Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40

Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40

وہ سویرا کو اپنے ساتھ شاپنگ پر لے آیا تھا اپنی پسند سے اس نے اسے شاپنگ کروائی وہ نہیں چاہتا تھا کہ سویرا کو کسی بھی چیز کی کمی محسوس ہو ۔۔۔
” سنئیے ۔۔۔۔” سویرا ایک شاپ سے نکل کر اسے پکار اٹھی
” سنائیے !! کیا سنانا ہے ۔۔۔۔” شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا
” میں تھک گئی ہوں اب بس کریں نا !! ادھر گھر میں بھی سب پریشان ہو رہے ہونگے ۔۔۔” وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی
” ہمم اچھا چلو ۔۔۔۔” وہ اسے لیکر گاڑی میں آیا اب اس کا رخ شہر کے ایک مشہور فائیو اسٹار ہوٹل کی طرف تھا
” آؤ !! ” وہ گاڑی کی چابی پارگنگ بوائے کو پکڑا کر سویرا کا دروازہ کھولتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر بولا
سویرا نے بنا جھجکے اپنا ہاتھ اس کی چوڑی شفاف پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھا اور اس کے ساتھ اس پرشکوہ ہوٹل کے اندر چلی آئی ۔کاونٹر سے چابی لیکر وہ سویرا کو وی آئی پی سوئیٹ روم میں لے آیا ۔
” ہم ادھر کیوں آئے ہیں ؟؟ گھر میں سب انتظار کررہے ہونگے پھپھو برا مان جائینگی ۔۔۔” اسے فرزانہ پھپھو کی ناراضگی کا خوف گھیرے ہوئے تھا
” سوئیٹ ہارٹ ۔۔۔۔” وہ اطمینان سے فون پر کھانا آرڈر کر کے اس کی طرف متوجہ ہوا
” تم سے کہا تھا نہ گھر کو چھوڑو اور اپنے گھر والے کی فکر کرو !! آج رات ہم ادھر ہی رکیں گے گھر کل شام میں واپس جائیں گے ۔۔۔۔” وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا
” قسم سے میرے کوٹ میں پوری جوکر لگ رہی ہو ۔۔۔” وہ اس کا تنقیدی نگاہوں سے جائزہ لیتے ہوئے بولا
” آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ؟؟ پتہ ہے کلاس میں بھی سب ہنس رہے تھے ۔۔۔” وہ روہانسی ہوئی
” تو جاناں !! تم کوٹ اتار دیتی ۔۔۔۔” وہ سرسری انداز میں اس کے اسکارف کو اتارتے ہوئے بولا
” ایسے کیسے اتار دیتی ؟؟ آپ نے پہنایا تھا تو آپ کی اجازت کے بنا میں کیسے ۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکی
” لڑکی !! اتنی فرمانبرداری بھی مت دکھاؤ کہ میں دیوانہ ہو جاؤں ۔۔۔” شہریار نے اسے اپنی گرفت میں لیا
کمرے کے ماحول میں فسوں سا چھایا ہوا تھا جب دروازہ ناک ہوا ۔
“روم سروس ۔۔۔” باہر سے آواز آئی
” تم جاؤ جا کر فریش ہو لو ، میں ڈور کھولتا ہوں ۔۔۔” وہ نرمی سے سویرا کو اپنے سے الگ کر کے دروازے کی جانب بڑھا
کھانا سرو کر کے ویٹر جا چکے تھے ابھی وہ سویرا کے ساتھ بیٹھا ہی تھا کہ اس کا فون بج اٹھا
” یس ۔۔۔”
” اوکے ویٹ ٹین منٹس !! میں آرہا ہوں ۔۔۔”
اینا ، پرائیویٹ ڈیٹیکٹیو اور پولیس آفیسر نیچے لابی میں آچکے تھے وہ فون رکھ کر سویرا کو کھانے کا اشارہ کر کے خود بھی اپنی پلیٹ میں فرائی فش ڈال کر مصروف ہو گیا ۔
” مسز تم ریسٹ کرو میں ایک گھنٹے میں ایک میٹنگ بھگتا کر آتا ہوں ۔۔۔” کھانے سے فارغ ہوکر وہ اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا
***************
نیچے پرائیویٹ کیبن میں اینا نے میٹنگ ارینج کی تھی شہریار کے لابی میں آتے ہی وہ سب کو لیکر کیبن میں آگئی تھی تعارف کے بعد پولیس آفیسر نے بات شروع کی
” مسٹر شہریار اب تک کی تحقیقات اور لائےڈیکٹیٹر ٹیسٹ سے یہ کنفرم ہے کہ ڈاکٹر اینڈریو مسز شہریار کے معاملے میں جھوٹ نہیں بول رہا ہے ان دونوں کا کوئی نا کوئی کنکشن ضرور ہے ۔۔
” آفیسر پلیز میری وائف کو اس سے لنک مت کریں اور یہ پتہ کریں کہ وہ اتنے وثوق سے میری مسز کا نام کیوں لے رہا ہے ۔۔۔” شہریار سنجیدگی سے بولا
” مسٹر شہریار کیا ہم آپ کی وائف سے اس بارے میں کچھ انویسٹیگیشن کرسکتے ہیں ۔۔۔” ڈینیئل پرائیویٹ ڈیٹیکٹیو نے پوچھا
” نہیں !! میں اپنی وائف پر مکمل ٹرسٹ کرتا ہوں اور اسے اس سب میں شامل نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔” وہ دو ٹوک لہجے میں بولا
” ویل سر !! کیا آپ ہمیں اپنی وائف کا سیل فون دے سکتے ہیں ہم اس کا ریکارڈ نکلوا لیتے ہیں وہی سے یہ معمہ حل ہوسکتا ہے ۔۔۔” آفیسر نے کہا
” اس کا فون تو فارم ہاؤس میں کہیں گر گیا تھا اور ابھی جو فون ہے وہ بالکل نیا ہے اس سے آپ کو کوئی ہیلپ نہیں ملے گی ۔۔۔” شہریار نے جواب دیا
” باس !!میرے پاس پرانے فون کا سم اور سارا پرچیزنگ ریکارڈ ہے اگر اس سے کام چل جائے ۔۔۔” اینا نے بیچ میں دخل دیا
” آپ کے پاس یہ ڈیٹیل کہاں سے آئیں ؟؟ ” آفیسر نے اینا کو مشکوک نظروں سے دیکھا
” وہ فون سر کے کہنے پر میں نے ہی خریدا تھا اس کی ساری رجسٹریشن میں نے کروائی تھی ۔۔۔” اینا نے جواب دیا
” ٹھیک ہے مس اینا آپ فون کی ساری ڈیٹیل پرچیزنگ ڈاکومنٹ سب مجھے دے دیں میں سارا ریکارڈ نکلواتا ہوں ۔۔۔۔” پرائیویٹ ڈیٹیکٹیو نے بات سمیٹی
“آپ میرے ساتھ ابھی آفس چلیں میں سارا ریکارڈ آپ کو دیتی ہوں ۔۔۔” اینا نے آفر کی
” سر آپ کو ہم بس دو دن میں ساری تفصیل بتا دینگے ۔۔۔” آفیسر بھی ہاتھ ملاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
******************
ایک بھرپور دن گزار کر وہ سویرا کو لیکر گھر پہنچا تو لاؤنچ میں محفل جمی ہوئی تھی ۔۔۔
” اسلام علیکم ۔۔۔۔۔” سویرا نے سب کو سلام کیا
” بھی یہ اچھا رواج ہے مہمانوں کو گھر بلا کر میزبان رات رات بھر غائب ہو جاتے ہیں ۔۔۔” فرزانہ بیگم نے سویرا کو گھورتے ہوئے کہا
” آپا آپ کو بتایا تو تھا ایک ارجنٹ میٹنگ آ گئی تھی وہ مجھ سے پوچھ کر شہر سے باہر گیا تھا ۔۔۔” سلیم صاحب نے سویرا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں ٹوکا اور سویرا اندر جانے کا اشارہ کیا
” ویسے پھپھو ایک بات ہے جب سے یہ لڑکی میری زندگی میں شامل ہوئی ہے میرا کوئی بھی کام رکتا نہیں ہے اس کا ساتھ میرے لئیے بہت لکی ثابت ہوا ہے ۔۔۔۔” شہریار نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا
” چھوڑا میاں اس لکی شکی کو مجھے تو یہ بتاؤ کہ اس ننگی پنگی بےحیا لڑکی سے تمہارا کیا رشتہ ہے ؟؟ ” فرزانہ نے اسے کڑے ہاتھوں لیا
” یہ آپ کس کی بات کررہی ہیں ؟؟ ” شہریار سنجیدہ ہوا
” آپا آپ مجھے بات کرنے دیجئیے ۔۔۔” سلیم صاحب نے شائستگی سے انہیں ٹوکا
” شیرو بیٹا ۔۔۔۔۔۔” انہوں نے اسے عروہ کے آنے کی ساری تفصیل بتانی شروع کی
” تم اتنے عرصے گھر چھوڑ کر سب سے الگ رہے ہو اگر تم نے اس بچی سے کوئی کمٹمنٹ یا وعدہ کیا تھا تو بہتر ہے اسے پورا کرو ۔۔۔۔” انہوں نے سنجیدگی سے بات ختم کرتے ہوئے کہا
” بابا سائیں !! آپ کو مجھ پر ، اپنے خون پر بھروسہ نہیں ہے ؟؟ ” شہریار نے سوال کیا
” بھروسہ ہے بیٹا پر اب میں سوچ رہا ہوں کہیں تم عروہ کی وجہ سے تو سویرا کو اپنانے سے انکار نہیں کررہے تھے ؟؟ ” انہوں نے پوچھا
” بابا سائیں !! وہ جھوٹ بول رہی ہے اگر مجھے عروہ کو اپنانا ہوتا تو اس کے لئیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی ۔سویرا آپ سب کا فیصلہ تھی جسے میرے سر پر تھوپا گیا تھا لیکن اگر میں چاہتا تو ۔۔۔۔۔” بولتے بولتے اس کی نظر دروازے پر چائے کی ٹرے لئیے کھڑی سویرا پر پڑی جو سپید پڑتے چہرے کے ساتھ اس کی باتیں سن رہی تھی اس سے نظر ملتے ہی وہ تیزی سے اندر آئی اور ٹرے درمیان میں رکھ کر بنا رکے واپس چلی گئی ۔
” شیرو !! مجھے تو تم یہ بتاؤ اگر تم اتنے ہی سچے ہو تو پھر اس کو اپنے گھر کی چابی کیوں دی ہوئی تھی ؟؟ بولو جواب دو ؟؟ ارے میاں میری ایک بات کان کھول کر سن لو میں سویرا منحوس کے اوپر سوتن نہیں آنے دونگی لو بھلا بیوی بغل میں اور وہ چوہیا سے الگ دل بہلایا جارہا ہے ۔۔۔” فرزانہ بیگم نے اسے ٹھیک ٹھاک لتاڑا
” آپ سب بیفکر رہیں عروہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی ہوگا یقین کر سکتے ہیں تو کر لیں ۔۔۔” وہ اکھٹر انداز میں بولتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
***************
سویرا سب کو سلام کرکے خاموشی سے کچن میں آگئی تھی اس کا ارادہ چائے بنانے کا تھا سب کے لئیے چائے بنا کر اس نے ٹرے سیٹ کی اور اندر لاونج کی چوکھٹ پر پہنچی ہی تھی کہ شہریار کی سرد آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔
” سویرا آپ سب کا فیصلہ تھی جسے میرے سر پر تھوپا گیا تھا لیکن اگر میں چاہتا تو ۔۔۔۔۔”
اتنی بےوقعتی اتنے بے عزتی وہ لرز کر رہ گئی اس نے نظر اٹھا کر اس سگندل کو دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا وہ تیزی سے آگے بڑھی اور چائے کی ٹرے رکھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں واپس آکر ٹیرس میں آکر سر جھکا کر بیٹھ گئی اس کا دل بھر بھر آنے لگا تھا ۔
” سویرا ۔۔۔”
” سویرا !!! کدھر گم ہو میں کتنی دیر سے تمہیں پکار رہا ہوں مجال ہے جو جواب ملا ہو ۔۔۔۔” شہریار کی بھنائی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
” آ آپ ۔۔۔” وہ اسے دیکھ کر کپڑے جھاڑتی ہوئی کھڑی ہو گئی
” کیا بات ہے ؟؟ اتنے غور و فکر سے کیا سوچ رہی تھی ؟؟ ” وہ پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ تھا
” کچھ نہیں ۔۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بولتی ہوئی اندر کمرے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ شہریار نے اس کو کلائی سے پکڑ کر روکا
” اتنی بے خبر کیوں بیٹھی تھی دھیان کہاں تھا تمہارا ۔۔۔” وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
” میرا ہاتھ چھوڑیں پلیز ۔۔۔”اس نے اپنا ہاتھ کھینچا مگر شہریار کی گرفت بہت مضبوط تھی
” سنو لڑکی !! مجھے روٹھی ہوئی ناراض لڑکی کو منانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن مجھے پتہ ہے تم آدھی ادھوری بات سن کر ہرٹ ہوئی ہو ۔۔” اس نے اسی طرح اس کا ہاتھ ایک ہاتھ سے تھامے دوسرا بازو اس کے شانوں پہ پھیلایا اور اسے اپنے حصار میں لے کر کمرے کے اندر لایا اور بیڈ پر بٹھا کر خود بھی اس کے برابر میں آرام سے بیٹھ گیا
” میری طرف دیکھو سویرا ۔۔۔” اس نے سویرا کے جھکے ہوئے چہرے کو انگلی سے اٹھایا
” میں بہت اسٹریٹ فارورڈ آدمی ہوں ، بار بار محبت کا اظہار اور عشق میں جینے مرنے جیسی فضول گفتگو نہیں کرسکتا تم میری بیوی ہو اور رہو گی ۔تم میری زندگی کی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہوں ، ماضی میں جو بھی ہوا وہ گزر چکا ہے اب تم میرا حال ہو اور ہمیں اپنا مستقبل مل کر بنانا ہے ۔اس رشتے میں سب سے اہم آپس میں اعتماد ہوتا ہے میں تم پر بھرپور اعتماد کرتا ہوں اور تم سے بھی یہی امید رکھتا ہوں ۔۔۔۔” اس نے سویرا کی آنکھوں سے جھلکتے آنسوؤں کو بڑی توجہ سے اپنی انگلیوں کی پوروں میں سمیٹا۔۔
” اب بھی ناراض ہو ؟؟ ” اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا
” نہیں ۔۔۔۔” سویرا نے نفی میں سر ہلایا
” گڈ گرل ۔
” کیا آپ !!!” وہ جھجکی
” کیا آپ واقعی عروہ جی سے شادی کرنا چاہتے تھے ؟؟”
” یا وحشت !! لڑکی خدا جب عقل بانٹ رہا اس وقت تم کیا گھاس کھانے گئی ہوئی تھی ۔۔۔ ” شہریار نے اسے گھورا
**************
صبح سویرے سویرا حسب معمول یونیورسٹی جانے سے پہلے سب کیلئے تیزی سے ناشتہ بنا رہی تھی روز یونیورسٹی جانے سے پہلے ناشتہ وہ خود بناتی تھی بعد میں سوزن گھر کا چارج سنبھال لیتی تھی شام میں شہریار اسے پک کرتے ہوئے گھر آتا تو سب مل کر چائے پینے کے بعد کبھی واک تو کبھی کوئی پارک وغیرہ کے لئیے نکل جاتے تھے دن گزر رہے تھے فرزانہ پھپھو کو سویرا کا یونیورسٹی جانا ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا لیکن شہریار کے آگے وہ بھی مجبور ہو گئیں تھیں ۔۔
” گڈ مارننگ سوئیٹ ہارٹ !!” شہریار نے جاگنگ سے واپس آکر حسب عادت اپنا جوس اور اخبار اٹھایا
” سنئیے !! “سویرا نے اسے مخاطب کیا
” جی مسز فرمائیے !! ” وہ اخبار پلٹتے ہوئے بولا
“آپ اپنا فون گھر بھول گئے تھے اس پر بار بار اینا کی کال آرہی تھی آپ پلیز اسے کال بیک کر لیں ۔۔۔” وہ اس کا فون اٹھا کر پاس لائی
” اتنی صبح اینا نے کال کیوں کی ؟؟ ” وہ فون پر کال لاگ میں صبح کے ساڑھے پانچ کا وقت دیکھتے ہوئے بڑبڑایا اور اس کا نمبر ڈائل کیا
” گڈ مارننگ باس ۔۔۔۔” اینا کی سنجیدگی سے بھرپور آواز گونجی
” گڈ مارننگ !! اینا تم نے اتنی صبح کال کی سب خیریت تو ہے ؟؟ “شہریار نے سوال کیا
” باس !! ڈیٹیکٹیو نے کیس سولو کر لیا ہے وہ آپ سے صبح سات بجے ملنا چاہتا ہے تاکہ جلد از جلد اریسٹ وارنٹ اشیو ہوسکیں ۔۔۔۔” وہ ابھی بھی سنجیدہ تھی
” اوکے اینا میں آفس پہنچ رہا ہوں تو اسے بلا لو ۔۔۔” شہریار نے فون رکھا
” سویرا !! ” اس نے کچن میں مصروف سویرا کو پکارا
” جی !! ” وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اس کے پاس آئی
” میری ایک ارجنٹ میٹنگ آگئی ہے مجھے ابھی نکلنا ہوگا میں ڈرائیور بھیج دونگا وہ تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کردے گا ۔۔۔”اس نے ہدایات دیں
” جی ٹھیک ہے ۔۔۔” وہ تابعداری سے سر ہلاتے ہوئے واپس پلٹ گئی ۔
**************
“یہ چیک کریں مسٹر شہریار ۔۔۔۔” ڈیٹیکٹیو نے ایک فائل شہریار کی طرف بڑھائی
” کیا آپ کے علم میں مسز شہریار کا فیس بک اکاؤنٹ تھا ؟؟ ” پولیس آفیسر نے سوال کیا
“نہیں !! وہ سوشل میڈیا پر آنے والی لڑکی نہیں ہے ۔۔۔۔” شہریار فائل کو بغور دیکھتے ہوئے بولا
” آفیسر اگر آپ غور کریں تو جس تاریخ کو مسز شہریار کا فون خریدا گیا ہے اسی تاریخ کو یہ فیس بک اکاؤنٹ دوپہر کے وقت اسی فون نمبر پر بنایا گیا تھا ۔۔۔۔” ڈیٹیکٹیو نے سنجیدگی سے کہا
” اور اس اکاؤنٹ سے رات رات بھر ڈاکٹر اینڈریو سے جذبات بھڑکانے والی باتیں ہوئی ہیں جو فائل میں موجود ہیں ۔۔۔۔” آفیسر نے کہا
” آفیسر !! میں نے یہ فون پرچیزنگ کے ایک ہفتے بعد اپنی وائف کو دیا تھا اور اگر پہلے بھی دیا ہوتا تب بھی وہ ایسا ہرگز نہیں کرسکتی تھی جو لڑکی اپنے ہسبنڈ کو آئی لو یو بولنے سے شرماتی ہو وہ کسی سے بھی اتنی گھٹیا باتیں کیسے کرسکتی ہے ؟؟؟” شہریار بلا کے سرد لہجے میں بولا
” ٹیک اٹ ایزی !! مسٹر شہریار ایک اہم ٹرن ابھی باقی ہے ۔۔۔۔” آفیسر نے کہا
“مسٹر شہریار اس فیس بک اکاؤنٹ کی لاگ ان انفارمیشن ایک دوسری ڈیوائس کو شو کرتی ہے یعنی اس اکاؤنٹ کو کسی اور فون نمبر سے بڑی مہارت سے استمال کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔۔” ڈیٹیکٹیو نے ایک پرچہ شہریار کی طرف بڑھایا
” کیا آپ اس نمبر کو پہچانتے ہیں ؟؟ ” اس نے سوال کیا
شہریار نے اس نمبر کو بغور دیکھا اس کے ماتھے کی رگیں تن گئیں تھیں آنکھوں میں سرد مہری اتر آئی تھی
” مسٹر شہریار کیا یہ آپ کی ایکس گرل فرینڈ مس عروہ کا فون نمبر ہے ؟؟؟ آپ کنفرم کریں ۔۔۔۔” اب کے آفیسر نے کہا
“وہ میری گرل فرینڈ نہیں تھی بس دوست تھی اور یہ نمبر اسی کا ہے ۔۔۔۔” شہریار نے پرچہ واپس ڈیٹیکٹیو کی طرف بڑھایا
” مسٹر شہریار !! سوشل میڈیا پر فیک اکاؤنٹ بنانا غلط نام رکھنا ایک سیریس کرائم مانا جاتا ہے اور اب تو گورنمنٹ اور باقاعدہ ایسے ادارے موجود ہیں جو دنیا بھر کے اکاؤنٹ کی تفصیلات رکھتے ہیں اور یہ کوئی غیر اہم واقعہ نہیں یہ ایک سیریس سائبر کرائم ہے کسی دوسرے کی آئیڈنٹٹی چرانا اس جرم کی سزا پانچ سال قید بامشقت ہے ہمیں بس آپ سے نمبر کنفرم کروانا تھا ابھی صبح کے نو بجتے ہی مس عروہ کے اریسٹ وارنٹ جاری کردئیے جائیں گے۔۔۔” آفیسر کھٹرا ہوتے ہوئے بولا
شہریار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ان دونوں سے مصافحہ کیا اور ان کے جاتے ہی وہ اینا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
” اینا مجھے جس دن یہ فون میرے آفس میں لایا گیا تھا اس دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج ابھی چاہئیے ۔۔۔”
” اوکے باس ۔۔۔۔” اینا سر ہلاتے ہوئے آفس کے سیکیورٹی روم کی جانب روانہ ہو گئی
دس منٹ بعد اینا سیکیورٹی کیمرے سے سی ڈی برنڈ کر کے لے آئی تھی اور اب شہریار کے لیب ٹاپ پر سی ڈی چل رہی تھی ۔۔۔
کمرہ بالکل خالی تھا کچھ دیر بعد عروہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور وزیٹرز کے صوفے پر بیٹھ کر میگزین دیکھنے لگی کچھ ہی منٹ بعد اینا اندر داخل ہوئی اور عروہ سے کچھ بات کرکے باہر چلی گئی ۔اینا کے باہر جاتے ہی عروہ نے میگزین بند کرکے میز پر رکھا اور چلتی بھی شہریار کی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئی کچھ چیزوں کو ادھر ادھر کرنے کے بعد اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے میز کے کونے پر رکھا نئے سیل فون کا پیک اٹھایا اور اسے کھول کر کچھ کام کرنے لگی تھوڑی دیر بعد اس نے وہ فون واپس پیک کر کے رکھا ہی تھا کہ شہریار اندر داخل ہوتا ہوا نظر آیا۔۔۔
” باس !! اس سب سے صاف ظاہر ہے کہ یہ ساری حرکت عروہ میم نے مس سویرا کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے کی تھیں ۔۔۔۔” اینا نے وڈیو بند ہوتے ہی کہا
اینا کے جاتے ہی شہریار نے جونس کو فون ملا کر ساری تفصیل بیان کی
” جونس !! عروہ کو اس کی کڑی سزا ملنی چاہئیے عورت پر ہاتھ اٹھانا مردانگی نہیں ہے ورنہ میں اسے زندہ زمین میں اس ذلیل عورت کو زندہ زمین میں گاڑ دیتا ۔۔۔” شہریار غرایا
” شیری یار !! جذباتی مت بنو یار میں اس عروہ کو ہینڈل کر لونگا ۔۔۔” جونس نے اس کے غصہ کو نوٹ کیا
” جذبات احساسات سے بنتے ہیں اس وقت میری ذہنی کنڈیشن اس قدر مشتعل ہو رہی ہے کہ میرا دل چاہ رہا ہے ساری دنیا کو آگ لگا دوں ، میری وجہ سے صرف میری وجہ سے سویرا کو اس گھٹیا آدمی کو جھیلنا پڑا اور عروہ اس نے جیسی گھٹیا نیچ باتیں سویرا کے نام سے کی ہیں ذرا سوچوں وہ تو اس سب میں میری سویرا کو تصور کرتا ہوگا ۔۔۔” شہریار کی سرخ آنکھوں میں جیسے آگ دہک رہی تھی
” شیری میں ابھی عروہ کی طرف جا رہا ہوں پولیس کے پہچنے سے پہلے ہی میں ادھر ہونگا اور بے فکر رہو اسے اس منافقت کی سخت سے سخت سزا ملے گی ۔۔۔۔” جونس نے اسے تسلی دی ۔
” نہیں تم وکیل کے پاس جاؤ اور پولیس کے ساتھ ادھر پہنچو میں تمہیں وہی ملونگا ۔۔۔”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *