Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37

شہریار گاڑی تیز رفتاری سے دوڑاتے ہوئے گھر کی طرف جا رہا تھا گھر کے پاس پہنچ کر اس نے گاڑی پارک کی۔ سامنے ڈرائیو وے میں سوٹ کیس رکھے ہوئے تھے۔ وہ تیزی سے سویرا کو گاڑی میں ہی چھوڑ کر نیچے اتر کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر بڑھا۔ سامنے ہی بابا سائیں ، امی اور پھوپھو تھکے ہارے سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔
” اسلام علیکم! ” وہ زور سے پرجوش انداز میں سلام کرتا ہوا ہوا بابا سائیں سے لپٹ گیا۔
“کہاں تھے شیرو؟ ہم کب سے یہاں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ میری تو تھکن سے حالت ہی خراب ہوگئی ہے ، تم کم سے کم اس سویرا کو تو گھر چھوڑ جاتے۔ ” فرزانہ پھپھو نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
” شیرو سویرا بیٹی کدھر ہے؟ نظر نہیں آرہی۔” زاہدہ بیگم نے پوچھا۔
شہریار نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ جہاں سویرا سوٹ کیسز کو گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس لا رہی تھی۔
” اچھا اچھا اب یہ گلے شکوے گھر کے اندر چل کر لیں گے۔ شیرو بیٹا دروازہ کھولو اور بیگم! آپ آپا کو لے کر اندر چلیں۔ میں بیگ لے کر آتا ہوں۔” سلیم صاحب نے دونوں خواتین کو ٹوکا۔
شہریار نے مین دروازہ کھول کر اندر کی لائٹ جلائی ۔
” امی پھپھو آپ لوگ بیٹھیں میں اور سویرا ابھی سامان لے کر آتے ہیں۔” اس نے لاؤنج میں بچھے صوفہ سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔
” چلو بیٹا میں بھی ہیلپ کروا دیتا ہوں ۔” سلیم صاحب بولے۔
” بابا سائیں آپ رکیں ، میں سامان لے آؤں گا۔ ” وہ سلیم صاحب کو روکتے ہوئے تیزی سے باہر نکلا۔
دھان پان سی سویرا بڑی مشکل سے ایک سوٹ کیس کو لیکر اوپر کی طرف آرہی تھی۔ اس نے خاموشی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے سوٹ کیس تھاما اور اسے اندر جانے کا اشارہ کیا۔
سویرا ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ سامنے ہی سب بیٹھے ہوئے تھے۔
” السلام علیکم! ” اس نے ہمیشہ کی طرح نگاہیں نیچی کیے دھیمے لہجے میں سلام کیا۔
” وعلیکم السلام بیٹی! ” سلیم صاحب نے شفقت سے جواب دیتے ہوئے قریب آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
زاہدہ بیگم سویرا کو غور سے دیکھ رہی تھیں، لندن آکر اس کا رنگ روپ اور بھی نکھر گیا تھا۔ وہ ان کے اکلوتے بیٹے کی بیوی تھی، ان کے خاندان کی نسلوں کی امین۔ وہ بڑے پرجوش انداز میں اٹھ کر آگے بڑھیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ان کی گرم جوشی اور شفقت محسوس کر کے سویرا کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔
“اب اس فضول ڈرامہ کو ختم بھی کرو۔ اس منحوس کو تو کوئی مروت اور لحاظ تک نہیں ہے۔ اتنا لمبا سفر کرکے مہمان آئے ہیں اور یہ، نہ چائے پانی کو پوچھا۔ الٹا ٹسوے بہا رہی ہے ہمیں دیکھ کر۔ ” فرزانہ کڑی نظروں سے سویرا کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
” آپا آپ بھی، بس کریں نا۔ ” زاہدہ بیگم نے انہیں ٹوکا۔
اس سے پہلے فرازنہ پھپھو کچھ جواب دیتیں۔ شہریار سارا سامان واچ مین کی مدد سے اوپر لے آیا تھا اور ایک نظر سویرا کے ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوئے پھپھو کی طرف بڑھا۔
” پھپھو ، امی آئیں میں آپ کو روم دکھا دوں۔ آپ لوگ فریش ہولیں اور سنو تم جلدی سے چائے پانی لیکر گیسٹ روم میں آؤ۔ “وہ ساکت کھڑی سویرا سے کہتا ہوا سب کو لیکر اندر بڑھا۔ کچن کی داہنی طرف ایک بڑا سا گیسٹ روم تھا۔ جس میں دو بڑے بیڈ سیٹ الماری صوفہ ٹی وی سب موجود تھا۔
” اے نوج! کیا ہم سب ایک ہی کمرے میں رہیں گے؟ ” پھپھو نے ناقدانہ انداز میں کمرے کا جائزہ لیا۔
شہریار نے سلیم صاحب اور سعیدہ بیگم کا سامان کمرے میں رکھا اور پھر آگے بڑھ کر پھوپھو کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” آپ کے لیے پورا گھر حاضر ہے، آئیے میں آپ کو دوسرا کمرہ دکھا دیتا ہوں۔ ” وہ رسان سے بولا۔
” آپا یہ اتنا بڑا کمرہ ہے اور پھر ہم چھٹی پر آئے ہیں۔ اچھا ہے نا سب مل جل کر رہے گے۔ ویسے بھی آپ اکیلے کمرے میں کیا کریں گی؟ ” سلیم صاحب نے انہیں ٹوکا۔
” نہیں میاں! پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ویسے بھی مجھے رخسار نے بتایا تھا کہ شیرو کے گھر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ “انہوں نے تنک کر کہا۔
” بابا سائیں ، پھپھو کو مت روکیں۔ یہ ان کا گھر ہے۔ جہاں دل چاہے رک سکتی ہیں۔ ” وہ کہتے کہتے فرازنہ پھپھو کی طرف مڑا۔
” آئیے پھپھو! آپ کو دوسرا کمرا دکھاتا ہوں۔ ” وہ انہیں لیکر سویرا کے کمرے کی طرف آیا۔
” آپ اس کمرے میں ٹھہریں اور چلیں اب جلدی سے فریش ہو جائیں۔ میں جب تک چائے منگواتا ہوں۔ “
” نہیں شیرو! چائے نہیں، میں تو کھانا کھاؤں گی۔ اس موئے جہاز میں کچھ بھی ڈھنگ کا کھانے کو نہیں ملا۔ “
” آپ فریش ہوں، میں تب تک کھانا آرڈر کرتا ہوں۔ ” وہ فون نکالتے ہوئے بولا۔
” یہ اچھا ہے کہ تم نے بیوی کو سر پر نہیں چڑھایا آرڈر کرتے ہو اس کو۔ بہت اچھا کرتے ہو۔ ” وہ مسکرائیں۔
” پھپھو میرا مطلب باہر ریسٹورنٹ سے آرڈر کرنے کا تھا۔ ” اس نے تصیح کی۔
فرزانہ پھپھو کے تو سر پر مانو جیسے پہاڑ گر گیا تھا۔
“اب تمہاری بیوی کیا گھر آئے مہمانوں کو پکا کر کھلا بھی نہیں سکتی؟ غضب خدا کا اب ہم بیمار باہر کا کھا کر اور بیمار پڑیں گے۔ ” انہوں نے گال پیٹے۔
” اچھا آپ فکر مت کریں میں سویرا سے کہہ کر کچھ پکواتا ہوں۔ ” وہ بات ختم کرتے ہوئے باہر نکلا۔
***********
وہ تایا ابو اور تائی امی کو پانی کی بوتل اور چائے دیکر واپس کچن میں آئی تھی اور اب دوسری ٹرے میں پھپھو کے لیے چائے رکھ رہی تھی جب شہریار کچن کے اندر آیا۔
” پھپھو کو میں نے تمہارے کمرے میں ٹھہرا دیا ہے۔ اب تم اپنا انتظام کہیں اور کر لینا۔ ” وہ سنجیدگی سے اس کے صبیح چہرے کو اپنی نگاہوں کی گرفت میں لیتے ہوئے بولا۔
” میں میں کہاں جاؤں؟ ” وہ پریشان ہو اٹھی۔
” اب یہ بھی کیا مجھے بتانا پڑیگا؟ ” اس نے سویرا کو گھورا۔
” دیکھیں آپ سمجھتے کیوں نہیں۔ میں پھپھو کے ساتھ روم شیئر نہیں کرسکتی۔ بلکہ وہ ہی راضی نہیں ہونگیں۔ ” سویرا نے انگلیاں مسلتے ہوئے کہا۔
شہریار دو قدم آگے بڑھا اور اس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا۔
” مسز شہریار! میرے ہوتے ہوئے آپ کسی اور کے سارتھ روم شیئر کر بھی نہیں سکتی ہیں۔ “
” لیکن آپ! آپ!! تو مجھ سے خفا ہیں نا۔ میں تائی امی کے پاس سو جاؤ ں گی۔ ” وہ سوچتے ہوئے بولی
” اسٹاپ اٹ ، یو فول! اب بس بہت ہوگیا۔ تم نے اب تک جتنی حماقتیں کرنی تھی کر لی ہیں۔ اب سے تم ہمارے کمرے میں رہوگی۔ اپنی جگہ پہچانو اور یقین کرو تمہاری ایک ایک حماقت کا میں تم سے کڑا حساب لینے والا ہوں۔ ” وہ اس کے ہاتھوں کو آزاد کرتے ہوئے فون کی طرف بڑھا اور نزدیکی ریسٹورنٹ سے کھانا آرڈر کیا۔
” سنو! یہ پھپھو کی چائے مجھے دو اور سب سے یہی کہنا کہ کھانا تم نے بنایا ہے۔ ” وہ سنجیدگی سے بولا۔
” میں کچھ پکا لیتی ہوں۔
ایسے باہر کا کھانا اچھا نہیں لگتا۔ “
” سنو! تم بھی اس وقت تھکی ہوئی ہو اور کل سے جو چاہے پکا لینا۔ انفیکٹ میں صبح ہوتے ہی ایک کک اور ہاؤس کیپر ارینج کررہا ہوں تاکہ تم پر برڈن نا پڑے۔ “
” اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں مینج کر لوں گی۔ “
” میری بیوی ہر وقت کام کر کر کے ماسی بنی رہے تو میرے اتنا کمانے کا کیا فائدہ؟ ” وہ اس کے بہت نزدیک آکر آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
” مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ہر سکھ دے۔ اس پر اپنی کمائی لٹائے، کچھ سمجھ میں آیا؟ ” اس نے سویرا کے سر سے دھیرے سے اپنا سر ٹکرایا۔
” پہلے بس میں اور تم تھے اور تم میرے لیے، بس میرے لیے پکاتی تھیں۔ لیکن اب کام زیادہ ہے۔ میں تمہیں تھکانا نہیں چاہتا۔ مجھے اپنی بیوی روز آفس سے واپسی پر تروتازہ چاہیے ، انڈر اسٹینڈ ؟ “
وہ اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور چائے کی ٹرے اٹھا کر پھپھو کے کمرے کی طرف چلا گیا۔
ڈیلیوری بوائے کے آتے ہی سویرا نے جلدی سے میز لگا کر سب کو اطلاع دی۔ کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔ سفر کی وجہ سے سب ہی بہت تھکے ہوئے تھے۔ ان سب کے کمرے میں جاتے ہی سویرا نے برتن سمیٹنے شروع کیے۔
” سنو یہ سب کام صبح ہو جائیں گے۔ تم جلدی سے روم میں آؤ۔ ” شہریار اسے حکم دیتا ہوا اندر چلا گیا۔
**********
وہ کمرے میں جلے پیر کی بلی کی طرح ٹہل رہی تھیں۔ سویرا کا روپ ، اس کی دلکشی ، شہریار کی اس پر اٹھتی نظریں، چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ دونوں ایک ہوچکے ہیں۔ اس رشتے کو تسلیم کر چکے ہیں۔ لیکن! وہ انگریز جو رات کو ملا تھا۔
وہ کمرے سے نکل کر سیدھی کچن کی طرف آئیں اور بہت ہی جارحانہ انداز میں میں کچن میں کام کرتی ہوئی سویرا کو ایک جھٹکے سے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔
” آہ! ” سویرا کے منھ سے نکلا ۔
” تم نے کیا سوچا تھا کہ تم گھنی بنی ادھر گلچھرے اڑاتی رہو گی اور ہم سب کی آنکھوں میں دھول جھونک دوگی؟ ” وہ غرائیں۔
” میں نے کیا کیا ہے؟ پھپھو! آپ پلیز آرام سے بات کریں۔ ” وہ اپنا بازو ان کی سخت گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی۔
” آرام؟ آرام سے بات کروں؟؟ وہ بھی تجھ جیسی منحوس سے۔ ارے آرام تو ہمارے نصیب سے اسی دن اٹھ گیا تھا۔ جب تو پیدا ہوئی تھی۔ میرے گھبرو بھائی کو کھا گئی۔ لیکن اب میں تجھے شیرو کے ساتھ ایسا کرنے نہیں دوں گی۔ تو جو ہمارا منھ کالا کرنے کا سوچ رہی ہے مجھے سب پتا ہے۔ ” وہ ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑتے ہوئے بولیں۔
” پھپھو! آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں؟ مم میں نے کیا کیا ہے؟ ” وہ اٹکتے ہوئے بولی۔
” خبردار! جو میرے آگے زبان کھولی۔ چمٹے سے کھینچ کر کاٹ کر پھینک دونگی۔ “
” فرزانہ آپا کیا ہوا ؟ ” زاہدہ بیگم جو سویرا کی مدد کروانے کا سوچ کر کچن میں آئی تھیں۔ تیزی سے ان دونوں کے بیچ میں آئیں۔
” کیا ہوا ہے؟ ارے مجھ سے کیا پوچھتی ہو۔ ہمت ہے تو اس کرم جلی سے پوچھو۔ جو اتنے عرصے سے میرے شاہو کو الو بنا کر ادھر گلچھرے اڑا رہی ہے۔ ” وہ قہر برساتی نظروں سے سویرا کو گھورتے ہوئے بولیں۔
” قسم لے لیں تائی امی! مجھے کچھ نہیں پتا۔ پھپھو کیوں اتنا ناراض ہو رہی ہیں؟ میں، میں ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
” اپنی اس دو ٹکے کی معصومیت سے تم مجھے الو نہیں بنا سکتی۔ میں خوب جانتی ہوں۔ کیسے تم میرے شاہو کو دھوکا دے رہی ہو۔ ” وہ بھڑک کر بولیں۔
” آپا آپ بڑی ہیں۔ پر مجھے لگتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اپنی سویرا تو بہت نیک اور سعادت مند بچی ہے۔ ” زاہدہ بیگم جو حواس باختگی سے فرزانہ کا رویہ دیکھ رہی تھیں۔ ان کو ٹوکتے ہوئے بولیں۔
” سویرا بیٹی تم اپنے کمرے میں چلو اور آپا آپ میرے ساتھ آئیں۔ “
***************
سویرا اپنی آنکھیں صاف کرتی ہوئی بوجھل قدموں سے بیڈروم کی جانب بڑھی۔ پھپھو کی نفرت آج بھی اتنی ہی تھی اور اب پتہ نہیں وہ کیوں اس کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہی تھیں۔ وہ گردن جھکائے وسوسوں میں گھری کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے اندر خوف ڈیرا ڈال رہا تھا۔ شہریار نے ہمیشہ اس کی ذات کی نفی کی تھی اور اب جب وہ اس رشتے کو تسلیم کرنے لگا تھا تو پھپھو کا آنا اسے مزید ڈرا رہا تھا۔ کل اسے یونیورسٹی بھی جانا تھا۔ اس کی اجازت بھی لینی تھی۔ وہ ہمت کرکے اس کمرے میں آئی تھی۔ سامنے ہی بیڈ پر شہریار اس کے نئے فون کا سیٹ اپ کررہا تھا۔
” کیا ہوا؟ ” سویرا کی آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر اس کے فق چہرے کو دیکھا۔
” مم مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ ” وہ لرزتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی۔
” گھبراہٹ؟ ” شہریار نے حیرت سے اسے دیکھا ہاتھ میں تھاما فون بیڈ پر رکھ کر کھڑا ہوا اور چلتے ہوئے اس کے نزدیک آکر رکا۔
” کیا بات ہے؟ ” اس نے سنجیدگی سے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھ کر پوری توجہ سے پوچھا۔
سویرا نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ وہ اسے پھپھو ، ڈاکٹر اینڈریو اور یونیورسٹی سب کے بارے میں بتانا چاہتی تھی پر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
” سنو لڑکی! میں تمہارا لائف پارٹنر ہوں اور یہ جو ہمارا رشتہ ہے نا اس میں سب سے اہم آپس کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر ایک بار اس رشتے کے بیچ انا اور بے اعتباری کی فصیل حائل ہو جائے تو پھر جو فاصلے قائم ہوتے ہیں، وہ ساری زندگی نہیں مٹتے ہیں اور تمہیں مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ اس لیے پریشان مت ہو اور بلا جھجک کہو کیا کہنا ہے؟ ” اس نے سامنے کھڑی ڈر و خوف سے لرزتی ہوئی لڑکی کی ہمت بندھائی۔
” آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟ “اس نے بمشکل پوچھا۔
” کیوں؟ تم ایسا کیوں لگا؟ ” شہریار نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔
” وہ میں نے آپ کو عروہ جی سے شادی کرنے کا کہا تھا۔ ” وہ ہاتھ مسلتے ہوئے پریشانی سے بولی۔
” ہاں کہا تو تھا اور کیا سوچ کر کہا تھا۔ اب لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دو ؟ ” اس کا لہجہ تلخ ہوا۔
” کیا آپ واقعی! سچی میں عروہ جی سے شادی کریں گے؟ ” وہ لرزتی ہوئی آواز میں آنکھوں میں نمی لیے اس کا ضبط آزما رہی تھی۔
” میں تم سے اپنے اوپر اتنی بے اعتباری کی وجہ پوچھنا چاہتا ہوں؟ جب سے میں نے تمہیں اپنی ذات کا حصہ بنایا ہے۔ کیا تمہیں احساس نہیں ہوا میری چاہت کا؟ یا میں تمہیں دغاباز نظر آتا ہوں؟ ” وہ غصہ دباتے ہوئے بولا۔
” میں آپ سے اپنے روئیے کی معافی چاہتی ہوں۔ ” وہ کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولی۔
” تم تو عروہ سے میری شادی کروانے پر تلی تھیں۔ اب کیا ہوا ؟ اب تو سب گھر والے بھی آگئے ہیں۔ کیا خیال ہے اس ویک اینڈ پر تمہاری یہ خواہش پوری کردوں؟ “
” مم میں ایسا نہیں چاہتی تھی ل۔ وہ تو آپ پارکنگ میں عروہ جی کے ساتھ۔۔۔ میں مر جاؤنگی، آپ پلیز ایسا مت کریں۔ ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
” تمہاری عقل کو سات سلام ہیں! اگر پارکنگ تک آہی گئیں تھی۔ تو آگے آکر حق سے سوال کیوں نہیں کیا؟ بولو جواب دو ؟ ” وہ دھاڑا۔
” اب یہ اپنا ہر وقت کا رونا دھونا بند کرو۔ سیریسلی آئندہ اگر میں نے تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو دیکھے تو یہ آنکھیں ہی پھوڑ ڈالوں گا۔ فساد کی جڑ ہیں یہ تمہاری آنکھیں۔ دماغ خراب کردیتی ہیں میرا۔ ” وہ تپ گیا۔
” وہ میری اسٹیڈیز مجھے کل سے ۔۔۔۔۔” وہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی۔
” باقی باتیں بعد میں تم ابھی ڈریس چینج کرکے آؤ اور صبح کی فکر مت کرو میں تمہیں ڈراپ کردوں گا۔ “
” پر وہ اینڈریو سر! ” وہ اٹکی۔
” کون اینڈریو! وہ ذلیل آدمی؟ تم اسے کیسے جانتی ہو؟ ” شہریار نے سختی سے سویرا کا بازو جکڑا۔
” بولو سویرا جواب دو۔ اس سے پہلے میرا دماغ گھوم جائے۔” وہ دھاڑا۔
” مجھے درد ہو رہا ہے۔ ” سویرا کی آنکھوں میں تکلیف کی شدت سے نمی ابھر آئی۔
” وہ ہمارے انسٹیٹیوٹ میں ٹیچر ہیں۔ ” سویرا مدھم بھرائے ہوئے لہجے میں استنبول ایئر پورٹ سے لیکر منگنی کے دن تک کے سارے واقعات ایک ایک کرکے بتاتی چلی گئی۔
” ہممم تم نے مجھ سے کچھ کہا کیوں نہیں؟ میں مر گیا تھا کیا ؟ “
” آپ اس وقت مجھے پسند نہیں کرتے تھے۔ بات بھی نہیں کرتے تھے۔ پھر مجھے آپ سے ڈر بھی تو لگتا تھا۔”
” سویرا! تم میری بیوی سے پہلے میرے خاندان کی عزت ہو، میری عزت ہو۔ ایسے راہ چلتے بدمعاش قسم کے لڑکوں کی حرکتیں اپنے گھر والوں سے کبھی بھی چھپانی نہیں چاہیے۔ یہ لڑکی کو اکیلا سمجھ کر اور شیر ہوتے ہیں اور تم اکیلی نہیں ہو اوکے! ” اس نے تاسف سے سویرا کو دیکھا۔
” میری بیوی کی طرف اب اس نے آنکھ بھی اٹھائی تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ ” اس نے سویرا کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
” سوری ” وہ دھیمے لہجے میں بولی اور آنکھیں صاف کرکے دروازے کی طرف پلٹی۔
” اب کدھر جا رہی ہو ؟ ” اس نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔
” میرے کپڑے ادھر کمرے میں ہیں۔ “
” اب اس وقت کیا پھپھو کو ڈسٹرب کر کے اپنا تعریف نامہ سننے کا ارادہ ہے؟ جاؤ میری وارڈروب سے کچھ نکال کر پہن لو۔ ” اس نے ٹوکا ۔
سویرا ہچکچاتے ہوئے اس کی وارڈروب کھول کر کھڑی ہوگئی۔ چاروں جانب مردانہ لباس لٹک رہے تھے۔
” اب کیا کسی ملک کا نقشہ بنا رہی ہو؟ واللہ اتنا تو علامہ اقبال بھی نہیں سوچتے ہوں گے جتنا تم سوچتی ہو۔ ” شہریار نے اسے الماری کے آگے جما دیکھ کر پوچھا
” وہ ادھر قمیض شلوار نہیں ہے۔ ” سویرا منمنائی۔
” قمیض شلوار؟؟ تم نے کیا مجھے رضیہ سلطانہ سمجھا ہوا ہے ، جو میں قمیض شلوار پہنوں گا ؟ ” وہ ٹھیک ٹھاک تپا اور اٹھ کر الماری تک آیا۔ سویرا کو بازوں سے پکڑ کر پیچھے کیا اور اپنی ایک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
” یہ لو آج اسی سے گزارا کرو۔ کل میں تمہارے لیے فارمل ڈریسسز اور نائٹ ڈریس کا ارینج کرلونگا۔ “
” وہ.. اس کے ساتھ کوئی دوپٹہ یا اسکارف؟ ” سویرا نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
شہریار اس کی بات سن کر تقریباً اچھل پڑا۔ یعنی حد تھی۔ وہ اس کی الماری میں سے دوپٹہ برآمد ہونے کی امید کررہی تھی۔
” مائی ڈیئر مسز شہریار! ” وہ اس کو شانوں سے تھام کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
” آپ کو دوپٹہ اوڑھانا ، اپنے نام کی مہندی لگوانا ، اپ کے گالوں پر اپنے نام کی سرخی پھیلانا، یہ میرا کام ہے ۔ اب آپ اس روم میں آگئی ہیں تو بیفکر رہیں سب ہو جائے گا۔” وہ اس کے نزدیک آکر بلا تمہید بول رہا تھا اور اس کی باتیں سمجھ کر وہ شرم سے سرخ پڑ رہی تھی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *