Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33

شہریار نے تالیوں کی گونج میں عروہ کو رنگ پہنا دی تھی عروہ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا سب مہمان مبارکباد دے رہے تھے ۔عروہ کو شہریار کی بیزاری اچھی طرح سے محسوس ہو رہی تھی وہ چاہتے ہوئے بھی شہریار کو چھوڑ نہیں پا رہی تھی مسئلہ شہریار نہیں تھا بلکہ مسئلہ سویرا تھی ۔ اس کا ذہن سویرا جیسی دبو پاکستانی گھریلو ٹائپ لڑکی سے شکست کھانے کو تیار نہیں تھا اپنی سوچوں میں گم وہ غائب دماغی سے شہریار کے ساتھ کھڑی تھی جب اس کی نظر اسٹیج سے ذرا دور سویرا اور اس کے ساتھ کھڑے ڈاکٹر اینڈریو پر پڑیں ۔اس کی ساری پژمردگی کہیں دور جا سوئی اس نے تیزی سے شہریار کے بازو میں ہاتھ ڈالا
” شیری !! ڈارلنگ وہ دیکھو تمہاری وائف کس آدمی سے بات کر رہی ہے ۔۔۔۔” وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولی
شہریار نے اس سمت دیکھا تو اس کی آنکھوں سے شرارے نکلنے لگے وہ آدمی سویرا کا ہاتھ پکڑ کر راستہ روکے کھڑا تھا اور سویرا کے چہرے پر بلا کا خوف تھا ۔شہریار عروہ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے تیزی سے اس سمت بڑھا ۔
” یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟ ” شہریار کی سرد آواز گونجی
” او مسٹر شہریار !! کانگریجولیشن فار یور انگیجمنٹ ۔۔۔۔” اینڈریو نے تپاک سے کہا
” ہاتھ چھوڑو !! ” شہریار غرایا اس کی آنکھوں میں خون اترا آیا تھا
” شیری ریلیکس یہ گیسٹ ہیں ۔۔۔” عروہ نے اس کا بازو تھام کر کہا
شہریار نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو عروہ کی گرفت سے چھڑوایا اور سویرا کا ہاتھ اینڈریو کی گرفت سے نکال کر اسے اپنے پیچھے کیا
” اسے کس نے انوائیٹ کیا ہے ؟؟ ” وہ اینڈریو کے گریبان کو جکڑتے ہوئے اینا سے پوچھ رہا تھا
” باس !! یہ شاید مس عروہ کے گیسٹ ہوں ۔۔۔” اینا نے تیزی سے جواب دیا
“مم مجھے کیا پتا ؟؟ مسٹر تم بتاؤ کس نے بلایا ہے تمہیں ؟؟ ” عروہ نے اینا کو گھورتے ہوئے الٹا اینڈریو سے پوچھا
” مسٹر شہریار !! مجھے سویرا نے انوائیٹ کیا ہے اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اس تقریب میں بور نہیں ہونے دیگی ۔۔۔۔” اینڈریو نے اپنا گریبان چھڑوایا
” شٹ اپ !! میری وائف کا نام بھی تمہاری زبان پر نہیں آنا چاہئیے ۔۔۔” شہریار نے اسے زور سے دھکا دیا
” تم ایک بار اس سے پوچھ تو لو ؟؟ کیوں سوئیٹ ہارٹ بتاؤ اپنے اس سو کالڈ ۔۔۔
اینڈریو کی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کہ شہریار غضب ناک انداز میں اس پر پل پڑا وہ اسے گھونسے پر گھونسا مار رہا تھا اور عروہ فق چہرے کے ساتھ شہریار کا جنون دیکھ رہی تھی ۔
” ہاؤ ڈیر یو کالڈ ہر سوئیٹ ہارٹ !! تیری اتنی مجال ۔
وہ بپھر چکا تھا سارے مہمان متوجہ ہو چکے تھے تبھی اینڈریو نے شہریار کو زور سے دھکا دیا وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا پھر تیزی سے دوبارہ اینڈریو کی طرف لپکا
عروہ نے پیچھے کھڑی تھر تھر کانپتی ہوئی سویرا کو دیکھا اور چلتی ہوئی اس کے پاس آکر رکی
” مبارک ہو !! آج تمہاری وجہ سے سارے مہمانوں میں شہریار کا تماشہ بن چکا ہے آخر تم اس کی زندگی سے چلی کیوں نہیں جاتی ہو ؟؟ کیوں اپنی منحوسیت سے اس کی زندگی بھی خراب کر رہی ہو ؟؟ ” وہ پھنکاری
” سر پلیز چھوڑ دیں پولیس کیس بن جائیگا ۔۔۔۔” اینا نے ریکوئسٹ کی جونس بھی شور سن کر اس طرف آچکا تھا
” شہریار یار چھوڑ دے اسے ۔۔۔” وہ ان دونوں کے بیچ میں آیا
” مسٹر شہریار !! تم نے بلاجواز مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا ….” اینڈریو نے اپنی آستین سے اپنے ہونٹوں سے رستا خون صاف کیا
” میں یہاں تمہاری وائف کے بلاوے پر آیا تھا جو اب چپ چاپ کھڑی تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ہمت ہے تو پوچھو اس سے کہ مجھے ادھر کیوں بلایا تھا ۔۔۔۔” وہ غرایا
” اینا !!!! ” شہریار سرد لہجے میں بولا
” یس یس سر !! ” وہ تیزی سے پاس آئی
” سویرا کو اندر لے کر جاؤ ۔۔۔۔” وہ سہمی ہوئی سویرا پر نظر ڈالتے ہوئے بولا
” اوکے باس ۔۔۔۔” وہ تیزی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سویرا کی طرف بڑھی اور ساکت کھڑی سویرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
” مجھے اپنی بیوی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے تم اپنا یہ ناٹک بند کرو اور آئندہ اپنی گندی زبان پر کبھی بھی میری بیوی کا نام نہیں لینا ورنہ زندہ زمین میں گاڑ دونگا !! ناؤ گیٹ آؤٹ ۔۔۔۔” وہ چلایا
“اتنا اندھا اعتماد ؟؟؟ واؤ ۔۔۔۔”اینڈریو نے طنزیہ انداز میں کہا
” مسٹر تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔” جونس نے سختی سے اینڈریو کو باہر کا راستہ دکھایا .
” ابھی تو جا رہا ہوں لیکن اپنی یہ تضحیک میں بھولونگا نہیں میں بھی دیکھتا ہوں تم کب تک اسے اپنی قید میں رکھتے ہو دیکھنا سویرا خود آئیگی میرے پاس ۔۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
” یو باسٹرڈ !! ” شہریار تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کو گریبان سے پکڑ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منھ پر مارا
” اینا آپ پارٹی ختم کروائیں اور مہمانوں کو رخصت کریں ….” جونس نے جلدی سے اینا کو فون کیا جو سویرا کو اندر لے کر گئی تھی
” شہریار !! چھوڑو اسے تماشہ بن رہا ہے ۔۔۔۔۔”
” اس ذلیل نے میری بیوی کا نام اپنی ناپاک زبان سے کیسے لیا ؟؟؟ ۔۔۔۔” شہریار نے جونس کا ہاتھ جھٹکا
” تم ابھی کے ابھی اس جگہ سے دفع ہو جاؤ ۔۔۔” جونس نے اینڈریو کو گھورا اور شہریار کا بازو سختی سے جکڑتے ہوئے اسے زبردستی اندر لے گیا ۔
“اب مزید اور کتنی ذلت اٹھاؤ گی ؟؟ چلو اب گھر چلیں ۔۔۔” مسز سہراب ساکت کھڑی عروہ سے مخاطب ہوئیں
” ممی !! وہ وہ اس دو ٹکے کی لڑکی کیلئے اتنا پاگل ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔” عروہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی
” وہ دو ٹکے کی لڑکی اس کی بیوی ہے ۔خدارا اب تو ہوش کے ناخن لو اور چلو یہاں سے ۔۔۔۔”مسز سہراب نے لب بھینچتے ہوئے کہا
” تو !! تو پھر میں کیا ہوں ؟؟ کون ہوں ؟؟ ” عروہ نے ہذیانی انداز میں ان کو شانوں سے جکڑا
” یہ سوال تم گھر چل کر سکون سے بیٹھ کر خود سے پوچھنا ۔۔۔۔” مسٹر سہراب نے آہستگی سے اسے تھاما اور واپسی کیلئے مڑ گئے
******************
” سویرا !! تم تھک گئی ہو گئی اب تم آرام کرو میں مہمانوں کو رخصت کر کے آتی ہوں ۔۔۔۔” اینا سویرا کو اوپر لیکر آئی ۔
” اینا !! سچی میں نے سر کو نہیں بلایا ۔۔۔۔” وہ جاتی ہوئی اینا کا ہاتھ پکڑ کر بولی
” سویرا ہنی !! سب کو پتہ ہے کہ تم نے اس بدتمیز آدمی کو نہیں بلایا تم پریشان مت ہو آرام کرو میں بھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں ۔۔۔۔” اس نے سویرا کے ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا
” لیکن وہ !!! وہ مجھ سے خفا ہو نگے ۔۔۔
” الٹا سیدھا مت سوچو سب ٹھیک ہے اور اب بس میں واپس آکر بات کرتی ہوں ۔۔۔۔” اینا اسے ٹوکتے ہوئے نیچے چلی گئی اسے سب مہمانوں کو جلد از جلد رخصت کرنا تھا
سویرا اینا کے جانے کے بعد پریشانی سے چکر کاٹ رہی تھی اب پتا نہیں شہریار کا رویہ کیا ہو اس کا سوچ سوچ کر برا حال ہو رہا تھا ۔وہ وہیں بیڈ پر سر تھام کر اپنے نصیبوں کو رونے لگی ۔
” یا اللہ !! میں نے کبھی بھی تیری نافرمانی نہیں کی بلکہ کسی کی بھی نافرمانی نہیں کی پھر تو مجھے میری کس خطا کی سزا دے رہا ہے ؟ اس شخص نے میرا کردار ، میرے شوہر کی نظروں میں داغدار کر دیا ہے اب وہ مجھے چھوڑ دینگے !! کیوں میرے مولا کیوں مجھے تماشہ بنا رہا ہے ۔۔۔۔” وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اپنے اللہ سے شکوہ کر رہی تھی
” اس سے پہلے وہ مجھے باتیں سنا کر ذلیل کر کے اپنی زندگی سے نکالیں مجھے خود ہی ان کی زندگی سے نکل جانا چاہئیے وہ تو ویسے بھی عروہ سے منگنی کر چکے ہیں مجھے ان کے بیچ سے نکل جانا چاہئیے ۔۔” کچھ دیر بعد وہ آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھی اور کمرے سے نکل کر شہریار کے روم کی طرف بڑھی ۔
اندر کمرے میں پہنچ کر وہ چاروں جانب خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی دیوار پر آویزاں شہریار کی پورٹریٹ کے پاس جا کر اس نے اپنی سسکی دباتے ہوئے شکوہ کناں نظروں سے اس پورٹریٹ کو دیکھا ۔پھر آنسو صاف کرتی ہوئی سائیڈ میز پر رکھے شہریار کے لیب ٹاپ کے پاس آئی ۔۔
” یہ ہمارے نکاح کا گفٹ جو مجھ پر ادھار تھا ۔۔۔” اس کی آنکھوں میں وہ خوبصورت منظر لہرایا جب شہریار نے بڑی توجہ سے اسے رنگ پہنائی تھی۔
اپنی انگلی میں انگوٹھی کو پیار سے دیکھتے ہوئے اس نے نم آنکھوں سے رنگ اتاری اور چوم کر لیب ٹاپ پر رکھ دی پھر اس نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی گردن سے لپٹی شہریار کے پیار کی نشانی اس چین کو بمشکل اتارا ۔۔۔
” اب آپ کا مجھ پر کوئی احسان ، کوئی ادھار نہیں رہا ۔۔۔۔۔” وہ چین انگوٹھی کے ساتھ رکھ کر تیز قدموں سے چلتی ہوئی واپس اس کونے والے کمرے میں آئی کمرہ لاک کر کے سب سے پہلے اپنا سامان پیک کیا اس کا ارادہ اینا کے ساتھ جانے کا تھا
*****************
” جونس تم نے مجھے کیوں روکا ؟؟ ” شہریار نے غصہ سے اپنا آپ چھڑوایا
” یار تم ایک سمجھدار ذہین انسان ہو اور فکر مت کرو ہم اس بدتمیز کو ڈیل کر لینگے ابھی اتنے مہمانوں میں تماشہ لگانا مناسب نہیں تھا ۔” جونس نے سمجھایا
” میرے سوا کوئی اس کا نام لے مجھے گوارا نہیں اور وہ !!! اس ذلیل آدمی نے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔” شہریار کی آنکھیں سرخ ہوگئیں ۔
” شیری کنٹرول یار !! اب تیرا یہ دیوانوں جیسا حال دیکھ کر تو میں نے بھی شادی سے توبہ کر لی ہے اچھا بھلا کول مائنڈ بندہ تھا تو اور اب پکا مجنوں دیوانہ لگ رہا ہے ۔۔۔” جونس نے افسوس سے کہا
” جونس میں ابھی بھی کول ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں جب سے وہ میرے ساتھ آئی ہے میں اس کیلئے بہت پوزیسیو ہوتا جارہا ہوں میں کوشش کے باوجود اسے اپنے ذہن سے نہیں نکال پاتا اسی لئیے میں نے اپنے اور اس کے رشتے کو تسلیم کیا اور اب میں خود کو سمجھ نہیں پا رہا بس دل چاہتا ہے اسے کہیں قید کرکے سب کی نظروں سے چھپا کر رکھ دوں وہ بہت چھوٹی ہے یار اسے اچھے برے کی تمیز نہیں ہے ۔۔۔” شہریار کے لہجے میں تھکن تھی الجھن تھی
” اچھا اب تم جاؤ آرام کرو اور سویرا سسٹر کو دیکھو وہ بھی اس سب سے ڈر گئی ہوگی ۔۔۔” جونس نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھا
جونس کو گیسٹ روم میں ٹہرا کر شہریار اوپر اپنے کمرے میں آیا اس کا موڈ ابھی بھی بہت خراب تھا ڈھیلے ڈھالے انداز میں وہ کمرے میں داخل ہوا لائٹ آن کر کے نظر بیڈ پر ڈالی تو سویرا ادھر نہیں تھی ۔اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا سوئیاں رات کا ایک بجا رہی تھیں اس کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہونا شروع ہوگئی ابھی وہ پلٹ کر باہر جانے ہی والا تھا کہ اس کی نظریں سائیڈ میز پر رکھے اپنے لیب ٹاپ کے اوپر رکھی انگوٹھی اور چین پر پڑیں ۔وہ چلتے ہوئے میز تک آیا اور انگوٹھی اور رنگ کو اٹھا کر غور سے دیکھتے ہوئے لب بھینچے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا سویرا نے اس کی محبت سے پہنائی رنگ اور چین اتار کر اس کی ذات کی نفی کی تھی وہ رنگ کو زور سے مٹھی میں بھیجتے ہوئے باہر نکلا اس کا رخ کونے پر بنے اسی کمرے کی طرف تھا جہاں سویرا بار بار اس کے منع کرنے کے باوجود پائی جاتی تھی ۔۔۔
اس نے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا تو دروازہ لاک تھا یہ سب اس کی برداشت سے باہر تھا اس نے بنا سوچے سمجھے ایک زور دار کک لکڑی کے دروازے کو لگائی اور لگاتا چلا گیا ۔۔۔
سویرا نے شور کی آواز سن کر آہستہ آہستہ اپنی نیند میں بوجھل پلکیں اٹھائیں اس کا ذہن ابھی بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا دفعتاً دروازے سے زور سے اٹھنے والی آواز سے خوف کی ایک تیز لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی کو چھو گئی گھبرا کر اس نے اپنا دوپٹہ سرہانے سے اٹھا کر اوڑھا اور دروازے کی طرف بڑھی اس سے پہلے وہ دروازہ کھولتی ، دروازہ ایک زور دار جھٹکے سے ٹوٹ کر کمرے کے اند
سبزہ زار سے ڈھکی ہوئی بڑی سی حویلی میں چہل پہل اپنے عروج پر تھی دو دن بعد ان سب کی لندن کی فلائٹ تھی وہ شہریار کو سرپرائز دینے کے لئیے ایک ہفتے پہلے ہی لندن پہنچ رہے تھے حالانکہ زاہدہ بیگم کافی دنوں سے جانے کیلئے شاپنگ کررہی تھی لیکن پھر بھی مطمئن نہیں تھی آئے دن وہ اور رخسار بازار کے چکر لگا رہی تھی جو فرزانہ کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے ۔آج بھی وہ دونوں بازار سے واپسی پر شاہ بی بی کے کمرے میں سامان بکھرائے ان کی رائے لے رہی تھی
” شاہ بی بی یہ دیکھیں میں نے آپ کی طرف سے سویرا کیلئے یہ کامدار سوٹ اور زرقون کے ٹاپس لئیے ہیں ۔۔۔” زاہدہ نے انہیں جوڑا دکھایا
” ماشاءاللہ بہت اچھا ہے اللہ پہننا نصیب کرے ۔۔۔” شاہ بی بی کی آنکھوں میں ستائش اتر آئی
” رخسار اب کیا ادھر بیٹھی پرائی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوتی رہو گئی ؟؟ سمیٹو یہ سارا کوڑا اور میرے لئیے چائے بنا کر لاؤ ۔۔۔” فرزانہ نے اندر داخل ہوتے ہی رخسار کو لتاڑا
” فرزانہ تم پھر شروع ہو گئی ۔۔۔” شاہ بی بی نے رخسار کا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھ کر انہیں ٹوکا
” شاہ بی بی آپ بھی تو دیکھیں اس منحوس کیلئیے یہ دونوں میرے بھائی کا پیسہ دونوں ہاتھوں سے برباد کررہی ہیں ۔میں کہے دیتی ہوں کہ اس کرم جلی نے میرے شہریار کو پریشان کر رکھا ہو گا ۔۔۔” وہ زاہدہ کو گھورتے ہوئے بولیں
” فرزانہ !! اب پریشان رکھا ہے یا آباد یہ تو وہاں جا کر ہی پتہ چلیگا لیکن اگر تمہارے لچھن یہی رہے تو میں تمہیں ادھر نہیں جانے دونگی ۔۔۔” شاہ بی بی نے بیزاری سے کہا
” شاہ بی بی !! اب آپ مجھے نہیں روکیں گئی بس دو دن کی بات ہے پھر دیکھنا میں ثابت کرکے رہو گی کہ شاہو اس منحوس کے ساتھ خوش نہیں ہے ۔۔۔۔” فرازنہ نے چیلنج کیا
“بنو !! شاہو کے پاس پورا ایک سال ہے ویسے بھی میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی ہونے میں وقت لگتا ہے تم فکر نا کرو خوشی خوشی جاؤ اور گھوم پھر کر واپس آؤ ۔خبردار جو میرے بچوں کے معاملے میں کچھ بولیں اگلی فلائٹ سے واپس بلوا لونگی ۔۔۔۔” شاہ بی بی نے انہیں تنبیہہ کی
*****************
دروازہ کے گرتے ہی شہریار غصہ میں بپھرا ہوا اندر داخل ہوا ..سامنے ہی گلابی کرتا پاجامے والے پارٹی ڈریسں میں ملبوس سویرا تھر تھر کانپ رہی تھی وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس کی سمت بڑھا ۔۔۔
سویرا چیخ مار کر تیزی سے پیچھے ہٹی دروازے کے گرتے ہی غصہ میں بپھرا ہوا شہریار اندر داخل ہوا وہ اس کی سرخ آنکھوں اور پتھر کی طرح سخت چہرے کو دیکھ کر گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آرہا تھا وہ ڈر کے مارے کانپنے لگی تھی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے جیسے ہی شہریار اس کے نزدیک آیا اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں ۔۔۔
” تم ۔۔۔” اس نے سویرا کے بھیگے چہرے کو غصہ سے دیکھ کر لب بھینچے
” میں کیا تمہیں الو کا پٹھا لگتا ہوں ؟؟ جو میری ہر بات ہر حکم کی نفی کرنا تم ضروری سمجھتی ہو ؟؟ بولو جواب دو ؟؟ ” وہ دھاڑا
” تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے اچھا سلوک کیا جائے میری جان کا عذاب بن گئی ہو تم ۔۔۔۔
وہ سختی سے اس کی کلائی کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا پورے فارم ہاؤس میں سناٹا چھایا ہوا تھا سارے کمرے ساؤنڈ پروف ہونے کی وجہ سے سب پر سکون نیند سو رہے تھے وہ اسے لیکر تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا باہر نکلتے ہی تیز ہوا اور پانی کی بوچھاڑ نے ان دونوں کو بھگو ڈالا ۔
بھاگتے قدموں کے ساتھ پورٹیکو میں آتے ہی شہریار نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر پٹخنے والے انداز میں دھکیلا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی وہ لب بھینچے تیز ڈرائیو کرتے ہوئے واپس شہر اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا سویرا نے ایک شکایتی نگاہ اپنے ہمسفر پر ڈالی جو اس کے آنسوؤں سے ، اس کی ذات سے بے نیاز نظر آرہا تھا اس کے چہرے کی سرد مہری سویرا کی رگ رگ میں خوف کی لہر دوڑا رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ شہریار اب ڈاکٹر اینڈریو کی باتوں میں آکر اسے زندہ نہیں چھوڑے گا ۔وہ اسے بتانا چاہتی تھی کی اینڈریو کو اس نے نہیں بلایا ، وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ کس طرح اینڈریو پہلے دن سے اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا لیکن شہریار کا غصہ دیکھ کر اس کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی ۔ تبھی گاڑی ڈس بیلنس ہو کر لڑکھڑائی۔
” شٹ !! ” شہریار نے جھنجھلا کر گاڑی روکی اور نیچے اترا یہ شہر کو جاتی ایک کچی سڑک تھی جہاں رات کی ڈرائیونگ خطرناک سمجھی جاتی تھی وہ موسم کی شدت سے بے نیاز گاڑی سے اتر کر پچھلا ٹائر دیکھ رہا تھا جو پنکچر ہوگیا تھا اس نے ڈگی سے اسپیئر ٹائر اتارا ، ٹائر تبدیل کرنے کیلئے جیک نکالا اور اکڑوں بیٹھ کر ٹائر تبدیل کرنے لگا ۔۔
سویرا جو برستی بارش اور ماحول سے بے نیاز اپنی سوچوں میں گم تھی بادلوں کی گڑگڑاہٹ کی آواز سن کر چونک کر اپنے حواس میں آئی ، گاڑی رکی ہوئی تھی چاروں طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا ونڈ اسکرین پر تیزی سے بوندیں گررہی تھی اگلے ہی لمحے آسمان میں زور سے بجلی چمکی اور بادل گرجے وہ سہم کر رہ گئی یہ موسم یہ گرج چمک اس کے اندر خوف بھر رہا تھا۔۔۔
” سنئیے !!! ” وہ کپکپاتے ہوئے بولی لیکن وہ ہوتا تو سنتا
اسے لگا شہریار اسے اس ویرانے میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے وہ بنا سوچے سمجھے گاڑی سے اتری ۔۔۔۔
تیز بوچھاڑ نے اسے سر تا پیر پانی میں شرابور کر دیا تھا وہ کپکپاتے ہوئے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے شہریار کو ڈھونڈتی ہوئی آگے بڑھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ آسمان پر زور سے بجلی کے چمکنے سے دراڑیں سی پڑی ۔۔۔اس کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی ۔۔۔
شہریار جلدی جلدی ٹائر بدل رہا تھا جب اسے سویرا کی چیخ کی آواز سنائی دی وہ تیزی سے اٹھا اندر جھانکا گاڑی خالی تھی ۔اس نے جلدی سے دروازہ کھول کر گاڑی کی ہیڈ لائٹ آن کی تھوڑے فاصلے پر ہی سویرا آنکھیں بند کئیے تھر تھر کانپتی ہوئی نظر آئی وہ گاڑی سے اتر کر اس کی سمت بڑھا اور بنا سوچے سمجھے اس کے پاس پہنچ کر اسے اپنی پناہ میں لے لیا ۔۔۔
” اٹس اوکے !! کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔” وہ دھیرے سے اس کے کان میں بول رہا تھا بارش کی تیزی سے برستی بوندوں نے ، سویرا کے نازک وجود کی نرمی نے نے اس کے ٹینس احساسات کو ایک خوشگواریت بخش دی تھی وہ سب کچھ بھلا کر سویرا میں گم ہونے لگا تھا ۔۔
” مجھے لگا !! آپ مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں ۔۔۔۔” سویرا اپنی سراسیمگی پر قابو پاتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی
شہریار کے اعصاب پر سویرا کی آواز بجلی بن کر گری اس نے ایک جھٹکے سے سویرا کو خود سے الگ کیا
” تم سے اسی بات کی امید رکھی جاسکتی تھی اور تم کس کی اجازت سے گاڑی سے نکلی ؟؟ بہت شوق ہے تمہیں گھر سے نکلنے کا ، گاڑی سے نکلنے کا ۔۔۔دل تو چاہتا ہے تمہیں یہیں کہیں زندہ گاڑ کر گھر چلا جاؤں ۔۔۔” وہ سخت مشتعل نظر آرہا تھا
” آپ ۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔۔” وہ اپنی بھیگی آنکھیں مسلتے ہوئے بولی
” سنو لڑکی !! میرا دماغ مزید خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے جا کر گاڑی میں بیٹھو ابھی میں مرا نہیں ہو جو تم باہر نکلنے کو بیتاب ہو رہی ہو ۔۔۔۔” وہ غرایا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *