Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34
دو گھنٹے کی ریش ڈرائیونگ کے بعد وہ لندن اپنے گھر پہنچ چکے تھے ۔
” نیچے اترو ۔۔۔۔” وہ سرد لہجے میں گاڑی بند کرتے ہوئے سویرا سے بولا
وہ گاڑی لاک کرکے مین دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی سویرا بوجھل قدموں سے اس کے پیچھے چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی وہ چابی اپنی مخصوص جگہ پر رکھ کر اپنے کمرے میں جا چکا تھا ۔وہ کافی دیر کھڑی سوچتی رہی کہ کدھر جائے اگر اپنے کمرے میں گئی اور شہریار برا مان گیا تو ؟؟ اب وہ مزید اسے غصہ دلانا نہیں چاہتی تھی تھوڑی دیر بعد وہ ہمت کرکے شہریار کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
شہریار جو ٹھنڈے پانی سے شاور لیکر باہر نکلا ہی تھا اپنے کمرے میں سویرا کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹکا ۔۔
” مم مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔” وہ بڑی مشکل سے گھگیاتے ہوئے بولی
” سوری مجھے تم سے ، تمہاری کسی بات سے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے تم جا سکتی ہو ۔۔۔” وہ بھرپور تلخی سے بولا
” آپ پلیز میری بات تو سنیں !! میں نے اس آدمی کو نہیں ۔۔۔۔
” کیا میں نے تم سے کوئی سوال کیا ؟؟ ” وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے دھاڑا
سویرا اس کی بے رخی ، بے اعتنائی دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
سویرا نے جس طرح تحائف اس کے منھ پر مارے تھے اسے بھولنا آسان نہیں تھا اور شہریار تو ویسے بھی مشکل پسند تھا اور یہ سامنے کھڑی پانی کی طرح آنسو بہاتی ہوئی لڑکی نے اس کے دل میں بڑی خاص جگہ بنائی تھی وہ اسے چاہنے لگا تھا واقعی جو تقدیر میں لکھا ہو وہ ہو کر رہتا ہے اسی کو قسمت کہتے ہیں اور ہماری قسمت بنانے والا ہمارا اللہ ہم سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے تو پھر ہمیں بھی خوش دلی سے اس کی رضا میں راضی ہو کر اپنی قسمت کو خوشی خوشی اپنا لینا چاہئیے اس نے سویرا کو اپنایا اسے اپنا احساس دلایا اور بدلے میں اس بیوقوف لڑکی نے اس کا ہی دماغ گھما کر رکھ دیا تھا ۔ لیکن اب وہ اس کی مزید بیوقوفیوں کو برداشت نہیں کرسکتا تھا اسے سبق سکھانا ضروری تھا ۔۔۔
“میں تمہیں ایک سلجھی ہوئی لڑکی سمجھنے لگا تھا لیکن تم نے ثابت کردیا کہ تم ایک عقل سے پیدل بیوقوف لڑکی ہو ۔۔۔” وہ چلتے چلتے رکا
” آپ !! مجھے ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ۔۔۔”
” تم نے جو کیا وہ ٹھیک تھا ؟؟ بولو جواب دو ؟؟ “وہ غرایا
” میں نے !!” وہ حیران ہوئی
” میں نے کیا کیا ہے ؟؟ ” وہ پریشان ہوئی
” میرے پیار سے دئیے گئے تحائف میرے منھ پر مارنے کے بعد تم اتنی معصوم کیسے بن سکتی ہو؟؟ ۔۔۔”
” آپ !! میں نے تو آپ کی مشکل آسان کرنی چاہی تھی میری وجہ سے ، میری منحوسیت سے آپ بھی پریشان ہو رہے ہیں اور وہ آدمی !! آپ مجھے نکال دینگے اس لئیے میں نے سوچا ۔۔۔۔”وہ سسک اٹھی
” کیا سوچا ؟؟”
” شاید آپ ہمارے بڑوں کے جوڑے اس زبردستی کے رشتے سے نکلنا چاہیں تو میں خود ۔۔
“سنو لڑکی !!تم لڑکیوں کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ عقل استعمال کرنی نہیں آتی اور تم تو ویسے بھی عقل سے پیدل ہو ، جو میرے جذبات و احساسات کو سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتی ہو ۔ لیکن میں تمہیں ، ہماری زندگی کو تماشا بنانے کی اجازت ہر گز نہیں دونگا “
” آپ !! آپ پلیز مجھے واپس پاکستان بھجوا دیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔” وہ بمشکل دھیمے لہجے میں بولی
کہنے کو تو بہت کچھ تھا وہ ہاسٹل شفٹ ہونا چاہتی تھی اپنا کیرئیر بنانا چاہتی تھی شہریار کو فیصلہ کرنے کی آزادی دینا چاہتی تھی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی
” ایک بار میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ تمہیں میرے ساتھ نہیں رہنا !! ” وہ اسے شانوں سے تھامتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
سویرا نے گڑبڑا کر اپنی نظریں جھکا لیں اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا چند پل خاموشی سے گزرے شہریار کی خود پر جمی نگاہوں نے اسے پریشان کر دیا تھا۔۔
” نظر ملاؤ اور کہوں کہ تمہیں میرے ساتھ نہیں رہنا ۔۔۔۔” وہ غرایا
” پلیز مجھے جانے دیں ۔
” آئی لو یو ڈیم اٹ !! اتنی سی بات تمہاری عقل میں کیوں نہیں سماتی ہے اور میں اس طرح تمہیں ہر گز بھی اپنی زندگی سے ، اپنے گھر سے اپنے دل سے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔” وہ پھٹ پڑا
سویرا کی سانسیں اس انکشاف کو سن کر تھم سی گئی تھی شہریار کا یہ اعتراف محبت اس کے لئیے ناقابل یقین تھا وہ سن سی ہو گئی تھی ۔
” تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے بات کی جائے دفع ہو جاؤ اپنے کمرے میں اور خبردار جو میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نکالا ۔۔۔۔” وہ ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا دور ہٹا
******************
وہ چپ چاپ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی شہریار کا دھوپ چھاؤں جیسا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔
” شہریار !! کتنے روپ ہیں آپ کے ؟؟ میں آپ کو کیوں سمجھ نہیں پا رہی ؟ کیا آپ واقعی مجھے نہیں چھوڑیں گے ؟؟ ” کئی سوالات اس کے ذہن میں ہلچل مچا رہے تھے نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
” میری تو زندگی ہی اب آپ ہیں ، سارے راستے آپ پر آکر ختم ہو جاتے ہیں لیکن آپ عروہ کے ہیں آپ نے اس سے منگنی کی ، میں کیسے بتاؤں کہ میں نہیں چاہتی وہ آپ کے ساتھ ہو آپ کے پاس ہو ۔۔۔” وہ اس سے خیالوں میں باتیں کررہی تھی رات سرکتی جارہی تھی فجر کا وقت ہوتے ہی وہ نماز کیلئے اٹھ گئی نماز پڑھ کر وہ کچن میں آئی تو شہریار حسب عادت جاگنگ کیلئے نکلا ہوا تھا اس نے جلدی سے فرج سے فریش موسمی نکال کر جوس بنانا شروع کیا وہ اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔جوس بنا کر ناشتہ تیار کرکے اس نے نیوز پیپر کے ساتھ میز پر رکھا ہی تھا کہ شہریار واپس آگیا اور اس کی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا وہ دل مسوس کر رہ گئی ۔۔۔
کافی دیر بعد وہ کوٹ پینٹ میں ملبوس اپنا بریف کیس پکڑے کمرے سے نکلا وہ تیزی سے اسے دیکھ کر کھڑی ہوئی ۔۔
” آپ کا ناشتہ !!! “
وہ اسے اگنور کرتا ہوا سیدھا
آفس پہنچ کر اس کا سب سے پہلا سامنا اینا سے ہوا ابھی وہ اس سے بات کرہی رہا تھا کہ جونس کا فون آگیا وہ اینا سے ایکسکیوز کرتے ہوئے فون اٹھا کر آگے بڑھا
__________
” شہریار کدھر ہو یار !! بنا بتائے غائب ہو گئے اور اوپر ایک کمرے کا دروازہ بھی ٹوٹا پڑا تھا وہ تو اینا نے بتایا کہ رات اس نے تمہیں سویرا کے ساتھ جاتے دیکھا تھا ورنہ میں تو پولیس کال کرنے والا تھا ۔۔۔”
” اٹس اوکے جونس !! بس میرا موڈ گھر جانے کا بن گیا تھا تو میں چلا آیا ۔۔۔۔”
” اوکے مگر دروازے کی کیا کہانی ہے ؟؟ “
” کچھ نہیں یار بس مجھے ذرا سا غصہ آگیا تھا ۔۔۔”
” او گاڈ شیری !! تیرا غصہ !! سویرا تو ٹھیک ہے ؟؟ “
” وہ محترمہ بالکل ٹھیک ہیں انہیں کیا ہونا ہے!! اب میں چلوں میری ابھی دو منٹ میں ہائیکو انڈسٹری کے ساتھ میٹنگ ہے ۔۔۔”
” گڈ لک فار یور میٹنگ ۔۔۔۔” جونس نے فون رکھ دیا
وہ میٹنگ کے بعد تندہی سے اپنے سارے پینڈنگ کام نبٹا رہا تھا جب لنچ کے وقت اسے سویرا کا خیال آیا اس نے کرسی سے پشت لگاتے ہوئے فون اٹھا کر سویرا کا نمبر ڈائل کیا پر بیل جاتی رہی اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہونا شروع ہوگئی تھیں ۔۔
” یہ لڑکی فون کیوں نہیں اٹھا رہی ؟؟ ” اس نے دوبارہ نمبر ڈائل کیا مگر کوئی فرق نہیں پڑا
اب اسے پریشانی لاحق ہونا شروع ہوگئی تھی سویرا سے وہ کسی بھی قسم کی حماقت کی امید رکھ سکتا تھا اس نے فائل بند کرکے اینا کو اندر بلوایا
” مس اینا !! آپ آج کی ساری اپائنٹمنٹ کل پر ٹرانسفر کردیں ۔۔۔”اس نے حکم دیا
” بٹ باس !! اتنے ارجنٹ نوٹس پر کینسل ؟؟ ” وہ الجھی
“مجھے کچھ کام ہے میں جا رہا ہوں آپ جونس سے فالو اپ کریں ۔۔۔۔” وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا
“اوکے باس ۔۔۔۔” اینا نے تابعداری سے سر ہلایا
*******************
سویرا کے فون نہ اٹھانے پر وہ آفس سے آج جلدی گھر چلا آیا تھا دروازہ ان لاک کر کے وہ اندر داخل ہوا تو پہلی نظر سیدھی اوپن کچن کی جانب اٹھی لیکن سویرا ادھر نہیں تھی وہ چابی اور بریف کیس اپنی جگہ پر رکھ کر سویرا کے کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ اسے سسکی کی آواز سنائی دی ۔۔۔
“ایک تو یہ لڑکی لگتا ہے رونے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہیں آتا ۔۔۔۔” وہ ناگواری سے بڑبڑایا
اس کی بڑبڑاہٹ سن کر سویرا نے نظریں اٹھا کر اس کی سمت دیکھا اور ہڑبڑا کر بستر سے اٹھی اور سائیڈ پر رکھا دوپٹہ اٹھا کر سر پر ڈالنے کے بعد نظریں جھکا کر کھڑی ہو گئی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھی ناک اور رخسار شدت گریہ کی وجہ سے سرخ ہوئے پڑے تھے گھنی سیاہ اٹھتی گرتی نم پلکیں شہریار کو شدت سے اپنی طرف کھینچ رہی تھی کچھ پل وہ بڑی خاموشی سے ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے دھیرے سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے نزدیک آیا ۔۔
” تم رو رہی ہوں ؟؟ کیوں؟؟ وجہ بتاؤ ۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
” آپ آگئے !! میں آپ کیلئے چائے لاتی ہوں ۔ ۔۔۔” وہ سائیڈ سے گزر کر جانے لگی
” کیا یہ میری بات کا جواب ہے ؟؟ ” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے بولا
” میں نے کہا تھا کہ آئندہ تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دکھنے چاہئیے !! کہا تھا کہ نہیں ؟؟؟ ” وہ سختی سے بولا
” مم میں رو تو نہیں رہی ۔۔۔۔” سویرا بھرائے ہوئے لہجے میں بولی
” اچھا !! ” شہریار نے اسے گھورا
” وہ تو آپ کی وجہ سے ۔۔۔۔” سویرا بولتے بولتے چپ ہو گئی
” میری وجہ ؟؟ تم میری وجہ سے رو رہی ہو ؟؟ ” اس نے اچھنبے پوچھا
” اب جواب دو اور فار گاڈ سیک اللہ نے زبان دی ہے استمال کرو یہ لفظ توڑ توڑ کر بولنا چھوڑ دو ورنہ میں نے تمہاری زبان ہی کاٹ کر پھینک دینی ہے ۔۔۔”وہ جھنجھلا اٹھا
” آپ نے ناشتہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔” سویرا نے شکوہ کیا
” کیا ؟؟ تم صبح سے میرے ناشتہ نا کرنے پر رو رہی ہو ؟؟ ” شہریار نے حیرت سے اسے دیکھا
سویرا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شرمندگی سے سر جھکا لیا
” یعنی کل سے اب تک تمہیں صرف میرا ناشتہ نا کرنا ہی قابل افسوس لگا ہے ؟؟ حد ہے مسز شہریار ۔۔۔۔” وہ ٹھیک ٹھاک تپا
” میں لنچ چھوڑ کر آیا ہوں کچھ کھانے کو دو اور ہاں ۔۔۔۔ ” وہ کمرے سے نکلتے نکلتے رکا
” تمہارا سیل فون کدھر ہے ؟؟ کب سے فون کررہا تھا رسیو کیوں نہیں کیا ؟ ۔۔۔” اس نے سوال کیا
” وہ فون تو ۔۔۔۔” سویرا گڑبڑائی
” جملہ مکمل بولا کرو آئندہ اگر آدھا ادھورا جملہ بولا تو سچ میں تمہاری زبان ہی کاٹ ڈالوں گا ویسے بھی کسی کام کی تو ہے نہیں ۔۔۔” وہ اسے خشک لہجے میں ٹوکتے ہوئے بولا
” وہ فون تو رات ادھر فارم ہاؤس میں ہی رہ گیا تھا ۔۔”
” کیوں؟؟ تم سے ایک ذرا سا فون سنبھالا نہیں جاتا اور میں تمہاری وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے اپنے اہم اپائنٹمنٹ چھوڑ کر آیا ہوں کہ کہیں محترمہ مر مرا نا گئی ہوں ۔۔۔”
“آپ نے فون اٹھانے کا موقع ہی کب دیا تھا میرے تو کپڑے بھی ادھر ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔” اب کے وہ جلدی سے مکمل جملہ بولی
” اپنی حرکتیں کبھی مت دیکھنا خیر لنچ لگاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں ۔۔۔” وہ اسے گھورتے ہوئے باہر نکل گیا
****************
صبح فجر کا وقت تھا سویرا نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی آج سے یونیورسٹی کھل رہی تھی وہ اینڈریو کے خوف سے یونیورسٹی جانے سے ڈر رہی تھی اسے شہریار سے بات کرنی تھی لیکن شہریار کے رویے سے بھی ڈر لگ رہا تھا ۔ وہ جلدی جلدی اپنا بیگ تیار کر کے اپنے لمبے گیلے بالوں کو سلجھا کر خشک ہونے کیلئے پشت پر کھلا چھوڑ کر کچن میں آئی شہریار کسی بھی لمحے جاگنگ سے واپس آنے والا تھا اس نے جوس نکال کر میز پر رکھا اور واپس کچن کی طرف مڑی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی ۔۔
بلیک ٹراؤزر شرٹ میں ماتھے پر بکھرے بال لئیے شہریار اندر داخل ہوا ۔۔
” اسلام علیکم ۔۔۔آپ کا جوس ۔۔” وہ گلاس اٹھا کر اس کے پاس آئی
شہریار نے سر ہلاتے ہوئے جوس کا گلاس اس کے ہاتھ سے لیا اور اس کی تیاری کو بغور دیکھا
” یہ اتنی صبح کدھر جانے کی تیاری ہے ؟؟ ” اس نے ابرو اچکا کر پوچھا
” وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی ۔۔۔۔” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
” ابھی تو میرے پاس وقت نہیں ہے شام میں آفس سے آکر تمہاری بات سنوں گا ۔۔۔” وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے اندر چلا گیا
سویرا نے اسے اندر جاتے دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا جو بھی ہو وہ شہریار کو سب کچھ بتائے بغیر یونیورسٹی جانے کا رسک لینا نہیں چاہتی تھی اور میڈیکل کی پڑھائی تھی چھٹی بھی نہیں کر سکتی تھی وہ جلدی سے انڈا فرائی کر کے بلیک کافی مگ میں انڈیل کر شہریار کا ناشتہ ٹرے میں سجا کر اس کے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ کھلا ہوا تھا وہ ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئی ۔۔۔
شہریار شاور لیکر بنا شرٹ پینٹ پہنے گلے میں تولیہ ڈالے ابھی باہر نکلا ہی تھا کہ ناشتے کی ٹرے اٹھائے سویرا اندر داخل ہوئی وہ اسے بنا شرٹ کے دیکھ کر گڑبڑا گئی اور رخ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
” کیا ہے کیوں آئی ہو ؟ “اس نے روکھے انداز میں پوچھا
” آپ کا ناشتہ ۔۔۔۔” وہ نظریں جھکائیں ٹرے اس کی سمت بڑھاتے ہوئے بولی
” میں باہر ٹیبل پر آرہا تھا خیر ادھر میز پر رکھ دو ۔۔۔” وہ اس کے نزدیک آکر اس کے سرخ چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولا
” سنو !! ” اس نے ٹرے رکھ جاتی ہوئی سویرا کو روکا
” تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہوں ؟؟ میں کوئی آدم خور ہوں جو تمہیں کچا چبا جاؤنگا۔۔۔۔” اس کی گھمبیر آواز میں شوخی کی رمق لہرائی
وہ کانپتے ہاتھوں سے سر پر ٹکے دوپٹے کو مزید ٹھیک کرنے لگی شہریار نے ایک نظر اس کی گھبراہٹ کو دیکھا
” بولو تمہیں کیا بات کرنی تھی مجھ سے ؟ ریلیکس ہوجاؤ اور بتاؤ کیا کہنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔” وہ پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ تھا
” تو یہ طے ہے کہ تم کچھ بولو گی نہیں !! اوکے پھر یونہی سہی ۔۔۔” وہ بڑے اطمینان سے بازو باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
سویرا چپ چاپ سر جھکائے کھڑی تھی جب کمرے میں خاموشی چھا گئی تو اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی پلکیں اٹھائیں سامنے ہی شہریار اپنے دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے بڑے انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” میں تمہارا منتظر ہوں مسز !! اور یہ بات تو لکھ لو جب تک تم اپنی بات نہیں کہو گی میں ادھر سے نہیں ہلنے والا ۔۔۔” وہ گھمبیر لہجے میں بولا
” آج سے اسٹیڈیز اسٹارٹ ہو گئی ہیں اور مجھے جوائن کرنا ہے ۔۔۔۔” وہ نظریں جھکائیں ہی بولی
” تم میری طرف دیکھ کیوں نہیں رہی ؟؟ ” شہریار نے الٹا سوال کیا
“وہ آپ آپ ۔۔۔۔” اس کی آواز لڑکھڑائی
“آپ کیا ؟؟ ” وہ اس کے دوپٹے سے جھانکتے بالوں کو اپنی مٹھی میں لیکر ان کی نرمی محسوس کرتے ہوئے بھاری گھمبیر لہجے میں بولا
” آپ پلیز شرٹ تو پہن لیں ۔۔۔۔” وہ آنکھیں میچتے ہوئے تیزی سے کہہ گئی
شہریار نے غور سے اس کے چہرے پر پھیلے شرم و حیا کے رنگ دیکھے اور میکانیکی انداز میں اس کی روشن پیشانی پر مہر محبت ثبت کر کے پلٹا اور بیڈ پر پڑی شرٹ اٹھائی ۔۔
” اب تم آنکھیں کھول سکتی ہو ؟؟ ” وہ شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بولا
” اگر تم مجھ سے اسکول جانے کی بات کرنے آئی ہوں تو سوری جب تک تمہارا فون نہیں جاتا میں تمہیں اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔”اس کے لہجے میں سرد مہری تھی
” میری کلاسز مس ہو جائینگی اور فون تو ادھر فارم ہاؤس میں ہے وہ کیسے آئیگا ۔۔۔” سویرا روہانسی ہوئی
” دیکھو مسز !! میں ہر وقت فارغ نہیں ہوتا کل بھی تمہاری وجہ سے سارے کام چھوڑ کر گھر بھاگا چلا آیا تھا اور اب تم باہر جاؤ اور میرے رابطے میں نا رہو یہ ممکن نہیں ہے شرافت سے گھر میں بیٹھو ۔۔۔۔” وہ ٹائی کی ناٹ باندھ کر کوٹ اٹھاتے ہوئے بولا
” جی ٹھیک ہے ۔۔۔” سویرا کا دل بھر آیا تھا اس نے چہرہ جھکا لیا
” شام میں تیار رہنا فون لینے چلیں گے اوکے ۔۔۔۔” وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے بریف کیس اٹھا کر باہر نکل گیا ۔۔
***********************
ریڈنگ ویک ختم ہوچکا تھا یونیورسٹی کھل چکی تھی وہ صبح سویرے ہی کیمپس آچکا تھا اور اب فرسٹ پراف کی کلاس کو نظر میں رکھے ستون سے ٹیک لگائے سویرا کا انتظار کررہا تھا آتے جاتے اسٹوڈنٹس اس کی پرسنیلٹی کو سراہتے ہوئے گزر رہے تھے پر وہ سب سے بے نیاز تھا سویرا نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا پہلے خود راہ و رسم بڑھائی پھر اپنے شوہر کی بے اعتنائی کا رونا رویا اور پارٹی میں بھی خود انوائیٹ کرکے اس کی بے عزتی کروائی ۔۔۔۔پارٹی کا سوچ کر اس کی آنکھیں لہو رنگ ہو گئیں ٹائم ہوچکا تھا سب اسٹوڈنٹس اپنی اپنی کلاسز میں پہنچ چکے تھے پر وہ سویرا نہیں آئی تھی ۔۔۔
” مس سویرا میں تو تمہیں سیدھا سادھا معصوم جان کر تمہاری طرف بڑھا تھا لیکن اب میں تمہاری اس معصومیت کا پردہ فاش کردونگا ایسی جگہ لے جا کر مارونگا کہ تمہارا وہ سو کالڈ ہسبنڈ تمہیں ڈھونڈتا رہ جائیگا ۔۔۔” وہ سگار مسلتے ہوئے آگے بڑھا
اسٹاف روم میں پہنچ کر اس نے اپنا سیل نکالا اور سویرا کو میسنجر پر کال کرنے لگا وہ کال پر کال کررہا تھا مگر وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی
” فون اٹھاؤ اور مجھ سے بات کرو ورنہ تمہارا وہ حشر کرونگا کہ تم کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی ۔۔۔” اس نے میسج کیا
اب اسے سویرا کے یونیورسٹی آنے کا انتظار تھا وہ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ تھی آخر کب تک گھر بیٹھ سکتی تھی
__________________________
سلیم صاحب، زاہدہ تائی ، اور فرزانہ پھپھو تینوں اس وقت ائیر پورٹ پر موجود تھے بورڈنگ ہو چکی تھی اب اس فلائیٹ کے اڑنے کا انتظار تھا ۔۔
” آج پہلی بار میں اپنے بچے کا گھر دیکھوں گی اور سلیم میں کہہ دیتی ہوں کہ میرے کسی معاملے میں تم میاں بیوی ہرگز ٹانگ نہیں اڑاؤ گے اسی شرط پر میں نے اکرام کی دوسری شادی کینسل کی ہے ۔۔۔”
جاری ہے
