۔
“اے لڑکی اٹھو جلدی بیگم صاحبہ نے بلایا ہے تمہیں۔۔۔”
زمین پر سکڑ کر لیٹی سحر کو اٹھایا تھا اس نے۔۔
“م۔۔میں ن۔۔نہیں جاوں گ۔۔گی۔۔۔”
سر کو نفی میں ہلاتی وہ دور کھسکی تھی ۔۔۔
ملازمہ نے آنکھیں سکیڑے اس کو دیکھا تھا۔۔
“یہ ٫”نہ ” کی آواز کہاں سے آئی ہے؟”
غرور سے چلتی نورِ بیگم وہاں آئی تھیں۔۔۔
“تم کتنی خوش قسمت ہو لڑکی جو نورِ خود تم سے ملنے آئی ہے۔۔۔”
ہونٹ سکڑے طنزیہ بولی تھی وہ۔۔۔
“چلو اب اٹھو فوراً ,” کیونکہ جب یہاں کوئی ونی ہو کر آ جائے تو نکھرے وہ باہر کوڑے دان میں چھوڑ کر آتا ہے!!!
اسلئے اب سے تمہیں یہاں حویلی کے ہر وہ کام کرنے ہیں جو یہاں کے ملازمین کیا کرتے تھے۔۔۔۔
بلکہ یہاں کے مالکوں کے علاوہ نوکروں اور جانوروں کا خیال بھی تم خود رکھو گی۔۔۔۔”
“م۔۔میں نہیں کروں گی۔۔نوکر نہیں ہوں میں آپ سب کی۔۔۔”
سحر نے ڈرتے ہوئے ہی سہی لیکن صاف انکار کیا تھا۔۔۔
“تمہاری ہمت کو داد دینی پڑے گی جو میری ماں کے سامنے زبان چلا رہی ہو۔۔۔”
احمر جو باہر کے کام سے فارغ ہو کر سحر کے پاس آ رہا تھا اندر سے آتی اس کی آواز پر غصے سے بر ہم ہوا تھا۔۔۔
“یہ عزت ہے ہماری؟؟ ، ونی مین آئی لڑکیاں بے عزت کریں گی ہمیں۔۔”
نخوت سے کہتی وہ سائڈ پر ہوئی تھی۔۔۔
“ماں آپ کے ہاتھ بندھے تو نہیں ہیں۔۔۔زبان کھینچ لیں اس بد زبان کی۔۔۔
جس کو تمیز ہی نہیں کہ اپنے مالکوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔۔۔”
سحر کے بکھرے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیتے وہ چلایا تھا۔۔
“م۔۔۔میں بد زبان ن۔۔نہیں ہوں۔۔۔”
اپنے بالوں کو اس بے رحم کی گرفت سے نکالنا چاہا تھا۔۔
“یہ لیں ماں جیسا چاہیں سلوک کریں ، یہ سوچتے ہوئے کہ آپ کے بیٹے کے قاتل کے خاندان سے ہے۔۔۔۔
جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے۔۔۔
تب اس کو دیکھا دیں اپنا جوش۔۔
کیونکہ ابھی مجھے کام ہے ،ورنہ یہ کام میں بغوبی سر انجام دے دیتا۔۔۔”
سفاکیت سے کہتا سحر کے وجود کو نور بیگم کے قدموں میں پھینکا تھا۔۔۔
پھر کیا !!!
اب اس باڑے میں اس کی دلخراش چیخیں گونج رہی تھیں۔۔۔
وہ بے سنگدل تو جا چکا تھا مگر ان بے رحموں کے حوالے کیے۔۔۔
ان کی وحشت کو برداشت کرتی وہ ادھ موئی سی پڑی تھی وہاں۔۔۔
“آئندہ اگر زبان درازی کی تو ، اس مار کو یاد رکھ لینا۔۔۔۔
کیونکہ آخر ہیں تو بھی چوہدرائین ہی۔۔۔۔۔۔”
اس کے زخمی جبڑوں کو دبوچا تھا۔۔۔
سحر کو کچھ ہوش نہ تھا۔۔۔
اس کے بے جان زخمی وجود کو نورِ پھینک کر جا چکی تھی جانوروں کے چارے پر۔۔۔
وہاں موجود جانوروں کو رحم آ رہا تھا اس بیچاری لڑکی کی حالت اسکی اذیت پر۔۔
لیکن!!!!
وہ انسان ہو کر ایک انسان پر ترس نہ کھا سکے تھے۔۔۔
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل شوق سفر بھی نہیں جاتا
®®®
“آپ کو زرہ شرم نہ آئی ؟ میری وجہ سے، میری وجہ سے آپ نے آپی کو ونی کر دیا ۔”
“بی۔۔بیٹا وہ تمہیں جان سے مار دیتے ، یہی آخری راستہ تھا ہمارے پاس،”
زیشان کی ماں بے بسی سے بولی تھیں۔
“تو مر جانے دیتے۔ ارے لعنت ہے ہمارے مرد ہونے پر ، جن کے باعث گھر کی عزت نیلام ہوئی ہے اور آپ بھیا ، وہ تو منگیتر تھی نہ آپ کی؟؟
پھر کیسے ہونے دیا آپ نے ان کو ونی۔۔۔
لوگ تو اپنی عزتیں بچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے اور ایک آپ ہیں ۔۔۔۔
سوچ کر حیرت ہو رہی ہے مجھے۔۔۔”
سر گرا گیا تھا وہ اپنا ہاتھوں میں۔۔۔
سوچ سوچ کر۔اس کا دماغ پٹھا جا رہا تھا کہ سحر کو ونی کر دیا صرف اس کی وجہ سے۔۔۔
®®®
کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اُس سے
جو یوں کِیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اُس سے
“شہیر میں نوٹ کر رہا ہوں، تم پچھلے کہی مہینوں سے یہاں روزانہ چکر لگا رہے ہو، کیا تمہیں پکا یقین ہے کہ وہ تمہیں یہاں مل جائے گی؟؟”
“انشاللہ۔۔!!!!
اگر آپ کی لگن اور چاہت سچی ہو تو ، خدا بھی اس کو آپ سے ملاو ہی دیتا ہے ،مگر شرط صرف صاف نیت ہونی چاہیے۔۔”
بہتی آبشار کے پانی کو غور سے دیکھتا ایک خواب سی کیفیت میں کہا تھا اس نے۔۔
کئی روز سے وہ اس معصوم پری کی تلاش میں یہاں آ رہا تھا لیکن اس دن کے بعد سے ، شہیر نے دوبارہ اسے نہ دیکھا تھا۔۔لیکن وہ مایوس نہ ہوا تھا۔۔وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اس پری کو ڈھونڈ کر رہے گا۔۔۔
نصیب پھر کوئی تقریبِ قرب ہو کہ نہ ہو
جو دل میں ہوں، وہی باتیں کہا کرو اُس سے
“شہیر یہ بھی ہوسکتا ہے وہ یہاں کی رہائشی نہ ہو، کوئی
ٹوریسٹ ہو۔۔۔۔!!!!”
شرجیل نے اپنی سوچ بیان کی تھی۔۔
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔”
وہ شانِ بے نیازی سے کہتا اپنی شاندار پرسینلٹی سمیٹ گاڑی میں جا بیٹھا تھا۔۔۔
©©©
“بابا !
اپنی اس چہیتی کو دیکھیں ہمیشہ میرے ساتھ ایسا کرتی ہے یہ۔۔۔”
پشمینہ روتے ہوئے منصور صاحب کے کمرے میں آئی تھی۔۔
“کیا ہوا ؟
میری پری رو کیوں رہی ہے؟”
انہوں نے اپنی عینک ٹیبل کے ایک جانب رکھی تھی اور روتی ہوئی پشمینہ کو پیار سے اپنے گلے لگایا ۔۔۔
“یہ مشل کالج میں میرا گیٹ اپ کر کے ٹیچرز اور اسٹوڈنٹ سے پرینک کرتی ہے اور ڈانٹ مجھے لگتی ہے۔۔۔
آ۔۔آج بھی اس نے میم کا لیپ ٹاپ چھپا دیا اور نام میرا۔ گیا۔۔۔”
وہ کالج یونیفورم میں ہی ملبوس بیٹھے روتی جا رہی تھی جبکہ سائڈ پر کھڑی مشل بمشکل اپنی ہنسی روکے کھڑی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
پشمینہ روتے ہوئے کتنی جوکر لگتی ہو۔۔۔
مشل قہقہہ لگاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی جبکہ منصور صاحب نے آنکھیں دیکھائی تھی اسے۔۔۔
“مشل کب انسان بنو گی؟
کتنا مرتبہ سمجھایا ہے بہن کا خیال رکھا کرو مگر ہمیشہ خیال رکھنے کے بجائے بیچاری کا حال بگاڑ آتی ہو۔۔۔”
“بابا۔۔۔
میں پانچ منٹ چھوٹی ہوں۔۔
ان کو میرا خیال رکھنا چاہیے مگر یہاں الٹا ہے۔
چھوٹا بڑے کا خیال رکھے۔۔۔۔”
وہ کندھے اچکائے سائڈ پر رکھا سیب بے تکلفی سے چبانے لگی تھی کہ وہ تاسف میں سر ہلاتے رہ گئے۔۔
جیسے کہہ رہے ہوں۔،” اس نکمی کا کوئی حال نہیں۔۔۔”
۔منصور صاحب اپنی دو جڑواں بیٹیوں کے ساتھ ۔۔
کشمیر میں رہتے تھے ان کی زوجہ کا انتقال منال اور پشمینہ کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی ہو گیا تھا۔۔
وہ اپنی بیگم سے بہت محبت کرتے تھے ان کی موت پر وہ ٹوٹ کر رہ گئے تھے لیکن پھر انہوں نے سنبھالا تھا خود کو اپنی دونوں بچیوں کے لئے۔۔۔
ان کی یہ بیٹیاں ان کے آنگن کی تتلیاں تھیں۔۔
بالکل اپنی ماں کی کاپی۔۔
صاف و شاف کتابی چہرا جس پر لمبی کھڑی ناک اور گلابی ہونٹ شرارت اور معصومیت سے بھری خوبصورت شہد رنگ آنکھیں۔۔۔
وہ بالکل ایک جیسی تھیں بس فرق تھا تو صرف ایک چیز کا
چہرے پر موجود ہلکا چاند کا نشان
۔۔۔
جو ان دونوں کی پہچان کو مختلف بناتا تھا وہ بھی کوئی غور کرے تو ۔۔۔۔
ورنہ سب ان کو دیکھ کر اکثر دھوکہ ہی کھاتے تھے۔۔۔
©®©
“آپ نے اچھا نہیں کیا ونی لا کر !!!”
سکینہ بیگم نے چوہدری وقاص سے کہا تھا جو ابھی ابھی زمینوں سے لوٹے تھے۔۔
ان کا دماغ شل ہو رہا تھا اس خبر کو سن۔۔۔
ایک جگہ بیٹے کی موت کی اذیت دوسری جانب انہی کے گاؤں کی لڑکی کو ونی کر لیا گیا تھا۔۔۔
وہ جانتی تھیں ، یہ حویلی والے ہر چیز کا بدلہ صرف اس معصوم سے لیں گے۔۔۔
دنیا جہاں کے ہوئے قتلوں کا بدلہ اس سے لیا جائے گا۔۔۔
“تم چپ رہو سکینہ!!!”
انہوں نے نخوت سے کہا تھا۔۔
“کیا ایک لڑکی سے بدلہ لیں گے میرے بیٹے کے قتل کا ؟”
آنکھیں جو پہلے ہی بیٹے کی موت پر رو رو کر سوجی ہوئی تھیں مزید آنسوں بہہ نکلے تھے۔۔۔
“تمہیں یہ حق کسی نے نہیں دیا سکینہ ، تم میری خاندانی بیوی ضرور ہو، مگر حیثیت تمہاری دو ٹکے کی بھی نہیں۔۔
اسلئے بہتر ہو گا اپنے فضول کے خیالات اپنے پاس رکھیں یہ مجھ پر نہ چھاڑیں۔۔۔”
انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا اور ٹیبل پر رکھی شال اپنے گرد لپیٹتے باہر نکل گئے۔۔
جب کہ وہ پیچھے بیٹھے ان کی سوچ پر افسوس کرتی رہ گئی تھیں شادی کے ان پچس سالوں میں بھی ان نے آج تک سکینہ کو دل سے قبول نہ کیا تھا۔
چوہدری تیمور کے دو بیٹے تھے ۔۔۔
وقاص اور وقار۔۔۔۔
دونوں بھائیوں کی شادی خاندان میں ہی کر دی گئی وقاص کی شادی ان کی خالہ زاد بیٹی سکینہ سے جبکہ وقار کی میمونہ سے کر دی گئی۔۔۔
وقار اپنی شادی شادہ زندگی میں بے حد خوش تھا جبکہ اس کے بر عکس وقاص نہ خوش۔۔۔۔
کیونکہ وہ سکینہ کو شروع سے ہی نا پسند کرتے تھے اسلئے جیسے ہی ان کو اپنے باپ کی جگہ ملی تھی ، کچھ ہی عرصے میں سکینہ کے سر پر سوتن لا بیٹھائی۔۔۔
دکھ تو انہیں بہت ہوا تھا کیونکہ کون ایسی عورت ہوتی ہے جو شوہر کو بانٹنا چاہے گی؟
پر خیر۔۔۔
جیسا اللّٰہ کو منظور !!! وہ خاموش ہو چکی تھی ، اللہ کی رضا جان کر، کیونکہ کچھ کہنے کا حق اس کا نہ تھا۔۔۔۔
وقاص اپنی دوسری بیوی نورِ سے بہت پیار کرتا تھا اس کی ہر چیز کا خیال کرتا اور ان سب کے دوران اگر غلطی سے سکینہ سامنے بھی آ جاتی تو اس بیچاری کو بے عزت کر دیتا کہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتی۔۔۔
اس سب چیزوں سے نور سکینہ کو جتاتی بھی تھی لیکن وہ کچھ نہ بولتی مسکرا کر خاموش ہو جایا کرتی تھی کیونکہ بحث بات کو مزید بڑھا دیتے ہیں ۔۔۔
وقاص نے کبھی سکینہ کی کسی چیز کا خیال نہ رکھا تھا ہمیشہ اس کو بھانج ہونے کا طعنہ دیتا رہتا تھا۔۔۔
کیونکہ نور سے اس کو ایک بیٹا نصیب ہوا تھا جس کا نام انہوں نے احمر رکھا ۔۔۔
لیکن سکینہ سے ابھی تک کوئی اولاد نہ ہوئی ، مگر پھر بھی وہ صبر کر جاتی تھی ، کیونکہ اللہ نے عورت کے خون میں صبر ڈالا ہے ۔۔۔۔
دوسری جانب وقار جن کی شادی سکینہ کی بہن میمونہ سے ہوئی تھی ۔۔
میمونہ اپنی بہن کی حالت دیکھ کر گھٹ سی جاتی تھی وہ کئی بار وقار سے بھی اپنی بے بسی شئیر کرتی تھی لیکن وہ اسے خاموش کروا جاتا تھا یہ کہہ کر کہ” وہ ان دونوں میاں بیوی کا معملہ ہے”…
جب میمونہ کو خدا نے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا تھا تو اس کو انہوں نے سکینہ کی گود میں رکھا تھا۔۔۔
جسے انہوں نے پیار کر کے ، شہروز کو نام دیا تھا۔۔۔
اپنے ماں باپ سے زیادہ شہروز کا ذیادہ وقت سکینہ کے ساتھ گزرتا تھا۔۔
وہ اسے دل و جان سے اپنا بیٹا مانتی تھیں۔
اسے کے ساتھ ہنسنا ، کھیلنا ، کھلانا ، پلانا ۔
اس کے ہر کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرتی تھیں۔۔
شہروز کے ساتھ سکینہ کا پیار دیکھ شائد اللہ بھی خوش ہوا تھا اور سکینہ کو اسکے صبر کا پھل دیا تھا۔۔۔
یقیناً صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور واقعی اس کے صبر کا پھل خدا نے اسے ارتضیٰ کی صورت میں دیا تھا۔
ہری آنکھوں والا شہزادہ اپنے باپ کے بے حد قریب اور حویلی بھر کی جان تھا۔۔
اور وہی جان جوانی میں ہی اللّٰہ کو پیاری ہو گئی۔۔۔
شائد خدا نہیں چاہتا تھا کہ وہ، اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلے ۔۔۔
تبھی اس جان کو واپس اپنے پاس بلا لیا تھا۔۔
®®®
اسلام آباد کے شہر میں واقع خوبصورت بلڈنگ جو کہ باہر سے کانچ جبکہ اندر سے پوری طرح سے وائٹ ماربل پر بنی ہوئی تھی۔
بلڈنگ کے پارکنگ میں کھڑی قطار نما گاڑیاں وہاں کی حیثیت کا پتہ دیتی تھیں۔
بلڈنگ کے ٹاپ پر لگا ہارڈ بارڈ کسی چینل کی بلڈنگ کا پتہ دے رہے تھے۔۔
“مسٹر احمد ۔۔
ہماری پرانی ریپوٹر غائب ہیں۔۔
ان کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے !!!
واٹس ربش ؟؟
اس ریپوٹر کو ڈیل کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی۔۔۔
پھر یہ سب کیسے ہوا ؟؟”
فاتح بھاری بوٹوں کی آواز کے ساتھ چلتا آ رہا تھا جبکہ اس کے پیچھے تیز رفتار سے اس کا سیکٹری بھی اس کی پیروی کر رہا تھا۔۔
“سر۔۔۔
اس ریپوٹر کا۔۔۔”
“اسٹاپ مسٹر احمد۔۔
مجھے کچھ نہیں پتہ بس !!
بس اس ویک میں ایک نیو ریپوٹر اسٹرانگ ڈگری کے ساتھ میرے آفس میں ہونی چاہیے۔۔”
کوٹ اتار کر راکنگ چئیر پر لٹکایا تھا اور خود بھی وہ اسی چئیر ہر بیٹھ گیا تھا۔۔
“جی سر میں کوشش کروں گا۔۔۔”
“احمد میں نے کوشش نہیں کہا!!
میں نے ہنڈریڈ پرسنڈ کا ہے۔۔۔”
اپنی بات کہے وہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہو چکا تھا۔
©©©
چررر۔۔۔۔۔
وائٹ کرولا گاڑی ایک نائٹ کلب کے سامنے رکی تھی جس میں بیٹھا تھا احمر چوہدری اور اسکی گرل فرینڈ۔۔۔۔
“احمر سریسلی !
پھر سے؟؟؟
میں بور ہو چکی ہوں اس کلب کے چکر لگا لگا کر۔۔۔
تم ہمیشہ گھوما پھرا کر مجھے یہیں لے آتے ہو۔..”
وہ منہ بسورے وہیں گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا ڈارلنگ۔۔
ڈونٹ سیڈ۔۔
نیکسٹ ٹائم پکا کوئی اچھا ریسورٹ بک کروائیں گے۔۔
بٹ تمہاری برتھ ڈے پر ، بٹ ابھی چلو اندر۔۔”
اسکے ہاتھوں کو تھامے وہ اندر بڑھ چکا تھا جبکہ وہ منہ کے زوایے بناتی اسکی پیروری کر گئی۔۔۔
دل تو ہی بتا کہاں تھا چھپا؟
کیوں آج سنی میری دھڑکن پہلی بار۔۔۔
کلب میں چلتا تیز میوزک ، جگمگاتی وہ روشن ایکٹرک سائیٹس
ماحول کو بہت رومانوی بنا رہے تھے ۔
کہ “یہی وجہ تھی وہاں موجود لوگ آس پاس کی پرواہ کیے ایک دوسرے میں مگن تھے۔۔۔
عروہ کی باتوں کی بنا پرواہ کیے اسکو ڈانس فلور پر لے گیا تھا جہاں انہیں کی مانند جوڑے اپنی اداکاری دکھا رہے تھے۔۔
دنیا جھوٹی لگتی
سپنا سچا لگتا ہے
چھپ کے تیری بانہوں میں
سب کچھ اچھا لگتا ہے۔۔۔
“دیکھو کتنا مزا آتا ہے ڈانس کرنے میں۔۔
تم خواہ مخواہ میں گھبراتی ہو۔۔”
کونے پر رکھی ٹیںل پر بیٹھے تھے وہ۔۔۔
“احمر آج نہیں۔۔۔”
اسکو لگاتار ڈرنک کرتے دیکھ اس نے وارن کیا تھا۔۔
“او!! ۔۔ عروہ ڈارل۔۔جسٹ لیٹل بیٹ۔۔۔”
“افف احمر میں کیا کروں تمہارا؟؟؟”
ڈرنک کرتے کرتے اب وہ مکمل اپنے ہوش کھونے کے قریب تھا کہ ،عروہ زبردستی اس کو لے کر نکلی تھی۔
“آئندہ میرے باپ کی توبہ،جو تمہارے ساتھ کہیں گئی ،”
فلیٹ میں لا کر بیڈ پر پٹخا تھا اسے۔۔
خود اپنی کمر کو پکڑ کے دہائی دی تھی جو اس سانڈ نما شخص کو اٹھانے کے باعث دکھ رہی تھی۔۔۔
اس کی یہی حرکات سے قسمت اسکو اشارے دے رہی تھی کہ پلٹ جاؤ واپس۔۔۔۔
لیکن کہتے ہیں ناں ،کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دماغ سے پہلے ہی انجام معلوم کر لیتے ہیں اور نقصان سے بچ جاتے ہیں۔۔
لیکن افسوس یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں!!!!
ایسا ہی کچھ عروہ کی قسمت میں بھی ہونا تھا لیکن کیا؟
