Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21
ہمم ٹھیک ہے مگر ابھی تو تمہاری ایجوکیشن بھی کوئی خاص نہیں ہے اور نا ہی کوئی ورک ایکسپیریئنس ہے ویسے بھی اسٹوڈنٹس تو چھوٹی موٹی جاب ہی کرتے ہیں ایسا کرو تم اپنا ریزیومے بنا لو میں نیکسٹ ویک تمہیں یونیورسٹی سے پک کرلونگی پھر مال میں اور کافی شاپس میں اپلائے کرتے ہیں ۔۔۔” اینا نے اسے تسلی دی
” ویسے تمہارا جاب کرنے کا فیصلہ بہت اچھا ہے میں تو کہتی ہوں خود کو گروم بھی کرو میک اوور کرواؤ اپنی پرسنیلٹی بناؤ بولڈ بنو ۔۔۔” اینا نے اسے سراہا
ابھی وہ دونوں باتیں کررہی تھی جب کسی کے کھنکھارنے کی آواز پر وہ دونوں چونک گئی
” مس اینا آپ ادھر کیا کررہی ہیں ؟؟ “جونس سر پر کھڑا پوچھ رہا تھا
“گڈ آفٹر نون سر !! میں اپنی فرینڈ کے ساتھ لنچ پر آئی ہوں !! ” اینا نے اسے سلام کرتے ہوئے جواب دیا
” آپ کی فرینڈ !! سسٹر سویرا !! ” اس نے حیرت سے پوچھا
” جی سر !! ” وہ جزبز ڈی ہو گئی
” سویرا تم کیسی ہو ؟؟ ” اب جونس سویرا کو دیکھ رہا تھا
اس سے پہلے سویرا جواب دیتی جونس کا فون بج اٹھا
” تم ادھر جا کر چپک گئے ہو ادھر گیسٹ ویٹ کررہے ہیں جلدی آو ۔۔۔” شہریار کی سرد آواز گونجی
” آپ دونوں خواتین ہمیں لنچ پر جوائن کریں ۔۔۔” جونس نے اپنی میز کی طرف اشارہ کیا
سویرا نے ادھر شہریار جو دیکھا تو ایک سرد سی لہر اس کی رگوں میں دوڑ گئی ۔۔
“پر سر ہم آرڈر کر چکے ہیں ۔۔۔” اینا نے سویرا کی گھبراہٹ کو بھانپتے ہوئے کہا
” کوئی بات نہیں وہ ادھر سرو ہو جائیگا ہری اپ گرلز ۔۔۔” جونس نے انہیں اٹھنے کا اشارہ کیا
وہ دونوں اٹھ کر جونس کی ہمراہی میں میز پر آئیں
” جنٹلمین اینڈ مادام ، میٹ مائی سسٹر سویرا اینڈ سیکریٹری مس اینا ۔۔۔” جونس نے شہریار کو خاموش دیکھ کر خود تعارف کروایا
سویرا خاصا جھجک رہی تھی اس پر ان مہمانوں کی پر شوق نگاہیں اس پر جمی ہوئی تھیں
” ماشاءاللہ تمہاری بہن بہت خوبصورت اور معصوم ہے ۔۔۔۔” مادام نے سویرا کو سراہتی ہوئی نظروں سے دیکھا
” مس سویرا ، کیا آپ ہماری جیولری کے ایڈ کی ماڈلنگ کرنا چاہیں گئی ؟؟ معاوضہ منھ مانگا دونگا ۔۔۔” ان میں سے ایک نے پوچھا
” سوری اورہن ، یہ ماڈلنگ نہیں کرسکتی ہیں ۔۔۔” شہریار نے سختی سے جبڑے بھینچتے ہوئے کہا
” جونس تم مہمانوں کی خاطر تواضع کرو ، سوری گائیز مجھے اجازت دیں ۔۔۔” وہ کھڑا ہوا
” تمہیں کیا دعوت نامہ دینا ہوگا ؟؟ ” وہ اردو میں سویرا جو دیکھتے ہوئے غرایا
سویرا ہڑبڑا کر اٹھ گئی
” مس آپ تو رکیں ۔۔۔” اورہن ہے اسے روکنا چاہا
” یہ میرے ساتھ ہیں ” شہریار نے سرد لہجے میں کہا اور سویرا کا ہاتھ تھام کر تیزی سے باہر نکل گیا
اسے باہر آتے دیکھ کر دربان تیزی سے اس کی گاڑی لانے کے لیے گیا اس کے چہرے پر سرد مہری تھی اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر سویرا کو اندر دھکیلا پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی وہ لب بھینچے ہوئے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے ڈرائیو کررہا تھا ۔۔۔
*********************
ڈاکٹر اینڈریو اپنی کلاس لیکر فارغ ہوا اب اس کا ارادہ سویرا سے ملنے کا تھا مگر اسے پورے ڈپارٹمنٹ میں سویرا کہیں نہیں ملی، رات بھی سویرا نے اسے گھر آنے سے منع کردیا تھا اور اب خود بھی یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔۔
” ہوسکتا ہے اس کے ہسبنڈ نے اسے روکا ہو ؟؟ ویسے بھی یہ ایشین مرد خود جو چاہیں کریں لیکن اپنی عورتوں کو پابندیوں میں جکڑ کر رکھتے ہیں ۔۔۔” وہ سوچ رہا تھا
کچھ دیر بعد اس نے فون نکالا ارادہ سویرا کو کال کرنے کا تھا حالانکہ سویرا نے اسے کال کرنے سے منع کیا تھا پر اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا سننا چاہتا تھا کچھ سوچ کر اس نے سویرا کو میسنجر پر میسج ٹائپ کیا
” کدھر ہو تم ؟؟ کال کروں ورنہ میں تمہارے گھر آرہا ہوں ۔۔۔۔”
عروہ کی ابھی صبح نہیں ہوئی تھی آج کوئی خاص پلان نہیں تھا ابھی بھی دن کے دو بج رہے تھے جب اس کے فون پر وائبریشن ہوئی بڑی ناگواری سے اس نے فون اٹھایا اور میسج دیکھ کر اچھی پڑی اس کی ساری سستی ہوا ہو گئی تھی اس نے جلدی سے میسنجر سے اینڈریو کو کال ملائی
” ہیلو سویرا کدھر ہو تم ؟؟ یونیورسٹی کیوں نہیں آئی ؟؟ ” پہلی بیل پر ہی اینڈریو فون ریسیو کرتے ہی شروع ہو گیا تھا
ایک لمحے کو تو عروہ کی کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کہے پھر وہ سنبھل کر بولنا شروع ہوئی
” وہ میں رات دیر سے سوئی تھی تو صبح آنکھ ہی نہیں کھلی ۔۔۔”
” پارٹی تو تم نے کینسل کر دی تھی پھر دیر سے کیوں سوئی ؟؟”
” وہ آپ کسی سے کچھ کہیں گئے تو نہیں ؟؟ ۔۔” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
” نہیں کہونگا ۔۔۔” اینڈریو کو اس کی ہچکچاہٹ پر ٹوٹ کر پیار آیا
” وہ وہ میں آپ کو سوچ رہی تھی مجھے لگا کہ آپ میرے انکار پر ناراض نا ہوگئے ہوں بس آپ کی ناراضگی کا سوچ کر نیند اڑ گئی ۔۔۔”
وہ بڑے مزے سے اینڈریو کو شیشے میں اتار رہی تھی اسے آہستہ آہستہ دیوانگی کی راہ پر لا رہی تھی ۔
___________
لنچ سے بڑے خراب موڈ کے ساتھ وہ سویرا کو گھر واپس لیکر آیا ۔
” آئندہ اس طرح تم مجھے اکیلی ہوٹلنگ کرتے ہوئے نظر آئیں تو ٹانگیں توڑ کر پاکستان بھجوا دونگا ہمارے گھر کی عورتیں اس طرح باہر نہیں نکلتی ہیں ۔۔۔” وہ اپنا سارا غصہ اس پر نکال رہا تھا
” اب سرجھکائے کیوں کھڑی ہو ؟؟ جاؤ شکل گم کرو ۔۔۔” وہ اسے چپ چاپ کھڑا دیکھ کر تپ گیا
سویرا بجھے ہوئے انداز میں اپنے کمرے کی جانب چلی گئی شہریار نے کچن میں آکر فرج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر اپنے منھ سے لگائی
اس کی نگاہوں میں بار بار اس آدمی کی پرشوق نگاہیں سویرا کو دیکھتی ہوئی نظر آرہی تھیں
” ماڈلنگ کروائے گا ؟؟؟ کل صبح سب سے پہلے اس کا کانٹریکٹ ختم کرواتا ہوں ” وہ بڑبڑایا
وہ اپنے کمرے میں آکر اب سگرٹ سلگا چکا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اتنا غصہ اسے کیوں آرہا ہے
” شاید یہ میرے چاچو کی بیٹی ہے میرے خاندان کی عزت اس لئیے مجھے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا ہے ۔۔۔۔” وہ اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا
” بہتر ہے میں اسے پہلی فرصت میں ہاسٹل شفٹ کردوں ورنہ یہ لڑکی میرا دماغ خراب کردیگی ۔۔۔۔” وہ یہ سوچ ذہن میں آتے ہی ریلکس ہوگیا
رات کا نا جانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ فون کی بیل سے کھلی ۔۔
شاہ بی بی کی کال تھی
” شاہو میرا دل گھبرا رہا ہے میری سویرا سے بات کروا دو ۔۔۔” شاہ بی بی نے سلام کا جواب دیتے ہوئے حکم دیا
وہ انہیں ہولڈ کروا کر اٹھا اور سویرا کے کمرے میں آیا ۔۔۔
” سنو لڑکی اٹھو شاہ بی بی سے بات کرو ۔۔۔” اس نے دروازہ کھول کر آواز لگائی
کوئی جواب نا پا کر وہ اندر داخل ہوا کمرے کی لائٹ جلائی سامنے ہی سویرا بستر کے کنارے پر آڑی ترچھی کمبل اوڑھے ہوئے لیٹی ہوئی تھی وہ قریب آیا
” سنو لڑکی !! اٹھو ۔۔۔”
اب کے اس نے تشویش سے اسے دیکھا اس کا چہرہ سرخ انار ہو رہا تھا لمبی گھنی چوٹی بستر سے نیچے لٹک رہی تھی اور سانس بھی مدھم تھی ۔۔۔
” شاہ بی بی ادھر ابھی رات کے دو بج رہے ہیں آپ کی چہیتی سو رہی ہے میں آپ کی صبح بات کرواتا ہوں ۔۔۔” شاہ بی بی کو خدا حافظ کہہ کر فون رکھنے کے بعد وہ سوئی ہوئی سویرا کی طرف متوجہ ہوا
” اے لڑکی !! ” اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چونک گیا
” اسے تو بخار ہو رہا ہے ۔۔۔” وہ کچن میں گیا کیبنٹ سے بخار کی گولی اور فرج سے پانی کی بوتل نکالی اور دوبارہ کمرے کی جانب بڑھا
*********************
سویرا کو رات گئے تک شدید بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا وہ نقاہت محسوس کررہی تھی پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا لیکن کچن میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اسے شدت سے پاکستان یاد آرہا تھا شاہ بی بی رخسار آپی یاد آرہی تھیں اپنے بابا یاد آرہے تھے جب وہ چھوٹی سی تھی تو وہ کس طرح اس کے چھینک مارنے پر بھی ڈاکٹرز کی لائن لگا دیا کرتے تھے پھر بابا کے بعد ان کی شہزادی رل گئی مگر پھر بھی بیماری میں شاہ بی بی اس پر دم کیا کرتی تھیں اس کا خیال رکھا کرتی تھیں ۔وہ سب کو سوچتے ہوئے نا جانے کب غنودگی میں چلی گئی ۔۔۔
سویرا کا ماتھا تپ رہا تھا بخار کی شدت سے اس کے گال سرخ ہو رہے تھے جب شہریار نے سختی سے ہونٹ بھینچتے ہوئے اسے پکارا
” آنکھیں کھولوں اور یہ دوا لو ۔۔۔ ” وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی
شہریار نے پرتشویش نظروں سے اسے دیکھا پھر کمرے میں موجود اٹیچ باتھ روم کی طرف بڑھا اندر سے تولیہ گیلا کر کے باہر لایا سویرا کے پاس بیٹھ کر اس کے اوپر سے لحاف ہٹایا اور پھر اس کے ماتھے پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر گیلا تولیہ پھیرنے لگا تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ تولیہ گیلا کر کے لاتا اور پھر یہی عمل دہراتا کچھ دیر بعد سویرا نے ایک آہ بھرتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں تو شہریار کو خود پر جھکا پا کر گھبرا گئی
“اٹھو اور یہ دوا لو ۔۔۔” شہریار نے اسے آنکھیں کھولتے ہوئے دیکھ کر کہا
سویرا بڑی مشکل سے ہمت کر کے اٹھی اور خاموشی سے شہریار کے ہاتھ سے ٹیبلٹ لیکر منھ میں رکھی اس کے ہاتھ بالکل بے جان سے ہو رہے تھے پانی کی بوتل اس کے ہاتھ میں کپکپا رہی تھی
” کیا بات ہے ۔۔۔۔” شہریار نے اسے گھورا
” مجھے بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔” وہ اپنی کنپٹیوں کو دباتے ہوئے بولی
ایک لمحے کو شہریار کے چہرے پر ہمدردی کے تاثرات ابھرے
” تم لیٹ جاؤ دیکھنا ابھی تھوڑی دیر میں دوا اپنا اثر کریگی وہ نرم لہجے میں بولا
” تم نے یقیناً صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے اسی لئیے ویک نیس ہو رہی ہے رکو میں تمہارے لئیے جوس لاتا ہوں ۔۔۔۔”
*****************
صبح حسب معمول اس کی آنکھ کھلی جاگنگ سے فارغ ہو کر وہ کچن میں آیا تو اتنے دنوں میں پہلی بار اس کیلیئے فریش جوس میز پر نہیں تھا وہ سر جھٹکتے ہوئے اپنے کمرے میں گیا ۔ آفس کیلیئے تیار ہو کر باہر نکلا
باہر ایک سویرا کے نا ہونے سے ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا وہ پہلے اس کے کمرے میں آیا وہ ابھی بھی سو رہی تھی اس نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا ۔ماتھا ابھی بھی گرم تھا زبردستی اسے اٹھا کر ایک گولی مزید دی
” کیا اسکول جاؤ گئی ؟؟ یا میں ادھر فون کردوں ؟؟ مجھے نمبر دو ۔۔۔”
” میری طبیعت بہت خراب ہے میں کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔۔” سویرا نے اس کھڑوس کو دیکھا
” ٹھیک ہے ایز یو وش ۔۔۔” وہ کندھے اچکاتے ہوئے باہر نکل گیا
******************
وہ صبح یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی جب شہریار اس کے کمرے میں چلا آیا ۔
” کل تک تو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔اور اب اسکول جا رہی ہو ؟؟ “
” جی طبیعت اب بہتر ہے اور میں اسکول نہیں۔۔۔۔۔”
” ڈیم اٹ مجھے لگا تم چھٹی کروگی تو میں نے ڈرائیور کو بھی آف دے دیا ۔تم مجھے اپنا پلان بتا نہیں سکتی تھی ؟؟ “
” آپ پریشان مت ہوں میں بس سے چلی جاؤنگی جیسے پہلے جاتی تھی ۔۔۔”
” ایک تو میرے اپنے سو مسائل ہیں اوپر سے تم کوئی نا کوئی پرابلم کھڑی کر دیتی ہوں ۔۔۔”وہ ٹھیک ٹھاک تپا ہوا تھا
” میری پہلے ہی دو چھٹیاں ہو گئی ہیں مجھے کوور کرنا مشکل ہو جائیگا ۔۔۔” وہ سر جھکائے دھیمے لہجے میں بولی
” تو مجھے نہیں بتا سکتی تھی ؟؟ میں ڈرائیور کو چھٹی نہیں دیتا مگر تمہیں تو عادت ہے بے وقوفانہ کام کرنے کی ۔۔۔”وہ اسے جھاڑ رہا تھا
سویرا چپ چاپ سر جھکائے اپنا قصور تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی
” سوری میں آپ کو بتانا بھول گئی تھی اگر آپ منع کرتے ہیں تو کوئی بات نہیں میں کل سے یونی۔۔۔۔”
” واٹ ؟؟؟ میں کیوں منع کرونگا؟؟ تمہاری لائف ہے جو جی چاہے کرو ناؤ گیٹ ریڈی آن فائیو منٹس میں تمہیں چھوڑتے ہوئے آفس چلا جاؤنگا ۔۔۔” وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
سویرا کے اثبات میں سر ہلاتے ہی وہ باہر نکل گیا اس کے جاتے ہی سویرا نے ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کی اور تیزی سے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی ہو کر اپنے لمبے بالوں کی سادہ سی چوٹی بنانے لگی ، چوٹی بنا کر سر پر لباس کا ہم رنگ اسکارف لیا ،تیزی سے میز پر سے اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلی وہ لاؤنچ میں نہیں تھا وہ تیزی سے جوڑے کی اسٹرپ بند کر کے گھر سے باہر نکلی سامنے ہی بلیک پینٹ پر آف وائٹ شرٹ پہنے گلے میں ٹائی لگائے آنکھوں پر سن گلاسز چڑھائے اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کسی سے بات کررہا تھا وہ تیزی سے چلتے ہوئے پاس آئی تو اینا کھڑی تھی جو شہریار کے لمبے قد کی آڑ میں اسے نظر نہیں آئی تھی ۔ ۔
” مس اینا تمہیں ڈراپ کردینگی ۔۔۔” وہ اسے کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ کر جا چکا تھا
****************
” گڈ مارننگ سوئیٹ گرل !! اب طبعیت کیسی ہے ؟؟ ” اینا نے پوچھا
” اب ٹھیک ہے اینا آپ کیسی ہیں ۔۔۔” سویرا نے پوچھا
” میں بھی ٹھیک سوچا آفس جانے سے پہلے تمہیں دیکھتی جاؤں ادھر آئی تو باس پہلے ہی باہر کھڑے ہوئے تھے اس لئیے سوچا تمہیں میں ڈراپ کر دیتی ہوں راستے میں باتیں بھی کر لینگے ۔۔ “اینا خوشدلی سے مسکراتے ہوئے بولی
وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی یونیورسٹی تک پہنچی اینا نے گاڑی پارکنگ میں روکی۔
” سنو گھر کیسے جاؤ گی ؟؟ “اینا نے اسے روکا
“پتا نہیں اگر ڈرائیور آگیا تو اس کے ساتھ ورنہ بس سے ۔۔۔”
” چھوڑو سب تم مجھے کلاسز آف ہوتے ہی فون کر دینا میں پک کر لونگی ۔۔۔۔” اینا نے اس کی مشکل آسان کی
” اینا !! میرے پاس فون نہیں ہے ۔۔” وہ شرمندگی سے بولی
” واٹ !! آخر تم ہو کس صدی کی ؟؟ سیریسلی تمہارے پاس فون نہیں ہے ؟؟ ” اینا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
سویرا نے نفی میں سر ہلایا
” اوکے اوکے اس دن باس نے نیا فون منگوایا تھا مجھے لگا تمہارے لئیے ہوگا لیکن لیو اٹ مجھے ٹائم بتاؤ میں تمہیں اسی وقت ادھر ہی ملونگی ۔۔۔۔”
” تین بجے آف ہے ۔۔۔” سویرا نے جلدی سے کہا
” اوکے تین بجے ملتے ہیں۔ ۔۔” اینا نے اسے ہاتھ ہلایا اور آفس روانہ ہو گئی
سویرا اینا کے جانے کے بعد تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھی کلاس شروع ہونے میں بس دس منٹ تھے ابھی اس نے ڈپارٹمنٹ کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ ڈاکٹر اینڈریو اس کے سامنے آگئے
” شکر ہے تم یونیورسٹی تو آئی “۔۔۔وہ بڑے بے تکلفانہ انداز میں میں مخاطب ہوا
” تمہارا گروپ تو روز آرہا ہے بس تم دو دن سے غائب تھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ تم سے ملاقات کیسے کروں ۔۔۔”
” ایکسکیوز می سر !! میری کلاس لیٹ ہو رہی ہے ۔۔۔” اس نے سائیڈ سے گزر کر جانا چاہا
” کیا تمہیں بھی مجھے دیکھ کر اتنی خوشی ہو رہی ہے سن شائن جتنی مجھے تمہیں دیکھ کر ہو رہی ہے ۔۔ ” وہ اس کے چہرے کو اپنی نظروں کی گرفت میں لیتے ہوئے پوچھ رہا تھا
سویرا کو اس کی باتیں سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کے دیکھنے کا انداز ، راستہ روکنا اسے برا لگ رہا تھا دل چاہ رہا تھا کہ اسے کھری کھری سنا دے لیکن وہ اپنی ڈرپوک عادت کا کیا کرتی بس آنکھوں میں ناگواری لئیے ادھر ادھر دیکھنے لگی
” سن شائن !! مجھے تمہارا یہی انداز بہت اپیل کرتا ہے تم سب لڑکیوں سے الگ ہو اور مجھے ڈاکٹر اینڈریو کو اپنی اس شرم و حیا سے ، گریز سے اپنا عادی بناتی جا رہی ہو ۔۔۔۔”
” ہے سویرا !!! ” بریڈلی نے اسے دور سے دیکھ کر آواز لگائی
” کم آن کلاس شروع ہو رہی ہے ۔۔ ” وہ بولتے ہوئے اس کے چہرے کے تاثرات کو جانتے ہوئے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے پاس آیا
” ایکسکیوز از سر !! ” اس نے تیزی سے کہا اور سویرا کا ہاتھ تھام کر بنا کچھ کہنے کا موقع دئیے بغیر اسے لیتا ہوا آگے بڑھ گیا
” تھینکس بریڈلی ۔۔۔ ” سویرا نے آگے پہنچ کر اپنا ہاتھ چھڑوایا
” کیا ڈاکٹر اینڈریو تمہیں ہراس کررہے تھے ؟؟ ” اس نے چلتے ہوئے اچانک سے سوال کیا
” پتا نہیں !! لیکن مجھے وہ اچھے نہیں لگتے بار بار راستہ روکتے ہیں ۔۔۔” سویرا نے کہا
” ہمم اب سے تم جب تک ڈپارٹمنٹ میں ہوں بس میرے ساتھ رہنا اکیلی یا اپنی ان بیوقوف فرینڈز کے ساتھ مت پھرنا ۔۔۔” بریڈلی کلاس کے اندر داخل ہوتے ہوئے بولا ۔
جاری ہے
