Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20
اینا جلدی سے اپنی گاڑی پارک کرکے آفس کی طرف بھاگی اس کے ہاتھ میں ایک جدید فون کا باکس تھا وہ تیزی سے چلتے ہوئے اپنے باس شہریار کے آفس میں داخل ہوئی ۔۔۔
” سوری سر ٹریفک جام تھا دیر ہوگئی یہ لیجئے نیا فون ۔۔” وہ بولتے بولتے رکی سامنے عروہ اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
” اینا یہ فون مجھے دو میں شیری کو دے دونگی اور ہاں میں تھوڑا آرام کر رہی ہوں اس لئیے کسی کو بھی اندر مت بھیجنا۔۔۔” وہ اس کے ہاتھ سے فون لیتے ہوئے بولی
اس کی سبز آنکھیں فون کو دیکھ کر جگمگا رہی تھیں وہ سوچ چکی تھی کہ اب اس کا اگلا قدم کیا ہوگا اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر ڈالی اس کے پاس ٹھیک آدھا گھنٹہ تھا
اس نے تیزی سے فون کو آن کیا اس سے اپنے نمبر پر بیل دی پھر تیزی سے اپنے سیل فون پر نیا فیس بک اکاؤنٹ بنانے لگی ، سویرا کے فون نمبر پر اس نے سویرا ہی کے نام کا اکاؤنٹ بنایا ایک سیکنڈ کے اندر اندر ویریفیکیشن کوڈ سویرا کے موبائل پر آچکا تھا ۔۔
سویرا کے نام کا اکاؤنٹ بن چکا تھا اس نے بیک گراؤنڈ پک میں یونیورسٹی کی پک اپلوڈ کر کے ڈالی پھر ہنستے ہوئے ڈاکٹر اینڈریو کو سرچ کر کے فرینڈ ریکوئسٹ بھیج دی ۔۔۔
اب وہ بڑے اطمینان سے شہریار کی ریوالونگ چئیر پر ٹیک لگا کر سویرا کا فون ہاتھ میں لئیے ڈاکٹر اینڈریو کی پروفائل سے فون نمبر دیکھتے ہوئے نمبر ملا رہی تھی ۔۔۔
” اینڈریو اسپیکنگ ۔۔۔۔۔” تین بیلز کے بعد اینڈریو کی گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
” سرررر ۔۔۔۔۔” وہ نہایت دھیمے ڈرے سہمے انداز میں بولی
” کون ۔۔۔۔۔” اینڈریو نے حیرانی سے پوچھا
“وہ سر میں ۔۔۔۔” وہ رکے رکے انداز میں بات کررہی تھی
” یس مس آگے بھی بولوں ۔۔۔۔؟ ” اینڈریو نے جھاڑا
” میں میں کیا بولوں!! ” عروہ کو اب سویرا بننے میں مزا آرہا تھا
” سب سے پہلے اپنا نام بتاؤ ؟؟ “
” سر میں سویرا فرسٹ ائیر میڈیسن ۔۔۔”
” واؤ آئی کانٹ بیلیو تم نے مجھے کال کی ہے ویسے تمہارا نام بھی تمہاری طرح بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔” اینڈریو نے جھٹ سے کہا
” سر وہ میں ۔۔۔۔۔
” دیکھو سویرا اگر تم آج شام میرے ساتھ جانے سے انکار کرنے کا سوچ رہی ہوں تو بھول جاؤ ، میں شام میں تمہیں پک کرنے آرہا ہوں ویسے بھی جب تمہارا وہ ہسبنڈ گرل فرینڈ رکھ سکتا ہے تو تم کیوں پیچھے رہوں ؟؟ ۔۔۔”
عروہ اینڈریو کی بات سن کر تیزی سے سیدھی ہوئی
” آپ کو کیسے پتا ہے یہ سب ؟؟ ” اس نے سوال کیا
” جب ہم کسی سے پیار کرتے ہیں تو اس کے اچھے برے کی سب خبر رکھتے ہیں اب میں فون رکھتا ہوں شام کو ملتے ہیں میں آنے سے پہلے تمہیں کال کردونگا ۔۔۔۔”
” نہیں نہیں پلیز ۔۔۔۔آپ آج رہنے دیں میری پوزیشن سمجھیں وعدہ میں نیکسٹ ٹائم خود آپ سے ملونگی مجھے پہلے اپنے حالات ٹھیک کرلینے دیں اور پلیز مجھے اس نمبر پر کبھی کال مت کیجئے گا میں آپ کو فیس بک ریکوئسٹ بھیج رہی ہوں میسنجر پر بات کرینگے ۔۔۔” عروہ نے جلدی سے کہہ کر فون رکھ دیا
اب وہ سویرا کے فون سے سارا کال لاگ اور ہسٹری ڈیلیٹ کررہی تھی جب دروازہ کھول کر شہریار اندر داخل ہوا
عروہ نے جلدی سے فون میز پر رکھا ۔۔۔۔
” تم بور تو نہیں ہوئی ۔۔۔؟ ” شہریار نے استفسار کیا
” نہیں !! بلکل بھی نہیں ، میں تو یہ فون !!! ہاں یہ فون چیک کررہی تھی دیکھو یہ اینا بھی کتنی فضول خرچ ہے اتنا مہنگا پندرہ سو پاؤنڈ کا فون خرید لائی ہے ۔۔۔”
” کم آن عروہ !! لیو دس چلو تمہیں لنچ کرواتا ہوں ۔۔۔۔” وہ اسے اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنا سامان سمیٹنے لگا
” نہیں شیری ابھی رہنے دو تم آرام سے اپنا کام کرو میں اب چلتی ہوں کل پرسوں کا کچھ پلان کرتے ہیں ۔۔۔” وہ اسے جلدی سے منع کرتی ہوئی کھڑی ہو گئی
” اوکے ایز یو وش ۔۔۔۔” شہریار کندھے اچکاتے ہوئے بیٹھ گیا
**********************
وہ اسائنمنٹ جمع کروانے کے چکر میں صبح سات بجے سے یونی ورسٹی آئی ہوئی تھی تھی اوپر سے سر اینڈریو سے ٹکراؤ ہوگیا تھا اب اس کا دل لائبریری جانے کا نہیں تھا تھا وہ وہ دبے قدموں سے چلتی ہوئی پارکنگ لاٹ کی طرف آ گئی جہاں ہاں ڈرائیور اس کا ویٹ کرتا تھا اسے شہریار کی سخت ہدایات تھی ۔۔۔
گھر آکر اس نے لباس تبدیل کیا پھر کچن میں آگئی صبح سے اس نے ایک کپ چائے کے سوا کچھ بھی حلق میں نہیں انڈیلا تھا وہ کچن میں موجود ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی اس کے سر میں شدت سے درد ہو رہا تھا اسے ڈاکٹر اینڈریو کا خوف سب سے زیادہ تھا ۔
” اگر وہ واقعی گھر آگئے تو ۔۔۔ ” وہ کانپ کر رہ گئی اور اپنا سر جھکا کر دونوں ہاتھوں سے آہستہ آہستہ دبانے لگی کمزوری الگ غالب آرہی تھی وہ وہی ٹیبل پر سر رکھے نیم غنودگی میں ڈوب چکی تھی
شہریار گھر میں اپنے مخصوص انداز سے داخل ہوا چابی اور بریف کیس اپنی جگہ پر رکھتے ہوئے اس کی نظر ٹیبل پر سر رکھ کر سوتی ہوئی سویرا پر پڑیں وہ خاموشی سے اسے اگنور کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ دو گھنٹے بعد فریش ہو کر آرام کر کے وہ باہر نکلا تو سویرا اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
” ذرا مینرز نہیں ہیں اس لڑکی کو !! یہ کوئی آرام کرنے کی جگہ ہے ؟؟ نانسینس ۔۔۔” وہ لب بھینچتے ہوئے اس کے پاس آیا
” سنو لڑکی !! اٹھو اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔۔”
لیکن سویرا ٹس سے مس نہیں ہوئی اس نے تنگ آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ لڑھک سی گئی اب اس کا متورم چہرا شہریار کی نظروں کے سامنے تھا سرخ ناک اور سوجے ہوئے پپوٹے اس کے رونے کی چغلی کھا رہے تھے صاف ستھرا
آنسوؤں سے دھلا پاک چہرہ بہت ہی دلکش اور پر کشش لگ رہا تھا ۔۔۔
“اٹھو ۔۔۔۔” اس نے اسے ہلایا
“آہ پلیز نہیں ۔۔۔۔” سویرا نیم غنودگی میں بڑبڑا رہی تھی اس کی بند پلکیں بھیگ رہی تھیں
چند منٹ شہریار وہی کھڑا اسے گھورتا رہا
” سنو لڑکی !! ابھی کے ابھی اٹھو اور اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔۔” اب کے وہ بہت زور سے بولا
سویرا جو نیم بیہوشی میں شہریار کی آواز دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی پھر تیز آواز سن کر اس نے بمشکل آنکھیں کھول دی سامنے ہی شہریار کھڑا اسی کو گھور رہا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے ۔
” کیا بات ہوئی ہے ؟؟ تم روئی کیوں ۔۔۔؟؟ ” شہریار نے سپاٹ لہجہ میں پوچھا
“کچھ نہیں ، کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔” وہ جھرجھری لے کر رہ گئی
شہریار پلٹ کر کچن کیبنٹ کی طرف گیا اور ایک سر درد کی گولی نکالی پھر فرج سے دودھ نکال کر گلاس میں ڈال کر سویرا کی طرف بڑھایا
“یہ ٹیبلٹ لو اور کچھ کھا پی کر آرام کرو ۔۔۔” وہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا
“انہیں کیسے پتہ چلا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔” وہ حیرانی سے شہریار کو جاتا دیکھ رہی تھی
شہریار کے پچھلے رویے کو دیکھتے ہوئے اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ اس کی زندگی میں کہیں بھی نہیں ہے اسے دیکھتے ہی شہریار کا موڈ بگڑ جاتا تھا وہ بس اسے مجبوراً ہی برداشت کر رہا تھا جس کا اظہار وہ کئی بار برملا کرچکا تھا ۔۔۔
*****************
رخسار کچن میں شام کی چائے کا اہتمام کروا رہی تھیں جب فرزانہ اندر داخل ہوئیں
” اسلام علیکم پھپھو ۔۔۔” رخسار نے دھیمی آواز میں سلام کیا
” ماں کہاں ہے تمہاری ؟ پوری حویلی چھان ماری ہے ۔۔۔” وہ غصہ سے بولیں
” اماں تو دوپہر سے بابا سائیں کو لیکر اسپتال چیک اپ کروانے گئی ہیں بس اب آنے والی ہونگی ۔۔۔”رخسار ٹرے میں برتن سیٹ کرتے ہوئے بولی
” آ لینے دو آج انہیں میں نے بھی کھل کر بات کرنی ہے ۔میں شاہ بی بی کے پاس جارہی ہوں تمہاری ماں آئے تو اسے بھی ادھر ہی بھیج دینا ۔۔ ” وہ نخوت سے کہتی ہوئی باہر نکل گئی
تھوڑی ہی دیر میں زاہدہ بیگم سلیم صاحب کو لے کر آچکی تھیں رخسار نے انہیں فرزانہ پھپھو کا پیغام دیا وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے شاہ بی بی کے کمرے کی طرف چل دیں ۔
” اسلام علیکم ۔۔۔” انہوں نے اندر داخل ہوتے ہی اجتماعی سلام کیا
” وعلیکم السلام ،تم کب آئی زاہدہ ؟ اور ڈاکٹر نے کیا کہا ۔۔۔۔؟ ” شاہ بی بی نے پوچھا
” جی بس ابھی ہی آئی ہوں ڈاکٹر کہتا ہے یہ پہلے سے بہتر ہیں اور اس نے آج نسخہ بھی بدلا ہے ۔۔ ” وہ تفصیل سے بتاتی ہوئی بولیں
” میں بہت دیر سے تمہارا انتظار کر رہی تھی اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ میری تم سے ایسی کیا دشمنی تھی جو تم نے میرے شاہو کو اس چڑیل کے ساتھ ایسا بھیجا ہے کہ وہ پلٹ کر ہمیں یاد بھی نہیں کرتا وہ جب پیدا ہوا تو تم بیمار تھیں ساری زندگی اسے اپنے سینے سے لگا کر رکھا ان ہاتھوں سے اس کی پرورش کی اور بدلے میں کیا ملا ؟؟ اس کی شادی آپ سب نے میرے بھائی کی قاتل سے کروا دی اور اب وہ لڑکی اسے ہم سب سے دور کررہی ہے ۔۔۔”
” خدا کا خوف کرو ، فرزانہ کیسی باتیں کررہی ہوں ؟؟ سویرا معصوم کا اپنے باپ کی موت سے کیا تعلق ؟؟ آئندہ ایسے بنا سوچے سمجھے مت بولنا “شاہ بی بی نے تنبیہہ کی
” شاہ بی بی میں کہے دیتی ہوں اس منحوس سویرا کی چالاکیاں میں اچھی طرح سے جانتی ہوں دیکھنا وہ میرے شاہو کو بھی کھا جائیگی بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں لندن جا رہی ہوں ۔۔”
” شرم کرو فرزانہ ، تم ایک معصوم مظلوم بچی پر تہمت لگا رہی ہو ، مت بھولوں وہ تمہاری سگی بھتیجی ہے ۔۔۔” زاہدہ بیگم نے تڑپ کر کہا
” میں نے منشی محمد یوسف کو اپنے کاغذات دے دئیے ہیں اور اللہ نے چاہا تو اس ماہ کے آخر میں ،میں ولایت چلی جاؤنگی ۔” وہ سب کو حیران پریشان چھوڑ کر کمرے سے نکل گئی
___________
صبح چھ بجے وہ سو کر اٹھا جاگنگ کیلیئے ٹریک سوٹ پہن کر کمرے سے باہر نکلا تو سویرا سامنے ہی ڈائننگ ٹیبل پر بالکل اسی جگہ اسی انداز سے بیٹھی ہوئی تھی جیسے وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا ۔۔۔
” آر یو میڈ ؟؟ تم رات بھر یہیں بیٹھی رہی ہو ؟؟…” وہ ٹھیک ٹھاک تپا تھا
سویرا مندی مندی آنکھوں سے غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ کچھ دیر اس کی غائب دماغی کو نوٹ کرتا رہا
” اٹھو !! جاؤ جا کر منھ ہاتھ دھو کر آؤں ۔۔۔۔” اس نے آرڈر دیا
وہ فریش ہو کر واپس آئی تو وہ سامنے ٹیبل پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
” جلدی سے کافی بناؤ ۔۔۔۔” وہ سلائس پر مکھن لگاتے ہوئے نارمل انداز میں بولا
سویرا خاموشی سے کچن میں چلی گئی اس کو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ بھیانک رات آکر گزر چکی ہے اور وہ ڈاکٹر اینڈریو گھر تک نہیں پہنچا لیکن کیا قیامت واقعی ٹل چکی ہے ؟؟ سوچیں تھی کہ آئی چلی جا رہی تھی ، وہ کافی مگ میں انڈیل کر شہریار کے پاس آئی
” لگتا ہے آج تمہارا اسکول جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ اس کے ویران سے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے بولا
” میں وہ بس !!
” تم نے شاید کل سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے لو یہ دودھ لو اور آج گھر پر ریسٹ کرو خواہ مخواہ بیمار ہو گئی تو مجھے ہی بھگتنا پڑے گا ۔۔۔۔” اس نے کافی کا خالی مگ اٹھایا اور کچن میں چلا گیا
*********************
شہریار کے آفس جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی اس کے اندر بالکل بھی یونیورسٹی جا کر ڈاکٹر اینڈریو کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی وہ تھکے تھکے انداز میں بستر پر گر گئی ۔۔۔
زندگی پہلے بھی کبھی سہل نہیں رہی تھی لیکن پہلے اس کو حوصلہ دینے کیلئے شاہ بی بی اور رخسار ہوتی تھیں جو بڑے پیار سے اسے سمجھایا کرتی تھیں اس کی ڈھال بنا کرتی تھیں ۔۔۔
” رخسار آپی !!!” وہ سسک اٹھی
اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں ڈاکٹر بننا اعلا تعلیم حاصل کرنا اس کا خواب تھا جسے شہریار پورا کررہا تھا لیکن ڈاکٹر اینڈریو کا یوں اس کی راہ میں آنا ، زبردستی حق جتانا ، اس نازک سے دل کی مالک لڑکی کو ڈرا رہا تھا ۔۔۔
” اللہ جی !! میری مدد کریں مجھے اس مشکل سے نکال دیں ۔۔۔۔” وہ روتے روتے پتا نہیں کب سو گئی تھی اور نہ جانے کتنی دیر تک سوتی رہی تھی جب اس کی آنکھ مسلسل مین ڈور کی لگاتار بیل بجنے سے کھلی ۔۔۔
مسلسل بجتی بیل کی آواز سن کر وہ اٹھ بیٹھی دوپٹے جو درست کرتی ہوئی دروازے پر آئی کی ہول سے دیکھا تو سر پر سںن گلاسز ٹکائے اینا کھڑی تھی اس نے فوری دروازہ کھولا
” کیسی ہو سویرا ۔۔۔ ” اینا نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا
” ٹھیک ہوں ۔۔۔” وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی
” چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ ، ڈاکٹر کے کلینک چلنا ہے ۔۔۔” وہ آرام سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی
” ڈاکٹر !! مگر کیوں۔ ۔۔۔”
” مائی سوئیٹ فرینڈ ، مجھے باس نے بھیجا ہے کہ تمہارا چیک اپ کروانا ہے اس لئیے کوئی اگر مگر نہیں تمہارے پاس دس منٹ ہیں ہری اپ گرل ۔۔۔۔” اینا نے جلدی مچائی
” پر مجھے کچھ نہیں ہوا ، سچی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔”
” تم ٹھیک ہوگئی پر باس ٹھیک نہیں ہیں میرے سارے کام آف کروا کر مجھے ادھر بھیجا ہے تاکہ تمہیں ڈاکٹر کے دکھا دوں انہیں بہت فکر ہے تمہاری ۔۔۔۔” اینا شرارت سے بولی
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی کمرے میں آئی
” ہاں میں اکیلی تو نہیں ہوں میرا سب سے مضبوط رشتہ تو میرے ساتھ ہے مجھے ان کو سب بتا دینا چاہئیے ۔۔۔۔” وہ تیار ہوتے ہوئے سوچ رہی تھی
********************
صبح کے وقت ایک گھنٹہ جاگنگ کرنا اس کی پرانی عادت تھی اس کے بعد پورا دن تو آفس ، بزنس میٹنگز میں ہی گزر جاتا تھا آج بھی وہ معمول کے مطابق جاگنگ کرنے کے لیے نکل رہا تھا جب اس کی نظر میز پر سر رکھ کر بیٹھی ہوئی سویرا پر پڑی تھی اپنے ارد گرد سے بے نیاز چہرے پر عجیب سا ڈر و خوف لئیے وہ اسے اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی اس نے زبردستی اسے اٹھا کر منھ ہاتھ دھونے بھیجا اس کے بعد وہ چاہتے ہوئے بھی باہر نہیں جاسکا وہ اسے دوبارہ دیکھنا چاہ رہا تھا تھوڑی ہی دیر میں وہ دھلے منھ کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھے باہر آئی اس کا انداز ہرگز بھی نارمل نہیں تھا اس نے زبردستی اسے دودھ کا گلاس دیا اور اسکول سے چھٹی کرنے کا آرڈر دیکر آفس آگیا ۔۔۔
آفس میں کام کرتے ہوئے بھی اسے سویرا کا خیال آرہا تھا اس کا دل چاہا کہ اسے فون کر کے طبعیت کا پوچھے مگر فون تو وہ سویرا کو دینا ہی بھول گیا تھا تنگ آکر اس نے اپنی سیکریٹری اینا کو انٹر کام کیا اور اسے گھر جا کر سویرا کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی سخت ہدایات دیں ۔ابھی وہ اپنے کام میں مصروف تھا جب جونس نے اسے کال کر کے لنچ پر جوائن کرنے کو کہا ۔۔۔
وہ سارے کام سمیٹ کر کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے تیزی سے آفس سے باہر نکلا جونس نے ترکش پارٹنرز کو لنچ پر انوائیٹ کیا تھا اور شہریار کو وقت سے پہچنے کی ہدایت کی تھی ریسٹورنٹ کے دربان کو گاڑی کی چابی پکڑاتے ہوئے وہ تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے بڑے سے ہال میں داخل ہوا اس نے متلاشی نگاہوں سے چاروں جانب دیکھا تو سامنے ہی سفید شرٹ پر ٹائی لگائے بلیک پینٹ میں جونس آستین فولڈ کئیے ہوئے دو تیس سے پینتیس سال کے آدمیوں سے باتیں کرتا ہوا نظر آیا ان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر ترک خاتون بھی تھیں وہ اطمینان سے اپنا کوٹ اتار کر ہاتھ میں لیتے ہوئے ان کی جانب بڑھا ۔۔
” سوری جینٹلمینس میں تھوڑا لیٹ ہوگیا ۔۔” وہ خوشدلی سے مسکراتے ہوئے بولا
جونس نے اسے گھورتے ہوئے اس کا تعارف ان دونوں مرد حضرات اور ان خاتون سے کروایا
اس کے بعد ایک پرتکلف لنچ کا آرڈر کرکے وہ سب آپس میں باتوں میں مصروف ہو گئے
لنچ سرو ہو چکا تھا تبھی اچانک سے وہ خاتون اپنے بیٹوں سے مخاطب ہوئیں ۔
” Ne tatlı bir kız “(کتنی پیاری لڑکی ہے )
“Tatlı anne çok tatlı değil”(پیاری نہیں ماں بہت خوبصورت ہے )
وہ سامنے بڑے غور سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا شہریار اور جونس نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ۔۔
کونے والی میز پر اینا اور سویرا بیٹھی باتیں کررہی تھیں
*******************
اینا اسے ڈاکٹر کو دکھا چکی تھی سب نارمل تھا ڈاکٹر نے اسے ذہنی دباؤ کا شکار بتایا تھا اور خوش رہنے اسٹریس فری رہنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔
” سویرا آخر تمہیں ٹینشن کیا ہے ؟؟ اتنے بڑی فیملی سے بلونگ کرتی ہوں اپنی من پسند تعلیم حاصل کررہی ہوں پھر کیا سوچتی رہتی ہوں جو یہ حالت بنا لی ہے ۔۔۔” اینا نے اسے جھاڑا
سارے راستے وہ اسے سمجھاتی بجھاتی ہوئی ایک بڑے سے ریسٹورنٹ میں لے آئی ۔۔۔
” چلو اترو آج میں تمہیں زبردست سا لنچ کرواتی ہوں ۔۔۔” اینا نے گاڑی پارک کی
” سوری اینا مگر میں ایسے لنچ نہیں کرسکتی ۔۔۔” سویرا ہچکچائی
” ڈونٹ وری ادھر کا فوڈ حلال ہوتا ہے شہریار سر ادھر ہی آتے ہیں اس لئیے مجھے پتہ ہے ۔۔۔” اینا اس کی ہچکچاہٹ سمجھ کر بولی
” ٹھیک ہے پر بل میں دونگی ۔۔۔” سویرا نے جلدی سے کہا
” آج تم میری مہمان ہو نیکسٹ ٹائم تم دے دینا اب چلو ۔۔۔” اینا نے اس کا بیگ چھین کر پیچھے کی سیٹ پر ڈالا
اینا اور سویرا اندر داخل ہوئیں اندر کا ماحول بہت خوابناک سا تھا ہلکا ہلکا آرکسٹرا بج رہا تھا چاروں جانب بڑے بڑے پام کے گملے رکھے ہوئے تھے اینا نے کونے پر ایک میز منتخب کی اور سویرا کے ساتھ بیٹھ گئی
” تم اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو ریلیکس یار ۔۔۔” اینا نے اسے ہاتھ مسلتے ہوئے دیکھ کر ٹوکا
اب سویرا اسے کیسے بتاتی کہ یہ اس کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ وہ کسی ریسٹورنٹ میں آئی تھی ورنہ اسے تو ہمیشہ گھر میں چھوڑ دیا جاتا تھا ۔۔۔
تبھی ایک باوردی ویٹرس مینو کارڈ لیکر آئی
” چلو بھی جو دل چاہے آرڈر کرو ۔۔۔” اینا نے خوشدلی سے کہا
وہ دونوں اپنا اپنا آرڈر لکھوا کر اب ریلیکس ہو کر بیٹھ گئی تھیں ۔۔
” اینا میں جاب کرنا چاہتی ہوں کیا تم اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہوں ؟؟ ” سویرا نے سوال کیا
” جاب !! آر یو سیریس !! ” اینا نے حیرانگی سے اسے دیکھا
” میں بہت سیریس ہوں ۔۔۔” سویرا نے جلدی سے کہا
” مگر سویرا ہنی ، تم میڈیکل کی ٹف پڑھائی کے ساتھ جاب کیسے مینج کروگی ؟؟ “
” میں کر لونگی کوئی ایوننگ یا ویک اینڈ کی جاب مل جائے پلیز میری مدد کرو ۔۔۔”
” مدد کیسی مدد ڈئیر ؟؟ تمہارے تو کزن کا اتنا بڑا بزنس ہے تم وہ جوائن کیوں نہیں کر لیتی ہوں باس سے بولو گھر کی بات ہے وہ ٹائمنگ بھی ایڈجسٹ کر لینگے ۔۔” اینا نے مشورہ دیا
” نہیں اینا مجھے کسی کا احسان نہیں چاہئیے میں خود کچھ کرنا چاہتی ہوں خود کو پروف کرنا چاہتی ہوں ۔۔
جاری ہے
