Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757
Last updated: 5 July 2026
No Download Link
475.3K
40
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid
اکرم بات سنیں " رخسار نے آرام سے اخبار پڑھتے ہوئے اکرم کو مخاطب کیا
"کیا ہے رخسار یار اخبار تو پڑھنے دو ۔۔۔"
" سنیں وہ پھپھو سخت خفا ہیں مجھ سے بات بھی نہیں کررہی ہیں ۔۔۔" وہ روہانسی ہوئی
" رخسار ، امی کو اگنور کرو ورنہ تمہاری صحت خراب ہو جائے گی اور مجھے اپنی بیگم کی صحت کی بہت فکر ہے ۔۔۔" اکرم شرارت سے اس کی لٹ کھینچتے ہوئے بولا
" آپ میری بات کو سیریس نہیں لے رہے ہیں دیکھنا وہ آپ کی دوسری شادی کروا دینگی اور آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے ۔۔۔" رخسار نے تاسف سے کہا
" تو پھر تم ہی ان کی بات مان لو اور چلو لندن چلتے ہیں کسی اچھی ڈاکٹر کو دکھا لیتے ہیں شاید اللہ اپنا کرم فرما دے ۔۔۔" اکرم نے سمجھایا
" اکرم شیرو کو گئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں اس وقت پھپھو کا وہاں جانا مناسب نہیں ہے پہلے ان دونوں کو سیٹ تو ہو جانے دیں ۔۔"
" تو میری پیاری بیگم پھر آپ بھی اپنی ساسو ماں کو اگنور کرو ویسے بھی اگر وہ لندن جانے کی ضد نہیں چھوڑتی ہیں تو حامی بھر لو
میں نے ان کے پاسپورٹ اور ویزا میں ہی پانچ چھ ماہ تو نکال دینے ہیں ۔۔۔"
" آپ ٹھیک کہہ رہے پاسپورٹ ویزا میں اتنا وقت لگ سکتا ہے کیا ؟؟ " وہ تجسس سے پوچھ رہی تھی
" کیوں مجھ پر یقین نہیں ہے کیا ؟؟ ویسے بھی امی ادھر ہماری محبت میں نہیں جانا چاہ رہی بلکہ ان کا نشانہ سویرا ہی ہے " اکرم نے اپنی نازک سی بیگم کو گھورا
" آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں پھپھو کو بس یہ ڈر ہے کہ کہیں شیرو سویرا کو اپنا نہ لے وہ اسی لئیے ادھر جانا چاہتی ہیں اور اب میں پھپھو کی سب باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا کرونگی ۔۔۔" رخسار نے سر ہلایا
" واؤ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا !! ویسے بیگم آپ اتنی سمجھدار کب سے ہو گئی ہیں ۔۔۔" اکرم سر دھنتے ہوئے بولا
"جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ میرے لئیے کتنے ضروری ہیں ۔۔۔" رخسار ترکی بہ ترکی بولیں
" یہ کب ہوا ؟؟ "
" جب پھپھو نے آپ کی دوسری شادی کی بات کی ۔۔۔"
" اچھا چھوڑو سب یہ بتاؤ میں کتنا ضروری ہوں ؟؟ " وہ رومینٹک ہوا
اس سے پہلے رخسار کوئی جواب دیتیں دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا
"یہ کیا بے شرمی ہے ؟؟ دن دھاڑے تم کمرے میں گھسی بیٹھی ہو کوئی شرم و لحاظ ہے یا سب کچھ اپنی بھاوج کے ہاتھ ولایت بھیج دیا ہے ۔۔۔" فرازنہ نے رخسار کو جھاڑا
" اسلام علیکم پھپھو !! " رخسار نے فوراً سلام کیا
" رخسار میں تمہیں آئندہ اس ٹائم کمرے میں نہ دیکھو چلو جا کر چائے کا اہتمام کرو ۔۔۔" انہوں نے اسے باہر کا راستہ دکھایا
*****************
سویرا نے کمرے میں آکر جلدی سے اسکارف نکال کر سر پر لپیٹا دوپٹہ اچھی طرح سے شانوں پر پھیلایا اور اپنا بیگ کندھے پر لٹکا کر کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ شہریار کی آواز گونجی
"کہاں جا رہی ہوں ؟؟ "
"وہ میں یون۔۔۔۔
" آج سے تم اکیلی کہیں بھی نہیں جاؤ گئی باہر ڈرائیور آچکا ہے تمہارا پک اپ اور ڈراپ اب سے وہی کریگا ۔۔۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
سویرا اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اپنے آنسوؤں کو پیتے ہوئے باہر نکل گئی
سویرا کے جانے کے بعد وہ خود بھی تیار ہو کر آفس کیلیئے روانہ ہوا ابھی راستے میں ہی تھا کہ جونس کی کال آگئی ۔۔۔
" ہیلو شہریار ہاؤ آر یو ؟؟ "
" فائن !! تم سناؤ ۔۔۔
"ڈیل فائنل ہو گئی ہے میں آج رات لندن پہنچ رہا ہوں سیدھا تمہارے گھر ہی آؤنگا ٹریٹ ریڈی رکھنا ۔۔۔" جونس خوشدلی سے ہنستے ہوئے بولا
" اوکے پھر گھر پر ملتے ہیں ۔۔۔" شہریار نے فون بند کیا اور اپنی توجہ ڈرائیونگ پر لگا دی
***********************
وہ آفس میں بیٹھا اپنا کام کر رہا تھا لیکن اس کی توجہ بار بار بھٹک کر سویرا کی طرف جا رہی تھی یہ سچ تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا لیکن اس وقت سویرا کا سہما ہوا چہرہ بھیگی ہوئی آنکھیں بار بار اس کی نظروں میں آرہی تھیں وہ کوشش کے باوجود اسے اپنے ذہن سے نہیں جھٹک پا رہا تھا ۔۔۔
"مس اینا اندر آئیے ۔۔۔" اس نے انٹر کام پر اپنی سیکریٹری کو اندر بلوایا
"یس سر ۔۔۔" اینا دروازہ ناک کرکے اندر داخل ہوئی
"مس اینا !! مجھے ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک بہترین لیٹسٹ لیب ٹاپ اپنی ٹیبل پر چاہئیے ۔۔۔" اس نے حکم دیا
"یس سر ۔۔۔" اینا حیرت سے اس کے سامنے رکھے ایپل کے جدید لیب ٹاپ کو دیکھتے ہوئے باہر نکل گئی
****************
سویرا کو ڈرائیور یونیورسٹی ڈراپ کر کے واپسی کا ٹائم پوچھ کر جا چکا تھا وہ تیز تیز قدموں سے اپنی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی جب کاریڈور میں کھڑے اپنے سینئرز سے بات کرتے ڈاکٹر اینڈریو کی نظر اس پری وش پر پڑی ، سویرا کا اداس چہرہ اور سرخ آنکھیں اسے بے چین کر گئی تھیں ۔وہ اپنے ساتھیوں سے ایکسکیوز کرتے ہوئے لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا سویرا کے راستے میں آکر رک گیا ۔۔
سویرا جو اپنی دھن میں مگن تیزی سے چل رہی تھی اینڈریو کے ایک دم سامنے آنے سے رک گئی
"کیا ہوا ہے ؟ تم روئی کیوں ہوں ؟؟ " اینڈریو نے سختی سے پوچھا
"آپ راستہ چھوڑیں ۔۔۔۔" سویرا سخت لہجہ میں بولی
" کسی نے تمہیں چھیڑا ہے ؟ کچھ کہا ہے ؟مجھے بتاؤ کون ہے جو تمہیں رلانے کا سبب بنا ہے ۔۔" ڈاکٹر اینڈریو کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس چھوٹی سی نازک سی لڑکی کو اپنی پناہوں میں لے کر کہیں دور نکل جائے
" گڈ مارننگ سر !! کم آن سویرا کلاس اسٹارٹ ہونے میں بس دو منٹ رہ گئے ہیں ۔۔۔۔" بریڈلی اچانک سے نمودار ہوا اور ڈاکٹر اینڈریو کو سلام کرتے ہوئے سویرا کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے کاریڈور میں گم ہو گیا
"بریڈلی !! میرا ہاتھ چھوڑو ۔۔۔" آگے جا کر سویرا نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی
" مس لیٹ لطیف ایک تو تمہیں ڈاکٹر اینڈریو سے بچایا پتا بھی ہے وہ بہت روڈ اکھٹر ٹیچر ہیں نئے ہیں لیکن سنا ہے اسٹوڈنٹس کی بےعزتی کرنے میں ماہر ہیں ۔۔۔۔" وہ اسے کلاس تک لے آیا تھا
وہ دونوں اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ چکے تھے سب اسٹوڈنٹس نے اپنے اپنے لیب ٹاپ نکال لئیے تھے آن لائن کوئز اسٹارٹ ہو رہا تھا اور سویرا ہاتھ میں کاپی پین لئیے نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
" سسششش سویرا !! اپنا لیب ٹاپ نکالو جلدی کرو اگر ٹیچر نے دیکھ لیا تو کک آوٹ کردینگی ۔۔۔" بریڈلی نے سویرا کو سرگوشی میں مخاطب کیا
" میرا لیب ٹاپ ٹوٹ گیا ہے ۔۔۔۔" وہ بڑے ضبط سے بولی
" واٹ ؟؟ تمہیں پتہ بھی ہے اس کوئز کی مارکنگ ہے ۔۔۔۔" بریڈلی نے سر پیٹ لیا پھر تیزی سے اپنا لیب ٹاپ پاس ورڈ کھول کر سویرا کے آگے رکھا
" مس مارگریٹ ۔۔۔۔" بریڈلی نے کھڑے ہو کر پروفسر کو پکارا
" یس بوائے !! " ساٹھ سالہ پروفیسر مسکراتے ہوئے اس شریر لڑکے کے پاس آئیں
" میم میں اپنا لیب ٹاپ شاید گھر بھول آیا ہوں اگر آپ پرمیشن دیں تو یہ کوئز آپ کے لیب ٹاپ سے کر لوں پلیز سوئیٹ میم ۔۔۔۔"
" اوکے مگر یہ پہلی اور آخری دفعہ ہے آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔" پروفیسر مارگریٹ نے سے گھورا
" یس میم !!! " وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا اور تیزی سے ڈائس پر رکھے ان کے کمپیوٹر کی طرف بڑھ گیا
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ سویرا کے پاس آیا
" کم از کم میرا شکریہ ادا تو کردو آج تمہیں فیل ہونے سے بچا لیا ہے ۔۔۔"
" بہت شکریہ ۔۔۔" سویرا نے اس کا لیب ٹاپ واپس کیا
" تمہارا لیب ٹاپ کیسے ٹوٹا ؟؟ "
"پتا نہیں ۔۔۔۔" سویرا کنی کترا کر جانے لگی
" چلو شاپ پر چل کر دکھا لیتے ہیں اگر وارنٹی میں کوور ہوا تو دوسرا لے لینگے ورنہ اسے ٹھیک ہونے دے دینگے ۔۔۔"
" نہیں اٹس اوکے ، میں مینج کر لونگی ۔۔" سویرا نے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی
بریڈلی نے بڑے اطمینان سے سویرا کا بیگ کھول کر لیب ٹاپ نکالا
" اوکے سویٹی میں یہ شاپ پر لے جاؤں گا اور جیسے ہی ٹھیک ہوتا ہے تمہارے گھر پر پہنچا دونگا
