Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid NovelR50757 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10
No Download Link
475.3K
40
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode01 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode02 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode03 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode04 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode05 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode06 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode07 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode08 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode09 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10 (Watching)Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode11 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode12 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode13 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode14 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode15 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode16 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode17 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode18 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode19 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode20 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode21 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode22 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode23 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode24 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode25 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode26 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode27 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode29 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode31 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode32 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode33 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode34 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode35 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode36 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode37 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode38 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode39 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode40 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode41 Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Last Episode
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10
Wo Humsafar Tha Magar by Seema Shahid Episode10
وہ بیڈ روم فرج سے ٹھنڈے یخ پانی کی بوتل نکال کر بیڈ پر محو استراحت سویرا کے پاس آیا بوتل کا ڈھکن کھول کر اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔
وہ نیند میں کسمسائی نیلگوں روشنی میں اس کا خوبصورت چہرہ اپنی پوری دلکشی کے ساتھ اس کے سامنے تھا اس رشتے سے ہزاروں اختلافات کے باوجود وہ اس کے وجود کی دلکشی اور خوبصورتی سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا ، سیاہ سلکی لمبے چمکیلے بال تکیہ پر پھیلے ہوئے تھے اس کا بے ساختہ دل چاہ کہ انہیں چھو کر دیکھے وہ اس کی سمت جھکا ابھی اس نے ان مشکبو زلفوں کو چھونے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کا فون بجنے لگا ۔۔۔
وہ جیسے بیدار سا ہوا ۔۔۔اور تیزی سے دور ہٹتے ہوئے بوتل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر فون چیک کرنے لگا ۔۔۔
“عروہ کالنگ ” جگمگا رہا تھا
” ہیلو !!کدھر ہو شیری جب سے گئے ہو لگتا ہے اپنی فیملی میں الجھ کر مجھے بھول گئے ہو ۔۔۔” عروہ کی روٹھی ہوئی آواز گونجی
” عروہ میں یہاں تفریح کرنے نہیں آیا ہوں اور فون تم نے خود اگنور کیا تھا ۔۔۔” وہ روکھے لہجے میں بولا
” ہاں تو جب تم مجھے اگنور کروگے تو پھر مجھے بھی تو غصہ آئیگا ویسے بھی ایک تو مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہو اوپر سے پہنچ کر کال بھی نہیں کی ۔۔۔”
“بولو ابھی فون کرنے کی زحمت کیسے کر لی تم نے ؟؟ غصہ اتر گیا کیا ؟؟ ” وہ صوفہ پر بمشکل لیٹتے ہوئے بولا
” فون نا کرتی تو کیا کرتی تمہارے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتی ۔۔۔”وہ دل گرفتگی سے بولی
” دیکھو عروہ !! یاد رکھنا میں یہ نخرے اٹھانے والا آدمی نہیں ہوں مجھ سے سیدھی سادی بات کیا کرو ۔۔۔”
” اچھا چھوڑو سب !! یہ بتاؤ اپنے پیرنٹس سے ہماری شادی کی بات کی ؟؟ “
” عروہ ہنی !! میں یہاں بابا سائیں سے ملنے ان کی عیادت کرنے آیا ہوں شادی کی بات کرنے نہیں ۔۔”
” شیری !!! آئی ایم مسنگ ہو آ لاٹ ۔۔۔۔” وہ اداسی سے بولی
” ڈونٹ وری ہنی !! میں کچھ دنوں میں واپس آجاؤ گا ۔۔۔”
” بہت ہی روڈ ہو تم ذرا بھی رومینٹک نہیں ہو ۔۔!! “
” کیوں اب کیا کیا میں نے ۔۔۔؟ “
” تمہیں کہنا چاہیے تھا کہ آئی مس یو ٹو ۔۔۔۔لو یو بھی کہہ سکتے تھے ۔۔۔”
کافی دیر عروہ سے باتیں کرنے کے بعد وہ بڑی مشکل سے صوفے پر ہی آڑھا ترچھا ہو کر لیٹ گیا
________________________________
رات بھر وہ صوفے پر بے چین رہا تھا پتہ نہیں کب آنکھ لگی تھی سورج کی روشنی چھن چھن کر کمرے میں آرہی تھی وہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھا گھڑی میں وقت دیکھا تو دن کے بارہ بج چکے تھے وہ تیزی سے کھڑا ہوا سامنے ہی بیڈ پر سویرا ابھی تک سو رہی تھی وہ ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالتے ہوئے واش روم چلا گیا ۔۔
وہ سو کر اٹھی تو اس کا سر گھوم رہا تھا کافی دیر تک وہ خالی دماغ لئیے بیٹھی رہی تبھی واش روم کا دروازہ کھلا اور شہریار تولیہ سے منھ پونچھتا ہوا اندر داخل ہوا اس نے ایک کڑی نگاہ اپنے بیڈ پر بیٹھی ہوئی سویرا پر ڈالی جو بھی تھا لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت تھی کہ انہیں کچھ عرصے تک یہ بیڈروم شئیر کرنا تھا اس لئیے بہتر تھا کہ وہ اپنی حدود طے کر لیتے
” سنو لڑکی !! ” وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بیڈ کے پاس آکر رکا اور چونک گیا
سویرا کے گلابی چہرے پر انگلیوں کے نشانات تھے چمکتی پیشانی پر نیل کا نشان تھا دن کی روشنی میں اس کی چوٹیں واضح نظر آرہی تھیں
کل جب اس نے اسے دلہن بنے دیکھا تھا اس وقت ایسے کوئی نشانات اس کے چہرے پر نہیں تھے
” یہ تمہیں کیا ہوا ہے ؟؟ ” وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا
سویرا نے گڑبڑا کر دوپٹہ کھینچ کر سر پر ڈالا اور ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی
” میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں …” اس نے جاتی ہوئی سویرا کو کلائی سے پکڑ کر روکا
تکلیف کی شدت سے سویرا کے حلق سے سسکی سی ابھری وہ حیرت سے اس کی آنکھوں میں امنڈتی ہوئی نمی کو دیکھ رہا تھا
” کچھ نہیں !! ہاتھ چھوڑیں پلیز مجھے جانا ہے ۔۔۔” وہ بھیگی ہوئی آواز میں بولی
اس کے انداز پر شہریار کا دماغ گھوم گیا
” لگتا ہے تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی ہے لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو چاہے غلطی سے ہی سہی پر جب تک تم میرے ساتھ ہو تمہیں تمیز دار بننا پڑیگا اور میرے ہر سوال کا جواب مجھے ملنا چاہئے انڈر اسٹینڈ؟؟ ” وہ غرایا
” وہ وہ کل پھپھو ۔۔۔۔۔” سویرا کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا جواب دے
تبھی دروازہ ناک ہوا شہریار نے سویرا کی کلائی اپنی مضبوط گرفت سے آزاد کی اور اسے گھورتا ہوا دروازے کے سمت بڑھا
“آسلام علیکم رخسار آپی !! آپ تو اسپتال گئی تھیں نا ؟؟ ” وہ دروازے پر رخسار کو دیکھ کر حیران رہ گیا
” ہاں میرے بھائی فجر پڑھ کر گئی تھی اللہ کا شکر ہے تمہارے بھائی بہت بہتر ہیں بس ابھی واپس آئی ہوں چلو نیچے چلو شاہ بی بی بلا رہی ہیں ۔۔۔اور سویرا کی طبیعت اب کیسی ہے ۔۔” وہ اطمینان سی بات کرتی ہوئی اندر داخل ہوئیں
سویرا نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا اور وہ بھی جواب دیتے ہوئے پاس آئیں اور اس کے ماتھے کو چھو کر دیکھا پھر آستین پلٹ کر اس کی کلائی کا زخم چیک کیا ۔۔
شہریار حیرت سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا جب وہ سویرا کا ہاتھ تھامے اس کے پاس آئیں۔۔
” چلو ساتھ ہی چلتے ہیں شاہ بی بی نے تم دونوں کے لئے اسپیشل ناشتہ تیار کروایا ہے ویسے اب وقت تو لنچ کا ہے لیکن نئے دولہا دلہن عموماً اسی ٹائم ناشتہ کرتے ہیں ۔۔۔” وہ شرارت سے چھیڑتے ہوئے بولیں
” آپی آپ ایک منٹ رکیں !! سنو لڑکی تم نیچے چلو ہم ابھی آرہے ہیں ۔۔۔” وہ رخسار کو روکتے ہوئے سویرا کو آگے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا
” کیا بات ہے شاہو مجھے کیوں روکا ؟؟ وہ ایک دن کی دلہن اکیلی جاتی اچھی لگے گی کیا ؟؟ ابھی بھی حویلی میں مہمان ٹہرے ہوئے ہیں ۔۔سب کیا سوچیں گے ؟؟ ” رخسار نے ٹوکا
” یا وحشت آپی !! تھوڑا بریک لگائیں مجھے بتائیں سویرا کو کیا ہوا ہے ۔۔۔” اس نے ٹوکتے ہوئے پوچا
” سویرا تم رکو !! ” رخسار نے جاتی ہوئی سویرا کو روکا اور خود وارڈ روب کی جانب بڑھ کر اس کے لئیے ہلکے سے کام کا فیروزی سوٹ نکالا
” ایسے اجاڑ حلیہ میں باہر جاؤ گی ؟ چلو جلدی سے فریش ہو لو اور یہ لباس بدلو پھر ساتھ نیچے چلیں گئے ۔۔”
سویرا بیدلی سے لباس تھام کر واش روم چلی گئی تو رخسار نے اپنا رخ شہریار کی جانب کیا
” ہاں تو تم کیا کہہ رہے تھے ؟؟ “
” سویرا کو کیا ہوا ہے ؟ اس کے چہرے پر یہ نشانات کیسے ہیں ؟ “
” کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟ وہ جئیے یا مرے تمہیں کیا ؟ تم بھی تو اسے چھوڑ کر دوسری شادی پلان کئیے بیٹھے ہو “
” آپی میں !! میں بھی انسانیت رکھتا ہوں ،ضروری نہیں ہے کہ انسان کی ساری ہمدردی صرف اپنی بیوی کے ساتھ ہی ہوں ، اس کے ساتھ میرا کزن کا رشتہ بھی ہے میں اسی رشتے کے حق سے پوچھ رہا ہوں ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
رخسار اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پھپھو کی سویرا سے بلاجواز دشمنی اور کل کی مار پیٹ کا بتانے لگی
___________________________________
سفر مِیں دھوپ تو ہوگی، جو چَل سکو تو چَلو
سبھی ہی بھیڑ مِیں تُم بھی نِکل سکو تو چَلو
کِسی کے واسطے رَاہیں کہاں بَدلتی ہیں
تُم اَپنے آپ کو خُود ہی بَدل سکو تو چَلو
یہاں کِسی کو کو ِئی رَاستہ نہیں دِیتا
مُجھے گِرا کے اگر تُم سَنبھل سکو تو چَلو
یہی ہے زِندگی، کُچھ خواب، چَند اُمّیدیں
اِنھی کھلونوں سے تُم بھی بہل سکو تو چَلو
سویرا لباس تبدیل کر کے باہر آچکی تھی فیروزی رنگ میں اس کی رنگت مزید نکھر آئی تھی رخسار نے اسے سنگھار میز کے سامنے بٹھایا اور دوپٹہ اتار کر اس کے لمبے سیاہ بال سلجھانے لگیں ۔
“آپی میں جارہا ہوں آپ یہ فضول کام جاری رکھیں ۔۔۔”شہریار کوفت سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا اور تیزی سے باہر نکل گیا
“سویرا ابھی وقت کم ہے بال بعد میں باندھ لینا اور سنو چہرے پر یہ بیس لگا لو ۔۔۔”
سویرا اثبات میں سر ہلاتی ہوئی ان کے مشورے پر عمل کرتی تیار ہو چکی تھی رخسار سویرا کو لیکر کمرے سے باہر نکلی ابھی وہ دونوں سیڑھیوں پر ہی تھیں کہ انہیں زاہدہ تائی پاس آتی نظر آئیں
” اسلام علیکم تائی امی ۔۔۔”سویرا نے سلام کیا
” وعلیکم السلام ۔۔۔ماشااللہ چشم بدور ۔۔” انہوں نے پیار سے اس کی پیشانی چومی
” چلو تم دونوں شاہ بی بی کے کمرے میں چلو شاہو اور تمہارے تایا بھی ادھر ہی ہیں ۔۔۔ ” وہ انہیں ہدایات دیتی ہوئی کچن میں چلی گئیں صبح سے پہلے اسپتال پھر رات کے ٹہرے ہوئے رشتے داروں کے ناشتے پانی کے بعد روانگی نے انہیں گھن چکر بنایا ہوا تھا
_________________________________
شاہ بی بی کے کمرے میں سلیم صاحب ور شہریار دونوں ہی موجود تھے سویرا جھجھکتے ہوئے سب کو سلام کرتی ہوئی شاہ بی بی کے پاس جا کر بیٹھ گئی ۔۔
” کیسی طبعیت ہے اب تمہاری !! رات تو تم نے ہم سب کو ڈرا دیا تھا ۔۔۔” شاہ بی بی اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولیں
اسی وقت دروازہ کھلا اور رخسار اور زاہدہ ملازمہ کے ساتھ چائے جوس اور حلوہ پوری ابلے انڈے گاجر کا حلوہ لیکر اندر داخل ہوئیں اور میز درمیان میں رکھ کر سیٹ کرنے لگیں
اسی وقت شہریار کا فون بجنے لگا اس نے فون چیک کیا تو آفس سے اس کی سیکریٹری کال کررہی تھی وہ فون اٹھا کر شاہ بی بی سے معذرت کرتا ہوا تیزی سے فون کو کانوں سے لگاتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔
“رخسار بیٹی تم ناشتہ سرو کرو شاہو بھی کچھ دیر میں آجائیگا ۔۔۔” شاہ بی بی نے کہا
سلیم صاحب زاہدہ بیگم رخسار شاہ بی بی اور سویرا ناشتہ کررہے تھے برتنوں کے کھنکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی جب ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور فرزانہ اندر داخل ہوئیں ۔۔
” واہ شاہ بی بی واہ ادھر میرا اکرم اسپتال میں پڑا ہے اور یہاں خوشیاں منائی جارہی ہیں دعوتِ اڑائی جا رہی ہے ۔۔” وہ اندر کا ماحول دیکھ کر زہر خند لہجہ میں پھنکاریں
” آئیے پھپھو بیٹھیں ناشتہ کریں ۔۔۔۔” رخسار نے فوراً اٹھ کر ادب سے کہا
” بس بی بی بس !! ادھر تمہارے سر کا سائیں اسپتال میں پڑا ہے اور تم ادھر بیفکری سے خوشیاں منا رہی ہوں یا یوں کہوں کہ آزادی کے خواب دیکھ رہی ہو ؟ “
رخسار کا چہرہ ان کی بات سن کر فق پڑگیا یہ تو وہی جانتی تھی کہ کتنی مشکل سے خود کو سنبھال کر وہ یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی
” فرزانہ آپا !! یہ آپ کس لہجہ میں بات کررہی ہیں ؟؟ ” سلیم صاحب سے رخسار کا اترا ہوا چہرہ برداشت نہیں ہوا
” سلیم میاں !! تم تو بیچ میں مت بولو ۔۔۔” وہ انہیں ٹوک ہی رہی تھیں کہ ان کی نگاہ شاہ بی بی سے چمٹی ہوئی سویرا پر پڑی
” شاہ بی بی !!! مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ میری سگی ماں ہیں ؟؟ اس لڑکی کی ماں کی وجہ سے میری نند کا وٹہ سٹہ والا رشتہ ٹوٹا تھا میرا گھر اجڑتے اجڑتے بچا تھا اتنی بدنامی ہوئی تھی کہ وہ برداشت نہیں کر سکی اور مر گئی چھوڑ گئی ہم سب کو اور آپ اسی ناگن کی بیٹی کو سینے سے لگائے بیٹھی ہیں ؟؟ “
فرزانہ چلتی ہوئی پاس آئی اور ایک جھٹکے سے سویرا کو بازو سے پکڑ کر شاہ بی بی کے پاس سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا
” تیری ماں بھی بے غیرت تھی جو گھر سے بھاگ کر آئی تھی اور تو تو اس سے بھی بڑی بے غیرت ہے اتنی ذلالت اٹھا کر بھی زندہ ہے !! ” انہوں نے اسے ایک زوردار جھٹکا دیا
” فرزانہ !! بچی کو چھوڑ دو !! ” شاہ بی بی اٹھتے ہوئے بولیں
” تیرے ہوتے سوتے مر چکے ہیں تجھے کوئی نہیں پوچھتا شہریار بھی تیری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا ہے پھر بھی تو سمجھ نہیں رہی دیکھ سویرا اس گھر کا شہریار کا پیچھا چھوڑ دے اپنا منحوس وجود لےکر چلی جا جہاں سے ۔۔۔” انہوں نے سویرا کو جھنجھوڑا
” یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟ پھپھو آپ سویرا سے کس طرح بات کررہی ہیں ۔۔۔” فون بند کرکے اندر آتے شہریار نے سارا منظر تاسف سے دیکھا اور تیزی سے اندر آکر سویرا کو ان کی گرفت سے آزاد کروایا
” واہ بیٹا واہ !! ایک ہی رات میں اس منحوس کا جادو تمہارے سر چڑھ گیا ہے ۔۔۔”
” آپی آپ سویرا کو کمرے میں لے جائیں۔۔” وہ سویرا کے خوف سے پھیکے پڑتے چہرے سے نظر چراتے ہوئے بولا
رخسار تیزی سے آگے بڑھیں اور سویرا کو لیکر کمرے سے نکل گئیں
” پھپھو آپ بیٹھیں !! بیٹھ کر آرام سے بات کریں ۔۔۔” وہ انہیں شانوں سے تھام کر بٹھاتے ہوئے رسان سے بولا
” فرزانہ نے بلاوجہ کا بیر پال رکھا ہے اس معصوم سے کل تو اسے مارا پیٹا بھی ہے حالانکہ وہ ہمارے پیارے چھوٹے بیٹے کی نشانی ہے جسے وہ بڑے اطمینان سے تمہارے حوالے کر کے مرا تھا ۔۔۔” شاہ بی بی افسردگی سے بولیں
” پھپھو آپ بتائیں آپ کیا چاہتی ہیں ؟؟ ” شہریار نے پوچھا
” اس منحوس لڑکی کے وجود کو اس حویلی سے نکال باہر کرو ورنہ اب مجھے یہاں سے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا !! اس کی منحوسیت میری بہنوں سی نند پھر میرے بھائی کو کھا چکی ہے اور اب دیکھو میرا اکرم بھی اسپتال میں ہے ۔۔۔” وہ بگڑے ہوئے انداز میں گویا ہوئیں
شہریار نے پرسوچ نظروں سے فرزانہ پھوپھو کے بگڑے ہوئے انداز کو ، سلیم صاحب کے پرتفکر چہرے کو ، اپنی ماں زاہدہ اور شاہ بی بی کی آنکھوں کی نمی کو بغور دیکھا وہ ایک مضبوط مرد تھا منٹوں میں فیصلے کرنے والا
” ٹھیک ہے پھپھو آپ نے جہاں اتنے دن گزار لئیے ہیں بس دو دن اور گزار لیں میں کچھ بندوبست کرتا ہوں ۔۔” وہ سنجیدگی سے بولا
” ہونہہ بندوبست کرتا ہوں !!! بیٹا جی تمہاری زن مریدی کے آثار تو ابھی سے نظر آرہے ہیں ظاہر ہے مرد ہو حسن کا جادو تو سر چڑھ کر بولے گا ہی !! افسوس تو اس بات کا ہے کہ تم بھی ایک عام مرد نکلے حسن کے آگے پگھل جانے والے ۔۔۔” انہوں نے اسے بھڑکایا
” پھپھو !!! ” شہریار کا ضبط جواب دے گیا
” کیا پھپھو ؟؟؟ کل تک رٹ لگائے بیٹھے تھے کہ شادی نہیں کرنی گھر بار چھوڑ گئے اور اب تم خود اس دو ٹکے کی لڑکی کیلئے مجھ سے بحث کررہے ہو ۔۔”
” میں صرف انسانیت کے ناطے اس کا ساتھ دےرہا تھا آپ مجھے بہت غلط سمجھ رہی ہیں اور اب یہ وقت بتائے گا کہ میں کیا ہوں…”
” ٹھیک ہے میاں !! اب تم مجھ سے اور اپنی بہن رخسار جو میری بہو ہے اس وقت بات کرنا جب اس بلا سے پیچھا چھڑا لو اور اگر رخسار نے تم سے بات کی تو میں اسے طلاق دلوا دونگی ویسے بھی اتنے سال ہوگئے اس کی گود بھی خالی ہے ۔۔۔” وہ ترپ کا پتہ پھینک کر کمرے سے باہر نکل گئیں
“شہریار بیٹا !! تم فکر مت کرو تمہاری پھپھو ابھی غصہ میں ہے ۔۔۔” شاہ بی بی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“شاہ بی بی !!کیا ہم سویرا کو ادھر ہی کسی ہاسٹل میں داخل نہیں کروا سکتے ؟؟ وہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے گی اور رخسار آپی کا گھر بھی خراب نہیں ہوگا ۔۔” شہریار نے پوچھا
” نہیں شہریار اکیلی عورت اس دنیا میں کوئی وقعت نہیں رکھتی اور تم کیا سمجھتے ہو یہ لوگ اسے پڑھنے دینگے ؟؟ ذرا سوچو اگر تم بھی اس یتیم کو چھوڑ دوگے تو اس کا کیا ہوگا ؟؟ ” شاہ بی بی نے اسے ٹوکا
وہ کچھ دیر چپ چاپ خاموش کھڑا رہا پھر شاہ بی بی کی طرف مڑا اس کے وجیہہ چہرے پر چھائیاں سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ فیصلہ لے چکا ہے۔۔۔
” بابا سائیں ، شاہ بی بی آپ مجھے سویرا کا پاسپورٹ اور ویزا دیں میں پرسوں شام اسے لیکر یہاں سے نکل جاؤنگا ۔۔۔”
_________________________________
وہ سارے مسئلہ نبٹاتا ہوا اپنی اور سویرا کے ٹکٹ سیٹ بک کروا کر اسپتال کا ایک چکر لگانے کے بعد رات گئے تھکا ہارا حویلی میں داخل ہوا اور سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھا ارادہ آرام کرنے کا تھا اندر داخل ہوا تو سامنے ہی سویرا بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔
” تم !! تم یہاں کیوں بیٹھی ہو ؟؟ اٹھو یہاں سے اور صوفہ پر مرو اور خیال رکھنا آئندہ مجھ سے میرے بیڈ سے حتی کہ میری پرچھائی سے بھی دور رہنا ۔۔۔” وہ اسے تنبیہ کرتا ہوا لائٹ آف کر کے بستر پر ڈھیر ہو گیا
وہ خاموشی سے آنسو ضبط کرتی ہوئی صوفہ پر لیٹ گئی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی دوپہر سے اس نے رخسار آپی کو بھی نہیں دیکھا تھا اوپر سے زاہدہ تائی نے اسے کمرے سے باہر نکلنے سے منع کردیا تھا پتا نہیں اب زندگی کیا رنگ بدلنے والی تھی ۔۔
___________
جاری ہے
