Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19
وہ سب میز کے گرد بیٹھ چکے تھے بھاپ اڑاتی ڈشز سامنے رکھی ہوئی تھیں سویرا نے بازاری کھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے پکے سنگاپورین رائس اور چکن چلی بھی سرو کر دی تھی اب وہ پانی کا جگ رکھ کر واپس جانے ہی لگی تھی کہ
نے اسے ٹوکا
“سوئیٹ گرل !! تم کدھر جا رہی ہو ؟ ڈنر تو ساتھ کر لو ۔۔”
” سویرا جسٹ سٹ ڈاؤن ۔۔۔”شہریار نے ناگواری دباتے ہوئے کہا
وہ چپ چاپ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی
“شیری نیکسٹ ویک ہماری انگیجمنٹ پارٹی رکھ لو میں نے تو ممی ڈیڈی کو بھی بتا دیا ہے ۔۔۔”
عروہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
“کیوں جونس تم کیا کہتے ہو ؟؟ ” عروہ نے جونس کو گھسیٹا
” ویل !! تم دونوں اتنے عرصے سے ڈیٹ کررہے ہو اچھا ہے لیگلی انگیج ہو جاؤ ۔۔۔” جونس کوک کا سپ لیتے ہوئے بولا
” بولو شیری !! فرائیڈے منگنی کر لیتے ہیں اور نیکسٹ ماہ میں شادی !! ” عروہ کا لہجہ کھنک رہا تھا
سویرا نے بڑے حوصلے سے اپنی پلیٹ کھسکائی اور معذرت کرتے ہوئے بنا رکے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔شہریار کی پر تفکر نظروں نے اس کا دور تک تعاقب کیا تھا
ایک پرتکلف ڈنر کے بعد جونس نے جانے کی اجازت لی
“فرینڈز مجھے صبح ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے اس لئیے اب اجازت ۔۔۔” وہ شہریار سے مصافحہ کر کے عروہ کو بائے بائے کہتا چلا گیا
” شیری میرے خیال سے میں بھی اب چلوں نیکسٹ ویک انگیجمنٹ کرنی ہے بہت کام ہونگے صبح سے ہی شروع کرونگی یو نو یہ اس سال کی سب سے بڑی پارٹی ہو گی ۔۔۔” عروہ کی نظروں میں چمک تھی
” عروہ بیٹھو مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے ۔۔۔۔”
شہریار اسے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر چکا تھا
عروہ اس کے انداز کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بیٹھ گئی
” تمہیں مجھ پر ٹرسٹ ہے ؟؟ ” شہریار نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
” ہاں ٹرسٹ ہے بہت ہے جبھی تو اتنے سالوں سے تمہارے پیچھے ہوں ۔۔۔”
شہریار نے اس کو بغور دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے اور سویرا کے رشتے کی حقیقت بتانی شروع کی عروہ کا چہرہ تیزی سے رنگ بدل رہا تھا وہ یہ سب کچھ سن کر ایک شاک میں آگئی تھی
” مجھے اندازہ ہے کہ تمہیں یہ سب جان کر بہت دکھ پہنچا ہے۔۔۔ “
” دکھ ۔۔۔۔” عروہ نے اس کی بات کاٹی
” شیری تم نے میرا مان توڑا ہے میری انا کو ٹھیس لگائی ہے ۔۔۔” وہ برائے ہوئے لہجہ میں بولی
” لیکن میرے نزدیک اس رشتے کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ “
” جو بھی ہوں مسٹر شہریار تم اس سو کالڈ رشتے کو رکھو یا نا رکھو لیکن میں کبھی بھی سیکنڈ وائف بننا پسند نہیں کرونگی ۔۔۔۔”
عروہ نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا
” تم اپ سیٹ ہو رکو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔”
” چھوڑ تو تم نے دیا ہے شیری ؟؟ ۔۔۔۔”
” فار گاڈ سیک عروہ !! کچھ نہیں ہوا ہے ۔۔۔”
” میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں ہے جس دن اس دو ٹکے کی لڑکی کو اپنی زندگی سے نکال دو گئے میں تب کچھ سوچوں گئی ۔۔۔۔” وہ دو ٹوک انداز میں کہتی ہوئی دروازہ پار کر گئی
شہریار نے دروازہ لاک کیا اس کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا ابھی بیڈ پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر اینا سے منگوائے گئے لیب ٹاپ پر پڑی اس نے کچھ سوچتے ہوئے لیب ٹاپ اٹھایا اور سویرا کے کمرے کی طرف بڑھا
***********************
اسے پتا تھا کہ شہریار اس کا نہیں ہے مگر پھر بھی دکھ کی انتہائی حدود کو چھوتے ہوئے وہ عروہ سے شہریار کی منگنی اور شادی کا ذکر سن رہی تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زمانوں کی تھکن اس کے وجود میں بسیرا کر رہی ہے بڑی مشکل سے اس نے خود کو سنبھالا اور ایکسکیوز کرتے ہوئے اپنے کمرے میں آگئی
قالین پر بیٹھ کر بستر پر سر رکھ کر وہ اپنی ناقدری پر آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
“پھپھو آپ ٹھیک کہتی ہیں میں ہوں ہی منحوس مجھے کوئی رشتہ راس نہیں آتا ۔۔۔۔” وہ خود ترسی کی انتہا پر تھی نا جانے کتنی دیر بعد وہ اٹھی اب وہ فیصلہ کر چکی تھی مزید آنسو نہیں بہانے بس اب یہاں سے جانا تھا یہ لوگ یہ رشتے اس کے نہیں تھے ۔۔۔
وہ مجھ دھو کر واپس آئی ہی تھی کہ شہریار کمرے میں داخل ہوا
” یہ تمہارا لیب ٹاپ آئندہ میں تمہیں ادھر ادھر کسی کے ساتھ نا دیکھوں ۔۔۔۔” وہ ایک جدید لیب ٹاپ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا
سویرا نے چپ چاپ لیب ٹاپ لے لیا ویسے ہی وہ اس کے گھر میں رہ رہی تھی وہ اسے پاکستان سے لیکر آیا تھا پڑھنے کی اجازت دی تھی تو اتنے احسانات کے بعد اب کیا نخرہ دکھاتی ۔۔۔
” تم روئی ہو ؟ مگر کیوں ؟؟ میں بہت پہلے یہ واضح کر چکا تھا کہ یہ زبردستی کا رشتہ صرف عارضی ہے پھر تم ایسا ری ایکشن کیوں دے رہی ہو ؟؟ ” وہ اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے تپ اٹھا
” آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں تو بس وہ صابن آنکھ میں چلا گیا تھا ۔۔۔”
” سنو ۔۔۔عروہ کے بارے میں ابھی شاہ بی بی یا کسی سے بھی کوئی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم سیٹ ہو جاؤ پھر میں دیکھوں گا ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا ہوا واپس پلٹ گیا
********************
_سویرا ، شہریار کی منکوحہ ہے ۔۔۔” اس انکشاف نے اسے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا اس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی ۔۔۔
تین دن سے وہ اپنے کمرے میں بند تھی شہریار سے سچائی جاننے کے بعد اس کا ذہن ماؤف ہو گیا تھا آج تک وہ محبتوں اور چاہتوں کے درمیان گھری رہی تھی ہر خواہش کا پورا ہونا خوشیاں بھی پانا جیسے اس کا حق تھا لیکن اب زندگی کی اس سب سے بڑی بازی پر سویرا نام کی دراڑ سامنے آکھڑی ہوئی تھی اس کا دل چاہا کہ کہیں سے جادو کی چھڑی مل جائے اور وہ سویرا کو شہریار کی زندگی سے غائب کر دے ۔۔۔
” کاش تم میرے اور شہریار کے بیچ میں نا آئی ہوں کاش شہریار کے نام کے ساتھ پہلا اور آخری نام صرف اور صرف میرا جڑتا کاش کاش کاش ۔۔۔” ایسے کئی کاش اس کے دماغ میں ادھم مچا رہے تھے اپنی سوچوں سے فرار حاصل کرنے کے لئیے اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گئی ۔۔
کافی دیر تک غائب دماغی سے گاڑی چلانے کے بعد اسے ہوش آیا تو وہ شہریار کے آفس کے باہر تھی ایک گہرا سانس لیکر وہ گاڑی کو ریورس کرنے ہی لگی تھی کہ سامنے بلند شیشے کی عمارت کا دروازہ دربان نے کھولا اور شہریار کی سیکریٹری اینا باہر نکلتی نظر آئی ۔۔
عروہ تیزی سے گاڑی پارکنگ کی طرف بڑھتی اینا کے پاس لے گئی گاڑی کا شیشہ اتارا
” ہے اینا ہاؤ آر یو ۔۔۔”
اینا جو اپنی گاڑی کے پاس جا رہی تھی عروہ کو دیکھ کر چونک گئی
” فائن میم ۔۔۔” اس نے جواب دیا
” اینا مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے میرے ساتھ آؤ ۔۔”
” بٹ میم !! ۔۔۔”
” اگر مگر کچھ نہیں آؤ گاڑی میں بیٹھو کافی پینے کے بعد تمہیں واپس ادھر چھوڑ دونگی ۔۔۔” عروہ قطعی لہجہ میں بولی
اینا خاموشی سے دروازہ کھول کر بیٹھ گئی آفس کے سامنے ہی کافی شاپ تھی عروہ ، اینا کو لیکر اندر داخل ہوئی دو کافی کا آرڈر دے کر وہ دونوں اپنی اپنی کافی تھامتے ہوئے کونے پر واقع میز بیٹھ گئیں
” اینا ۔۔”
” یس عروہ میم ۔۔۔”
“شہریار بتا رہا تھا اس کی کزن سویرا کا ایڈمشن شاپنگ اور دیگر سارے معاملات تم ہینڈل کررہی ہوں ؟؟ “
” یس میم سر نے ڈیوٹی لگائی تھی اور وہ مس سویرا بہت انوسینٹ ہیں اس لئیے ان کی ہیلپ کر دیتی ہوں ۔۔۔”
” اچھی بات ہے ویسے وہ کس اسکول میں ایڈمٹ ہوئی ہے ؟؟ ” عروہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا
” اسکول ؟؟ ” اینا نے حیرت سے عروہ کو دیکھا
” نو میم ، مس سویرا سکول میں نہیں کوئین میری یونیورسٹی میں ایڈمٹ ہوئی ہیں ۔۔۔”
” واٹ !! ” عروہ کو پھندا سا لگ گیا
” آر یو اوکے میم !! ” اینا نے جلدی سے ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھایا
” او یس آئی ایم فائن !!” عروہ نے نیپکن سے منھ صاف کیا
” کس ڈپارٹمنٹ میں پڑھتی ہے وہ لڑکی ؟؟؟ ” عروہ نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے پوچھا
” میڈیکل سائنس فرسٹ سمسٹر میں ہیں سویرا میم ۔۔۔” اینا نے سادگی سے جواب دیا
دو تین ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے اینا کو ڈراپ کیا اور سیدھی اپنے گھر روانہ ہو گئی ۔۔۔
وہ لب بھینچے آئینہ کے سامنے کھڑی اپنے خوبصورت وجود کو دیکھ رہی تھی سویرا اگر میڈیکل میں تھی تو وہ بھی اس سے کم ہر گز نہیں تھی اسے محفل پر چھا جانے کا ہنر آتا تھا تو سویرا ایک دبو سی دیسی لڑکی تھی لیکن نا جانے کیوں اس وقت سویرا اسے اپنے سے ایک قدم آگے نظر آرہی تھی اس کے اندر حسد کا انبار کھڑا ہو رہا تھا وہ سویرا سے سخت متنفر اور بیزار تھی سویرا کا وجود اسے کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا وہ اس کانٹے کو اپنی راہ سے نکال دینا چاہتی تھی اسے سزا دینا چاہتی تھی اس کے سارے خواب توڑ کر اسے شہریار کی نظروں سے گرا دینا چاہتی تھی ۔۔۔
” سویرا تمہیں میری اور شہریار کی زندگی سے کہیں دور بہت دور جانا ہوگا ۔۔۔” وہ بڑبڑائی
____________
دس دن پورے دس دن سے وہ خود سے لڑ رہی تھی پر شہریار کو چھوڑ دینا اس کے بس میں نہیں تھا وہ آج سویرا سے ملنے یونیورسٹی آئی تھی وہ میڈیسن ڈپارٹمنٹ میں پہنچی ہی تھی کہ اسے سویرا سامنے سے چند لڑکیوں کے ساتھ آتی نظر آئی اس سے پہلے وہ سویرا کے پاس جاتی ایک چھ فٹ لمبا ہینڈسم سا آدمی سویرا کا راستہ روک چکا تھا ۔۔۔
____________________________
سمسٹر بہت تیزی سے گزر رہا تھا سویرا کی پوری توجہ پڑھائی کی طرف تھی ، بریڈلی کی وجہ سے اس کی کلاس میں کچھ انڈین اور گوری لڑکیوں سے بھی دوستی ہو گئی تھی ابھی بھی وہ اپنی فرینڈز ایشا اور جولی کے ساتھ لائبریری کی طرف جا رہی تھی جب ڈاکٹر اینڈریو ان کے سامنے آگئے ۔۔۔
” ہیلو ایوری باڈی ، کدھر جا رہے ہیں آپ ۔۔۔” وہ بات ان سب سے کررہا تھا پر دیکھ سویرا کو رہا تھا
” سر لائبریری تک جا رہے ہیں ۔۔۔”جولی نے جواب دیا
ڈاکٹر اینڈریو پوری یونیورسٹی میں ڈیشنگ اینگری ہیرو کے نام سے مشہور تھے اگلے سمسٹر میں اناٹومی کی کلاس انہوں نے ہی لینی تھی ان کی پرسنیلٹی جہاں اسٹوڈنٹس کو متاثر کرتی تھی وہی ان کے لئیے دیئیے انداز کی وجہ سے اکثر اسٹوڈنٹس ان کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے لیکن جب سے ڈاکٹر اینڈریو نے سویرا کو اپنے ڈپارٹمنٹ میں دیکھا تھا وہ اکثر اس کی راہ میں کھڑے ملتے تھے سویرا ہمیشہ انہیں نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتی تھی ۔
” آپ لوگ چلیں اور مس سویرا تھوڑی دیر میں آپ کو جوائن کرتی ہیں ۔۔۔” وہ سویرا کو دیکھتے ہوئے بولا
ایشا اور جولی اثبات میں سر ہلاتی ہوئی کن اکھیوں سے سویرا کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھتی ہوئی آگے چلی گئیں
سویرا نے ہمت مجتمع کر کے آگے قدم بڑھائے ہی تھے کہ اس کی نازک کلائی پر اینڈریو نے سختی سے گرفت کی
” میں نے ابھی کیا کہا ؟؟ مجھے تم سے بات کرنی ہے بس دو منٹ لونگا ۔۔۔” اس نے نرمی سے کہتے اس کی کلائی اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کی
“سنو سویٹ ہارٹ آج میرا برتھ ڈے ہے جسے میں تمہارے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا ہوں شام میں تیار رہنا میں تمہیں تمہارے گھر سے پک کر لونگا ۔۔۔”وہ بولتے بولتے رکا
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟؟ تمہارے سو کالڈ ہسبنڈ کے ایڈرس کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں سو بی ریڈی آن ٹائم ہنی ۔۔۔۔
” آپ ایسا نہیں کرسکتے ہیں میں آپ کی ٹیچرز کونسل میں شکایت کرونگی ۔۔۔” سویرا ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑاتے ہوئے بولی
” لیٹ سی بے بی ۔۔۔”
وہ بڑے اطمینان سے اس کا سکون غارت کرتا ہوا مسکرا رہا تھا
سویرا نے نفرت آمیز نظروں سے اسے دیکھا اور تیزی تیز قدم اٹھاتی ہوئی لائبریری کی طرف چلی گئی ۔۔۔
******************
عروہ ستون کی آڑ سے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی سویرا کے جاتے ہی وہ ستون کے پیچھے سے باہر نکلی ابھی اس نے ڈاکٹر کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ ایک اسٹوڈنٹ بھاگتے ہوئے آیا
” ڈاکٹر اینڈریو !! لیب میں آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔۔”
“ڈاکٹر اینڈریو ” عروہ بڑبڑائی اس کی آنکھوں میں ایک مخصوص چمک تھی وہ تیزی سے پلٹ کر اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے اپنا سیل فون نکالا اور فیس بک لاگ ان کی اب وہ ڈاکٹر اینڈریو کو ڈھونڈ رہی تھی کچھ دیر میں ہی ڈاکٹر اینڈریو کا پروفائل اس کی نظروں کے سامنے تھا
Dr .Professor Andrew Smith
Queen Mary University of London (QMUL)
Email ۔ Dr Andrew_89@hotmail.com
contact # 004456743892
وہ اپنا مائنڈ بنا چکی تھی اب اسے بہت احتیاط سے اپنی چال چلنی تھی ۔۔۔
اب اس کا رخ شہریار کے آفس کی طرف تھا جو بھی تھا وہ کسی بھی قیمت پر اپنے شیری کی زندگی سے یہ سویرا نام کا کانٹا نکال کر پھینک دینا چاہتی تھی تیز رفتاری سے گاڑی دوڑاتے وہ شہریار کے آفس پہنچی تیزی سے لفٹ کے ذریعے چوتھے فلور پر پہنچی
” گڈ مارننگ عروہ میم ۔۔۔” اینا نے کھڑے ہو کر اسے وش کیا
” مس اینا !! شیری کدھر ہے ؟؟ “
” میم سر اپنے روم میں ہیں ۔۔۔”
” اوکے ۔۔” وہ سر ہلاتی ہوئی اینا کو بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئی شیری کے کیبن میں داخل ہو گئی ۔۔
” ہیلو شیری ۔۔۔” اس نے تھکی تھکی آواز میں اسے پکارا آج وہ پورے دس دن بعد اسے دیکھ رہی تھی
شہریار نے فائل بند کر کے سر اٹھا کر عروہ کو دیکھا جب سے سویرا اس کے ساتھ لندن آئی تھی وہ عروہ کو وقت نہیں دے پا رہا تھا ،تو ساتھ ہی ساتھ سویرا کو بھی نہ معلوم کس جذبے کے تحت نظر انداز کررہا تھا ۔ دوسری جانب سویرا کا انداز بھی اس کے لئیے بیگانہ ہوتا تھا جیسے شہریار کا اس پر توجہ دینا یا نہ دینا اس کیلیئے کوئی معنی نہ رکھتا ہو شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے اکھڑتا چلا جا رہا تھا وہ جسے ہر مقام پر سراہا گیا ہو جس کی وجاہت پر ایک زمانہ فدا ہو اسے اس کی ہی منکوحہ نظر انداز کرے یہ اسے برداشت نہیں ہو رہا تھا حالانکہ وہ یہی چاہتا تھا لیکن ۔۔۔۔
” ہیلو شیری ابھی تک ناراض ہو ۔۔۔۔” وہ بجھے ہوئے انداز میں بولتی ہوئی اس کے نزدیک آئی اور سیدھی اس کے کندھے سے لگ گئی
عروہ نے ڈینم کی گھٹنوں تک کی کیپری اور سلیو لیس آسمانی رنگ کی ٹاپ پہنی ہوئی تھی اپنے گھنگھریالے بالوں کی اونچی پونی بنائے وہ کسی کا بھی ایمان بآسانی ڈانواڈول کر سکتی تھی ۔۔۔
” عروہ دور ہٹو ۔۔۔۔” شہریار نے ناگواری سے اسے خود سے الگ کیا اور کرسی گھسیٹ کر کھڑا ہو گیا
” یعنی تم ابھی تک مجھ سے خفا ہو ۔۔۔۔” وہ اپنی آنکھوں میں آنسو بھر لائی
” عروہ ۔۔۔میں نے تمہیں کبھی بھی اپنے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور نہیں کیا تھا اگر میں فئیر نہیں ہوتا تو تمہیں ہرگز بھی اپنے اور سویرا کے رشتے کی حقیقت نہیں بتاتا لیکن تمہارا شک ، تمہارا بار بار جھگڑنا ہمارے رشتے کیلئے ٹھیک نہیں ہے اس لئیے بہتر ہے تم ایک بار اچھی طرح سے سوچ لو ۔۔۔”
” شیری اب بس کرو !! مجھے اور کتنا شرمندہ کرو گئے ؟؟ یہ بھی تو دیکھو وہ خبر میرے لئیے کتنی شاکنگ تھی اوپر سے تم نے کہا کہ ایک سال پورے ایک سال اس لڑکی نے تمہارے گھر میں رہنا ہے تو شیری میرا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔۔” وہ دھیرے سے اپنی صفائی دیتے ہوئے اس کے پاس آئی اور بڑی بے تکلفی سے اپنے عریاں بازوں اچک کر شہریار کے شانے پر رکھتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔
شہریار نے ایک نظر خود سے لگی عروہ کو دیکھا شادی سے پہلے ایسی حرکات اسے ہرگز پسند نہیں تھیں اس سے پہلے وہ اسے الگ کرتا یکایک اس کا سیل بج اٹھا اس نے نرمی سے عروہ کو خود سے الگ کیا اور سیل فون نکال کر کانوں سے لگایا
اسلام علیکم شاہ بی بی ۔۔۔
“وعلیکم اسلام شاہو کیسے ہو بیٹا سویرا کیسی ہے کئی دن ہو گئے اس بات نہیں ہوئی بہت یاد آرہی ہے ۔۔۔” شاہ بی بی شفقت سے سلام کا جواب دیتی ہوئی بولیں
” شاہ بی بی ابھی تو میں آفس میں ہوں میں گھر جا کر آپ کی بات کرواتا ہوں ۔۔۔” اس نے ادب سے جواب دیا
عروہ بڑے غور سے شہریار کو دیکھ رہی تھی جب فون بند کرکے اس نے اس کی خود پر جمی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی
“کیا ہوا ؟؟ کہاں گم ہو ؟؟ “
” شیری تمہاری سو کالڈ بیوی کے پاس فون نہیں ہے کیا ؟؟ جو یہ سب ایرے غیرے لوگ تمہیں ڈسٹرب کرتے ہیں ؟؟اب کیا تمہاری یہ اوقات رہ گئی ہے کہ تم اپنا فون اسے دیتے ہوں ؟؟ ” وہ تیکھے لہجے میں بولی
” نہیں اس کے پاس فون نہیں ہے اور عروہ تمیز سے بات کرو شاہ بی بی کیلیئے میں کوئی لفظ برداشت نہیں کرونگا ۔۔۔۔” شہریار نے اسے ٹوکا
“مگر مجھے برداشت نہیں ہو رہا کہ وہ تمہاری کسی بھی چیز کو چھوئے ۔۔۔۔” عروہ نے بیچارگی سے اسے دیکھا
” ایسا کرو تم یہ میرا فون اسے دے دو میں تو ویسے بھی نیا لینے ہی والی تھی ۔۔۔” عروہ نے اپنا قیمتی سیل فون شہریار کی طرف بڑھایا
شہریار نے عروہ کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے انٹرکام اٹھایا
” مس اینا ، فوری طور پر ایک نیا سیل فون ارینج کریں مس سویرا کیلیئے ۔۔۔۔” اس نے انٹرکام بند کیا
“یہ کیا شیری تم اسے نیا فون دلوا رہے ہو ؟؟ میں دے تو رہی تھی ۔۔۔” وہ ناگواری سے بولی
” اٹس اوکے ، عروہ میں نہیں چاہتا تم خواہ مخواہ اپنا فون کسی کو دو ۔۔۔” وہ سامنے رکھی فائل کھولتے ہوئے بولا
” یہ کیا شہریار پھر فائل کھول لی ذرا تھوڑا بہت خود کو آرام بھی دیا کرو یو نو اچھا کام کرنے کے لیے فریش ہونا ضروری ہوتا ہے اس لئیے یہ فائل بند کرو اور دیکھو تو باہر موسم کتنا رومینٹک ہو رہا ہے چلو لنچ پر چلتے ہیں پھر لانگ ڈرائیو ۔۔۔۔” وہ بے تکلفی سے بولی
“عروہ میری ابھی دس منٹ میں ایک بہت اہم میٹنگ ہے تم یہ پروگرام ویک اینڈ پر رکھو اور لندن کا موسم تو ہمیشہ ہی ابر آلود رہتا ہے اس میں نئی بات کیا ہے ۔۔۔” وہ کھڑے ہو کر اپنا کوٹ پہننے لگا
” ٹھیک ہے تم جاؤ میٹنگ میں ، میں ادھر ہی تمہارا ویٹ کرتی ہوں ۔۔۔” وہ آرام سے بیٹھ گی۔
جاری ہے
