Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07

“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟” زعیم نے بےیقینی کی کیفیت میں ڈاکٹر سے پوچھا تھا
“میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں ان رپورٹس کے مطابق ابھی اینیشل سٹیج پہ ہی ہے اور علاج کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے” ڈاکٹر انداز تسلی دینے والا تھا
“بیسکلی جب دماغ میں ابنارمل سیلز کی نشونما بڑھ جاتی ہے تو یہ سیل اک جگہ جمع ہو کر ٹیومر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں برین ٹیومر کی ان نشونما کے حساب سے انہیں گریڈز دیے جاتے ہیں جن سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ ٹیومر کتنی تیزی سے نشونما پاتے ہیں اور علاج کے بعد کس حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں ٹیومر کے چار گریڈز ہیں گریڈ ون اور ٹو نچلے درجے کے ہوتے ہیں اور گریڈ تھری اور فور زیادہ بڑھے ہوئے مرض کے لیے استعمال ہوتے ہیں” ڈاکٹر زعیم کو اس بیماری کے بارے میں بریفنگ دے رہا تھا
“بنیادی طور پہ برین ٹیومر کی دو اقسام ہیں نمبر ایک بینائن (نون کینسرس) برین ٹیومر اور نمبر دو میلگننٹ (کینسرس) برین ٹیومر۔ بینائن برین ٹیومر لو گریڈ میں شمار ہوتا ہے یقنی گریڈ ون اور گریڈ ٹو میں جس کا مطلب ہے کہ ٹیومر کی نشونما سست روی سے ہوتی ہے اور علاج کے بعد یہ شاید ہی دوبارہ بنتا ہے
میلگننٹ برین ٹیومر کا شمار ہائی گریڈ ٹیومر میں ہوتا ہے یعنی گریڈ تھری اور گریڈ فور میں یہ یا تو دماغ میں ہی پیدا ہوتے ہیں یا کسی اور جگہ سے پھیلکے دماغ میں آتے ہیں اور یہ ٹیومر علاج کے بعد دوبارہ پھیل جاتے ہیں” زعیم بہت غور سے ڈاکٹر کی باتیں سن رہا تھا
“اس بیماری کی علامت بہت کامن ہیں جس کی وجہ سے لوگ زیادہ دھیان نہیں دیتے مثلاً سر درد، متلی، طبعیت کا بوجھل رہنا، یادداشت اور نظر کا کمزور ہونا، جسم میں توازن برقرار نہ رہنا یہ سب عام سی باتیں ہیں اور کھبی کھبی تو یہ علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں بس لاسٹ سٹیج پہ جا کر پتہ چلتا ہے جب ٹیومر دماغ میں بری طرح اپنی جڑیں گاڑھ چکا ہو” ڈاکٹر کی بات سن کے اک لمحے کو زعیم کا دل کانپا تھا اگر انہیں بھی لاسٹ سٹیج پہ جا کر پتہ چلتا تو؟
“آپ کی سسٹر کو پہلی قسم کا ٹیومر ہے یعنی بینائن برین ٹیومر جس میں ٹیومر کی نشونما سست روئی سے ہوتی ہے اور یہ ہے بھی ابھی شروعات تو یہ آسانی سے ختم ہو سکتا ہے اور امید یہی ہو گی کہ دوبارہ نہیں بنے گا ٹیومر” ڈاکٹر کی بات سن کے اس کے دل کو تھوڑی تسلی ہوئی تھی
“علاج کا کیا پروسیجر ہو گا؟” زعیم نے پوچھا تھا
“سرجری ہو گی اور اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو کیمو تھراپی بھی ہو گی” ڈاکٹر نے بتایا تھا
“اور ان سب پہ خرچا کتنا آ جائے گا” زعیم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا تھا یہ پوچھنا بھی ضروری تھا تا کہ وہ بندوبست کر سکے
“سرجری اور باقی کے سارے اخراجات کو ملا کے آٹھ نو لاکھ تو جائے گی بات” ڈاکٹر نے اس کے سر پہ اک اور بمب پھوڑا تھا
“میں ابھی آپ کو کچھ میڈیسنز لکھ دیتا ہو‌ جب تک سرجری نہیں ہو جاتی تب تک یوز کریں اور جب نیکسٹ ٹائم چیک اپ کے لیے آئیں گے تو اگر آپ نے سرجری کروانی ہوئی تو سرجری کی ڈیٹ دے دیں” ڈاکٹر نے اپنے سامنے پڑے نوٹ پیڈ پہ انگلیاں چلاتے کہا تھا
“بہت شکریہ” زعیم ان سے دوائیوں والا پرچہ پکڑتے کیبن سے باہر آ گیا تھا
باہر آ کے اس نے ان دونوں کو وہی بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود ڈسپنسری چلا گیا تھا میڈیسنز لے کر واپس آیا اور دونوں کو ساتھ لیے پارکنگ میں آیا تھا احواد کا دل تو کر رہا تھا اتنے انتظار کے بعد اسے اچھی خاصی سنائی لیکن اس کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر ناجانے کیون چپ کر گئی تھی
حویلی احواد کو چھوڑنے اور گاڑی کھڑنے کے بعد چوہدری حشمت کو بتا کے وہ گھر آ گیا تھا اس کے چہرے پہ پریشانی اور سنجیدگی کے سجے تاثرات دیکھ کر انوشہ بھی پریشان ہوئی تھی لیکن اس سے پوچھا کچھ نہیں تھا وہ گھر پہنچے تو اماں انہی کی انتظار میں بیٹھی تھیں
“آ گئے خیر سے تم دونوں” اماں نے ان دونوں کو آتے دیکھ کر کہا تھا لیکن ان کی نظروں سے زعیم کے چہرے پہ چھائی پریشانی چھپی نہیں رہی تھی
“جاؤ میرا بچہ اپنے روم میں ریسٹ کرو” زعیم نے اسے وہاں سے بھیجنا چاہا تھا اور وہ بھی سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
“پتر خیر تو ہے نا تُو مجھے پریشان لگ رہا ہے” اماں نے پریشانی سے پوچھا تھا
“اماں ہماری انوشہ کو برین ٹیومر ہے” زعیم نے تھکے تھکے لہجے میں کہا تھا
“کیا ہے؟” اماں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“مطلب کینسر ہی سمجھ لیں” اس نے اماں کو آسان لفظوں میں سمجایا تھا اماں نے بےساختہ منہ پہ ہاتھ رکھا تھا
“ڈاکٹر کہتا ہے کہ ابھی بس شروعات ہے آپریشن کر کے نکال دیں گے پھر ٹھیک ہو جائے گی اور آپریشن پہ بھی نو سے دس لاکھ کا خرچا آ جائے گا” اس نے سر جھکائے دھیمی آواز میں کہا تھا
“یہ اتنی بڑی بیماری کیسے لگ گئی میری بچی کو اور یہ اتنے زیادہ پیسے آئیں گے کہاں سے” اماں نے رونا شروع کر دیا تھا
“اماں ایسے مت کریں میری ہمت ہیں آپ دونوں اور ڈاکٹر نے کہا تو ہے آپریشن کے بعد وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی اور رہی پیسوں کی بات تو اللہ ہے نا وہ کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا ہی دے گا” زعیم نے انہیں اپنے حصار میں لے کے انہیں تسلی دی تھی لیکن وہ ہنوز رو رہی تھیں
“اماں روئیں مت ابھی تو انوشہ کو بھی بتانا ہے اس کی بیماری کے بارے میں اور اسے مضبوط بنانا ہے اگر آپ بھی ہمت ہار جائیں گی تو میں کیسے دونوں کو سنھبالوں گا” اس نے بےبسی سے کہا تو اماں نے جھٹ سے آنسو صاف کیے تھے زعیم مسکرا دیا تھا ان کو کھانا لگانے کا بول کے خود سوچوں کے بھنور میں ڈوب گیا تھا
__________________________
چودھرائن اور غزل کچن میں تھیں اور احواد اپنی مخصوص جگہ پہ کرسی پہ دونوں پاؤں اوپر کر کے گھٹنوں پہ چہرہ ٹکائے بیٹھی چودھری حشمت کا انتظار کر رہی تھی آج اس نے ٹھان لیا تھا کہ وہ آر یا پار کر کے رہے گی
چودھری حشمت گھر آئے تو وہ ہمیشہ کی طرح کتاب پڑھنے کی بجائے گھٹنوں پہ چہرہ ٹکائے بیٹھی تھی وہ تشویش سے آگے بڑھے تھے کیونکہ وہ ایسے نہیں بیٹھتی تھی بلکہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ پڑھ رہی ہوتی تھی
“کیا بات ہے میرے پتر کی طبعیت ٹھیک ہے؟” اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے چودھری صاحب نے تشویش سے پوچھا تھا ان کی آواز سن کے احواد نے جھٹ سے سر چہرہ گھٹنوں سے اٹھایا تھا
“ہاں طبعیت ٹھیک ہے آپ بیٹھے نا” احواد نے کرسی پہ سیدھے ہو کے بیٹھتے انہیں بھی بیٹھنے کا کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گئے تھے
“بابا سائیں آپ سے اک بات پوچھوں؟” ان کے بیٹھنے کے بعد احواد نے پوچھا تھا آج اس کے لہجے میں کوئی ڈر نہیں تھا بلکہ خطرناک حد تک سنجیدگی تھی
“پوچھو” انہوں نے کہنے کے ساتھ سر بھی ہلایا تھا
“آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟” احواد کے پوچھنے پہ انہوں نے حیرت سے اس کی شکل دیکھی تھی
“کتنا دفعہ بتا چکا ہوں تم مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیاری ہو تو بار بار اک ہی سوال پوچھنے کا مقصد؟” انہوں نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا تھا
“کیا فائدہ اتنی محبت کا جب میں نے اپنی اگلی ساری زندگی خود پہ جبر کر کے گزارنی ہے” اک طنزیا مسکراہٹ لیے وہ بولی تھی
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟” انہوں نے ساسمجھی سے احواد کو دیکھا تھا
“مطلب تو صاف اور سیدھا ہے جسے آپ سمجھنے کے باوجود سمجھنا نہیں چاہ رہے” اس کی بات پہ چودھری حشمت نے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہی ہے
“احواد جو بات ہے کھل کے کرو یوں پہلیاں مت بھجواؤ” انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا
“تو سیدھی بات یہ ہے کہ مجھے وقاص سے شادی نہیں کرنی وہ مجھے نہیں پسند” چند ثانیے خاموش رہنے کے بعد بالآخر اس نے کہہ ہی دیا تھا
“تو کون پسند ہے؟” چودھری حشمت سے احواد کو اس سوال کی توقع بلکل بھی نہیں تھی اس لیے اس نے حیرت سے ان کا چہرہ دیکھا تھا
“یوں آنکھیں پھاڑ کے مجھے مت دیکھو اگر وقاص نہیں پسند تو کون پسند ہے وہ بتا دو تا کہ میں اس کا نام و نشان اس صفحہ ہستی سے مٹا سکوں” ان کے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی ان کی بات سن کے احواد کو تو گویا کرنٹ لگا تھا
“بابا سائیں” بےیقینی کی کیفیت میں وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی
“احواد پتر اگر میں تمہاری محبت میں خاندان کی مخالفت مول لے سکتا ہوں تو خاندان کی عزت و ناموس کے لیے تمہاری آزادی چھین بھی سکتا ہوں اس لیے چادر دیکھو کے پاؤں پھیلاؤ یہی اچھا ہو گا تمہارے لیے” چودھری حشمت نے اٹل لہجے میں کہا تھا
“اگر یہی سب کرنا تھا تو میرے اتنے لاڈ کیوں اٹھائے اتنا شعور کیوں دلوایا کہ کون صحیح ہے کون غلط اگر میں اپنی اوقات میں رہتی تو آج یہ سب آپ کے سامنے نہ کہہ رہی ہوتی بھیڑ بکریوں کی طرح آپ کے ہر فیصلے پہ سر جھکا دیتی یا پھر آپ مجھے کوئی لاڈ نہ دیتے میری کوئی بات نہ مانتے بس اک یہ مان لیتے” احواد اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی لیکن وہ اس کی سنے بغیر اندر چلے گئے تھے اور وہ کتنے لمحے ان کی پشت دیکھتی رہی تھی
“بابا سائیں میں بھی آپ کی ہی بیٹی ہوں میں کیوں کسی کے گلے کا طوق بنوں؟ اور کیسے اس شخص کا ساتھ قبول کر لوں جسے عورت کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے بس سب کے سامنے ڈھونگ رچتا ہے اچھائی کا جو مرضی ہو جائے شادی تو بھی اس سے نہیں کروں گی” اس نے بپھر کے سوچا تھا اور اٹھ کے کمرے میں بند ہو گئی تھی کھانے کے بلوائے پہ بھی اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کے انکار کر دیا تھا
_____________________________
اگلے دن آف موڈ کے ساتھ بغیر ناشتہ کیے وہ یونی جانے کے لیے تیار تھی چودھری حشمت نے بھی اس پہ کوئی دھیان نہیں دیا تھا وہ غصہ سے پورچ میں آئی تھی زعیم گاڑی کی دوسری طرف کسی سے موبائل پہ بات کر رہا تھا اس لیے وہ اس کا وہاں آنا محسوس نہ کر سکا
“یار انوشہ کو برین ٹیومر نکلا ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے سرجری ہو گی اور سارے علاج پہ کم از کم آٹھ نو لاکھ تک خرچا آ جائے گا” وہ جو اسے گاڑی ان لاک کرنے کا بولنے ہی لگی تھی اس کی بات سن کے اس نے منہ بند کیا تھا
“نہیں یار میری ساری سیونگز ملا کے بھی بس ایک لاکھ تک ہی پیسے بنتے ہیں یا اس سے بھی کم سوچ رہا ہوں چودھری جی مانگ لوں لیکن میری انا، عزت نفس اور خود داری مجھے اجازت نہیں دیتی کل سے میں خود کو بےبسی کی انتہا پہ محسوس کر رہا ہوں” دوسری طرف سے ناجانے کیا کہا گیا تھا کہ اس نے افسردگی سے جواب دیا تھا
اس کی بات سن کے احواد کی آنکھیں جانے کس خیال سے چمکی تھیں زعیم نے اک دو اور بات کر کے کال کٹ کی تھی اور مڑا تھا اسے گاڑی کی دوسری طرف کوئی ہیولا نظر آیا تھا تھوڑا سا آگے ہوا تو احواد کو دیکھ کے ٹھٹھکا تھا لیکن پھر سر جھٹکتے گاڑی ان لاک کی تھی اور خود جا کر ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا احواد کے بیٹھتے ہی اس نے گاڑی آگے بڑھا لی تھی
“تمہاری پرابلم کا اک سلوشن ہے میرے پاس” زعیم جو اپنے دھیان میں ڈرائیو کر رہا تھا اس نے چونک کے بیک ویو مرر سے احواد کو دیکھا تھا
“میں سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟” زعیم نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے پوچھا تھا
“سیدھی سی بات ہے ناسمجھنے والا کیا ہے اس مین تمہیں اپنی بہن کے علاج کے لیے پیسے چاہیے ہیں نا تو میرے پاس تمہاری اس پرابلم کا سلوشن ہے” احواد نے کہا تو زعیم نے اسے گھوری سے نوازا تھا
“شرم نہیں آئی آپ کو میری باتیں سنتے ہوئے” زعیم نے سخت لہجے میں کہا تھا
“میں نے جان بوجھ کے تھوڑی سنی تھیں میں جب آئی تھی تو تم کال پہ بات کر رہے تھے تو میں نے تمہیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا اب میں کان بند کر کے تو وہاں کھڑی نہیں ہو سکتی تھی” احواد نے کندھے اچکائے تھے
“خیر اسے چھوڑو تمہیں پیسے چاہیے میں تمہیں دوں گی تمہیں کسی کے سامنے ہاتھ بھی نہیں پھیلانے پڑیں گے لیکن بدلے میں تمہیں میرا کام کرنا ہو گا” اس کی باتیں سن کے زعیم کا پاؤں بےساختہ بریک پہ گیا تھا
“کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی؟” احواد نے اس سے پوچھا تھا جو حیرت سے گردن موڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“لیکن آپ مجھے پیسے کیوں دیں گی” زعیم کے چہرے پہ الجھن تھی
“کہا تو ہے بدلے میں تمہیں بھی میرا کام کرنا پڑے گا” احواد نے اسے گھورا تھا
“کیسا کام؟” زعیم پورے کا پورا بیک سیٹ کی طرف مڑا تھا
“میں تمہیں تمہاری بہن کے علاج کے لیے پیسے دوں گی بدلے میں تمہیں مجھ سے نکاح کرنا پڑے گا یہ ہی سمجھ لو اک کنٹریکٹ ہو گا یہ” احواد نے اتنی بڑی بات آسانی سے بول دی تھی لیکن زعیم کی ذات جھٹکوں کی زد میں آ گئی تھی
“آپ ہوش میں تو ہیں آپ کو پتا ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں؟” اس جھٹکے سے تھوڑا سنھبلتے زعیم غرایا تھا
“ہاں اچھی طرح جانتی ہوں کیا کہہ رہی ہوں اور پورے ہوش و حواس میں بھی ہوں تمہیں اپنی بہن کے علاج کے لیے پیسے چاہیے وہ میں دوں گی اور بدلے میں تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہو گا اور یہ بس اک کنٹریکٹ میرج ہو گی تمہارا مجھ پہ کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی ہم میں کوئی ہزبینڈ وائف والا کوئی ریلیشن ہو گا بابا سائیں میری شادی زبردستی وقاص سے کروانا چاہتے ہیں لیکن میں ایسا بلکل نہیں چاہتی کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اگر میں اس سے نکاح کر بھی لوں تو بابا سائیں اسے مروا دیں گے لیکن وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں اس لیے تمہیں کچھ نہیں کہیں گے میں کچھ عرصہ تمہارے گھر رہوں گی جب مجھے لگا کہ اب میں اس کے ساتھ جا سکتی ہوں تو تم مجھے طلاق دے دینا” زعیم ساکت سا بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا اس کے چپ ہونے پہ بھی وہ کچھ نہیں بولا تھا
“دیکھو تمہیں بھی ضرورت ہے پیسوں اور مجھے تمہاری مدد کی تو کیوں نہ اک دوسرے کی مدد کر دیں اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ میں کہاں سے تمہیں پیسے دوں گی تو مین تمہیں بتا دوں میرا اپنا اکاؤنٹ ہے جس میں بابا سائیں کے علاوہ میرے دونوں بھائی بھی وقتاً فوقتاً پیسے جمع کرواتے رہتے ہیں جتنے تمہیں چاہیے اس سے کچھ زیادہ ہی ہوں گے میرے اکاونٹ میں” اس نے مزید کہا تو اس کا سکتہ ٹوٹا تھا
“آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں” زعیم نے سخت لہجے میں کہا اور سیدھا ہو کے گاڑی سٹارٹ کر کے فل سپیڈ پہ چھوڑ دی تھی
“دیکھو تم خود کہہ رہے تھے تمہاری خود داری اجازت نہیں دیتی تمہیں کہ تم مانگو تو یہاں تمہیں بن مانگے ہی مل رہے ہیں اگر تمہیں زیادہ اکورڈ لگ رہا ہے تو تم چاہو تو بعد میں مجھے واپس بھی کر دینا جب میں تم سے علیحدگی اختیار کروں گی بےشک تھوڑے تھوڑے کر کے لوٹا دینا” احواد نے کہا تو زعیم کچھ بھی نہیں بولا تھا بس خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا تھا سٹیرنگ پہ اس کی پکڑ اس قدر مضبوط تھی کہ اس کے ہاتھوں کی رگیں صاف نظر آ رہی تھیں دماغ کی رگ بھی پھولی ہوئی تھی اس کی خاموشی کو دیکھ کر احواد بھی مزید کچھ نہیں بولی تھی
“یونی سے واپسی تک تمہارے پاس ٹائم ہے تم اچھے سے سوچ لو کیا کرنا ہے واپسی پہ دوبارہ پوچھوں گی اگر تمہارا جواب ہاں ہوا تو کورٹ میرج کر جائیں گے یہی سے اگر نہ ہوا تو تمہاری مرضی” یونی کے آگے گاڑی جھٹکے سے رکی تو احواد فیصلہ اس پہ چھوڑتے گاڑی سے نکل گئی تھی
جاری ہے_________________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *