Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22

سویرا آخری کلاس لیکر باہر نکلی تین بج رہے تھے ۔۔
” گھر کیسے جاؤ گی ؟؟ ” بریڈلی نے پاس آکر پوچھا
” میری فرینڈ ڈراپ کریگی !! ” سویرا نے سادگی سے جواب دیا
” گڈ !! چلو تمہیں پارکنگ تک چھوڑ دیتا ہوں ۔۔” وہ اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھا
وہ دونوں چلتے ہوئے پارکنگ تک آئے ۔۔
” کہاں ہے تمہاری دوست ؟؟ ” وہ چاروں جانب دیکھتے ہوئے بولا
” وہ سامنے دیکھو ۔۔۔ریڈ بیوک ۔۔۔” سویرا نے اشارہ کیا
” واؤ ۔۔۔” بریڈلی اینا کو گاڑی سے اترتے دیکھ کر ستائشی انداز میں سیٹی بجاتے ہوئے بولا
” سویرا چلیں ؟؟ ” اینا پاس آئی
” مائی نیم از بریڈلی !! ” بریڈلی نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا
” سویرا کا دوست ۔۔۔” مزید اضافہ کیا
” اینا ۔۔۔” اس نے بریڈلی سے ہاتھ ملایا
” چلیں سویرا ؟؟ ” اینا نے پوچھا
سویرا ، بریڈلی کو گڈ بائے کہتے ہوئے اینا کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی
” اینا !!! ہممم آئی لائک اٹ ۔۔۔۔” بریڈلی بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
” یہ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟؟ ” سویرا نے گاڑی کا رخ ویسٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر چونک کر پوچھا
” ہم ویسٹ مال جا رہے ہیں ۔۔۔۔” اینا آرام سے بولی
” مگر کیوں ؟؟ تمہیں شاپنگ کرنی ہے کیا ؟ میں نے گھر سے اجازت نہیں لی ہے ۔۔۔” وہ لیٹ ہوجانے کے ڈر سے گھبرا کر بولی
” شاپنگ نہیں کرنی بس تمہیں ایک فون دلوانا ہے ۔۔۔” اینا گاڑی کا رخ موڑتے ہوئے آرام سے کہا
” لیکن اینا میں گھر سے پیسے لیکر نہیں آئی ہوں ۔۔۔” وہ پریشانی سے بولی
” ڈیبٹث کارڈ ہے ؟؟ ورنہ میں پیمنٹ کردونگی تم بعد میں پیسے دے دینا ۔۔۔” وہ لاپرواہی سے بولی
سویرا اثبات میں سر ہلاتی ہوئی خاموش ہو گئی ڈیبٹ کارڈ اس کے پاس تھا لیکن وہ پیسے دیکھ بھال کر خرچ کرنا چاہتی تھی مگر فون بھی ضروری تھا ۔۔۔
دو تین شاپ پر گھوم پھر کر بلآخر سویرا کو ایک اوسط درجے کا اسمارٹ فون پسند آگیا
” سویرا ہنی !! تم لیٹسٹ موڈل کا کیوں نہیں لے رہی ہوں ۔۔۔”
” اینا میں اسٹوڈنٹ ہوں ابھی افورڈ نہیں کرسکتی ۔۔۔” وہ جھجکتے ہوئے بولی
” یہ تو ہے خیر چلو یہاں سے کچھ دور میری کزن سسٹر کی کافی شاپ ہے شاید تمہاری لئیے جاب کا بھی کچھ بندوبست ہو جائے ۔۔۔” اینا سوچتے ہوئے بولی
” سچی !! واقعی اگر ایسا ہو جائے تو یہ میری زندگی کا سب سے اچھا دن ہوگا ۔۔۔” وہ خوشی سے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
” اب مجھے ہی گھورتی رہو گی کیا ؟؟ چلو تمہیں کیتھی سے ملاتی ہوں ۔۔۔”
اینا سویرا کو لیکر ایک بہت ہی پوش علاقے میں آئی جہاں چاروں جانب بڑی تعداد میں آفسسز موجود تھے یہ ایک بہت ہی مشہور کمرشل علاقوں میں سے ایک تھا
وکٹورین اسٹائل سے بنا ایک خوبصورت سا کیفے سامنے ہی تھا جہاں اندر پرانا انٹیک ماحول تھا ساری ٹیبلز بھری ہوئی تھیں زیادہ تر کسٹمرز آفیشیل لگ رہے تھے سوٹ ٹائی میں ملبوس کاؤنٹر پر تین لڑکیاں بڑی پھرتی سے کام کررہی تھی ۔۔۔
” کیتھی سے کہو اس کی سسٹر آئی ہے ۔۔۔” اینا نے ایک لڑکی کو مخاطب کیا وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اندر چلی گئی
تھوڑی ہی دیر میں ایک تیس سالہ پرکشش عورت باہر آئی
” ہیلو اینا ڈارلنگ آج تم راستہ کیسے بھول گئیں ؟؟ ” کیتھی نے قریب آکر بڑی گرمجوشی سے اینا کو گلے سے لگایا
اینا نے سویرا کا تعارف کروایا اور اس کی جاب کی بات کی ۔۔
“اینا کی دوست میری دوست !! لیکن سویرا مجھے ابھی صرف دو دن پیر اور منگل کیلیئے ہیلپ چاہئیے بولو کر لوگی ؟؟” کیتھی نے پوچھا
” مگر اس دن تو میری یونیورسٹی ہوتی ہے کیا آپ کے ویک اینڈ پر کچھ سیٹنگ نہیں ہو سکتی ؟؟ ” وہ بڑی آس سے اسے دیکھ رہی تھی
” تم یونیورسٹی کے بعد آجاؤ شام پانچ سے رات نو بجے تک ۔۔۔” کیتھی نے اسے مشورہ دیا
اینا نے ایک گہری نظر سویرا کے پریشان چہرے پر ڈالی
” کیتھی کچھ بھی کرو اسے سیٹرڈے سنڈے مارننگ شفٹ دو ۔۔” اینا دو ٹوک انداز میں بولی
” اوکے مس سویرا آپ اگلے ویک سے کام شروع کریں ہفتہ اتوار صبح سات سے دوپہر بارہ بجے تک ۔۔۔” کیتھی نے اینا کو گھورتے ہوئے کہا
” تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔” سویرا نے خوشی سے کہا
___________
ابھی وہ کلاس لیکر نکلی ہی تھی کہ ڈاکٹر اینڈریو اچانک سے اس کے آگے آگئے
” مس سویرا !! رکو تو مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔” اس نے آگے آکر راستہ روک لیا
” پلیز سر !! آپ اس طرح میرا راستہ مت روکا کریں یہ سب اچھا نہیں لگتا ۔۔۔” سویرا نے کوفت سے کہا
” اگر تم آرام سے میری بات سن لیا کرو تو مجھے بھی اس طرح تمہارے راستے میں نا آنا پڑے ۔۔۔” وہ معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے بولا
” سر آپ آخر کیا چاہتے ہیں ۔۔۔” وہ زچ آکر بولی
” سویرا تم !!! یہ تم پوچھ رہی ہو ؟؟ کہ میں کیا چاہتا ہوں ؟؟ او گاڈ ہر رات تمہاری آواز سن کر سوتا ہوں صبح اٹھتے ہی تمہارے میسجز چیک کر کے اپنے دن کا آغاز کرتا ہوں اور تم ادھر یونیورسٹی میں ایسے اجنبی بن جاتی ہو جیسے جانتی ہی نہیں ہو ۔۔۔” اینڈریو نے اس کی حسین کالی سیاہ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
” مجھے نہیں پتہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مگر پلیز آپ میری راہ چھوڑ دیں میں شادی شدہ ہوں اور آپ یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں اب اگر آپ نے آئندہ میرا راستہ روکا تو میں میں ۔۔۔۔۔” وہ اپنا آنچل سمیٹ کر اسے دھمکی دیتے دیتے چپ ہو گئی
” تو میں کیا ؟؟ سویٹ ہارٹ ویسے بھی مجھے اس راہ پر لا کر تم اس طرح سے کیسے اگنور کر رہی ہو اور رہی تمہاری شادی تو اس کی حقیقت بھی مجھے پتا ہے ۔۔۔” وہ الجھا
اس سے پہلے سویرا اسے جواب دیتی اس کا فون بج اٹھا
” سویرا اسٹوپڈ کدھر ہو تم ؟؟ کب سے ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔۔۔” بریڈلی کی تپی ہوئی آواز گونجی
سویرا نے اطمینان کا ایک گہرا سانس لیا
” پلیز جلدی سے آجاؤ میں باہر کوریڈور میں ہوں ۔۔۔”
اینڈریو حیرت سے سویرا کے ہاتھ میں فون دیکھ رہا تھا سویرا نے اس کی نظریں اپنے فون پر مرکوز دیکھ کر تیزی سے فون بند کرکے بیگ میں رکھا
” سنو !! تم نے تو کہا تھا تم فون یونیورسٹی نہیں لاتی !!! مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ۔۔۔۔” ڈاکٹر اینڈریو نے سختی سے پوچھا
” مجھے نہیں پتہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔” سویرا جو اب تک بڑی بہادری سے اس کا سامنا کر رہی تھی اب اس کا جارحانہ رویہ دیکھ کر گھبرا گئی
” سویرا لیٹس گو !! لیب اسٹارٹ ہو رہی ہے۔ ۔۔ ” بریڈلی نے اچانک سے آکر اس کا ہاتھ پکڑا
” ہے یو !! تم دیکھ نہیں رہے یہ مجھ سے بات کررہی ہے اینڈ ہاؤ ڈئیر یو ٹو ٹچ ہر ۔۔۔۔” ڈاکٹر اینڈریو نے تلخی سے کہتے ہوئے بریڈلی کا ہاتھ الگ کیا
” سر آپ ٹیچر ہیں میں رسپیکٹ کرتا ہوں لیکن یہ میری دوست ہے اور آپ اسے کم از کم میری موجودگی میں ڈرا نہیں سکتے ۔۔۔” بریڈلی سویرا کو پیچھے کرتے ہوئے بولا
” بریڈلی چھوڑو !! چلو یہاں سے ۔۔ ” سویرا نے اس کی آستین کھینچ کر اسے متوجہ کیا
” واؤ سویرا !! بڑا یارانہ بنا لیا ہے تم نے ، رات کو فون پر مجھ سے دل بہلاتی ہو اور دن میں اس کو پھانس رکھا ہے لیکن مجھ سے دھوکہ تمہیں بہت مہنگا پڑیگا ۔۔۔۔” اینڈریو غرایا
” تمیز سے بات کرو ۔۔۔ ” بریڈلی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیا
اس سے پہلے کہ معاملہ مزید بگڑ جاتا اسٹوڈنٹس کا ایک ریلہ اپنی کلاسس لیکر باہر نکلا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سویرا نے بریڈلی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور آنکھوں سے ادھر سے ہٹ جانے کی التجا کی ۔۔۔
سویرا اور بریڈلی چلتے ہوئے لیب تک پہنچ چکے تھے ۔۔
” تم نے مجھے روکا کیوں ؟؟ ” بریڈلی نے ناراضگی سے منھ پھلایا
” دیکھو خواہ مخواہ تماشہ لگ جاتا ۔۔” وہ سادگی سے بولی
” سویرا یہ ڈاکٹر کیا کھسکا ہوا ہے ؟؟ آخر کس طرح کی باتیں کررہا تھا کہیں یہ تمہیں کسی بڑی مصیبت میں نا پھنسا دے ۔۔۔” بریڈلی نے لیب کوٹ پہنتے ہوئے کہا
” کیا واقعی میں کسی مصیبت میں پھنس سکتی ہوں ؟؟ ” اب سویرا تھوڑا سا گھبرا گئی
” دیکھو ریڈنگ ویک اسٹارٹ ہو رہا ہے اب دس دن کیلیئے تو یونیورسٹی بند ہو رہی ہے اس لئیے اب دس دن بعد ہی اس سڑے ڈاکٹر کو دیکھتے ہیں اور تم فکر مت کرو میں ہوں نا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔” وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا
” اللہ بریڈلی تم بہت اچھے دوست ہو ۔۔۔” سویرا کی آنکھوں میں نمی امنڈ آئی
” خیر اب اتنا بھی اچھا نہیں ہوں بس اب تمہیں بھی میرا ایک کام کرنا ہوگا ۔۔۔” بریڈلی نے اسے گھورا
” کیسا کام ؟؟ ” سویرا پریشان ہو گئی
” کوئی بم بلاسٹ کرنے کا نہیں کہہ رہا جو تمہارے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی ہیں بس تم میری اپنی دوست اینا سے سیٹنگ کروا دوں ۔..” بریڈلی نے اس کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنی ڈیمانڈ پیش کی
” مگر اینا تو شاید تم سے بڑی ہے ۔۔۔”
” تو اس سے کیا ہوتا ہے ؟؟ ایک تو تم ایشین لوگ کبھی بھی اس بڑے چھوٹے کے چکر سے نہیں نکلتے !! وہ مجھے اچھی لگی ہے شاید میری ہم عمر ہوگی یا پھر ایک آدھ سال بڑی پر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم بس اسے میرے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے لیے ایگری کرو ۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولتے ہوئے اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا
” اللہ اللہ اب میں یہ بھی کرونگی ۔۔۔” سویرا بڑبڑاتی ہوئی اپنی سیٹ پر چلی گئی
******************
جمعہ کا دن تھا شہریار آج پورا دن میٹنگز میں مصروف رہا تھا ابھی فارغ ہو کر آفس میں آیا تھا اور اب اپنا فون چیک کر رہا تھا عروہ کی بیس مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں
اس نے اپنا کوٹ اتار کر ایک بازو پر لیا بریف کیس دوسرے ہاتھ میں پکڑ کر کانوں پر بلو ٹوتھ لگا کر عروہ کو کال ملائی اور باہر نکل آیا ارادہ گھر جانے کا تھا باوردی دربان نے اسے آتے دیکھ کر جلدی سے دروازہ کھول کر سلام کیا وہ سر کے اشارے سے جواب دیتے ہوئے کال سن رہا تھا
” شیری کب سے کال کررہی ہوں آخر تم ہو کدھر ؟؟ ” وہ خفا خفا سے انداز میں بولی
” کم آن عروہ !! مجھے ہزاروں کام ہوتے ہیں گرو اپ ہر وقت یہ شکوہ شکایات مجھے پسند نہیں ہیں ۔۔۔۔” وہ اس کے خفا لہجہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بولا
” کتنے روڈ ہو تم شیری !! کبھی تو پیار سے بھی بات کرلیا کرو ۔۔۔” وہ دھیمی ہوئی
” کم ٹو دا پوائنٹ ، کیوں فون کررہی تھی ؟؟ ” اس نے ٹوکا
” ممی ڈیڈی تم سے ملنا چاہ رہے ہیں تاکہ نیکسٹ ویک اینڈ پر ہماری انگیجمنٹ پارٹی ارینج کی جا سکے ۔۔۔” وہ سنجیدہ ہوئی
” اوکے تم اپنے پیرنٹس کو گھر لے آؤ ، اس میں کون سی بڑی بات ہے ۔۔۔” وہ گاڑی اسٹارٹ کر کے روڈ پر نکل آیا
” نہیں شیری !! تمہارے گھر نہیں ادھر وہ تمہاری سو کالڈ بیوی ہے میں نہیں چاہتی میرے گھر والوں کو اس کا پتہ چلے اس لئیے تم کل رات کا ڈنر میرے گھر کرو ۔۔۔” عروہ نے ضدی لہجے میں کہا
” عروہ میں جھوٹ بول کر رشتہ قائم کرنے والوں میں سے نہیں ہوں تم اپنے پیرنٹس کو سب بتا دو ورنہ میں خود بتا دونگا۔۔۔” وہ دوٹوک لہجے میں بولتے ہوئے فون بند کرگیا
گھر کے پاس ڈرائیو وے میں اس نے اپنی گاڑی پارک کی اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا گھر کی طرف بڑھا اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر کچن کی طرف اٹھی جہاں سویرا حسب معمول کھانا پکانے میں مصروف تھی وہ آرام سے اپنی چابی اور بریف کیس مخصوص جگہ پر رکھتے ہوئے آگے بڑھا سویرا کے سلام پر حسب معمول سر ہلاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
شہریار کے اندر جاتے ہی سویرا نے چولہے کی آنچ کم کی اور گلاس میں پانی نکال کر شہریار کے کمرے کی طرف بڑھی دروازے پر پہنچ کر ناک کیا
” آجاؤ ۔۔۔” شہریار کی مصروف سی آواز گونجی
” یہ پانی ۔۔۔۔” سویرا نے پانی اس کے سامنے کیا
” سنو ایک اسٹرانگ سی بلیک کافی لیکر آؤ ۔۔۔” وہ گلاس اٹھاتے ہوئے بولا
” ڈنر بھی ریڈی ہے ۔۔۔۔” سویرا نے دھیمے سے کہا
شہریار نے اسے گھور کر دیکھا
” جی میں کافی لاتی ہوں ۔۔۔” وہ بوکھلا کر باہر نکل گئی
وہ جلدی جلدی سے کافی بنا کر کپ میں انڈیل ہی رہی تھی کہ فریش فریش سا ٹراؤزر اور ہالف ٹی شرٹ پہنے ہوئے شہریار اندر داخل ہوا
” وہ میں بس کافی لا ہی رہی تھی ۔۔۔۔” وہ تیزی سے بولی مبادا وہ غصہ ہی نا ہوجائے
” ڈنر میں کیا ہے ؟؟ ” وہ اس کا ڈر نظر انداز کرتے ہوئے بولا
” جی وہ بریانی بنائی ہے ۔۔۔” سویرا نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
” ٹھیک ہے ڈنر سرو کرو ۔۔۔” وہ آرام سے فرج سے کوک کا کین نکال کر میز کی طرف بڑھا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
سویرا نے جلدی سے ٹرے میں بریانی نکالی فرج سے دہی کا باؤل نکال کر ٹیبل پر رکھا پلیٹیں لیکر آئی اور خود بھی آرام سے بیٹھ گئی یہ ایک ان دیکھا سا ربط بن گیا تھا رات کا کھانا خاموشی سے وہ دونوں ساتھ کھاتے تھے ۔۔۔
شہریار نے کھانا کھاتے ہوئے ایک نظر سویرا پر ڈالی جو سادہ سے قمیض شلوار میں ملبوس سر پر دوپٹہ اوڑھے نظریں جھکائے کھانا کھانے میں مگن تھی
” تم کھانا اچھا بناتی ہوں ۔۔۔۔” اس نے سویرا کو مخاطب کیا
سویرا نے حیرت سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو ہمیشہ خاموشی سے ناشتہ اور ڈنر کرتا تھا سویرا سے تو کبھی نرمی سے بات ہی نہیں کرتا تھا اور آج کھانے کی تعریف کررہا تھا
” میں کل عروہ کے پیرنٹس کو ڈنر پر انوائیٹ کررہا ہوں وہ اپنی بیٹی کا سسرال دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکا
” کھانا باہر سے آرڈر کرونگا تم اگر کچھ کرنا چاہو تو کر لینا ۔۔۔” شہریار نے نیپکن سے منھ صاف اور اٹھ گیا
سویرا خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی اس کی آنکھیں نا چاہتے ہوئے بھی ڈبڈبانے لگی تھیں ۔۔
” یہ تو طے تھا کہ راستے الگ ہونے ہیں لیکن اتنی جلدی ۔۔۔۔۔۔” وہ خاموشی سے آنسو پیتے ہوئے اٹھی
” مجھے اب جاب کر لینی چاہیے جتنی جلدی میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاؤ گی اتنا ہی ہم۔سب کیلیئے اچھا ہوگا ۔۔۔۔” وہ جاب جوائن کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی
اپنے کمرے میں آکر اس نے اینا کو فون ملا کر جاب کرنے کی رضامندی ظاہر کردی تھی لیکن اینا نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ شہریار کو جاب کا ضرور بتا دے صبح ہفتہ تھا وہ اسے ٹھیک سات بجے پک کر کے کیفے ڈراپ کرنے کے لیے آرہی تھی ۔
” ذلت اٹھانے سے بہتر ہے کہ انسان تکلیف اٹھا لے اگر انہیں بتائے بغیر جاب کی تو کیا پتہ غصہ ہو کر یونیورسٹی ہی چھڑوا دیں ۔۔۔۔” وہ کافی دیر گھٹنوں پر سر رکھے خاموشی سے سوچتی رہی پھر بڑی ہمت کرکے اٹھی اور سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے شہریار کے کمرے کی جانب بڑھی دروازہ کھلا ہوا تھا سامنے ہی شہریار فون پر بات کررہا تھا اس نے بات کرتے ہوئے ایک اچٹتی سی نظر سویرا پر ڈالی اور اسے اندر آنے کی سر ہلا کر اجازت دی ۔
” تم فکر مت کرو کل ہی تمہارے پیرنٹس سے بات کرکے ڈیٹ فکس کرتا ہوں بس تم سب بھول کر ہماری منگنی کی تیاری کرو ۔۔۔” وہ رسان سے سمجھاتے ہوئے بول رہا تھا
سویرا نے ایک نظر اس پر ڈالی بلیک ٹراؤزر پر بلیک ہی ٹی شرٹ پہنے چہرے پر بلا کی سنجیدگی لئیے بھی وہ شاندار لگ رہا تھا سویرا نے اسے دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ مسلے جو بھی تھا اسے آج ہر قیمت پر شہریار سے ابھی اپنی جاب کی بات کرنی تھی ۔
” کیا کام ہے ؟؟؟ ” شہریار نے فون بند کر کے گم سم کھڑی ہاتھ مسلتی سویرا کو گھورا
” مجھے آپ سے اجازت چاہئیے تھی میں جاب کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔” وہ سانس روکتی ہوئی تیزی سے کہہ گئی
شہریار کے چہرے پر ایک استہزائیہ سی مسکراہٹ ابھری لندن جیسے شہر میں جاب کا ملنا وہ بھی سویرا جیسی لڑکی کیلیئے ناممکنات میں سے تھا اس نے بڑی دلچسپی سے سویرا کو دیکھا ۔۔۔
” ایک تو تم گھریلوں لڑکیوں کے ساتھ پتا نہیں کیا پرابلم ہے ذرا سا گھر سے باہر کیا نکلتی ہو لگتا ہے دنیا فتح کر لوگی ٹھیک کہتی ہے عروہ ۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکا
” سنو لڑکی ! تم ادھر پڑھنے آئی ہو بہتر ہے اس پر توجہ دو یہ جاب وغیرہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے سیدھے سیدھے اپنی تعلیم مکمل کرو اور میری جان چھوڑو ۔۔۔” وہ اکتائے ہوئے لہجہ میں بولا
سویرا نے سکتے کی سی حالت میں اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے سر کا سائیں تھا لیکن کسقدر اس کی ضرورتوں سے اس کی پریشانیوں سے انجان تھا کتنے آرام سے اپنی منگنی کی تیاریاں کررہا تھا اور اس سے جان چھڑانے کا کہہ رہا تھا ۔
وہ خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آئی آج اسے شہریار اپنی زندگی سے مکمل طور پر نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس کا دماغ بالکل ماؤف تھا اور ٹانگوں سے جیسے جان سی نکل رہی تھی وہ بمشکل خود کو گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے تک لائی ۔۔۔
” میں اپنے آپ کو کیوں ان پر مسلط کر رہی ہوں ؟؟ کیوں خود کو اسقدر ذلیل کروا رہی ہوں ؟؟ ” سوچنے کے قابل ہوتے ہی اس کے دماغ میں پہلا خیال اپنی عزت نفس کا آیا
یہ ذلت ہی تو تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے بھی وہ عروہ کو اس پر ترجیح دے رہا تھا اس نے تو کبھی اس رشتے کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔سویرا نے خود کو سمیٹا اور کھڑی ہو کر صبح جاب پر جانے کیلئے کپڑے نکالنے لگی ساری تیاری کرکے وہ اپنی الماری کے پاس آئی اور اس میں سب سے نچلے خانے میں رکھے اپنے ڈاکومنٹس کے نیچے سے اپنے مرحوم بابا کی تصویر نکالی اسے چوما اور سینے سے لگا کر بستر پر لیٹ گئی ۔
” بابا کبھی کبھی زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوجاتا ہے نا ؟؟ اتنی تکلیف تو کبھی پھپھو کی باتوں سے نہیں ہوئی جتنی آج ان کی منگنی کی خبر سن کر ہوئی ہے ۔ کاش میں نے پھپھو کی بات مان لی ہوتی میں !! کاش میں یہاں نہیں آئی ہوتی !! کاش مجھے ان سے ۔۔۔۔۔۔۔وہ سسک اٹھی
کیا یتیم ہونا گناہ ہے بابا ؟؟ “
” کیا یتیم ہونا گناہ ہے ؟؟ “
وہ روتےروتے سو سوگئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *