Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27

ان دونوں کے جانے کے بعد شہریار نے تاسف سے زمین پر پڑے شاپنگ بیگز کو دیکھا انہیں اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھا اور آفیسر کے ساتھ پولیس اسٹیشن روانہ ہو گیا ۔
اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لاکر وہ پولیس اسٹیشن سے اس آدمی کو اندر کروا کر باہر نکلا ابھی گاڑی میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ عروہ کی کال آگئی اس سے فارغ ہو کر اب وہ گھر کی طرف جا رہا تھا گھر پہنچ کر اس نے بیک سیٹ سے سویرا کے ڈریس کا بیگ اٹھایا اور اندر داخل ہوا تو اس کی سیدھی نگاہ کچن کی جانب اٹھیں لیکن سویرا ادھر نہیں تھی پورا لاؤنچ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ اندر بڑھا سویرا کے دروازے پر پہنچ کر اس کے قدم رک سے گئے ایک لمحے کو اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیگ کو دیکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے سویرا کے دروازے کی ناب گھمائی پر دروازہ اندر سے لاک تھا ۔
” یہ لڑکی !! ” وہ زچ ہوا
اس کی پیشانی پر بل سے پڑ گئے اور اس نے دروازے کو ناک کیا ۔۔
سویرا جو گھر میں آنے کے بعد دروازہ لاک کر کے اپنی کم مائیگی پر ، شہریار کے پولیس اسٹیشن میں ہونے پر اور اس پر عروہ کے الفاظ سوچ سوچ کر رونے کا شغل پورا کررہی تھی دروازے پر دستک کی آواز سن کر چونک گئی دستک کی بڑھتی ہوئی آواز سن کر اس نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے چہرا صاف کیا اور اٹھ کر دروازہ کھولا
” دروازہ کیوں لاک کیا ؟؟ ” شہریار نے دروازہ کھلتے ہی سوال کیا
” جی وہ بس ایسے ہی ۔۔۔۔” سویرا کنفیوز ہو گئی پھر اس نے ہمت کرکے اپنی جھکی نظریں اٹھائیں
” آپ ٹھیک تو ہیں نا ؟؟ پولیس نے آپ کے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں کی ۔۔۔۔” وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی
” وہ اتنی بھی بچی نہیں ہے !!! ” اس کے کانوں میں عروہ کی آواز گونجی اس نے بغور سویرا کا جائزہ لیا جس کی سرخ آنکھیں شدت گریہ کی چغلی کھا رہی تھیں گھنی چوٹی سے بال نکل کر اس کے چہرے کو مزید خوبصورت بنا رہے تھے چہرے پر اس کیلیئے فکر تھی پریشانی تھی ۔۔
” سنو لڑکی !! میرے لئیے چائے بنا دو ۔۔۔۔” وہ اپنی توجہ اس پر سے ہٹاتے ہوئے بیگ فرش پر رکھتے ہوئے باہر نکل گیا
اس کے باہر جاتے ہی سویرا نے ڈر کے مارے روکا ہوا سانس لیا اور کچن میں آگئی کیتلی میں چائے کا پانی رکھا پتی ڈالی اور ابلنے کا انتظار کرنے لگی آج اس کی ذہنی اذیت حد سے سوا تھی پہلے شہریار عروہ کو شاپنگ کرتے دیکھنا ، تصاویر کا بننا ، شہریار کا اسے مال میں اکیلے چھوڑ کر چلے جانا پھر اس غنڈے کا تنگ کرنا ۔۔۔۔۔
اس کی ذہنی رو بار بار بھٹک رہی تھی عروہ کی باتیں دل و دماغ میں ہلچل مچا رہی تھیں چائے کا پانی ابل ابل کر خشک ہو چکا تھا
***********************
شہریار جلنے کی بو سونگھ کر کچن میں آیا جہاں سویرا ساکت کھڑی نا جانے کن خیالات میں گم تھی
” یہ چائے بن رہی ہے یا پائے گلائے جارہے ہیں ۔۔۔” شہریار نے چولہا بند کرتے ہوئے اسے گھورا
سویرا اس کی آواز سن کر ہوش میں آئی
” جی بس وہ ب گئی آپ بیٹھیں میں ابھی لاتی ہوں ۔۔۔۔” وہ منمنائی اور تیزی سے دودھ پانی سب ڈال کر چولہا جلایا
” تم سے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا پتا نہیں کن سوچوں میں گم رہتی ہوں ۔۔۔” وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
سویرا کا ڈرا سہما روپ اسے مزید غصہ دلا رہا تھا وہ پلٹ کر کچن سے نکلنے ہی لگا تھا کہ سویرا نے اسے آواز دی
” یہ آپ کی چائے۔۔۔۔۔”
وہ پلٹا !! سویرا چائے کا مگ تھامے کھڑی تھی وہ گلابی گلابی سی روئی روئی سی لڑکی اسے اچھی لگ رہی تھی اس کا دل چاہا وہ اس کی بھیگی بھیگی پلکوں کو چھو کر دیکھے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ اس کے قریب ہوا
” یہ چائے کا کیا کروں ؟؟ ” وہ سہم کر پیچھے ہوئی
” میرے سر پر ڈال دو ۔۔۔۔” وہ پیچھے ہٹتے ہوئے غرایا
” جی !!! ” سویرا نے حیرت سے اسے دیکھا
” تم !!! ” شہریار نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی
“جاؤ جا کر اپنا کام کرو ۔۔۔۔”
” جی بہتر ۔۔۔۔” سویرا مگ ہاتھوں میں لئیے کچن سے نکلنے لگی
” سنو لڑکی !! ….”
” جی !!! ” وہ رکی
” اسٹوپڈ یہ چائے تو دیتی جاؤ ۔۔۔” وہ بری طرح تپا تھا
سویرا نے اپنے ہاتھ میں تھامے مگ کو گڑبڑا کر دیکھا اور جلدی سے اس کے پاس آکر مگ اسے تھمایا ہی تھا کہ شہریار نے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا
____________
شہریار نے چائے کا مگ ایک ہاتھ سے تھامتے ہوئے دوسرے سے سویرا کی کلائی پر گرفت کرتے ہوئے اسے روکا ۔وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے سویرا نے اپنا چہرہ جھکا رکھا تھا لیکن اس کے چہرے پر پھیلی آنسوؤں کی لکیریں ناک کی سرخی آنکھوں کا گلابی پن صاف بتا رہا تھا کہ وہ روتی رہی ہے وہ چند لمحے بغور اس کے روئے روئے چہرے کو دیکھتا رہا پھر ایک گہری سانس لی ۔۔۔
” میں نے کہا تھا نا کہ تم اکیلی نہیں ہو ؟؟ پھر تم کیوں روئیں ؟؟ ” وہ سوال پوچھ رہا تھا
” تمہارا سب سے بڑا پرابلم پتا ہے کیا ہے ؟؟ ” اس نے خاموش ساکت کھڑی سویرا کی کلائی کو ہلکے سے جھٹکا دیا
” تم خود ترسی کی بیماری میں مبتلا ہو !! ہر وقت خود کو مظلوم سمجھتی ہو خود پر ترس کھا کھا کر تم نے اپنا بیڑا غرق کرلیا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں !! کچھ سمجھی یا میں یہ سمجھو کہ تم سمجھنا ہی نہیں چاہتی ؟؟ “
سویرا نے حیرت سے اسے دیکھا اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہنا کہا چاہ رہا ہے
” جاؤ جاکر منھ ہاتھ دھو کر آؤ ۔۔” وہ اس کی کلائی اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے بولا
سویرا چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی شہریار نے ایک گہرا سانس خارج کرتے ہوئے فون اٹھایا اور ہوم ڈیلیوری سے پزا آرڈر کیا
آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا ڈیلوری بوائے پزا ڈیلور کرکے جاچکا تھا اور سویرا اب تک منھ دھو کر باہر نہیں آئی تھی ۔۔۔
” یہ لڑکی بھی !! صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔” وہ بڑبڑایا اور پیزا ٹیبل پر رکھ کر اس کے کمرے کی جانب بڑھا۔
سامنے ہی میز کے آگے تولیہ ہاتھ میں لئیے وہ گم سم سی کھڑی ہوئی تھی وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
” سنو لڑکی !! ” اس نے پکارا تو وہ چونک کر سیدھی ہوئی
” تم اتنی عجیب سی کیوں ہو ؟؟ ” وہ اس کے پاس آیا
” ہر وقت کن سوچوں میں گم رہتی ہو ؟؟ کہ اپنے ارد گرد سے بھی لاعلم ہو جاتی ہو ؟؟ “اس نے سویرا کے دھلے ہوئے چہرے کو بغور دیکھا
” پتا نہیں !! ” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی شہریار کا بدلہ ہوا رویہ اسے عجیب سا لگ رہا تھا
” چلو ڈنر کر لو ۔۔۔” اس نے بلایا
” سوری میں نے تو کھانا پکایا ہی نہیں !! بس آدھا گھنٹہ دیجئیے ابھی پکاتی ہوں ۔۔ “وہ تیزی سے باہر کچن کیلیئے نکلنے لگی
” میں پزا منگوا چکا ہوں ۔۔۔۔” اس نے باہر جاتی سویرا کو ٹوکا
” مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔” وہ جھجکتے ہوئے بولی
” یہ ڈنر ٹائم ہے تمہیں بھوک ہے یا نہیں آئی ڈونٹ کئیر فورا ٹیبل پر آؤ ۔۔۔” وہ حکم دیتے ہوئے باہر نکل گیا
حکم حاکم مرگ مفاجات !! وہ باہر میز پر آئی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی ہی تھی کہ شہریار نے پیزا کا سلائس پلیٹ میں رکھ کر اس کے آگے بڑھایا ۔۔
” تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے ؟؟ ” شہریار نے سوال کیا
” جی !! ” سویرا نے حیرت سے اسے دیکھا وہ کہاں اس سے کچھ پوچھتا تھا
وہ سویرا کا ” جی ” سن کر ٹھیک ٹھاک بدمزا ہوا
” تم ہر وقت اتنی ڈری سہمی ہوئی کیوں رہتی ہوں ؟؟ ہم کزن بھی تو ہیں اگر کوئی پریشانی ہے تو تم مجھ سے شئیر کر سکتی ہو ۔۔۔”
” نہیں میرا کوئی نہیں ہے !! اگر ہوتا تو آج ۔۔۔۔۔” وہ چپ ہو گئی
” تو آج کیا ؟؟؟” شہریار نے بھنویں اچکائیں
” کچھ نہیں !!!” سویرا نے بے دلی سے پلیٹ کھسکاتے ہوئے کہا
” سنو لڑکی !! کیا تمہیں کچھ بھی اچھا یا برا نہیں لگتا ؟؟ اچھا چلو اپنے بارے میں مجھے کچھ بتاؤ ۔۔۔”
” آپ ۔۔۔” سویرا نے حیرانگی سے اسے دیکھا کو اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا اور آج اس سے اس کے بارے میں پوچھ رہا تھا
“آپ میرے بارے میں کیا جانا چاہتے ہیں ؟؟ اور کیوں ” سویرا نے پوچھا
” کیونکہ تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو ۔۔۔” وہ آرام سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
سویرا کی پلکیں لرز کر رہ گئی اس نے نظریں چرائیں ہی تھی کہ شہریار نے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجائی
” کیا ہوا ؟؟ کچھ بولتی کیوں نہیں ہو ؟؟ ” وہ اس کے چہرے کو اوپر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کررہا تھا
” مم میں آج اس حال میں صرف اور صرف آپ کی وجہ سے ہوں آپ کی وجہ سے سب میرے لئیے غیر بن چکے ہیں آپ کا نام میرے لئیے ایک تہمت بن چکا ہے ، آپ نے مجھے قبول نا کرکے حویلی چھوڑ کر مجھ پر منحوس کا لیبل لگا دیا تھا !! میں منحوس ہوں ۔۔۔۔سنا آپ نے ۔۔۔” اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی
شہریار پرسوچ نظروں سے اسے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا سویرا کو لیکر وہ اپنے جذبات سمجھ نہیں پا رہا تھا جو بھی تھا وہ لڑکی دھیرے دھیرے اپنی جگہ بنا رہی تھی اس نے اپنا مائنڈ بنا لیا تھا وہ اپنے اور سویرا کے رشتے کو ایک ، بس ایک چانس دیکر دیکھنا چاہتا تھا شاید عمر کے فرق کو لیکر ، ذہنی مطابقت کو لے کر جو وہ پریشان تھا وہ صرف اس کے مفروضات ثابت ہوں ۔۔۔چند لمحوں کے بعد وہ فیصلہ کر کے اٹھا اس کا رخ سویرا کے کمرے کی طرف تھا
*******************
وہ شہریار کی توجہ سے ، اس کی نظروں سے گھبرا گئی تھی اور بھاگ کر اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر سر پکڑے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
” آپ کیوں میری زندگی میں اپنی ہمدردی کی بھیک ڈال رہے ہیں !! میں بھلا کہاں آپ کی ہمدردی اور توجہ کے قابل ہوں ، مت کریں پلیز ایسا مت کریں آپ خود تو عروہ کے سنگ زندگی گزارنا شروع کردینگے اور میں !!! اگر مجھے آپ کی توجہ کی عادت ہو گئی تو ؟؟ میں تو مر جاؤ گی ۔۔۔۔” وہ من ہی من میں شہریار سے مخاطب تھی تبھی اسے کھنکھارنے کی آواز سنائی دی اس نے چونک کر سر اٹھایا تو شہریار کمرے کے دروازے پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور اس کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔
_______________________
سویرا کے کمرے کے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھ کر وہ دروازے کو کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا سامنے ہی بیڈ پر فیروزی سادے سے قمیض شلوار میں ملبوس دھلاے دھلائے صاف چہرے پر افسردگی لئیے وہ اس کی نظروں کے سامنے تھی وہ آج پہلی بار اسے مخصوص مردانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا سویرا کا بے داغ حسن اور دلکش سراپہ اسے باور کروا رہا تھا کہ سامنے موجود لڑکی کسی کو بھی اپنی طرف مائل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے وہ آج اسے بچی نہیں لگ رہی تھی وہ ہلکے سے کھنکھارتا ہوا اندر داخل ہوا
اس نے کمرے میں آکر دروازہ بند کیا ہی تھا کہ سویرا اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے گھبرا کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔
” آپ !! کوئی کام تھا کیا ؟؟ ” وہ ہاتھ مسلتے ہوئے بولی
شہریار اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا سر سے سرکتے ہوئے آنچل نے اس کی نازک پشت پر لہراتی گھنی سیاہ چوٹی کو واضح کردیا تھا وہ اسے چھو کر دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
سویرا اس کی نگاہوں کے ارتکاز سے گھبرا چکی تھی اس کے سینے میں موجود دل بہت زور سے دھڑک اٹھا تھا چہرہ خوف سے سرخ پڑ گیا تھا
وہ مضبوطی سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آیا جو اسے اپنے قریب دیکھ کر سر جھکا گئی تھی اس نے ایک بھرپور نظر اس کے لرزتے سراپے پر ڈالی اور دھیرے سے اس کے چہرے پر بکھری لٹوں کو ہاتھ سے سمیٹ کر اس کے کان کے پیچھے اڑسا ۔۔۔
سویرا اس کے ہاتھ کے لمس سے لرز اٹھی
آااااااپ پلیز مجھے مت ماریں میں آئندہ کبھی بھی ایسا نہیں کہونگی ؟؟؟ ” وہ گھبرا گئی آنکھوں میں نمی امنڈ آئی تھی
” کیا نہیں کہو گئی ۔۔۔۔” اس نے دلچسپی سے پوچھا
” یہی کہ آپ کی وجہ سے سب …..” وہ بولتے بولتے شہریار کی خود پر جمی پرشوق نگاہیں دیکھ کر چپ ہو گئی پلکیں جھکا کر دم سادھ گئی تھی
گھنی لرزتی پلکوں کا رقص اس کے سرخ و سفید چہرے کو ایک ملکوتی سا روپ دے رہا تھا وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے نم پلکوں کو اپنی پوروں سے چھوتے ہوئے اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔
” پلیز ۔۔۔۔۔۔” وہ اس کی قربت میں تڑپ اٹھی آنکھوں سے آنسوؤں کی لکیریں نکلنے لگی تھیں
شہریار جو اس کے نرم و نازک وجود کو محسوس کررہا تھا اس کی بھرائی ہوئی آواز سن کر چونک کر پیچھے ہٹا اور اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو بغور دیکھتے ہوئے اسے نرمی سے خود سے علیحدہ کرتے ہوئے بڑے بڑے قدم اٹھاتا باہر نکل گیا ۔۔۔
وہ اسے ایک چانس دے چکا تھا اور اس کا رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا وہ واقعی بچی ہی ہے اس۔ رشتے کے تقاضوں سے نابلد جو اس کے چھونے سے لرز جائے نگاہوں سے ڈر جائے وہ اس ساتھ کیسے قدم سے قدم ملا کر چل سکتی تھی ؟؟
” سوری شاہ بی بی !! میں نے آج اسے ایک چانس دیا تھا پر شاید ہم ایک دوسرے کےلئے نہیں ہیں ۔۔۔۔” وہ خود کلامی کرتا ہوا سونے کے لئیے لیٹ گیا تھا
*******************
وہ آفس میں کام میں مصروف تھا جب اس کے فون پر بابا سائیں کی کال آئی 0
” شہریار !! یہ کیا بیہودگی ہے ، تم اتنے بیوقوف کیسے ہو سکتے ہو ؟؟ ایک غیر لڑکی کو ہمارے خون پر ترجیح کیسے دے سکتے ہو ؟؟” اس کے فون اٹھاتے ہی بابا سائیں اس پر برس پڑے
” بابا سائیں ہوا کیا ہے ؟؟ ” وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا
” اپنا واٹس ایپ چیک کرو !! کسی دن تمہاری ایسی واہیات حرکتوں سے میرا ہارٹ فیل ہوجانا ہے غضب خدا کا اب تم لڑکیاں بھی لانے لگے ہو ۔۔۔” وہ غصہ سے بول رہے تھے اور شہریار اپنی اور عروہ کی مال والی تصاویر دیکھ کر حیران رہ گیا تھا
” بابا سائیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں میری بات تو سنیں
” دیکھو شیرو !!! کہہ دو یہ خبر جھوٹی ہے مجھے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سنا ۔۔۔۔” وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولے
” ویسے بھی تم اپنی شاہ بی بی سے ایک سال تک اپنے اور سویرا کے رشتے کو نبھانے کا وعدہ کر کے گئے تھے پھر یہ سب ۔۔۔۔” وہ پریشان تھے
” سوری بابا سائیں !! آپ بیفکر رہیں ایک سال تک میں اپنی زندگی میں کسی کو بھی شامل نہیں کرنے والا ۔۔۔۔۔”
” شیرو میں تمہاری ماں اور پھپھو جلد آرہے ہیں میں اپنی آنکھوں سے تمہیں اور سویرا کو ایک ساتھ زندگی گزارتے دیکھنا چاہتا ہوں میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا ہے میں اپنی نظروں سے تمہیں یہ رشتہ نبھاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولتے ہوئے فون بند کرگئے تھے
شہریار خود بہت حیران تھا کہ پاکستان تک اس کی اور عروہ کی تصاویر اور خبریں کیسے پہنچی؟؟
دفعتاً اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں ۔۔۔
” سویرا یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔” وہ لب بھینچتے ہوئے غرایا
اب جو بھی تھا وہ کسی بھی صورت اپنی اور عروہ کی منگنی کی خبر میڈیا تک نہیں پہنچنے دینا چاہتا تھا نا ہی پاکستان تک کچھ دیر تک سوچنے کے بعد اس نے اینا کو انٹر کام پر اندر آنے کی ہدایت کی ۔۔
” یس سر !!!” اینا کاپی پین لے کر اندر آئی
” اینا تمہیں انگیجمنٹ پارٹی آرگنائز کرنی ہے شہر سے دور میرے فارم ہاؤس میں اسی فرائیڈے کو !!
” اوکے سر ، آپ مجھے گیسٹ لسٹ دے دیجئیے اور لڑکا لڑکی کے نام بتا دیں میں سب ارینج کر لونگی ۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی
گیسٹ لسٹ مس عروہ بنا چکی ہیں ان سے لے لیں لیکن خیال رہے یہ ایک سیکرٹ سیرمنی ہوگی اس میں میڈیا کا ایک بھی بندہ شامل نہیں ہونا چاہئیے اور نا ہی اس منگنی کی خبر آؤٹ ہونی چاہئیے انڈر اسٹینڈ !! ” وہ سختی سے بولا
” اوکے سر ۔۔۔۔” اینا نے سر ہلایا
” ون مور تھنگ !! اس لڑکی سویرا کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ اچھا ہے تھوڑا کام کریگی تو بزی رہیگی ۔۔۔۔” وہ اسے روکتے ہوئے بولا
” سر انگیجمنٹ کس کی ہے آپ نام تو بتا دیں کیک پر لکھوانے ہونگے ۔۔۔۔”اینا نے سوال کیا
” عروہ اور میری انگیجمنٹ ہے اور ہاں ایک رنگ بھی ارینج کرنی ہے ۔۔۔
” سر آپ اور عروہ میم ۔۔۔۔۔” اینا شاکڈ ہو گئی
” اینی پرابلم ؟؟ ” شہریار نے اینا کو گھورا
” نو نو سر !! ” وہ بوکھلا تے ہوئے بولی
” اوکے پھر جاؤ اپنا کام کرو اور آج ہی سویرا کو لیکر فارم ہاؤس شفٹ ہو جاؤ ۔۔
” سر کیا میں اپنے بوائے فرینڈ کو ہیلپ کیلیئے ساتھ لے جا سکتی ہوں ؟ ” اینا نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
” شیور !! ناو یو مے گو ۔۔۔۔” اس نے اینا کو باہر کا راستہ دکھایا
اینا نے باہر اپنی ٹیبل پر آکر جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹا اور کانوں پر فون لگاتی ہوئی باہر نکل گئی
” ہیلو بریڈلی !! وہ سویرا کے ہسںنڈ میرے باس اپنی گرل فرینڈ سے انگیجمنٹ کررہے ہیں ۔۔۔” وہ افسوس سے اسے بتا رہی تھی
کچھ دیر بریڈلی سے بات کرنے کے بعد اب اس کا رخ شہریار کے گھر کی طرف تھا ۔۔۔
*******************
شہریار کی قربت پھر اچانک اسے چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل جانا یہ سب سویرا کی سمجھ سے باہر تھا شہریار کے جانے کے بعد وہ کافی دیر تک خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتی رہی رات بھر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی وہ شہریار کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی تھی اسی لئیے صبح پانچ بجے ہی وہ شہریار کا ناشتہ جوس اخبار سب میز پر تیار کرکے اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی شہریار کو سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہیں چلا
باہر سے وقفے وقفے سے بجتی اطلاعی گھنٹی سے اس کی نیند میں خلل پڑا وہ اٹھ کر مین دروازے پر آئی کی ہول سے باہر دیکھا تو اینا کھڑی تھی
” ہیلو اینا ۔۔۔۔” وہ دروازہ کھولتے ہوئے خوشدلی سے مسکرائی
” تم ٹھیک ہو ؟؟” اینا نے اندر داخل ہو کر بغور اس کی سوجی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
” میں ٹھیک ہوں پر تم مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہو ؟؟؟ ” سویرا اس کی نظروں کے ارتکاز سے الجھ گئی
” آر یو میڈ ؟؟ سویرا تمہارا ہسبنڈ ایک دوسری لڑکی سے منگنی کررہا ہے اور تم ٹھیک ہو ؟؟ “اینا نے اسے لتاڑا
” میرا ہسبنڈ !!! تمہیں کس نے بتایا ۔۔۔” سویرا نے خائف ہو کر پوچھا
“میں نے اس دن کیفے میں خود سر کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ تم ان کی وائف ہو اور میں تو انتظار کر رہی تھی کہ تم خود مجھے کب بتاؤ گئی اور ادھر باس اس چڑیل عروہ سے منگنی کرنے جا رہے ہیں اور بے حسی تو دیکھو کہتے ہیں سویرا کو ساتھ لے جا کر انتظامات کرو ۔۔۔” اینا پھٹ پڑی
” اینا پلیز ناراض مت ہو !! میں تیار ہو کر آتی ہوں پھر راستے میں تمہیں سب سچ سچ بتا دونگی ۔۔۔۔” وہ رسان سے اینا کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی
” اوکے جاؤ ریڈی ہو کر آؤ اور اپنے تین چار جوڑے بھی رکھ لینا ہمیں فارم ہاؤس میں رہنا پڑیگا ۔۔۔” اینا نے اپنے غصہ پر قابو پاتے ہوئے کہا…
سویرا سر ہلاتے ہوئے اندر بڑھی اپنے کمرے میں آکر اس نے ایک گہری سانس لیکر اپنے رکے ہوئے آنسوؤں کو بہنے دیا….یہ تو ہونا ہی تھا لیکن دل پتا نہیں کیوں بغاوت کرنے پر تلا ہوا تھا
چلو میں یہ فرض کرتی ہوں
کہ میری تم سے عداوت تھی
کہ مجھے تم سے شکایت تھی
کہ مجھے تم سے رقابت تھی
چلو میں یہ فرض کرتی ہوں
کہ تم کو بھول جاتی ہوں
تم سے جڑے رشتے کو
چلو آج توڑ دیتی ہوں
تمھاری خوشیوں کی خاطر
میری ذات سے آذاد کرتی ہوں
مگر ایک بات ہے جاناں
اس مقدس رشتےکہ
اس پاک بندھن میں
میں صرف اتنا کہتی ہوں
کہ یہ میرا حال دل ہے جو
کہ تیرے ساتھ کی ضرورت ہے
کہ مجھے تم سے محبت ہے
کہ بس اب تیری چاہت ہے
مکمل کربھی دو اب تو
امر کردو ان لمحوں کو
کہ اب اگر اور تڑپاؤ گے
تو ہم جان سے جائیں گے
کہ تیری الفت میں اے جاناں
ختم ہوجائیگی میری ہستی
ختم ہوجائیگی میری ہستی
(شزا خان)
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *