Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38

معمول کے مطابق فجر کے وقت سویرا کی آنکھ کھل چکی تھی۔ سامنے ہی شہریار جاگنگ کیلئے ٹریک سوٹ پہننے تیار کھڑا تھا۔
” گڈ مارننگ سوئیٹ ہارٹ! ” وہ اسے جاگتا دیکھ کر جاندار انداز میں مسکرایا۔
سویرا نے اسے مسکراتے دیکھ کر شرم سے نظریں جھکا لی تھیں۔ وہ بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے پر بکھرے رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔
” آپ جائیں نا آپ کو دیر ہو رہی ہے۔ ” سویرا نے اسے ٹوکا۔
” پہلے تم اٹھو اور جا کر پھپھو کے جاگنے سے پہلے اپنے اسکول جانے کے کپڑے اور بیگ لے آؤ اور ہاں آج سے تمہیں اسکول میں خود ڈراپ کروں گا۔” اس نے سویرا کو ہدایات دیں۔
__________
شہریار کے جاگنگ پر جانے کے بعد وہ دبے قدموں چلتی ہوئی اپنے کمرے میں داخل ہوئی سامنے ہی پھپھو گہری نیند سو رہی تھیں وہ بہت بہت احتیاط سے بنا آواز کئے اسٹڈی ٹیبل تک آئی اس نے اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھایا اور الماری سے کپڑے نکال کر تیزی سے کمرے سے باہر نکلتی چلی گی ۔۔۔
ماحول میں سکوت پھیلا ہوا تھا وہ بڑی تندہی سے کچن میں ناشتے کی تیاری کررہی تھی شہریار کا جوس اور نیوز پیپر وہ ٹیبل پر رکھ چکی تھی اب اس کا ارادہ جلدی جلدی سب کا ناشتہ بنا کر یونیورسٹی جانے کا تھا وہ آملیٹ کے لئے انڈوں کا آمیزہ پھینٹ رہی تھی جب دروازہ کھول کے شہریار اندر داخل ہوا
“اتنی صبح صبح تم کیا کر رہی ہو ؟؟؟”وہ جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے کاؤنٹر پر پھیلے پھیلاوے کو دیکھتے ہوئے میں حیرت سے پوچھ رہا تھا
“سب کے لئے ناشتہ بنا رہی ہوں تاکہ جب وہ اٹھیں تو نے کوئی پریشانی نہ ہو۔۔۔۔” وہ جلدی جلدی ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ فکر مت کرو سب لوگ بہت تھکے ہوئے آئے ہیں دس بجے سے پہلے کوئی اٹھنے والا نہیں ہے اس وقت تک فارم ہاؤس سے ہاؤس کیپر سوزن یہاں آ جائے گی اور وہ سب سنبھال لے گی ۔۔۔۔” وہ جوس کا گلاس خالی کرکے سویرا کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے بولا
” مگر ایسے اچھا نہیں لگتا نا !! اور پھپھو تو ناراض ہو جائینگی مجھے تو آج اپنا جانا بھی عجیب سا لگ رہا ہے کہیں سب کو برا نا لگے کہ آج مہمان گھر میں آئے اور میں انہیں چھوڑ کر پڑھنے چلی گئی۔۔۔۔” وہ پریشانی سے بولی
” سنئیے !! آپ سن رہے نا ؟؟ ” اس نے شہریار کو مخاطب کیا
” بتائیں کیا کروں ؟؟ چھٹی کرلوں کیا ؟؟ ” اس نے قریب آکر پوچھا
گلابی سادہ سی کرتی بلیک جینز اور اوپر سے ایپرن باندھے ، لمبے گھنے بالوں کو جوڑے میں لپیٹے وہ اسے دیکھ رہی تھی !! اس کی منتظر تھی ۔ اس وقت اپنی توجہ کی منتظر وہ اسے اتنی دلکش لگی کہ وہ بے اختیار سا اس کی طرف کھنچا ۔وہ جو اپنے جذبوں کو ایک حد میں رکھنے کا قائل تھا نہ جانے کیوں اس لڑکی کے آگے اپنے جذبات کو سرنگوں ہونے سے نہیں روک پا رہا تھا ۔اس نے آگے بڑھ کر سویرا کو اپنی گرفت میں لیا ۔۔۔
” میں بہت ہی ریزرو پریکٹیکل سا بندہ ہوں اور تمہیں پانے سے پہلے میں محبت کو فضول سمجھتا تھا لیکن تم !! تم بہت بڑی ساحرہ ہو تم نے مجھے اپنی سادگی سے گھائل کردیا ہے !! میرا دل لوٹ لیا ہے ۔۔۔” وہ اس کے کانوں میں سرگوشی کررہا تھا
” سنو !! میرا دل چاہتا ہے تمہیں اپنے جذبات سے آشنا کردوں ، اپنے رنگ میں تمہیں رنگ دوں !! بولو میری دنیا میں میرے رنگوں میں ڈھلنا پسند کروگی ؟؟ ” وہ پرتپش لہجے میں اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کررہا تھا ۔۔۔
سویرا کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔شہریار کی توجہ اور اپنائیت کے جذبات وہ پہچان چکی تھی اس کی چاہت کے رنگوں کو دیکھ چکی تھی وہ اس کا سائبان تھا بچپن سے اس کے دل میں بسا ہوا تھا اور اب تو اس کی روح تک میں اتر چکا تھا
” مسز شہریار !! کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہوں ؟؟ ” شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا
سویرا کی پلکیں لرز کر جھک گئی تھیں چہرے کی رنگت شرم و حیا سے سرخ پڑ گئی تھی ۔وہ اس کی مضبوط گرفت میں لرز رہی تھی شہریار نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر اونچا کیا
” بولو سوئیٹ ہارٹ !! ڈو یو لو می ؟؟ ۔۔۔” وہ اس کے آنکھوں میں جھانک رہا تھا ۔
شہریار کی آنکھیں بول رہی تھیں ماحول پر ایک فسوں سا طاری تھا رہا تھا وہ اس کے جواب کا منتظر تھا ۔سویرا اسے جواب دینا چاہتی تھی لیکن شرم و حیا سے اس کے لب سلے ہوئے تھے شہریار اس کے چہرے پر پھیلے دلکش رنگوں کو دیکھ کر طمانیت سے مسکرایا ۔۔۔
” مجھے تمہارا یہ شرمانا بہت پسند ہے !! قسم سے دل لوٹ لیتی ہوں ۔۔۔” وہ اس کے چہرے پر نظر جماتے ہوئے بولا
” یہ کیا ہورہا ہے؟؟ ” فرزانہ پھپھو کی پاٹ دار آواز گونجی
شہریار تیزی سے سویرا سے الگ ہوا
” گڈ مارننگ پھپھو ۔۔۔۔”
اسلام علیکم پھپھو !! ” سویرا نے بھی جھجکتے ہوئے سلام کیا
” میاں یہ کیا ہورہا تھا ادھر ؟؟ کیا پورا گھر کم پڑگیا تھا جو باورچی خانے میں توبہ توبہ ۔۔۔” انہوں نے اپنے گال پیٹے
” پھپو یہ میری بیوی ہے ۔۔۔” وہ خجل ہوا اور مڑ کر فرج سے پانی کی بوتل نکالنے لگا
” بیوی ہے تو میاں کیا ماچس کی ڈبی بنا کر پاکٹ میں رکھ کر گھومو گے ؟؟ میں کہے دیتی ہوں آئندہ مجھے تم دونوں ساتھ نظر نا آؤ بلکہ اسے بولو پردہ کیا کرے ۔۔۔٫” وہ سویرا کو گھورتے ہوئے بولیں
” پردہ ؟؟ سیریسلی پھپھو بیوی کا شوہر سے پردہ ؟؟ ” وہ ان کی منطق پر حیران ہوا
” اللہ بخشے تمہارے پھپھا سے میں نے اکرام کے پیدا ہونے تک پردہ کیا تھا ۔۔۔” وہ فخر سے بولیں
پانی پیتے شہریار کے گلے میں یہ بات سن کر پھندا لگ گیا اس سے پہلے وہ انہیں جواب دیتا سویرا نے اس کا ہاتھ تھام کر اس سے خاموش رہنے کی آنکھوں سے التجا کی !! وہ اس کی آنکھوں کی التجا دیکھ کر پانی کی بوتل وہی کاؤنٹر پر رکھ کر اندر اپنے کمرے میں چلا گیا
” اے لڑکی ذرا ایک کپ چائے تو دے !! ہائے سر درد سے پھٹا جا رہا ہے اور یہ بے حیا میرے شاہو پر ڈورے ڈالنے میں لگی ہے ۔۔۔۔” وہ اونچی آواز میں بولیں
” پھپو چائے ۔۔۔۔” سویرا نے چائے مگ میں انڈیل کر ان کی طرف بڑھائی
“پھپو ناشتہ بنا دوں ؟؟ ” سویرا نے پوچھا
” ناشتہ تو میں سلیم اور زاہدہ کے ساتھ ہی کرونگی اور لڑکی تم ذرا سنبھل کر رہو آئندہ مجھے اس طرح شاہو سے چپکی نظر نا آنا ورنہ وہی چوٹی سے پکڑ کر تمیز سکھا دونگی ۔۔۔” وہ چائے کا مگ پکڑ کر دوبارہ کمرے میں چلی گئیں
****************
بلیک پینٹ کوٹ پر ریڈ ٹائی لگائے وہ اپنے اوپر پرفیوم کا اسپرے کررہا تھا جب سویرا اندر داخل ہوئی
” مسز !! جلدی کرو میری ایک اہم میٹنگ ہے ۔۔۔”شہریار گھڑی باندھتے ہوئے بولا
” وہ !! آپ جائیں میں کل سے جوائن کرونگی ۔۔۔” سویرا نے کہا
” کیوں ؟؟ ” وہ سنجیدہ ہوا
” گھر میں ایسے سب کو چھوڑ کر جانا مناسب نہیں لگتا ۔۔۔” اس نے وضاحت دی
” کیا مناسب ہے اور کیا نہیں یہ تم مجھ پر چھوڑ دو !! “
” مگر !! ” سویرا نے کچھ کہنا چاہا
” نو مور آرگومنٹ !! تمہارے پاس بس پانچ منٹ ہیں ہری اپ ۔۔۔” وہ اس کی بات کاٹ کر اپنے لیب ٹاپ کی طرف بڑھا
سویرا نے جلدی سے کرسی پر رکھا گلابی اسکارف اٹھا کر سر پر لپیٹ کر پن لگائی گلے میں اسٹالر ڈالا ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر اپنا بیگ اٹھا لیا
” چلیں !!! ” وہ اس کے پاس آئی گلابی اسکارف کے احاطے میں اس کا چہرہ مزید پرکشش لگ رہا تھا
” سنو تمہارے پاس کوئی اپر یا کوٹ نہیں ہے؟؟ ۔۔۔” وہ اس کے وجود سے چھلکتی رعنائیوں کو محسوس کرتے ہوئے بولا حالانکہ اس کا دلکش وجود اس ڈھیلے لباس میں چھپا ہوا تھا مگر پھر بھی اس کی خوبصورتی ابھر رہی تھی
” نہیں !! ” وہ شرمندگی سے اس کی نظریں خود پر محسوس کرتے ہوئے بولی
” اٹس اوکے !! لیٹس گو ۔۔۔”
وہ شہریار کے پیچھے چلتی ہوئی گاڑی تک آئی ۔شہریار دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا
” تم اتنی پریشان کیوں ہو ؟؟ ” اس نے سر جھکا کر خاموش بیٹھی سویرا کو دیکھا
” وہ تایا سائیں ، تائی امی ، پھپھو سب اکیلے ۔۔۔۔”
” او گاڈ !! تمہاری سوئی ادھر ہی اٹکی ہوئی ہے !! سوئیٹ ہارٹ تم بس مجھے سوچا کرو !! باقی سب میں دیکھ لونگا ۔۔۔۔” وہ اس کے سر پر ہلکی سی چپت مارتے ہوئے بولا
” گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی شہریار کانوں پر بلو ٹوتھ لگائے اپنے اسٹاف کو ہدایات دے رہا تھا جب سویرا نے بیچین نظروں سے اسے دیکھا
” واٹ ہیپنڈ ؟؟ ” شہریار نے بھنویں اچکا کر پوچھا
” وہ آپ غلط راستے پر جا رہے ہیں !! “سویرا نے سامنے سڑک کو دیکھتے ہوئے کہا
” میرا راستہ غلط ہو ہی نہیں سکتا یہ اور بات ہے کہ تمہیں پہچان نہیں ہے ۔۔۔” وہ پرسکون انداز میں بولا
” مگر آپ نے تو مجھ سے پوچھا ہی نہیں کے مجھے کدھر جانا ہے !!! ” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
” مسز سویرا شہریار !! کوئین میری اسکول آف میڈیسن فرسٹ ائیر اسٹوڈنٹ روم نمبر 10 !! ” وہ موڑ کاٹتے ہوئے بولا
” آپ کو پتہ ہے ؟؟ ” وہ حیران ہوئی
” تمہیں کیا لتا ہے میں دنیا میں گھاس کھودنے آیا ہوں ؟؟ ” وہ طنزیہ انداز میں بولا
” جی ۔۔۔” سویرا نے گھبرا کر جلدی سے سر ہلایا
” واٹ ؟؟؟ سیریسلی میں !! میں تمہیں گھاس کھودنے والا لگتا ہوں ؟؟ ” وہ دھاڑا
” نہیں !! ۔۔۔” اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا
” سنو لڑکی !! میں تمہیں اپنی ذمہ داری بنا کر پاکستان سے لایا تھا ، تمہارے ایڈمیشن سے لیکر ایک ایک چیز پر میری نگاہ تھی ۔ تم میرے نکاح میں تھی ، میری عزت کدھر جاتی ہے ، کیا کرتی ہے ؟؟ میں اس پر نظر رکھنے پر مجبور تھا ، ہوں اور رہونگا ۔ویسے بھی تمہارے معاملے میں میرا دل تمہیں اتنے سالوں بعد پہلی بار دیکھتے ہی باغی ہوچکا تھا لیکن میں خود کو وقت دے رہا تھا کہ کہیں تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہ کردوں ۔۔” وہ گاڑی کوئین میری کے سامنے روکتے ہوئے بولا
سویرا غور سے اس کی بات سن رہی تھی جب گاڑی یونیورسٹی کی اینٹرینس پر رکی وہ سر پر اسکارف درست کرتے ہوئے شہریار کو خداحافظ کہتے ہوئے گاڑی سے اتری صبح کا وقت تھا موسم نہایت ہی خوشگوار تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس سے اس کی کرتی اور اسٹالر بھی ہلکے ہلکے اڑ رہے تھے ۔منظر بہت پرکشش تھا پر اس سے برداشت نہیں ہوا ۔ وہ گاڑی سے اتر کر لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے بلکل سامنے آکر رکا ۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔” سویرا نے اسے اپنے سامنے کھڑا پاکر سوال کیا
شہریار نے بنا کچھ کہے اپنا کوٹ اتار کر اس کی طرف بڑھایا وہ خاموشی سے اس کی نظروں کا پیام سمجھ چکی تھی اور بڑی تابعداری سے اس کا کوٹ تھام کر پہن چکی تھی ۔۔
” ہمم ۔۔۔” اس نے تنقیدی نگاہوں سے اسے دیکھا پھر آگے بڑھ کر اس کے لبوں پر لگی لپ اسٹک کو اپنی انگلی سے صاف کیا
” اب ٹھیک ہے ۔۔۔” وہ ناقدانہ انداز میں اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولا
سویرا جو پبلک پلیس پر اس کی اس جسارت پر لرز اٹھی تھی اب ساکت سی خاموش کھڑی تھی
” اب تم جاسکتی ہوں اور ہاں واپسی پر میرا ویٹ کرنا ۔۔۔” وہ اس کے سامنے سے ہٹتا ہوا بولا
************
” ہیلو مس سویرا !! کیسی ہو تم ؟؟ ” وہ کلاس روم کی طرف جا رہی تھی جب ڈاکٹر اینڈریو کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر چونکی
” سر راستہ دیجئیے میری کلاس شروع ہونے والی ہے ۔۔” وہ مضبوطی سے بولی
” تم !!! ” اینڈریو نے دانت پیسے
” تمہاری اس نام نہاد شرافت کو میں اچھی طرح جان چکا ہوں جب تک تمہارا شوہر تمہیں منھ نہیں لگا رہا تھا تو مجھ سے دل بہلایا اور اب ۔۔۔۔”
” شٹ اپ ۔۔۔۔” وہ نمی پیتے ہوئے چلا اٹھی
” مجھے نہیں پتہ آپ کا مسئلہ کیا ہے شیم آن یو سر !! آپ ایک شریف لڑکی کو بدنام کرنے پر تلے ہیں ۔۔۔”
” شریف ؟؟؟ اونہہ !!! تمہاری اس نام نہاد شرافت کو میں اچھی طرح جان گیا ہوں میں !! تم جیسی نیک چلن عورت جو اپنی معصومیت سے دو دو مردوں کو بیک وقت الو بنا رہی ہے ۔۔۔۔” اینڈریو پھنکارا
” میرے راستے سے ہٹیں ورنہ میں چلا چلا کر سب کو اکھٹا کر لونگی !!! ” سویرا نے دھمکی دی
” چلو غصہ چھوڑو میرے ساتھ چلو آخر شہریار کے ساتھ بھی تو وقت گزارتی ہو آج مجھے بھی چانس دے کر دیکھو ۔۔۔” وہ خباثت سے بولا
“شرم نہیں آتی آپ کو اس طرح کی چیپ باتیں کرتے ہوئے ؟؟ “وہ وحشت زدہ ہوئی
” تم میری بات سکون سے سن لو !! میں بس اتنا چاہتا ہوں ۔۔۔” ڈاکٹر اینڈریو اس کے سامنے پھیل کر کھڑا ہو گیا
” سوری سر !! میں اجنبی مردوں سے بات نہیں کرتی ۔۔۔” وہ تلخ لہجے میں بولی
” اجنبی ؟؟ آر یو سیریس ؟؟ لگتا ہے تمہاری یاداشت کھو گئی ہے ذرا اپنا فون کھول کر دیکھو ہر میسج میں تمہیں ہمارا پیار نظر آئیگا ۔۔یاداشت واپس لوٹ آئیگی ۔۔۔”
” میرا راستہ چھوڑوں ورنہ ۔۔۔”
” ورنہ ؟؟ ” اس نے زور دار قہقہہ لگایا
” سوئیٹی !! تمہارے منھ سے دھمکیاں بھی رومینٹک لگتی ہیں خیر میرا ہاتھ تھام لو اور چلو میرے ساتھ ۔۔۔”
” آ ۔۔آپ مجھے تنہا سمجھ کر ڈرا رہے ہیں ؟ ہمت ہے تو میرے ہسبنڈ کے سامنے بات کریں ، میرے ہسبنڈ آپ کو چھوڑیں گے نہیں ۔۔۔” وہ مضبوط لہجے میں بولی
” مسز شہریار !!! نا نا نا مس سویرا مجھے اس راہ تک تم خود لائی ہو اور مجھے اس بلڈی ہسبنڈ کا ڈراوا مت دو بلکہ ایسا کرو گھر جا کر میرا انتظار کرو میں آج تمہیں سب کے سامنے اٹھا کر اپنے ساتھ لے جانے آرہا ہوں ۔۔۔”
” دماغ درست ہے آپ کا ؟؟ یہ آپ جیسے لوگ ہی پورے ہیں جو استاد ہو کر درسگاہ کی توہین کرتے ہیں اپنی گھٹیا حرکتوں سے ۔۔۔۔۔”
” اتنا مت بولو کہ بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے یہ تو تمہاری خوش قسمتی ہے کہ میں سب کچھ جان کر بھی تم جیسی برتی ہوئی لڑکی کو اپنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔” وہ غرایا
************
وہ گاڑی یونیورسٹی کے پارکنگ لاٹ سے نکال چکا تھا جب اس کی نگاہ ساتھ والی سیٹ پر سویرا کے لیب ٹاپ پر پڑی وہ شاید جلدی میں اسے گاڑی میں ہی بھول گئی تھی ۔۔۔
” مسز شہریار !! ” اس نے مسکرا کر گاڑی کا رخ واپس یونیورسٹی کی طرف موڑا
وہ جو پہلے سویرا کے وجود سے چڑتا چلا آیا تھا اب سویرا کو پا کر خود میں بہت تبدیلیاں محسوس کررہا تھا اس کی نگاہوں میں چاہت کا ایک جہان آباد ہوچکا تھا سویرا اپنی معصومیت سے ، سادگی سے اس کے دل میں بڑے شان سے براجمان ہو چکی تھی اس معاملے میں اس کے ساتھ بالکل آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا حساب ہوا تھا جب تک سویرا کو اس نے جانا نہیں تھا وہ اس رشتے کے منافی تھا لیکن یہ بھی اس کی سرشت کے خلاف تھا کہ اس کی چیز چاہے وہ سویرا ہی کیوں نہ ہو وہ کسی اور کے قبضے میں جائے ۔۔۔۔
“ازل سے تم ہی میرے نصیب میں لکھی تھیں بس میں نے ہی ذرا دیر سے جانا ۔۔۔۔” وہ گاڑی پارک کر کے اترا اور اندر میڈیکل ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھا ۔۔۔
**************
نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی پوری رات آنکھوں میں کٹی تھی صبح ہوچکی تھی وہ پژمردگی سے چلتی ہوئی گھر کے خوبصورت لان میں آکر بیٹھ گئی اس کی آنکھیں شدت گریہ سے سرخ ہو رہی تھیں دل کی دھڑکنیں ابھی بھی شہریار کے نام کا راگ الاپ رہی تھیں وہ بلاشبہ بہت حسین و دلکش لڑکی تھی جسے دل کھول کر ہر جگہ ہر محفل میں سراہا گیا تھا اسے اپنے حسن پر اپنے اسٹیٹس پر حد درجہ ناز تھا غرور تھا اور وہ غرور شہریار نے توڑا تھا بڑی مشکل سے وہ شہریار کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اب جب سے وہ سویرا آئی تھی شہریار کے رنگ ڈھنگ بدل گئے تھے اس نے شہریار کی آنکھوں میں سویرا کے لئیے دیوانگی تھی جس نے اسے انگاروں پر دھکیل دیا تھا اب اسے یہ جنون سوار ہو گیا تھا کہ شہریار کو وہ اپنے آگے سرنگوں کر کے سویرا کو نیچا دکھا کر اس کی زندگی سے کہی دور نکال پھینکے گی ۔۔۔
اپنے خیالات سے الجھ کر وہ اٹھی اور گھر کے اندر بڑھی کمرے میں داخل ہوکر دیوار گیر گھڑی میں وقت دیکھا تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے وہ اپنا مائنڈ بنا چکی تھی کیبنٹ سے کپڑے نکال کر وہ تیار ہونے چلی گئی۔۔۔
آسمانی سلیو لیس بلاؤز اور شارٹ سکرٹ میں نازک سی ڈائمنڈ کے ساتھ ڈائمنڈ کی جیولری پہن کر پرفیوم اسپرے کر کے وہ تیار تھی ۔۔۔
سیل فون اٹھا کر اس نے پرس کھول کر شیری کے گھر کی چابی چیک کی اور سیدھی باہر نکلتی چلی گئی۔۔۔
بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ شیری کے گھر کے باہر موجود تھی گاڑی لاک کر کے وہ باہر نکلی اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پرس سے گھر کی چابی نکال لی ۔۔۔
دن کے دس بجنے والے تھے اس نے ایک گہرا سانس لیکر چابی گھما کر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *