Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)

صبح وقار گھر آیا تھا اپنے کپڑے چینج کرنے اور چودھری شجاعت کے کپڑے لینے جو وقاص کے سرہانے سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ ابھی تک بیہوش تھا بیچ میں اک دفعہ اسے تھوڑا بہت ہوش آیا تھا مگر ڈاکٹر نے اسے پھر نیند کا انجیکشن دے دیا تھا تا کہ وہ کچھ دیر اور پرسکون رہ سکے
اس نے چودھری حشمت کو بھی اس کے ایکسیڈنٹ کا بتایا تھا تو وہ اور چودھرائن بھی ہاسپٹل جانے کو تیار ہو گئے تھے وقار کے ساتھ اس کی ساری فیملی تھی جبکہ چودھری حشمت اور چودھرائن سلیمان کے ساتھ اپنی گاڑی میں تھے
ہاسپٹل پہنچتے ہی بیگم شجاعت نے وقاص کو دیکھتے رونا شروع کر دیا تھا جس کے سر پہ سفید پٹی بندھی ہوئی تھی ہاتھوں بازوں اور منہ خراشیں بھی تھیں جس کی وجہ سے منہ سوجھا ہوا تھا اپنے لاڈلے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر بیگم شجاعت کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا
تقریباً سبھی اس کی حالت دیکھ کر دکھی تھے مگر اس بچ جانے پہ خدا کا شکر ادا کر رہے تھے تبھی وقاص کی پلکوں میں جنبش ہوئی تھی بیگم شجاعت اور چودھری شجاعت تیزی سے اس کی طرف جھکے تھے
وقاص آنکھیں کھول کے بار بار انہیں جھپک رہا تھا شاید سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کہاں ہے آہستہ آہستہ اسے سب یاد آتا گیا سب کے سامنے اس کی سچائی آنا پھر اس کا ڈیرے میں خود کو بند کرنا درخت کے ساتھ گاڑی ٹکرانا خود کا بےیارو مددگار پڑے رہنا اور خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا
“کیا میں بچ گیا؟ کیا واقعی ہی خدا نے مجھے سدھرنے کا اک موقع دیا ہے؟” حیرت سے پلکیں جھپکتے اپنے اوپر سارے چہروں کو جھکے دیکھ کر اس نے سوچا تھا جبکہ وہ سب اس کے اس طرح دیکھنے پہ پریشان ہو گئے تھے انہیں لگ رہا تھا کہ خدانخواستہ سر پہ چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کی یادداشت چلی گئی ہے
“یا اللّٰہ میں کس طرح تیرا شکر ادا کروں کہ تُو نے مجھ جیسے گہنگار کی بھی دعا قبول کر کے اسے اک نئی زندگی بخشی ہے” اس کی آنکھ سے اک آنسو نکل کے تکیے میں جذب ہوا تھا
“کیا ہوا ہے؟ کہی درد ہو رہا ہے ڈاکٹر کو بلائیں؟” اس کا آنسو دیکھ نے انہیں لگا تھا کہ اسے کہی درد ہو رہا ہے مگر وہ یہ کہاں جانتے تھے کہ وہ آنسو درد کا نہیں تشکر کا ہے شرمندگی کا ہے اپنے گناہوں سے توبہ کا ہے
“اماں سائیں” اس کے لب بمشکل ہلے تھے منہ پہ لگے شیشوں کے زخموں کی وجہ سے منہ کھولتے اسے تکلیف کا احساس ہوا تھا
“ماں صدقے جائے اپنے بچے کے” بیگم شجاعت نے روتے ہوئے کہا تو وقاص نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی تھی
“میں ٹھیک ہوں آپ روئیں مت” اس نے آہستہ آہستہ اپنا جملہ مکمل کیا تھا اس کے تسلی دینے پہ سب کے لب مسکرائے تھے
“بھئی وقاص اگر تم نے خدمت ہی کروانی تھی تو کوئی اور طریقہ ڈھونڈتے یہ کیا ہسپتال آ کر پڑ گئے ہو” ماحول پہ چھائی اداسی دور کرنے کے لیے چودھری حشمت نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تو وقاص سمیت سب مسکرا دیے تھے
پھر کافی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد چودھری حشمت چودھرائن اور سلیمان اسے جلد ٹھیک ہونے کی دعا دیتے وہاں سے اٹھ آئے تھے وہ گھر پہنچے تو زعیم لوگ اپنے گھر جانے کے لیے تیار کھڑے تھے
“مجھے لگتا ہے ہماری حویلی پسند نہیں آئی تم لوگوں کو” چودھری حشمت نے اک نظر زعیم کو دیکھتے کہا تھا
“نہیں سائیں ایسی کوئی بات نہیں جتنا عرصہ بھی کسی کے گھر رہو جانا تو اپنے گھر ہی ہوتا ہے اور ویسے بھی امید ہے اتنے بڑے ایکسیڈنٹ کے بعد وقاص صاحب سدھر گئے ہوں گے ان سے اب ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہو گا اس لیے ہمیں چلے جانا چاہیے بعد میں کچھ ہوا بھی تو دیکھا جائے گا” زعیم نے سنجیدگی سے انہیں جانے کی وضاحت دی تھی
“چلو جیسے تمہاری مرضی مگر جانے سے پہلے میں اک بات کرنا چاہتا ہوں جو کافی دنوں سے سوچ رہا تھا میں” چودھری حشمت کے کہنے پہ سب کی سوالیہ نظریں ان کی سمت اٹھی تھیں
“یہ ذات پات اونچ نیچ کا اللہ کے ہاں کوئی تصور نہیں ہے یہ سب قاعدے قانون ہمارے بنائے ہوئے ہیں کہی نا کہی میرے دماغ میں بھی یہ بات تھی کہ تم ہم سے کمتر ہو اسی لیے تو میں نے تم پہ لگے چوری کے الزام کو جھٹ سچ مان لیا تھا مگر آج میں اس سب کو ختم کرنے کے لیے تم سے اور بہن جی سے آپ لوگوں کی بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہوں میں اسے اپنی بہو بنانا چاہتا ہوں” چودھری حشمت کے منہ سے نکلی غیر متوقع بات سن کے سب کو بےیقینی کا جھٹکا لگا تھا سوائے چودھرائن کے انہیں اپنے شوہر کی سوچ کا علم تھا اور وہ اس فیصلے سے مطمئن بھی تھے
جبکہ زعیم انوشہ اور اماں کا ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھے انہیں لگ رہا تھا یہ ان کے کانوں کا دھوکا ہے انوشہ نے ہوش میں آتے اپنی نظریں اپنے بائیں طرف کھڑے زین کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا جس پہ انوشہ نے سرعت سے اپنی نظروں کا رخ بدلہ یہ سب دیکھ کے زین کے ہونٹوں پہ اک خوبصورت سی مسکراہٹ چمکی تھی
“مگر سائیں،،، یہ کیسے؟” حیرت کے مارے اس کے منہ سے بےربط سے جملے نکلے تھے
“کیوں نہیں ہو سکتا اگر تم میرے داماد بن سکتے ہو تو یہ میری بہو کیوں نہیں؟” انہوں نے انوشہ کے سر پہ ہاتھ رکھتے نرمی سے کہا تھا داماد لفظ پہ احواد نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا جو آج کل اگنور موڈ پہ تھا
“اور ویسے بھی یہ تو ویسے تم لوگوں کے کان میں بات ڈالنے کے لیے کہا گیا ہے باقی جب وقاص تھوڑا بہتر ہوا تو ہمارے سمیت شجاعت اور بھرجائی بھی آئیں گے آپ کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنانے کی التجا لے کر” چودھری حشمت نے دوٹوک لہجے میں کہا تو زعیم کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کہے
“ابھی تم زیادہ سوچو مت گھر جاؤ جس دن تمہارے گھر آئیں گے تب تفصیلی بات ہو گی” چودھری حشمت نے اس کا کندھا تھپتھپایا تو زعیم نے سر ہلایا پھر احواد کو دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو جانا ہے یا نہیں؟ احواد نے بھی نامحسوس انداز میں سر ہلایا اور اپنے کمرے میں جا کر چادر اوڑھتی ان کے ساتھ ہو لی تھی
__________________________
دن تیزی سے گزرتے گئے تھے وقاص بھی ڈسچارج ہو کے گھر واپس آ گیا تھا گو کہ وہ ابھی تک بلکل ٹھیک نہیں ہوا تھا مگر گھر پہ بہتر دیکھ بھال رکھنے کی ہدایت دیتے اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا
اس دوران وہ بلکل بدل گیا تھا دن رات روتے ہوئے اس نے اپنے رب سے معافی مانگی تھی اور ساتھ لی باقی سب سے بھی اور سب نے انہیں کھلے دل سے معاف کر دیا تھا اس کا ماضی اس کا اور اللہ کا معاملہ تھا کوئی بھی اسے اس کا ماضی دلانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا
اس کے ڈسچارج ہو کے آنے کے کچھ دن بعد ہی چودھری حشمت، چودھرائن، چودھری شجاعت، بیگم شجاعت، غزل اور سلیمان زعیم کے گھر پہنچ گئے تھے انوشہ کا رشتہ مانگنے کے لیے انہوں نے اپنی اسی دن والی بات ان کے سامنے رکھی تھی
“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں زین اچھا اور سلجھا ہوا بچہ ہے اس سے زیادہ اور کیا چاہیے ہمیں آپ زعیم سے پوچھ لیں” اماں نے اپنی رضامندی ظاہر کرتے بال زعیم کی کوٹ میں ڈالی تھی جو سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا
“ہاں بھئی زعیم تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے نا؟” چودھری حشمت نے زعیم کو دیکھا تھا
“میں نے ہمیشہ آپ کو باپ سے بھی بڑھ کر عزت دی ہے آپ کی ہر بات میرے سر آنکھوں پہ ہے مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے آج سے انوشہ ہمارے پاس آپ کی امانت ہے” زعیم نے کہا تو سب کے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی تھی
“چلو پھر دیر کس بات کی ہے ہم اسی مہینے کے آخر میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جاتے ہیں آپ لوگوں کا خیال ہے؟” چودھری حشمت نے تو ہتھیلی پہ سرسوں جمایا تھا
“اتنی جلدی؟ ابھی تو اس کا علاج چل رہا ہے اور اس کی پڑھائی بھی ادھوری ہے” زعیم اور اماں کے چہروں سے پریشانی چھلکی تھی
” ارے بھئی وہ ہماری بیٹی ہے ہم خود ہی اس کا علاج کروا لیں گے اور اسے پڑھائیں گے بھی آپ لوگ فکر مت کریں بس شادی کی تیاری کریں” چودھری نے حشمت نے انہیں منا کے ہی دم لیا تھا
تاریخ طے ہوتے ہی ہر طرف مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا احواد نے چودھری حشمت کا لایا گیا مٹھائی کا ٹوکرا کھولا اور پلیٹ میں مٹھائی نکال کے سب کا منہ میٹھا کروایا تھا اس نے پلیٹ زعیم کے آگے کی تو اس نے بغیر اسے دیکھے گلاب جامن کا تھوڑا سا پیس توڑ کے منہ میں رکھا تھا احواد نے اسے گھوری سے نوازا تھا اور کر بھی کیا کر سکتی تھی کیونکہ صاحب بہادر آج کل منہ سوجائے گھوم رہے تھے اور اس کے رعب میں بھی نہیں آتا تھا اور وہ کڑھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی
_________________________
پھر شادی کی تیاریوں میں دن کیسے گزرے کچھ پتہ ہی نہیں چلا تھا زعیم نے خود کو اتنا مصروف کر لیا تھا کہ احواد کو چاہ کر بھی اس سے بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مہندی کا دن آن پہنچا تھا
رات کو مہندی کے فنکشن سے پہلے نکاح تھا حویلی سے انوشہ کا جوڑا اور باقی مہندی کا سارا سامان آ چکا تھا ڈریس چینج کرنے کے بعد احواد نے اسے میک اپ کرنے کے لیے فورس کیا تھا مگر اس نے منع کر دیا تو احواد نے بھی بس اس کے بالوں کا سٹائل بناتے دوپٹہ سیٹ کیا اور زبردستی لپ سٹک لگا دی اور پھر خود تیار ہونے چلی گئی تھی
اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی زعیم کمرے میں داخل ہوا تھا گرین اور ییلو فراک پاجامے میں سادگی میں وہ جاذبِ نظر لگ رہی تھی زعیم یک ٹک اسے دیکھے گیا تھا انوشہ بھی پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہی تھی یہاں تک کے دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے زعیم آہستگی سے چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا
“میرا بچہ اتنا بڑا ہو گیا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا ابھی مجھے کل کی ہی بات لگتی ہو جب میں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے تمہیں تھاما تھا اور وہ لمحہ میرے لیے بہت خاص تھا جسے میں آج تک نہیں بھلا سکا اور نہ کھبی بھلا سکوں گا اور وقت اتنی تیزی سے گزر گیا کہ اب تمہیں کل انہی ہاتھوں سے رخصت بھی کر دوں گا” زعیم نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا تھا دونوں کی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے
“ابا کے جانے کے بعد میں پوری کوشش کی تھی کہ تمہیں ان کی کمی محسوس نہ ہو بھائی نہیں باپ بن کر پالا ہے میں نے تمہیں لیکن اگر پھر بھی کوئی کمی رہ گئی ہو تو معاف کر دینا” زعیم نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تو وہ بھائی کہتے اس کے ساتھ لگ لے پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی
زعیم نے اس کے سر سے ہاتھ ہٹاتے اس کا سر چوما اور اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے تھے جو رکنے کی بجائے مسلسل بہی جا ریے تھے احواد تیار ہو کر وہاں آئی تو دونوں بہن بھائی کو روتا دیکھ کر اس نے اپنا سر پیٹا تھا
“یہاں پہ کون سا دریا بہایا جا رہا ہے؟ تم دونوں تو ایسے رو رہے ہو جیسے میرا بھائی اور گھر والے آدم خور ہیں جو اسے کھا جائیں گے” احواد نے ان دونوں کو زبردستی الگ کرتے کہا تو زعیم نے اسے ناگواری سے اک نطر اسے دیکھا تھا مگر وہ نظر اسی پہ تھم سی گئی تھی وہ اپنے روزمرہ کے حلیے سے ہٹ کر تھی اور اس کی نگاہ کو بہت بھا رہی تھی مگر وہ جلد ہی اپنے آپ پہ قابو پاتے اس سے نظریں ہٹا گیا تھا
اور اٹھ کے وہاں سے چلا گیا تھا پھر تھوڑی دیر تک دلہے سمیت سب آ گئے تھے اور سب سے پہلے نکاح کی بابرکت رسم ادا کی گئی تھی اور نکاح ہوتے ہی اماں، انوشہ اور زعیم جذباتی سے ہو گئے تھے جنہیں بمشکل سنھبالا گیا تھا
پھر دوبارہ حویلی جانے کی بجائے انہوں نے وہی مہندی کی رسم ادا کر لی گئی تھی زین کی نگاہ بار بار بھٹک کے انوشہ پہ ہی جا رہی تھی جسے وہ چاہ کر بھی ہٹا نہیں پا رہا تھا
“احواد میری بات سننا” احواد ابھی رسم کر کے ہٹی ہی تھی کہ وقاص کے مخاطب کرنے پہ اس کے قدم تھمے تھے اور اس نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
“وہ مجھے تم سے معافی مانگنی تھی میں اپنے ان سارے اعمال سے شرمندہ ہوں جن کی وجہ سے تمہیں تکلیف اٹھانی پڑی” اس کے سر جھکا کے معافی مانگنی پہ احواد نے حیرے سے اس کایا پلٹ کو دیکھا تھا
“کوئی بات نہیں میں نے معاف کیا تمہیں” اسے جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے یہی کہہ دیا تھا
“یہاں کیا ہو رہا ہے؟” وقاص کے کچھ بولنے سے پہلے وہاں زعیم کی آواز گونجی تھی جو ان اکھٹے کھڑا دیکھ کے وہا آیا تھا
“کچھ نہیں میں بس احواد سے معافی مانگ رہا تھا تم سے بھی مانگتا ہوں میں نے تمہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہو سکے تو اس کے مجھے معاف کر دینا” اس کے معافی مانگنے پہ زعیم کی حالت بھی احواد جیسی ہوئی تھی مگر پھر کندھے اچکاتے اس کا ایکسکیوز کرنے قبول کر لیا تھا جس پہ وقاص شکریہ کہتے وہاں سے چلا گیا تھا
اسے اکیلا دیکھ کر احواد نے اس سے بات کرنی چاہی تا کہ وہ جان سکے کہ وہ کون سی بدگمانی پالے بیٹھا ہے جو اس سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا مگر وہ اس کے سوچنے میں ہی وہاں سے چلا گیا تھا اور وہ اس کی پشت دیکھتی رہ گئی تھی پھر رات گئے تھے تقریب چلتی رہی تھی چودھری حشمت نے ہی انہیں یاد دلایا کہ انہیں واپس بھی جانا ہے تب سب کو خیال آیا اور ان کی واپس ہوئی تھی
_____________________
اگلے دن کا آغاز افراتفری سے ہوا تھا چونکہ گاؤں میں زیادہ تر شادیاں دن میں ہوتی ہیں اس لیے ہر کسی کو اپنی تیاری کی پڑی تھی کہ کہی کسی کی تیاری ادھوری نہ رہ جائے
دلہن کو تیار کرنے کے لیے شہر سے بیوٹیشن بلائی گئی تھی جو کہ حویلی والوں نے ہی منگوائی تھی زعیم نے بہت منع کیا تھا کہ وہ خود یہ سب کر لے گا مگر چودھری حشمت نے اس کی کسی بات پہ کان نہیں دھرے تھے
بارات والے دن کا جوڑا زعیم نے اپنی طرف سے ہی خریدا تھا اس معاملے میں اس نے بھی چودھری حشمت کی کوئی بات نہیں سنی تھی جوڑا انوشہ کی پسند کا ہی تھا مگر اس نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ دوپٹہ زیادہ ہیوی نہ ہو تا کہ انوشہ ایزی رہ سکے اور سر میں کہی درد نہ ہو
سارا سیٹ اپ گاؤں کے پنڈال میں ہی کیا گیا تھا شادی کے سارے اخراجات پورے کرنے کے لیے کچھ سیونگز تھی اس کے پاس اور کچھ اس نے قرض لیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن کی شادی میں کوئی بھی کمی آئے اور لوگوں کو یہ کہنے کا موقع باپ نہیں تو بھائی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے
زعیم پنڈال میں سارے انتظامات دیکھ رہا تھا جبکہ انوشہ کو بیوٹیشن گھر ہی تیار کر رہی تھی ساتھ احواد بھی تھی تیار ہونے کے بعد اس نے کال کرنی تھی تو زعیم نے انہیں پک کرنے جانا تھا ان کی طرف سے تقریباً سبھی مہمان آ گئے تھے بس بارات کا ہی انتظار تھا اتنے میں اسے احواد کا میسج موصول ہوا تھا کہ وہ تیار ہیں زعیم سب کچھ اپنے دوست کے حوالے کرتے خود گھر گیا تھا
اس نے شادی کے دنوں کے کیے اک کار رینٹ پہ ہائر کی ہوئی تھی جسے وہ چلاتا خود تھا زعیم نے گھر کے سامنے رکتے گاڑی کا ہارن بجایا تو بیوٹیشن کے ساتھ وہ دونوں بھی باہر آئی تھیں احواد نے بیوٹیشن کو انوشہ کو کار میں بیٹھانے کا کہا اور خود گیٹ پہ تالا لگاتے گاڑی کی طرف آئی تھی وہ بیوٹیشن اور انوشہ پیچھے بیٹھی تھیں بیوٹیشن نے بھی شادی اٹینڈ کر کے ہی واپس جانا تھا
انہیں پیچھے بیٹھے دیکھ کر مجبوراً احواد کو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھانا پڑا تھا اس کے بیٹھتے ہی زعیم نے اک سرسری سی نگاہ اس پہ ڈالی لیکن سرسری نگاہ کب تفصیلی نگاہ میں بدلی اسے پتہ ہی نہیں چلا
وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا جو سفید پیروں کو چھوتی فراک زیب تن کیے پارٹی میک اپ اور جیولری میں اسے ہیپنوٹائز کر گئی تھی بیوٹیشن کے گلہ صاف کرنے پہ وہ ہوش میں آیا تھا اور سرعت سے اس کے چہرے سے نظریں اٹھائی تھیں جو شرم اور غصے سے سرخ ہو چکا تھا
“ہنہہہ اتنے دنوں سے اگنور کر رہا ہے اور اب ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کچا چبا جائے گا” اس کے گاڑی سٹارٹ کرنے پہ وہ بڑبڑائی تھی پھر پنڈال پہنچنے تک زعیم نے اسے بھول کے بھی نہیں دیکھا تھا پنڈال کے سامنے رکتے احواد انوشہ کو لے کر پنڈال میں چلی گئی اور زعیم بھی مردوں والی سائیڈ پہ آ گیا تھا
تقریباً ساڑھے تین یا چار کے درمیان بارات بھی آ گئی تھی جس کا استقبال پھول کی پتیاں نچھاور کر کے کیا گیا تھا بارات کے ساتھ آئے مرد مردوں والی سائیڈ پہ چلے گئے تھے اور عورتیں عورتوں والی سائیڈ پہ انوشہ کو سٹیج پہ بیٹھایا ہوا تھا کیونکہ وہاں کوئی برائیڈل روم تو تھا نہیں جہاں اسے بیٹھایا جا سکے
چودھرائن سٹیج پہ آتے ہی انوشہ کے واری صدقے جا رہی تھی غزل بھی اس سے محبت سے ملی تھی انوشہ ان سب کا والہانہ انداز دیکھ کر کنفیوز ہو رہی تھی نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا اس لیے بارات آنے کے کچھ ہی دیر بعد کھانا دے دیا گیا تھا
کھانے کے بعد دلہا کو بھی دلہن والی سائیڈ لایا گیا تھا انوشہ کی کوئی بہن نہیں تھی اور نہ ہی کوئی خاص فرینڈ تھی اس لیے دودھ پلائی کی رسم احواد نے ہی کی تھی اس دوران دونوں بہن بھائی نے اک دوسرے کی خوب ٹانگ کھینچی تھی
پھر کچھ اور رسموں کے بعد تقریباً مغرب کے وقت رخصتی کا شور اٹھا تھا اور رخصتی کے وقت جو انوشہ نے زعیم کے گلے لگ کے رونا شروع کیا کسی سے سنھبلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی زعیم نے خود کو سنبھالتے اسے زبردستی خود سے الگ کیا تھا اور اس کے آنسو صاف کر کے اس کی پیشانی چومی پھر اپنے حصار میں لے کر گاڑی میں بیٹھایا تھا
“زین میں اپنے دل کا ٹکڑا تمہیں دے رہا ہوں پلیز اس کا ہمیشہ خیال رکھنا اسے زرا سی بھی تکلیف ہو تو میرا دل برداشت نہیں کر پاتا یہ اک بھائی کی نہیں باپ کی التجا سمجھنا” زعیم نے زین کو گلے لگاتے کہا تو اس نے زعیم کو پورا یقین دلایا تھا کہ وہ ہمیشہ انوشہ کو خوش رکھے گا
احواد بھی ان لوگوں کے ساتھ جانا چاہتی تھی مگر اسے آج اپنے اور زعیم کے درمیان موجود غلط فہمی کو دور کرنا تھا وہ تھک چکی تھی اک عجیب سی زندگی گزارتے ہوئے
دلہن کو لے کر جب وہ حویلی پہنچے تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا تھا جو جو رسمیں احواد نے کرنی تھی زین نے وہ سب غزل کو کرنے کا بولا تھا اس نے کہا تھا وہ یہی سمجھے اس کے دیور کی نہیں اس کے بھائی کی شادی ہے ان سب کی اتنی محبتوں پہ وہ آبدیدہ ہو گئی تھی
زین نے غزل اور احواد دونوں کے لیے گولڈ کی انگوٹھیاں بنوائی تھیں ایز آ گفٹ غزل کو تو اس نے دے دی تھی احواد کو دینا باقی تھی پھر کچھ رسموں کے بعد انوشہ کو زین کے روم میں پہنچا دیا گیا تھا اور زین اپنے دوستوں کے ساتھ حویلی کی بیٹھک میں بیٹھ کے گپے ہانک رہا تھا
کیونکہ اسے پتہ تھا ابھی رات دیر تک دلہن کو دیکھنے والوں کی لائن لگی رہے گی اس کے بعد ہی کہی اس کا نمبر آئے گا اور ایسا ہی ہوا تھا رات کافی دیر تک لوگ دلہن دیکھنے آتے رہے تھے ان کی آمد کی روک تھام کے بعد ہی کہی زین کو اپنے روم میں جانے کا موقع ملا تھا
وہ روم میں آیا تو انوشہ پیچھے بیڈ کراؤن کے ساتھ سر ٹکائے اونگھ رہی تھی شاید بہت زیادہ تھک گئی تھی اس لیے آنکھ لگ گئی تھی زین اسے دیکھ کر مسکرا دیا اور بیڈ پہ اس کے سامنے بیٹھتے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے گلہ صاف کیا تھا جس سے وہ ہڑبڑا کے اٹھی تھی اور سر پیچھے لگتے لگتے بچا تھا
“ارے ارے دھیان سے کیوں مجھے زعیم بھا کے سامنے شرمندہ کروانا ہے کہ میں نے آپ کا بلکل دھیان نہیں رکھا” اس کے ہڑبڑاہٹ کو دیکھتے زین نے اسے ٹوکا تو وہ شرمندہ ہو گئی تھی
“آپ کو اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ کر سمجھ نہیں آ رہی کیا کہوں اور کیا نہ کہوں اتنا کنفیوز تو لڑکیاں بھی نہیں ہوتیں جتنا کنفیوز میں ہو رہا ہوں” زین کی بات پہ انوشہ نے نظریں اٹھا کے اسے دیکگا تھا جو شکل سے واقعی ہی کنفیوز لگ رہا تھا اس کی شکل دیکھ کر انوشہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی جو زین کی نظروں سے چھپی نہیں رہ سکی تھی
“ہاں ہنس لیں ہنس لیں آپ” زین نے ناراضگی بھری نظروں سے اسے دیکھتے کہا تو اس دفعہ انوشہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی اسے اس طرح ہنستے دیکھ کر زین بھی مسکرا دیا تھا
“پتہ ہے جب پہلی بار میں نے آپ کو دیکھا تھا مجھے آپ بہت اچھی لگی تھیں کچھ شوخ کچھ چنچل پھر جب بھائی نے شادی کی بات کی تو ناجانے کیوں آپ کی شبیہہ میرے ذہن کے پردے پہ چمکی تھی لیکن جب احواد اور زعیم بھا نے شادی کی اور بابا سائیں نے اب دونوں کے لیے حویلی کے دروازے بند کر دیے تو میرے دل میں اگر کہی آپ کا خیال تھا بھی تو وہ اپنی موت آپ مر گیا تھا مگر ہم انسان اس رب کی مصلحتوں تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ اس کے فیصلوں سے انحراف کر سکتے ہیں اس نے ہمارے نصیب اک دوسرے کے ساتھ جوڑے تھے تو کسی بہانے سے ملا بھی دیا ہمیں” زین اس کی جھکی پلکوں کو دیکھ کر بول رہا تھا
“تو مسز زین چوہدری کیا آپ کو یہ ناچیز عمر بھر کے لیے ہر دکھ ہر سکھ اور زندگی کے ہر دور میں اپنے ساتھ قبول ہے؟” زین نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتے ہوئے پوچھا تو انوشہ نے بھی اک شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اس کی شرمیلی مسکان کو دیکھ کر زین کے لبوں پہ بھی اک آسودہ سی مسکراہٹ چھائی تھی
_______________________.
سب کاموں سے فارغ ہو کر سلیمان کمرے میں داخل ہوا تو غزل ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جیولری اتار رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے دروازہ بند کرتے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا تھا اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا تھا
“کیا بات ہے آج تو کچھ لوگ بہت خوش نظر آ رہے ہیں؟” سلیمان نے شیشے میں نظر آتے اس کے چمکتے چہرے کو اک نظر دیکھتے پوچھا تھا
“ہاں آج میں واقعی ہی بہت خوش ہوں” اس کی طرف رخ کرتے غزل نے ڈریسنگ سے ٹیک لگائی تھی
“ارے واہ پھر اپنے شوہر نامدار کو بھی وہ وجہ بتا دیں جس کی بنا پہ آپ اتنا خوش ہیں؟” سلیمان نے دلچسپی سے اسے دیکھتے اس کے ہاتھ پکڑے تھے جب سے ان دونوں کا نکاح ہوا تھا یہ پہلی بار تھا کہ وہ اس سے اس طرح فری ہو کے بات کر رہی تھی
“میں ہمیشہ رشتوں کے لیے ترسی ہوں بچپن میں اللّٰہ تعالیٰ سے شکوے بھی بہت کیے تھے مگر دعا کرنا نہیں چھوڑا تھا اور دیکھیں آج میری ساری دعائیں پوری ہو گئی ہیں آپ سے شادی کے بعد مجھے ماں باپ ملے بہن اور بھائی ملے آج جس طرح زین مجھے ہر رسم میں آگے آگے رکھ رہا تھا مجھے ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے وہ میرا سگا بھائی ہو اگر میرا کوئی بھائی ہوتا وہ بلکل زین کی طرح ہوتا” وہ سلیمان کے ہاتھوں میں دبے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے بول رہی تھی
“بھئی سب کے پیار کو گنوا دیا اگر کسی کو بھول گئی تو وہ اپنے شوہر کو یعنی شوہر کی تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے” سلیمان کے شکوے پہ وہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی
“ارے میرے شوہرِ نامدار آپ تو سب سے پہلے ہیں آپ کی مرہونِ منت ہی تو مجھے یہ سارے رشتے ملے ہیں اگر آپ نہ آتے میری زندگی میں تو شاید یہ سب رشتے ملتے ہی نہ” اس کے ہر انداز میں سلیمان کے لیے احترام اور محبت جھلک رہی تھی
“یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ میں آپ کی زندگی میں نہ آتا یہ سب رب کے فیصلے ہیں اور وہ اپنی بندے کی دعاؤں کو انتظار ضرور کرواتا ہے مگر رد نہیں کرتا اور اس نے آپ کی دعائیں بھی رد نہیں کی” سلیمان نے محبت سے کہا تھا
“اچھا سنیں باقی سب تو بول دیا لیکن وہ نہیں بولا جو میں سننا چاہتا ہوں” سلیمان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو غزل کے چہرے پہ اک پیاری سی شرمیلی مسکراہٹ آئی تھی
“نہیں اس معاملے میں لڑکیاں پہل کرتیں اچھی نہیں لگتی” اس کے شرما کے کہنے پہ سلیمان مدھم سا ہنس دیا تھا
“تو چلو میں کر لیتا ہوں پہل” سلیمان کہتے ہوئے اس کے تھوڑے اور نزدیک ہوا تھا
“میری زوجہ محترمہ، میری نصف بہتر آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہیں جس سے میں اپنی آخری سانس تک وفا نبھاؤں گا کیا آپ اس وفا کے رستے میں میرا ساتھ دیں گی؟” اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس نے ہولے ہولے اپنی بات مکمل کی تو غزل نے ہاں میں سر ہلاتے اس کے سینے میں منہ چھپایا تھا اس کے اقرار پہ سلیمان نے بھی طمانیت سے اس کے گرد اپنے بازو لپیٹے تھے
__________________________
احواد کا ارادہ پھر ملیامیٹ ہوا تھا جب زعیم انہیں گھر چھوڑنے کے بعد خود پھر کہی چلا گیا تھا مگر احواد نے بھی آج ٹھانی ہوئی تھی کہ وہ اس سے بات کر کے رہے گی اسی غصے میں اسے چینج کرنے کا بھی خیال نہیں آیا تھا زعیم تقریباً دس بجے گھر آیا تو احواد اسے اپنے انتظار میں کھڑی نظر آئی تھی لیکن اپنی روٹین کے مطابق اسے نظرانداز کرتے وہ الماری کی طرف بڑھ گیا تھا
“اگر چھپ چھپ کے کسی کی باتیں سنو تو پھر لازم ہے کہ پوری سنو ورنہ آدھی ادھوری باتیں سن کے لوگ خود بھی اذیت میں رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی رکھتے ہیں” احواد کی بات پہ زعیم کے کپڑے نکالتے ساکت ہوئے تھے اور اس نے زرا سی گردن موڑ کے احواد کو دیکھا تھا
“لیکن اگر اگلی باتیں آپ کے وجود کی دھجیاں بکھرانے کے لیے ہوں تو نہیں سننی چاہیے” سنجیدگی سے کہتے اس نے کپڑے نکال کے الماری بند کی تھی
“غلط سوچ رہے ہو تم میں نے وہ اس لیے کہا تھا کہ مجھے اپنا آپ تمہارے قابل نہیں لگ رہا تھا اور میرا سوچنا یہ تھا کہ تمہیں کوئی بلکل تمہاری جسے ملی” احواد کی باتوں نے اسے اک دفعہ پھر مڑنے پہ مجبور کر دیا تھا اس نے مڑ کے بغور احواد کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھتے اپنے ہاتھ مسل رہی تھی
“تو اب آپ کو لگ گیا اپنا آپ میرے قابل؟” کپڑے صوفے پہ پھینک کے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے زعیم نے جس انداز میں پوچھا تھا بےاختیار احواد کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اور سر نفی میں ہلایا تھا
“کون کس کے قابل ہے یا کون کس قابل نہیں ہے یہ فیصلہ کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ اک ہستی اوپر بھی بیٹھی ہے جسے یہ سب معلوم ہے اور وہ کچھ ایسے چکر چلاتی ہے جو جس کا نصیب ہوتا ہے وہ اسے مل جاتا ہے اور انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے” زعیم اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو دیکھ رہا تھا
“آپ سوچ رہی ہوں گی میں یہ سب کیوں کہہ رہا ہوں تو چلیں میں آپ کو اک کہانی سناتا ہوں” اس کے کہانی سنانے کی آفر پہ احواد نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“یہ کہانی اک لڑکے کی ہے وہ اتنا امیر نہیں تھا جب وہ انٹر میں تھا اس کے والد کی وفات ہو گئی تھی تب اسے اپنی ماں اور بہن کا سہارا بننے کے لیے اپنے باپ کی جگہ وہاں جانا پڑا جہاں اس کے والد کام کرتے تھے وہ حساب کتاب جانتا تھا تو مالک نے اسے اپنی زمینوں کے حساب کتاب کے لیے رکھ لیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مالک اسے اپنے بیٹوں کی طرح چاہنے لگا مالک کی اک بیٹی بھی تھی نک چڑھی سی جسے وہ لڑکا بلکل پسند نہیں آیا اور اس نے اس لڑکے کو بلکل حقیر سمجھا اور اس کے اس رویے سے اس لڑکے کو بھی اس سے چڑ ہو گئی تھی اتنی چڑ کے وہ دن رات اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا اور دن رات اسی کے بارے میں سوچتے کب وہ لڑکی اس کے دل میں بس گئی سے پتہ ہی نہیں چلا” شروع میں احواد کے چہرے پہ الجھن تھی لیکن جوں جوں اسے سمجھ آ رہی تھی توں توں اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا اور آخری بات تو اس کے لیے بہت بڑا دھماکا تھا
“جب اس لڑکے کو اپنے بدلتے جذبات کا احساس ہوا تو اس نے خود پہ لگامیں ڈالنے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا دل چاند کی تمنا کر رہا تھا اور چاند کسی زمین والے کو مل جائے یہ تو ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ تو ہمیشہ فلک پہ چمکتا ہے پھر وقت تھوڑا اور سرکا تھا اس لڑکے نے اپنے سارے جذبات دل کے کونے میں قید کر دیے تھے پھر اک دن اس لڑکے کی بہن بیمار ہو گئی تھی اور اسے پیسے چاہیے تھے اور اس کی یہ بات اس لڑکی نے سن لی تھی اور اس نے اس کی مجبوری کا سودا کرتے ہوئے اسے کنٹریکٹ میرج کرنے کا کہا اور اس کے بدلے وہ اس لڑکے کی بہن کا علاج کرواتی چونکہ وہ لڑکی کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر اس کے گھر والے اس لڑکے کو مار دیتے اس لیے اس نے اس مجبور لڑکے کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا تھا” احواد کی حالت تو ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ہے وہ یک ٹک اسے دیکھی جا رہی تھی
“اس لڑکے پاس بھی کوئی اور آپشن نہیں تھا اس لیے وہ بھی مان گیا جیسے بھی صحیح اس کی چاہت اس نے نکاح میں آ گئی تھی اور یہ بھی قسمت کی اک چال تھی جسے ہم سمجھ نہ سکے اس لڑکی نے تب تک اس لڑکے کے ساتھ رہنا تھا جب تک جسے وہ پسند کرتی تھی اس کی جاب نہ لگ جاتی اس کی جاب لگنے کی بجائے اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور ساری ذمہ داریاں اس کے کندھے پہ آ گئی اور وہ اس لڑکی کو آگے بڑھنے کا کہہ کے خود چلا گیا تھا” زعیم سانس لینے کے لیے رکا تھا
“وہ لڑکا خدا کے اس کرشمے پہ حیران ہوا تھا اور اس کے دل میں تھوڑی سی امید جاگی تھی جس پہ اس لڑکی نے اک دفعہ پھر پانی پھیر دیا اپنے باپ کے سامنے یہ کہہ کے وہ اس لڑکے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی یہ کہنے کے بعد بھی وہ چاہتی ہے کہ وہ لڑکا صرف اسی کی سنے جیسے وہ کوئی انسان نہیں روبوٹ ہے” بولتے بولتے وہ تھک گیا تھا اور کہانی بھی ختم ہو گئی تھی اس لیے وہ پیچھے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا
“اگر وہ لڑکا اس لڑکی سے محبت کرتا تھا تو اسے کسی اور کے لیے چھوڑنے پہ کیسے راضی ہو گیا؟” احواد کے لبوں سے بمشکل یہ الفاظ نکلے تھے جسے سن کے زعیم لے لبوں پہ اک مسکراہٹ چمکی تھی
“محبت میں صرف محبوب کی خوشی دیکھی جاتی ہے اسے زبردستی خود سے جوڑا نہیں جاتا کیونکہ محبت کسی کو زبردستی قید کرنے کا نام نہیں ہے” زعیم کے جواب پہ وہ زمین پہ بلکل گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی
“مجھے ہمیشہ سوچتا تھا میں کیسے بتا پاؤں گا کہ میں آپ کو کتنا چاہتا ہوں بتا پاؤں گا بھی یا نہیں کیونکہ آپ تو اس بارے میں جانتی ہی نہیں تھیں میری آنکھیں جو کہتی تھیں آپ نے تو وہ بھی کھبی نہیں پڑا تھا اس لیے خاموشی ہی بہتر تھی” اسے دیکھتے زعیم نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا تھا
“ان الجھنوں میں ہم نے بہت سا وقت گنوا دیا ہے مزید نہیں گنوانا چاہتا اس لیے ابھی پوچھنے لگا ہوں کیا آپ میرے ساتھ اپنی ساری زندگی بتائیں گی؟” زعیم صوفے سے اٹھ کے اس کے سامنے سراپا سوال بن کے بیٹھا تھا
“مگر تم کیسے ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارو گے جو تم سے محبت ہی نہ کرتی ہو؟” احواد نے حیرت سے پوچھا تھا
“میں کرتا ہوں نہ اور میری ہی محبت ہم دونوں کے لیے کافی ہو گی اور جس رب نے ہمارا نصیب جوڑا ہے کیا وہ رب آپ کے دل میں میرے لیے محبت نہیں ڈال سکتا؟” زعیم نے اسے لاجواب کیا تھا
“کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں وہ ابھی بھی میرے دل میں ہے یا نہیں؟ یا کھبی تم زندگی میں مجھے اس شخص کا طعنہ نہیں دو گے؟” احواد نے اک اور سوال پوچھا تھا
“وہ شخص آپ کا ماضی تھا اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے مجھے تب سروکار ہوتا اگر آپ مجھ سے عہد و پیماں کرنے کے بعد مجھ سے بےوفائی کرتیں جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے ہاں اب اگر میرے ساتھ رہنے کا اقرار کریں گی تو آپ کو یہ بھی عہد کرنا ہو گا کہ مجھے چاہے آپ اپنے دل میں جگہ دیں یا نہ دیں مگر اس شخص کی ہلکی سی پرچھائی بھی آپ کے دل و دماغ میں نہیں آنی چاہیے اور رہی بات طعنہ دینے کی تو اس کے لیے میں اتنا کہوں گا محبت انسان کو اعلیٰ ظرف بناتی ہے کم ظرف نہیں اور محبت میں تو انسان اپنے محبوب کو تمام اچھائیوں اور برائیوں سمیت اپناتا ہے” زعیم نے اسے اک دفعہ پھر لاجواب کیا تھا
“مگر میں تمہارے قابل،،،، ” زعیم نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے اسے خاموش کروایا تھا
“میں نے پہلے بھی کہا ہے یہ صرف رب کی ذات جانتی ہے کون کس قابل ہے کس کے قابل نہیں آپ بس بتائیں آپ میرے ساتھ بوڑھا ہونا پسند کریں گی؟” زعیم نے گھمبیر لہجے میں کہا تو وہ روتے ہوئے ہنس دی تھی اور ساتھ ہی اثبات میں سر ہلا دیا تھا
اگر قسمت نے اس کی قسمت میں اتنا اچھا ہمسفر لکھ ہی دیا تھا تو وہ کیوں ناشکری کرتی اور ساتھ ہی اس نے عہد کیا تھا وہ ہمیشہ اس کے ساتھ وفادار رہے گی زعیم نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور اس کے ماتھے پہ اپنا پہلا لمس چھوڑا تھا اور اپنی پیشانی اس کی پیشانی کے ساتھ جوڑی تھی
اس لمحے فضا میں بس محبت ہی محبت اور سکون رقص کر رہا تھا جسے دونوں آنکھیں موندے پوری شدت سے محسوس کر رہے تھے
________________________
#کچھ_دنوں_بعد
چودھری حشمت نے زین اور انوشہ کا ولیمہ پوری دھوم دھام سے کیا تھا اس کے بعد دعوتوں کے سلسلے کو انوشہ کی طبعیت کی وجہ سے روک دیا گیا تھا زین اسے اپنے ساتھ شہر ہی لے گیا تھا جب تک اس کا علاج ختم نہیں ہونا تھا اس نے وہی رہنا تھا
سلیمان اور غزل کے ہاں بھی خوشخبری تھی جس نے پوری حویلی میں خوشیوں کی لہر دوڑا دی تھی اور وقاص بھی اب لائن پہ تھا سب اس کی کایا پلٹ پہ حیران تھے جو اب اپنے ذمے لگے تمام کام ذمہ داری سے نبھاتا تھا اور نہ کسی سے بدتمیزی کرتا تھا بیگم شجاعت آج کل اس کے لیے لڑکی ڈھونڈ مہم سٹارٹ کر چکی تھیں
احواد کچن کے کام سیکھنے میں مصروف تھی کیونکہ انوشہ کے بعد اماں اکیلی لگی رہیں اس طرح اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے وہ روز کچھ نہ کچھ ٹرائے کرتی تھی تا کہ جلد از جلد ایکسپرٹ ہو سکے
زعیم کو اس کی پوسٹ پہ دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا پہلے پہل اس نے بہت انکار کیا تھا مگر چودھری حشمت، زین اور سلیمان نے اس کی اک نہیں سنی تھی اسے ہار ماننا پڑی تھی چودھری حشمت نے کہا تھا کہ جو پرافٹ ہو گا اس کا آدھا حصہ زعیم کو دیا جائے گا مگر اس نے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا جیسے پہلے تنخواہ ملتی تھی اب بھی ویسے ہی ملے گی ساتھ ہی اس نے لائحہ عمل طے کیا تھا کہ سیونگز کرنا سٹارٹ کرے گا تا کہ پہلے انوشہ کی شادی کے لیے لیا گیا قرض اتارے گا پھر احواد کا اس کے لیے جتنا بھی عرصہ لگے گا وہ احواد کے پیسے واپس ضرور کرے گا
“دیکھو زعیم میں تمہارے لیے ناشتے بنا کے لائی ہوں” زعیم جو ابھی نہا کے آیا تھا اب بالوں میں برش کر رہا تھا تا کہ جلدی سے ڈیرے جا سکے تھے تبھی احواد ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوئی تھی زعیم جانتا تو تھا کیسا ناشتہ ہو گا مگر بھی ایکسائٹیڈ ہو کے آگے بڑھا تھا
“یہ کیا ہے؟” اس نے جلے ہوئے پڑاٹھے اور جلے ہی ہوئے آملیٹ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
“ناشتہ ہے اور کیا ہے” احواد نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں
“مانا کہ میں آپ کے عشق میں پاگل ہوں مگر اتنا بھی پاگل نہیں ہے کہ یہ جلا ہوا ناشتا کر لوں جائیں یہ اپنا شاہکار لے جائیں اور اماں سے کہیں میرے لیے ناشتہ بنائیں دیر ہو رہی ہے مجھے” زعیم نے بےمروتی کی حد کی تو احواد اسے گھورتے اور بڑبڑاتے ہوئے ٹرے اٹھا کے لے گئی تھی
زعیم نے مسکرا کے اس کی پشت کو دیکھا تھا اس کا یقین رائیگاں نہیں گیا تھا اس نے کہا تھا کہ جس اللہ نے ان کا نصیب جوڑا ہے وہ احواد کے دل میں زعیم کے لیے محبت بھی ڈال سکتا ہے اور زعیم کو اس کے انداز سے لگتا تھا کہ یہ عمل شروع ہو چکا ہے اک دن ضرور آئے گا جب وہ خود اپنی زبان سے محبت کا اظہار کرے گی
آج ہر کوئی اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن تھا مگر ضروری نہیں ہے یہ ہمیشہ رہے کہی نہ کہی دکھ کے بادل چھائیں گے مگر جب ڈٹ کے ان کا مقابلہ کریں گے تو وہ چھٹ جائیں گے کیونکہ زندگی نہ ہی صرف خوشی کا نام ہے اور نہ ہی صرف غمی کا نام ہے یہ زندگی دونوں چیزوں کا مسکچر ہے اور جب اللّٰہ پہ یقین کامل ہو تو زندگی کا ہر دور آسانی سے گزر جاتا ہے
ختم شد____❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *