Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36

کافی دیر سے شہریار کے گھر کے باہر بیٹھی ہوئی تھی رات کا اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اب تو ہلکی پھلکی سی بارش بھی شروع ہو گئی تھی
اور وقت تھا کہ گزر ہی نہیں رہا تھا تنگ آکر اس نے اپنے فون میں وقت دیکھا پونے ساڑھے نو بج رہے تھے ۔۔۔
” شیری اتنی دیر تک تو کبھی باہر نہیں رہتا ۔۔۔۔” وہ بڑبڑائی صرف ایک ہی شخصیت ایک سی تھی جس سے اسے شہریار کا پتہ چل سکتا تھا
اس نے نا چاہتے ہوئے بھی اسے فون ملایا
” ہیلو اینا ہاؤ آر یو ۔۔۔”وہ زبردستی اپنے لہجے میں بشاشت پیدا کرتی ہوئی بولی
” فائن عروہ میم !! سب ٹھیک تو ہے آپ نے اس وقت کال کی ؟؟ ۔۔۔” اینا نے حیرت سے پوچھا
” شیری نے مجھے بلایا تھا کچھ ڈاکومنٹ سائن کروانے تھے پر وہ گھر پر نہیں ہے کیا تم مجھے بتا سکتی ہو وہ کدھر ملیگا ؟؟ ” اس نے بات بنا کر پوچھا
” میم !! باس تو اس وقت اپنی مسز کے ساتھ ڈیٹ پر گئے ہیں مجھے واقعی کوئی آئیڈیا نہیں وہ دونوں اس وقت کدھر ڈنر کررہے ہونگے ۔۔۔” اینا نے معذرت خواہ انداز میں جواب دیا اور فون رکھ دیا
” ڈیٹ !! ڈنر میرے ساتھ تو کبھی رات کو باہر نہیں گیا ہر وقت ڈیٹ کو برا کہنے والا اس میسنی چڑیل کو لیکر ڈنر پر کیسے چلا گیا ۔۔۔” عروہ کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سویرا کو کچا چبا جائے اس نے اپنا پرس اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ کر پوری رفتار سے گاڑی کا رخ شہر کے سب سے مشہور و معروف شہریار کے فیورٹ ریسٹورنٹ کی طرف کردیا اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ ادھر ہی گیا ہوگا ۔
گاڑی پارک کرکے وہ اتر ہی رہی تھی کہ اسے شہریار اپنی گاڑی کھولتے ہوئے نظر آیا وہ تیر کی تیزی سے اس کی سمت بڑھی ۔۔
شہریار !! سویرا کو اندر چھوڑ کر باہر گاڑی سے فون لینے آیا ابھی اس نے گاڑی کھول کر فون نکالا ہی تھا کہ کورین کمپنی سے کال آنے لگی یہ ایک نئی کمپنی تھی جس سے اس کی ڈیلنگ چل رہی تھی اور اس وقت کوریا میں تو دن کا وقت تھا اس نے کال پک کی اور گاڑی میں بیٹھ کر ہی بات کرنے لگا وہ جلدی جلدی سے بات ختم کرنے کی کوشش کررہا تھا ویسے ہی کافی دیر ہو چکی تھی رات کے دس بج رہے تھے وہ کال ختم کرکے گاڑی سے اترا ہی تھا کہ کوئی تیزی سے آکر اس سے لپٹ گیا ۔۔
” شیری !! شیری تم کہاں تھے میں کب سے پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔” عروہ نے اپنی بانہیں سختی سے اس کے گرد لپیٹ دیں
” واٹ دا ہیل عروہ !! لیو می ۔۔۔۔” شہریار نے سختی سے اسے بازوں سے پکڑ کر جھٹکتے ہوئے کہا
” شیری پلیز !! ایسا مت کرو !! مجھے خود سے الگ مت کرو دیکھوں تم نے کہا تھا کہ اگر میں سویرا کو تمہاری فرسٹ وائف کی حیثیت سے قبول کر لوں تو تم مجھ سے شادی کر لوگے !! یاد ہے نا تمہیں اپنے الفاظ ۔۔۔”وہ اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولی
******************
سویرا کافی دیر سے شہریار کا انتظار کررہی تھی ڈنر سرو ہو چکا تھا کہیں سب ٹھنڈا نا ہوجائے وہ یہ سوچ کر اٹھی ارادہ باہر جا کر شہریار کو بلانے کا اور ڈنر سرو ہو جانے کے بارے میں بتانے کا تھا وہ اپنا بیگ وہی کرسی پر چھوڑ کر باہر پارکنگ میں آئی ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کے سامنے سے نظر آتے منظر نے اسے اپنی جگہ فریز سا کر دیا ۔۔۔۔
عروہ اس کی زندگی کی ایک تلخ حقیقت شہریار کے گلے لگی ہوئی تھی دیکھتے ہی دیکھتے اس نے شہریار کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔
دل نے آج ہی تو مسکرانا سیکھا تھا ،محبت کی ننھی سی کونپل نے آج ہی تو دل کی سرزمین پر اپنے قدم جمائے تھے اور ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی وہ چپ چاپ پلٹ کر واپس ریسٹورنٹ میں چلی گئی
___________
” عروہ !! اپنی لمٹس میں رہو …” شہریار نے ایک جھٹکے سے عروہ کو خود سے دور کیا
” دیکھو تم ایک اچھی لڑکی ہو لیکن تم میرے نظریات سے ہٹ کر ہو اور یہ بات میں تمہیں بارہا بتا چکا ہوں انفکٹ جب تمہارے ڈیڈ نے مجھے مجبور کیا تھا اس وقت انہیں بھی صاف صاف بتا دیا تھا کہ تم میرے ٹائپ کی نہیں ہو ۔۔۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
” تم ایک بار کہتے تو !! میں تمہارے ٹائپ کی بن جاتی ۔۔۔” وہ تڑپ کر بولی
” یاد کرو عروہ !! تم مجھے صاف کہہ چکی تھی کہ تم میرے بزنس ٹائیکون بننے تک شادی کے چکر میں آنے والی نہیں ہو اور نا ہی خود کو کبھی بدلو گی !! یاد آیا ؟؟ ” وہ طنز کرتے ہوئے بولا
” وہ میری نادانی تھی شیری !! تم مجھے بس ایک اور موقع تو دے کر دیکھو ۔۔۔۔”
” عروہ !! اللہ نے نکاح کے رشتے میں بڑی طاقت رکھی ہے جسے میں اب سمجھا ہوں !!! میں نے پہلے اپنی بیوی کو دیکھا اور جانا نہیں تھا لیکن اب وہ ایسی لڑکی ہے جس کی ذات میں مجھے شامل ہو کر سکون ملا ہے اس کی فطرت میں بہت لچک ہے وہ بالکل ایسی عورت ہے جیسی مجھے اپنی زندگی میں چاہئیے تھی گھر بنانے والی ۔۔۔۔” وہ پرسکون انداز میں بولا
” شیری !! تم ایک معمولی سی لڑکی کی خاطر مجھے ٹھکرا رہے ہو ؟؟ مجھے اپنی فیانسی کو ” وہ چلائی
” فار یور کائنڈ انفارمیشن وہ لڑکی میری بیوی ہے اور میری بیوی معمولی ہو یا خاص یہ تمہارا کنسرن نہیں ہونا چاہیے !! ناؤ موو !! اس سے زیادہ میں تمہیں نہیں سمجھا سکتا !! میری وائف میرا ویٹ کررہی ہوگی ۔۔۔” وہ اپنے ازلی اکھڑ انداز میں بولتا ہوا لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوا اس کے سامنے آیا
” یہ رنگ !! ” اس نے عروہ کی انگلی میں موجود انگیجمنٹ رنگ کی طرف اشارہ کیا
” یہ میں نے تمہارے ڈیڈ کے اسرار کرنے پر تمہیں دلائی تھی میری طرف سے یہ سو کالڈ زبردستی کی انگیجمنٹ اب ختم سمجھو اور اسے اتار دو ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
” کیوں اتار دو ؟؟ تاکہ تم میری رنگ اپنی اس زبردستی گلے پڑی بیوی کو دے دو جس کی بری نظر ہمیں لگ گئی ہے اونہہ !! مفلس کہیں کی ، زیور کے نام پر چھلا تک پاس نہیں ہے اور میری رنگ پر نظر رکھ کر بیٹھی ہے ۔۔۔۔” وہ زہر خند لہجے میں بولی
” یو شٹ اپ !! ” شہریار نے اپنے اٹھتے ہوئے ہاتھ کو مٹھی بنا کر روکا
” میری وائف کو کسی زیور ، کسی آرٹیفیشل چیز کی ضرورت نہیں ہے اس کا حسن بیمثال ہے ، اس کی خوبصورتی اس کی سادگی ہے جسے تم جیسے عقل سے پیدل نہیں سمجھ سکتے – تم یہ انگوٹھی رکھ سکتی ہو شہریار کی بیوی کو زیور کی کمی نہیں اس کے ایک اشارے پر دنیا کی ہر نعمت اس کے قدموں میں لاکر ڈھیر کرنے کے لیے اس کا شوہر موجود ہے ۔” وہ عروہ کو اپنے اور سویرا کے رشتے کی اہمیت جتا چکا تھا
” تم ایسا نہیں کرسکتے !! میں خود کو مار لونگی ….” وہ ہذیانی انداز میں چلائی
” تو مر جاؤ !! کافی عرصہ سے سن سن کر پک چکا ہوں اب جب فائنلی مر جاؤ تو اطلاع بھجوا دینا ۔۔۔” وہ سرد مہری سے بولا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتے ہوئے اندر ریسٹورنٹ میں داخل ہو گیا ۔۔۔
*****************
ٹیکسی شہریار کے گھر کے پاس پہنچ چکی تھی سلیم صاحب نے گاڑی رکوائی ۔ ڈرائیور نے بڑے ادب سے نیچے اتر کر ڈگی سے ان کا سامان نکال کر باہر رکھا اور اپنا بل لیکر ادھر سے نکل گیا
” سنئیے مجھے تو لگتا ہے کہ گھر پر کوئی نہیں ہے ۔” زیبا بیگم چاروں طرف چھائے سناٹے سے گھبرا گئی تھیں
” بیگم آپ آگے چلیں دروازے کی بیل بجائیں میں جب تک یہ سامان لاتا ہوں ۔۔۔” سلیم صاحب نے سامان کی طرف اشارہ کیا
” میاں تم یہ سامان کیوں ڈھو گئے ؟ یہ شیرو اتنا بڑا بزنس مین بنا پھرتا ہے اس کا چوکیدار کدھر ہے ؟ اسے بلاؤ کے آکر مالک کا سامان اٹھائے ۔۔” فرزانہ نے انہیں ٹوکا
” آپا آپ بھی !! یہ ولایت ہے ادھر نوکر چاکر نہیں ہوتے آپ کو اپنا سارا کام خود کرنا ہوتا ہے اور چوکیداری کیلئیے ادھر پولیس ہوتی ہے یا باڈی گارڈ وہ بھی اگر آپ پر کوئی حملہ وغیرہ ہو ۔۔۔۔” سلیم صاحب نے انہیں رسان سے سمجھایا
” ہائے کیسا ملک ہے یہ ۔۔۔” فرزانہ نے ناک پر ہاتھ رکھا
” بس آپا ہر جگہ پاکستان جیسے ٹھاٹ نہیں ہوتے ۔۔۔” سلیم صاحب نے سوٹ کیس اٹھایا
” بس میاں رہنے دو !! ذرا اپنی صحت تو دیکھو دل کے مریض ہو اور وزن اٹھانے کی بات کرتے ہو !! اوپر جاؤ اور شیرو کو بلا کر لاؤ کہ سامان اٹھائے میں ادھر ہی رک کر سامان کی حفاظت کرتی ہوں ۔۔۔۔” وہ انہیں ٹوکتے ہوئے بولیں
“ٹھیک ہے آپا آپ رکیں میں شیرو کو بلاتا ہوں ۔۔۔” وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے
” کیا ہوا بیگم ۔۔۔۔” اوپر پہنچ کر انہوں نے پریشان کھڑی زاہدہ سے پوچھا
” کب سے بیل بجا رہی ہوں لگتا ہے یہ لوگ گھر پر نہیں ہیں یا پھر ہم غلط پتے پر آگئے ہیں ۔۔۔”
” رکو میں دیکھتا ہوں ۔۔۔” وہ اپنی جیب سے ڈائری نکالتے ہوئے بولے
” جلدی کریں ادھر آپا انتظار کر رہی ہونگی ۔
” صبر کرو کچھ نہیں ہوتا آپا کو ۔۔۔” وہ نظر کا چشمہ پہنتے ہوئے بولے
” ایڈرس تو یہ ہی ہے ۔۔۔” انہوں نے محراب کے اوپر لکھے ایڈرس کو اپنی ڈائری سے میچ کیا اور پھر آگے بڑھ کر خود پہلے کئی بار بیل بجائی پھر دروازہ کھٹکھٹانے لگے کافی دیر تک وہ دروازہ بجاتے رہے
” سلیم صاحب لگتا ہے یہ سرپرائز مہنگا پڑگیا ہے وہ دونوں گھر پر نہیں ہیں ۔۔۔” زاہدہ بیگم نے دیوار سے ٹیک لگائی
” کوئی بات نہیں میں اسے فون کرتا ہوں ۔۔۔” انہوں نے اپنی جیب سے سیل فون نکالا
” شکر ہے میں نے اس پر انٹرنیشنل رومنگ لگوا لی تھی ۔۔۔” وہ فون آن کرتے ہوئے بولے
*****************
ڈاکٹر اینڈریو بہت سلجھے ہوئی طبعیت کا مالک تھا دو شادیاں کرچکا تھا اور دونوں ہی ناکام رہی تھیں اسی لئیے اس کا مغرب کی عورت سے اعتماد اٹھ چکا تھا وہ اپنے ماحول کی عورتوں کی آزادی ، بے باک اداؤں سے اوبھ چکا تھا اسے عورت میں ذات سے نفرت ہوچکی تھی انہیں دنوں جب وہ چھٹیوں پر تھا اس نے سویرا کو دیکھا سیدھی سادھی سی لڑکی جس کے چہرے کی معصومیت نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا اس لڑکی سے بات کرکے اسے اندازہ ہوا کہ دنیا میں اچھی لڑکیاں ابھی بھی باقی ہیں اس نے اسی وقت سوچ لیا تھا کہ اب وہ ایک وفا شعار مشرقی لڑکی کے ساتھ ہی اپنی زندگی گزارے گا وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اس نے شہریار کو سویرا کے ساتھ دیکھا وہ اس انگلینڈ کے مشہور ماڈل بزنس مین کی بیوی تھی جو موسٹ وانٹڈ بیچلر کے طور پر مشہور تھا یعنی وہ معصوم لڑکی ایک ان چاہے رشتے کو نبھا رہی تھی پھر کچھ دن بعد اس نے سویرا کو یونیورسٹی میں دیکھا تو خود کو روک نہیں سکا پر وہ مشرق کی بیٹی اپنے شوہر کی وفادار تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے قدم پیچھے ہٹانے کا سوچ رہا تھا جب اس لڑکی نے اس سے خود رابطہ کیا اس سے باتیں کی ، راتوں کو دیر تلک اس کا دل بہکایا اور اب جب وہ اسے پانے کیلئے بے قرار ہوگیا تو اپنے شوہر کی پناہوں میں جا کر چھپ گئی تھی ۔اور اب اس کا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی اس کے میسجز بھی اگنور کررہی تھی
“نہیں سویرا میں اتنی آسانی سے تم سے دستبردار نہیں ہونگا تمہیں میرا دل توڑنے کی سزا ضرور ملے گی ۔۔۔” وہ سرخ آنکھوں میں غصہ لئیے غرایا
اس نے ایک بار پھر میسنجر پر سویرا سے کانٹیکٹ کرنا چاہا مگر کوئی رسپانس نہیں ملا وہ اٹھا اب آر یا پار کرنے کا وقت آگیا تھا اس کا رخ شہریار سویرا کے گھر کی طرف تھا ۔گھر کے پاس پہنچ کر اس نے گاڑی روکی اور نیچے اترا سامنے ہی ایک پچاس پچپن سال کی خاتون تین سوٹ کیسوں کے ساتھ چوکس ڈرائیو وے میں کھڑی ہوئیں تھیں وہ حیرانگی سے انہیں دیکھتا ہوا ڈرائیو وے میں آیا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھا
” اے کون ہو تم !! ایسے کیسے منھ اٹھا کر گھسے چلے آرہے ہوں ؟؟ رکو اسٹاپ ۔۔۔۔” فرازنہ اس کے سامنے آکر اردو میں بولیں
وہ خاتون جو بھی بول رہی تھیں وہ اس کے سر پر سے گزر گیا تھا مگر وہ اسٹاپ سن کر رک گیا
” میں ادھر سویرا سے ملنے آیا ہوں ۔۔۔” وہ ٹہرے ہوئے لہجہ میں بولا
” سویرا !! ” فرازنہ نے اسے گھورا
” آر یو آ مدر آف سویرا ؟؟ ” اس نے ان کے سویرا کے نام پر بری طرح چوکنے پر سوال کیا
فرازنہ کی سمجھ میں مدر اور سویرا آگیا تھا انہوں تیزی سے گالوں پر ہاتھ رکھ کر توبہ کی
” اللہ نا کرے میں اس منحوس کی مدر بنو ۔۔۔”
اینڈریو نے غور سے اس خاتون کو دیکھا جو سویرا کے نام پر پرجوش ہو کر شاید خوشی سے اپنے ہی گال ہیٹ رہی تھیں
” مدر ۔۔۔ائی ایم ہر بوائے فرینڈ ۔۔۔ ” اینڈریو نے ان کو اعتماد میں لینا چاہا
” بوائے فرینڈ !!! ” فرازنہ کی تو آنکھیں پھٹ پڑیں انہوں نے بغور اس ہینڈسم گورے کو دیکھا
” یہ کیا بک رہا ہے تو ؟؟ کیا تو واقعی اس کلموہی کا بوائے فرینڈ ہے ۔۔۔۔” انہوں نے اینڈریو کا گریبان پکڑا
اینڈریو کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں وہ ان کی تیز آواز اور گرفت سے گھبرا گیا تھا
” ریلیکس مدر !! ” اس نے اپنا گریبان چھڑوایا
” ارے کمبخت کیسا ری لیکس وہ منحوس ماری تیرے جیسے کافر کے ساتھ مل کر خاندان کی عزت خاک میں ملا رہی ہے اور میں یہ موا ری لیکس کروں ۔۔۔” فرزانہ نے اسے گھورا
” او گاڈ یو آر ٹو مچ ۔۔۔۔” اینڈریو نے اس وقت ادھر سے جانا ہی مناسب سمجھا
******************
وہ واپس اندر آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی شہریار ابھی تک واپس نہیں آیا تھا وہ اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے اس کا صبر سے انتظار کررہی تھی اس کی نگاہوں میں بار بار عروہ کا چہرہ آرہا تھا کس طرح وہ شہریار سے لپٹی ہوئی تھی ایک عجیب سے احساس نے سویرا کو جکڑ لیا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا سب چھوڑ چھاڑ کر کہیں بھاگ جائے اور پھوٹ پھوٹ کر روئے ۔ پہلے شہریار کا رویہ اس کی عروہ سے دوستی اسے اتنا دکھ نہیں دیتے تھے کہ شہریار نے اسے تسلیم ہی نہیں کیا تھا لیکن اب جب وہ اس کے دل و جان میں اتر چکا تھا اسے اپنا بنا چکا تھا تو یہ منظر برداشت نہیں ہورہا تھا اسے اپنے اندر کے موسموں کی خبر ہو چکی تھی یہ احساس ہوچکا تھا کہ وہ جو اس کے نام کے ساتھ جوان ہوئی تھی اس کے دل کے نہاں خانوں میں تو وہ کب سے بسا ہوا تھا اور آج تو اس نے سوچا تھا کہ وہ اسے اپنے بدلتے احساسات کا بتائے گی ڈاکٹر اینڈریو کا بتائے گی کہ وہ اس کا محافظ تھا اور اب تو وہ بھی اسے بھرپور توجہ بھی دے رہا تھا شاید اسے چاہنے بھی لگا تھا لیکن !!!!
ان دونوں کے درمیان میں موجود عروہ نام کا کانٹا !! اس کے دل میں آج دوبارہ گڑ گیا تھا ۔۔
” شاید میں ہی غلط فہمی کا شکار ہو رہی ہوں بھلا کہا میں اور کہاں وہ گڑیا جیسی عروہ جی !! میں ہی ان کے بیچ میں آگئی ہوں ۔ وہ بس مجھ سے رشتہ نبھا رہے ہیں ۔۔” اس کی آنکھیں بھر آئیں
وہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا ذہن میں سویرا کا چاندنی جیسا روپ دمک رہا تھا وہ سوچ چکا تھا کہ کل صبح ہی وہ آفس سے آف لیکر سویرا کو شاپنگ پر لیکر جائیگا وہ مسز شہریار ہے اور اسے مسز شہریار نظر بھی آنا چاہئیے سب سے الگ سب سے منفرد ۔وہ میز کی طرف آیا جہاں سویرا دنیا جہاں سے بے خبر سر جھکائے بیٹھی تھی میز پر ڈنر سرو ہوچکا تھا اس نے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بہت آہستگی سے سویرا کا مرمریں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔
” سویرا !!! ” اس نے دھیمے لہجے میں اسے پکارا
” آپ آگئے ۔۔۔۔” سویرا کے ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی
” کیا ہوا ہے ؟؟ تمہاری آنکھیں نم کیوں ہیں ۔۔۔۔” اس نے پریشانی سے اس کی بھیگی آنکھوں کو چھوا
” کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔” وہ نرمی سے اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے بولی
میرون سوٹ میں سینے پر دوپٹہ پھیلائے اس کی رنگت دمک رہی تھی کھلے گھنے بال ساری پشت پر بکھرے ہوئے تھے آنکھیں نم تھی اور گلابی گالوں پر لرزتی پلکوں کا رقص ۔۔اس نے آگے ہو کر اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
” آپ ۔۔۔۔” سویرا پبلک پلیس پر اس کی اس حرکت پر گھبرا گئی
” مجھے تمہاری آنکھوں میں نمی پسند نہیں ہے اس بات کا خیال رکھا کرو ۔۔۔” وہ دور ہوتے ہوئے بولا
” چلو مسز شہریار !! اب کھانا شروع کرو ۔۔۔” وہ پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا
” سنئیے !! ” سویرا نے ہمت کرکے اسے پکارا
” جی مسز شہریار !! سنائیے ۔۔۔” وہ پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوا
” مجھے بہت افسوس ہے کہ آپ کو !! آپ کو نا چاہتے ہوئے بھی مجھ سے رشتہ جوڑنا پڑا ۔مم مجھے مجھے پتہ ہے آپ !! میں آپ کے اور عروہ جی کے بیچ میں آگئی ہوں ۔۔۔” سویرا کی آواز بھرا گئی
” آپ پلیز مجھے چھوڑ دیں اور اپنی من پسند زندگی عروہ جی کے ساتھ شروع کریں آپ عروہ جی سے شادی کر لیں ۔۔۔” وہ آنکھیں میچے جلدی سے اپنی بات کہہ گئی
شہریار نے غصہ سے اسے دیکھا جو اپنی بے اعتباری اسے جتا چکی تھی اس سے پہلے وہ اس کی طبیعت صاف کرتا اس کا فون بج اٹھا ۔۔
بابا سائیں !! کا نام دیکھ کر اس نے سرد نگاہوں سے سویرا کو دیکھتے ہوئے فون اٹھایا
” اسلام علیکم بابا سائیں ۔۔۔”
” وعلیکم السلام !! شاہو بیٹا تم کدھر ہو ؟؟ “
” میں !!لندن میں ہوں بابا سائیں خیریت ۔۔۔” وہ الجھا
” وہ تو مجھے پتہ ہے تم لندن میں ہو مگر بیٹا جی اس وقت کدھر ہو ؟؟ میں کب سے تمہارے گھر کی گھنٹی بجا رہا ہوں ۔۔۔۔” انہوں نے کہا
” آپ لندن میں ہیں ؟؟ ” وہ تیزی سے کرسی کھسکاتے ہوئے کھڑا ہوا سویرا نے بھی چونک کر اسے دیکھا
” بابا سائیں !!آپ بس بیس منٹ ویٹ کریں میں آرہا ہوں ۔۔۔” اس نے فون بند کرکے اپنا والٹ نکالا اور پیسے ٹیبل پر رکھ کر سویرا کو ساتھ آنے کا اشارہ کرکے باہر نکل گیا
*******************
وہ لب بھینچے خاموشی سے تیز رفتاری سے گاڑی دوڑا رہا تھا سویرا کن اکھیوں سے اس کے پتھریلے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیا تایا ابو آئے ہیں ۔۔۔۔” اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا پر شہریار اسے اگنور کئیے اپنی توجہ سامنے رکھے ہوئے تھا
” سنئیے !! ” اس نے ہمت کرکے پھر پکارا
شہریار نے گردن موڑ کر اسے خشک نظروں سے دیکھا
” آئی ایم سوری ۔۔۔”
” تو پھر !! میں کیا کروں ؟؟ ” اس نے تلخی سے پوچھا
” سنو لڑکی !! اس بے اعتباری پر میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف نہیں کرونگا ۔اب میرا دماغ مزید خراب مت کرو ۔۔” وہ غرایا
سویرا نے حیرت سے اس کے غصیلے روپ کو دیکھا وہ تو اپنی دانست میں اسے اس کی زندگی جینے کا موقع دے رہی تھی اور وہ بجائے احسان مند ہونے کے الٹا اس پر ہی برس رہا تھا ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *