Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17
عروہ نے کافی کا مگ میز پر رکھتے ہوئے شہریار کو گھورا جو کافی ہاتھ میں لئیے مسلسل اپنے سیل فون پر مصروف تھا
” شیری اتنے دن بعد مجھے ڈیٹ پر لائے ہو اور مسلسل فون پر لگے ہوئے ہو یہ فئیر نہیں ہے اب پلیز یہ فون بند کرو دیکھو تمہاری کافی بھی ٹھنڈی ہو رہی ہے ۔” وہ ضبط کرتے ہوئے بولی
” عروہ کم آن میں ایک ضروری بزنس کال پر بزی ہوں اتنے ڈھیر سارے کام ہوتے ہیں اب ہر وقت تو تم سے باتیں نہیں کر سکتا ۔۔۔” وہ سخت لہجہ میں بولا
” میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں تم کسقدر مصروف ہو لیکن ابھی یہ ٹائم صرف میرا ہے ۔۔۔” وہ ضدی لہجے میں بولی
” یہ کارڈ پکڑو اور اپنے لئیے ایک اچھی سی ڈریس لیکر آؤ میں جب تک یہ کانفرنس کال ختم کرتا ہوں ۔۔۔” اس نے فون ہولڈ کروا کر اپنے والٹ سے ویزا کارڈ نکال کر اسے دیا
عروہ نے گھور کر اس کو دیکھا پھر ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کارڈ ہاتھ میں لیکر کافی شاپ سے باہر نکل گئی
شہریار فون پر اینا اور ترک ایمبیسیڈر کے ساتھ مصروف تھا جب اس کی نگاہ شیشے سے باہر نظر آتےنظر پر پڑی ۔۔۔۔
سامنے ہی سویرا بارش میں بھیگی ہوئی کھڑی تھی اس کے ساتھ ایک بمشکل انیس بیس سال کا خوشکل لڑکا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکے نے اپنا کوٹ اتار کر سویرا کے شانوں پر ڈال دیا ایک لمحے کو شہریار کے چہرے پر بڑا سنجیدہ اور سرد سا تاثر ابھرا ماتھے پر شکن پڑ گئی تھی اب وہ لڑکا سویرا سے بات کر رہا تھا کچھ ہی منٹ میں وہ لڑکا سویرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے مال کے اندر لے گیا ۔۔۔شہریار نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی
” سر !! سر آپ سن رہے ہیں ۔۔۔۔۔” اینا کی آواز گونجی
” یس اینا ! ۔۔۔” وہ فوراً فون پر متوجہ ہوا لیکن اس کا سارا دھیان کام پر سے ہٹ چکا تھا
” میں ابھی کچھ مصروف ہوں اینا آپ یہ فون میٹنگ کل ارینج کریں ۔۔۔” وہ فون بند کرکے کھڑا ہو گیا
بنا سوچے سمجھے اس کے قدم مال کی جانب بڑھ رہے تھے سامنے ہی ایک بڑی سی بک شاپ کے ساتھ کمپیوٹر شاپ تھی جہاں اسے سویرا اس لڑکے کے ساتھ کھڑی نظر آئی وہ دونوں لیب ٹاپ دیکھ رہے تھے
” سویرا لک دس یہ میک بک ہے اسٹیڈیز کیلیئے بالکل پرفیکٹ ۔۔۔” بریڈلی نے سویرا کو متوجہ کیا
” نہیں یہ بہت مہنگا ہے میں ابھی افورڈ نہیں کر سکتی ۔۔۔” سویرا نے منع کیا
کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک لیب ٹاپ پسند کر چکے تھے اب اس کالے لیب ٹاپ پر وہ لڑکا پنک ستارے نما گلٹر جیسے اسٹیکر لگا رہا تھا شہریار نے اگنور کرنے کی بہت کوشش کی پھر ایک فیصلہ کر کے اس نے آگے قدم بڑھائے ہی تھے کہ عروہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
**********************
عروہ ،شہریار کا کریڈٹ کارڈ لیکر مال میں آگئی تھی مگر اس کا موڈ اب شاپنگ سے ہٹ چکا تھا دھیان کے سارے دھاگے شیری میں اٹکے ہوئے تھے وہ خوش شکل خوش لباس تو ہمیشہ سے ہی تھا لیکن گزشتہ تین سال سے بہترین طریقہ سے بزنس سنبھال رہا تھا کانفیڈینس لیول بھی غضب کا تھا جس نے اس کی وجاہت اور شخصیت کو مزید اجاگر کردیا تھا شہریار کی شخصیت میں ایک متاثر کن سی کشش محسوس ہوتی تھی لڑکیاں اس پر مرتی تھیں اور وہ اپنی دھن میں مگن سب سے بے پرواہ بس اپنے بزنس کو مزید آگے بڑھانے میں لگا ہوا تھا ۔۔
” کیا وہ دو ٹکے کی سویرا اس قابل ہے کہ شہریار جیسے بندے کو اپنے حسن کے جال میں پھنسا سکے ؟؟ ” وہ بےحد تنفر سے سوچ رہی تھی
” نہیں وہ لڑکی کسی بھی طرح سے شیری کے قابل نہیں ہے اتنی محنت سے تو شیری میرے ساتھ سیٹ ہوا ہے اب میں کسی بھی قسم کا رسک نہیں لے سکتی ہوں ۔۔۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے بوتیک سے نکلی اور واپس شہریار کی جانب جانے کیلئے چلنے لگی تبھی اسے ایک شاپ کے باہر شہریار کھڑا نظر آیا
” اس کی تو کانفرنس کال چل رہی تھی یہ باہر کیا کررہا ہے ؟؟ ” وہ تیزی سے اس کے قریب آئی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو سامنے ہی سویرا کسی گورے لڑکے کے ساتھ لیب ٹاپ دیکھ رہی تھی اس نے شہریار کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر عجیب سی کرختگی چھلک رہی تھی اسے ایک کمینی سی خوشی محسوس ہوئی وہ تیزی سے آگے بڑھی اور شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھا
” واؤ !! یہ تمہاری کزن تو بہت فاسٹ نکلی !! ویسے دیکھو تو کتنا کیوٹ کپل ہے !! شیری تم نے تو مجھے کبھی ایسے اپنا کوٹ نہیں پہنایا آئی ایم سو جیلس ۔۔۔۔”عروہ نے شکوہ کیا
” عروہ تم جا کر گاڑی میں بیٹھو میں اسے لیکر آتا ہوں ۔۔۔” اس نے عروہ کا ہاتھ ہٹایا
” شیری آر یو کریزی ؟؟ وہ ڈیٹ پر ہے اور تم ۔۔۔۔” عروہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے ٹوکا
” جسٹ شٹ اپ !! تم جا کر کار میں میرا ویٹ کرو ۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا
” یہ تمہارا کنسرن نہیں ہے شیری ، تم کیوں اتنا غصہ ہو رہے ہوں چلو ادھر سے انہیں کچھ پرائیویسی دے دو ۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے بولی
“ڈیم اٹ عروہ !! یہ میرا کنسرن ہے وہ میرے خاندان کی عزت ہے ، میں اسے اس طرح اپنی عزت اچھالنے کی اجازت میں ہرگز نہیں دے سکتا ۔” وہ رکھائی سے بولا
” تمہاری عزت ؟؟؟ وہ کب سے تمہاری عزت ہو گئی ہے؟؟ بولو ؟؟ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ وہ لڑکی تمہیں اپنی اداؤں کے جال میں پھنسا لے گی جیسے آج اس گورے کو پھنسایا ہوا ہے ۔۔۔” عروہ چٹخ پڑی
” میں تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں کہ میرے خواب و خیال میں بھی سویرا جیسی لڑکی نہیں ہے وہ کسی بھی طرح سے میرے ٹائپ کی نہیں ہے میں ایسی دبی دبائی ہونق سی لڑکی کو اپنے ساتھ ، اپنے حلقہ میں متعارف نہیں کروا سکتا ۔۔۔”وہ تپ اٹھا
” پھر اسے گھر میں کیوں رکھا ہوا ہے ؟؟ “
” لسن عروہ اٹس انف تم گاڑی میں جا کر بیٹھو
میں اس لڑکی کو لیکر آتا ہوں ۔۔” وہ عروہ کو روانہ کرکے مڑا تو اندر شاپ خالی تھی اس نے چاروں جانب دیکھا پر وہ دونوں اسے کہیں نظر نہیں آئے وہ کچھ سوچتا ہوا شاپ میں داخل ہوا
” ابھی ادھر ایک لڑکی آئی تھی وہ کدھر گئی ؟؟ ” اس نے سیلز مین سے سوال کیا
” سر آپ اس ایشین بیوٹی کا پوچھ رہے ہیں ؟؟ ” سیلز مین نے مسکراتے ہوئے پوچھا
شہریار نے خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا تو اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی
” سر وہ تو پیمنٹ کر کے جا چکی ہیں ۔۔۔”
” کدھر گئی ؟؟ مین نے تو اسے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا ” شہریار نے اسے گھورا
” سر دس منٹ پہلے میم جا چکی ہیں ہمارے دو دروازے ہیں وہ شاید عقبی دروازے سے گئی ہیں ۔۔۔”
شہریار دوسرے دروازے سے شاپ سے باہر نکلا پر اسے سویرا دور دور تک کہیں نظر نہیں آئی اس نے جیب سے اپنا سیل فون نکالا پھر جھنجھلا اٹھا
” ڈیم اٹ !!! اس لڑکی کے پاس فون نہیں ہے ۔۔۔”
وہ غصہ دباتے ہوئے گاڑی تک آیا
” تھینک گاڈ تم آگئے چلو آج کلب چلتے ہیں ۔”
عروہ نے اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کی
شہریار نے گاڑی کو ریورس کیا اور تیزی سے میں روڈ پر کار نکال لی
” شیری یہ تم میرے گھر کی طرف کیوں جا رہے ہو ؟؟ ” عروہ نے راستہ دیکھ کر سوال کیا
شہریار لب بھینچے سنجیدگی سے کوئی جواب دئیے بغیر ڈرائیونگ کرتا رہا ۔عروہ کا موڈ ٹھیک ٹھاک آف ہو گیا تھا وہ کسی بھی طرح شہریار کو روکنا چاہتی تھی تاکہ سویرا کو اس لڑکے کے ساتھ اٹیچ ہونے کا ، وقت گزاری کرنے کا الزام لگا سکے ۔
شہریار نے اسے اس کے گھر کے دروازے پر اتارا اور تیزی سے بنا رکے گاڑی آگے بڑھا کر چلا گیا ابھی وہ آدھے راستے پر ہی پہنچا تھا کہ اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا غصہ میں اس نے اس پر توجہ ہی نہیں دی تھی اس نے ایک زوردار ہاتھ اسٹیئرنگ پر مارا پھر فون نکال کر اپنے ڈرائیور کو پٹرول اور دوسری گاڑی لانے کی ہدایات دیں
وہ جتنا جلدی گھر پہنچنا چاہ رہا تھا اتنی ہی دیر ہو رہی تھی شام ڈھل چکی تھی رات کی سیاہی آہستہ آہستہ اپنے پر پھیلا رہی تھی جب اس کا ڈرائیور کین میں پٹرول لیکر پہنچا
” مائیک تم صبح سویرا بی بی کو کس جگہ ڈراپ کرتے ہو ۔۔؟ کیا اس کا کوئی فرینڈ ادھر ہوتا ہے ؟ ” اس نے ڈرائیور سے دریافت کیا
” سر !! میں نے تو کبھی بھی میڈم کو کہیں بھی ڈراپ نہیں کیا وہ خود ہی آتی جاتی ہیں ۔۔ ” مائیک نے ادب سے جواب دیا
***************************
سویرا کا موڈ بہت اچھا تھا وہ کمرے میں بیگ رکھ کر اب چمکتی ہوئی آنکھوں سے اپنے لیب ٹاپ کو دیکھ رہی تھی
“اب کل کلاس میں، میں بھی سب اسٹوڈنٹس کی طرح کام کرونگی ۔۔۔” اس آنکھوں میں ستارے جگمگا رہے تھے وہ بچوں کی طرح بار بار لیب ٹاپ کو چھو رہی تھی
کچھ دیر بعد کچن میں آکر اس نے بہت دل لگا کر کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ کھیر بھی تیار کی تھی چکن پلاؤ کو دم لگا کر کچن سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں آئی آج اس کا دل رخسار آپی سے بات کرنے کو چاہ رہا تھا پر افسوس اس کے پاس کوئی سیل فون نہیں تھا اور نا ہی گھر میں کوئی لینڈ لائن فون تھا شاید شہریار کو اکیلے رہتے ہوئے کبھی لینڈ لائن فون کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ہوگی وہ سوچتے ہوئے الماری سے کپڑے نکالنے کیلئے بڑھی ۔
رخسار نے بھی زیادہ تر جوڑے نئی شادی شدہ دلہن کے حساب سے خرید کر پیک کئیے تھے کافی دیر تک کپڑے الٹ پلٹ کرنے کے بعد اس نے ایک نسبتاً سادہ سا جوڑا نکالا اور شاور لینے چلی گئی
فریش ہو کر اپنے لمبے گھنے بالوں کو ایسے ہی کھلا چھوڑ کر وہ آستینیں چڑھاتے ہوئے کچن میں آگئی ارادہ سلاد اور رائتہ بنانے کا تھا ابھی وہ کاؤنٹر ٹاپ پر کھیرے کے گول گول قتلے کاٹ رہی تھی کہ اطلاعی گھنٹی بجنے کی آواز گونجی
” یہ کون آ گیا ۔۔۔۔”
وہ حیران ہوتی ہوئی کپڑے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی مین دروازے تک آئی کچھ دیر ہاتھ مسلتے ہوئے سوچتی رہی پھر پیروں پر اچک کر ڈور آئی سے باہر دیکھنے لگی
*****************
شہریار الجھا الجھا سا عروہ کو چھوڑ کر گھر آیا گاڑی پارک کرکے مین اینٹرینس پر پہنچ کر دروازے پر نصب گھنٹی بجائی ۔۔
کافی دیر تک دروازہ نہیں کھلا تو وہ کلس کر رہ گیا
” او گاڈ اس لڑکی نے میرا دماغ گھما کر رکھ دیا ہے ۔۔۔” اس نے جیب سے مین ڈور کی چابی نکالی ہی تھی کہ دروازہ جھٹ سے کھلا
” اسلام علیکم ۔۔۔” سویرا دھیرے سے سلام کرتی ہوئی پیچھے ہوئی
” کیا کررہی تم ؟؟ دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں لگائی ۔۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
” وہ میں میں ۔۔۔۔۔” سویرا اس کے لہجہ سے گھبرا گئی
” سنو لڑکی !! یہ مجھ سے بات کرتے ہوئے میں میں مت کیا سیدھا سیدھا جواب دو ؟؟ کہاں تھی تم ؟؟ “
” سوری میں کچن میں تھی جب بیل بجی تو ڈر گئی آپ کے پاس تو چابی ہوتی ہے اور کوئی آتا نہیں ہے تو میں ڈر گئی ۔۔۔” وہ ہاتھ مسلتے ہوئے بولی
شہریار خاموشی سے اسے نظر انداز کرتے ہوئے اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کرکے چابی اپنی مخصوص جگہ پر رکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا
سویرا مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی لیونگ روم تک آئی اور صوفہ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی اب سے کچھ دیر پہلے وہ کتنی خوش تھی اور اب اس کی بھوک تک مر چکی تھی کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور چولہا بند کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔
شہریار کافی دیر تک شاور کے نیچے کھڑا ہو کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر تنگ آکر باہر نکلا ٹراؤزر پر بلیک بنیان پہن کر وہ اپنے کمرے کے ساتھ بنے ہوئے جم میں داخل ہوا اب وہ پنچنگ بیگ پر مکے مار مار کر اپنا غصہ نکال رہا تھا دو گھنٹے تک وہ باکسنگ میں لگا رہا پھر تولیہ سے پسینہ پوچھتے ہوئے کچن کی جانب بڑھا سارا لاونج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اس نے لائٹ جلائی سامنے ہی میز پر دو آدمیوں کیلیئے برتن سجے ہوئے تھے وہ سر جھٹکتے ہوئے کچن میں داخل ہوا تو کاؤنٹر پر سلاد کا سامان رکھا ہوا تھا اس نے فرج کھول کر پانی نکالا
بوتل کو منھ سے لگاتے ہوئے اس کی نظر چولہے پر پڑی اس نے پتیلی کا ڈھکن اٹھایا تو پلاؤ کی اشتہا انگیز خوشبو اس کی ناک سے ٹکرائی اسے ایک لمحے کو افسوس سا ہوا
” نہیں مجھے اس پر ترس نہیں کھانا وہ اس قابل نہیں ہے ۔۔۔” وہ خالی بوتل کاؤنٹر پر رکھ کر ارد گرد نظریں دوڑانے لگا
جب سے سویرا آئی تھی وہ گھر اور کچن کی فکر سے آزاد ہو گیا تھا اسے تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ انڈے گوشت چاول گروسری کدھر سے آئی اب تک تو وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید سویرا ڈرائیور سے گروسری منگواتی ہے کیونکہ وہ اسے پہلے دن ہی ایک کثیر رقم تھما چکا تھا لیکن اب ۔۔۔۔۔
وہ غصہ دباتے ہوئے سویرا کے کمرے کی طرف بڑھا اسے اپنے سوالات کے جواب چاہئے تھے
کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا ہلکی ہلکی سی نائٹ بلب کی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی سامنے بیڈ پر سویرا سینے تک کمفرٹر اوڑھے سو رہی تھی
شہریار نے ایک سرد نگاہ اس کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی سامنے لیٹی ہوئی لڑکی خوبصورتی کے ہر پیمانے پر پورا اترتی تھی ہر لحاظ سے مکمل مگر ناجانے کیوں وہ آج تک اس کے دل میں گھر نہیں کر پائی تھی لیکن اس سب کے باوجود اس لڑکی کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا اسے برداشت نہیں ہوا تھا ۔۔۔
” جس دن سے میری زندگی میں آئی ہو مجھے الجھا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔” وہ بڑبڑایا
سامنے ہی میز پر نیا لیب ٹاپ رکھا ہوا تھا جس پر پنک کلر کے ستارے نما اسٹیکرز جگمگا رہے تھے وہ بڑے اطمینان سے میز کی جانب بڑھا اور لیب ٹاپ اٹھا کر زور سے زمین پر دے مارا دبیز قالین کی وجہ سے آواز پیدا نہیں ہوئی وہ اپنے قدم لیب ٹاپ پر رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا
_____________
نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی آج صبح کا آغاز جتنا خوشگوار تھا اختتام اتنا ہی خراب تھا شہریار اسے دروازے پر چھوڑ گیا تھا اس نے اس کے جذبات کی ، احساسات کی پرواہ نہیں کی تھی وہ بےحد دلگرفتی سے سوچ رہی تھی رات کا ناجانے کون پہر تھا وہ کروٹیں بدل رہی تھی تھک ہار کر اس نے اپنا سیل فون اٹھایا ساڑھے تین بج رہے تھے اس نے بنا سوچے سمجھے شہریار کو فون ملا دیا ۔۔۔
” ہیلو …” شہریار کی کوفت سے بھرپور آواز سنائی دی
” شیری ۔۔۔۔” وہ سسک اٹھی
” عروہ !!! کیا ہوا ؟ آر یو آل رائٹ ؟ تم نے اس وقت فون کیا سب ٹھیک تو ہے ؟” شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا
” شیری !! میری جان میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی ، تم مجھے چھوڑ دو گے یہ خیال آتے ہی میری سانسیں رکنے لگتی ہیں میں خود کو سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہوں بس تم اور میں کوئی تیسرا ہمارے درمیان نہیں ہے پر دل ہے کہ مانتا نہیں ہے ۔۔۔” وہ بلک بلک کر رہ رہی تھی
شہریار رات کے اس پہر عروہ کے فون اور پھر اس اعتراف پر ششدر رہ گیا ۔۔
” عروہ ریلیکس ، کام ڈاؤن میں تو پہلے ہی تمہیں شادی کی آفر کرچکا تھا تمہیں ہی میرے پیرنٹس کی اپروول چاہئیے تھی ۔۔۔” شہریار نے یاد دلایا
” شیری !! مجھے لگتا تھا کہ میں تمہاری فیملی کے ماننے کا انتظار کر لونگی لیکن جب سے وہ تمہاری کزن آئی ہے میں پتہ نہیں کیوں پر ان سیکیور فیل کررہی ہوں بس مجھے اب کسی کی پرواہ نہیں ہے ہمیں اسی ویک منگنی کر لینی چاہیے اور ساتھ ہی شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر لینی چاہیے ۔۔۔” وہ روئے روئے انداز میں بول رہی تھی
” ابھی تم ٹینس ہو تھوڑا آرام کرو ہم اس موضوع پر صبح بات کرتے ہیں ۔۔ ” اس نے پیچھا چھڑانے والے انداز میں کہا
” شیری !! تمہیں یاد ہے نا کہ تم نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا ؟؟ پھر اب جب میں ریڈی ہوں تو تم پیچھے کیسے ہٹ سکتے ہو ؟؟ یا میں سمجھوں تم بھی ایک عام مرد نکلے جو کم عمر لڑکی پر پھسل گئے ۔۔۔” وہ طنز کرتے ہوئے بولی
” اٹس انیف عروہ !! تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو میں اب تمہیں کوئی صفائی نہیں دونگا ” وہ اکھڑ گیا
” شیری پلیز !! میں نے جان لیا ہے کہ میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتی اس لئیے میں اپنی شرط واپس لیتی ہوں تم بس مجھ سے جلد از جلد شادی کر لو اپنے گھر والوں کو جب چاہوں بتا دینا ” وہ اصرار آمیز لہجے میں بولی
” اچھا ابھی تو تم آرام کرو میری صبح میٹنگ ہے کل ڈنر پر مل کر بات کرتے ہیں ۔۔ “شہریار نے اسے تسلی دیکر فون رکھ دیا
عروہ کے فون نے اسے ڈسٹرب کر دیا تھا وہ اپنی فیلنگ سمجھ نہیں پا رہا تھا جو بھی تھا عروہ سے اس کی کمٹمنٹ تھی اتنی اچھی اور کانفیڈینس سے بھرپور لڑکی اس کے لئیے یوں بے قرار تھی اور کب سے اس کے ساتھ اپنی شادی کا انتظار کررہی تھی ، اب اسے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا سویرا اس کی زندگی میں زبردستی داخل کی گئی تھی اور ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہی تو ہوا تھا کون سا وہ اسے اپنی خلوت میں شامل کر چکا تھا لیکن ۔۔۔ شاہ بی بی سے کیا ایک سال کا وعدہ ۔۔۔ اس کی سوچوں کو بریک لگا گیا
*************************
صبح کا اجالا پھیل رہا تھا سویرا کی معمول کے مطابق فجر کے وقت آنکھ کھل گئی تھی وہ بڑے آرام سے نائٹ لیمپ بند کر کے بستر سے اتری اور لائٹ جلنے کے لئیے آگے بڑھی ہی تھی کہ اس کا پیر کسی سخت چیز سے ٹکرایا وہ کراہ کر پیچھے ہوئی آنکھے مسلتے ہوئے فرش کی جانب دیکھا اور اس کا ننھا سا دل دھک سےرہ گیا وہ تیزی سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنا زمین پر پڑا لیب ٹاپ اٹھا چکی تھی
” یہ ادھر کیسے ؟؟؟ ” پریشانی سے اس کا برا حال تھا
دوپٹے سے اسے صاف کرتے ہوئے اس نے لیب ٹاپ کو کھولا تو اندر سے پوری اسکرین بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی وہ ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے اسکرین کو دیکھ رہی تھی آنکھوں سے بے آواز آنسو بہے چلے جا رہے تھے اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ لیب ٹاپ فرش پر کیسے گرا وہ آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی پر آنسو تھے کہ امنڈتے چلے آرہے تھے۔ اس نے لیب ٹاپ اٹھا کر بیگ میں رکھا اور وضو کرنے چلی گئی
نماز پڑھ کر اللہ سے رو رو کر دعا مانگنے کے بعد اس نے یونیورسٹی جانے کی تیاری شروع کردی تیار ہو کر اپنے لمبے گھنے بالوں کی سادہ سی چٹیا بنائی اور سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہوئی کچن میں آگئی
ابھی اس نے چائے کا پانی رکھا ہی تھا کہ شہریار اپنے کمرے سے باہر نکلا
“یہ آج جاگنگ پر نہیں گئے ۔۔۔” وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئی
“جوس ۔۔۔” وہ گلاس میں اورنج جوس نکال کر تیزی سے اس کے پاس آئی
شہریار نے خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھا اس کی سرخ آنکھیں شدت گریہ کی چغلی کھا رہی تھیں شہریار کو اسے دیکھتے ہی کل شام مال کا منظر آنکھوں میں گھوم گیا شہریار کو عجیب سی فیلنگ ہوئی تھی غصہ حسد رقابت وہ اپنے احساسات کو کوئی نام نہیں دے سکا
” کافی بنا کر میرے کمرے میں لاؤ ۔۔۔۔” وہ جوس کا بھرا گلاس میز پر پٹختے ہوئے بولا
سویرا شہریار کا اکھٹر انداز دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی وہ تیزی سے کافی میکر کی جانب بڑھی گرم گرم بلیک کافی بنا کر کپ میں انڈیلی اور تیزی سے شہریار کے کمرے کی جانب بڑھی دستک دے کر اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی
” آپ کی کافی ۔۔۔”
“میز پر رکھ دو اور تم یہاں بیٹھو ۔۔۔” اس نے سامنے پڑے صوفہ پر اشارہ کیا
” سنو لڑکی !! میں تمہیں ادھر پڑھنے کیلئے کیرئیر بنانے کے لئیے لایا ہوں اور تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہو ؟؟ ” وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
” یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ممم میں نے کچھ نہیں کیا سچی ۔۔” سویرا نے بے ساختہ سر اٹھایا
اس کی جھیل سی سیاہ آنکھوں میں حیرت جھلک رہی تھی پہلی دفعہ شہریار کو اس کی آنکھوں کی کشش کا احساس ہوا اس نے سرعت سے اپنی نظریں ہٹائیں
” کل تم کہاں تھیں ؟؟ کس کے ساتھ تھیں بولو ؟؟ ” وہ غرایا
” میں ۔۔۔۔
” ہاں تم ؟؟وہ لڑکا کس حق سے تمہیں چھو رہا تھا بولو کس حق سے اس نے تمہیں وہ دو ٹکے کا لیب ٹاپ دلایا ۔۔۔۔”
سویرا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے وہ شہریار کا خونخوار انداز دیکھ کر سہم گئی تھی
“سب اسٹوڈنٹس کو ٹیچر نے لیب ٹاپ لانے کا کہا ہے وہ کہتے ہیں ادھر سارا کام کمپیوٹر پر ہوتا ہے ۔۔” وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولی
” تمہیں ادھر کس چیز کی کمی ہے ؟؟ کیا میں نے تمہیں کہاں نہیں تھا کہ جو چاہئیے ہو وہ اینا کو بتا دینا ؟؟ “
” جب تک میرے نکاح میں ہو اپنی اوقات میں رہنا سیکھو آئندہ اگر میں نے کسی غیر مرد کو تمہارے آس پاس بھی دیکھا تو ٹانگیں توڑ کر پاکستان بھجوا دونگا ۔۔” شہریار سرد لہجے میں بولتے ہوئے اسے باہر جانے کا اشارہ کر چکا تھا
سویرا چاہتے ہوئے بھی اسے نہیں بتا پائی کہ اس کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اینا سے رابطہ کر سکے.
جاری ہے
