Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26
عروہ کو اندر گئے ہو بہت دیر ہو چکی تھی وہ گاڑی کا آٹومیٹک لاک لگا کر گئی تھی. شیشے تک لاک تھے. اب سویرا کا اس بند گاڑی میں حبس کی وجہ سے دم گھٹنے لگا تھا. اس نے شیشہ نیچے کرنے کی کوشش کی پر شاید اس میں بھی لاک لگا ہوا تھا. پھر اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی پر وہ اسے بھی کھولنے میں ناکام رہی. اب باہر تیز بارش بھی شروع ہو چکی تھی. بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور گاڑی کا حبس اسے برداشت نہیں ہو رہا تھا. پریشان ہو کر اس نے پرس میں سے اپنا فون نکالا اور کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے شہریار کا نمبر ڈائل کیا.
پہلی ہی بیل پر شہریار اس کا فون اٹھا چکا تھا.
” ہیلو! تم ٹھیک تو ہو؟ ” شہریار نے پریشانی سے پوچھا. ورنہ سویرا اور اسے فون کرے. یہ ناممکنات میں سے ہی تھا.
” آپ کب آئیں گے؟ ” سویرا کی اس کی آواز سن کر ڈھارس بندھی.
” کیوں؟ تمہیں کوئی کام ہے کیا؟؟ ” وہ الجھ گیا.
” بہت دیر ہو گئی ہے. اب تو بارش بھی بہت تیز ہو رہی ہے. مجھے اکیلے گاڑی میں ڈر لگ رہا ہے۔ ” وہ نم لہجے میں بولی.
” تم ہو کدھر؟ ” شہریار پریشان ہو گیا.
” میں آپ کے آفس کے باہر گاڑی میں ہوں۔ “
” اسٹوپڈ لڑکی تم ادھر کیا کررہی ہو؟ ” وہ ٹھیک ٹھاک تپا.
” وہ وہ… “
” انف وہ وہ, تم وہی رکو میں آرہا ہوں۔ ” وہ ڈانٹتے ہوئے بولا اور فون بند کرکے کھڑا ہو گیا.
” کیا ہوا شیری؟ کس کا فون تھا؟ جو تم نے کام کے دوران اپنے اصول توڑتے ہوئے رسیو کیا۔ ” عروہ نے میگزین واپس رکھ کر بڑی معصومیت سے پوچھا.
“کچھ نہیں یار پتہ نہیں وہ سویرا ادھر کیسے آگئی ہے۔ ” وہ اپنا کوٹ اٹھاتے ہوئے بولا.
” اوہ گاڈ! میں تو بھول ہی گئی. سویرا کو میں ساتھ لائی تھی. سوچا منگنی کی شاپنگ کرینگے تو اس بیچاری کو بھی کچھ دلا دینگے۔ “
” عروہ مجھے یقین نہیں آرہا تم ایسا کرسکتی ہو؟ تم نے اس کو گھنٹے بھر سے اکیلی پارکنگ میں بٹھایا ہوا ہے. ہاؤ کڈ یو ڈو دس؟ ” وہ شاکڈ ہوا.
” اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے. میں تو تمہیں لینے آئی تھی. تم نے مجھے ویٹ کرنے کو بولا اور میں سویرا کو پتا نہیں کیسے بھول گئی۔ ” وہ سادگی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولی.
شہریار تیز تیز قدموں سے سب اسٹاف کے سلام کا سر ہلاتے ہوئے جواب دیتا ہوا باہر آیا. اسے دیکھ کر جلدی سے باوردی دربان نے دروازہ کھولا. وہ اب باہر نکل کر چاروں جانب دیکھ رہا تھا.
” عروہ تم نے گاڑی کدھر پارک کی ہے؟ ” اس نے ساتھ کھڑی عروہ سے پوچھا.
” وہ ادھر ۔ ” عروہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا.
شہریار گاڑی کی جانب بڑھا.
” شیری بہت تیز بارش ہو رہی ہے بھیگ جاؤ گے۔ ” عروہ نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا.
” اٹس اوکے تم گاڑی ان لاک کرو. میں اسے لیکر آتا ہوں۔ ” وہ دو ٹوک لہجے میں بولتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے بازوؤں سے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھ گیا.
عروہ نے منھ بناتے ہوئے پرس سے ریموٹ نکالا اور وہی کھڑے کھڑے گاڑی ان لاک کی.
شہریار نے گاڑی کے پاس پہنچ کر شیشے پر ناک کیا اور دروازہ کھولا. وہ بارش کے پانی میں بری طرح بھیگ چکا تھا.
سویرا نے شہریار کو دیکھ کر سکون کا سانس لیا.
“چلو اترو. ” شہریار نے اسے گھورا.
وہ جیسے ہی گاڑی سے اتری بارش کی تیز بوچھاڑ اس پر پڑی۔ شہریار نے ایک نظر اس کے نازک کپکپاتے وجود کو دیکھا پھر اپنا کوٹ اتار کر اسے دیا.
” میں اس کا کیا کروں؟ ” سویرا نے کوٹ تھامتے ہوئے حیرت سے پوچھا.
” محترمہ اس کوٹ کو چھاتا بنا کر سر پر لو. میں نہیں چاہتا تم بارش میں بھیگ کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرو۔ “
سویرا نے سر پر کوٹ تانا اور تیز تیز قدموں سے شہریار کے ہم قدم ہوئی.
____________
وہ گاڑی کا آٹومیٹک لاک ریموٹ سے کھول کر شیڈ کے نیچے کھڑی شہریار کو گاڑی کی سمت جاتا دیکھ رہی تھی وہ جان کر سویرا کو ساتھ لائی تھی تاکہ اسے جتا سکے کہ شہریار صرف اور صرف اس کا ہے ۔ شہریار کے جاتے ہی اس نے اپنا فون نکالا اس کی سیٹنگ پرائیوٹ پر سیٹ کر کے نمبر ملانے لگی ۔۔۔
” ڈیلی نیوز ۔۔۔۔” آپریٹر کی آواز گونجی
” مجھے آپ کو انفو دینی تھی کہ ٹھیک دو گھنٹے بعد مشہور بزنس مین اور ماڈل شہریار آج ساؤتھ ویلز میں اپنی ہونے والی فیانسی کے ساتھ منگنی کی شاپنگ کرنے آرہے ہیں ۔۔۔” اس نے آواز بنا کر اطلاع دیتے ہی فون بند کردیا
سامنے سے ہی شہریار آتا ہوا نظر آرہا تھا اس کے پیچھے پیچھے سویرا اس کا کوٹ دونوں ہاتھوں سے چھجے کی طرح سر پر اٹھائے چلی آرہی تھی وہ ان کے قریب آتے ہی سویرا کی سمت بڑھی
” سوری سویرا ڈئیر !! مجھے شیری نے بٹھا لیا تھا میں بھول ہی گئی تھی کہ تم میرے ساتھ ہو ویری سوری ۔۔۔۔” وہ پشیمانی سے بولی
” اٹس اوکے کوئی بات نہیں ۔۔۔” سویرا نے سادگی سے جواب دیکر شہریار کا کوٹ جھاڑ کر اس کی جانب بڑھایا
” پکڑی رہو ۔۔۔” اس نے سویرا سے کہا
جو اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اس کے کوٹ کو اپنے بازو پر لٹکا چکی تھی
” او گاڈ !! شیری تم تو پورے بھیگ گئے ہو ؟؟ اب ہم شاپنگ کیسے کرینگے ؟؟ ” عروہ نے بھیگے ہوئے شہریار کو دیکھا
” کم آن عروہ !! یہ کوئی بگ ڈیل نہیں ہے لیٹس گو ۔۔۔۔” وہ اپنی ٹائی ڈھیلی کر لے آستینیں اوپر کرتا ہوا بولا
بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے اپنی ٹائی اتار کر سویرا کو تھما دی
چوڑی پیشانی پر گیلے بکھرے بال فولڈ کی ہوئی آستینیں ، وہ اٹھائیس سال کا ایک خوبرو مرد تھا جو اپنے حددرجہ پر اعتماد انداز سے چھایا ہوا سا محسوس ہوتا تھا ۔ سویرا نے ٹائی پکڑتے ہوئے اپنے دل کی ایک بیٹ مس ہوتی ہوئی محسوس کی ۔۔۔
” نہیں یہ میرے لئیے نہیں ہیں ۔۔۔۔” اس نے سر جھٹکا
” چلو اب ۔۔۔”
شہریار سامنے کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا عروہ بڑی شان سے فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گئی شہریار نے ایک سرسری سی نظر سے سویرا کو دیکھا جو سر جھکائے اس کا کوٹ ٹائی ہاتھوں میں لئیے پیچھے بیٹھ گئی تھی وہ سر جھٹکتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر کے ہیٹر آن کرنے لگا
” شیری ہیٹر کیوں چلا رہے اتنی بھی سردی نہیں ہے ہیٹ سے میرا میک اپ خراب ہو جائیگا ۔۔۔” عروہ نے اسے ٹوکا
” کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔” وہ ہیٹر آن کرکے بلائنڈز کا رخ پیچھے سیٹ کی طرف کرتے ہوئے بولا
ساؤتھ کے سب سے بڑے مشہور مال کی پارکنگ میں شہریار نے گاڑی پارک کی ۔۔۔عروہ نے مرر میں دیکھ کر اپنی لپ اسٹک فریش کی بالوں میں برش پھیرا اور نیچے اتر کر شہریار کا بازو تھام کر کھڑی ہو گئی
” چلیں ڈارلنگ !! افف میں کتنی خوش ہوں ہم اپنی منگنی کی شاپنگ کرینگے ۔۔۔” اس کا چہرہ دمک رہا تھا
” کم سویرا !! شیری ہماری منگنی کی خوشی میں تمہیں بھی شاپنگ کروائیگا آخر اس کی کزن ہو تم میری واحد سسرالی رشتے دار ۔۔۔” اس نے گاڑی میں بیٹھی سویرا کو پکارا
سویرا نے ایک نظر سن گلاسز لگائے بیزار کھڑے شہریار پر ڈالی اور خاموشی سے نیچے اتر کر ان کے پیچھے چلتی ہوئی مال میں داخل ہو گئی عروہ سب سے پہلے ایک مشہور انڈین بوتیک میں داخل ہوئی ۔۔۔
سیلز گرل عروہ کو ایک سے بڑھ کر ایک ڈریس دکھا رہی تھی تبھی وہ گردن گھما کر سویرا سے مخاطب ہوئی
“سویرا تم بھی کوئی ڈھنگ کا ڈریس سلیکٹ کر لو پارٹی کے لئیے ۔۔۔” سویرا نفی میں سر ہلاتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ گئی
تقریباً پچاس کے قریب میکسی ، لہنگے ، شرارے دیکھنے کے بعد عروہ نے اپنے لئیے لہنگا چولی کا ڈریس سلیکٹ کیا
” شیری یہ دیکھو !! ویسے تو مجھے یہ دیسی ٹائپ ڈریسنگ پسند نہیں آتی ہے لیکن دلہن !!! تو میں نے سوچا ہے کہ پاکستانی لک ہونی چاہیئے ۔۔۔۔” وہ اسے اپنا سلیکٹ کیا ہوا ڈریس دکھاتی ہوئی بولی
” ہمم ٹھیک ہے ۔۔۔۔” وہ آرام سے ادھر ادھر نظریں دوڑا رہا تھا
” سنو ؟؟؟ تم نے میڈیا کو انوائیٹ کیا ہے نا ؟؟ ” عروہ نے سنجیدگی سے پوچھا
” تمہیں مجھ سے رشتہ جوڑنے میں انٹرسٹ ہے یا میڈیا میں ؟؟؟”وہ روکھے لہجے میں بولا
” دونوں میں !!! شیری میں چاہتی ہوں پوری دنیا کو پتہ چل جائے کہ تم میرے ہو بس میرے ۔۔۔۔” وہ آنکھیں میچ کے بولی
” لیٹس گو عروہ مجھے اور بھی کام ہیں ۔۔۔” وہ اکھٹر انداز میں بولا
” پر تمہاری بیوی اوپس سوری سوری کزن !! نے تو کچھ لیا ہی نہیں اب اگر وہ ایسے ہی اٹھ کر پارٹی میں آگئی تو تمہاری کتنی سبکی ہوگی کہ تمہاری رشتے دار اور اتنی غریب مسکین ۔۔۔” عروہ نے ہمدرد جتائی
” ایکسکیوز می !! ” شہریار نے سامنے کھڑی سیلز گرل کو پکارا
” یس سر !! ” وہ سیلز گرل پاس آکر پروفیشنل انداز میں مسکراتے ہوئے بولی
” مجھے ایک پارٹی ڈریس چاہئیے ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
” کس ٹائپ سائز اور کلر کا ؟؟ ” سیلز گرل نے سوال کیا
” وہ سامنے کھڑی محترمہ کے سائز کا اور بس جو بھی ڈریس ہو وہ مکمل ہو مطلب نو سلیو لیس ٹائپ کلر آپ اپنی چوائس سے سلیکٹ کریں اور دوپٹہ بڑا ہونا چاہئے ۔۔۔” اس نے ہدایات دیں
سیلز گرل نے شیشے سے باہر دیکھتی دنیا بھر سے بیزار کھڑی سویرا کو دیکھا
” واؤ ویری پریٹی !! یہ تو خود اتنی پنک پنک سی ہیں ان پر پنک کلر بہت سوٹ کریگا ۔۔۔” وہ شہریار سے کہتی اندر چلی گئی
تھوڑی دیر بعد شہریار عروہ اور سویرا کے ملبوسات کی پیمنٹ کررہا تھا وہاں سے فارغ ہونے کے بعد عروہ نے جیولر شاپ پر چلنے کا کہا
شہریار سویرا کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے عروہ کے ساتھ Tiffany کی مشہور زمانہ جیولری شاپ میں داخل ہوا
” سویرا ڈارلنگ تم پلیز یہ بیگز پکڑ کر ادھر باہر ہی رکو !! اس حلیہ میں تم اندر جاؤ گی تو اچھا نہیں۔ لگے گا پوری ملازمہ لگ رہی ہو ۔۔۔” وہ شہریار کے ہاتھ سے بیگ لے کر سویرا کو پکڑاتے ہوئے اسے وہی رکنے کا حکم دیتی ہوئی آگے چلتے شہریار کے ساتھ ہمقدم ہوئی
*********************
اندر عروہ شہریار کے ساتھ انگوٹھی پسند کررہی تھی اور شاپ کے باہر بینچ پر بیٹھی سویرا خاموشی سے بجھے دل کے ساتھ یہ سب دیکھ رہی تھی اپنی کم مائیگی ، اپنی یتیمی ، اپنی بے بسی کا احساس حد سے سوا تھا اپنے ہی سر کے سائیں کو دوسری عورت کیلئے شاپنگ کرتے دیکھنا اتنا آسان نہیں تھا وہ کوئی کٹھ پتلی نہیں تھی پر اس کو سب نے کٹھ پتلی ہی سمجھ لیا تھا اس کی اپنی ایک زندگی تھی جس کے فیصلے ہمیشہ سے دوسرے لوگ کرتے رہے تھے ۔وہ اپنی سوچوں میں گم ان دونوں کا انتظار کررہی تھی جب مال میں اچانک سے ایک شور سا مچ گیا تھا دو تین ٹی وی اینکرز کیمرہ مین کے ساتھ جیولری شاپ کے باہر اکھڑے ہوئے تھے کافی لوگ بھی دلچسپی سے کھڑے ہو گئے تھے ایک مجمع سا لگ گیا تھا سویرا بھی دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد شہریار عروہ کے ساتھ باہر نکلا تو سارے کیمرہ مین اس کی طرف لپکے
“مسٹر شہریار سنا ہے آپ منگنی کررہے ہیں ۔۔۔۔”
” مسٹر شہریار آپ کی فیانسی کیا کرتی ہیں ۔۔۔”
” آپ دونوں کب ملے ۔۔۔۔”
” کیوٹ کپل “
” لو برڈز”
دھڑا دھڑ تصاویر کھنچ رہی تھیں سوالات ہو رہے تھے عروہ بہت آرام سے اسٹائل کے ساتھ شہریار کے بازوؤں میں بازو ڈالے تصاویر کھنچوا رہی تھی شہریار نے کسی بھی سوال کا جواب دئیے بغیر عروہ کا ہاتھ تھاما اور بھیڑ کو چیرتا ہوا باہر نکلتا چلا گیا تیزی سے چلتے ہوئے اپنی گاڑی تک پہنچا وہ دونوں تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے ۔۔۔
لمبا چکر کاٹ کر میڈیا والوں سے جان چھڑوا کر وہ دوبارہ مال کی پارکنگ میں آیا اور اپنا فون نکالا ۔۔۔
******************
سویرا فق چہرے کے ساتھ عروہ کو شہریار کے انتہائی نزدیک ہو کر تصاویر بنواتے ہوئے دیکھ رہی تھی دیکھتے ہی دیکھتے شہریار عروہ کا ہاتھ تھامے اسے دیکھے بنا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
” یہ تو ہونا ہی تھا آپ بھلا مجھے کیوں دیکھیں گئے ؟؟ یہ زندگی اس کے رنگ سب آپ کے لئیے ہیں آپ جن کے پاس سب کچھ ہے عزت ، دولت ، معاشرے میں ایک اونچا مقام اور ۔۔۔۔” اس نے اپنی آنکھوں سے چھلکتے آنسوؤں کو بے دردی سے اپنی ہتھیلیوں سے رگڑا
” میں جانتی ہوں آپ کی زندگی کی ترجیحات میں ، میں کہیں نہیں ہوں لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں میرا دل ڈوب رہا ہے میں میں کیا کروں ۔۔۔۔” وہ اکیلی بینچ پر بیٹھی سسک رہی تھی نا جانے کتنا ٹائم ہوا تھا کہ اس کا فون بجا
” کیا مال میں زندگی بسر کرنے کا ارادہ ہے ؟؟ ” شہریار کی تپی تپی آواز گونجی
” وہ میں اکیلی ۔۔۔۔۔”
” اکیلی نہیں ہو تم !! رائیٹ سائڈ کے دروازے سے باہر نکلو اور بیک سائیڈ کی پارکنگ میں آؤ میں ویٹ کررہا ہوں ۔۔۔”وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے فون بند کر گیا تھا
سویرا نے کھڑے ہو کر شاپنگ بیگ اٹھائے اور شہریار کے بتائے راستے پر چلتی ہوئی باہر نکلی ہی تھی جب ایک انڈین لڑکا اس اکیلا دیکھ کر اس کے پاس آیا
” تم پاکستانی ہو ؟؟ ویسے تم پاکستانی لڑکیاں بہت زیادہ ہی خوبصورت ہوتی ہو ۔۔۔”
” لاؤ یہ بیگ میں پکڑ لیتا ہوں دیکھو تمہارے نازک ہاتھ سرخ ہو رہے ہیں ۔۔” اس نے سویرا کی جانب ہاتھ بڑھایا
سویرا ایک چیخ مار کر پیچھے ہوئی شاپنگ بیگ اس کے ہاتھ سے گر گئے تھے
” سوئیٹ ہارٹ ڈرو نہیں !!! ” وہ خباثت سے مسکراتے ہوئے اس کے قریب ہوا
اس سے پہلے وہ سویرا کو ہاتھ لگا پاتا کسی نے پیچھے سے پکڑ کر اسے کھینچا اور ایک زور دار مکا اس کے چہرے پر مارا
**********************
” کیا کررہے ہوں شیری وہ پاپارازی آجائیں گے نکلو ادھر سے ۔۔۔۔۔” عروہ نے گاڑی کو واپس مال میں رکتے دیکھ کر اسے ٹوکا
” میں اسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔۔۔” وہ روڈ لہجے میں بولتا ہوا سویرا کو فون ملا رہا تھا
” کیا مال میں ہی زندگی بسر کرنے کا ارادہ ہے؟؟ ۔۔” فون کے ملتے ہی وہ غصہ سے بولا
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی وہ اسے باہر آنے کی ہدایت کرتے ہوئے مین ڈور پر نظریں جمائے بیٹھ گیا چند منٹ بعد اسے پریشان گھبرائی ہوئی سی سویرا آتی نظر آئی کوئی دیسی لڑکا اس کو چھیڑ رہا تھا شہریار کو اپنی رگوں میں ابال سا اٹھتا محسوس ہوا وہ گاڑی سے اترا اور تیزی سے اس کی جانب بڑھا اس سے پہلے وہ لڑکا سویرا کو چھوتا اس نے پیچھے سے اس کا کالر پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور ایک زور دار پنچ اس کے منھ پر مارا ۔۔۔
وہ اسے بری طرح پیٹ رہا تھا لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے تھے ۔عروہ بھی پریشان ہو کر گاڑی سے اتر آئی تھی
” شیری چھوڑو اسے پولیس کیس بن جائیگا ۔۔۔” عروہ نے اس کا بازو پکڑا
” ہاؤ ڈیر یو !! تم نے اسے چھونے کی کوشش کیسے کی ۔۔۔۔” شہریار عروہ کی گرفت سے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا کر اسے پر دوبارہ پل پڑا کچھ ہی منٹ میں پولیس کا سائرن بجنے لگا اور ایک پولیس کار پاس آکر رکی
پولیس نے آکر اس لڑکے کو شہریار کی گرفت سے چھڑوایا شہریار نے اپنا بزنس کارڈ نکال کر پولیس آفیسر کی طرف بڑھایا اور ایک کونے پر لے جا کر بات کرنے لگا ۔۔
” عروہ تم سویرا کو لیکر نکلو میں پولیس اسٹیشن سے ہو کر آتا ہوں ۔۔” وہ عروہ کے پاس آکر سویرا کو دیکھتے ہوئے بولا
” آپ کدھر جارہے ہیں ؟؟ کیا آپ کو پولیس پکڑ رہی ہے ؟؟” سویرا نےڈرے سہمے لہجہ میں اس سے سوال کیا
شہریار نے ایک لمحہ کو ٹھٹک کر سویرا کی شدت گریہ سے سرخ آنکھوں میں دیکھا بھیگی لمبی گھنیری پلکوں میں چھپی سرخ آنکھیں !! چہرے پر اس کیلئے فکرمندی ۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے پاس آیا ۔۔۔
” پولیس مجھے نہیں پکڑ رہی ، میں اس باسٹرڈ کو اندر کروا کر آتا ہوں تم عروہ کے ساتھ گھر جاؤ ۔۔۔”
عروہ نے آگے بڑھ کر سویرا کو چلنے کا اشارہ کیا اور جلدی سے پاس سے گزرتی ٹیکسی روکی کہ اس کی اپنی گاڑی شہریار کے آفس میں کھڑی تھی
****************
ٹیکسی شہریار کے آفس کے باہر رک چکی تھی بل پے کر کے عروہ اتری سویرا نے بھی اس کی تقلید کی ۔۔عروہ نے گاڑی میں بیٹھ کر سویرا کو ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
” سنو سویرا !! ” عروہ نے ڈرائیو کرتے کرتے اسے مخاطب کیا
” آج تم نے دیکھ لیا ہوگا کہ شہریار میرے ساتھ کتنا سیریس ہے !! میرا ساتھ اسے شہرت کی مزید بلندیوں تک پہنچائے گا ۔لیکن تم !!! تم اس کیلیئے ایک وبال ہو بہت بڑا وبال آج تمہاری وجہ سے وہ تھانے گیا ہے ؟؟ تمہارا ساتھ سوائے بدنامی کے اور کچھ نہیں ۔۔بہتر ہے اس کی زندگی سے نکل جاؤ ۔۔۔”
سویرا شاک سے عروہ کو دیکھ رہی تھی
” آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے !! میں ان کی زندگی میں کہیں بھی نہیں ہوں ۔۔۔” اس نے ٹہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا
” او رئیلی !! تو پھر اس کے گھر میں کیا کررہی ہو ؟؟ جب سے آئی ہو شہریار پر ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت آرہی ہے آج تو حد ہی ہو گئی ہے وہ صرف تمہاری وجہ سے تھانے تک پہنچ گیا ہے ۔۔۔” عروہ استہزائیہ انداز میں بولی
عروہ نے چپ چاپ سر جھکائے آنسو پیتی ہوئی سویرا کو دیکھا ۔۔
” بہتر ہے تم اپنا منحوس وجود لےکر شیری کی زندگی سے خود نکل جاؤ !! کچھ تو سیلف رسپیکٹ دکھاؤ ؟؟ وہ تم سے نفرت کرتا ہے نکل جاؤ اس کی زندگی سے ۔۔۔” عروہ نے سفاکی سے کہا
سویرا کو شہریار کے گھر اتار کر وہ تیزی سے گاڑی بھگا کر لے گئی اپنے گھر پہنچ کر اس نے خود کو فریش کیا اور سیل فون لیکر بیٹھ گئی
” شیری کہاں ہو تم ؟؟ میرا ڈریس شاید وہی مال میں رہ گیا ہے ” عروہ نے فون کے اٹھتے ہی سوال کیا
” بس ابھی پولیس اسٹیشن سے نکلا ہوں ، ڈریس میرے پاس ہے ، تم بتاؤ سویرا کدھر ہے ؟؟ ” اس نے سنجیدگی سے پوچھا
” تمہیں اس کی کچھ زیادہ ہی فکر نہیں ہو رہی ؟؟ ” عروہ ٹھیک ٹھاک تپ گئی
” عروہ وہ ابھی بچی ہے !! تمہارا اس کا کیا مقابلہ ؟؟ ” شہریار نے اسے سمجھایا
” شہری فار گاڈ سیک وہ اتنی بھی بچی نہیں ہے شاید تم نے اسے کبھی غور سے نہیں دیکھا ۔۔۔” عروہ اسے بچی کہنے پر جل بھن گئی اور فون بند کردیا ۔۔۔
اب وہ نیٹ سرفنگ کررہی تھی
پھر انٹرنیٹ سے آج مال میں اپنی اور شہریار کی خبریں دیکھ کر پاکستان کے اخبارات کو سینڈ کرنے لگی ۔۔۔
” اب دیکھنا تمہارے ماں باپ بھی مجھے تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائینگے ۔۔۔” وہ کمپیوٹر اسکرین دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی.
جاری ہے
