Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16
سویرا کو فون دئیے کافی وقت ہو چکا تھا وہ کمرے سے نکل کر اپنا فون واپس لینے آیا تو سویر ا فون کو سینے سے لگائے قالین سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی اس کے چہرے پر افسردگی تھی اور آنکھوں سے بے آواز آنسو بہہ رہے تھے شہریار کو ایک لمحے کے لیے اس پر ترس سا محسوس ہوا وہ کھنکھارتا ہوا آگے بڑھا
سویرا کھنکھارنے کی مردانہ آواز سن کر چونک گئی سر اٹھایا تو سامنے ہی گھریلو حلیہ میں ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنے شہریار کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” شاہ بی بی سے بات ہوگئی تھی تو کم از کم فون تو واپس کردیتی اتنے مینرز تو آتے ہی ہونگے ۔۔۔” وہ پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اس کے ہاتھوں میں دبے اپنے سیل فون کو نکالتے ہوئے بولا
” سوری ۔۔۔” وہ اپنی نم پلکیں جھکا کر پیچھے ہوئی
شہریار فون لیکر کھڑا ہوا لیونگ روم سے نکل ہی رہا تھا کہ اس کی نظر کچن کاؤنٹر پر پڑے سلاد کے سامان پر پڑی اس نے مڑ کر سر جھکائے آنسو پیتی سویرا تاسف سے دیکھا
” سنو ڈنر تیار ہو جائے تو مجھے بلا لینا ۔۔۔” وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دھیان بٹانے کو کہہ گیا
سویرا نے سر اٹھا کر بے یقینی سے اسے جاتے ہوئے دیکھا ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو صاحب نے فرمان جاری کیا تھا کہ میرے معاملات سے دور رہو اور اب ڈنر کا کہہ رہے ہیں ۔۔۔وہ اٹھی اور کچن میں آکر جلدی جلدی سے کھانا تیار کرنے لگی ۔۔
جو بھی تھا اب اس کا سارا دھیان کوکنگ پر تھا بہت دل لگا کر اس نے دال چاول کباب سلاد اور رائتہ تیار کیا ٹیبل سیٹ کی پر اب سب سے بڑا مسئلہ شہریار کو بلا کر لانے کا تھا وہ اپنی شام والی عزت افزائی بھولی نہیں تھی وہ آج تک سب کی جلی کٹی سنتی آئی تھی پر اب نا جانے کیوں اسے شہریار کے منھ سے نکلے الفاظ تکلیف دے رہے تھے ۔۔۔
بڑی ہمت کر کے دل مضبوط کر کے وہ درود شریف پڑھتی ہوئی شہریار کے کمرے کے دروازے تک آئی ہلکے سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔
” یس کم ان ۔۔۔۔” شہریار کی بھاری آواز گونجی
وہ دھیرے سے زبان لبوں پر پھیرتے ہوئے دروازے کی ناب گھما کر اندر داخل ہوئی سامنے ہی لیب ٹاپ پر شہریار کام میں مصروف تھا
” ہاں بولو کیا بات ہے ؟؟ ” شہریار نے اسے کھڑا دیکھ کر پوچھا
” وہ کھانا تیار ہے آپ کھانا کھالیں ۔۔۔” وہ مجرمانہ انداز میں بولی جیسے کوئی بڑی غلطی کر دی ہو
شہریار نے ایک نظر اس پر ڈالی جو سر جھکائے اپنی انگلیوں کو مسل رہی تھی انداز ایسا تھا جیسے ابھی بھاگ جائے گی
” اوکے تم چلو میں آرہا ہوں ۔۔۔” وہ نارمل انداز میں بولا
سویرا نے اس کے عام لہجے میں بات کرنے پر چونک کر اسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی باہر نکل گئی
شہریار اپنا کام سمیٹ کر شیشے کی بنی ریوالونگ ڈائننگ ٹیبل پر آیا تو وہ بڑے سلیقے سے کھانا لگا چکی تھی وہ آرام سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا اس کے سامنے دال چاول سلاد کباب بڑے طریقے سے رکھے ہوئے تھے اس نے پلیٹ میں کھانا نکالا تب ہی سویرا کچن کی طرف جانے لگی
” تم کدھر جا رہی ہو ؟؟ کھانا نہیں کھانا ؟ ” شہریار نے اچھنبے سے پوچھا
” وہ میں بعد میں کھا لونگی آپ آرام سے ڈنر کریں ۔۔۔” وہ کترا رہی تھی
” سنو لڑکی یہ حویلی نہیں ہے میرا گھر ہے ، تم آرام سے بیٹھو اور طریقے سے کھانا کھاؤ ۔۔” شہریار نے ٹوکا
” میں پہلے آپ کیلیئے کافی بنا لوں ۔۔۔” اس نے بودا سا بہانہ بنایا
” تمہیں ایک بار کی بات سمجھ میں نہیں آتی کیا ؟؟ شرافت سے بیٹھو اور کھانا کھاؤ کافی بعد میں بنا لینا ۔۔۔” وہ تپ گیا
سویرا خاموشی سے کچن سے اپنے لئیے پلیٹ لے آئی شہریار کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا اس کے بس کی بات نہیں تھی حالانکہ کے شہریار بڑے آرام سے کھا رہا تھا اس نے سویرا پر کوئی توجہ نہیں دی تھی نا ہی اسے دیکھا تھا پر پھر بھی سویرا اس کی موجودگی کے باعث ٹھیک سے نہیں کھا پا رہی تھی ۔
آج کافی عرصے بعد دیار غیر میں اس نے گھر کا بنا کھانا کھایا تھا بلاشبہ سویرا کے ہاتھ میں ذائقہ تھا اور وہ بھی اب صبح اس کے ہاتھ کے بنے ناشتے کا عادی ہوتا جارہا تھا ڈنر اور لنچ وہ عموماً باہر کرتا تھا لیکن آج وہ اپنے معمول سے زیادہ کھا گیا تھا
” سنو آدھے گھنٹے بعد مجھے کافی دے جانا ۔۔” وہ کرسی کھسکا کر کھڑے ہوتے ہوئے بولا
شہریار کے جاتے ہی وہ ایک گہری سانس لیکر اپنی پلیٹ ختم کرنے لگی پھر برتن وغیرہ سمیٹ کر بہت دل لگا کر اس کیلیئے کافی بنائی اور جب کمرے میں آئی تو وہ اسکرین پر میچ دیکھ رہا تھا
” سنئیے !! آپ کی کافی ۔۔۔” سویرا نے ٹرے آگے کی
” تھینکس ۔۔۔” شہریار نے مگ اٹھایا
” سنو لڑکی !! ” وہ جاتے جاتے رکی
” آج تمہارا اسکول میں پہلا دن تھا سب ٹھیک رہا کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی ۔۔۔” وہ پوچھ رہا تھا
” جی سب ٹھیک رہا تھا وہ میں اسکول نہیں ۔۔۔”
” بس بس مجھے ڈیٹیل نہیں سننی بس ایک بات کا خیال رکھنا یہ پاکستان نہیں ہے اس لئیے کوئی ایسی حرکت مت کرنا جس سے مجھے تمہیں یہاں لانے یا پڑھانے کے فیصلے پر شرمندگی محسوس ہو اور کسی سے بھی دوستی گاڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
” میں وعدہ کرتی ہوں ایسا کچھ نہیں کرونگی جس سے آپ کو پریشانی ہو ۔۔۔”
” اب تم جا سکتی ہو اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اینا کو بتا دینا ۔۔۔” وہ بات کاٹ کر اسے باہر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا
***********************
صبح کا وقت تھا آج شہریار کو لیٹ جانا تھا وہ تیار ہو کر باہر آیا تو اس کا ناشتہ میز پر تیار تھا پر سویرا کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی وہ ناشتہ کر کے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلا آج اس نے اپنے ڈرائیور کو چھٹی دی ہوئی تھی اس کا ارادہ شام میں عروہ کو شاپنگ کروانے کا تھا وہ گاڑی مین روڈ پر لیکر نکلا تو سامنے ہی بس اسٹاپ پر اسے پریشان سی سویرا نظر آئی وہ نا چاہتے ہوئے بھی گاڑی اس کے قریب لے گیا
” کیا ہوا تم اب تک ادھر ہی ہوں اسکول تو نو بجے لگ جاتا ہے ۔۔۔”
” وہ میری بس مس ہو گئی ہے ۔۔۔” سویرا شرمندگی سے بولی
” بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔” شہریار نے دروازہ کھولا
سویرا ہچکچاتے ہوئے بیٹھ گئی
” سکول کون سا ہے ؟؟ اسٹریٹ ایڈرس دو ؟ ۔۔ ” اس نے پوچھا
” آپ مجھے سب وے اسٹیشن تک چھوڑ دیں میں مینج کر لونگی ۔۔۔”
” سب وے ۔۔۔” وہ حیران ہوا
” اینا نے کس جگہ ایڈمیشن کروایا ہے جو تمہیں سب وے لینی پڑتی ہے
_________________
آج کا لنچ اسے شہریار کے ساتھ کرنا تھا لنچ کے بعد شام میں ان دونوں کا شاپنگ مال جانے کا تھا شہریار پاکستان سے اس کیلیئے کوئی گفٹ نہیں لایا تھا جس کا اس نے شکوہ کیا تو آج وہ اسے اس کی پسند کا گفٹ دلانے کا وعدہ کر چکا تھا وہ صبح ہوتے ہی نک سک سے تیار ہو کر شہریار کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی اس کا ارادہ صبح سویرے ہی شہریار کو سرپرائز دینے کا تھا وہ تھوڑا لیٹ ہو گئی تھی اور اپنی گاڑی فل اسپیڈ پر دوڑاتے ہوئے شہریار کے گھر کے قریب پہنچ چکی تھی سگنل پر گاڑی رکی ہوئی تھی جب اس کی نظر سامنے روڈ کی سائیڈ پر بس اسٹاپ پر پڑی وہ چونک گئی تیزی سے آنکھوں سے سن گلاسز اتارے. شیشہ نیچے کیا سامنے بس اسٹاپ پر شہریار کی گاڑی کھڑی تھی اور اس کی وہ پاکستانی کزن بس اسٹاپ پر کھڑی ہوئی تھی دیکھتے ہی دیکھتے وہ شہریار کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
عروہ کا غصہ اور جلن سے برا حال تھا سگنل گرین ہوچکا تھا وہ ابھی بھی روڈ پار نظریں جمائے بیٹھی تھی جب پیچھے کھڑی گاڑیوں نے ہارن بجایا اس نے ہوش میں آتے ہوئے تیزی سے گاڑی آگے بڑھا کر سڑک کنارے روک دی اور اپنے کلچ سے سیل فون نکالا ۔۔
****************
“میں کیا پوچھ رہا ہوں ایڈریس بتاؤ اپنے اسکول کا ۔۔۔” شہریار نے سوال کیا
” وہ میں سب وے سے یونی۔۔۔۔
” ایک منٹ دیکھ نہیں رہی میرا فون بج رہا ہے ۔۔۔” شہریار نے اسے ٹوکتے ہوئے ہینڈ فری کرکے فون اٹھایا.
فون پر عروہ کی پک بلنک ہو رہی تھی جو سویرا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں تھی وہ خاموشی سے رخ موڑ کر بیٹھ گئی
“ہاں عروہ بولو کیا بات ہے ؟؟ “
” شیری کہاں ہو تم ؟؟ ” عروہ کی آواز گونجی
” میں ابھی آفس جا رہا ہوں لنچ پر ملتے ہیں ۔۔”
” تمہارے ساتھ کون ہے ؟ “
شہریار عروہ سے بات کررہاتھا جب سویرا کو سامنے سے اپنی بس آتی نظر آئی اس نے تیزی سے اپنی کتابیں اور بیگ اٹھایا
” سنیے میری بس آگئی ہے میں چلی جاؤنگی ۔۔۔”
شہریار نے بات کرتے ہوئے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی کا آٹومیٹک لاک کھول دیا سویرا تیزی سے اتر کر بس کی جانب بڑھی اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔۔
“شیری !! میں کیا پوچھ رہی ہوں ؟؟ ” عروہ کی آواز گونجی
” عروہ مجھے اس طرح کے سوال جواب پسند نہیں ہیں میں جو بھی کروں اٹس نن آف یور بزنس ،انڈر اسٹینڈ ؟ “
” شیری میں !! میں کچھ بھی نہیں مجھے کوئی حق نہیں تم سے کچھ پوچھنے کا؟ کم آن شیری میں بہت جلد تمہاری بیوی بننے والی ہوں اور تم ایسے ۔۔۔”
” بیوی ابھی بنی نہیں ہو اور کم آن ڈونٹ ایکٹ لائک ٹیپیکل گرل یاد رکھو میں اپنی آزادی میں کوئی رخنہ برداشت نہیں کرتا اور نا ہی کرونگا ۔۔”
” شیری تم بہت روڈ ہو شاید میں نے ہی تمہارے پیار میں پاگل ہو کر اپنی ویلیو خراب کر لی ہے ۔۔۔” وہ روہانسی ہوئی
” کچھ نہیں یار میں بس سویرا کو اسکول چھوڑنے جارہا تھا پر اس کی بس آگئی اب آفس جا رہا ہوں ۔۔۔” وہ اکتا کر بولا
” ٹھیک ہے تم جاؤ لنچ پر ملتے ہیں ۔۔۔” عروہ فون بند کرکے گاڑی چلاتے ہوئے بولی وہ اپنا ارادہ بدل چکی تھی اور اب عروہ کی بس کا پیچھا کر رہی تھی ۔۔
بس سب وے اسٹیشن پر رک چکی تھی عروہ جب تک گاڑی پارک کرکے بھاگتی ہوئی آئی سویرا بلٹ ٹرین میں سوار ہو رہی تھی وہ تیزی سے بند ہوتے دروازے میں ہاتھ دیتے ہوئے اندر داخل ہوئی اب وہ چلتی ٹرین میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی جب اس کی نظر سویرا پر پڑی پنک فل سلیو کرتا بلیک جینز سر پر اسکارف پہنے وہ اس ماحول میں اجنبی سی لگ رہی تھی اسٹاپ آچکا تھا وہ بھی ایک فاصلہ رکھتے ہوئے سویرا کا پیچھا کررہی تھی ۔۔
تھوڑا دور پیدل چلنے کے بعد سویرا انگلینڈ کی مشہور یونیورسٹی کوئین میری میں داخل ہو چکی تھی عروہ حیرانگی سے یونیورسٹی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” شیری تو کہہ رہا تھا یہ اسکول جا رہی ہے یہ ادھر کیسے آئی اس دیسی ٹیپیکل لڑکی کا اس یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیسے ہوا ؟؟ یا یہ شیری کی نظروں میں دھول جھونک رہی ہے ادھر کسی لڑکے سے ملنے آئی ہو ۔ ” عروہ کا حیرانگی سے برا حال تھا.
” اس کا اتنا کیلیبر تو ہو نہیں سکتا یہ سو فیصد اپنے کسی بوائے فرینڈ سے ملنے آئی ہے ۔۔۔۔” عروہ پرسوچ نظروں سے آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہوئی سویرا کو دیکھ رہی تھی ۔
*********************
بائیو کیمسٹری کی کلاس چل رہی تھی سب اسٹوڈنٹس اپنے اپنے لیب ٹاپ ، میک بک پر لیکچر نوٹ کررہے تھے کتابیں بھی نہیں تھیں ٹیچرز سارا سلیبس اسٹوڈنٹس کو ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کرنے کا کہہ چکےتھے ایک واحد سویرا تھی جو کاپی اور پین تھام کر بیٹھی ہوئی تھی اس کے پاس لیب ٹاپ کی سہولت نہیں تھی وہ خاصی پریشان تھی کلاس کے ختم ہوتے ہی وہ تیزی سے نکل کر اسٹوڈنٹ ایڈوائزر آفس کی طرف گئی ۔۔
افس پہنچ کر اپنا نام کلاس روم اسٹوڈنٹ نمبر شیٹ پر لکھ کر سامنے بنے ایک بڑے سے آفس نما کمرے میں داخل ہوئی ۔۔
آفس انچارچ انتھونی کے ساتھ ایک لمبا سا مرد کھڑا تھا جس کی پشت سویرا کی جانب تھی
“مس آپ دیکھ نہیں رہی میں بزی ہوں ؟ باہر ویٹ کریں میں فارغ ہو کر آپ کو بلاتا ہوں ۔۔۔” انتھونی نے دروازے کھلنے کی آواز پر اندر داخل ہوئی سویرا کو ٹوکا
” آئی ایم ویری سوری سر !! ” وہ شرمندہ ہو کر واپس جانے کے لیے پلٹی ۔۔۔
ڈاکٹر اینڈریو جو کسی کام سے انتھونی کے پاس آیا تھا اپنی پشت سے ابھرتی بھیگی بھیگی سی مانوس سی آواز سن کر تیزی سے پلٹا.
سامنے اس کی سنو وائٹ جو اسے استنبول ائیرپورٹ پر ملی تھی جس کے خیالات نے آج بھی اس کے ذہن کو جکڑا ہوا تھا ، جس کا گلابی ڈرا سہما چہرا لمبی گھنی پلکیں اس کی نیندیں اڑا چکی تھی وہ لڑکی کمرے سے باہر نکل رہی تھی ۔۔
” سویرا شہریار ۔۔۔۔” اس نے زیر لب اس کا نام لیا
“انتھونی اف یو ڈونٹ مائنڈ اس لڑکی کو میں ڈیل کر لوں؟”
“شیور ڈاکٹر اینڈریو! آپ بیٹھیں میں اسے اندر بھیجتا ہوں۔” انتھونی ادب سے کھڑا ہوا اپنی کرسی اینڈریو کو دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا
” ہے مس آپ اندر جا سکتی ہیں۔” وہ دروازے کے ساتھ کھڑی سویرا کے پاس آکر بولا
سویرا خاموشی سے اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو پیچھے سے انتھونی نے دروازہ بند کردیا وہ چونک کر مڑی.
” مس! تشریف رکھیئے اور اپنا مسئلہ بیان کریں ۔۔۔” ڈاکٹر اینڈریو نے اسے متوجہ کیا
وہ دھیرے سے چلتی ہوئی سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی
” فرسٹ ائیر میڈیسن ؟؟ “
” یس سر ۔۔
” پرابلم کیا ہے ؟؟ میں آپ کی کیسے مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔
وہ بغور سر جھکائے بیٹھی ہوئی سویرا کو دیکھ رہا تھا اس مغربی معاشرے میں ایسی معصومیت مشرقی حسن دیکھنے کو نہیں ملتا تھا یہ لڑکی تو اسے پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی لیکن وہ اس کے شادی شدہ ہونے کا سن کر پیچھے ہٹ گیا تھا بھولنے کی کوشش کر رہا تھا اور آج جب وہ سامنے آئی تو ۔
” سر مجھے فرسٹ سمسٹر کا سلیبس اور کورس آؤٹ لائن چاہئیے اور بکس کے نام بھی ۔۔۔”
” ویل مس یہ سب آپ کو ویب سائٹ پر مل جائیگا آپ اپنے اسٹوڈنٹ نمبر سے لاگ ان ہوں ساری انفو اور کورس آؤٹ لائن بھی ۔۔۔
” سر میرے پاس لیپ ٹاپ نہیں ہے کیا اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا ؟
” مسز سویرا شہریار !! یہی نام ہے نا آپ کا ؟؟ “
سویرا نے چونک کر اسے دیکھا
” آپ نے شاید مجھے پہچانا نہیں ہم ائیرپورٹ پر ملے تھے۔۔” اس نے یاد دلایا
” ویل مسز شہریار لیپ ٹاپ یا میک بک کے بغیر آپ کا سراوئیو کرنا مشکل ہے. کوئز اسائمنٹ سلیبس لیکچر سب آن لائن ہوتا ہے ویسے آپ کے بلین ائیر ہسبنڈ نے آپ کو ایک لیب ٹاپ تک نہیں دلایا ؟ مجھے حیرت ہے ۔۔۔”
” اٹس اوکے سر میں مینج کر لونگی ۔۔۔” سویرا اسے پہچان چکی تھی وہ تیزی سے کھڑی ہوئی اور اینڈریو کو کچھ بھی کہنے کا موقع دئیے بغیر باہر نکل گئی
ڈاکٹر اینڈریو اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھا اور کمرے سے نکل کر ریسیپشن کے پاس آیا
” یہ اسٹوڈنٹ جو ابھی گئی ہیں ان کا ریکارڈ نکلوا کر دیں۔۔”
چند لمحوں میں سویرا کا بائیو ڈیٹا اس کے ہاتھ میں تھا
” مس سویرا فاروق ۔۔۔۔”
ایڈریس ۔۔۔
وہ تو اس کا نام دیکھ کر ہی چونک گیا
” تو تم میرڈ نہیں ہو یا پھر انگلینڈ آنے کے لیے ہوسکتا ہے پیپر میرج کی ہو ؟ واٹ ایور اب تم بس میری ہو ۔۔۔۔” اینڈریو اس کے نام پر نظریں جمائے ہوئے تھا
*******************
سویرا آفس سے نکل کر اپنی دوسری کلاس میں آگئی تھی تمام لیکچرز اٹینڈ کرنے کے بعد وہ تیزی سے باہر نکلی جب کاریڈور سے گزرتے ہوئے اسے بریڈلی نے آواز دی
“ہے سویرا ،ویٹ ۔۔” وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا
سویرا اس کے سامنے آنے پر رک گئی اپنی کتابوں کو سینے سے لگائے ہوئے وہ سائیڈ پر سے ہو کر گزرنے لگی تھی جب بریڈلی نے اس کا ہاتھ تھام کر روکا ۔۔۔
” ہاتھ چھوڑو ۔۔
” پہلے یہ بتاؤ پرابلم کیا ہے ؟ یہ بسورتا ہوا چہرہ کیوں بنایا ہوا ہے. پتا بھی ہے کمزور دل اسٹوڈنٹ ڈر سکتے ہیں ۔۔۔”
سویرا نے اس ڈھیٹ انسان کو گھورا
” وہ سامنے دیکھو کاریڈور میں سب ہمیں دیکھ رہے ہیں سوچ رہے ہونگے کہ اتنا ہینڈسم لڑکا اس روتی چڑیل کے ساتھ افئیر چلا رہا ہے اس لئیے شاباش جلدی سے بولو کیا مسئلہ ہے ورنہ ہمارے افئیر کے پوسٹر لگ جانے ہیں جو کم از کم میں افورڈ نہیں کرسکتا ۔۔” بریڈلی نے جیسے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
سویرا نے زچ آکر اسے اپنا سارا مسئلہ بتایا
” یہ فیکٹ ہے کہ تمہیں لیب ٹاپ چاہیے ہوگا چلو لیکر آتے ہیں ۔۔۔” وہ فوراً فیصلہ کرتے ہوئے بولا
” میں کیسے جا سکتی ہوں ؟؟ ” وہ دو قدم پیچھے ہٹی
” میرے ساتھ چلو. میرے دوست کی یہاں کے سب سے بڑے مال میں کمپیوٹر شاپ ہے تمہیں ڈسکاؤنٹ پر لیب ٹاپ مل جائیگا اور پیمنٹ بھی تم قسطوں میں کر دینا ۔۔۔”
” مگر ۔۔۔
” سوچ لو میں ایسی آفر بار بار نہیں دیتا اور کل تم کیا کرو گی کلاس میں ۔۔۔” اس نے سنجیدگی سے پوچھا
“ٹھیک ہے لیکن مجھے شام ڈھلنے سے پہلے گھر پہنچنا ہے ۔
*******************
” شیری ۔۔۔” عروہ اس کے بازوؤں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولی
” ہممم ۔۔۔”
” اتنے دنوں بعد تمہارے ساتھ لنچ ڈیٹ اور اب مال میں شاپنگ !! شیری یو آر سو سوئیٹ مجھے آج سب بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔” اس نے چلتے چلتے اس کے کندھے پر سر رکھا
” کافی پیو گئی ۔۔۔” وہ ایک بڑے سے بک اسٹور کے سامنے کیفے پر رکتا ہوا بولا
عروہ نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ دونوں کافی شاپ کے اندر داخل ہو گئے کافی آرڈر کرنے کے بعد شہریار عروہ کو لیکر شیشے کی دیوار کے پاس آبیٹھا جہاں سے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا موسم ابرآلود تھا کسی بھی لمحے تیز بارش کا امکان تھا
” سنو تمہاری کزن کس اسکول میں پڑھتی ہے ؟؟” عروہ نے اسے دیکھتے ہوئے اچانک سے پوچھا
“پتا نہیں اینا نے ایڈمیشن کروایا ہے ۔۔۔” وہ لاپرواہی سے بولا
” شیری تمہاری کزن سسٹر ابھی ٹین ایج لڑکی ہے اس کا خیال رکھو کہیں بگڑ نا جائے یو نو اکثر دیسی لڑکیاں آزادی پا کر اپنی حدود بھول جاتی ہیں اسکول کا کہہ کر بوائے فرینڈز کے ساتھ نکل جاتی ہیں ۔۔۔” عروہ نے بڑے طریقے سے بات شروع کی
” وہ میری سسٹر نہیں ہے! بس کزن ہے انڈر اسٹینڈ اور تم اس کی فکر مت کرو وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جو رنگینیاں دیکھ کر پھسل جائے۔” شہریار نے ناگواری سے اسے ٹوکا
” بڑی سائیڈ لے رہے ہوں ؟؟” عروہ نے اسے گھورا
” عروہ وہ لڑکی میرے خاندان سے ہے. میرے چاچو کی بیٹی ہے وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتی اور کائنڈلی ٹاپک چینج کرو ورنہ میں چلتا ہوں ۔۔۔
“سوری شیری ۔۔۔۔” عروہ نے تیزی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
-**-*************
بریڈلی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویرا کو لیکر مسل پہنچ چکا تھا ابھی بڑی مشکل سے پارکنگ ملی تھی گاڑی پارک کر کے وہ دونوں اترے ہی تھے کہ تیز موسلا دھار بارش شروع ہو گئی ۔۔
سویرا کا کرتا بھیگ گیا تھا وہ دونوں ہی لمحوں میں مکمل بھیگ گئے تھے بریڈلی نے ایک نظر کپکپاتی ہوئی خود میں سمٹتی ہوئی سویرا پر ڈالی وہ لڑکی جو خود کو بہت سینت سینت کر چھپا کر رکھتی تھی اس وقت مکمل بھیگی ہوئی تھی اس کے دلکش خدوخال واضح ہو رہے تھے بریڈلی نے نظریں چراتے ہوئے اپنا کوٹ اتارا اور تیزی سے اس کے شانوں پر رکھ دیا اس چھ فٹ کے مالک کے کوٹ نے سویرا کو ڈھک دیا تھا
” پہنے رہو اگر ٹھنڈ لگنے سے بیمار ہو گئی تو مجھے برا بھلا کہو گی ۔۔۔” وہ تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً بھاگتے ہوئے بولا
وہ دونوں مال کی اینٹرنس کی جانب جا رہے تھے اور دور شیشے کے پار سے دو آنکھیں اس منظر کو بغور دیکھ رہی تھیں ۔۔
جاری ہے
