Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode (Watching)
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
شہریار تیز رفتاری سے گاڑی دوڑاتے ہوئے عروہ کے گھر پہنچا صبح کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اس نے گیٹ پر پہنچ کر عروہ کا کال کرنی شروع کی
” ہیلو ۔۔۔۔۔” عروہ کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری
” عروہ اٹس می !! شہریار ۔۔۔۔”
” شیری ؟؟ اتنی صبح ؟؟ ” وہ حیران ہوئی
” اٹس ارجنٹ تم اپنے گیٹ پر آؤ میں ویٹ کررہا ہوں ۔۔” شہریار نے تیزی سے کہہ کر فون رکھا اور گاڑی سے اتر کر سن گلاسز سر پر ٹکا کر دروازے کے بالکل سامنے کھڑا ہو گیا ۔
کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا اور پنک نائٹ پاجامہ اور شرٹ میں بکھرے بالوں کے ساتھ عروہ اسے اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نظر آئی
” مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے وقت کم ہے اس لئیے یہ اندر باہر کے تکلفات چھوڑو اور میری بات سنو ۔۔۔” وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا
” جب دو دوست ملتے ہیں تو چائے کے کپ تھام کر بات کرتے ہیں آؤ اندر چلو ۔۔۔” وہ لاپرواہی سے کہہ کر پلٹی
” کیا تم دوست کہلانے کے قابل ہو ؟؟ ” شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
” تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟؟ ” عروہ ٹھٹکی
” عروہ تم کیا ہو ؟؟ ایک فریب دکھاوا چالبازی کا دوسرا نام ، آخر کیا ہو تم ؟جواب دو آخر سویرا کے ساتھ تم نے اتنی گھٹیا شرمناک حرکت کیوں کی ؟؟ “
” اوہ !!” وہ بری طرح چونکی
تو تمہیں پتہ چل ہی گیا !! لیکن شیری یہ سب میں نے تمہاری محبت میں تمہیں پانے کے لیے تمہاری خاطر کیا ہے ، شیری ڈارلنگ وہ دیسی اولڈ فیشن لڑکی تمہاری بیوی بننے کے قابل نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولی
” شٹ اپ !! شٹ یور ماوتھ ۔۔۔۔” اس نے ایک جھٹکے سے عروہ کو خود سے دور کیا
” فار گاڈ سیک شیری میرے جذبات کو سمجھو ۔۔۔۔”وہ سسک اٹھی
” اپنے اس گھٹیا شرمناک حرکت کو مجھ سے منسوب کرنے کا سوچنا بھی مت ۔تمہیں میں پہلے دن سے بتا چکا تھا کہ میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں اور اب اگر زندگی میں کبھی بھی اپنی ناپاک زبان سے میری بیوی کا نام بھی لیا تو تم زندہ نہیں بچو گی ۔۔۔”
شہریار کے خطرناک تیور دیکھ کر عروہ دہل گئی تھی
” سویرا میری بیوی میری عزت میرا جنون ہے اس کے سوا میری لائف میں کسی دوسری عورت کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو ۔۔۔” وہ پھنکارا
اس سے پہلے عروہ اپنے آپ کو سنبھال کر اسے جواب دیتی پورا علاقہ پولیس سائرن سے گونج اٹھا جونس پولیس لیکر آگیا تھا ۔
” گڈ بائے فار ایور مس عروہ ۔۔۔۔” وہ تلخ لہجے میں کہتا ہوا پلٹ کر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور کار ریورس کرتے ہوئے گلی سے دور نکلتا چلا گیا ۔اج عروہ نام کا کانٹا اس نے اپنی اور سویرا کی زندگی سے دور نکال کر پھینک دیا تھا
*****************
وہ لوگ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزار چکے تھے شہریار نے انہیں اچھا خاصا وقت دیا تھا ہر ویک اینڈ پر وہ انہیں گھمانے باہر لے جاتا تھا سویرا بھی یونیورسٹی سے واپسی پر انہیں پورا ٹائم دے رہی تھی ماضی کے رویوں کے برعکس اب فرازنہ بیگم میں شہریار کو خوش باش ہنستا بستا دیکھ کر تھوڑی تبدیلی آگئی تھی لیکن ان کی زبان ابھی بھی وہی تھی جس سے سویرا نے سمجھوتا کر لیا تھا کہ انسان کی فطرت بدلنا ممکن نہیں ہوتا ۔۔
شام میں وہ اپنے کمرے میں تھیں جب اکرام کا فون آگیا
” ہیلو !! آگئی ماں کی یاد ۔۔۔۔” انہوں نے فون اٹھاتے ہی اس کی کھنچائی کی
” اسلام علیکم امی !! کیسی ہیں ؟؟ ” اکرام ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے خوشدلی سے بولا
” میری چھوڑو تم بتاؤ اتنے دن سے کدھر غائب تھے ؟؟اب کیسے زحمت کر لی فون کرنے کی ؟؟” وہ حسب عادت طنزیہ انداز میں بولیں
” آپ واپس کب آرہی ہیں ؟؟ ” وہ بھی آرام سے پوچھنے لگا
” فی الحال میرا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ابھی دو تین ماہ مزید رہو نگی اس کے بعد اگر دل چاہا تو واپسی کا سوچوں گی ۔۔” انہوں نے اسے اپنا پروگرام سنایا
” امی !! دو ماہ ہونے والے ہیں آپ لوگوں کو ادھر ڈیرا ڈالے اب واپس آجائیں ویسے بھی میرے پاس آپ کے لئیے ایک اچھی خبر ہے ۔۔۔۔” وہ پرجوش ہوا
” اب تم میرا ضبط آزما رہے ہو ؟؟ عرصہ ہوگیا اچھی خبریں تو لگتا ہے زندگی سے روٹھ سی گئی ہیں ۔۔۔” وہ اداس ہوئیں
” امی مبارک ہو آپ دادی بننے والی ہیں ۔۔۔۔۔” وہ ماں کے لہجے کی اداسی محسوس کرکے فوراً بولا
” اللہ !!! کیا کہہ رہے ہو ؟؟ ” وہ چونک کر کھڑی ہو گئیں
” سچ کہہ رہا ہوں آپ دادی بننے والی ہیں ۔۔۔۔”
” ارے اللہ !! اتنی دعاؤں کے بعد میرا میرا شاہان آرہا ہے ۔”انہوں نے خوشی سے جھوم کر کہا
” شاہان !! کون ؟؟ ” اکرام الجھا
” شاہان میرا پوتا اور کون ۔۔” انہوں نے اکرام کو تنک کر جواب دیا
” امی ہوتا یا پوتی اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ بس دعا کریں جو بھی ہوں صحتمند اور صالح ہو ۔۔۔” اکرام نے سمجھانا چاہا
” تو فکر مت کر !! بس اب جلدی سے میرا شاہان جائے اسے اپنی گود میں کھلاؤں سینے سے لگاؤں تو ہی چین ملیگا اور اکرام اب تو فون رکھ میں شکرانہ پڑھ کر سلیم سے کہہ کر واپسی کا ٹکٹ کرواتی ہوں ۔۔۔” وہ فون رکھ کر تیزی سے وضو کرنے چلی گئیں
نماز پڑھ کر انہوں نے شہریار کے کمرے کا رخ کیا حسب عادت بنا کھٹکھٹائے اندر داخل ہوئی پورا کمرہ خالی پڑا تھا پر ٹیرس کا دروازہ کھلا پڑا تھا وہ ٹیرس کے دروازے پر آئیں اور باہر کا منظر دیکھ کر ان کا چہرہ تپ اٹھا
” استغفرُللہ !! توبہ توبہ ۔۔۔۔” انہوں نے اپنے گال پیٹے
***************
شہریار ٹیرس میں کھڑا بارش انجوائے کر رہا تھا جب سویرا اس کیلئے بلیک کافی بنا کر لائی
” اندر آجائیں آپ کی کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے ۔۔۔” اس نے دروازے پر کھڑے ہو کر شہریار کو پکارا
” کافی ادھر ہی لے آؤ ساتھ مل کر پیتے ہیں ۔۔۔۔”شہریار نے نکھری نکھری سویرا کو دیکھتے ہوئے حکم جاری کیا
” میں کیسے آؤ !! اتنی تیز بارش ہے ۔۔۔” وہ موسم کے تیور دیکھ کر گھبرائی
” تمہیں کیا بارش سے الرجی ہے ؟؟ یا پھر تم بارش سے بھی ڈرتی ہو ؟؟ ” شہریار نے پوچھا
” پلیز !! اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔” وہ گھبرائی
” کیا اچھا نہیں لگتا ؟؟ میں یا بارش ؟؟ ” شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیکر ٹیرس میں آیا تیز بارش کی پھوار نے دونوں کو مکمل بھگو دیا تھا
” بولو ؟؟ کیا اچھا نہیں لگتا ؟؟ ” اس نے پھر سوال کیا
” وہ !! ” سویرا ہچکچائی
” وہ کیا ؟؟ ” شہریار نے اس کے چہرے پر سے بھیگی لٹ ہٹائی
” آپ سمجھتے کیوں نہیں !! ” وہ زچ ہوئی
” تو مسز آپ سمجھاتی کیوں نہیں ۔۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کرکے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا
” ابھی بھی ڈر رہی ہو ؟؟؟ ” اس نے سرگوشی کی
” میں بارش سے نہیں ڈرتی لیکن !! لیکن آپ کے ساتھ یوں بھیگنا ۔۔۔۔۔” وہ چپ ہو گئی
” یوں میرے ساتھ کیا ؟؟؟ ۔۔۔۔” شہریار نے اس کے چہرے پر نظریں جما کر پوچھا
” مم مجھے شرم آتی ہے ۔۔۔۔۔” سویرا نے تیزی سے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا
اس سے پہلے شہریار اس کی اس شرمیلی ادا پر نثار ہوتا
” کیا ہو رہا ہے یہاں ؟؟ ” پھپھو کی پاٹ دار آواز گونجی
سویرا تیزی سے شہریار سے الگ ہوئی اور ٹیرس کے دروازے پر جم کر کھڑی پھپھو کو دیکھتے ہی اندر بھاگ گئی
” آئیے پھپھو لندن کی بارش انجوائے کریں ۔۔۔۔” شہریار نے ہاتھ بڑھایا
” بارش !! رہنے دو میاں یہ شہر تو جب دیکھو نگوڑ مارا بھیگتا ہی رہتا ہے تم یہ بتاؤ آخر یہ چل کیا رہا ہے ؟؟ ” انہوں نے شہریار کو گھورا
” میں آپ کی بات سمجھا نہیں ۔۔۔۔”
” خیر اب اتنے ننھے بھی نہیں ہو کہ بات نا سمجھو ارے کیا پورے گھر میں تمہیں جگہ نہیں ملتی جو کبھی باورچی خانے میں تو کبھی چھجے پر ٹنگے ملتے ہو ؟؟ “
” چھجے ؟؟ پھپھو یہ ٹیرس ہے ۔۔۔۔” شہریار نے تصیح کی
” میاں کچھ شرم لحاظ سیکھ لو بیوی کو اتنا بھی سر پر نہیں چڑھانا چاہئیے اور دیکھو بھلا اب جان کر وہ لڑکی بارش میں بھیگی ہوگی کہ بیمار پڑ جائے اور ہماری مہمان داری نا کرنی پڑے ۔۔۔۔” پھپو دور کی کوڑی لائیں
” پھپو ایسی بات نہیں ہے آپ کا آنا تو ہمارے لئیے باعث عزت ہے ۔۔۔۔”
” ارے چھوڑو مجھے سب معلوم ہے تمہیں اور تمہاری بیوی کو میرا آنا پسند نہیں آیا ہے لیکن میں صاف کہے دیتی ہوں تمہیں اچھا لگے یا نا لگے میں تو بری بھلی بات پر روک ٹوک کرونگی آخر تمہاری خیر خواہ ہوں ۔۔۔۔” انہوں نے کہا
” کاش !! آپ میری اتنی خیر خواہ نہ ہوتیں ۔۔۔” وہ بارش کی بوندیں اپنے چہرے سے صاف کرتا ہوا بڑبڑایا
” کیا کہا ؟؟ ” انہوں نے مشکوک نظروں سے اسے گھورا
” کچھ نہیں پھپو !! آئیں آپ کو اچھی سی کافی پلاتا ہوں ۔۔۔۔” وہ اندر کی طرف بڑھا
” بس بس مجھے نہیں پینا کالے رنگ کا زہر !!تم جلدی سے لباس بدلو کہیں ٹھنڈ نا لگ جائے میں تب تک تمہارے لئیے یخنی بنواتی ہوں ۔۔۔” وہ اسے ہدایات دیتی ہوئی باہر نکل گئیں
**************
جمعہ کی شام سلیم صاحب زاہدہ بیگم فرازنہ پھپھو سب ائیر پورٹ پر کھڑے تھے فلائیٹ میں تھوڑی ہی دیر باقی تھی
” شیرو بیٹا اب تم اور سویرا جلدی سے پاکستان کا چکر لگانا ۔۔۔” زاہدہ بیگم نے ہدایت کی
” جی امی بس سویرا کی چھٹیوں میں کوئی پروگرام بنائیں گے ۔۔۔” وہ انہیں تسلی دیتے ہوئے بولا
“شیرو سویرا۔ !! شاہان کی پیدائش پر تم دونوں لیلی مجنوں کو حویلی میں ہونا چاہیے بس ۔۔۔۔” فرزانہ پھپھو نے حکمیہ انداز میں بات کی
“جی پھپھو !! ” سویرا نے دھیمی آواز میں کہا
فلائیٹ کی اناوسمنٹ ہو چکی تھی سب سے مل ملا کر سلیم صاحب زاہدہ بیگم اور فرزانہ بیگم اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ چکے تھے پلین ٹیک آف کر چکا تھا فرزانہ آنکھیں بند کئیے بیٹھی ہوئی تھیں
سویرا خوش تھی اور سویرا کی زندگی میں خوشیاں ارے ہی سب بدل گیا تھا وہ جو مایوس ہو چکی تھی اب دادی بننے والی تھیں ، سلیم ان کے بھائی کی طبیعت اب بالکل ٹھیک تھی اور اب سے بڑھ کر شاہو ان کا لاڈلا کامیابیاں سمیٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” چھوٹے بھیا مجھے معاف کردینا لیکن اب سے میں تمہاری گڑیا بیٹی کا خیال رکھوں گئی ۔۔۔” ان کی بند پلکوں سے ایک آنسو گرا ۔۔۔
*****************
وہ دونوں پلین کے اڑنے تک ائیرپورٹ پر رکے رہے تھے ۔۔
“مسز اب چلیں ۔۔۔۔”شہریار جیب سے گاڑی کی چابی نکالتے ہوئے گویا ہوا
” جی چلئیے ۔۔۔۔” سویرا اداسی سے بولی
” اتنی اداس کیوں ہو ؟؟ ” اس نے گاڑی پارکنگ سے نکالتے ہوئے سوال کیا
” سب چلے گئے اب گھر کتنا خالی خالی لگے گا ۔۔۔” وہ بھیگی آواز میں بولی
” یہ بتاؤ تمہارے فرسٹ ائیر مکمل ہونے میں کتنا وقت باقی ہے ؟؟ ” شہریار نے بالکل الٹ سوال کیا
” سات ماہ !! لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔” وہ حیران ہوئی
” مسز شہریار !! ٹھیک سات ماہ بعد ہم اپنے ہنی مون پر نکلیں گے اور چونکہ ابھی چار سال تم نے دل لگا کر پڑھنا ہے تو ہر سال ہم تمہارے ایگزام کے بعد ہنی مون منائیں گے ۔۔۔”وہ سنجیدگی سے اپنا فیوچر پلان بتاتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا
” یہ آپ کدھر جا رہے ہیں ۔۔۔۔” وہ گاڑی کو شہر سے باہر جانے والے راستے پر دیکھ کر بول اٹھی
” فارم ہاؤس !!” اس نے دو لفظی جواب دیا
” لیکن کیوں ؟؟ ابھی گھر جا کر اسائنمنٹ بنانا تھا ۔۔۔” وہ بوکھلائی
” سشش !! مجھے خاموشی سے ڈرائیو کرنے دو ۔۔۔۔” اس نے ٹوکا
فارم ہاؤس پہنچ کر شہریار نے گاڑی اندر پارک کی اور سویرا کو ساتھ آنے کا اشارہ کر کے اندر بڑھ گیا
شام ڈھلنے لگی تھی وہ باغیچہ میں باربی کیو کررہا تھا سویرا اس کے ساتھ کھڑی تھی دونوں نے مل کر ڈنر ساتھ کیا پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہی درخت کے نیچے اسے ساتھ لیکر بیٹھ گیا ۔۔
” سویرا !! میں نے کبھی نہیں چاہا کہ تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی ہو میں تم سے عمر میں بہت بڑا تھا میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ میاں بیوی اگر ہم عمر ہوں تو انڈرسٹینڈنگ اچھی رہتی ہے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں زندگی پرسکون اور خوشگوار گزرتی ہے ۔لیکن میں غلط تھا میاں بیوی کے رشتے میں عمر کا فرق کو معنی نہیں رکھتا اصل چیز ایک دوسرے کو سمجھنا اعتماد کرنا ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنا ہے ۔۔۔۔” وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے سنجیدگی سے بول رہا تھا
” تم میرے جان سے عزیز چاچو کی بیٹی ہو مجھے بہت عزیز ہوں میں نہیں چاہتا تھا کہ تم اپنے سے بڑی عمر کے مرد کے ساتھ زندگی گزارو ، تمہارے ساتھ زبردستی کی جائے اسی لیے میں نے خود کو سخت کر لیا تھا لیکن تمہاری موجودگی تمہاری معصومیت مجھے ڈسٹرب کرنے لگی تھی پھر اس رات جب تم چاچو کی تصویر اپنے سینے سے لگائے نیند میں مجھ سے شکوہ کررہی تھی تو مجھے سمجھ آگئی کہ اس رشتے نے ہم دونوں کو باندھ دیا ہے تم بھی مجھے چاہنے لگی ہو اسی لئیے میں نے اس رشتے کو آگے بڑھایا تمہارے معاملے میں میرا دل میرے مقابل ڈٹ گیا ہے تم میری عزت کی ، میری محبتوں کی میری شدتوں کی امین ہو ۔۔۔۔”
وہ حیران سی شہریار کو یک ٹک بنا پلکیں جھپکائے دیکھ رہی تھی شہریار کے چہرے پر جذبے اپنا رنگ دکھا رہے تھے
” سنو اب تو کہہ دو تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہوں ۔۔۔” اس نے سویرا کی گھنی پلکوں کو چھوتے ہوئے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیا تو چونکی
سویرا نے ایک نظر شہریار کی بولتی ہوئی آنکھوں میں دیکھا
” کہنا ضروری ہے کیا !! ” وہ جھینپ کر دھیمی آواز میں بولی
” خدا کو مانو مسز شہریار !! شرافت سے اظہار محبت کرو ورنہ ۔۔۔۔۔” شہریار نے اسے گھورا
سویرا نے سرخ پڑتے چہرے کو جھکا کر تیزی سے شہریار کو دھکا دیا اور اٹھ کر اندر بھاگ گئی
وہ مسکراتے ہوئے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھا جو بھی تھا اسے سویرا کی اسی شرم و حیا نے اپنا اسیر کیا تھا وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوا سامنے ہی سویرا بیڈ پر بیٹھی اپنی سانسوں کو ہموار کرنے میں لگی تھی
” ہممم ” وہ دلچسپ نظروں سے اسے دیکھتا ہوا کھنکھارتے ہوئے آگے بڑھا
” آپ ۔۔۔۔اپ وہ ۔۔۔۔” سویرا لڑکھڑاتے ہوئے بولی
“ہاں میں !! “وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا اور اپنی جیب سے چین اور انگھوٹھی نکالی
” سنو لڑکی !! یہ میری محبت کی نشانی ہے جو اس دن تم نے اتار دی تھی آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے انڈر اسٹینڈ !! ” وہ چین اس کے گلے میں پہنا کر ہاتھ پکڑتے ہوئے انگوٹھی پہناتے ہوئے بولا
” وہ وہ مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا ۔۔۔” سویرا نے نظریں جھکا کر ہچکچاتے ہوئے کہا
” ہاں تو کہوں نا میں تو کب سے بیقرار ہوں ان الفاظ کو سننے کیلئے ۔۔۔۔” وہ ہمہ تن گوش ہوا
” وہ ۔۔۔۔” سویرا انگلیاں مسلتے ہوئے اس کے پاس آئی
” سوئیٹ ہارٹ !! وہ سے آگے بھی بڑھو ۔۔۔۔”
” وہ میرا نام سنو لڑکی نہیں ہے آپ مجھے سویرا کہا کریں ۔۔۔۔” وہ تیزی سے آنکھیں میچ کر بول اٹھی
شہریار نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے جھک کر ایک استحقاق بھری مہر اس کی پیشانی پر ثبت کی ۔۔
” مسز شہریار !!! تم مسز شہریار ہو جاناں ۔۔۔۔” وہ جھک کر اس کے کانوں میں سرگوشیاں کررہا تھا
محبت کی چاندنی ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی ہوائیں گنگنا رہی تھی ۔ خوشیوں محبتوں سے بھرا زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہو چکا تھا
وہ ہم سفر تھا مگر
اوروں سے منفرد تھا بہت
وہ شریک سفر تھا مگر
اسکی شراکت زمانے میں بے نظیر تھی بہت
وہ ہم سفر تھا مگر
اسکی محبت کا انداز نرالا تھا بہت
وہ انا پرست تھا مگر
اسکی رفاقت زمانے سے الگ تھی بہت
وہ زمانہ ساز تھا مگر
اسکی شناسائی مجھ تک ہی تھی بہت
وہ ہم سفر تھا مگر
میری زندگی کی کتاب کا عنوان ہی تو تھا وہ
وہ ہم سفر تھا مگر
میرا محافظ سفر ہی تو تھا وہ
وہ جو سب کی حسرتوں میں تھا
مگر اسکی حسرتوں کی حاصل میں ہی تو تھی
وہ جو تھوڑا سا کڑوا تھا
مگر اسکی مٹھاس میرے لیے ہی تو تھی
وہ ہم سفر تھا مگر
صرف مجھ تک ہی مختص تھا وہ
جس کے دل کی دھڑکن میں ہی تو تھی
ہاں وہ ہم سفر تھا
ہاں وہ ہم سفر تھا
(شاعرہ ۔شزا خان)
ختمشد
