Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24
وہ گہری نیند میں تھی جب اس کے کانوں میں ڈور بیل کے بجنے کی آواز سنائی دی کچھ دیر وہ غائب دماغی سے بستر پر پڑی رہی پھر دیوار میں نصب گھڑی پر رات کے سوا آٹھ بجے دیکھ کر چونک کر اٹھ بیٹھی
” اللہ اللہ میں نے تو رات کا کھانا بھی نہیں پکایا یہ تو بہت ناراض ہو جائینگے ۔۔۔”وہ تیزی سے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی لیونگ روم کے پاس پہنچی ہی تھی کے اندر سے آتی آوازیں سن کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی
” شیری !! سویرا تمہاری کون ہے ؟؟”
” فرسٹ کزن ہے !! تمہارا تعارف کروایا تو تھا ۔۔” شہریار الجھا
” بس صرف فرسٹ کزن ؟؟” جونس نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوالیہ نظروں سے گھورا
” کیوں !! تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟؟ ” شہریار نے الٹا سوال کیا
” مجھے لگتا ہے تم دونوں کے بیچ کوئی اور بھی رشتہ ہے جو تم مجھ سے اپنے دوست بزنس پارٹنر سے چھپا رہے ہو ورنہ اس طرح تمہارے کلچر میں ایک جوان لڑکے اور ایک جوان لڑکی کا اکیلے ساتھ رہنا بہت نامناسب مانا جاتا ہے ۔۔۔”
” جونس !! وہ میری فرسٹ کزن ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں جہاں تک ساتھ رہنے کی بات ہے تو انسان کا اگر ایمان مضبوط ہو اور نفس پر قابو ہو تو جوان سے جوان اور خوبصورت سے خوبصورت لڑکی بھی اس کے لئیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے ۔۔”وہ اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
” اوکے بردار !! میں نے ویسے بھی اس لٹل گرل کو اپنی بہن مانا ہے اگر تم اجازت دو تو اس کے لئیے کوئی رشتہ دیکھوں ؟؟ میرے حلقہ احباب میں بہت مسلم فرینڈز ہیں ۔۔ ” اب کے جونس نے اس کی نبض پر ہاتھ رکھا
اس سے پہلے شہریار اسے کوئی جواب دیتا اس کی نظر دروازے پر کھڑی سویرا پر پڑیں سرخ آنکھیں اونچی پونی سے نکلتی بالوں کی الجھی ہوئی لڑیں جو اس کے چہرے کو چوم رہی تھیں ننگے پاؤں بنا دوپٹے کے وہ دروازے میں استاذہ تھی پہلے ہی جونس کی باتوں نے اس کا دماغ گھوما دیا تھا اس پر سویرا کا بنا دوپٹے کے دعوت دیتا ہوا دلکش سراپا اسے ٹھیک ٹھاک تپا گیا تھا اس سے پہلے جونس کی نظر اسے اس طرح دیکھے وہ تیزی سے اٹھا اور ساکت کھڑی سویرا کا ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر اسے گھسیٹتے ہوئے اس کے کمرے میں لایا ۔۔۔
” تمہیں کوئی عقل یا سینس ہے کہ نہیں ؟؟ یا لندن آکر ساری شرم و حیا بیچ دی ہے ؟؟ ” وہ غرایا
سویرا نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ جو اس کا ہمسفر تھا لیکن کتنی بے رحمی سے اس کی شادی کی بات سن رہا ۔۔
” آئندہ کبھی بنا دوپٹے کے نظر آئیں تو زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔” وہ کف اڑاتا ہوا اسے بستر پر جھٹکتے ہوئے باہر نکل گیا
وہ ساکت سی اسے باہر جاتا دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جب وہ اس رشتے کو مانتا ہی نہیں ہے اس کے وجود کو تسلیم تک نہیں کرتا تو پھر اسے لیکر اتنا غصہ کیوں ہو رہا تھا ؟؟ ابھی وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اس کا فون بج اٹھا اینا کال کررہی تھی
” ہیلو سویرا کیسی ہو ؟؟ اچھا سنو کل اتوار ہے تم بس وغیرہ کے چکر میں مت پڑنا میں تمہیں کیفے ڈراپ کر دونگی ۔۔۔” اینا فون کے اٹھتے ہی شروع ہو گئی
” اینا سنو کیا میں کچھ دنوں بعد کام شروع کر سکتی ہوں ۔۔۔” سویرا نے اٹھتے ہوئے پوچھا
“کیا ہوا سویرا ہنی ؟؟ کیا تمہیں جاب پسند نہیں آئی ؟؟ ” اینا سنجیدہ ہوئی
” نہیں ایسا نہیں ہے میں تو بس ۔۔۔۔” سویرا کی سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے
” دیکھو ہنی ہمت کرو ، ایسے موقعے بار بار نہیں ملتے ، تم ادھر اسٹوڈنٹ ویزے پر ہو تمہیں اتنی آسانی سے دوبارہ جاب ملنا مشکل ہے باقی تمہاری مرضی ہے ۔۔۔” اینا نے اسے سمجھایا
” ٹھیک ہے میں صبح تیار رہونگی ۔۔۔” سویرا نے سوچ کر جواب دیا
ویسے بھی جیسے حالات چل رہے تھے اس میں سب سے بہترین حل جلد از جلد اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑا ہو کر ہاسٹل شفٹ کرجانا ہی تھا ویسے تو تایا ابو نے اس کے اکاؤنٹ میں ایک خطیر رقم ڈلوائی تھی پر وہ سے اپنی فیس اور پڑھائی کے دیگر اخراجات کے لیے بچا کر رکھنا چاہتی تھی اسے چار سال گزارنے تھے اور بیٹھ کر کھانے سے تو بڑے بڑے خزانے خالی ہو جاتے ہیں یہ تو پھر بھی چند لاکھ روپے تھے
******************
اتوار کا دن شروع ہو رہا تھا ،شہریار کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی صبح کے پانچ بج رہے تھے وہ اپنے کمرے میں سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا سویرا کو لیکر اپنے جذبات اپنا اشتعال اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کل جب کیفے میں اسے دیکھا تو برا لگا پھر ان لڑکوں کی سویرا کے حسن کو لیکر واہیات گفتگو اس کو برداشت نہیں ہوئی تھی اور رات جب وہ نیند میں بھری آنکھیں لئیے بنا دوپٹے اسے نظر آئی تو کہیں جونس اس کی دلکشی کو نا دیکھ لے !! یہ سوچ ہی اس کا دماغ گھما گئی تھی..
” تم میری ملکیت ہو اور میری ملکیت کو کوئی اور دیکھے یہ مجھے برداشت نہیں۔۔۔” وہ ایش ٹرے میں سگریٹ مسلتا ہوا بڑبڑایا
وقت آگیا تھا کہ وہ سویرا سے دو ٹوک بات کر کے اسے ہاسٹل شفٹ کردے ورنہ یہ لڑکی اس کے حواسوں پر چھاتی جا رہی تھی lأس رات نیند میں اس کا سسکنا شہریار سے محبت کا اظہار کرنا اپنے بابا سے بات کرنا یہ سب شہریار کو ہلا کر رکھ گیا تھا اور اب نا چاہتے ہوئے بھی وہ اسے سوچے چلا جا رہا تھا اسے دکھ نا پہنچے اسی لئیے اس نے عروہ سے اپنی شادی ایک سال کیلئے ملتوی کردی تھی اسے پوری امید تھی کہ ایک سال بعد سویرا تھوڑی میچیور اور سمجھدار ہو کر آرام سے اس کی زندگی سے نکل جائے گئی لیکن اب وہ خود اسے لے کر پوزیسیو ہو رہا تھا
” شاید وہ میرے چاچا کی بیٹی ہے میرے خاندان کی عزت ہے میرے نام سے منسوب ہے اس لئیے میں اتنا سینسیٹیو ہو رہا ہوں ۔۔۔۔” وہ خود کو تسلی دیتے ہوئے لیٹ گیا
دن کی روشنی اس کے کمرے میں پھیل رہی تھی وہ جاگنگ پر بھی نہیں گیا تھا آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ اپنے معمول سے ہٹ گیا تھا سیل فون اٹھا کر اس نے وقت دیکھا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے وہ بستر چھوڑ کر فریش ہو کر باہر آیا ارادہ ناشتہ کرنے کا تھا برابر میں سویرا کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور خالی کمرہ بھائیں بھائیں کررہا تھا وہ چلتا ہوا کچن میں آیا تو سامنے میز پر حسب معمول جوس کا گلاس اور ناشتے کے لوازمات سجے ہوئے تھے پر ان کو بنانے والی کہیں نہیں تھی ۔۔
” سویرا !!! ” اس نے آواز لگائی
” ناٹ اگین !!! یہ تم نے اچھا نہیں کیا !! ” وہ بڑبڑایا اور غصہ سے جوس کا گلاس اٹھا کر فرش پر زور سے مارا پھر بنا سوچے سمجھے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا
وہ غصہ سے لب بھینچے تیز رفتاری کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے کیفے وکٹوریہ جا رہا تھا ۔
کیفے پہنچ کر اس نے گاڑی بالکل مین اینٹرینس پر پارک کی اور تیزی سے چلتا ہوا اندر داخل ہوا اس کے وجیہہ چہرے پر بلا کی کرختگی تھی اندر پہنچ کر اس نے چاروں جانب نظر دوڑائی ۔۔
*********************
سویرا صبح سات بجے کافی شاپ پہنچ چکی تھی ۔۔
” اوکے اینا ۔۔۔۔” وہ بمشکل مسکراتے ہوئے گاڑی سے اتری
” سنو تمہارا آف کتنے بجے ہے ۔۔۔” اینا کھڑکی سے سر نکال کر چلائی
” دو بجے تک ۔۔ کیوں ؟؟ ” سویرا نے پلٹ کر جواب دیا
” مجھے کسی نے کافی پر انوائیٹ کیا ہے ۔۔۔” وہ آنکھ مارتے ہوئے بولی
” اوہ کون ہے وہ ۔۔۔”سویرا نے ٹھٹھک کر پوچھا
” وہی جسے تم نے میرا نمبر دیا تھا لٹل گرل ۔۔۔” اینا کھلکھلا کر ہنس دی
” یعنی تم اور بریڈلی ۔۔۔۔” سویرا نے جلدی سے پوچھا
” جی جناب میں اور بریڈلی اور سنو ہم دونوں بریک فاسٹ ادھر ہی کرینگے اس لئیے زبردست سی سروس دینا ۔۔۔” اینا مسکراتے ہوئے بولی اور ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا کر روانہ ہو گئی
سویرا اپنے دو اچھے دوستوں کو ایک ساتھ تصور کرکے مسکرا اٹھی اس کی ساری پژمردگی کہیں دور جا سوئی تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی اندر امپلائی روم میں داخل ہوئی
” گڈ مارننگ کیتھی ۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے کیتھی کو مارننگ وش کی
اپنا کوٹ اتار کر دروازے پر ٹانگا اور پنک ایپرن نکال کر پہنا بال اس نے آج بھی پونی میں باندھے ہوئے تھے سر پر بلیک کلر کا اسکارف بھی لیا ہوا تھا
” سویرا ڈئیر !! میں نے کل بھی سمجھایا تھا ادھر یہ اسکارف ٹائپ الاؤ نہیں ہے اور نا ہی یہ ہمارے یونیفارم کا حصہ ہے اس لئیے اسے اتار دو ۔۔۔” کیتھی نے سنجیدگی سے اسے ٹوکا
سویرا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکارف اتارا اور خاموشی سے باہر نکل گئی
بلیک پینٹ بلیک ہالف سلیو ٹی شرٹ پہنے اوپر سے گلابی رنگ کا مخصوص ویٹرس والا ایپرن پہنے وہ کام میں مصروف تھی
کاؤنٹر کے پیچھے وہ کافی میکر سے اپنے کسٹمر کیلیئے کافی تیار کررہی تھی جب کسی نے زور سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارا وہ ڈر کے مارے اچھل سی گئی کپ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا وہ آہستگی سے مڑی تو سامنے ہی سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا شہریار کھڑا ہوا تھا
” بہت خود مختار ہو گئی ہو تم ؟؟ کس سے پوچھ کر کس کی اجازت سے تم نے یہ جاب جوائن کی ؟؟؟ بولو ” وہ غصے سے چیخ اٹھا
” وہ ممم میں ۔۔۔۔” سویرا کی آواز حلق میں اٹک سی گئی
” اپنا حلیہ دیکھا ہے ؟؟ غیر مردوں کے سامنے خود کو پیش کررہی ہو ؟؟ یہی تمہاری تہذیب ہے ؟؟ ” وہ ہونٹ بھینچتے ہوئے بولا
“سر پلیز !! آپ ہمارے کیفے کا ماحول خراب کررہے ہیں ۔۔۔۔” مینجر کیتھی شور سن کر تیزی سے باہر آئی
” ٹو ہیل ود یور کیفے !!!! اس لڑکی کو ابھی کے ابھی جاب سے نکالو ۔۔۔۔۔” وہ سرد لہجے میں کیتھی سے بولا
” بٹ سر !!! ایسے کیسے نکال دوں ؟؟ ” کیتھی پریشان ہو گئی سب کسٹمرز تماشائی بنے ہوئے تھے
شہریار نے کک لگا کر وہ چھوٹا سا باڑ نما دروازہ کھولا اور کاؤنٹر کے پیچھے جا کر سویرا کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیا
” میں یہاں کوئی سین نہیں کرنا چاہتا شرافت سے ریزائن کرو اور اگر آج کے بعد تم مجھے ادھر ادھر نظر آئی تو تمہاری ٹانگیں توڑ دونگا ۔۔۔۔” وہ غرایا
” سر آپ ہماری ایمپلائی کو ڈرا رہے ہیں آپ جائیں ورنہ ہم پولیس کال کر رہے ہیں ۔۔۔۔” کیتھی آگے آئی
” تم شوق سے پولیس کال کرو مجھے کوئی فکر نہیں ہے میں اسے یہاں سے لے جا رہا ہوں اور اب یہ واپس ادھر نہیں آئیگی ۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
” آپ ایسا نہیں کرسکتے ہم آپ پر ہراسمنٹ اور اغوا کا کیس کر سکتے ہیں ۔۔۔” کیتھی نے اسے ڈرانا چاہا
” اوہ سیریسلی آپ مجھ پر میری اپنی ہی بیوی کو اغوا کرنے کا کیس کرینگی ؟؟ ” وہ استہزاءیہ انداز میں بولا پھر سویرا کو گھسیٹتے ہوئے کاؤنٹر کے پیجھے سے باہر نکالا
” بیوی !! یہ یہ لڑکی آپ کی وائف ہے ؟؟ ” کیتھی نے حیرت سے پوچھا
شہریار نے رک کر اپنے والٹ سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر کاؤنٹر پر رکھا
” آپ کا جو بھی نقصان ہوا ہے اس پتے پر بل بھیج دیجئے گا ۔۔۔” وہ ٹھنڈے لہجے میں بولتا ہوا ایک ہاتھ سے سویرا کو جکڑے ہوئے تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا
**************************
اینا اور بریڈلی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے کیفے کے اندر داخل ہوئے
” سویرا تو ہمیں ایک ساتھ دیکھ کر حیران ہو جائیگی اس کا چہرہ بچوں کی طرح پھول جاتا ہے ۔۔۔” بریڈلی ہنسا
” تم فکر مت کرو میں پہلے ہی اسے بتا چکی ہوں کہ ہم ساتھ ادھر ناشتہ کرینگے ۔۔۔” اینا نے اس کے بال بگاڑے
وہ دونوں چلتے ہوئے کاؤنٹر کے عقب میں رکھی ٹیبل پر آبیٹھے
” اینا دیکھو یہ سویرا کی بچی کسی دن مجھ سے ضرور پٹے گی کسٹمرز سے آرڈر کتنا ڈرتے ہوئے لے رہی ہے ذرا بھی کانفیڈینس نہیں ہے اس بدھو میں ۔۔۔”
” بریڈلی خبردار جو میری دوست کو کچھ کہا ۔۔۔” اینا نے اسے گھورا
” چلو نہیں کہتا آؤ میں تمہاری تعریف کرتا ہوں تمہارے لئیے میرے دل میں جو محبت ہے اس پر بات کرتا ہوں ۔۔۔” وہ گھمبیر سے لہجے میں بولتا ہوا اینا کی سمت جھکا
” سیریسلی تم بھی نا ۔۔۔” اینا مسکائی
اس سے پہلے بریڈلی کوئی جواب دیتا کیفے میں ایک شور سا مچ گیا کوئی آدمی کاؤنٹر پر زور سے ہاتھ مار رہا تھا
” او گاڈ یہ آدمی سویرا کو ڈرا رہا ہے میں اسے چھوڑونگا نہیں ۔۔” بریڈلی تیزی سے کھڑا ہوا
اینا نے بھی اس سمت دیکھا اور شاک سے کھڑی ہو گئی سامنے ہی اس کا باس موسٹ وانٹڈ بیچلر شہر کا مشہور بزنس مین شہریار سویرا کا بازو تھامے کھڑا تھا
” بریڈلی رکو !! یہ میرے باس سویرا کے کزن ہیں ۔۔۔” اس نے تیزی سے بریڈلی کے بازو پر ہاتھ رکھا
” کزن ہے تو کیا ہوا ؟؟ اسے کوئی حق نہیں سویرا سے بدتمیزی کرنے کا ۔۔۔” بریڈلی نے اس کا ہاتھ آرام سے ہٹایا اور شہریار کی سمت بڑھا اینا بھی تیزی سے پیچھے آئی اور وہ دونوں اپنی اپنی جگہ شہریار کی آواز سن کر منجمد ہوگئے
“اوہ سیریسلی آپ مجھ پر میری اپنی ہی بیوی کو اغوا کرنے کا کیس کرینگی ؟؟ “
” سویرا اس کی وائف ہے ؟؟ “بریڈلی نے حیرت سے اینا سے پوچھا کو خود بھی یہ سن کر شاک میں تھی دیکھتے ہی دیکھتے شہریار سویرا کو کیفے سے باہر لیکر جاچکا تھا
____________
ایک ایک پل جیسے ایک ایک صدی کی طرح سے گزر رہا تھا شہریار لب بھینچے سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا اور وہ کمزور نازک سی لڑکی نظریں جھکائے ڈری سہمی ہوئی سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی شہریار کے غصہ سے پناہ مانگنے کی دعا میں مصروف تھی دل کی دھڑکن تو گویا پورے وجود میں دھڑکتی ہوئی سنائی دے رہی تھی ۔۔
” اللہ جی پلیز میری مدد فرما !!! یہ مجھ پر گھر جا کر کوئی پابندی نہیں لگائیں !! یا اللہ ان کے دل میں رحم ڈال کہیں یہ مجھے واپس نہیں بھیج دیں ۔۔۔”
شہریار گاڑی انتہائی تیز رفتاری سے چلا رہا تھا اور اس کے حواس بھی جیسے گاڑی کی رفتار کے ساتھ جواب دیتے چلے جا رہے تھے اس وقت سر پر بس شہریار کا خوف سوار تھا
تھوڑی دیر بعد گاڑی گھر کے باہر پارکنگ میں رک چکی تھی
” اترو ۔۔۔۔” وہ سرد لہجے میں بولا
اپنی سوچوں میں گم سویرا نے اس کی آواز پر چونک کر سر اٹھایا
شہریار نے کوفت سے اس کی سرخ آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کو دیکھا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کو بازو سے پکڑ کر باہر نکالا اور اپنے ساتھ لئیے آگے بڑھا وہ بے جان قدموں سے اس کے ساتھ اپنے آپ کو گھسیٹ رہی تھی
گھر کے اندر لیونگ روم میں آکر اس نے سویرا کا بازو چھوڑا اور خود کچن میں جا کر فرج سے پانی کی بوتل نکال کر منھ سے لگا لی ۔یہ ایک طرح سے اس کا اپنا اشتعال کنٹرول کرنے کی کوشش تھی ۔تھوڑی دیر کچن میں کھڑے رہنے کے بعد وہ چلتا ہوا صوفے پر سر جھکائے بیٹھی ہوئی سویرا کے پاس آیا ۔۔۔
” کس کی اجازت سے تم نے گھر سے باہر قدم نکالا ؟؟ بولو کس کی اجازت سے وہ گھٹیا ویٹرس کی جاب جوائن کی ؟؟ ” وہ سرد لہجے میں اس پر نظریں جمائے پوچھ رہا تھا
” سویرا مجھے جواب چاہئیے ؟؟؟ “
” میں ایک روشن خیال آدمی ہوں مانا کے بہت لبرل بھی ہوں لیکن ابھی اتنا بھی آزاد خیال نہیں ہوا ہوں کہ اپنے گھر کی عزت کو غیر مردوں کی آنکھوں کی تسکین بننے کیلئے چھوڑ دوں ۔۔۔” وہ اس کا چہرہ پکڑ کر اونچا کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا
” سویرا مجھے جواب چاہئیے ؟؟ ” اس نے ایک جھٹکے سے اس کا چہرہ اپنی گرفت سے آزاد کیا
” آپ !!آپ نے خود کہا تھا کہ کہ اپنا کیرئیر بناؤ جان چھوڑو ۔۔۔” وہ اپنی سسکیاں دباتے ہوئے بولی
” کیرئیر بنانے کو کہا تھا ویٹرس بننے کو نہیں ۔۔۔سنو لڑکی اس وقت میں تمہارا سر پرست ہوں اور تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں اس کا فیصلہ میں خود کرونگا اب اٹھو اپنے کمرے میں جاؤ اور اپنا حلیہ درست کرو ۔۔۔۔” وہ اس کے ہالف سلیو سے چمکتے دودھیا بازوؤں سے نظریں ہٹاتے ہوئے بولا
” آپ پلیز مجھے کسی ہاسٹل بھجوا دیں مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز ۔۔۔” وہ کھڑی ہو کر سسکتے ہوئے بولی
اس کا نازک سراپا شرٹ اور جینز میں بہت نمایاں ہو رہا تھا ریشمی سلکی بال پونی میں قید کمر پر لہرا رہے تھے وہ جو ہمیشہ سے اس کے سامنے خود کو سلیقے سے دوپٹے میں لپیٹے سامنے آئی تھی آج اپنے وجود کی دلکشی سے اسے مسحور کر رہی تھی اس نے بڑی مشکل سے اس کے دلکش سراپے سے نظریں چرائیں
” تم کہیں نہیں جا رہی ہو ، میں تمہیں من مانی کرنے کے لئیے آزاد نہیں چھوڑ سکتا ۔۔” وہ اپنا سخت لہجہ بنا کر بولا
سویرا نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہٹی آنکھوں سے آنسو تواتر بہے چلے جا رہے تھے شہریار نے تیزی سے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لی سویرا کے آنسو اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نے نرمی سے سویرا کو اپنی گرفت میں لیا
” مجھے مت ماریں پلیز ابھی چھوڑ دیں میں وعدہ اب کبھی بھی جاب نہیں کرونگی ۔۔” وہ خوف سے آنکھیں میچ گئی
شہریار نے بغور اس کے چہرے پر چھائے ہوئے خوف کو دیکھا اسے ایک لمحے کو افسوس سا ہوا وہ دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکا
” اہم ممم ۔۔۔
جاری ہے
