Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05

رخسار آہستگی سے سویرا کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا انہوں نے کھڑکی سے پردے ہٹائے تو سورج کی کرنیں چھن چھن کرتی اندر داخل ہو گئی وہ ٹرے سائیڈ پر رکھ کر سویرا کے پاس آئیں لحاف ہٹا کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو بخار تھوڑا کم تھا
” سویرا چندا اٹھو !! ” انہوں نے پیار سے اسے جگایا
سویرا نے بمشکل آنکھیں کھولیں اور رخسار کو دیکھ کر سلام کرتی ہوئی اٹھ بیٹھی
” چلو شاباش اٹھو جلدی سے منھ ہاتھ دھو کر آؤ ” وہ اس کا بستر ٹھیک کرتے ہوئے بولی
سویرا خاموشی سے اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی کچھ دیر میں وہ تولیہ سے منھ پوچھتی باہر نکلی
“سویرا !! یہ تھوڑا سا دودھ پی لو اور ساتھ میں یہ ٹیبلیٹ لے لو طبیعت بہتر ہو جائے گی ” رخسار نے نرمی سے کہا
وہ اثبات میں سر ہلاتی دودھ کا گلاس اور دوا اٹھا کر پینے لگی رخسار یک ٹک اس کے معصوم کمسن حسن کو دیکھ رہی تھیں واقعی اگر قسمت اچھی نا ہو تو بےپناہ حسن و جمال بھی کسی کام کا نہیں ہوتا
” اچھا سنو شاہ بی بی تمہیں یاد کررہی تھیں ان سے جا کر مل لو میں جب تک تمہارے لئیے سوپ بنواتی ہوں ۔۔۔”
“رخسار آپی !! پلیز آپ تو میرا ساتھ دیں شاہ بی بی کو منع کریں کہ وہ ایسا نا کریں اس طرح تو میں ساری زندگی سر اٹھا کر نہیں جی سکوں گی میرا سارا غرور خاک میں مل جائے گا آپ جانتی تو ہیں وہ کتنے انا پرست ہیں یوں زبردستی مجھے ان پر مسلط مت کریں پلیز تمام عمر کے لیے میری ہی نظروں سے نہ گرائیں ۔۔۔” سویرا ان کے ہاتھ تھام کر رو پڑی
” سویرا گڑیا !! تم اتنا منفی مت سوچوں دیکھنا شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا اور اگر شاہو نے تمہیں تنگ کیا تو تم اکیلی نہیں ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہی ہیں چندا !! ” رخسار نے بڑے پیار سے اس کے آنسو پونچھے
چلو شاباش جلدی سے شاہ بی بی سے مل آؤ ۔وہ انتظار کر رہی ہیں ” رخسار باہر نکلتے ہوئے بولیں
_____________________________
” اسلام علیکم !! شاہ بی بی آپ نے یاد فرمایا تھا ۔۔” سویرا نے اندر داخل ہوتے ہی کہا
“آؤ بیٹی ادھر میرے پاس آکر بیٹھو ۔۔ ” انہوں نے اپنے پہلو میں اس کیلیئے جگہ بنائی
“سویرا بیٹی!!! تم جانتی ہو ہم خاندانی لوگ ہیں ہم نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی ہے اس کے کچھ اصول ہیں کچھ روایات ہیں جن کی پاسداری ہم سب کا فرض ہے ۔ہم اپنی لڑکیوں کی شادی خاندان سے باہر نہیں کرتے اور تمہارا نکاح تو بہت پہلے ہو چکا ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ ہم تمہارے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔۔ “
” شاہ بی بی !! ” وہ ہچکچائی
” کیا ہوا سویرا !!! یہ ایسی کون سی انوکھی بات ہے جو تم اتنا پریشان ہو رہی ہو یہ رشتہ تو بہت پہلے سے طے تھا رخصتی تو بس ایک فارمیلٹی ہے “
“شاہ بی بی میری سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کہوں کیسے آپ کو سمجھاؤں ” وہ انگلیاں چٹخاتے ہوئے بےبسی سے بولی
” سویرا جو تمہارے دل میں ہے وہ کہو ۔ اپنے دل سے ہر اندیشہ کو نکال پھینکو خوشیاں تمہارے دروازے پر دستک دے رہی ہیں آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرو ۔۔۔” شاہ بی بی رسانیت سے بولیں
” مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے وہ اس رشتے کو پسند نہیں کرتے ۔۔۔” سویرا نے بمشکل کہا
“دیکھو بچے ہر انسان کی اپنی شخصیت ہوتی ہے مانا کے تم لوگوں کے مزاج میں فرق ہے سوچ بھی مختلف ہے لیکن شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جاتا ہے تم پریشان مت ہو جب اس پر ذمہ داری پڑھے گی تو وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔” انہوں نے سنجیدگی سے سمجھایا
” مگر !! ” سویرا نے سر اٹھایا
“زندگی ایک بار ملتی ہے بار بار نہیں اس لیے بجائے رونے دھونے کہ کیوں نہ تم اپنے دل کو یہ تسلی دوں کہ تم یہ مرحلہ طے کر سکتی ہو خوشیوں پر تمہارا بھی حق ہے ہاتھ بڑھاؤ اور سمیٹ لو۔۔۔” انہوں نے اس کی بات کاٹی
سویرا خاموشی سے سر جھکا کر رہ گئی
” کل رات تک شہریار پہنچ جائیگا بس پھر جلد ہی یہ رسم ادا کر دی جائیگی اب تم جاؤ اور خوش رہنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔”
______________________________
استنبول میں ایک کامیاب بزنس ڈیل سائن کرنے کے بعد وہ پاکستان کیلئے روانہ ہوچکا تھا اب اس کا دماغ آگے کا لائحہ عمل سوچ رہا تھا وہ کسی بھی صورت سویرا کو اپنے ساتھ لانا نہیں چاہتا تھا بس کسی بھی بہانے اسے پاکستان چھوڑ کر واپس آنے کا وہ پکا ارادہ کر چکا تھا
___________
آج صبح سے ہی پوری حویلی میں ایک گہما گہمی مچی ہوئی تھی رخسار آپی اور اکرم بھائی ائیرپورٹ روانہ ہوچکے تھے ۔ شاہ بی بی خود ملازمین کو ہدایات دے رہی تھیں باورچی خانے کا مینیو بھی انہوں نے ہی ترتیب دیا تھا اور اب اپنے کمرے میں انہوں نے سویرا کو طلب کیا
” اسلام علیکم !! شاہ بی بی ” سویرا دروازہ کھٹکھٹا کر اجازت لیکر اندر داخل ہوئی
” وعلیکم اسلام !! آؤ بیٹی ۔۔۔۔” انہوں نے بغور اس کا جائزہ لیا جو ملگجے سے لباس میں ملبوس تھی چوٹی میں سے بال نکل رہے تھے چہرہ پر پژمردگی سی چھائی ہوئی تھی
” سویرا یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے ؟؟ اللہ کے کرم سے تمہارے سر کا سائیں واپس آرہا ہے اور ان بی بنو کو دیکھو ؟؟ نا لباس ڈھنگ کا ہے سر پر کنگھی تک نہیں کی ہوئی اور ہاتھ کان سب خالی !! اتنی بدشگونی مت پھیلاؤ جاؤ جا کر حلیہ درست کرو اور ہاں شہریار کا کمرہ اپنی نگرانی میں کھلوا کر درست کروا لینا بچہ شام تک آجائیگا اسے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیئے ۔۔۔” انہوں نے تسبیح گھماتے ہوئے حکم دیا
شاہ بی بی سے کچھ بھی کہنا عبث تھا وہ آنسو پیتے ہوئے اثبات میں سر ہلاتی ہوئی باہر نکل گئی اس کا رخ شہریار کے کمرے کی طرف تھا جو سالوں سے بند پڑا تھا لیکن زاہدہ تائی ہفتے کے ہفتے اس کمرے کی صفائی اور ڈسٹنگ کرواتی رہتی تھی وہ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی کمرے کے دروازے تک آئی ناب پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا اندر زاہدہ تائی ملازمہ سے صفائی کروا رہی تھیں
” ارے سویرا !! اچھا ہوا بیٹی تم آگئی اب اپنی نگرانی میں یہ کمرہ درست کروا لو اور اس کے بعد سیدھا میرے پاس آنا ۔۔۔” انہوں نے آگے بڑھ کر پیار سے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
” جی تائی امی !! میں دیکھ لونگی !! ” سویرا نے سعادت مندی سے جواب دیا
_______________________
پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی اسے مٹی کی مانوس سی خوشبو کا احساس ہوا یہ فضائیں اپنے اندر ماں کی آغوش جیسی گرمی سموئے ہوئے تھیں وہ ان فضاؤں میں سانس لیتے ہی بےچین ہو اٹھا اتنے سال کی خود ساختہ جلا وطنی کی سزا تو اس نے خود اپنے لئیے منتخب کی تھی لیکن شاید چار سال پہلے لیا گیا یہ فیصلہ اس کیلئے بہتر ثابت ہوا تھا آج وہ ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے کھڑا تھا جس سے ملنے کیلئے بڑی بڑی کمپنیاں کوشاں رہتی تھیں ۔۔
اتنے عرصے بعد وہ اپنے گھر لوٹ رہا تھا ائیر پورٹ سے باہر نکلا تو سامنے ہی کشمیری شال میں لپٹی ہوئی سوبر سی رخسار آپی اور خوبرو سے اکرم بھائی اس کا انتظار کررہے تھے ۔۔۔
” اسلام علیکم !! ” وہ تیزی سے ان کے قریب آیا
” وعلیکم اسلام ” اکرم بھائی نے آگے بڑھ کر اسے گرم جوشی سے گلے لگایا
رخسار یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد ، کھلتا ہوا گندمی رنگ جیل سے سیٹ بال سفید بےداغ شرٹ پر ٹائی لگائے آستینیں فولڈ کئیے ہوئے نیوی بلیو کوٹ ایک بازو پر ڈالے وہ مردانہ وجاہت کا جیتا جاگتا شاہکار لگ رہا تھا
” شکر اللہ کا اس نے تمہارا دیدار تو کروایا !! ماشاءاللہ تم تو وقت کے ساتھ مزید نکھر گئے ہو ۔۔۔” رخسار آپی اس کے سینے سے لگتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولیں
” رخسار !! اب بس کرو دیکھو شاہو پریشان ہو رہا ہے باقی کے گلے شکوے تم گھر جا کر کرلینا ۔۔۔” اکرم بھائی نے اپنی جذباتی سی بیگم کو ٹوکا
” آپی !! چلیں مجھے جلدی سے اسپتال لیکر چلیں مجھے بابا سائیں سے ملنا ہے شاہ بی بی کے سینے سے لگ کر اپنی سالوں کی تشنگی مٹانی ہے ۔۔” وہ رخسار کو اپنے بازوؤں کے حلقہ میں لیکر آگے بڑھا جہاں اکرم بھائی ڈرائیور کے ساتھ اس کا انتظار کررہے تھے
” چاند بخش !!! پہلے اسپتال کی طرف چلو !! ” اکرم بھائی نے ڈرائیور کو ہدایت دی
______________________________
سویرا نے ملازمہ کے ساتھ مل کر سارا کمرا اپنی نگرانی میں صاف کروایا تھا یہ ایک بہت بڑا عالیشان کمرہ تھا جس کا آبنوسی فرنیچر اور دبیز قالین اس کی شان و شوکت مزید بڑھا دیتا تھا ۔۔اس کمرے کے ساتھ ہی اسٹڈی روم اور ڈریسنگ روم تھا کمرے کی کھڑکی پائیں باغ کی جانب کھلتی تھی ۔
سویرا نے سارے پردے تبدیل کئیے اور بیڈ شیٹ بھی نئی بچھائی باغیچہ سے پھول منگوا کر گلدان میں سجائے اور پھر توصیفی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لیکر باہر نکل گئی ۔۔
” سویرا بی بی آپ کو چھوٹی مالکن بلا رہی ہیں ۔۔” سیڑھیوں کے پاس اسے ملازمہ نے روک کر پیغام دیا
” ٹھیک ہے ۔۔ ” وہ جواب دیتی ہوئی زاہدہ تائی کے کمرے کی جانب چلی گئی ۔
بڑے سے بیڈ پر زاہدہ رنگ برنگے ملبوسات پھیلائے ہوئے بیٹھی تھیں جب اجازت لیکر سویرا اندر داخل ہوئی
“تائی امی !! آپ نے بلوایا تھا؟؟ ” اس نے پوچھا
” سویرا بیٹی یہ دیکھو!! یہ کچھ کپڑے ہیں تمہارے لئیے شہر سے منگوائے ہیں ۔۔۔” انہوں نے بیڈ پر بکھرے برینڈڈ ملبوسات کی طرف اشارہ کیا
سویرا نے ایک نظر ان دلکش رنگوں کے قیمتی جوڑوں پر ڈالی
“تائی امی!! اس سب کی کیا ضرورت تھی ؟؟ ” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
” سویرا تم میری بیٹی ہی نہیں بلکہ اکلوتی بہو بھی ہو اور میں چاہتی ہوں کہ تم سب سے الگ اور منفرد نظر آؤ تاکہ شہریار کی نظر میں آ سکوں جانتی ہو نا وہ اتنے عرصے ولایت میں رہ کر آرہا ہے میں چاہتی ہوں میری بہو سے جب وہ ملے تو دیکھتا ہی رہ جائے ۔۔۔” انہوں نے پیار سے سمجھایا
سویرا نے بجھے دل سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ ملبوسات اٹھائے یعنی اس کی محبت اور شخصیت کہیں نہیں تھی جو بھی تھا وہ شہریار کی پسند شہریار کی خواہش پر تھا وہ تو بس ایک کٹ پتلی تھی جو شاہ بی بی اور زاہدہ تائی کے ہاتھوں کی جنبش پر حرکت کررہی تھی
” اچھا سنو آج شام یہ نیلا والا سوٹ پہننا میرے شیرو کو نیلا رنگ بہت پسند ہے ۔۔۔” انہوں نے ہدایت دی
یہ قیمتی کپڑے اسے بھیک کی طرح ملی ہوئی عزت سے کم نہیں لگ رہے تھے ایسی عزت جس کا بار اٹھانا اس کے لئیے بہت کٹھن ثابت ہو رہا تھا وہ جانتی تھی کہ شہریار اسے مجبوراً اپنی زندگی میں شامل کررہے ہیں ۔۔
________________________________________
گاڑی اسپتال کے مین اینٹرینس پر رک چکی تھی وہ تینوں گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوئے
” شہریار پہلے تم اندر جا کر بابا سائیں سے آرام سے مل لو میں کچھ دیر میں رخسار کے ساتھ آتا ہوں ۔۔” اکرم بھائی نے کہا
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کمرے کا پوچھ کر آگے بڑھ گیا
” آپ نے مجھے کیوں روکا ؟؟ ” رخسار نے سوال کیا
” میری پیاری بیگم !! تمہارا بھائی اس وقت بہت اموشنل ہورہا ہے بہتر ہے بابا سائیں سے اکیلے میں ملے اپنے دل کی بھڑاس نکال لے کچھ ان کی سنے کچھ اپنی سنائے !! جب تک آؤ میں تمہیں اچھی سی چائے پلواتا ہوں ۔۔۔”
______________________________
اسپتال پہنچ کر وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پرائیویٹ روم میں داخل ہوا آج ایک طویل عرصے کے بعد وہ اپنے بابا سائیں سے ملنے والا تھا
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر بیڈ پر گئی جہاں بارعب سے بابا سائیں آنکھیں بند کئیے لیٹے ہوئے تھے دائیں بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی وہ اسے پہلے کی نسبت بہت کمزور لگے وہ آہستگی سے چلتا ہوا ان کے پاس آیا اور دھیرے سے ان کا ڈرپ لگا ہاتھ اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگایا ۔
” شہریار ؟؟ آگئے بیٹا ؟ ” بابا سائیں اس کی خوشبو پہچان چکے تھے
” بابا سائیں ! آپ بلائیں اور میں نا آؤ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے میں تو برسوں سے اس انتظار میں تھا کہ کب آپ اور شاہ بی بی مجھے پکارتے ہیں “وہ شکوہ کناں لہجے میں بولا
” اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ ” شہریار نے فکر مندی سے ان کا حال پوچھا
” طبعیت !! تو اب تم آگئے ہو تو خود ہی بحال ہو جائے گی بس خدا سے ایک ہی دعا ہے کہ مجھے اتنی مہلت ضرور دے کی میں تمہیں اور سویرا بیٹی کو اپنی زندگی میں ہنستا بستا دیکھ سکوں ۔۔ “
” بابا سائیں کیسی دل گرفتہ باتیں کرتے ہیں آپ ؟؟ آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گے اور ان دونوں کی رخصتی ولیمہ میں شریک ہونگے ۔۔” رخسار اندر آتے ہوئے بولیں
” اکرم میاں !! بڑے ڈاکٹر سے بات کرکے مجھے ڈسچارج کرواؤ مجھے شہریار کے ولیمے کی تقریب رکھنی ہے ۔۔۔” بابا سائیں نے کہا
” پر بابا سائیں !! وہ آپریشن ؟؟ “
” آپریشن کرواؤنگا لیکن دعوت ولیمہ کے بعد !!” وہ ضدی لہجے میں بولے
کافی دیر تک وہ سب باتیں کرتے رہے پھر اجازت لیکر حویلی کی طرف روانہ ہوئے
________
حویلی قریب آتی چلی جارہی تھی مگر کوئی احساس اسے مضطرب کیے ہوئے تھا کوئی خیال تھا جو اسے جھنجوڑ رہا تھا وہ احساس ، وہ خیال تھا سویرا کا ،جس سے اس کا بڑا ہی عجیب رشتہ تھا وہ اس کی کزن بھی تھی اس کے پیارے چاچو کی بیٹی ، تو ساتھ ہی ساتھ اس کی زبردستی کی منکوحہ بھی تھی جسے وہ ذہنی طور پر کبھی قبول نہیں کر سکا تھا اس کے بھی کچھ خواب تھے اتنی جلدی وہ بھی ایک بچی سے نکاح !! اس کو ضد دلا گیا تھا اور وہ اپنی زندگی کو مزید الجھنوں سے سے بچانے کیلئے اپنی جان چھڑا کر حویلی سے ، شاہ بی بی سے ، پاکستان سے ، سب سے بہت دور چلا گیا تھا لیکن اب اسے نا چاہتے ہوئے بھی واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا تھا وہ سویرا کی وجہ سے اپنے ماں باپ سے مزید دور نہیں رہ سکتا تھا ۔۔۔
ایک طویل سفر کے بعد گاڑی ایک بڑی سی جاہ و جلال والی حویلی کے سامنے رکی
” شاہو !! میرے بھائی اترو حویلی آگئی ہے !!” رخسار نے پیار سے کہا
وہ تیزی سے اپنی طرف کا دروازہ کھول کر کر باہر نکل آیا ۔۔۔
” چلو شاہو !! اندر چلو سب تمہارا انتظار کررہے ہیں ۔۔۔” رخسار نے اسے ٹوکا جو ٹکٹکی باندھے حویلی کے در و دیوار کو دیکھ رہا تھا
وہ دھیمے دھیمے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوا جہاں دالان کی سیڑھیوں پر سفید غرارے اور سفید دوپٹے میں لپٹی پر نور چہرے والی شاہ بی بی ان کے ساتھ اس کی جان سے پیاری ماں زاہدہ اس کا انتظار کر رہی تھیں وہ تیزی سے ان کی جانب بڑھا ۔۔
” شاہ بی بی !! امی جان !!! ” وہ باری باری دونوں سے ملا
ان دونوں دادی اور ماں کی محبتوں اور شفقتوں کیلیئے وہ ترس گیا تھا اس نے تڑپ کر شاہ بی بی کے ہاتھ چومے اور ان کے پرشفیق وجود سے لپٹ گیا ۔۔۔
” میرا بچہ میرا شاہو !! ” شاہ بی بی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
” شاہ بی بی چلیں اندر چلیں شاہو لمبا سفر طے کر کے آیا ہے اندر چل کر آرام سے باتیں کرتے ہیں ۔۔۔” اکرم نے آگے بڑھ کر کہا
________________________________
وہ اپنے کمرے میں زاہدہ تائی کے دئیے نیلے رنگ کے کرتے پاجامہ میں ملبوس لمبے گھنے بالوں کی چوٹی بنا رہی تھی جب خوش باش سی رخسار دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی
” ماشاءاللہ !! بہت پیاری لگ رہی ہو ” انہوں نے بے ساختہ اس کی نظر اتاری
” رخسار آپی !! آپ آگئی ؟؟ “
” جی میری پیاری بنو صرف میں ہی نہیں تمہارے وہ بھی آگئے ہیں ۔۔” وہ شرارت سے بولیں
“چلو باہر چلو ! شاہ بی بی بلا رہی ہیں اس بہانے شیرو کو بھی دیکھ لینا ۔۔۔”
” رخسار آپی پلیز !! آپ تو مجھے سمجھیں !! آخر یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے کیا میں اتنی بری ہوں کہ آپ سب مجھے زبردستی ان کے سر پر ڈال رہے ہیں ۔۔۔” وہ روہانسی ہوئی
” سویرا چندا !! ایسا مت سوچو تم تو اتنی پیاری ہو دیکھنا شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا اور میرا بھائی تمہیں پھولوں کی طرح رکھے گا ۔۔” انہوں نے کھوکھلی سی تسلی دی
” آپی آپ لوگوں کو انہیں مجبور نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔” سویرا کے آنسو پلکوں کی باڑ پھلانگ کر نکل آئے
” سویرا !! وہ اپنی خوشی سے خود آیا ہے یہ رشتہ مجبوری نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے ۔۔” انہوں نے پیار سے اس کے آنسو پونچھے
“رخسار آپی !! مجبوری کے رشتوں میں محبت کی لطافت تو مر جاتی ہے نا ؟؟ ” اس نے سوال کیا
” سویرا !! اتنی کم عمری میں یہ دادی اماں جیسی باتیں کیسے کر لیتی ہوں ؟؟ چلو جلدی سے منھ دھو کر باہر آؤ میں شاہ بی بی کے کمرے میں تمہارا انتظار کررہی ہوں ۔۔۔”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *