Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09
احواد گاڑی سے اتر کر سیدھا اپنے روم مین گئی تھی اس نے شکر کیا تھا کہ کوئی اسے رستے میں نہیں ملا کیونکہ اس کے چہرے پہ چھائی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی کمرے میں آتے ہی بیگ اور چادر بیڈ پہ پھینک کے وہ خود بھی بیڈ پہ ڈھیر ہو گئی تھی
“شکر ہے اک مسئلہ تو حل ہوا” گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے احواد بڑبڑائی تھی
“ویسے یہ خبر سن کے بابا سائیں کا کیا ری ایکشن ہو گا؟” اس کے ذہن میں سوال اٹھا تھا اور چہرے پہ تھوڑی پریشانی بھی چھائی تھی
“فلحال بابا سائیں کو تو چھوڑتے ہیں زیادہ مزا تو تب آئے گا جب وقاص کو یہ پتہ چلے گا کہ میرا نکاح کسی اور سے ہو گیا ہے” وقاص کے بارے میں سوچتے وہ بےساختہ کھلکھلائی تھی
“کیا بات ہے یہ میری بیٹی اکیلے ہی کیوں ہنسی جا رہی ہے؟” چودھرائن کی آواز سن کے وہ تیزی سے سیدھی ہوئی تھی
“ارے اماں سائیں؟ آپ کیوں آئیں مجھے بلاوا لیتیں” اس نے انہیں بیڈ پہ بیٹھاتے کہا تھا
“ارے نہیں میں بس دیکھنے آئی تھی کہ تم آئی ہو یہاں نہیں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی آج تم لیٹ آئی ہو خیریت؟” انہوں نے اس کے بال سنوارتے محبت سے پوچھا تھا
“ہاں وہ بس آج اک کلاس ایکسٹرا تھی بس اسی لیے لیٹ ہو گئی” احواد نے نظریں چرائی تھیں کیسے بتاتی انہیں کہ آپ کی بیٹی کسی کی مجبوری کا سودا کر کے آئی ہے
“چلو کوئی بات نہیں تم فریش ہو جاؤ میں کھانا لگواتی ہوں” چودھرائن نے وہاں سے اٹھنا چاہا تھا
“نہیں اماں سائیں ابھی میرا موڈ نہیں ہے ابھی آپ کچھ دیر میرے پاس بیٹھیں” انہیں اٹھنے سے منع کرتے وہ ان کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گئی تو چودھرائن مسکرائی تھیں
“جب سے آپ کی بہو آئی ہے آپ کے پاس بیٹی کے لیے ٹائم ہی نہیں ہے” احواد نے ان کا ہاتھ پکڑ کے انگلیوں کے ساتھ کھیلتے شرارت سے کہا تھا
“چل ہٹ وہ بہو نہیں ہے تمہاری طرح وہ بھی میری بیٹی ہے” احواد کو گھورتے انہوں نے اسے ہلکی سی چپت لگائی تو وہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی
چودھرائن کو وہ ہنستے ہوئے اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ انہوں نے بےساختہ اپنی نظریں اس پر سے ہٹائی تھیں کہ کہی اسے ان کی نظر نہ لگ جائے اور ساتھ ہی دعا بھی کی تھی کہ اللہ اسے ہر بری نظر سے دور رکھے
“ویسے میں تو سارا دن آپ کے کان کھاتی رہتی ہوں آپ کی دوسری بیٹی بھی کیا ایسے ہی کرتی ہے؟” اس نے ہنوز شرارتی لہجے میں کہا تھا
“نہیں بلکہ وہ تو بلکل پرسکون بچی ہے اس نے بچپن سے ہی جھڑکیاں اور کوسنے ہی سنے ہیں تو وہ مجھ سے بھی بات کرتے ہوئے احتیاط کرتی یے کہ کہی مجھے کچھ برا نہ لگ جائے میں تو کافی دفعہ اسے ٹوک چکی ہوں کہ وہ کوئی بھی بات ہو بلاجھجھک کہے لیکن آہستہ آہستہ ہی ٹھیک ہو گی اب وہ” اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے وہ بول رہی تھیں احواد نے بس سر ہلا دیا تھا
“احواد اک بات پوچھوں؟” تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد انہوں نے کہا تھا
“ارے اماں سائیں آپ پوچھ کیوں رہی ہیں آپ کو حق ہے ہزاروں سوال پوچھنے کا” اپنے ہاتھ میں موجود ان کا ہاتھ چومتے احواد نے کہا تھا
“آج تم مجھے بہت خوش لگ رہی ہو ایسی خوشی جو تمہارے چہرے پہ چمک بن کے دکھ رہی ہے ایسی کونسی خوشی ہے اپنی اماں سائیں کو بھی تق بتاؤ” ان کی بات سن کے احواد جھٹ سے اٹھ کے بیٹھی تھی
“نہیں اماں سائیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بھلا مجھے ایسی کونسی خوشی ملنی تھی جو میرے چہرے پہ چمکے” احواد نے اپنے منہ پہ ہاتھ پھیرتے انہیں ٹالا تھا
“اور مجھے بھوک لگ رہی ہے آپ کھانا لگوائیں میں منہ ہاتھ دھو کے ابھی آئی” ان کی کوئی بھی بات سنے بغیر اپنی ہانک کے وہ واش روم چلی گئی تھی چودھرائن کچھ پل اس کی پشت کو پرسوچ نظروں سے دیکھا تھا پھر سر جھٹکتے وہاں سے اٹھ گئی تھیں
“یااللہ کیا واقعی ہی میں اتنی خوش ہوں کے میرے چہرے سے سب صاف عیاں ہو رہا ہے؟” واش روم میں شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے اس نے اپنے چہرے کا جائزہ لیا تھا لیکن اسے ایسا کچھ نظر نہ آیا تو کندھے اچکاتے ہاتھ منہ دھوتے باہر آ گئی تھی
______________________________
ڈاکٹر نے انوشہ کی سرجری کی ڈیٹ دے دی تھی اس کو لاتعداد تسلیاں دینے کے بعد بھی زعیم اس کے ڈر کو ختم نہیں کر پا رہا تھا وہ کتنی دفعہ اسے کہہ چکی تھی کہ وہ یہ سرجری نہیں کرواتے میڈیسنز کھا ہی وہ ٹھیک ہو جائے گی لیکن زعیم کے سامنے اس کی اک نہیں چل رہی تھی
ہاسپٹل جانے سے پہلے وہ حشمت صاحب کے پاس آیا تھا یہ بتانے کے وہ اپنی بہن کی سرجری کے لیے شہر جا رہا ہے اس لیے کچھ دن اس کی جگہ کوئی اور کام سنبھالے گا وہ پہلے ڈیرے گیا تھا وہاں چودھری حشمت نہ ملے تو وہ حویلی آیا تھا جو وہ بلکل بھی آنا نہیں چاہتا تھا اس کا ابھی تک احواد سے سامنا نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ اس دن سے چھٹیوں پہ تھی اور نہ ہی وہ اس کا سامنا کرنا چاہتا تھا
لیکن بری قسمت اسے حویلی جانا پڑا تھا اور اس سے بری قسمت کے سب کے ساتھ وہاں احواد بھی بیٹھی ہوئی تھی زعیم نے اپنی نظریں جھکا کے ہی رکھی تھیں تا کہ وہ احواد کو نہ دیکھ سکے
“خیر ہے زعیم پتر یہاں کیسے آنا ہوا؟” چودھری حشمت کے پرشفقت لہجے کو سن کر زعیم کے اندر بےچینی پھیلی تھی
“وہ میری بہن کو برین ٹیرمر ہے آپ کینسر ہی سمجھ لیں اس کا آپریشن ہے اس کے لیے شہر جا رہے ہیں کچھ دن لگ جائیں گے بس یہی بتانے آیا تھا آپکو کے آپ اتنے دن کسی اور کے حوالے کر دیں انتظامات” اس نے سر جھکائے ہی جواب دیا تھا
“اوہو تم نے پہلے نہیں بتایا کہ بیٹیا کو ایسی کوئی بیماری ہے” چودھری حشمت کے لہجے میں ہلکا سا افسوس تھا
“بس ہمیں بھی کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا ہے اور اب آپریشن کے لیے جانا ہے آپ بس دعا کریے گا” زعیم نے اک دفعہ بھی نظریں نہیں اٹھائی تھیں
چودھری حشمت جانتے تھے کہ علاج بہت مہنگا ہو گا اور وہ فکرمند بھی ہوئے تھے کہ جانے اس کے پاس علاج کے لیے رقم بھی ہو گی یا نہیں اک دفعہ تو ان کے دل میں آیا کہ اسے کہہ دیں کہ اگر اسے پیسوں کی ضرورت ہے تو وہ ان سے لے سکتا ہے لیکن پھر خودداری کا سوچتے انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر لیا تھا اگر وہ آپریشن کے لیے لے کر جا رہا تھا اپنی بہن کو تو یقیناً اس نے پیسوں کا انتظام بھی کر لیا ہو گا
“چلو اللہ پاک بیٹیا کو صحت اور تندرستی دے اور اگر کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو ضرور بتانا” چودھری حشمت نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اسے جو کہنا چاہا تھا زعیم اچھی طرح سمجھ رہا تھا زعیم سر اٹھا کے پھیکا سا مسکرایا تھا
“نہیں بس آپ دعا کر دیں یہی بہت ہے” زعیم نے کہا تو احواد نے بغور زعیم کا جائزہ لیا تھا جو نظریں جھکائے ہوا تھا اسے دیکھ کر احواد کے لبوں پہ اک طنزیہ مسکراہٹ آئی تھی
“کیا طاقت ہے پیسے میں اس میں کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے کسی کی خودداری بھی” زعیم کو دیکھتے اس نے سوچا تھا اور پھر سر جھٹک دیا تھا
لیکن شاید وہ یہ بھول رہی تھی جس پیسے پہ وہ اتنا گھمنڈ کر رہی تھی وہ اس کا نہیں اس کے باپ کا تھا جس باپ کی حکم عدولی کرتے آذادی کی زندگی گزارنے کے سنہرے سپنے سجائے کسی کی مجبوری سے کھیل گئی تھی
“چلیں میں اب چلتا ہوں آپ سب دعا کریے گا میری بہن کے لیے اللہ حافظ” احواد کی نظریں وہ خود پہ اچھی طرح محسوس کر رہا تھا اس سے مزید وہاں کھڑا نہ رہا گیا تو انہیں اللہ حافظ کہتے وہاں سے چلا گیا تھا
“بزدل کہی کا” احواد اس کی تیزی سے جانے پہ اک دفعہ پھر بڑبڑائی تھی
زعیم گھر آیا تو اماں اور انوشہ جانے کے لیے تیار بیٹھی تھیں لیکن انوشہ کی شکل سے لگ رہا تھا وہ ابھی رو دے گی زعیم جا کے اس کے پاس بیٹھا تھا
“کیا بات ہے میرا بچہ پریشان لگ رہا ہے؟” زعیم نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا
“بھائی ہم یہ سرجری رہنے دیتے ہیں نا” اس نے زعیم کو دیکھتے آس سے کہا تھا
“میرا پیارا بچہ تم سمجھ کیوں نہیں رہی یہ ضروری ہے نا میڈیسن سے یہ دوبارہ بھی بن سکتا ہے لیکن سرجری کے بعد قوی امید ہے کہ یہ دوبارہ نہیں بنے گا” زعیم نے اسے پیار سے سمجھایا تھا
“مگر بھائی میرا دل نہیں مان رہا” اس نے منہ بسورا تھا
“فضول سوچوں کو دماغ میں جگہ مت دو میں بھی کپڑے بدل کے آتا ہوں پھر چلتے ہیں” اسے گھوری سے نوازاتے زعیم وہاں سے اٹھ گیا تھا اور پیچھے بس وہ منہ بسورتی رہ گئی تھی وہ اتنی ڈرپوک تھی کہ انجیکشن سے ڈر جائے اور کہاں سرجری اس لیے اسے بہت زیادہ ڈر لگ رہا تھا
_____________________________
احواد شام کو بیٹھی بور ہو رہی تھی کچھ بھی نہیں تھا اس کے پاس کرنے کو معمول کے مطابق چودھرائن اور غزل کچن میں تھیں اور وہ تو کچن میں جانا اپنی توہین سمجھتی تھی چودھرائن لاکھ اسے ڈانٹتی ڈپٹتی لیکن اس پہ اثر نہیں ہوتا تھا ابھی وہ بیٹھی منہ کے مختلف زاویے بنا رہی تھی کہ وقاص کو آتے دیکھ کر اک شیطانی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ چمکی تھی
“ہائے ڈئیر کزن کیسے ہو؟” جب وقاص اس کے نزدیک آیا تو اس نے چہرے پہ اک مسکراہٹ سجائے پوچھا تھا وقاص کے لیے تو یہ مقامِ حیرت تھا کہ احواد اس سے مسکرا کے بات کر رہی ہے
“خیر تو ہے؟ آج سورج مغرب سے تو نہیں نکلا جو تم مجھ سے مسکرا کے بات کر رہی ہو” اس نے اپنی حیرت کو زبان پہ لایا تھا
“نہیں میں نے سوچا دو دن کی زندگی کیا اسے لڑ جھگڑ کے گزارنا جب یہ مسکرا کے بھی گزر سکتی ہے” احواد اس کی حیرت سے خوب لطف اندوز ہوئی تھی
“مجھے لگتا ہے میں خواب دیکھ رہا ہوں” وقاص ابھی بھی بےیقینی کی کیفیت میں تھا اس کی بات پہ احواد کھل کے مسکرائی تھی
“کیا پتہ واقعی ہی تم کسی خواب میں ہو جو جلد ہی اک جھٹکے سے ٹوٹ جائے” تھوڑا سا اس کی طرف جھکتے احواد نے معنی خیزی انداز میں کہا تھا
“کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟” اس کی بات پہ وقاص نے الجھ کے اسے دیکھا تھا
“ارے چھوڑو مطلب کو مطلب میں کیا رکھا ہے فلحال جو چل رہا ہے اسے چلنے دو” احواد نے کہا تو وقاص نے بھی کندھے اچکائے تھے
“ویسے اس کایا پلٹ کا کیا راز ہے؟” وقاص کا لہجہ تجسس سے بھرپور تھا
“ویٹ مائی ڈیر کزن ویٹ جلد ہی پتہ چل جائے گا وہ کیا کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے” احواد نے مبہم سے انداز میں کہا تھا جس سے وقاص اک دفعہ پھر الجھا تھا
“عجیب لڑکی ہو تم کل تک کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی اور آج اتنا میٹھا انداز کچھ ہضم نہیں ہو رہا” وقاص سے صبر نہیں ہو رہا تھا وہ وجہ جاننا چاہ رہا تھا کہ آخر اچانک احواد کو ہوا کیا ہے
“ارے میں نے کہا نہ بہت جلد ہضم ہو گا اور ایسا ہضم ہو گا کہ زندگی بھر یاد رکھو خیر چھوڑو ان باتوں کو تم بیٹھو میں تمہارے لیے چائے لے کر آتی ہوں” اسے مزید الجھا کے احواد کچن کی طرف بڑھ گئی تھی
“کوئی تو گڑبڑ ہے اس کے انداز اور اس کی باتوں میں کوئی تو راز ہے جلد ہی پتہ لگانا پڑے گا اس پہلے کے پانی سر سے گزر جائے” وقاص بڑبڑایا تھا یہ جانے بغیر پانی سر سے گزر چکا تھا
“اماں سائیں آپ کا بھتیجا اور ہونے والا داماد آیا ہے اس کے لیے چائے بنا دیں” احواد نے کچن میں داخل ہوتے ہانک لگائی تھی چودھرائن نے حیرت سے پلٹتے اسے دیکھا تھا
“کون آیا ہے؟” انہوں نے حیرت سے پوچھا تھا
“آپ کا بھتیجا پلس ہونے والا داماد” احواد نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے کہا تھا
چودھرائن کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ کہاں وقاص کو دیکھتے ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہونے والی احواد اس کے لیے چائے لینے آئی تھی کچھ دنوں سے انہیں اس کے تیور کچھ بدلے بدلے لگ رہے تھے اور اب تو انہیں یقین ہو گیا تھا کوئی تو بات ہے جو احواد ان سے چھپا رہی ہے
“اچھا اماں سائیں آپ چائے بھجوا دیجیے گا میں وقاص کے پاس ہی بیٹھی ہوں” اس کی بات سن کے چودھرائن کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹنے کے قریب ہو گئی تھیں احواد باہر آ کے وقاص کے ساتھ باتیں کرنے لگی تھیں جو اس کی اتنی خوش اخلاقی پہ حیران کم اور پریشان زیادہ ہو رہا تھا اور ساتھ ہی اس کے رویے کے پیچھے چھپی وجہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا
جاری ہے_______________!!
