Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25

عروہ صبح سے ہی بہت مصروف تھی اپنے سارے کام جلدی جلدی نبٹا کر وہ شہریار کے گھر روانہ ہوئی ۔۔
گھر کی چابی کافی عرصے سے اس کے پاس تھی وہ بڑے ہی خوشگوار موڈ میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی لاؤنچ میں شہریار سویرا کے انتہائی قریب کھڑا ہوا تھا عروہ کی رگیں تن گئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی سویرا کی ڈری سہمی ہوئی آواز گونجی
” مجھے مت ماریں پلیز ابھی چھوڑ دیں میں وعدہ اب کبھی بھی جاب نہیں کرونگی ۔”
شہری سویرا کو مار رہا ہے ؟؟ وہ حیرت زدہ سی ہوگئی مگر پتا نہیں کیوں دل میں ایک کمینی سی خوشی محسوس ہوئی
” اہم ممم ۔۔۔” وہ قریب جا کر کھنکھاری
شہریار جو جذبات میں آکر غلطی کرنے جا رہا تھا عروہ کے کھنکھارنے کی آواز سن کر تیزی سے ہوش میں آیا اور سویرا کو اپنی گرفت سے نرمی سے آزاد کیا
سویرا اس کی گرفت سے نکلتے ہی بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں جا کر قید ہو گئی
شہریار حیرت سے سویرا کی کمر پر لہراتے بالوں کو دیکھ رہا تھا اسے تو آج سے پہلے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سویرا کے بال اتنے خوبصورت ہیں ۔۔۔
” یہ کیا ہو رہا تھا ؟؟ ” عروہ نے شہریار کی محویت توڑی
وہ گہری سانس لیتے ہوئے پلٹا سامنے ہی عروہ سلیولیس آسمانی کلر کی میکسی میں بجلیاں گرا رہی تھی آج پہلی بار اسے عروہ کے وجود سے کوفت سی محسوس ہوئی ۔۔
” شہریار تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تمہارے پیرنٹس نے تمہارے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں کیا ہر انسان کی اپنی پسند اپنی چوائس ہوتی ہے اور انہوں نے تمہارے جیسے ایگزیکٹو بندے کے سر پر یہ دبو میٹرک پاس لڑکی ڈال دی ہے ۔۔۔” عروہ نے ماحول کا اثر کم کرنا چاہا
” عروہ پلیز مجھے اس ٹاپک پر بات نہیں کرنی تم کہو کیسے آنا ہوا ؟؟ ” وہ بیزاری سے بولا
” شیری ڈیڈ نے ہماری انگیجمنٹ کیلیئے ہوٹل بک کروا لیا ہے فرائیڈے ایوننگ شام سات بجے کا ٹائم پے انویٹیشن کارڈز کل تک آجائیں گے تم اپنی گیسٹ لسٹ بتاؤ !! ” وہ کھنکتے ہوئے لہجے میں بولی
” ہاؤ ڈیر ہو !! عروہ تم مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا اسٹیپ کیسے لے سکتی ہو ۔۔۔۔” شہریار کے سر پر بم سا پھٹا
” پرابلم کیا ہے شیری ؟؟ تم نے کہا شادی ایک سال بعد میں مان گئی ، تم نے اپنی سو کالڈ وائف کو اپنے گھر میں رکھ لیا میں کچھ نہیں بولی لیکن کچھ تو اپنی بات پر قائم رہو !! تم خود کو مین آف ورڈ کہتے ہو جنٹلمین مانتے ہو تو ثابت کروں اور مجھ سے رشتہ جوڑو ویسے بھی ہم ابھی صرف منگنی ہی تو کررہے ہیں جس پر تم کچھ دن پہلے راضی تھے اب میں ڈیڈی کو کیسے منع کروں ؟؟ بولو ۔۔۔” عروہ نے اسے اس کے الفاظ یاد دلائے
“عروہ پلیز میں ابھی اس سب کے لیے مینٹلی تیار نہیں ہو ۔۔۔۔”
” کیوں شیری ؟؟ تم نے تو مجھے زبان دی تھی !! کیسے مرد ہو تم اپنی زبان سے اپنے قول سے مکر رہے ہو ۔۔۔۔” عروہ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
” ہمم اٹس اوکے ٹھیک ہے میری گیسٹ لسٹ کوئی نہیں ہے تم بھی بس اپنے قریبی دوست احباب کو انوائیٹ کرنا میں ابھی کوئی بڑا تماشہ نہیں ہیں چاہتا ہوں ۔۔” وہ بیزاری سے بولا
” تھینکس ڈارلنگ !! ” وہ اس کی بیزاری کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے گال چومتے ہوئے بولی
” عروہ پلیز !! مجھے یہ سب پسند نہیں ہے ۔۔۔” وہ اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے بولا
“اچھا سنو منگنی کا ڈریس تم دلاؤ گئے ؟؟ یا اس کیلیئے بھی ڈیڈی سے پیسے مانگوں ؟؟ ” عروہ اس کا رویہ نظر انداز کرتے ہوئے بولی
” تم میرا کریڈٹ کارڈ رکھ لو جو دل چاہے خرید لینا ۔۔ ” وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولا
” شیری اب میں اتنی بھی گئی گزری نہیں ہوں کہ تم مجھے یہ کارڈ تھما کر جان چھڑا رہے ہو ۔۔۔” وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائی
” او گاڈ ؤومین !! آخر تم چاہتی کیا ہو ؟؟ ” وہ ٹھیک ٹھاک تپا
” میں کل شام آفس آرہی ہوں وہاں سے تم مجھے بوتیک لے کر جاؤ گے اور اپنی پسند کا ڈریس دلاؤ گئے اینڈ دیٹس فائنل ۔۔۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی
*******************
سویرا اپنے کمرے میں آکر کچھ دیر تک رونے کا شغل پورا کرتی رہی پھر اسے یاد آیا اس کا بیگ تو کیفے میں ہی رہ گیا تھا اس کا اسٹوڈنٹ کارڈ ،اے ٹی ایم کارڈ ، بس پاس سب اس بیگ نما پرس میں تھا وہ جلدی سے آنسو پوچھتے ہوئے اٹھی اور پینٹ کی جیب سے سیل فون نکال کر اینا کا نمبر ملانے لگی وہی اب اس کا بیگ لا سکتی تھی کئی بیلز کے بعد بھی اینا نے فون نہیں اٹھایا تو اس نے مایوس ہو کر لائن کاٹ دی اس کے اندر یہ خوف بھی تھا کہ اگر بیگ چوری ہوگیا یا کھو گیا تو وہ اس دیار غیر میں کس سے مدد مانگے گی ۔۔۔
” اینا شاید بریڈلی کے ساتھ ہو ۔۔۔” اس سوچ کے آتے ہی اس نے تیزی سے بریڈلی کا نمبر ملایا
مگر وہی بیلز جا رہی تھیں مایوس ہو کر اس نے فون سنگھار میز پر رکھا اور کیبنٹ سے قمیض شلوار نکال کر واش روم چلی گئی
عروہ کے جانے کے بعد شہریار اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ شاہ بی بی کی کال آنے لگی
” کیسی ہیں شاہ بی بی ۔۔۔۔” سلام دعا کے بعد اس نے ا۔ کی خیریت دریافت کی
” سب ٹھیک ہ شاہو بس تم میری سویرا سے بات کروا دو ۔۔۔” وہ پیار سے بولیں
” خیریت شاہ بی بی ۔۔۔۔”
“کیوں پتر !! بنا خیریت میں اپنی بچی سے بات نہیں کرسکتی ؟؟ ۔۔۔” انہوں نے شاہو کو ٹوکا
” آپ جب چاہیں بات کر سکتی ہیں ہولڈ کریں میں اسے بلاتا ہوں ۔۔”
” سن شاہو !! تمہارے ماں باپ اور پھپو دس دن بعد لندن کیلیئے روانہ ہو رہے ہیں سویرا سے کہو کچھ منگوانا ہے تو لسٹ بنا لے ۔۔۔۔” وہ شفقت سے بولیں
” شاہ بی بی آپ خود بول دیں بلکہ ایسا کریں آپ کی کال لمبی ہو رہی ہے آپ رکھیں میں ملاتا ہوں ۔۔۔” وہ فون کاٹ کر سویرا کے کمرے کی جانب بڑھا
شاہ بی بی سے سویرا کوئی اپنے اسکول اور جاں کی بات نا کرے یہ سمجھانا بہت ضروری تھا وہ فون ہاتھ میں پکڑے اپنے کمرے سے نکل کر سویرا کے کمرے کی جانب بڑھا ، دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا
سامنے ہی سویرا شاید ابھی شاور لیکر نکلی تھی دھلا دھلا سا سراپا کمر سے نیچے جاتے گھنے لمبے بھیگے ہوئے بال دوپٹے سے بے نیاز وہ سنگھار میز پر جھکی بالوں کا برش اٹھا رہی تھی
” سنو لڑکی !!” اس نے اسے مخاطب کیا
سویرا جو بڑے آرام سے اپنے گیلے بالوں کو سلجھانے کا کام شروع کررہی تھی شہریار کی آواز سن کر چونک کر سیدھی ہوئی اور اسے یوں اپنی سمت دیکھتے ہوئے پا کر سٹپٹا کر بیڈ پر رکھے دوپٹے کو اوڑھنے کے لئیے بڑھی تیزی سے دوپٹہ اٹھا کر سر پر ڈالا
شہریار جو بڑے آرام سے دروازے سے ٹیک لگائے سویرا کی بوکھلاہٹ کو دیکھ رہا تھا اچانک سے فون کی بیل سن کر چونک گیا ۔۔۔
بیل کی آواز ڈریسنگ ٹیبل پر سے آرہی تھی وہ دو قدم بڑھا اور حیرت سے میز پر بجتے فون کو اٹھایا
“بریڈلی کالنگ ۔۔۔” کے الفاظ جگمگا رہے تھے ساتھ میں ایک ہینڈسم سے لڑکے کی تصویر بلنک کررہی تھی اس نے بغور دیکھا
” یہ تو وہی مال والا لڑکا ہے ۔۔۔” اس کی رگیں تن گئی
سویرا شہریار کو فون اٹھاتے دیکھ کر ساکت سی رہ گئی
” کون ہے یہ ؟؟؟ ” وہ فون کی اسکرین سویرا کو دکھاتے ہوئے پوچھ رہا تھا
” یہ یہ وہ اینا کا فرینڈ ہے۔۔۔۔” سویرا اٹکتے ہوئے بولی اس کی پیشانی پسینے سے تر بتر ہوگئی تھی ان کے خاندان میں بھلا کہاں لڑکی لڑکے کی دوستی کا رواج تھا
” اینا کا دوست ؟ تو تمہیں کیوں کال کررہا ہے ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
اس سے پہلے سویرا کوئی جواب دیتی فون پھر بجنے لگا ۔۔۔
” بریڈلی کالنگ ۔۔۔۔۔” شہریار نے سویرا کو گھورتے ہوئے فون کو زور سے دیوار پر مارا وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گر گیا
سویرا لرز کر رہ گئی اسے شہریار سے خوف محسوس ہو رہا تھا آنسو تھے کہ بنا بلائے آنکھوں میں امنڈتے چلے آرہے تھے
” مم میں سچ کہہ رہی ہوں یہ اینا کا دوست ہے آپ اینا سے پوچھ لیں ۔۔۔” وہ اٹکتے ہوئے بول رہی تھی
” تمہارے پاس فون کہاں سے آیا ۔۔۔۔” اس نے سوال کیا
” ڈیم اٹ سویرا !!! میں کیا پوچھ رہا ہوں ؟؟ جواب دو ۔۔۔۔” وہ غرایا
” ااااینا ۔۔۔” وہ سسکی
” اینا نے فون دلایا تھا ۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے بولی
” او گاڈ ! تم رو کیوں رہی ہو ؟؟ ہر بات کا جواب تم آنسو میں کیوں دیتی ہوں مجھے تو لگتا ہے تمہیں اپنے ساتھ یہاں لاکر میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔۔۔” وہ ٹھیک ٹھاک تپا تھا
” میرا فون !!! ” وہ بے بسی سے روتے ہوئے زمین پر گرے فون کو دیکھ رہی تھی
شہریار تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا اور اپنے کمرے میں آکر اس نے سویرا کیلیئے منگوایا ہوا فون اٹھایا اور واپس اس کے کمرے میں آیا جو اب زمین پر پڑا فون اٹھا کر اسے جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
” یہ لو !! یہ فون میں نے تمہارے لئیے منگوایا تھا وہ ڈبے سے ایک جدید موڈل کا مہنگا ترین فون نکالتے ہوئے بولا
” میں اس میں پاکستان کے نمبر اور اپنا نمبر فیڈ کررہا ہوں اس کے علاوہ مجھے اس میں کوئی اور کال یا نمبر نظر نہیں آئے ۔۔۔” وہ نمبر سیو کرتے ہوئے بولا
” پر وہ اینا ؟؟؟ ” سویرا ہچکچائی
” اسے ایڈ کر سکتی ہوں مزید کچھ نہیں ۔۔”وہ فون اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا
سویرا نے فون نا چاہتے ہوئے بھی تھام لیا ورنہ اس جلاد سے کوئی امید نہیں تھی کہ اسے پھر سے اپنے عتاب کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا
شہریار جاتے جاتے پلٹا ۔۔۔
” سنو لڑکی !! گھر کی عزت گھر میں ہی اچھی لگتی ہے آئندہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے میری یا چاچو کی عزت پر کوئی حرف آئے ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا
” اگر میرے بابا سائیں زندہ ہوتے تو میں کبھی بھی کسی کیلیئے مسئلہ نہیں بنتی ۔۔۔” وہ ڈبڈبائے ہوئے لہجہ میں دھیمے سے بولی
شہریار نے ایک گہری نظر اس کے روئے روئے سوگوار سے حسن پر ڈالی اور چپ چاپ دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل گیا اس کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں رقص کررہی تھیں ۔۔
**********************
کب سے اس کے فون پر میسنجر کال آرہی تھی وہ جان کر فون نہیں اٹھا رہی تھی ارادہ اینڈریو کے آتش شوق کو مزید بھڑکانے کا تھا کافی کالز کے بعد اس نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے میسنجر پر کال ملائی جو پہلی ہی بیل پر پک کر لی گئی
” ہیلو سویرا !! کدھر ہو بےبی !! تین دن سے دیوانہ بنا پھر رہا ہوں اور ایک تم ہو کال تک نہیں پک کرہی تھی آج تو میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر شام تک تم سے بات نہیں ہوئی تو میں تمہارے گھر آجاؤں گا ۔۔۔” اینڈریو نے بیتابی سے کہا
” نہیں نہیں پلیز آپ میرے گھر مت آئیگا آپ نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں سویرا کے انداز میں بات کررہی تھی
اینڈریو اسے اپنی بیتابیوں کا بتا رہا تھا اور وہ بڑے آرام سے اسے مزید بڑھاوا دے رہی تھی
“سنو تین دن سے تمہیں نہیں دیکھا یونیورسٹی کیا بند ہوئی میں تو دیدار یار سے بھی گیا ۔۔۔” اینڈریو نے سرد آہ بھری
” کیا کرینگے مجھے دیکھ کر ۔۔۔۔” عروہ نے مزے سے کہا
” تم نے پابندیاں ہی اتنی لگائی ہوئی ہے کہ بس دور سے دیکھو بات نہ کرو اور اس دن تم کتنی اجنبی بن رہی تھی وہ تو شکر ہے تم نے اس پوری رات فون پر مجھے کمپنی دی ورنہ میں نے تو تمہیں کڈنیپ کر لینا تھا ۔۔۔” اینڈریو سنجیدہ ہوا
” اچھا سنئیے !! ٹھیک پانچ دن بعد شہریار منگنی کررہے ہیں میں پتہ بتا رہی ہوں آپ ادھر ہی آجائیں میرے گیسٹ بن کر میں آپ کی ساری تشنگی مٹا دونگی بھرپور کمپنی دونگی ۔۔۔” وہ شرمیلے انداز میں بولی
_________
عروہ میں بچپن سے یہ خاص عادت تھی کہ جو چیز اسے اچھی لگے وہ بس اس کی تھی. اس کیلیے چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے. اپنے اسٹینڈرڈ سے کم پر وہ کبھی راضی نہیں ہوتی تھی. وقت گزرنے کے ساتھ یہ عادت اس میں پختہ ہوتی چلی گئی تھی. وہ سب سے مختلف اور منفرد تھی. خوبصورتی اس کا پلس پوائنٹ تھا.
جب یونیورسٹی کے پہلے ہی سال اس کی نظر شہریار پر پڑی. وہ مغرور, ہینڈسم اور سمارٹ سا جوان جس کی آنکھوں سے غرور جھلکتا تھا. جو اس وقت ماڈلنگ کر کے نام بنا رہا تھا. اس کا مقصد پیسہ کما کر اپنا بزنس ایمپائر کھڑا کرنا تھا. آہستہ آہستہ وہ اس کے قریب ہوتی چلی گئی. جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا شہریار کی مقبولیت بڑھتی جا رہی تھی. وہ اپنی فرم اسٹیبلش کرچکا تھا. ماڈلنگ کی وجہ سے میڈیا اس کا دیوانہ تھا تو لڑکیاں اس کی توجہ کیلیئے تڑپتی تھیں. ہاں وہ سب سے الگ سب سے منفرد تھا. وہ چھا جانا جانتا تھا اور عروہ نے طے کرلیا تھا کہ اسے شہریار کی زندگی میں آنا ہے مسز شہریار بننا ہے. چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ لیکن اس کے خوابوں کو جھٹکا اس وقت لگا جب سویرا نامی حسین بلا نے شہریار کے گھر میں قدم رکھا. وہ دیسی دبو سی لڑکی جسے فیشن تک کی سینس نہیں تھی. بھلا وہ کہاں شہریار کے قابل تھی. اس میں تھا ہی کیا سوائے اچھی شکل کے، شہریار کی نظروں سے اسے دور کرنا ضروری تھا. لیکن جب شہریار نے اسے یہ بتایا کہ وہ اس کی منکوحہ ہے تو اسے زور دار جھٹکا لگا وہ ہل کر رہ گئی۔۔
وہ شخص جسے اس نے چاہا، جسے دیکھ کر اس کا دل دھڑکتا تھا. وہ کیسے اس سویرا کا ہوسکتا تھا. لیکن حسن سے بڑی کوئی دلیل نہیں!! سویرا کی کم عمری, اس کا حسن کہیں شہریار کو اپنی طرف متوجہ نا کر لے یہ خوف اس کی رگ رگ میں بیٹھ گیا تھا۔
💝💝💝💝💝💝💝💝💝
وہ دوپہر ہوتے ہی تیار ہو کر شہریار کے گھر پہنچ چکی تھی گھر کی چابی تو اس کے پاس ہی تھی وہ مین دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
پورا گھر سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا. شہریار تو یقیناً آفس میں تھا. وہ چلتی ہوئی اندازے سے سویرا کے کمرے کی جانب آئی. دروازے پر ناک کرنے کے لیے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دروازہ کھلتا چلا گیا. وہ اندر داخل ہوئی سامنے ہی سویرا گلابی رنگ کے قمیض شلوار میں ملبوس اپنے لمبے بالوں کی چوٹی کو دائیں جانب ڈالیں بڑے انہماک سے لیپ ٹاپ پر اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھی. اس کا سرخ و سپید چہرہ گلابی رنگ میں دمک رہا تھا. قدرتی گلابی ہونٹ عروہ نے انتہائی حسد سے اسے دیکھا۔
” اے لڑکی! ” عروہ نے اسے پکارا.
سویرا عروہ کی آواز سن کر چونک گئی. تیزی سے سر اٹھایا تو سامنے ہی ٹخنوں سے خاصی اونچی کیپری پینٹ، سلیولیس سبز رنگ کی ٹاپ پہنے جو اس کی آنکھوں سے میچ کررہی تھی. اس پر سنہرے, شانوں پر بکھرے گھنگھریالے بالوں کے لچھے. وہ چلتی پھرتی قیامت اس کے سامنے کھڑی تھی.
” اسلام علیکم آپ! وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔ ” سویرا کھڑے ہوتے ہوئے بولی.
” وہ؟ وہ کون؟؟” عروہ الجھی.
” اوہ یو مین شہریار! او گاڈ!! تم کسی سو سال پرانے زمانے کی مخلوق ہو کیا؟ افف سو ٹیپیکل دیسی۔ ” وہ نخوت سے بولی.
” سنو! میرے پاس وقت نہیں, چلو ہمیں شاپنگ پر جانا ہے۔ ” وہ تیزی سے بولی.
” شاپنگ! ” سویرا نے حیرت سے دہرایا.
” اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟ کیا زندگی میں کبھی شاپنگ نہیں کی؟ ” عروہ نے طنزیہ انداز اپنایا.
” وہ انہوں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔ ” سویرا اس کے ساتھ ہرگز نہیں جانا چاہتی تھی.
” دیکھو ایک تم ہی تو میری واحد سسرالی رشتہ دار ہو. اب جمعہ کو میری اور شیری کی منگنی ہے تو شیری نے کہا تمہیں بھی اس خوشی میں شاپنگ کروا دیتے ہیں. ورنہ تم کچھ الٹے سیدھے اپنے جیسے کپڑے پہن کر فنکشن میں آئی تو شیری کی کتنی سبکی ہو گی. اب جلدی کرو شیری کو ویٹ کرنا پسند نہیں ہے۔ ” وہ اس کے فق پڑتے چہرے کو دیکھ کر مسکائی.
” جی ٹھیک ہے۔ ” سویرا پژمردگی سے اٹھی.
” آپ لیونگ روم میں بیٹھیں میں تیار ہو کر آتی ہوں۔ ” وہ دھیمے سے بولی.
” تیار ہونے سے تمہاری قسمت تو نہیں بدل جائیگی. اب نکلو مجھے دیر ہو رہی ہے۔ ” عروہ تیز ہوئی.
سویرا نے اپنا دوپٹہ کھول کر سر پر ڈالا اور پیروں میں نازک سی نگ والی کولہا پوری چپل پہن کر کھڑی ہو گئی.
عروہ نے حسد سے اس کے گلابی پیروں کو دیکھا. جو اس معمولی سی چپل میں بھی جگمگا رہے تھے۔
” چلو ” وہ روڈلی بولتے ہوئے اسے لیکر باہر نکل گئی.
وہ عروہ کو لیکر آفس پہنچ چکی تھی.
” تم ادھر گاڑی میں ہی بیٹھ کر ویٹ کرو. میں شیری کو لیکر آتی ہوں۔ ” وہ حکمیہ لہجے میں اسے کہتی ہوئی آفس کی بلند و بالا بلڈنگ میں داخل ہو گئی.
اوپر فلور پر پہنچ کر وہ سیدھی شہریار کے آفس کی جانب بڑھی.
” میم سر اندر میٹنگ میں مصروف ہیں۔ ” اینا نے اسے روکا.
عروہ نے اپنا فون نکالا اور شہریار کو فون ملایا. جسے پہلی ہی بیل پر کاٹ دیا گیا. وہ غصہ سے بل کھا کر رہ گئی. آدھے گھنٹے بعد شہریار کے آفس کا دروازہ کھلا. گرے سوٹ میں ملبوس شاندار سا شہریار باہر نکلا. اس کے ساتھ دو انگریز اور بھی تھے. جو اس سے بہت مرعوب نظر آرہے تھے. وہ ان سے ہاتھ ملا کر گڈ بائے کہہ کر آفس میں واپس جا رہا تھا. جب عروہ نے خفگی سے اسے پکارا.
” شیری! “
” تم! تم ادھر کیا کررہی ہو؟ “وہ ابرو اچکا کر پوچھ رہا تھا.
” تم نے میرا فون کیوں نہیں اٹھایا؟ ” عروہ نے سوال کیا.
” عروہ تمہیں اچھی طرح پتا ہے. میں کام کے وقت فون کالز نہیں لیتا۔ ” وہ جواب دیتے ہوئے آفس کی طرف بڑھا.
” ہمیں شاپنگ پر جانا تھا۔ ” وہ اس کے ساتھ قدم سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے آفس میں داخل ہوئی.
” ابھی میں بزی ہوں۔ ” وہ فائل کھولتے ہوئے بولا.
” شیور نو پرابلم! مجھے کوئی جلدی نہیں ہے. میں ادھر ہی تمہارا ویٹ کر لیتی ہوں۔ ” وہ آرام سے میز پر رکھا میگزین اٹھا کر صوفے پر بیٹھ گئی.
شہریار نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی اور اپنی فائل میں مصروف ہوگیا. عروہ بہت مزے سے بیٹھی ہوئی میگزین کے ورق پلٹ رہی تھی. آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا. جب شہریار کا فون بجا اس نے فائل سے سر اٹھا کر اپنے فون پر نظر ڈالی اور حیرانگی سے نمبر دیکھتے ہوئے فوراً فون اٹھا لیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *