Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32
وہ سب لوگوں کی توجہ خود پر مرکوز دیکھ کر گھبرا گئی تھی اس سے پہلے وہ پلٹ کر واپس جاتی سامنے سے شہریار اس کی طرف تیزی سے چلتا ہوا آیا اور آتے ہی اسے اپنے مضبوط حصار میں لے کر سب سے چھپا چکا تھا وہ شاید اس کا ڈر بھانپ چکا تھا ۔۔۔
” اٹس اوکے مسز! ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔” وہ اس کے کان میں سرگوشی کررہا تھا اسے ایک اطمینان سا اپنی رگ رگ میں اترتا ہوا محسوس ہوا ۔
” تم ٹھیک ہو ؟؟ ” شہریار نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پوچھا
“جی! ” وہ اتنے لوگوں کے سامنے اس کی قربت سے گھبرا گئی تھی
” چلیں پھر! ” وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے بولا
” سب دیکھ رہے ہیں آپ ہاتھ تو چھوڑیں۔” وہ نروس ہوئی۔
شہریار نے اس کے نازک سے ہاتھ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی اور اسے لیکر آرام سے نیچے اترنے لگا۔ وہ دونوں ایک ساتھ بالکل پرفیکٹ نظر آرہے تھے۔ سب کی نظروں میں ستائش تھی۔ سارے مہمان ان دونوں کے نیچے پہنچتے ہی کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگے تھے۔
” عروہ! بیٹا یہ سب کیا ہے؟ کون ہے یہ لڑکی؟ ” عروہ کے ڈیڈ نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا
” ڈیڈ! یہ یہ شیری کی کزن ہے پاکستان سے آئی ہے۔” ابھی عروہ بات کر ہی رہی تھی کہ شہریار، سویرا کو اینا اور بریڈلی کے پاس چھوڑ کر ان کی ٹیبل پر آیا۔
” شہریار یہ سب کیا ہے؟ ” عروہ کی ممی نے غصہ دباتے ہوئے پوچھا۔
” مسز سہراب! ری لیکس۔۔”
“عروہ! تم نے اپنے پیرنٹس کو نہیں بتایا کیا؟ ” وہ آرام سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
” کیا بات ہے کیوں ہماری عزت کا جنازہ نکال رہے ہو تم دونوں؟ بتاتے کیوں نہیں وہ لڑکی کون ہے اور تمہاری اس کے ساتھ اتنی نزدیکی؟ ” مسز سہراب تلملا اٹھیں.
” ویل! وہ لڑکی مسز شہریار ہے میری وائف۔۔۔”
” تم نے ہمیں دھوکہ دیا۔ اس طرح بھری محفل میں بلا کر ذلیل کیا؟ میں تمہیں چھوڑو۔۔۔” عروہ کے ڈیڈ غرائے۔
” مسٹر سہراب ۔۔۔۔” شہریار نے ان کی بات کاٹی۔
” میں نے آپ کوئی دھوکہ نہیں دیا ہے۔ سویرا سے میرا نکاح لڑکپن میں ہوا تھا اور آپ کی بیٹی کو میں ساری حقیقت بتا چکا تھا۔ میں تو آپ سے بھی ملنا چاہ رہا تھا۔ مگر عروہ نے منع کردیا۔” وہ سکون سے بولا۔
” عروہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔” مسٹر سہراب نے عروہ کو گھورا
” اور تم، جب تمہاری پہلی بیوی موجود ہے تو پھر یہ منگنی کا تماشہ کیوں لگایا؟ میری بیٹی کو ذلیل کرنے کے لیے؟ ” وہ دوبارہ اس کی طرف پلٹے۔
” جناب میں نے آپ کی بیٹی کو صاف کہہ دیا تھا کہ میں اپنی وائف کو نہیں چھوڑ سکتا۔ مگر اسے پھر بھی مجھ سے رشتہ جوڑنا تھا۔ وہ دوسری بیوی تک بننے کو تیار تھی۔ اب آپ بتائیں۔ ساری سچائی آپ کے سامنے ہے۔ ادھر آپ کی ہی عزت کیلئے کسی بھی گیسٹ کو انگیجمنٹ کا بلاوا نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ سرپرائز پارٹی اناؤنس کی ہے۔”
” مگر شہریار! ” مسٹر سہراب نے اپنا سگار میز پر رکھا
” ڈیڈ پلیز اب اور کوئی بات نہیں اور شیری میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ ہماری انگیجمنٹ ہوگی اور آج ہی ہوگی بس۔” وہ سہراب صاحب کی بات کاٹتے ہوئے غصہ سے بولی
” انیف عروہ! بس اٹھو اور گھر چلو ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔” اس کی ممی نے ٹوکا
” لسن ممی! اگر شیری میرا نہیں ہوا تو ۔۔۔۔ تو میں اس لڑکی کو جان سے مار دونگی۔۔” وہ غرائی
” وہ لڑکی میری وائف ہے۔ اگر ہوا بھی اسے چھو کر گزرے گی تو میں برداشت نہیں کرونگا۔ تو سوچو جو اسے نقصان پہچانے کا سوچے گا، میں اس کا کیا حشر کروں گا۔ ” شہریار سرد لہجے میں بولا۔
” بس بہت ہوگیا اٹھو یہاں سے گھر چلو۔” مسٹر سہراب نے عروہ کا ہاتھ پکڑا
” ڈیڈ میں خود کو شوٹ کر لونگی اور شیری تم۔ میری موت کے ذمہ دار تم ہوگے۔” وہ غصہ سے لرز رہی تھی۔
” شہریار کیا میں اکیلے میں تم سے بات کر سکتا ہوں؟ ” سہراب صاحب نے ریکوئیسٹ کی۔
شہریار اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ان کو لے کر آگے بڑھا ہی تھا کہ سامنے سے جونس آتا نظر آیا۔
” مبارک ہو دوست۔” وہ بڑی خوشدلی سے اس کے گلے لگا
” سب ٹھیک تو ہے؟ ” اس نے حیرت سے شہریار کے اور مسٹر سہراب کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا۔
” تم بھی ساتھ آجاؤ۔ ” شہریار نے اسے بھی ساتھ آنے کا کہا اور یہ تینوں مرد حضرات فارم ہاؤس کے اندر لِونگ روم میں آگئے۔
” شہریار! عروہ بچپن سے بہت شدت پسند ہے۔ وہ ہر چیز جو اسے پسند آجائے اس پر اپنا حق سمجھتی ہے۔” مسٹر سہراب نے بات شروع کی۔
” سر! میں کوئی چیز نہیں ہوں اور جب عروہ میری طرف بڑھی تھی. میں نے اس وقت بھی آپ کو خود انفارم کیا تھا کہ میں سیریس نہیں ہوں. میری فیملی نہیں مانے گی اور میں اپنی فیملی کے خلاف نہیں جاؤنگا۔ “
” شہریار وہ واقعی خود کو شوٹ کر لےگی۔” مسٹر سہراب نے پریشانی سے کہا
” آخر ہوا کیا ہے ؟؟ ” جونس نے ان دونوں کو کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
شہریار نے جونس کو شروع سے لیکر آخر تک کی بات تفصیل سے بتائی۔
” وہ خودکشی کی دھمکی دے رہی ہے۔ ” شہریار نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
” کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اس سے منگنی کر لو۔ پھر حالات کے سنبھلتے ہی توڑ دینا ؟؟ میری بچی کے لیے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ ” مسٹر سہراب نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔
” مگر! اس سے سویرا, میری وائف ڈسٹرب ہوگی۔ ابھی بھی دو روز سے وہ ڈھنگ سے سوئی نہیں ہے۔ بس چپ چاپ سب سے چھپ کر آنسو بہا رہی ہے۔ ” وہ الجھا
” شیری! سویرا کو میں نے بہن بولا ہے اسے ہم مل کر سمجھا لینگے بلک…۔” جونس کہتے کہتے رکا
” مجھے عروہ بہت پسند ہے میں اسے لائک کرتا ہوں اور اسے اس فیز سے نکلنے میں ہیلپ بھی کرونگا. بس آج تم یہ منگنی کر لو تاکہ وہ کچھ الٹا سیدھا نا کرے۔” جونس نے سمجھایا.
” اوکے لیکن یہ منگنی میرے نزدیک بس ایک ڈھونگ ہے اور کچھ نہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی. آپ سب یہ ذہن میں رکھیے گا۔” وہ سرد لہجے میں بولتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
******************
سویرا اینا اور بریڈلی کے ساتھ تھی شہریار کے سارے دوست احباب اس سے ملنا چاہ رہے تھے۔ اس کے بارے میں جاننا چاہ رہے تھے۔ وہ اتنی نگاہوں کا منظر بن کر ٹھیک ٹھاک بوکھلائی ہوئی تھی۔ جب شہریار اندر فارم ہاؤس سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔ وہ سویرا کو دیکھے بغیر سیدھا عروہ کے پاس گیا۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو آنے کو بیتاب تھے۔ دل میں ایک خوف سا تھا۔
” بھئ یہ پارٹی ہے۔ کچھ ماحول بناؤ، میوزک چلاؤ۔ ” جونس ان کے پاس آکر اینا سے مخاطب ہوا۔
” یس سر! میں اسٹارٹ کرواتی ہوں ۔۔ ” اینا نے اثبات میں سر ہلایا
” کیسی ہو سویرا !! ” اینا کے جانے کے بعد وہ سویرا سے مخاطب ہوا
” جی ٹھیک ۔۔۔” وہ ہولے سے دور کونے پر بات کرتے ہوئے شہریار اور عروہ کو دیکھتے ہوئے بولی
اسی وقت لائٹ سا میوزک بلند آواز میں چلنے لگا سب لوگ کھا پی رہے تھے کھل کر انجوائے کررہے تھے کئی کپلز میوزک انجوائے کرتے ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے جھوم رہے تھے
*********************
“شہریار !! تم بس اتنا بتا دو کہ منگنی کررہے ہو یا نہیں ؟؟ بلکہ منگنی چھوڑوں ایسا کرو نکاح کر لو مجھ سے ۔۔۔” وہ اپنا بازو چھڑوا کر درخت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی
” عروہ !! میں تم سے پیار نہیں کرتا یہ تم بھی جانتی ہو پھر کیوں اپنی زندگی داؤ پر لگانا چاہتی ہو ؟؟ ” شہریار نے اس سے سنجیدگی سے پوچھا
” شیم آن یو شہریار !! ایک عام سی معمولی سی لڑکی کیلئے تم مجھے ٹھکرانا چاہتے ہو ، مجھے !! جس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے سب مرے جاتے ہیں ۔۔۔” اس کے لہجے میں نفرت سے زیادہ تضحیک تھی
” وہ عام لڑکی نہیں ہے وہ مسز شہریار ہے انڈر اسٹینڈ ۔۔۔” وہ جتاتے ہوئے بولا
” ہونہہ مسز شہریار مائی فٹ !! اس میں ایسی کیا خوبی ہے بولو ؟؟ نا وہ تمہارے ساتھ کسی بزنس میٹنگ میں جاسکتی ہے نا ہی تمہارے سرکل میں موو کر سکتی ہے آخر اس چڑیل میں ہے ہی کیا جس کی خاطر آج تم مرے جارہے ہو ؟؟ میں خود کو جان سے مار لونگی لیکن تمہیں اس کا نہیں ہونے دونگی ۔۔۔۔” عروہ کا لہجہ ہنوز تھا
” عروہ اس میں کیا ہے یہ تم نہیں سمجھو گئی ہر مرد کی خواہش ایک پاکباز بیوی کی ہوتی ہے جس کا دائرہ اس کے شوہر کے گرد گھومتا ہو نا کے شوہر کے سرکل کے گرد خیر لیو اٹ ہم منگنی کررہے ہیں لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو تم سویرا سے دور رہو گی ۔۔۔۔” وہ دو ٹوک انداز میں بولا
” سیریسلی !! او گاڈ شیری لو یو سو مچ مجھ سے ویٹ نہیں ہو رہا کب تم میری انگلی میں اپنے نام کی رنگ پہناؤ گے ۔۔۔۔۔” وہ خوشی سے جھوم اٹھی
شہریار نے ایک پل کو اس کا یہ بدلتا ہوا روپ دیکھا ۔۔۔
میں سویرا سے بات کر کے آتا ہوں تم جب تک اپنے پیرنٹس کے ساتھ سینٹر اسٹیج پر چلو ۔۔۔” وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے سویرا کی طرف بڑھا جو جونس سے بات کرتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” جونس ایکسکیوز از !! ” وہ سویرا کا ہاتھ پکڑ کر جونس سے ایکسکیوز کرتے ہوئے اندر چلا آیا
” آپ کہاں ۔۔۔۔”
“ششش !! ” وہ اسے چپ کراتے ہوئے اوپر اپنے بیڈ روم میں لے آیا
” آپ ادھر کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔” گلابی خوبصورت لباس میں اس کا معصوم چہرہ اس قدر دلکش لگ رہا تھا کہ وہ بےخود سا ہونے لگا
” تم اپنے ہسبنڈ کے ساتھ ہو سوئیٹ ہارٹ کوئی ٹینشن مت لو ۔۔۔” وہ اسے خود سے قریب کرتے ہوئے بولا
” سنو !! محبت کی پہلی سیڑھی اعتماد ہوتی ہے اس لیے میں چاہے جو بھی کروں تمہیں مجھ پر یقین رکھنا ہوگا وعدہ کرو کبھی بھی بدظن نہیں ہوگی ۔۔۔” وہ اسے اپنی گرفت میں لیے پوچھ رہا تھا
سویرا نے بھلا کب شہریار کا ایسا روپ دیکھا تھا وہ اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی اس کے چہرے پر شرم و حیا کے دلکش رنگ پھیل گئے تھے
” تم بہت خوبصورت ہو اور تمہاری ساری دلکشی تمہاری حیا تمہارا گریز ہے ہمیشہ ایسی ہی رہنا ۔۔۔” وہ اس کے چہرے پر بکھری لٹوں کو چہرے سے ہٹاتے ہوئے گھمبیر آواز دھیرے سے بولا
شہریار نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کرکے سائیڈ ٹیبل پر سے جیولری باکس اٹھا کر رنگ اور چین باہر نکالی
” یہ ہمارے نکاح کا گفٹ جو مجھ پر ادھار تھا ۔۔۔” وہ اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے بڑی توجہ سے رنگ پہناتے ہوئے بولا
” آپ ۔۔
” ششش !! ” وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش کروا گیا
” اور یہ تمہارا رونمائی کا گفٹ جو مجھے تمہیں پرسوں رات دینا چاہیے تھا ۔۔۔” وہ بیش قیمت چین لاکٹ اس کی نازک سی سفید شفاف گردن میں پہناتے ہوئے بولا
سویرا اس کی مضبوط گرفت اور پرجوش انداز پر حیران تھی آج پہلی بار شہریار کے لہجے میں محبت اور چاہت کے پرزور جذبوں کی مہک تھی ایک جنون تھا ۔۔۔
چند لمحوں کی پرفسوں خاموشی کے بعد کے بعد شہریار نے سویرا کو شانوں سے تھام کر بیڈ پر بٹھایا
” میں ابھی کچھ دیر بعد عروہ سے منگنی کر رہا ہوں یہ میری مجبوری سمجھ لو ۔۔۔” وہ کھڑا ہوا
” تم ابھی یہی رہو مگر ٹھیک پندرہ منٹ بعد نیچے نظر آؤ اوکے ۔۔۔” وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ابھرتی ہوئی نمی سے نظریں چراتے ہوئے پلٹ کر نیچے تقریب میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد سویرا اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھی اور کھڑکی میں آکر کھڑی ہو گئی جہاں سے نیچے روشنیوں کے حصار میں شہریار عروہ کو انگوٹھی پہنا رہا تھا عروہ کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ !!؟ وہ ناچاہتے ہوئے بھی رو رہی تھی…پھر وہ پردہ برابر کرتے ہوئے پیچھے ہٹی پندرہ منٹ ہو چکے تھے اسے شہریار کے حکم کے مطابق نیچے جانا تھا ۔۔۔
وہ اپنا حلیہ درست کر کے نیچے آئی سامنے ہی اینا اور بریڈلی کھڑے ہوئے تھے وہ بجھے ہوئے قدموں سے چلتی ہوئی ان کے پاس آئی
” یہ تمہارا باس کیا پاگل ہے جو اس لومڑی کو رنگ پہنا دی ۔۔۔۔” بریڈلی شدید غصہ میں تھا
” اور تم !! کیسی بیوی ہو ؟؟ اسے روکا کیوں نہیں ۔۔۔” وہ سویرا پر برسا
” بریڈلی تم ۔۔۔۔” اینا نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
” میں اب ادھر ایک منٹ بھی نہیں رک سکتا ۔۔۔” وہ اینا کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے اندر کمرے میں چلا گیا
اینا سویرا کو دیکھ کر زبردستی مسکراتے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کا دل بہلانے کی کوشش کررہی تھی
*************************
چھ فٹ سے نکلتا قد نیلی آنکھیں سنہرے بال ورزشی جسامت جدید تراش کے سوٹ میں ملبوس بالوں کو الٹا جما کر سیٹ کئیے ہوئے وہ ہینڈسم جوان گاڑی سے اترا ۔۔
دربان اس کی وجاہت سے مرعوب ہوتے ہوئے اس کو سلیوٹ کرتے ہوئے گیٹ کھول چکا تھا وہ چاروں اطراف دیکھتے ہوئے دور باغ میں آرگنائز کی گئی تقریب کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ تبھی تالیوں کی گونج سنائی دی سامنے اسٹیج پر مشہور بزنس ٹائیکون مسٹر شہریار اپنی گرل فرینڈ کو رنگ پہنا رہا تھا اس نے کسی کی تلاش میں چاروں جانب نظریں گھمائیں پر وہ کہیں نہیں تھی اچانک سے اس کی نظر اوپر کی طرف اٹھی ۔۔۔
ہاں یہ وہی تھی جسے دیکھنے کیلئے ملنے کے لیے وہ تڑپ رہا تھا وہ اپنی ساحر آنکھوں میں آنسو لیے ساری دنیا سے انجان بس شہریار کو دیکھ رہی تھی اس کی توجہ شہریار پر مرکوز دیکھ کر اسے اپنے اندر ایک آگ سی اٹھتی محسوس ہوئی اس سے پہلے وہ اندر کا راستہ ڈھونڈتا وہ پردہ برابر کر کے غائب ہو گئی ۔وہ آگے بڑھا اس کو ہر صورت اس سے ملنا تھا آخر وہ اس کا مہمان تھا اس کے بلاوے پر آیا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ اسے دوبارہ نظر آئی وہ کسی لڑکی کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی ۔وہ اپنے سیٹ بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی جانب بڑھا
” ہیلو لیڈیز !! “
سویرا اور اینا نے ایک ساتھ اسے دیکھا
” ہیلو !! آپ کون ؟؟ میں نے آپ کو پہچانا نہیں ۔۔۔”اینا نے جواب دیتے ہوئے پوچھا
” میری تعریف تو یہ خوبصورت پرنسس کریگی جس کی کشش میں ، میں کھنچا چلا آیا ۔۔۔” وہ سویرا کو دیکھے ہوئے بولا
” واؤ سویرا یو آر لکنگ بیوٹی فل ۔۔۔۔” ڈاکٹر اینڈریو سویرا کے قریب آکر بولا
“کیا آپ ہر لڑکی پر اسی طرح لائن مارتے ہیں ؟؟” اینا نے اسے گھورا
” تم ٹھیک تو ہو ؟ روئی تھی کیا ؟؟ ” اینڈریو اینا کو نظر انداز کرتے ہوئے سویرا سے مخاطب ہوا جو سر جھکائے فرش کا ڈیزائن حفظ کررہی تھی
” کیا آپ ہر مہمان سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں ؟؟ ” اینا نے چوٹ کی
” جی نہیں ہر ایک سے کیوں پوچھوں گا ؟؟ جن سے تعلق ہے بس ان سے پوچھ رہا ہوں ۔۔” وہ اینا کو گھور کر بولا
” کیوں ؟؟ یہ آپ کی بہن لگتی ہے کیا ؟؟ ” اب کے اینا نے بھولے پن کی انتہا کردی
” دیکھیے مس !! میں آپ کو وارن کررہا ہوں آپ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اس میٹر سے دور رہو ۔۔۔” اینڈریو ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا
” سویرا چلو ادھر سے ۔۔۔۔۔” اینا نے سویرا کا ہاتھ تھاما
“آپ تشریف لے جا سکتی ہیں سویرا ادھر ہی مجھے کمپنی دیگی ۔۔۔” اینڈریو نے ایک جھٹکے سے سویرا کا ہاتھ اینا کی گرفت سے چھڑوایا ۔
سویرا پلٹ کر جانے کے ارادے سے مڑی
” رک جاؤ سویرا !! میں آج کسی بھی صورت تمہیں اپنی بات سنے بغیر جانے نہیں دونگا ۔۔۔” اینڈریو ہٹیلے انداز میں اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا
اس کے انداز پر سویرا نے خوف سے اسے دیکھا اس کی نگاہوں کی جارحانہ چمک پر سویرا کو اپنے اندر سرد سی لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی وہ ہمت کر کے مضبوط لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی ۔
” سر مجھے آپ میں ، اور آپ کی باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے میں میرڈ ہوں اور آپ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔۔۔”
” جانتا ہوں ، بہت اچھی طرح سے تمہاری اس پیپر میرج کی حقیقت کو جانتا ہوں لیکن سوئیٹ ہارٹ میں تمہیں وارن کررہا ہوں تم اسے چیلنج سمجھ لو یا جو بھی مگر تم صرف اور صرف اینڈریو کی ہو ۔۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر پھنکارا.
جاری ہے
