Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35
آپا آپ اس قدر ٹینشن کیوں لے رہی ہیں ؟ خوشی خوشی چلیں خوامخواہ پریشان ہونے کا کیا فائدہ ہے میں شیرو کو اچھی طرح سے جانتا ہوں بیٹا ہے میرا ، لاکھ اسے اختلاف ہو لیکن وہ اپنی چیز اپنا حق کبھی نہیں چھوڑتا اور سویرا تو بچپن سے اس کے نام پر ہے وہ چاہے بھی تو اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔” سلیم صاحب نے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے رسان سے سمجھایا
” سلیم میاں جو بھی ہے اس نے خوشی خوشی تو اسے نہیں اپنایا ہے آخر سمجھوتوں پر تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی ۔۔۔” فرزانہ نے اپنا نظریہ بیان کیا
” آپا اگر میں ابھی سویرا کو اس کے حوالے نہیں کرتا تو یقین جانیں بعد میں اسے ساری زندگی پچھتاوا ہوتا وہ اسے کسی دوسرے کے نکاح میں برداشت نہیں کرسکتا تھا اور یہ بات اسے خود بھی نہیں پتا تھی اور وہ خود سویرا کی زمہ داری اپنے سر لے کر گیا ہے اسے ایک موقع تو دیں ہمیں چند دن ان بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی گزارنے ہیں اور اگر آپ کو وہ خوش نہیں لگا تو میں آپ کو نہیں روکو ں گا ۔۔۔” سلیم صاحب نے بات ختم کی
” مجھ سے تو وقت ہی نہیں گزر رہا کب یہ جہاز ادھر پہنچے گا ۔۔۔” زاہدہ بیگم نے بات بدلی
” چھ گھنٹے کا سفر ہے ہم ان شاءاللہ رات نو ہیتھرو ائیرپورٹ پہنچ جائیں گے پھر امیگریشن کسٹم کے بعد تقریباً رات گیارہ بارہ تک شیرو کے گھر پر ہونگے ۔۔۔” انہوں نے اپنی بیگم کو تسلی دی
” اے لو سلیم میاں !! تم نے شیرو کو تو ہمارے آنے کا بتایا ہی نہیں اب رات میں ہم اس کا گھر کیسے ڈھونڈتے پھرتے گے ۔۔۔” فرزانہ ناک پر انگلی رکھتے ہوئے بولیں
” آپا میں لندن آتا جاتا رہا ہوں بیفکر رہیں ٹیکسی کر لینگے اور آرام سے پہنچ جائیں گے ۔۔۔”
**********************
تین دن سے وہ کمرے میں بند تھی مسٹر اور مسز سہراب اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے لیکن وہ دروازہ کھول کر باہر آنے کو تیار نہیں تھی ۔۔
آج مسز سہراب زبردستی دروازہ کھلوا کر اس کے پاس آئیں تھیں ۔۔
” عروہ ڈارلنگ ! کمرے سے باہر نکلو بیٹا ۔۔۔” وہ پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں
” مما سب ختم ہوگیا ۔۔۔۔” وہ تلخی سے بولی
” ایسا نہیں کہتے میری اتنی پیاری خوبصورت سی بیٹی کو دیکھنا کوئی پرنس ہی ملیگا ۔۔۔” انہوں نے اسے بہلانا چاہا
شیری کا سویرا کو لیکر وہ جنونی انداز بار بار اس کی نگاہوں کے پردے پر کسی فلم کی طرح چل رہا تھا ۔۔۔
” مما !! مجھے ب
ھی ایسا ہی عاشق چاہئیے جو میرے لئیے زمانے سے لڑ جائے جیسے وہ شیری اس لڑکی کے لئیے پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔۔” وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی
“ملیگا اور ضرور ملیگا اب تم یہ اسٹوپڈ رنگ تو اتارو میں واپس بھجواتی ہوں ۔۔۔” انہوں نے اس کی نازک سی انگلی سے رنگ اتارنی چاہی
“نہیں مما !! پلیز یہ میری انگیجمنٹ رنگ ہے اور جو بھی ہے انگیجمنٹ تو ہو چکی ہے اب تو بس یہ دیکھنا ہے کہ وہ مجھے بھی اس شدت سے چاہے گا یا نہیں ۔۔۔” وہ ضدی بچے کی طرح اکڑ گئی
” عروہ وہ کسی اور کا ہے بچے اب تم اس کو بھول جاؤ ۔۔۔”
” کیا بھولنا آسان ہوتا ہے ؟؟ میری ساری فرینڈز سارا سرکل مجھے فیوچر مسز شہریار کے نام سے جانتا ہے آپ نے کبھی سوچا ہے میں ان سب کو کیسے فیس کرونگی ؟؟ بتائیں ۔۔۔” وہ ہذیانی انداز میں چیخی
مسز سہراب اسے تاسف سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی وہ اب کھڑی ہو کر وارڈ روب سے اپنے لئیے ڈریس دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” مسٹر شہریار تیار رہو آج کا لنچ تو تم اپنی فیانسی کے ساتھ ہی کرو گے ۔۔۔”
فریش ہو کر سادہ سی جینز اور ٹی شرٹ پہن کر اس نے اپنے گھونگریالے بالوں کی پونی بنائی اور گاڑی کی چابی اور سیل فون اٹھا کر باہر نکلی ۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنا فون آن کیا تو ڈاکٹر اینڈریو کو میسج آیا ہوا تھا اس نے بیزاری سے فون آف کیا اور گاڑی کا رخ شہریار کے آفس کی طرف موڑ دیا ۔۔
*****************
بریڈلی کلاس لیکر باہر نکلا وہ صبح سے سویرا کو کال ملا رہا تھا پر وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے اینا کو کال ملائی ۔۔
” ہیلو اینا کیسی ہو ۔۔۔”
” تم اس وقت !! کیسے کال کی ۔۔۔” اینا فائل بند کرتے ہوئے آرام سے بیٹھ گئی
” سویرا کدھر ہے ؟ آج یونیورسٹی بھی نہیں آئی اور فون بھی نہیں اٹھا رہی ہے ۔۔” اس نے اینا کی خیریت پوچھنے کے بعد سوال کیا
” باس ابھی آفس میں ہی ہیں میں ان سے پوچھ کر کال کرتی ہوں ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولی
” سنو اپنے اس کھڑوس باس کو اس ڈاکٹر اینڈریو کا ضرور بتا دینا وہ آج بھی صبح اینٹرینس پر نظریں گاڑے کھڑا تھا میں تو اس کی بینڈ بجانے کو پر سویرا ہی نہیں آئی ۔۔۔۔”
” بس رہنے دو جس وقت بینڈ بجانی چاہئیے تھی اس وقت تو منھ پھلا کر پارٹی چھوڑ گئے تھے ویسے باس نے اس کی خوب پٹائی کی تھی پورا بھیگا مرغا لگ رہا تھا ۔۔۔” اینا مزے سے بولی
” اچھا اچھا اب طعنہ مت دو اور جا کر سویرا کا پتا کرو ۔۔۔” بریڈلی نے فون رکھا
اینا نے فون بند کر کے شہریار کے آفس کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر اس سے بات کرنے کے لیے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
______________
پانچ گھنٹے گزر چکے تھے ایمریٹس ائیرلائن کا طیارہ بس اب ایک گھنٹے میں ہیتھرو ائیرپورٹ پر اترنے ہی والا تھا زاہدہ بیگم نے تو پورا سفر سوتے ہوئے ہی گزارا تھا لیکن فرزانہ پورے سفر میں ایکٹیو رہی تھیں اور سلیم صاحب سے باتیں کرتے ہوئے وقت گزار رہی تھی اب ان کے سر میں درد ہو رہا تھا سلیم صاحب بھی نیم غنودگی میں چلے گئے تھے فرازنہ نے بیل بجا کر ائیر ہوسٹس کو اپنے لئیے چائے لانے کا حکم دیا
“ہیزل وہ فرسٹ کلاس سیٹ 20 A کو چائے دے آؤ ۔۔۔” ایک خوبصورت سی ائیر ہوسٹس نے اپنی ساتھی ائیر ہوسٹس سے گزارش کی
” نو نیور اس اولڈ لیڈی کو کھانا میں نے سرو کیا تھا اور اب دوبارہ ان کے پاس جانے کی میری ہمت نہیں ہے ۔۔۔” ہیزل نے کانوں کو ہاتھ لگایا
“اوکے پھر میں ہی جاتی ہوں ۔۔۔۔” انعم پاکستانی ائیر ہوسٹس نے ٹھنڈی آہ بھری اور چائے لیکر فرسٹ کلاس کیبن کی جانب بڑھی
” میم آپ کی چائے ۔۔۔۔” اس نے بڑے سلیقے سے چائے اس ڈیسنٹ سی خاتون کے سامنے رکھی جن کی پیشانی پر اسے دیکھتے ہی بل پڑ گئے تھے
” یہ کیسی کالی چائے ہے ؟؟ اور لڑکی تم تو مجھے پاکستانی لگتی ہو یہ کیسا واہیات یونیفارم پہنا ہے تم نے ۔۔۔۔” وہ انعم کے اسکرٹ کو گھورتے ہوئے بولیں
” میم آپ کو کیسی چائے چاہئیے بتائیں میں بنانے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔۔” انعم لاچاری سے بولی
” دودھ میں پتی اور سبز الائچی ڈال کر اچھی طرح سے جوش دیکر چائے لاؤ اور شکر صرف دو چمچ رکھنا ۔۔۔”وہ عینک درست کرتی ہوئی بولیں
” میم ۔۔۔” انعم کراہ اٹھی
” میم یہ پلین ہے ادھر چولہا نہیں ہوتا کہ ہم آپ کے لئیے دودھ پتی بنا سکیں ۔۔۔۔” اس نے سمجھانا چاہا
” لاکھ کا ٹکٹ دیتے ہو اور موا ایک کپ ڈھنگ کی چائے بھی نہیں ملتی تف ہے تم لوگوں پر !! میں تو اتر کر تم سب کی شکایت کرونگی ۔اب جاؤ بھی میرا منھ کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔” انہوں نے اسے گھورا
ائیر ہوسٹس نے جلدی سے چائے اٹھائی اور جانے کیلئے مڑی ۔۔
” او بی بی اب یہ سڑی ہوئی چائے تو چھوڑ جاؤ ۔۔۔”
انعم نے پلٹ کر چائے رکھی اور تیزی سے توبہ کرتی ہوئی کیبن سے باہر نکلی
“کیا ہوا ۔۔۔۔” ہیزل نے انعم کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا
” یار جلدی سے لینڈنگ ہو اور اس ہٹلر لیڈی سے جان چھوٹے میں تو تنگ آگئی ہوں سر الگ درد کر رہا ہے ۔۔۔” انعم نے کہا
” ویسے اس لیڈی کے گھر والے تو سارے جنتی ہونگے ۔۔۔” ہیزل شرارت سے مسکرائی
” ظاہر ہے بیچارے دنیا میں ہی عذاب بھگت رہے ہیں ۔۔۔” انعم نے جل کر کہا
لینڈنگ کی اناؤسمنٹ ہو چکی تھی سیٹ بیلٹ کے سائن آن ہو چکے تھے سارے مسافر ہوشیار تیار سیدھے ہو کر بیٹھ گئے جہاز لندن ائیرپورٹ پر لینڈ کررہا تھا ۔۔۔
کسٹم امیگریشن سب سے فارغ ہو کر سلیم صاحب ان دونوں خواتین کو ساتھ لئیے ٹیکسی کارنر کی طرف آگئے تھے ۔
” چلیں آپ دونوں خواتین ٹیکسی میں بیٹھیں میں سامان رکھواتا ہوں ۔۔۔” انہوں نے فرزانہ آپا اور زاہدہ بیگم کو متوجہ کیا
” سلیم میاں پاگل ہوگئے ہو کیا !! ذرا اس کالے ڈرائیور کو تو دیکھو کتنا خبیث لگ رہا ہے …” فرزانہ نے بیٹھنے سے صاف انکار کردیا
” آپا یہ نیگرو ہے اس نسل کے لوگ ایسے ہی کالے ہوتے ہیں آپ اس کی شکل پر مت جائیں گاڑی میں بیٹھئیے پلیز ۔۔” سلیم صاحب نے اپنا غصہ دباتے ہوئے انہیں سمجھایا
” نہیں بھئی میں تو اس کلو کے ساتھ نہیں جانے والی تم کوئی گورا ڈرائیور ڈھونڈو ۔۔۔” وہ بھی صاف اکٹر گئیں
سلیم صاحب نے ڈرائیور سے معذرت کی رات کے گیارہ بج رہے تھے انہوں نے دیکھ بھال کر دوسری ٹیکسی لی اور شہریار کا ایڈرس بتا کر زاہدہ بیگم اور فرزانہ کو اندر بیٹھنے کا کہہ کر خود آگے بیٹھ گئے ۔۔
” سلیم میاں اب اور کتنی دیر لگے گی ۔۔۔” فرزانہ نے سوال کیا
” بس آپا بیس منٹ میں ہم شیرو کے گھر پر ہونگے ۔۔۔” وہ پیچھے مڑ کر رسان سے بولے
****************
سویرا کو لوری نے کافی چیزیں دلوا دی تھی اب وہ اسے ان کا استمال بتا رہی تھی بیس پاؤڈر بلش آن مسکارا لائنر وہ سب نرمی سے سویرا کے چہرے پر لگاتے ہوئے اسے ساتھ ساتھ سکھاتی بھی جا رہی تھی ۔۔۔
“واؤ یو آر لکنگ سو سو پریٹی ۔۔” لوری نے آخری ٹچ دے کر اسے توصیفی نگاہوں سے دیکھا
“چلو اب یہ اسکارف اتارو میں تمہیں ہئیر پروڈکٹ بھی سکھا دوں ۔۔۔۔” لوری نے اس کے اسکارف کی طرف اشارہ کیا
سویرا نے ہچکچاتے ہوئے اسکارف اتارا اور اپنا جوڑا کھولا
سویرا کے لمبے گھنے سیاہ چمکدار بال دیکھ کر لوری کی آنکھوں میں ستائش اتر آئی تھی ۔۔۔
” تم پاکستانی لڑکیوں کے بال بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔۔” وہ اس کے بالوں میں برش کرتے ہوئے بولی
سویرا کو ہئیر اسپرے کرل مشین وغیرہ کا استعمال سمجھا کر لوری فارغ ہو چکی تھی سویرا ریوالونگ چئیر سے کھڑے ہو کر اسکارف دوبارہ سر باندھنے ہی لگی تھی کہ لوری نے اسے ٹوکا ۔۔۔
” ابھی ایسے ہی رہنے دو پہلے مسٹر شہریار کو چیک تو کرلینے دو کیا پتہ وہ اور بھی کوئی سروس سجیسٹ کریں ۔۔۔۔”
شہریار کا نام سن کر سویرا رک گئی اور لوری کے ساتھ کیش کاؤنٹر پر آکر شہریار کے دئیے کریڈٹ کارڈ سے بل پے کیا اور پھر مین اینٹرینس کے پاس سجے شوکیس کے پاس آکر کھڑی ہو گئی ابھی ایک گھنٹے میں دس منٹ باقی تھے وہ شہریار کا ویٹ کررہی تھی ۔۔۔
ٹھیک ایک گھنٹے میں اپنی کچھ ضروری فون کالز نبٹا کر وہ شاپ پر پہنچا تو سامنے ہی اس کے انتظار میں کھڑی سویرا پر اسے کسی خوبصورت مجسمے کا گمان ہوا ۔۔۔
خوبصورت رنگوں سے سجی خوشنما آنکھیں ، مسکارے سے بوجھل گھنی پلکیں اس کے گلابی گالوں پر سایہ فگن تھیں لمبے سیاہ بال پشت پر پھیلے ہوئے تھے جن کو نیچے سے ہلکا ہلکا سا کرل کیا ہوا تھا ، ہاتھ میں بیگ پکڑے وہ نظریں جھکائے اس کے انتظار میں کھڑی تھی اس کے چہرے کی دلکشی اتنی زیادہ تھی کہ وہ اسے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا میک اپ کے بعد وہ لگ بھی بہت خوبصورت رہی تھی شہریار کی نظریں اب بھی اسی پر تھیں وہ قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔۔
” ریڈی ہو ؟؟ ” وہ اس کے چہرے پر نظریں جما کر بولا
” آپ آگئے ۔۔۔۔” سویرا نے پلکیں اٹھائیں
” اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔۔” وہ اس کے بالوں کو چھوتے ہوئے بولا
” وہ میں اسکارف لے رہی تھی پر اس لڑکی نے کہا آپ دیکھ لیں پھر اسکارف لینا ۔۔۔” وہ اٹک اٹک کر بولی کہ کہیں وہ ناراض نا ہو جائے
” اٹس اوکے سوئیٹ ہارٹ !! لڑکی کی خوبصورتی اس کے ہسبنڈ کے لئیے ہی ہوتی ہے میں ساتھ ہوں تو تمہیں خود کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔” وہ آرام سے اس کے ہاتھ سے اسکارف لیکر اس کے ہاتھ میں پکڑے بیگ میں ڈالتے ہوئے نرمی سے بولا
” چلیں ۔۔۔۔” اس نے سویرا سے پوچھا
” جی ۔۔۔۔” اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا
شہریار اسے لیکر شاپ سے باہر نکلا اب اس کا ارادہ اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں سویرا کے ساتھ ڈنر کرنے کا تھا
” سنو !! کیا تمہیں مسکرانا آتا ہے ۔۔۔” شہریار نے گاڑی ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں پارک کرتے ہوئے اس سے پوچھا جو نظریں جھکائے مسلسل اپنے ہاتھوں کو گود میں رکھے مسل رہی تھی
سویرا نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا شہریار نے بڑے آرام سے اپنا داہنا ہاتھ اسٹیئرنگ وہیل سے ہٹایا اور اس کی گود میں رکھے نازک مرمریں ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا ۔۔۔
“مسز شہریار !! ایسے سر جھکائے بیٹھی رہوگی تو تمہاری گردن تھک جائے گی تھوڑا ری لیکس کرو ۔۔۔” وہ آرام سے بولا
” ویسے میں نے نوٹ کیا ہے کہ تم مجھے دیکھتے ہی نظریں جھکا لیتی ہو کیا میں تمہیں بہت خوفناک لگتا ہوں ؟؟ ۔۔۔” اس نے سنجیدگی سے سوال کیا
شہریار کی بات پر سویرا نے دھیرے سے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا جو بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا
” نہیں آپ بھوت تو نہیں ہیں ۔۔۔۔” وہ جلدی سے بولی
” مجھے لگتا ہے کہ شاید تم مجھے پسند نہیں کرتی ہو ۔۔۔” اس نے مزید سنجیدگی سے پوچھا اور پھر وہی ہوا جس کا اسے اندیشہ تھا سویرا کی آنکھوں میں بڑی تیزی سے آنسو جمع ہونے شروع ہوگئے ۔۔
“دیر سے سہی پر یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے تمہیں پایا ہے اور اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ میں یہ رشتہ زبردستی نبھا رہا ہوں !! تو مسز شہریار تم غلط سمجھتی ہو ،جو ہوگیا وہ ہوگیا لیکن اب میرے لئیے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ تم میری ہو ، میری دسترس میں ہو ۔۔۔ ” اس نے سویرا کے آنسو بڑی توجہ سے اپنی انگلیوں میں سمیٹے
” اگر تم مجھے نہیں سمجھ پائی تو اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اب جب ہم ساتھ رہیں گے تو تم آہستہ آہستہ مجھے جان جاؤ گی اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ وقت دور نہیں جب تم مجھ سے محبت نہیں ، عشق کرو گی ۔۔۔۔” وہ پریقین لہجے میں بولا
اس کے پریقین لہجے پر سویرا نے اپنے دل کو سنبھالتے ہوئے حیرانی سے اسے دیکھا ۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دھیرے سے مسکرایا تو سویرا کو لگا جیسے اس کا اپنا دل بھی مسکرایا ہے اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان اتر آئی ۔۔۔
” سویرا !!! ” وہ گھمبیر لہجے میں بولا
اس نے اپنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا جو آج کسی اور ہی دنیا کا باسی محسوس ہو رہا تھا
” تمہیں پتہ ہے تم مسکراتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو میرا دل چاہتا ہے کہ تم مجھ سے باتیں کرو ضد کرو کچھ اپنی منواؤ تو کچھ میری مانو !! اور سب سے بڑھ کر ۔۔۔” وہ کہتے کہتے اس سمت جھکا
” جب تم مجھے دیکھ کر شرماتی ہو تب میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری شرم و حیا سے بوجھل آنکھوں کو بہت قریب سے دیکھوں ۔۔۔۔”
اس کے بدلے ہوئے اطوار سویرا کے ہاتھ پیر پھلا رہے تھے اس کا ننھا سا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئیگا چہرے کی رنگت سرخ ہو گئی تھی پلکیں لرز کر جھک گئی تھیں۔۔۔
” مسز شہریار !! یار مجھ پر رحم کرو اب تم ایسے شرماؤ گئی تو میں کسی کام کا نہیں رہونگا ۔۔۔۔” وہ اس کے گالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے بولا
” آپ ۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔” وہ گھبرا کر جھجک کر پیچھے ہٹی
” چلو اترو تمہیں اچھا سا ڈنر کرواتے ہیں اس سے پہلے میرا ارادہ بدل جائے ۔۔۔۔” وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا
گاڑی لاک کر کے وہ سویرا کو اپنے ساتھ لئیے اس شاندار سے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا ۔ویٹرس نے مسکرا کر اسے اس کی مخصوص میز تک پہنچایا اور مینیو کارڈ ان دونوں کے سامنے رکھا
” کیا کھانا پسند کروگی ؟؟ ” شہریار نے پوچھا
” کچھ بھی ۔۔۔” وہ سادگی سے بولی
” تمہیں کیا پسند ہے ؟ تھائی فوڈ ، چائینیز یا اورئینٹل فوڈ ۔۔؟” شہریار نے پوچھا
” وہ مجھے اس سب کا نہیں پتہ میں تو جو بھی مل جائے کھا لیتی ہوں ۔۔۔” وہ شرمندگی سے بولی
” اٹس اوکے !! ۔۔۔۔” شہریار نے اسے ری لیکس کیا اور ویٹرس کو بلا کر آرڈر پلیس کیا ۔
” ویسے ہماری اس پہلی ڈیٹ پر ایک سیلفی تو ہونی چاہئیے ۔۔۔” اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا
” لڑکی ایک تو تم میری سدھ بدھ بھلا دیتی ہو اب آرام سے بیٹھو میں بس دو منٹ میں کار سے اپنا سیل فون لیکرآتا ہوں.
جاری ہے
