Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31

شہریار اوپر اپنے کمرے میں آیا تو سویرا نماز پڑھنے میں مگن تھی۔ پورا کمرہ صاف ستھرا سمٹا ہوا تھا۔ وہ ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے لباس تبدیل کرنے چلا گیا۔
سویرا نے نماز پڑھ کر جائے نماز سمیٹی۔ اب اس کا ارادہ نیچے جا کر اینا کی مدد کرنے کا تھا۔ وہ بچپن سے ہی زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کرتی چلی آئی تھی اور اب اس موڑ پر زندگی اس کیلئے جو چیلنچ لیکر آئی تھی۔ وہ اسے قبول کر چکی تھی۔ اپنی حیثیت کا تعین کر چکی تھی۔ وہ صرف ایک ملازمہ تھی اور بس جسے شہریار کا گھر سنبھالنا تھا۔ اس کے دیے گئے کام سر انجام دینے تھے۔
شہریار آفس جانے کی مکمل تیاری کے ساتھ تیار اپنی شرٹ کے کف لنکس لگاتا ہوا ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تو سویرا کو دروازہ کھولتے دیکھ کر چونک گیا۔
” کہاں جا رہی ہو؟ ” اس نے سوال کیا۔
وہ اس کے سوال پر ٹھٹک کر رکی۔
” نیچے اینا کی ہیلپ کروانے۔ “
” اوہ اینا کی ہیلپ! کیوں؟؟ میں تمہیں کام بتا دیتا ہوں۔ ایسا کرو پہلے تو میرے لیے ناشتہ اور کافی ریڈی کرو اور ہاں پارٹی تو رات گئے تک چلے گی۔ تم اپنی نگرانی میں گیسٹ روم تیار کروا لینا۔ شاید کوئی مہمان ٹھہرنا چاہے اور ہاں میں ہیوی کھانا پسند نہیں کرتا تو میرے لیے ڈنر میں کچھ لائٹ بنا کر رکھ دینا۔” وہ اس کے اداس اترے ہوئے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے ہدایات دے رہا تھا۔
وہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلاتی ہوئی نیچے جانے لگی تھی۔ جب شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔
” اب تم مجھے کبھی بھی ایسے ملگجے حلیہ میں نظر نا آؤ۔” اس نے دھیرے سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اس کے بالوں کو چھوا۔
” تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں۔” وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔
” نصیب خوبصورت ہونا چاہیے ورنہ سب بیکار ہے۔” وہ دھیرے سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی۔
” خیر اپنے ان بالوں کو سمیٹ کر رکھو۔ مجھے یہ بیڈروم سے باہر کھلے نظر نہیں آنے چاہیے۔ انڈر اسٹینڈ ؟ ” وہ دور ہٹتے ہوئے گویا ہوا۔
” جی بہتر۔ ” وہ اپنے لمبے بالوں کو جوڑے میں لپیٹ کر سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے تابعداری سے بولی۔
” میں لنچ تک آجاؤں گا۔ تم شام کی تقریب کیلئے اپنے کپڑے وغیرہ تیار کر لینا۔ ” وہ اسے ہدایات دیتا ہوا لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل گیا۔
******************
وہ شہر سے بہت دور کنٹری ہاؤس رینٹ پر لیکر نکلا تھا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی وہ سختی سے لب بھینچے ڈرائیو کررہا تھا ابھی اسے شام کیلئے تیار ہونا تھا۔
” پلیز مجھے بچا لو! وہ وہ میرے ساتھ زبردستی کررہا ہے۔ مجھے سب سے دور لے جاؤ۔” اس کے کانوں میں سسکتی ہوئی آواز گونج رہی تھی۔
____________
وہ شہریار کی ساری ہدایات کو ذہن میں دہراتے ہوئے نیچے اتر آئی تھی پورے فارم ہاؤس میں ایک گہما گہمی مچی ہوئی تھی اینا سب ملازمین کے سر پر کھڑی ہدایات پر ہدایات دے رہی تھی ساتھ ساتھ فون پر کیٹرنگ والوں سے مینیو ڈسکس کررہی تھی سارے ملازمین کی وہ خوب دوڑیں لگوا رہی تھی دوسری طرف بریڈلی بڑے آرام سے پیر پسارے کافی پیتا ہوا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا
” ہیلو بریڈلی کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔” وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
” گڈ مارننگ !! میں بس تمہارے ہسبنڈ کی منگنی کی تیاریاں دیکھ رہا ہوں ۔۔۔” وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا
” سویرا سوئیٹ ہارٹ !! تم ادھر نیچے کیا کررہی ہو؟؟ اوپر جاؤ اپنا سب سے بیسٹ ڈریس نکالو بیوٹی سلیپ لو تمہیں آج سب سے بیسٹ سب سے بیوٹی فل دکھنا چاہئیے۔۔۔” اینا تیزی سے اس کے پاس آکر بولی
” مجھے انہوں نے کچھ کام بتائیں ہیں وہ کر لوں پھر اوپر چکی جاؤ گئی ۔۔۔” وہ نرمی سے بولی
” واٹ ؟؟ باس نے تمہیں کام کرنے کو کہا ہے ؟؟ تمہیں !!! ” وہ حیران ہوئی
” اس میں اتنی حیرانی کی کیا بات ہے بس تھوڑا سا کام ہی تو ہے ۔۔۔۔” سویرا نے کہا
” اینا ڈارلنگ تم اپنا کام کرو اور اس دماغ سے خالی لڑکی کو میں دیکھ لیتا ہوں ” بریڈلی اٹھتے ہوئے بولا
” اوکے اس کا خیال رکھنا کہیں کوئی چوٹ ووٹ نہ لگوا لے ورنہ باس نے مجھے شوٹ کر دینا ہے ۔۔۔” اینا سویرا کو گھورتے ہوئے بریڈلی کو ہدایات دیتی ہوئی آگے بڑھ گئی
” اوکے مس سویرا !! چلئیے حکم فرمائیں کون سا عظیم کام ہمیں کرنا ہے ۔۔۔” بریڈلی نے کورنش بجا لاتے ہوئے پوچھا
” ان کیلئے سمپل سا لنچ اور ڈنر ریڈی کرنا ہے وہ تقریب کا ہیوی کھانا نہیں کھائیں گے ۔۔۔” سویرا کچن کی طرف بڑھی
بریڈلی نے کچن میں پہنچ کر ایپرن پہنا اب وہ نہایت مہارت سے سبزیاں چوپ کررہا تھا
” سویرا یار تم اسٹوو آن کرو اور چکن بوائل ہونے رکھو آج تمہارے کھڑوس ہسبنڈ کو چکن منچورین کھلاتے ہیں وہ بھی پھیکا سا ۔۔۔”
سویرا نے بریڈلی کے ساتھ مل کر کھانا پکا کر ڈش میں نکال کر رکھا اب وہ کچن کا سارا پھیلاوا سمیٹ رہی تھی
کچن سے فارغ ہو کر اس نے ہاؤس کیپر کے ساتھ گیسٹ رومز کا رخ کیا اپنی نگرانی میں ساری جھاڑ پونچھ کروا کر وہ اوپر کونے پر بنے کمرے میں آئی جہاں اینا نے رات اس کا سامان رکھوا دیا تھا ارادہ تھوڑی دیر کمر سیدھی کرنے کا تھا ۔ کمرے میں آکر وقت دیکھا تو دوپہر کا ایک بج رہا تھا وہ ظہر کی نماز کیلئے وضو کرنے چلی گئی ۔۔
وہ آفس سے اپنے اہم کام نبٹا کر دوپہر کو گھر پہنچا تو سامنے ہی اینا اور بریڈلی کاموں میں مصروف نظر آئے وہ ان سے ہیلو ہائے کرتا ہوا اوپر اپنے کمرے میں پہنچا دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ایکدم واپس پلٹا اور راہداری کے آخری سرے پر بنے کمرے میں داخل ہوا اس کے اندازے کے عین مطابق سویرا اسی کمرے میں موجود نماز پڑھ رہی تھی ۔۔۔
” پکی مولانی ہے یہ لڑکی پتہ نہیں اس دور میں کیا کررہی ہے یہ ۔۔۔۔” وہ آرام سے اندر آکر بیٹھ گیا
سویرا سلام پھیر کر دعا مانگے بغیر جائے نماز لپیٹ رہی تھی ۔جب شہریار کی آواز پر چونک گئی
” سنو کیا دعا نہیں مانگو کی ؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا
” نہیں !! ” وہ سادگی سے کہتی ہوئی کھڑی ہوئی
” کیوں ؟؟ “
” کیونکہ میں شاید اللہ کو بھی پسند نہیں ہوں میری دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں ۔۔۔۔”
” استغفر اللہ !! یہ کیا بکواس ہے ؟؟ ۔۔۔۔” وہ اسے گھورتا ہوا بولا
” آپ ادھر کیسے ؟ کوئی کام ہے کیا ؟ ” سویرا نے دھیمی آواز میں پوچھا
” مجھے پتہ تھا تم ادھر ہی ملو گی کیونکہ اوپر کا چیمبر تو تمہارا ہے ہی نہیں اور نا ہی ایک بار کی کہی بات تمہاری عقل میں آتی ہے ۔خیر روم میں آؤ کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔۔” وہ کھڑا ہوا
” یہ بھی تو روم ہی ہے آپ ادھر ہی بات کر لیں ۔۔۔” وہ ہمت کر کے اس کی نفی کر گئی
ابھی وہ اس کی سمت بڑھنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا جونس کی کال تھی وہ چلتے ہوئے اس کے قریب آیا
” روم میں آؤ !! اور مائنڈ میں بٹھا لو مجھے انتظار کرنا پسند نہیں ہے ۔۔۔” وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے فون کال ریسیو کرتا ہوا باہر نکل گیا
” ہیلو جونس !! خیریت ، اس وقت کال کی کیا شام میں پارٹی میں نہیں آرہے ہو ؟ “
” شیری یہ تمہارے اور عروہ کے بیچ میں کیا چل رہا ہے ؟؟ ” جونس نے اس کے سوال کو نظر انداز کر کے پوچھا
” کیا مطلب ؟؟ تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ؟؟ “
” صبح عروہ اچانک سے میرے فلیٹ پر چلی آئی تھی اس کا رو رو کر برا حال ہو رہا ہے اس نے سویرا پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کا اور تمہارا رشتہ خراب کررہی ہے ،شیری عروہ میری دوست ہے اور مجھ سے برداشت نہیں ہوگا اگر تم اسے چیٹ کرو گے ۔۔۔” جونس سنجیدگی سے بولا
” جونس !! سویرا کو اس معاملے میں مت گھسیٹو ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
” شیری یار وہ کہہ کر گئی ہے کہ اگر سویرا کو بیچ میں سے نہیں ہٹایا تو وہ خودکشی کر لےگی اسی لئیے تمہیں فون کر کے سچویشن پوچھ رہا ہوں میں تم دونوں کا دوست ہوں بہتر ہے کہ تم عروہ کی غلط فہمی دور کرو وہ سمجھ رہی ہے کہ سویرا نے تم پر ڈورے ڈالے ہیں ۔۔۔” جونس کچھ پل کیلئے خاموش ہو گیا
” جونس !! بیفکر رہو آج ساری غلط فہمیاں دور کردونگا ۔۔۔۔” وہ فون رکھتے ہوئے بولا
سویرا جو چپ چاپ سر جھکائے اس کے پیچھے آرہی تھی فون سے نکلتی آواز اور ان دونوں کی گفتگو سن کر چونک گئی جیسے ہی شہریار نے فون رکھا وہ اس کے سامنے آگئی
“میں کبھی بھی آپ دونوں کے بیچ میں نہیں آئی میں بھلا ایسا کیوں کرونگی ؟؟مجھے پتہ ہے آپ مجھے پسند نہیں کرتے میں کیوں ۔۔۔۔۔” وہ رو پڑی سارے دن کا غبار اس کے آنسوؤں میں امنڈ آیا تھا
” تم !!! ” وہ اس کے قریب آیا
” مجھے روتی ہوئی لڑکیاں زہر لگتی ہیں آئندہ اگر میں نے تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو یقین کرو ٹانگیں توڑ کر پاکستان بھجوا دونگا ۔۔۔” وہ سختی سے اسے ٹوک رہا تھا
” اب یہ ملکہ جذبات کے فیز سے نکلو جب دیکھو روتی صورت اور شام کیلئے میرے کپڑے تیار کرو ۔۔۔۔”
” میں !! میں کیسے تیار کروں مجھے تو مردانہ کپڑے سینے نہیں آتے ۔۔۔وہ اس کے نئے حکم پر پریشان ہو گئی
” مسز شہریار !! اپنی عقل استعمال کرنا سیکھئیے !! ” اس نے طنزیہ انداز میں بولا
” الماری میں میرا ڈریس رکھا ہے اسے پریس کر کے لاؤ ۔۔۔” وہ اس کی عقل پر افسوس کرتے ہوئے گویا ہوا
سویرا نے آگے بڑھ کر الماری کھولی جہاں اس کا نیا ٹکسیڈو لٹک رہا تھا
” یہ تو سوٹ ہے اور بالکل نیا ہے کریس بھی اچھی خاصی ہے ۔۔۔”
” جب کہہ دیا پریس کرو تو جاؤ پریس کر کے لاؤ ۔۔۔۔” وہ خشک لہجے میں بولا
*********************
سویرا نے اپنی خاموشی سے ،اپنی سادگی سے شہریار کے دل میں اپنی جگہ بنائی تھی وہ چاہتا تھا کہ سویرا اسے جان لے اسے دل سے قبول کرے اس کا دل بنا کسی پلاننگ کے بنا کسی وجہ کے سویرا کی جانب کھنچا چلا جا رہا تھا جذبے منھ زور ہو رہے تھے اور وہ احمق لڑکی اسے سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
” سنئیے آپ کے کپڑے پریس کردئیے ہیں ۔۔۔” وہ کپڑے سلیقے سے ہینگر میں ہینگ کئیے اس کے پاس لے کر آئی
شہریار نے اس کے ہاتھ سے ہینگر لیکر بیڈ پر رکھا اور اس کی لمبی بھیگی پلکوں کو بغور دیکھتے ہوئے اس کی نازک مرمریں کلائی اپنی گرفت میں لی
” سنو !! تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا اپنے وجود کا حصہ بنانا یہ سب میں نے کسی مجبوری میں یا دباؤ میں نہیں کیا ہے ۔۔۔۔”وہ گھمبیر لیجے میں بول رہا تھا
” پلیز !! میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔” سویرا نے کلائی چھڑوانی چاہی
” ادھر دیکھو ، میری آنکھوں میں ۔۔۔۔” وہ دھیرے سے اس کا چہرہ اٹھاتے ہوئے سنجیدگی سے بولا
سویرا نے اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا مگر فوری نظریں جھکا لیں وہ جن نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ اس کا دل دھڑکا گئی تھی ۔۔۔
” میں نے کہا تھا نا کہ مجھے یہ آنکھیں کبھی بھی بھیگی نظر نہ آئیں ۔۔۔۔” وہ اس کی پلکوں کو چھوتے ہوئے بولا
” کیا مصیبت ہے !! دل کیوں بغاوت کررہا ہے کیوں ان کی طرف کھنچ رہا ہے ۔۔۔۔” وہ اپنی دھڑکنوں پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی
” کچھ کہو گی نہیں ؟؟ ” وہ اس کی پلکوں پر چمکتے آنسوؤں کو بڑے دھیان سے اپنی انگلیوں کی پوروں میں سمیٹ رہا تھا
” آپ تیار ہو جائیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔” وہ جھجک کر نظریں چراتی ہوئی بولی
” سنو لڑکی !!جتنا میں نے تمہیں جانا ہے اور سمجھا ہے اتنا تو شاید تم بھی خود کو نہیں جانتی ہوگی !! بس اپنے ننھے سے دماغ میں بھرا بھوسہ نکال کر باہر پھینک دو اور مجھ سے، میرے گھر سے ، دور جانے کا خیال بھی اپنے نزدیک پھٹکنے مت دینا میں اپنی عزت کے معاملے میں بہت جنونی ہوں اور تم !!! ” اس نے ہنکارہ بھرا
” تم میری عزت ہو مسز شہریار !! یہ کبھی مت بھولنا ” وہ اسے وارن کررہا تھا
“شام میں ڈھنگ سے تیار ہوجانا کچھ چاہئیے ہو تو اینا کو انفارم کر دینا ۔۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اپنا لیب ٹاپ لیکر کام میں مصروف ہو گیا
**************
شام ہو رہی تھی پورا فارم ہاؤس برقی لائیٹس سے جگمگا رہا تھا چاروں جانب سفید اور گلابی پھولوں کی بہار تھی مہمان آنا شروع ہوچکے تھے نیوی بلیو میکسی میں اینا سب کا استقبال کررہی تھی ہلکا ہلکا آرکسٹرا اپنی دھن بجا رہا تھا چاروں جانب باوردی ویٹرس ڈرنک سرو کررہے تھے جب شہریار لان میں داخل ہوا ۔۔۔ سفید شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ ہلکا ہلکا سا بڑھا ہوا شیو اس کی پرسنیلٹی میں چار چاند لگا رہا تھا وہ سب کی ستائشی نگاہوں کا مرکز بڑے اطمینان سے پر اعتماد چال چلتا ہوا سب سے ملتا ملاتا اینا کے پاس آیا ۔۔
” سر مس عروہ دو منٹ میں گیٹ پر ہونگی آپ نے انہیں رسیو کرنا ہے ۔۔۔” اینا نے اسے ہدایات دی
” اینا !! وہ جب آجائے تو میرے پاس لے آنا ۔” وہ کہتا ہوا مہمانوں کی طرف بڑھ گیا
” باس !! ” اینا تلملا کر رہ گئی
تھوڑی ہی دیر میں عروہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ گیٹ پر موجود تھی ۔۔۔
اینا نے آگے بڑھ کر انہیں ویلکم کیا ۔۔
” شہریار کدھر ہے ؟؟ ” عروہ نے چاروں جانب نگاہیں دوڑائیں
” باس ادھر مہمانوں کے ساتھ ہیں آئیں میں آپ کو گائیڈ کروں ۔۔۔” وہ سجی سنوری عروہ کو دیکھتے ہوئے بولی
بلیو میرون امتزاج سے بنی انڈین اسٹائل چولی اور کمر سے نیچے بندھے گھاگرے میں عروہ کا حسن نمایاں ہورہا تھا آج اس نے اپنے گھونگریالے بالوں کا اونچا جوڑا بنایا تھا جس سے اس کی گردن اور بیک لیس چولی سے جھلکتا جسم شیشے کی طرح چمک رہا تھا وہ سب کی توجہ کھینچ رہی تھی نازک سی جیولری میں ،پارٹی میک اپ سے سجا اس کا چہرہ کسی آسماں سے اتری اپسرا کا سا روپ اختیار کر گیا تھا وہ پہلے ہی بہت خوبصورت تھی پر آج تو اس کی چھب ہی نرالی تھی ۔۔۔
” واؤ مسٹر شہریار یہ آپ کی گرل فرینڈ تو بہت ہاٹ ہے ۔۔۔” اس کے بزنس پارٹنر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
شہریار نے ناگواری سے عروہ کو دیکھتے ہوئے اس آدمی کا ہاتھ اپنے شانے سے ہٹایا
” شیری !! ” عروہ نے پاس آکر اسے پکارا
وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے عروہ کے پیرنٹس سے آگے بڑھ کر ملا انہیں ان کی ٹیبل تک پہنچا کر پلٹا تو عروہ منھ پھلائے کھڑی تھی
” شیری !! تم بہت روڈ ہو دیکھو سب مجھے دیکھ رہے ہیں تمہاری قسمت پر رشک کررہے ہیں اور ایک تم ہو !!! “
” عروہ !! یہ کیا واہیات ڈریس پہنا ہے ؟؟ اس سے بہتر تو تم اسکرٹ پہن کر آجاتی ۔۔۔” وہ ناگواری سے بولا
” او گاڈ شیری !! یہ تو ایشین ڈریس ہے اب تمہیں اس میں بھی پرابلم ہے کیا ؟؟ اور تم مجھے گیٹ پر رسیو کرنے کیوں نہیں آئے ؟ کتنا اچھا لگتا نا جب ہم دونوں لو برڈز کی طرح ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک ساتھ اندر آتے ۔۔۔” وہ اس کے بازو میں ہاتھ ڈال کر اس کے شانے پہ سر رکھتے ہوئے بولی
“عروہ behave !! ” اس نے آہستگی سے اس کو دور کیا
” مجھے اس طرح اچھا نہیں لگتا اور لڑکی اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی اینٹری کرتے ہوئے ججتی ہے ویسے بھی مجھ سے ایسے چونچلے نہیں اٹھائے جاتے ” وہ اکھڑ انداز میں بولا
” اوکے میرے اینگری ہیرو !! چلو آؤ میرے فرینڈز سے تو مل لو ۔۔۔” وہ بڑی ہوشیاری سے ٹاپک بدل گئی
********************
“سویرا آخر کب تم تیار ہوگی نیچے سب مہمان آچکے ہیں تمہاری اینا نے فون کر کر کے میرا دماغ کھا لیا ہے ۔۔” سوٹ پینٹ میں جیل سے بالوں کو اسٹائل سے جمائے بریڈلی اندر داخل ہوا
” واؤ یار تم تو بہت پریٹی لگ رہی ہو !! ” وہ سویرا کو دیکھ کر ٹھٹکا
” دیکھا نا میں نے منع کیا تھا اینا کو پر اس نے میرا میک اپ کروا دیا دیکھو تو بالکل کارٹون لگ رہی ہوں ۔۔۔” وہ جھنجھلائی
” خیر کارٹون تو تم اوپر سے بنی بنائی ہوں لیکن اس وقت ٹرسٹ می !! تم سے اچھا کوئی نہیں ہوگا اس محفل میں ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
” چلیں !! ” سویرا نے قدم بڑھائے
ادھر سے نہیں ہم ٹیرس کی سیڑھیوں سے لان میں اتریں گے ۔۔۔” وہ اسے روکتا ہوا بولا
” اینا ہم نیچے اتر رہے ہیں ۔۔۔۔” اس نے سیڑھی کے پاس پہنچ کر اینا کو اطلاع دی
*****************
وہ بیزاری سے عروہ کے دوستوں سے مل رہا تھا جن میں لڑکے لڑکیاں سب شامل تھے جب اچانک سے لان میں اندھیرا چھا گیا اور پھر ایک اسپاٹ لائٹ آن ہوئی جو گھومتی ہوئی لان کی سیڑھیوں کی طرف بڑھی سفید پھولوں سے سجی سیڑھیوں پر گھبرائی ہوئی سویرا کھڑی تھی وہ سب کی توجہ خود پر مبذول پا کر گھبرا کر پیچھے مڑی تو بریڈلی غائب تھا
وہ ایک پل کو اسے دیکھ کر ٹھٹکا تھا اس نے نفیس فینسی سا گلابی کرتا پاجامہ پہن رکھا تھا ساتھ میں شیفون کا کام والا لمبا سا دوپٹہ جس کو اس نے ہمیشہ کی طرح سلیقے سے سر پر جمایا ہوا تھا لمبی موٹی چوٹی بائیں کندھے سے آگے جھول رہی تھی چند شریر لٹیں اس کے خوبصورت چہرے کا احاطہ کئیے ہوئے تھیں سارے مہمانوں کی توجہ اس کی طرف تھی وہ جو کسی مشرقی شاہزادی کی طرح سہج سہج کر قدم اٹھا رہی تھی ایک دم لائٹ اور سب کی توجہ خود پر دیکھ کر گھبرا کر دوسری ہی سیڑھی پر رک گئی تھی
” شیری !! یہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔” عروہ شہریار کا ہاتھ پکڑ کر بولی اس کے چہرے پر الجھن تھی
اس نے بڑے اطمینان سے عروہ کا ہاتھ ہٹایا اور تیزی سے لمبے لمبے قدم اٹھاتا سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے سویرا تک پہنچا
” اٹس اوکے مسز !! ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔” اس نے سویرا کو اپنے حصار میں لیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *