Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19

چودھری حشمت کو گھر چھوڑنے کے بعد ہی وقاص نے سوچ لیا تھا کہ وہ زعیم کی غیر موجودگی میں جا کر احواد کو ڈرائے دھمکائے گا اور اسے اس حد تک مجبور کر دے گا کہ وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جائے اس طرح زعیم مزید ان کی نظروں میں گر سکتا تھا کہ وہ ان کی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکا
اور اس کی ماں اور بہن کو عزت کی دھمکی دے کر اچھی طرح چپ کروا سکتا تھا اس نے اپنا اک آدمی زعیم کے گھر پہ نظر رکھنے پہ معمور کر دیا تھا جس نے اسے بتایا کہ اس کی بہن زخمی ہے جسے لے کر وہ ہاسپٹل جا رہے ہیں
تب وقاص کو اپنا پلان بدلنا پڑا تھا اور اس نے اسے ان کا پیچھا کرنے اور پل پل کی رپورٹ دینے کو کہا تھا پھر جب وہ دونوں ہاسپٹل سے نکلے تو اس کے آدمی نے ہی اسے ان دونوں کے وہاں سے نکلنے کا بتایا تھا
تب وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ گاؤں کے داخلی راستے پہ رستہ بلاک کر کے کھڑا ہو گیا تھا اور ساتھ ہی اک میسج احواد کے نمبر پہ چھوڑ دیا تھا اسے پورا یقین تھا کہ وہ اس کے میسج کا اتنا نوٹس نہیں لے گی
اور ایسا ہی ہوا تھا جب وہ دونوں گاؤں کے داخلی رستے پہ آئے تو وقاص اپنے پلان کی کامیابی پہ جھوم اٹھا تھا آج وہ اچھی طرح احواد سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لیتا اور ساتھ ہی زعیم کو بھی اس کی اوقات یاد دلواتا لیکن اس کا پلان تب چوپٹ ہوا جب زعیم نے گاڑی ریورس کی تھی
اسے یہی تھا کہ زعیم اور احواد اتنے آدمیوں کو دیکھ کر ڈر جائیں گے اور اس سے متیں کریں گے لیکن یہاں تو ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا وہ گاڑی ریورس کرتے فل سپیڈ پہ بھگا لے گیا تھا وقاص نے بھی جلد ہوش میں آتے اپنے آدمیوں کو ان کا تعاقب کرنے کا کہا تھا
آج وہ ان دونوں کو کسی قیمت پہ نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ ان دونوں سے کافی پیچھے تھے اس لیے انہیں پتہ نہیں چل سکا تھا کہ وہ دونوں گاڑی کھڑی کر کے کہا گئے ہیں گاڑی کھیتوں کے آگے کھڑی تھی تو وہ بھی یقیناً وہی کہی چھپے تھے
لیکن سر توڑ کوششوں کے بعد بھی وہ ان دونوں کا کہی سوراغ نہ لگا سکا اور غصے سے کھولتا دماغ لیے واپس گاؤں گیا لیکن گھر جانے کی بجائے سیدھا ڈیرے آیا تھا اور اب ہمیشہ کی طرح اس کا سارا غصہ کمرے پہ نکل رہا تھا کمرے کی ہر چیز تہس نہس ہو چکی تھی
“نہیں وہ دونوں مجھ سے بچ نہیں سکتے نہیں بچ سکتے” اس نے سامنے پڑی شراب کی بوتل اٹھا کے دیوار پہ ماتے ہوئے وہ چیخا تھا اور پھر دیوار کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس نے گہری سانس بھری تھی
“پرسکون ہو جاؤ وقاص کیا ہوا جو اک پلان فیل ہو گیا ہے جو تم نے دوسری بازی کھیلی تھی وہ تو ضرور کام کرے گی” خود کو ریلیکس کرتے وہ بڑبڑایا تھا اور پھر پیچھے دیوار کے ساتھ سر ٹکاتے آنکھیں موند گیا تھا
______________________
گھر پہنچتے زعیم نے گاڑی باہر ہی کھڑی کی تھی کیونکہ گاڑی اندر جا نہیں سکتی تھی احواد کے باہر نکلتے اس نے گاڑی اچھی طرح لاک کی تھی اسے پتہ تھا کہ چودھری حشمت کی گاڑی دیکھ کر کوئی بھی اسے چوری کرنے کی گستاخی نہیں کرے گا اس لیے مطمئن تھا
وہ بحفاظت گھر تو پہنچ آئے تھے لیکن احواد کا ڈر ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا وہ خوفزدہ سی تقریباً زعیم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی اور وہ بمشکل خود پہ ضبط کیے خاموش تھا ورنہ دل میں تو اک طوفان مچ چکا تھا
وہ جانتا تھا کہ احواد بس خوف کے سائے تلے اس کی قربت میں پناہ ڈھونڈ رہی ہے ورنہ تو وہ کھبی بھی اس کی طرف دیکھتی بھی نا اس کے اتنے قریب آنا تو دور کی بات تھی
زعیم کا مین ڈور کا لاک کھول کے اندر اپنے روم تک آنے تک احواد نے اس کا ہاتھ تھامے رکھا تھا اور بس روم تک آتے ہی اس برداشت کیا تھا کمرے میں پہنچتے ہی زعیم نے بغیر اس کی طرف دیکھے اک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا
اس کا انداز بس عام سا ہی تھا لیکن ناجانے کیوں احواد کو اس کے انداز میں اپنے لیے حقارت نظر آئی تھی اور اس نے لب بھیچ کے غصے زعیم کا چہرہ دیکھا تھا جہاں گندمی رنگت میں اسے سرخیاں گلی نظر آئی تھیں
“کوئی خوش فہمی پالنے کی ضرورت نہیں ہے میں بس خوف کی وجہ سے تمہارے نزدیک آئی ورنہ مجھے تو خواب میں بھی تمہاری قربت گوارا نہیں ہے” احواد نے اپنی طرف سے اسے اس کی اوقات یاد دلانے کی کوشش کی تھی
“جانتا ہوں” زعیم نے سپاٹ تاثرات لیے کہا تھا اور الماری سے اپنا سوٹ نکالا تھا
“تو تم نے اتنی حقارت سے میرا ہاتھ کیوں جھٹکا جیسے میں تو مری جا رہی ہوں تمہاری قربت کے لیے” احواد کا لہجہ سلگتا ہوا تھا
“دیکھیں میں بہت تھک چکا ہوں پہلے ہاسپٹل اور پھر آپ کے نام نہاد کزن کی وجہ سے بہت خواری ہوئی اب میں لمبی تان کے سونا چاہتا ہوں اس لیے برائے کرم خود بھی آرام کریں مجھے بھی کرنے دیں” اس کے لہجے سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ کس قدر تھکا ہوا ہے احواد بس اسے گھور ہی سکی تھی اور وہ اس کی گھوری کو نظرانداز کرتے کپڑے لیے باہر چلا گیا تھا
نہا کے واپس آیا تو ٹاول رکھتے صوفے پہ پڑی چادر اٹھا کے وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا اسے باہر جاتا دیکھ کر احواد خوفزدہ ہوتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور پریشان نظروں سے اسے دیکھا تھا
“تم کہاں جا رہے ہو؟” احواد کی خوفزدہ آواز پہ ہینڈل کو گھماتا اس کا ہاتھ رکا تھا اور اس نے مڑ کے احواد کو دیکھا تھا جو ہاتھ مسلتے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“میں انوشہ کے روم میں جا رہا ہوں میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں اس لیے میرا اس صوفے پہ سونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور میں کوئی دوسرے سیارے پہ نہیں جا رہا جو آپ خوفزدہ ہو رہی ہیں ساتھ والے کمرے میں ہی ہوں اور میرا خیال ہے کہ شادی سے پہلے بھی آپ اپنے روم میں اکیلی سوتی تھیں اب بھی سو جائیں گی” اسے تفصیلی جواب دیتے وہ پھر جانے کے لیے مڑا تھا
“اگر وہ یہاں بھی آ گیا تو؟ تم یہی بیڈ پہ سو جاؤ میں صوفے پہ سو جاتی ہوں” احواد کا ارادہ تو اسے کھری کھری سنانے کا تھا لیکن ابھی وہ یہ سب کرنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی اس لیے اس کی ساری باتیں برداشت کر رہی تھی
اس کی بات سن کے زعیم نے گہری سانس بھری تھی جتنا وہ اپنے جذبات سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اتنا ہی یہ لڑکی اسے آزما رہی تھی لیکن جتنا وہ تھک چکا تھا اب مزید بحث نہیں کر سکتا تھا اس لیے بغیر کچھ کہے بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا اور لیٹتے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑی چادر سر تک تان گیا تھا
اس کے لیٹتے احواد بھی گہری سانس بھرتے بیڈ سے تکیہ اور چادر اٹھاتے صوفے پہ جا کر لیٹ گئی تھی آج کے واقعے سے وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی وہ کھبی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وقاص اس حد تک بھی جا سکتا ہے یہی سب سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی تھی
________________________
سلیمان نے غزل کو کال کی تو اس نے باتوں ہی باتوں میں اسے چودھری حشمت کی اچانک بیہوشی کا بتایا تھا تو وہ اور زین اگلے دن صبح صبح ہی گاؤں پہنچ گئے تھے جب وہ حویلی پہنچے تھے تب حویلی کے تینوں نفوس ناشتہ کرنے میں مگن تھے اور ان دونوں کو دیکھتے حیرت کا شکار ہوئے تھے
“کیا ہوا بابا سائیں؟ غزل بتا رہی تھی آپ طبعیت خرابی کی وجہ سے بیہوش ہو گئے تھے اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟” ابھی وہ سب ان کی اچانک آمد پہ صحیح طرح حیران بھی نہیں ہوئے تھے کہ سلیمان نے ان پہ سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی پریشانی دونوں کے چہروں سے عیاں ہو رہی تھی
“میں بلکل ٹھیک ہوں دیکھو تمہارے سامنے بلکل ہٹا کٹا ہوں غزل بیٹی نے ایویں تم دونوں کو اتنا پریشان کر دیا” ان دونوں کی پریشانی دور کرنے کے لیے چودھری حشمت نے انہیں تسلی دی تھی
“بابا سائیں آپ اپنا خیال بلکل نہیں رکھتے اور یہ بات بلکل بھی اچھی نہیں ہے” زین نے بھی خفگی کا اظہار کیا تھا
“ارے تم دونوں بس ایویں پریشان ہو رہے ورنہ میں بلکل ہٹا کٹا ہوں” چودھری حشمت کے لہجے میں ہلکی سی جھنجلاہٹ کا عنصر تھا چودھرائن اور غزل بس انہیں مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھیں
“ہم نے کچھ نہیں سننا بس آج سے آپ ڈیرے نہیں جایا کریں گے زعیم سارے انتظامات سنبھال لے گا آپ بس گھر آرام کریں گے” سلیمان نے ان کی ہر بات کو نظرانداز کرتے کہا تھا
“ارے نہیں زعیم بھی نہیں ہے ڈیرے اس کی بہن کی طبعیت خراب ہے اسے لے کر ہاسپٹل گیا ہوا ہے شاید ابھی تک آیا نہیں اس لیے کسی کو تو ہونا ہی چاہیے نا ڈیرے” چودھری حشمت نے اس کی بات کی نفی کی تھی
“ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی بہن کی سرجری ہوئی تھی اب پھر بیمار ہو گئی وہ؟ یہ بس چھٹیاں کرنے کے بہانے ہیں” سلیمان نے ماتھے پہ بل ڈالتے کہا تھا اس واقعے کے بعد شاید اس نے اندر اس قدر بغض بھر گیا تھا زعیم سے کہ اسے اب اس کی کسی بات پہ یقین نہیں تھا
“بری بات ایسے نہیں کہتے” چودھری حشمت نے اسے تنبیہ کی تھی جس پہ اس نے بس سر جھٹکا تھا
“اب آ ہی گئے ہو تو آ جاؤ ناشتہ کر لو پھر میرے ساتھ چلنا ڈیرے” چودھری حشمت نے کہا تو دونوں سر ہلاتے ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھ گئے تھے پھر ناشتہ ختم کرتے وہ تینوں ڈیرے چلے آئے تھے
وہ ڈیرے آئے جہاں اک اور مسئلہ ان کے انتظار میں تھا جس سے وہ انجان تھے چودھری حشمت نے کھبی زعیم سے پیسوں کا حساب کتاب نہیں مانگا تھا اسی لیے وقاص نے اس آدمی کو ہدایت دی تھی کہ وہ خود ہی یہ بات چھیڑ دے تا کہ چودھری حشمت کا دھیان پیسوں کی طرف جا سکے اس نے وقاص کی بات پہ عمل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا تھا
“چودھری صاحب وہ کچھ پیسے چاہیے تھے بیٹی کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کی طرف جانا تھا آپ تھوڑے تھوڑے کر کے میری تنخواہ سے کاٹ لیجیے گا” اس آدمی نے مسکین سی شکل بناتے چودھری حشمت سے کہا تھا
“ارے کیسی باتیں کر رہے ہو بہت مبارک ہو نواسے کی اللہ اسے صحت و تندرستی اور ایمان سے بھرپور لمبی زندگی دے بتاؤ کتنے پیسے چاہیے؟” چودھری حشمت کا لہجہ نرمی اور حلاوت سے بھرا تھا اپنا تیر نشانے پہ لگتا دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا تھا
“دس ہزار” اس نے جھجھکتے ہوئے کہا تھا
“ابھی تو میرے پاس نہیں ہیں تم تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ میں حویلی سے منگوا کے دیتا ہوں” چودھری حشمت زیادہ کیش نہیں رکھتے تھے اپنے پاس کہ کہیں گر نہ جائیں
“چودھری صاحب وہ جو فضلو موچی نے دو لاکھ ادھار لیے تھے وہ دے گیا تھا پرسوں زعیم کو آپ اس وقت ڈیرے نہیں تھے تو شاید اس نے یہی لاکر میں رکھے ہوں آپ وہاں سے دے دیں مجھے ابھی بازار جانا ہے میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہو گی” سلیمان کو کچھ کہنے کے لیے منہ کھولتے دیکھ کر وہ تیزی سے بولا تھا کیونکہ اسے یہی امید تھی کہ وہ دے دے گا اور اس طرح ان کا پلان چوپٹ ہو جائے گا
“اچھا میں دیکھتا ہوں” چودھری حشمت کہہ کے وہاں سے اٹھتے اس کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے جس میں لاکر تھا
کمرے میں آتے انہوں نے اپنا انگوٹھا لگاتے لاک کھولا تو سامنے بس انہیں رجسٹر ہی رجسٹر نظر پیسے کہی بھی نہیں تھے انہوں نے پورا لاکر چھان مارا تھا لیکن انہیں پیسے کہی نظر نہیں آئے تھے لاکر بند کر کے وہ باہر آئے تھے
“مجھے لگتا ہے کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ پیسے زعیم کو دے کر گیا ہے لاکر میں تو رجسٹرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہے” چارپائی پہ بیٹھتے چودھری حشمت نے کہا تھا
“ارے چودھری صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ مانا کے میں پہلے جیسا جوان نہیں رہا نظر بھی کمزور ہو رہی ہے لیکن اتنی بھی نہیں ہو رہی کہ مجھے فضلو موچی زعیم کو پیسے دیتا ہوا نظر نہ آئے وہ خود میرے سامنے پیسے دے کر گیا تھا لیکن پیسے اس نے لاکر میں رکھے تھے یا نہیں اس کا مجھے نہیں پتہ” اس نے چالاکی سے ان کے دل میں شک کا بیچ بویا تھا چودھری حشمت سوچ میں ڈوب گئے تھے اور سلیمان کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا کہ زعیم نے اک اور فراڈ کیا ان کے ساتھ جبکہ زین کے چہرے پہ بس الجھن تھی
“اچھا سلیمان اگر تمہارے پاس پیسے ہیں تو اسے دو باقی زعیم آتا ہے تو پوچھتے ہیں اس سے شاید اس نے کہی اور رکھ دیے ہوں” چودھری حشمت نے سلیمان کو اسے پیسے دینے کا کہا تھا
تا کہ وہ وہاں سے جا سکے انہیں پتہ تھا سلیمان ضرور زعیم کے خلاف کوئی بات کرے گا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس مزارعے کے سامنے کوئی بات ہو پیسے لا کر وہ وہاں سے چلا گیا اور باہر نکل کے اس نے فون کر کے وقاص کو بھی بتا دیا تھا کہ اس نے اپنی طرف سے شک کا بیج بونے کی پوری کوشش کر دی ہے
“اس پہ اعتبار کا نتیجہ دیکھ لیں آپ بابا سائیں اک ہی دھوکہ بہت ہوتا ہے لیکن آپ نے تو اک دھوکہ کھانے کے بعد اسے پھر بھی نہیں نکالا تا کہ وہ آپ کو مزید دھوکہ دے” اس کے وہاں سے نکلتے ہی سلیمان غصے سے گویا ہوا تھا
“کیا پتہ ہے اسے کوئی غلط فہمی ہو یا پھر زعیم نے پیسے کہی اور رکھے ہوں اور اسے مجھے بتانے کا یاد نہ رہا ہو” چودھری حشمت نے اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا تھا
“اب وہ اتنا بچہ بھی نہیں ہے کہ اسے غلط فہمی ہو اور اس نے پیسے اور کہاں رکھنے تھے جب ڈیرے پہ لاکر موجود ہے آپ مان لیں بابا سائیں وہ دھوکے باز ہے اور یہ دو لاکھ بھی اس نے خود ہی غائب کیے ہیں اور پھر معصوم بن جائے گا آپ کے سامنے” سلیمان کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
“پرسکون رہو اور یہ اپنی رائے قائم مت کرو وہ آتا ہے تو پتہ چل جاتا ہے پیسے کہاں ہیں” اب کی دفعہ چودھری حشمت کے لہجے میں تھوڑی سختی تھی
“ہاں بھائی بابا سائیں بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں زعیم بھا آج سے تو یہاں نہیں ہیں کتنے سالوں سے سب کچھ ان کے ہاتھ میں انہوں نے کھبی یہ ہیر پھیر نہیں کیا تو اب کیوں کریں گے” زین نے بھی زعیم کی حمایت کی تو سلیمان نے کچھ کہنے کی بجائے بس غصے سے سر جھٹکا تھا
________________________
صبح پہلے زعیم کی آنکھ کھلی تھی اتنے دنوں بعد بیڈ پہ سونے کی وجہ سے پرسکون نیند آئی تھی ورنہ تو صوفے پہ وہ بمشکل ہی ایڈجسٹ ہو پاتا تھا اس نے منہ سے چادر ہٹاتے مندی مندی آنکھیں کھول کے صوفے کی طرف دیکھا تھا جہاں احواد دنیا جہان سے بیگانہ میٹھی نیند سو رہی تھی
زعیم کچھ پل خاموشی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھتا تھا یہ چہرہ جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا تھا لیکن یہ بات ہمیشہ اس نے خود سے بھی چھپا رکھے تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کھبی بھی اس کا نصیب نہیں بن سکتی مگر قسمت کے ہیر پھیر نے اسے اس کا نصیب بنا ہی دیا تھا
“یہ اور میرا نصیب” وہ خود پہ استہزائیہ ہنسی ہنسا تھا
ہاں وہ اس کا نصیب بنی تھی مگر عارضی طور پہ جب تک وہ اس کے نکاح میں نہیں آئی تھی وہ سکون میں تھا لیکن اب اپنانے کے بعد چھوڑ دینا یہ اس کی بےچینیوں میں اضافہ کر رہا تھا
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے بس یہی سب سوچے جا رہا تھا لیکن پھر جلد ہی اپنی ہر سوچ کو جھٹکتے وہ اٹھا تھا اور پھر الماری سے ٹاول اور اپنے کپڑے نکال کے وہ نہانے چلا گیا تھا جاتے ہوئے دروازہ بہت زور سے بند کر کے گیا تھا تا کہ وہ اٹھ جائے
لیکن جب وہ نہا کے واپس آیا تو وہ ویسے ہی پڑی ہوئی تھی زعیم نے اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا اور تولیہ بیڈ کی پائینتی پہ رکھتے اپنے قدم صوفے کی طرف بڑھائے تھے اور ہلکا سا اس کی طرف جھکتے اس کا کندھا پکڑ کے جھنجھوڑتے اسے اٹھایا تھا
اس کے بری طرح جھنجھوڑنے پہ نیند میں گم احواد نے ہڑبڑاتے ہوئے آنکھیں کھولی تھیں جو سیدھی خود پہ جھکے زعیم کی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں اور اسے خود پہ جھکا دیکھ کر احواد نے بےساختہ چیخ ماری تھی جس پہ زعیم بوکھلاتے ہوئے اس کا کندھا چھوڑ کے پیچھے ہٹا تھا
اس کے پیچھے ہٹتے احواد اپنی بےترتیبی سے دھڑکتے دل پہ ہاتھ رکھتی سیدھی ہو کہ بیٹھی تھی اس دوران زعیم بھی اپنی بوکھلاہٹ پہ قابو پاتے اب اسے گھورنے میں مصروف تھا
“یہ کیا بیہودگی تھی؟” زعیم کا اشارہ اس کی چیخ کی طرف تھا
“ہاں تو اتنی بری طرح کون جگاتا ہے میں ڈر گئی تھی” احواد نے سر الزام اس کے سر ڈالا تھا زعیم نے اسے گھورتے کچھ کہنا چاہا تھا مگر پھر خاموش ہو گیا تھا
“میں ہاسپٹل جا رہا ہوں اماں اور انوشہ کو لینے آپ نے ساتھ جانا ہے یا گھر ہی رہنا ہے؟” زعیم نے ڈریسنگ کی طرف قدم بڑھاتے اس سے پوچھا تھا
“میں ساتھ جاوں گی” احواد جھٹ سے کھڑی ہو گئی تھی اس کہ جلد بازی پہ زعیم نے نظر گھماتے اسے دیکھا تھا شاید وہ کل والے واقعے سے کچھ زیادہ ہی ڈر گئی تھی
“جلدی سے ریڈی ہو جائیں پھر” زعیم نے کہا تو وہ سر ہلاتے الماری کی طرف بڑھی تھی پھر دس منٹ تک ریڈی ہو کے وہ زعیم کے سامنے کھڑی تھی
“آپ کو کچھ بنانا آتا ہے؟” زعیم نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ گہرا سانس بھر کے رہ گیا تھا اور پھر اسے لیے شہر کے لیے نکل گیا تھا
ہاسپٹل جانے سے پہلے انہوں نے اک ڈھابے سے ناشتہ کیا تھا بقول زعیم کے ہوٹل جانے کی اس اوقات نہیں ہے جس پہ احواد نے اسے گھورتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اتنا غریب بھی نہیں ہے جتنا وہ خود کو ظاہر کرتا ہے بدلے میں اس نے بس کندھے اچکائے تھے
ہاسپٹل پہنچتے زعیم نے کافی دیر اماں اور انوشہ کو خود کے ساتھ بھینچ کے رکھا تھا جیسے وہ ان دونوں کو صدیوں بعد مل رہا ہو احواد نے بھی انوشہ سے حال احوال پوچھا تھا
پھر وہ ساری فارمیلٹیز پوری کرتے اسے ڈسچارج کروا کے گھر لے آئے تھے زعیم انہیں گھر چھوڑ کے خود حویلی گاڑی دینے گیا تھا بس پورچ میں گاڑی پارک کے وہ باہر آ گیا تھا اندر جانے کی اسے اجازت نہیں تھی
حویلی سے نکلتے وہ ڈیرے آیا تھا وہاں چودھری حشمت کے ساتھ موجود سلیمان اور زین کو دیکھتے وہ چونکا تھا اسے ابھی تک چودھری حشمت کے بیہوش ہونے کا نہیں پتہ تھا وہ انہیں سلام کر کے آگے بڑھنے لگا تھا
“رکو زعیم مجھے تم سے بات کرنی ہے” چودھری حشمت کی آواز پہ اس کے بڑھتے قدم رکے تھے
“جی سائیں” واپس پلٹتے وہ چودھری حشمت کے سامنے آ کر رکا تھا
“وہ فضلو موچی نے کافی عرصہ ہو گیا ہے ہم سے قرض لیا ہے واپس نہیں کیا اس نے ابھی تک تم جا کر پتہ کرو کب تک واپس کرنے کا ارادہ ہے اس کا” چودھری حشمت نے ڈائریکٹ بات کرنے کی بجائے گھما پھرا کے بات شروع کی تھی
“سائیں وہ تو پرسوں دے گیا تھا پیسے آپ ڈیرے پہ نہیں تھے اور میرا حویلی جانا منع ہے اس لیے میں لاکر میں رکھ دیے تھے پھر کل آپ لیٹ آئے تھے اور تب میں طبعیت خرابی کی وجہ سے چھٹی لے کر چلا گیا تھا یاد نہیں رہا تھا آپ کو بتانے کا” زعیم نے سنجیدگی سے انہیں بتایا تھا
“جاؤ لے کر آؤ وہ پیسے” چودھری حشمت کی بجائے سلیمان نے کہا تو اس نے چونک کر حیرے سے اس کی شکل دیکھی تھی جہاں عجیب سے تاثرات چھائے ہوئے تھے اس کی چھٹی حس نے اسے کسی انہونی کی خبر دی تھی
اس نے اپنی حیرت پہ قابو پایا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا لاکر کھولا تو خالی لاکر اس کا منہ چڑا رہا تھا جہاں بس رجسٹر تھے جبکہ پیسوں کا نام و نشان کہی نہیں تھا زعیم کے سر پہ تو مانو ساتوں پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے پھر اس نے سارا لاکر چھان مارا مگر اسے کچھ نہ ملا
“اوہ میرے اللہ کہاں گئے پیسے؟” وہ پریشانی سے بڑبڑایا تھا اور اک دفعہ پھر پورا لاکر چھان مارا مگر اس دفعہ پھر اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا
“کیا ہوا نہیں ملے پیسے کیا؟” وہ لٹکا ہوا منہ لے کر واپس آیا تو سلیمان نے پوچھا تھا
“نہیں پتہ نہیں کہاں گئے ہیں میں نے خود میں لاکر میں رکھے تھے مگر اب مل ہی نہیں رہے” زعیم کی پریشانی اس کے لہجے سے ہی چھلک رہی تھی
“پیسے لاکر میں ہوں گے تو ملیں گے نا وہ پیسے تم نے خود غائب کیے ہیں اور اب ہمارے سامنے انجان بننے کے ڈرامے کر رہے ہو اور کتنا بےوقوف بناؤ گے ہمیں؟” سلیمان اپنا ضبط کھوتے چلایا تھا
زعیم نے بےیقینی سے پہلے اسے اور پھر چودھری حشمت کو دیکھا تھا جنہوں نے اس کی بات کی تردید کے لیے کچھ بھی نہیں کہا تھا یعنی وہ بھی مان رہے تھے کہ پیسے اس نے ہی غائب کیے ہیں
“میں کیوں پیسے غائب کروں گا؟ یہ تو بس دو لاکھ تھے میرے پاس تو اسی نوے لاکھ تک بھی پیسے رہے ہیں میں نے وہ کھبی غائب نہیں کیے تو یہ کیوں کروں گا” زعیم نے بےیقینی اور دکھ سے کہا تھا
“اپنی بہن کے علاج کے لیے پیسے نہیں ہوں گے تو تم نے بابا سائیں کی بیہوشی کا فائدہ اٹھایا وہ بیہوشی ہوئے وقاص انہیں گھر لے گیا اور ان کی غیر موجودگی تمہارے لیے سنہرا موقع تھا تم نے کر لیے ہوں گے غائب تم سے یہاں پوچھنے والا کونسا کوئی تھا اور لاکر کھلتا بھی تمہارے اور بابا سائیں کے فنگر پرنٹ سے ہے تو کوئی اور کیسے نکال سکتا ہے؟” سلیمان کی بات پہ اسے دھجکا لگا تھا چودھری حشمت بیہوش کب ہوئے تھے
“سائیں بیہوش کب ہوئے تھے؟” اس نے تو گویا پوری بات میں بس چودھری حشمت کا بیہوش ہونا ہی سنا تھا
“کل ہی جب تم طبعیت خرابی کا بہانا کر کے گھر گئے تھے مجھے تو لگتا ہے تمہی نے کچھ کیا ہو گا ورنہ کوئی اچانک کیسے بیہوش ہوتا بغیر کسی وجہ کے اور اگر وقاص وقت پہ نا آتا تو ناجانے بابا سائیں کتنی دیر یہاں بیہوش پڑے رہتے کچھ ہو جاتا تو؟” سلیمان بدگمانی کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا اس کی باتوں سے لمحہ بہ لمحہ زعیم کا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا
“بس بہت ہو گیا میں نے احواد سے نکاح کیا جب سب کو یہ بات پتہ چلی تو میں نے تصدیق کی تھی مکرا نہیں تھا اگر اب میں پیسے لیے ہوتے اپنی بہن کے علاج کے لیے تو میں ڈنکے کی چوٹ پہ اقرار کرتا اس بات کا مکرتا نہیں اور آپ لوگوں کا وقاص جتنا شریف ہے وہ مجھ سے پوچھیں رات ہسپتال سے واپسی پہ اس نے مجھ پہ اور احواد پہ حملہ کیا تھا تا کہ احواد کی عزت،،، ” زعیم نے شدید غصے میں بات ادھوری چھوڑی تھی اب کی بار چونکنے اور حیرت سے دھنگ رہ جانے کی باری ان تینوں کی تھی
“میں نے جتنی مشکلوں سے خود کو اور انہیں بچایا ہے یہ مجھے پتہ ہے اور مجھے لگتا ہے سائیں بیہوشی اور ان پیسوں کے پیچھے غائب ہونے میں ہاتھ بھی اس کا ہے” زعیم کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا
“بس کرو زعیم میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم یہ سب کرو گے اور اب خود کو بچانے کے لیے میرے بھتیجے کو بدنام کر رہے ہو” چودھری حشمت کی بات سن کے بےیقینی سے اس کی آنکھیں پھیلی تھیں
“سائیں مجھے بھی آپ سے یہ امید نہیں تھی آپ ہمیشہ کہتے تھے زعیم مجھے میرے بیٹوں سے بھڑ کے عزیز ہے لیکن آج مجھے پتہ چلا وہ سب جھوٹ تھا آپ کو تو مجھ پہ زرا برابر بھی یقین نہیں وہ سب دعوے جھوٹے تھے خیر اگر میری بات پہ نہیں یقین تو اپنی بیٹی سے پوچھ لیجیے گا اپنے بھتیجے کی کارستانی یقیناً اپنی بیٹی پہ تو آپ کو یقین ہو گا” اذیت بھرے لہجے میں زعیم نے انہیں کہا تھا
“میں اب مزید یہاں نہیں رک سکتا آپ کسی اور منشی کا انتظام کر لیں اور آپ کے دو لاکھ بھی آپ کو لٹا دوں گا ثبوتوں کے ساتھ کہ وہ میں نے چوری نہیں کیے” زعیم اپنی بات مکمل کرتے ان تینوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتے وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے وہ تینوں الجھ کے رہ گئے تھے کیونکہ اس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا لیکن اگر وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا تو پیسے کہاں گئے؟ یہی سوال ان تینوں کے دماغ میں گھوم رہا تھا
جاری ہے___________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *