Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29
یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟ ” وہ غرایا
بریڈلی اس کی آواز سن کر چونک کر رہا تو دوسری طرف تیزی سے بھاگتی سویرا اس کی آواز سن کر بوکھلا گئی اور رکتے رکتے سامنے لگے سنگ مرمر کے مجسمے سے اس کا پیر زور سے ٹکرایا ۔وہ زور سے گھاس پر گری
” افف اللہ ۔۔۔۔۔” وہ پیر پکڑ کر کراہ کر رہ گئی
” سویرا ہنی !! آر یو اوکے ۔۔۔۔” بریڈلی تیزی سے سویرا کے پاس آکر زمین پر بیٹھتے ہوئے شہریار کو آگ لگا گیا
” دور رہو اس سے ۔۔۔۔۔” شہریار کف اڑاتا ہوا آگے بڑھا اور بریڈلی کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا
” کیوں ؟؟؟ کیوں دور رہوں ؟؟ میری دوست ہے وہ اور تمہیں کیا تکلیف ہے ؟؟ ” بریڈلی نے اپنا گریبان چھڑوایا
شہریار نے ایک زور دار پنچ بریڈلی کے منھ پر مارا سویرا کے حلق سے چیخ نکل گئی جبکہ بریڈلی بڑی ڈھٹائی سے پنچ کھا کر بھی مسکرا رہا تھا ۔
سویرا کی چیخ سن کر سیخوں کو بھوننے میں لگی اینا تیزی سے بھاگتی ہوئی آئی اور شہریار کو بریڈلی کی طرف بڑھتا دیکھ کر تیزی سے ان دونوں کے درمیان میں آگئی ۔۔۔۔
” سر !! یہ میرا بوائے فرینڈ ہے ۔۔۔۔” وہ شہریار سے بولی
” بوائے فرینڈ ہے تو بھی !! اسے بولو کہ اپنی لمٹ میں رہے ۔۔۔۔” وہ پیچھے ہٹا اور زمین پر بیٹھی سویرا کی طرف متوجہ ہوا
” تم !! پاگل ہو گئی ہو کیا ؟؟ تمہارا دوپٹہ کدھر ہے ۔؟؟ ” وہ اپنی ہڈی اتار کر اس پر پھینکتا ہوا غصہ سے اردو میں بولا
” اٹھو یہاں سے اور اندر جاؤ !! میں آئندہ تمہیں اس طرح نا دیکھوں ۔۔۔”وہ سر جھکائے اس کی ہڈی کو خود پر لیتی ہوئی سویرا کو دیکھ کر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا
سویرا نے کھڑے ہوئے کی کوشش کی لیکن کراہ کر رہ گئی اس کے پیر پر ٹھیک ٹھاک چوٹ لگی تھی ۔
” بریڈلی میری ہیلپ کرو سویرا کو اندر لیکر چلتے ہیں ۔۔۔۔” اینا نے سویرا کی سمت بڑھتے ہوئے کہا
” کسی کی ہیلپ نہیں چاہئیے ۔۔۔۔۔” شہریار نے دونوں کو ٹوکا اور پھر ایک جھٹکے سے سویرا کو بازوؤں سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا
” چلو ۔۔۔۔” وہ اسے اپنے مضبوط بازوؤں کا سہارا دیتے ہوئے اندر بڑھا
اینا اس کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھی ہی تھی کہ بریڈلی نے اسے روک لیا
” سوئیٹ ہارٹ ابھی اندر مت جاؤ کچھ دیر کے لئیے انہیں اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔”
***********************
شہریار اس کا سارا وزن اپنے بازوؤں پر سہارتے ہوئے اسے اندر لیکر آیا ۔
” کون سے روم میں ٹہری ہو تم ؟؟ ” اس نے سیڑھی کے پاس رک کر سوال کیا
” وہ !!! ” سویرا ہچکچائی
” وہ کیا ؟؟ سنو لڑکی مجھ سے سیدھی بات کیا کرو ۔۔۔۔”
“وہ اوپر سارے روم لاک ہیں اس لئیے میں اینا اور بریڈلی لیونگ روم شئیر کریں گئے ۔۔۔”
” تمہارا دماغ درست ہے ؟؟ اوہ گاڈ یعنی اگر میں نہیں آتا تو تم ایک نامحرم کے ساتھ روم شئیر کرتی ۔۔۔۔” وہ غرایا اور ایک جھٹکے سے اسے اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے لئیے مخصوص کمرے میں لا کر اسے صوفے پر بٹھایا
” تم ایک نہایت ہی بیوقوف لڑکی ہو !! ” وہ اسے کہتا ہوا اندر کیبنٹ کی طرف بڑھا اور فرسٹ ایڈ باکس نکال کر اس کے پاس آیا جو لنگڑاتے ہوئے صوفے سے اٹھ کر بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹتے ہوئے باہر جا رہی تھی
” کہاں جا رہی ہو ؟؟ ” وہ اس کے سامنے آکر رستہ روکتے ہوئے بولا
” پلیز میرا راستہ چھوڑیں !! مجھے یہاں نہیں رکنا ۔۔مجھے ۔۔۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے بضد ہوئی
شہریار نے بغور اس کو دیکھا بنا دوپٹہ کے بنا سر ڈھکے وہ پہلی بار اس کے سامنے کھڑی تھی ریشمی سلکی بال پونی سے پوری طرح سے کھل اس کی کمر کو ڈھکے ہوئے تھے اس نے میکانیکی انداز میں سویرا کے بالوں کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔
” تم نے کس کی اجازت سے بال کٹوائے ۔۔۔۔” وہ اس کی سرخ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہا تھا
” بال تو نہیں کٹوائے ۔۔۔۔” وہ بوکھلائی
” پہلے تماری بال کمر سے نیچے تک آتے تھے اور اب صرف کمر تک آرہے ہیں ۔۔۔۔” وہ بولنے کے بعد خود بھی حیران رہ گیا اس نے بھلا سویرا کے بال کب نوٹ کئیے کہ ذرا سی تبدیلی بھی بھانپ گیا تھا
” پلیز میرا راستہ چھوڑیں مجھے جانا ہے ۔۔۔۔۔” وہ اس کی خود پر جمی نظروں کے ارتکاز کو برداشت نہیں کر پارہی تھی
” سنو لڑکی !!! ” وہ اس کے قریب ہوا
” تمہارا پر راستہ مجھ سے شروع ہو کر مجھ پر ہی ختم ہوتا ہے اس بات کو اپنے دماغ میں اچھی طرح سے بٹھا لو ۔۔۔۔۔” اس نے سویرا کو جکڑ کر اپنے بازوؤں میں سنبھالا اور اسے بیڈ پر تقریباً پٹخنے والے انداز میں لٹایا ۔۔
” اب اگر تم ادھر سے ہلی تو تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا ۔۔۔۔” وہ غرایا
سویرا اس کا غصہ دیکھ کر چپ چاپ ہو گئی اب شہریار نے اس کا پیر تھام کر جوتا اتارا اس کا پیر سوج رہا تھا اس نے تاسف سے اس کے سوجے ہوئے پیر کو دیکھا اور فرسٹ ایڈ باکس سے مرہم نکلا۔
____________
وہ بہت تاسف سے اس کا سوجا ہوا سرخ پیر دیکھ رہا تھا اس نے فرسٹ ایڈ باکس سے ڈھونڈ کر پین گے کریم اور درد کی گولی نکالی ۔۔
“تم کب میچیور ہو گی؟ دیکھو ہماری کچھ خاندانی روایات ہیں۔ ہمارے گھر کی لڑکیوں کو سات پردوں میں رکھا جاتا ہے۔ میں سب سے لڑ کر تمہیں پڑھا رہا ہوں کہ تم اپنی لائف بناؤ ، خاندان کی آنے والی لڑکیوں کیلیے مثال بنو لیکن تم! مجھے یہ دوستی وغیرہ پسند نہیں ہے آئندہ خیال رکھنا۔” وہ نرمی سے مرہم اس کے پیر پر لگا کر سیدھا ہوا اور ٹیبلٹ اس کی سمت بڑھائی جسے سویرا نے چپ چاپ تھام لیا۔
اس نے خاموشی سے دوا کھاتی سویرا کو بغور دیکھا۔ اس کا چہرہ نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ خوبصورت بال ترتیب سے کٹے ایک آبشار کا سا منظر پیش کر رہے تھے۔
” اچھی لگ رہی ہو لیکن اپنی یہ خوبصورتی کو صرف مجھ تک محدود رکھو ، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔” وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اس کے گلے میں پڑا اسٹالر اتار کر اسے لٹاتا ہوا باہر نکل گیا۔
اب اس کا رخ باہر کی جانب تھا وہ اینا کی کلاس لینے کا موڈ بنا چکا تھا۔
باہر باغیچہ میں اینا اور بریڈلی میز سجائے باتوں میں مصروف تھے، جب شہریار ان کی طرف آیا۔
” سر! آئیے آپ کا ہی انتظار کررہے تھے ہم، ڈنر شروع کریں۔” اینا خوشدلی سے مسکرائی۔
” سویرا سس کدھر ہے؟ ” بریڈلی نے اس کے پیچھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“وہ آرام کررہی ہے۔” شہریار کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے روکھے لہجے میں بولا۔
“سر! “
اینا جو اس کا موڈ بھانپ چکی تھی۔ اس سے پہلے وہ اس کی کلاس لیتا وہ اسے مخاطب کر گئی۔
” سر! آپ کی منگنی کی خوشی میں ہم میں سے کسی نے بھی لنچ تک نہیں کیا تھا بلکہ آپ کی تقریب میں ، میں اور مس سویرا سب سے اچھے لگیں، اس لیے ہم دونوں پارلر چلی گئی تھیں۔”وہ فر فر رپورٹ دے رہی تھی۔
” مس اینا! یہ آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں؟ ” اس نے اینا کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھا.
” وہ سر! بل تو آپ کے کارڈ سے پے کیا تھا نا ، تو اس لیے سوچا آپ کو بتا دوں ویسے آپ نے نوٹ کیا۔
Miss Sawera is looking very Gorgeous after that۔”
” ہمم ! ” وہ ہنکارا بھر کر خاموش ہو گیا۔
” مسٹر شہریار! آپ یہ فوڈ اوپر لے جائیں. سویرا صبح سے بھوکی ہے. اسے بھی کھلائیں اور خود بھی ٹرائے کریں. اپنی فیملی کے ساتھ انجوائے کریں اور میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ انجوائے کرتا ہوں. ویسے تکلف مت کریں. سب آپ کا ہی مال ہے۔” بریڈلی مسکراتے ہوئے ایک پلیٹ میں لوازمات رکھ کر اس کی سمت بڑھاتے ہوئے بولا.
شہریار نے خاموشی سے پلیٹ تھامی اور کھڑا ہوا.
” ویسے برو! آپ کا ہاتھ بہت سخت ہے۔” بریڈلی نے شرارت سے کہا.
” کیوں دوبارہ کھانے کا موڈ بن رہا ہے کیا؟ ” شہریار نے گھورا.
بریڈلی نے ہنستے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگایا. شہریار ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اندر چلا گیا.
“ہے اینا! تم کیا کررہی ہو۔” وہ سیل فون پر نمبر لگاتی اینا سے مخاطب ہوا.
“ششش” اینا نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا.
” ہیلو مادام عروہ! کیسی ہیں آپ؟ “
” اینا تم اس وقت! کیا مصیبت ہے میں کلب میں ہوں لے کر ڈسٹرب کردیا۔” عروہ ڈانس فلور سے اتر کر نیچے آئی.
” مادام مجھے آپ سے گیسٹ لسٹ چاہیے تھی۔”
” تو کیا تم صبح کا انتظار نہیں کر سکتی تھی. میں کیا گیسٹ لسٹ گلے میں لٹکا کر گھومتی ہوں۔ ” عروہ تپی.
” مادام! سر شہریار خود گیسٹ لسٹ لکھوا رہے تھے. پھر مس سویرا کو چوٹ لگ گئی تو وہ انہیں اپنے بیڈ روم میں لے گئے. اب آپ خود دیکھیں اتنی رات ہو گئی ہے. میں کب تک ان کے روم سے آنے کا ویٹ کروں. اس لیے سوچا آپ سے ہی پوچھ لیتی ہوں۔” اینا معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولی۔
” شیری کدھر ہے۔” عروہ کے تو سر پر لگی تلوؤں پر بجھی۔
” میم وہ ادھر فارم ہاؤس میں اپنے بیڈروم میں ہیں مس سویرا کے ساتھ۔”
ٹو ٹو ٹو، لائن کٹ چکی تھی۔ اینا نے فون بند کرکے بریڈلی کو دیکھا۔
” یہ کیا کیا تم نے؟ اب وہ چڑیل شہریار کو فون کرکے ڈسٹرب کریگی۔” بریڈلی ابھی بول ہی رہا تھا کہ گھاس پر سے کسی فون کی بیل سنائی دی. اس نے آگے بڑھ کر گرا ہوا فون اٹھایا. جس پر عروہ کالنگ لکھا ہوا آرہا تھا۔
” سر جب چیئر پر بیٹھے تھے۔ یہ فون ان کی پاکٹ سے گر گیا تھا۔ اس لیے میں نے سوچا عروہ میڈم پر تھوڑا نمک ہی چھڑک دوں۔ ” اینا کھلکھلا کر ہنسی۔
” سویٹ ہارٹ تم نے تھوڑا نمک نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی مرچیں لگا دی ہیں۔” بریڈلی اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔
” اب صبح مزا آئیگا دیکھنا یہ صبح ہوتے ہی پہنچ جائے گی۔” اینا کی آنکھیں چمک رہی تھی۔
*******************
شہریار سیڑھی کے پاس پڑا سویرا کا بیگ اٹھاتے ہوئے ایک ہاتھ میں پلیٹ پکڑے ہوئے اوپر روم میں آیا۔ دروازہ لاک کرکے بیگ ایک کونے پر ڈالتے ہوئے وہ بیڈ کی سمت آیا تو سویرا سو چکی تھی۔ اس نے پلیٹ میز پر رکھی اور لائٹ آف کر کے زیرو بلب جلا کر خود بھی صوفے پر سونے لیٹ گیا۔ اس کا چھ فٹ سے بھی نکلتا ہوا وجود کسی بھی طرح صوفے پر فٹ نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر بار بار سویرا کا بریڈلی کے ساتھ کھلکھلا کر ہنسا ہوا چہرہ اس کی نگاہوں میں آرہا تھا۔ وہ تنگ آکر اٹھا اور بیڈ پر جا کر تکیہ سیدھا کرکے لیٹ گیا۔
برابر میں لیٹا نازک وجود اس کی توجہ کھینچ رہا تھا۔ اس نے سویرا کی جانب کروٹ لی ، پنک کرتی میں بنا دوپٹے کے اس کا خوبصورت و دلکش وجود بے حد نمایاں تھا۔
گلابی رنگت پر گھنی سیاہ پلکوں سے سجا خوبصورت چہرہ ، اس کے کالے سیاہ گھنے بال بستر پر بکھرے ہوئے تھے ، اسکی مدھم سانسوں کا زیر و بم اور جوانی کی سرحدوں کو چھوتا نازک سراپا شہریار کے ہوش اڑائے دے رہا تھا۔ وہ ایک دلکش دوشیزہ کے روپ میں اس کے سامنے تھی ، اس کی ملکیت تھی۔ وہ اس پر سارے حق رکھتا تھا۔اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے مضبوط بازوؤں کی آغوش میں لیا۔
سویرا نیند میں گم تھی۔ جب اسے اپنے وجود پر کسی کی نرم گرفت اور گرم سانسوں کا احساس ہوا۔ وہ کسمسائی، اس سے پہلے وہ مکمل ہوش میں آکر چیخ مارتی شہریار نے تیزی سے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا۔
” ششش! میں ہوں۔” وہ اس کے کانوں میں بولا۔
وہ تیزی سے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے اس سے دور ہونے لگی تھی کہ وہ بڑے آرام سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا اس کے اٹھنے کی کوشش ناکام کر گیا۔
” پلیز ہاتھ چھوڑیں۔ ” وہ منمنائی۔
” آپ ادھر کیا کررہے ہیں۔ ” وہ پریشان ہوئی۔
” اپنی بیوی کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کررہا ہوں کوئی پرابلم؟ ” اس نے ابرو اچکا کر پوچھا۔
” آپ شاید بھول رہے ہیں میں! میں عروہ نہیں ہوں۔ ” اس کی آواز بھرا گئی۔
” نہیں! مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ میں کس کے ساتھ ہوں اب بس نو مور آرگومنٹ۔ “
” عروہ جی خفا ہونگیں دو روز بعد آپ کی ان سے منگنی ہے، پلیز ایسا مت کریں۔ وہ، وہ مجھے الزام دیں گی۔” سویرا کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
” عروہ! تمہارا مسئلہ نہیں ہے انڈر اسٹینڈ! اور ویسے بھی جب یہ طے ہے کہ تمہیں میرے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو پھر تمہیں میرے اصولوں پر چلنا ہوگا۔ تم وہ کرو گی جو میں کہوں گا دیٹس فائنل۔ ” وہ سختی سے بولا۔
” آپ ! آپ!!؛سمجھ کیوں نہیں رہے میں، میں نہیں چاہتی آپ! آپ!! ” وہ سسک اٹھی.
” سنو لڑکی! مجھے اس حد تک تم خود لائی ہو. ویسے بھی میں اپنی بے جان چیزوں کو کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دیتا اور تم! تم تو میری بیوی ہو. میرے نکاح میں ہو. میں تم پر ، تمہاری سانسوں پر ، تمہارے وجود پر مکمل ملکیت کا حق رکھتا ہوں۔ ” وہ حتمی انداز میں بولا۔
” ممم میں ایسا نہیں۔ “
” مگر میں ایسا چاہتا ہوں۔ ” اس نے نرمی سے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو صاف کیا۔
” سنو لڑکی! میں ان آنسوؤں سے پگھلنے والا نہیں ہوں۔ بیوی ہو، بیوی بن کر رہو ۔ اب بس۔۔۔ ” وہ اسے ٹوکتے ہوئے دوبارہ اپنی آغوش میں لے چکا تھا۔۔
*****************
عروہ پوری رات شہریار کا فون ملاتی رہی تھی۔ اس کا ایک ایک پل جیسے انگاروں پر کٹ رہا تھا۔ اگر رات میں فارم ہاؤس کو جانے والا رستہ بند نہیں ہوتا تو وہ رات ہی ادھر جا چکی ہوتی۔ صبح ہوتے ہی وہ تیزی سے لباس تبدیل کر کے فارم ہاؤس روانہ ہو چکی تھی۔
سویرا اور شہریار ایک ساتھ، یہ سوچ اس کا فشار خون بلند کررہی تھی۔ وہ بدلہ، انتقام اور سویرا کو اذیت دینے کے طریقے سوچ رہی تھی۔
” شہری اگر تم نے مجھے چیٹ کیا تو، تو میں تمہاری اس سو کالڈ دیسی بیوی کا وہ حشر کرونگی کہ ” سوچتے سوچتے اس کا دماغ پھٹنے لگا تھا۔ اس نے کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ وہ ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھاتے ہوئے گاڑی دوڑا رہی تھی۔
******************
نہ جانے کب اپنی سسکیاں دباتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ لیکن فجر کے وقت معمول کے مطابق اس کی آنکھ کھل چکی تھی۔ وہ اس وقت بھی شہریار کے حصار میں قید تھی۔ وہ پرسکون گہری نیند سو رہا تھا۔ وہ آہستگی سے اس کی گرفت سے نکلتے ہوئے فریش ہونے چلی گئی۔ نہا دھو کر وضو کرنے کے بعد وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے کمرے میں آئی۔
بڑی مشکل سے کمرے میں جائے نماز برآمد کرکے وہ نماز کی نیت باندھ چکی تھی۔ نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس کا دماغ خالی تھا۔ لب ساکت تھے اب شاید کوئی دعا اثر نہیں کرنے والی نہیں تھی ، وہ دونوں ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں پھیلائے بس آنسو بہا رہی تھی۔ اس نے زندگی کے ایسے رخ کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ شہریار اس کے سر کا سائیں تھا لیکن وہ کئی بار اس کی ، اس کی ذات کی نفی ببانگ دھل کر چکا تھا اور رات بھی اس نے اپنے رویہ سے اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ وہ اس کے لیے بس ایک ملکیت ہے۔ یہ دل کا سودا کم از کم اس کی نظر میں ہر گز نہیں تھا۔
” یا اللہ میں نے اپنا ہر معاملہ تجھ پر چھوڑ دیا ہے۔ ” وہ سسک اٹھی۔
شہریار نے نیند میں سویرا کو اپنی آغوش میں لینا چاہا تو وہ بستر پر نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں جھٹ سے کھل گئیں۔ رات کی بے اختیاری کے کئی مناظر اس کی نظروں میں گھوم گئے تھے۔ یہ کوئی لمحاتی فیصلہ نہیں تھا۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر سویرا کی جانب بڑھا تھا۔ ابھی وہ تکیہ سے ٹیک لگا کر اٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے جائے نماز پر دونوں ہاتھ اٹھائے ساکت بیٹھی سویرا پر پڑی۔ وہ آرام سے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ سویرا کی شدت گریہ سے سرخ آنکھیں اور ان آنکھوں سے روانی سے بہتے ہوئے آنسو کچھ بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں تھا۔
سویرا جائے نماز سمیٹ کر اٹھی ہی تھی کہ شہریار نے اسے آواز دی۔
” سنو لڑکی! ادھر آؤ۔”
وہ چپ چاپ سر جھکائے کھڑی رہی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہیں غائب ہو جائے۔
” کیا کانوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے؟ ادھر آؤ۔ ” وہ طنزیہ انداز میں بولا۔
سویرا نہ چاہتے ہوئے بھی مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بستر سے اترا اور اس کے نزدیک پہنچ کر نماز کے اسٹائل میں بندھا دوپٹہ کھول دیا۔ جس سے اس کے گیلے خوشبودار بال ایک جھٹکے سے اس کے کندھوں پر پھسل گئے۔
” یہ رونا دھونا، یہ بلاوجہ کی افسردگی یہ کیا ہے؟ ” وہ اس کے گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے گویا ہوا۔
وہ لرز کر پیچھے ہوئی۔
” تمہاری ہر ذمہ داری میری ہے۔ بس تم اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہاری زندگی میں مجھ سے زیادہ ضروری کوئی کام ، کوئی انسان نہیں ہونا چاہیے۔” وہ اسے باور کروا رہا تھا۔
“اب تمہارا پیر کیسا ہے؟” اس نے کسی بےجان گڑیا کی طرح ساکت کھڑی سویرا سے پوچھا۔
” جی ٹھیک ہے۔ ” وہ ناگواری دباتے ہوئے آہستگی سے بولی۔
” اوکے! تو جاؤ نیچے دائیں ہاتھ پر کچن ہے. میرے لیے ایک اسٹرانگ سی کافی تیار کرو۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ ” وہ اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے پیچھے ہٹا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
سویرا اس ایک لمحے کے حصار میں قید ہو گئی تھی۔ شہریار نے جو اس کی پیشانی پر نرمی سے اپنا لمس چھوڑا تھا۔ اس لمس میں اسے عزت کا احساس ہوا تھا۔ ایک مان ایک عقیدت کا احساس ہوا تھا۔ ایسے تو سالوں سے کسی نے اسے پیار نہیں کیا تھا۔ جب بابا زندہ تھے تب وہ روز اس کی پیشانی چوم کر دعا دیا کرتے تھے۔
” اففف!! ” وہ جھرجھری لیکر اس لمحے کی قید سے آزاد ہوئی اور سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہوئی نیچے کچن کی تلاش میں چلی گئی۔
****************
دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ فارم ہاؤس پہنچ چکی تھی۔ بڑا سا آہنی دروازہ کھلا ہوا تھا م۔ اندر مالی پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی۔ بڑے سے لاونج میں صوفے پر اینا سو رہی تھی اور نیچے کشن رکھ کر کوئی لڑکا سویا ہوا تھا۔ وہ نخوت سے ان دونوں کو دیکھتی ہوئی آگے بڑھی۔ ابھی اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ اسے کچن میں سے کھٹ پٹ کی آواز سنائی دی۔ وہ اوپر جانے کا اردہ ترک کر کے کچن کی طرف بڑھی۔ سامنے ہی نہائی دھوئی گیلے بال پشت پر ڈالے سویرا بڑے انہماک سے کافی بنا رہی تھی۔ وہ دبے قدموں چلتی ہوئی سویرا کے پاس آئی اور اس کے بالوں کو بے دردی سے اپنی مٹھی میں جکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیا۔
” ہائے اللہ۔۔۔ ” سویرا کے منھ سے فلک شگاف چیخ نکلی۔
جاری ہے
