Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23
سویرا کے جانے کے بعد وہ بھی اپنی ای میلز چیک کر کے سونے لیٹ گیا آنکھیں بند کرتے ہی دو سیاہ آنسوؤں سے بھری آنکھیں اس کے ذہن کے پردے پر ابھر آئیں ۔۔۔
” شٹ !! میں نے بھی اسے کچھ زیادہ ہی سنا دیا بچی ہی تو ہے اس سب میں اس کا کیا قصور ہے ۔۔۔” وہ خود کو ملامت کرتا کروٹ بدل گیا اس کی آنکھوں میں بار بار سویرا کا مایوس سکتے کے عالم میں اسے دیکھنا آرہا تھا تنگ آکر تکیہ پھینکتے ہوئے وہ اٹھا اور کچن سے نیند کی گولی لینے کے لیے باہر نکلا ساتھ کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اندر لائٹ بھی جل رہی تھی ۔
” اس لڑکی کو اتنی تمیز نہیں کے دروازہ بند کر کے لائٹ آف کر کے سوتے ہیں ۔۔۔۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے کمرے کے اندر آیا لائٹ آف کرنے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اس کے کانوں میں سویرا کے سسکنے کی آواز سنائی دی وہ نا چاہتے ہوئے بھی پلٹ کر بیڈ کے پاس آیا
سویرا کسی تصویر کو اپنے سینے سے لگائے نیند میں سسک رہی تھی اس کے گھنیری سیاہ پلکیں بھیگی ہوئی تھی گالوں پر آنسوؤں کی لکیر جمی ہوئی تھی وہ سسک رہی تھی ۔
شہریار نے دھیرے سے اس کے ہاتھوں سے تصویر نکالی ۔۔۔
وہ اپنے پیارے اکلوتے چاچو کی تصویر دیکھ کر ایک لمحے کو ٹھٹک گیا سرد سا پڑ گیا یہ لڑکی اس کے چاچو کی جان تھی جو آج اس طرح نیند میں اپنے باپ سے باتیں کررہی تھی ۔۔۔
اس نے سویرا کے اوپر لحاف ڈالا اور چاچو کی تصویر ہاتھ میں لئیے لائٹ آف کر کے دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔
کمرے میں آکر اس نے فون اٹھا کر عروہ کو میسج کیا ۔۔۔
” کل کا پروگرام کینسل تم مجھے صبح دس بجے کیفے وکٹوریہ میں ملو
****************
وہ صبح سات بجے بلیک جینز کے اوپر میرون کرتی پہنے سر پر اسکارف اوڑھے تیار تھی شہریار حسب معمول جاگنگ پر گیا ہوا تھا اس نے
شہریار کے لئیے جوس اور ناشتہ میز پر رکھ دیا تھا کچھ ہی دیر میں اینا آچکی تھی اس نے فون کرکے سویرا کو باہر آنے کا کہا ۔۔
وہ تیزی سے اپنا پرس اٹھاتی ہوئی گھر لاک کرکے باہر نکلی جہاں فریش سی اینا اس کا انتظار کر رہی تھی وہ کافی دنوں سے یونیورسٹی جا رہی تھی خاصا اعتماد بحال ہو چکا تھا لیکن آج زندگی میں پہلی مرتبہ جاب پر جاتے ہوئے وہ بری طرح سے نروس ہو رہی تھی
” سویرا !! پلیز ری لیکس یار جاب پر جا رہی ہو محاذ پر نہیں ۔۔۔” اینا اس کی نروسنس بھانپ کر ٹوکتے ہوئے بولی
” نہیں میں کہاں گھبرا رہی ہوں ۔۔۔۔” وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی
” اچھا چلو کیفے آگیا ہے آرام سے کام سیکھنا کیتھی بہت اچھی ہے ، دیکھنا تمہیں اچھا لگے گا ۔۔۔” اینا نے اسے گیٹ پر ڈراپ کیا
کیتھی نے بڑی گرم جوشی سے سویرا کو ویلکم کیا اور یونیفارم کی ہالف سلیو بلیک شرٹ اور پنک مخصوص ویٹرس والا ایپرن پکڑا کر چینج کرنے بھیج دیا
لمبے گھنے سیاہ بالوں کی اونچی پونی بنائے سیاہ شرٹ اور پنک ایپرن میں وہ مومی گڑیا سب کی توجہ کھینچ رہی تھی کیتھی اسے خود ٹرین کررہی تھی ۔۔۔
” سویرا ہنی !! تم تو بہت فاسٹ سیکھ رہی ہو اچھا اب دیکھو وہ جو سامنے کی چار ٹیبلز ہیں وہ تمہاری ذمہ داری ہیں آرڈر لو کچن میں آکر کک سے ٹرے بنوا کر کسٹمرز کو سرو کرو ۔۔۔۔” دو گھنٹے کی ٹریننگ کے بعد کیتھی نے سویرا کو کام بتایا
_________
وہ جاگنگ کرکے ٹریک سے واپس آیا تھا سامنے ہی ٹیبل پر اس کے لئیے فریش جوس ڈھکا رکھا تھا کچن کی لائٹ بند تھی وہ جوس اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا ساتھ ساتھ سویرا کے کمرے کی طرف نظر ڈالی تو دروازہ بند تھا ۔۔۔
” سو گئی ہوگی بیچاری ۔۔۔۔” وہ سوچتا ہوا جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے اپنے جم کی طرف بڑھ گیا ہفتہ کا دن تھا آج کئی مہینوں بعد وہ فری تھا ۔۔۔
عروہ شہریار کو سرپرائز دینے کے لیے صبح آٹھ بجے اس کے گھر کے دروازے کے باہر موجود تھی کلچ میں سے چابی نکالی کر اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا وہ شہریار کے کمرے میں داخل ہوئی وہ بھی خالی تھا لیکن برابر میں شیشے کی دیوار سے وہ جم میں ایکسرسائز کرتا نظر آرہا تھا بنا شرٹ کے اس کا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا مضبوط بازوؤں کے پھولے پھولے مسلز وہ مبہوت سی ہو گئی تھی ۔بنا پلکیں جھپکائے وہ اسے دیکھ رہی تھی اور خود پر فخر سا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
” یہ ہینڈسم اسمارٹ آدمی صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔۔” وہ دھیرے سے جم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور دبے قدموں چلتی ہوئی بنچ کی طرف آئی جس پر شہریار چت لیٹا ویٹ لفٹنگ کر رہا تھا ۔۔۔
” واؤ شیری !! تمہاری باڈی تو بہت زبردست ہے ۔۔۔” وہ جگمگاتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی
شہریار جو ویٹ لفٹنگ میں مصروف تھا عروہ کی آواز سن کر چونک گیا ویٹس کو نیچے رکھتے ہوئے سیدھا ہو کر کھڑا ہوگیا
” تم کب آئیں ؟؟ ” شہریار نے تولیہ اٹھاتے ہوئے پوچھا
” بس ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہیں ڈھونڈتے ہوئے تمہارے کمرے تک آئی پھر وال سے تمہیں ایکسرسائز کرتے دیکھا !! ویری امپریسو شیری ۔۔۔” وہ دھیرے سے پاس آکر اس کے مضبوط بازوؤں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
” ڈونٹ ٹچ می !! ” وہ تیزی سے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا
” کم آن شیری !! تم میرے ساتھ ہر بار ایسے ہی کرتے ہو کبھی بھی فزیکل نہیں ہوتے آخر تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے ؟؟ ” عروہ کا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب ہوا
” پرابلم ؟؟ سنو عروہ عزت صرف لڑکیوں کی میراث نہیں ہوتی ، مردوں کی بھی ہوتی ہے مجھے شادی سے پہلے کے فضول ریلیشن شپ گناہ سے بڑھ کر کچھ نہیں لگتے ۔۔۔” وہ اپنی شرٹ پہنتے ہوئے بولا
” شیری !! پھر میں کیا ہوں ؟؟ ” عروہ نے سنجیدگی سے پوچھا
” تم میری دوست ہو ۔۔۔۔” وہ لاپرواہی سے بولا
” بس دوست ؟؟ ” عروہ نے افسردگی سے اسے دیکھا
” جب تک کوئی شرعی رشتہ نہیں بن جاتا تب تک صرف دوست ہو اس کے بعد جب میرا تم پر حق ہوگا تو پورے حقوق کی ادائیگی بھی کرونگا اور تمہیں اپنے رنگ میں بھی ڈھال لونگا ۔۔۔” وہ تنقیدی نظروں سے شارٹ اسکرٹ اور سلیولیس بلاؤز میں بالکل باربی ڈول کی طرح چمکتی ہوئی عروہ کو دیکھتے ہوئے بولا
” تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟؟ میں تمہیں صاف صاف بتا رہی ہوں میں تمہاری سو کالڈ دیسی وائف کی طرح کبھی بھی نہیں ہو سکتی تمہارے سامنے کچھ اور اور باہر ۔۔۔۔۔
” اسٹاپ اٹ عروہ !! تم باہر لاؤنچ میں میرا ویٹ کرو میں شاور لیکر آتا ہوں ۔۔۔” وہ عروہ کی بات کاٹتے ہوئے اپنے روم میں داخل ہوگیا
” اوکے میں ویٹ کرتی ہوں جلدی آنا اب نو تو بج چکے ہیں مجھے ناشتہ کرنا ہے ۔۔۔” وہ اسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولی
” میں آتا ہوں تم جب تک ریسٹورنٹ سلیکٹ کرو ۔۔۔”
” اس ٹائم کون سا ریسٹورنٹ کھلا ہوتا ہے ؟؟ ہم کسی اچھے سے کیفے میں چلتے ہیں ۔۔۔” وہ کہتی ہوئی باہر لاؤنچ کی طرف بڑھ گئی
******************
شہریار عروہ کو ویسٹ کے ایک بہت ہی مشہور کیفے وکٹوریہ میں لایا تھا وکٹورین طرز پر بنا یہ کیفے اس وقت صبح کے ناشتے کے لئیے بھرا ہوا تھا وہ ایک میز منتخب کرتے ہوئے اس پر بیٹھ گیا
“شیری تم نے رات کا پلان کیوں کینسل کیا ؟؟ “عروہ نے مینیو اٹھاتے ہوئے پوچھا
” عروہ میں ابھی ایک سال تک کسی بھی چکر میں پڑنا نہیں چاہتا میری شاہ بی بی سے کمٹمنٹ ہے میں ایک سال بعد ہی اس مصیبت رشتے سے چھٹکارا پا کر کوئی اسٹیپ لینا چاہتا ہوں ۔۔۔” ۔
” شیری !! تو اس سب میں میں کدھر ہوں میرے جذبات میری فیلنگ تمہیں ان سب کی کوئی فکر نہیں ۔۔۔” وہ چٹخ گئی
” دیکھو عروہ شادی کی کمٹمنٹ تم سے کی ہے تو اسے نبھاؤں گا بھی ، تم اس لڑکی سے خود کو کمپئیر مت کرو وہ لڑکی میری زندگی میں کہیں نہیں ہے ۔۔۔” وہ رسان سے بولا
” تو پلیز کم سے کم منگنی تو کرلو ، مجھے کچھ تو آسرا دو ۔۔۔”
” اوکے اس ویک اینڈ پر سادگی سے رسم کرتے ہیں شادی دھوم دھام سے کرینگے ۔۔” وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا
” سر آپ آرڈر کیلیئے تیار ہیں ؟؟ ” ایک سریلی سی آواز ابھری
شہریار اپنے سامنے کھڑی ویٹرس کو دیکھ کر چونک گیا ویٹرس کے مخصوص لباس میں وہ لڑکی اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ اس کی گھبراہٹ صاف محسوس کی جاسکتی تھی
” سر ، مس آپ آرڈر لکھوا دیں ۔۔۔۔”
” مس نہیں میم اوکے ؟؟ اور جاؤ کسی دوسری ویٹرس کو بھیجو ۔۔۔” عروہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے نخوت سے بولی
” اوکے ۔۔ ” وہ سر ہلاتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی
شہریار کی ساری توجہ اب سویرا پر تھی کب دوسری ویٹرس آئی عروہ نے کیا آرڈر کیا اسے کچھ خبر نہیں تھی بس وہ سویرا کو اس طرح ویٹرس کے روپ میں دیکھ کر حیران تھا
” شیری کم آن تمہارا بریک فاسٹ ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔۔ ” عروہ نے اسے سوچوں سے نکالا
” بس کرو اتنی ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لیکر کیوں ہوا کو فریز کررہے ہوں ۔۔۔”
” یار اس ایشین ویٹرس کو دیکھو ہائے سو بیوٹیفل میری تو نظر ہی نہیں ہٹ رہی ہے ۔۔۔”
پیچھے کی میز پر بیٹھے لڑکوں کی آوازیں شہریار کا غصہ بڑھا رہی تھی
” اس کے چہرے پر کتنی معصومیت ہے میں تو بس اب اسے پٹا کر ہی رہونگا ۔ ۔۔”
وہ بہت دیر سے برداشت کررہا تھا لیکن اب
شہریار نے ایک جھٹکے سے کرسی پیچھے کھسکائی اور پلٹ کر اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکے سے کھینچا
” یہ آپ کیا کررہے ہیں چھوڑیں اسے ۔۔۔” ایک افراتفری سی مچ گئی
شہریار نے اب اسے گھونسے مارنے شروع کر دئیے تھے اس لڑکے کے ساتھی شہریار کو گھیرے میں لے چکے تھے پر شہریار بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح سب کی ٹھکائی لگا رہا تھا کیفے کی مینجمنٹ بھی باہر نکل آئی تھی
” شیری پلیز چھوڑو یہ سب پولیس کیس بن جائیگا چلو یہاں سے ۔۔۔” عروہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا
شہریار نے ایک جھٹکے سے اس لڑکے کو اٹھا کر میز پر پٹخا اور اپنے والٹ سے سو سو پاؤنڈ کے کئی نوٹ نکال کر اپنی میز پر رکھتا ہوا کونے پر کھڑی تھر تھر کانپتی ہوئی سویرا کو خون آشام نظروں سے دیکھتے ہوئے باہر نکل گیا
*******************
عروہ کا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب تھا کتنے اچھے موڈ میں وہ اور شہریار اپنی منگنی پلان کررہے تھے سب فائنل ہو گیا تھا اور پھر وہ سویرا بیچ میں آگئی ۔۔وہ ٹہل ٹہل کر اپنا غصہ نکال رہی تھی جب ایک خیال سے اس کی آنکھیں جگمگانے لگی اس نے تیزی سے فون اٹھایا اور نمبر ڈائل کیا
” سنو جونس کیا تم ابھی مجھ سے ملنے آسکتے ہو۔۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
اسے جونس کی اپنے لئیے پسندیدگی کا اچھی طرح اندازہ تھا وہ اب جونس کو اپنا ہمدرد بنا کر سویرا کو نیچا دکھانا چاہتی تھی
جونس جو بڑے آرام سے اپنے پینٹ ہاؤس میں سیٹرڈے منا رہا تھا اپنے فون پر عروہ کی کال اور پھر اس کی بھرائی ہوئی آواز سن کر پریشان ہو گیا اور تیزی سے اپنے سنہرے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا اپنی اسپورٹ کار کی چابی اٹھا کر بڑی تیز رفتاری سے عروہ کے گھر کی طرف روانہ ہوا
بیل بجاتے ہی عروہ نے دروازہ کھولا اور اس کو دیکھتے ہی اس کے شانے پر سر ٹکا کر رونے لگی
” کیا ہوا ہے عروہ ؟؟ پلیز کچھ بتاؤ ، ہنی تم مجھے پریشان کررہی ہو ۔۔۔” جونس نے پریشانی سے کہا
” سوری جونس میں نے تمہیں بھی پریشان کردیا لیکن کیا کروں اس مشکل وقت میں بس مجھے تمہارا ہی خیال آیا ۔۔۔” وہ آنسو پوچھتے ہوئے پیچھے ہٹی
” آخر ہوا کیا ہے ۔۔” وہ الجھا
” اندر تو آؤ ،میں تمہیں سب بتاتی ہوں ۔۔۔” وہ اسے لیکر سیدھی اپنے کمرے میں آئی
” جونس تم نے دعویٰ کیا تھا کہ تم میرے دوست ہو ہمیشہ میرا ساتھ دو گے ۔۔۔” عروہ نے تمہید باندھی
” میں نے اپنی زندگی کے چار سال شہریار کے انتظار میں اس کے ساتھ کی آس میں گزارے ہیں اور اب یہ شہریار کی سو کالڈ کزن ہمارے بیچ میں آرہی ہے وہ میرے شیری کو چھین رہی ہے ۔۔۔۔” عروہ رو رو کر سویرا کے ظلم و ستم نمک مرچ لگا کر بیان کررہی تھی
” آر یو شیور عروہ ؟؟ وہ لڑکی ایسی لگتی نہیں ہے ۔۔۔” جونس الجھا
” وہ ایسی ہی ہے ؟؟ “
” ٹھیک ہے آج ویسے بھی مجھے شہریار کی طرف جانا ہے میں اس سے بات کرتا ہوں ۔۔۔”
” جونس پلیز میرا نام مت لینا تم نہیں جانتے وہ اس لڑکی کیلیئے ایک لفظ سننا پسند نہیں کرتا ۔۔۔”وہ آنسو پوچھتے ہوئے بولی
جونس اسے تسلی دیکر جا چکا تھا اب وہ مگن ہو کر میوزک سن رہی تھی اسے اچھی طرح پتا تھا کہ شہریار کبھی بھی اپنے اور سویرا کے رشتے کی حقیقت نہیں بتائے گا الٹا وہ سمجھے گا کہ سویرا نے شاید جونس کے کان بھرے ہیں
*****************
وہ عروہ کو گھر چھوڑ کر کافی دیر ادھر ادھر پھرنے کے بعد اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرتے ہوئے گھر آیا ۔دوپہر ڈھل چکی تھی عروہ نے اسے لنچ پر روکنے کی بہت کوشش کی تھی پر اس کا موڈ خراب ہو چکا تھا ۔
” سویرا !!! ” وہ اندر داخل ہوتے ہی پہلی بار اس کا نام لیکر چلایا
وہ جو اندر کمرے میں کتابیں پھیلائے پڑھ رہی تھی اس کی آواز سن کر ، اپنا نام سن کر ایک لمحے کو چونک سی گئی
” سویرا ادھر آؤ ۔۔۔” وہ اسے پکارا رہا تھا اس منھ سے نکلا اپنا اسے اجنبی اجنبی سا لگ رہا تھا وہ تیزی سے دوپٹہ سلیقے سے سر پر لیتی ہوئی لیونگ روم میں آئی
” جی !! ” وہ دہلیز پر کھڑی تھی
” تم نے کس سے پوچھ کر ، کس کی اجازت سے جاب کی ؟؟؟ ” وہ اس کی طرف بڑھا
سویرا کو اس کے لہجہ سے اس کی سرخ آنکھوں سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا
” کیا بک رہا ہوں میں ؟؟ تمہیں سنائی نہیں دیتا کیا ۔۔۔” شہریار چپ چاپ سر جھکائے کھڑی سویرا پر چلایا
سویرا کی آنکھوں میں نمی امنڈ نے لگی تھی
لیکن اس وقت اس کو اپنے لئیے اسٹینڈ لینا تھا
“اب نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔”وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی
” میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی ہوں آپ بہت جلد شادی کرنے والے ہیں اور پھر شاید عروہ میم کو میرا یہاں رہنا اچھا نہیں لگے اس لئیے میں میں ۔۔۔” اس کی آواز بھرا گئی
“سنو لڑکی !! ۔۔۔” شہریار نے اس کی بات کاٹی
” تم وہ جاب نہیں کروگی اینڈ دیٹس فائنل ۔۔۔” وہ سختی سے کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
سویرا کچھ دیر خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رہی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے شہریار کا غصہ اس کی جان پر بن آیا تھا تو دوسری طرف عروہ کا رویہ وہ دل برداشتہ سی ہو کر اپنے کمرے میں آئی
بار بار شہریار اور عروہ کی باتیں اس کے ذہن میں گونج رہی تھی پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ سامنے رکھی کتابوں کو گھورتے ہوئے نیند کی وادی میں اتر گئی ۔
*******************
شہریار اپنے جم میں پنچنگ بیگ پر اپنا غصہ نکال رہا تھا اس کے کانوں میں بار بار ان لڑکوں کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔
” ڈیم اٹ !! وہ جو کچھ بھی کرے مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔۔”
” ویسے بھی عروہ اسے یہاں برداشت نہیں کریگی مجھے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے ۔۔۔”
فون کی گھنٹی نے اس کی سوچوں کو بریک لگایا
بڑی مشکل سے اپنے اشتعال ہر قابو پا کر وہ اندر کمرے میں آیا تو اس کا سیل فون بجے چلا جا رہا تھا ۔۔
” بابا سائیں۔۔۔”وہ نمبر دیکھ کر چونکا اور تیزی سے فون اٹھایا
” اسلام علیکم بابا سائیں کیسے ہیں آپ ۔۔۔” وہ ادب سے بولا
” میں تمہاری ماں اور فرزانہ ٹھیک پندرہ دن بعد لندن آرہے ہیں اپنے بچوں سے ملنے کیلئے ۔۔۔” چند باتوں کے بعد بابا سائیں نے اسے اپنی طرف سے سرپرائز دیا
” جی بابا سائیں!! اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہوگی کہ میرے اپنے میرے گھر آئیں ۔۔۔” وہ سنبھلتے ہوئے بولا
“اچھا شاہو بیٹا ، ذرا سویرا بیٹی سے تو بات کرواؤ میں اپنی بیٹی کو بھی یہ اچھی خبر سنا دوں ۔۔۔” انہوں نے فرمائش کی
” بابا سائیں وہ تو اپنے کمرے میں سو رہی ہے ابھی ادھر رات ہوگئی ہے ۔۔۔” شہریار نے رات آٹھ بجاتی گھڑی کو دیکھتے ہوئے انہیں ٹالنا چاہا
” اپنے کمرے میں ؟؟ شاہو کیا وہ تمہارے ساتھ نہیں رہتی ۔۔۔۔” بابا سائیں نے سرد لہجے میں پوچھا
” ساتھ ہی ہے بابا سائیں میں ابھی گھر سے باہر ہوں اس لئیے ایسا کہا ۔۔۔” اس نے جلدی سے بات بنائی
” چلو خیر ہے بعد میں بات کروا دینا ۔۔” بابا سائیں نے سنجیدگی سے کہا اور فون رکھ دیا
“ڈیم اٹ یہ لڑکی تو دن بہ دن میرے لئیے مصیبت بنتی جا رہی ہے ۔۔۔” اس نے فون بند کرکے بیڈ پر پھینکا اور باہر کچن میں چلا آیا
پورا کچن صاف ستھرا اس کا منھ چڑا رہا تھا ان گزرے چند ماہ میں اسے رات کا کھانا گھر پر کھانے کی عادت ہو گئی تھی کچھ سویرا کے ہاتھ کا ذائقہ بھی اسے گھر کی یاد دلاتا تھا ابھی وہ فرج کھولے کچھ کھانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی
اس نے اکتائے ہوئے انداز میں دروازہ کھولا تو سامنے ہی جونس کھڑا تھا
” ہیلو شہریار ۔۔۔ ” وہ پرتپاک لہجے میں بولتا ہوا اندر داخل ہوا
” تم نے میسج کیا تھا کہ وقت ملے تو ملنا تو میں نے سوچا اپنے دوستوں کے لئیے وقت ملنے کا ویٹ نہیں کرنا چاہئیے بلکہ وقت نکالنا چاہئیے ۔۔۔” جونس خوشدلی سے مسکراتے ہوئے بولا
” اوہ یس !! آؤ بیٹھو پہلے تو یہ بتاؤ کیا کھاؤ گئے میں فوڈ ہی آرڈر کرنے والا تھا ۔۔”
” یار اپنی کزن سے کہو کچھ بنا دے وہ بہت اچھا پکاتی ہے ۔ ۔” جونس نے اسے بغور دیکھتے ہوئے فرمائش کی
“وہ شاید آرام کررہی ہے میں تھائی فوڈ آرڈر کررہا ہوں ۔۔۔” شہریار نے سنجیدگی سے کہا اور فون ملا کر آرڈر پلیس کرنے لگا
“شیری !! سچ بتاؤ سویرا تمہاری کون ہے ؟؟ “
جاری ہے
