Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05
چوہدری حشمت ڈیرے سے حویلی جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ چوہدری شجاعت کی آمد پہ انہیں رکنا پڑا تھا اور ساتھ ہی ان کا ماتھا ٹھنکا تھا کیونکہ وہ ان کے ڈیرے بہت کم آتے تھے سلیمان کی شادی کی خبر سن کے بھی وہ کچھ نہیں بولے تھے حالانکہ چوہدری حشمت ان سے اچھے خاصے اختلاف کی امید رکھ رہے تھے
انہیں چوہدری حشمت کا اپنے بچوں کا اتنا پڑھانا اچھا نہیں لگتا تھا اکثر وہ کہتے بھی تھے کہ یہ پڑھائی تمہارے بچوں کا دماغ خراب کر دے گی اور وہ باغی ہو جائیں گے اور پھر تم بیٹھ کے ہاتھ ملتے رہنا لیکن چوہدری حشمت ان کی باتوں کان نہیں دھرتے اور یہی بات انہیں غصہ دلاتی تھی لیکن کہہ کچھ نہیں سکتے تھے کیونکہ چوہدری حشمت ان کے بڑے بھائی ہیں
سب سے زیادہ اختلاف تو انہیں زعیم کے زمینیں سنبھالنے اور احواد کو لانے اور لے جانے پہ تھا جب زعیم نے سب کچھ سنبھالا تھا تب چوہدری شجاعت نے کہا تھا کہ وقاص کر لے گا سب آخر بڑی حویلی کا ہونے والا اکلوتا داماد تھا لیکن یہاں بھی چوہدری حشمت نے سہولت سے انکار کر دیا تھا
پھر احواد جب یونی جوائن کی تب بھی چوہدری شجاعت نے اعتراض اٹھایا تھا کہ وہ نہیں چاہتے ان کی ہونے والی بہو شہر جا کر لڑکوں کے درمیان رہ کے پڑھے تب چوہدری حشمت نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا وہ ان کی بیٹی ہے اور ابھی ان کے گھر ہی ہے اس لیے وہ اس کی کوئی خواہش رد نہیں کر سکتے
چوہدری شجاعت نے احواد کو لانے اور لے جانے کی زمہ داری وقاص کو سونپنی چاہی تھی لیکن چوہدری حشمت نے ٹال دیا تھا ان سب باتوں کو لے کر چوہدری شجاعت کے دل میں ان کے لیے تھوڑی کدوت بھی تھی لیکن یہ سب باتیں وہ زبان پہ لانے سے قاصر تھے
“آؤ شجاعت آج یہاں کیسے آنا ہوا؟” چوہدری حشمت نے ان کو اشارے سے اپنے سامنے پڑی چارپائی پہ بیٹھنے کا کہا تھا
“بس کچھ باتیں میرے دماغ میں چل رہی ہیں جن پہ میں آپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں بس اس لیے یہاں آیا ہوں” چوہدری شجاعت نے کیا کہنا تھا حشمت صاحب اچھی طرح سمجھ رہے تھے
“سائیں مداخلت کے لیے معافی لیکن وہ ٹریکٹر میں کچھ خرابی ہو گئی ہے جس کی مرمت کے لیے مزارع کو پیسے دینے تھے اسی سلسلے میں یہاں آیا ہوں” چوہدری حشمت کے کچھ کہنے سے پہلے زعیم وہاں آیا تھا
چوہدری حشمت نے اس کی بات سن کے اسے پیسے تھمائے جنہیں لے کر زعیم وہاں سے چلا گیا تھا اس دوران چوہدری شجاعت اسے کینہ توز نظروں سے گھورتے رہے تھے زعیم انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا
“ہاں بولو شجاعت کیا کہہ رہے تھے” زعیم کے جانے کے بعد چوہدری حشمت دوبارہ چوہدری شجاعت کی طرف متوجہ ہوئے تھے
“بھائی صاحب کیا ہے اس لڑکے میں جو آپ کو یہ اتنا پسند ہے؟” چوہدری شجاعت کی اپنی توجہ ہٹ کے اب زعیم پہ ہو چکی تھی
“سترہ اٹھارہ سال کا تھا جب اس کا باپ اسے چھوڑ کے چلا گیا تھا تب یہ کام کے لیے میرے پاس آیا تھا میرے بیٹے تو شہر میں تھے پڑھائی کی غرض تھے ان کے بعد یہی تھا جو میرے ہر دکھ سکھ ہر مشکل پریشانی میں میرے ساتھ میرا بازو بن کے کھڑا رہا تھا اور مجھے سب سے زیادہ اس کی ایمانداری پسند ہے میرا سارا زمینوں کا حساب کتاب اسی کے پاس ہوتا ہے اتنے سال گزر گئے لیکن آج تک ایک روپے کا ہیر پھیر نہیں کیا اس نے مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہے یہ بھی” چوہدری حشمت کے لہجے میں زعیم کے لیے محبت ہی محبت تھی جسے محسوس کر کے چوہدری شجاعت نے نخوت سے سر جھٹکا تھا
“چھوڑیں ان باتوں کو میں جو کہنے آیا ہوں وہ بات تو بیچ مین ہی رہ گئی ہے” چوہدری شجاعت نے کہا تو وہ گہری سانس بھرتے ہمہ تن گوش ہوئے تھے
“دیکھیں بھائی صاحب آپ نے کب سے وقاص کو لٹکا کے رکھا ہوا ہے آپ نے کھبی میری کسی بات پہ دھیان نہیں دیا اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا ہے آپ نے آپ کا بیٹا آپ سب کو بن بتائے شادی کر آیا ہے اور آپ نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کچھ نہیں کہا اگر ایسا ہی رہا تو آپ کے باقی دونوں بچے بھی اپنی اپنی پسند کی شادی کر آئیں گے اور آپ بس دیکھتے رہ جائیں گے” چوہدری شجاعت کی باتیں حشمت صاحب کو بری تو لگیں تھیں لیکن انہوں نے اپنے تاثرات نارمل ہی رکھے تھے
“دیکھو شجاعت وہ میرے بچے ہیں اور مجھے ان پہ پورا یقین ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ان کے باپ کا سر جھکے اور رہ گئی بات وقاص اور احواد کی شادی کی تو بس اک سال ہی بات ہے بس تھوڑی ہی پڑھائی رہ گئی ہے اس کی پھر شادی کر دیں جہاں اتنے سال انتظار کیا یے وہاں اک سال اور کر لیں” چوہدری حشمت کی باتوں پہ چوہدری شجاعت تلملائے تھے
“دیکھیں لیں بھائی صاحب اتنا مان بھی اچھا نہیں ہوتا کیونکہ اکثر جب مان ٹوٹتے ہیں تو بہت درد ہوتا ہے” چوہدری شجاعت نے معنی خیزی سے کہا تھا
“چوہدری شجاعت اپنی اولاد پہ مان کرنا چاہیے اس طرح انہیں بھی کچھ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے اور والدین کو بھی دلی خوشی ملتی ہے” چوہدری حشمت بے نرمی سے کہا تھا
“چلیں ٹھیک ہے پھر بھائی صاحب اک سال اور انتظار کر لیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے” چوہدری شجاعت نے کہا تھا اور پھر تھوڑی دیر اور بیٹھنے کے بعد دونوں ڈیرے سے اٹھ گئے تھے
___________________________
زین کافی عرصے کے بعد گاؤں آیا تھا اس لیے آج اس کا ارادہ پورا گاؤں گھومنے کا تھا اسی لیے صبح سویرے ہی اپنے ساتھ اک ملازم کو لیا اور گاؤں کی سیر کو نکل گیا تھا گھومتے گھومتے صبح سے دوپہر ہو گئی تھی لیکن زین تھکنے کا نام نہیں لے رہا تھا
کل اسے واپس چلے جانا تھا اس لیے وہ جانے سے پہلے اک دفعہ پورے گاؤں کی سیر کر کے جانا چاہتا تھا وہ گاؤں کی خوبصورتی کو کیمرے میں قید کرتے اپنے دھیان میں چلا رہا تھا کہ کسی سے ٹکرایا تھا اور جواباً سامنے والے کا موبائل گرا تھا اور پکی زمین پہ گرتے موبائل کی سکرین چکنا چور ہوئی تھی
موبائل کے گرنے کے ساتھ ساتھ اک نسوانی چیخ بھی گونجی تھی زین نے کیمرے سے نظریں ہٹا کے سامنے دیکھا تھا جہاں کوئی اور نہیں انوشہ منہ پہ ہاتھ رکھے بےیقینی سے موبائل کو دیکھ رہی تھی زین نے کہی بچپن میں انوشہ کو دیکھا تھا اس لیے وہ اسے نہیں پہچانتا تھا
“اندھےہو کیا دیکھ کے نہیں چل سکتے تمہاری وجہ سے میرا فون ٹوٹ گیا میرے بھائی نے گفٹ کیا تھا مجھے” اس نے جھک کے اپنا فون اٹھایا تو اس کی حالت دیکھ کے وہ شروع ہو گئی تھی
“دیکھیں میں نے جان،،،،”
“ہاں اب کہہ دیں میں جان بوجھ کے نہیں ٹکرایا جانتی ہوں میں تم جیسے لفنگوں کو لڑکی دیکھی نہیں کہ ٹھرک پن جھاڑنا شروع کر دیتے ہو” اس کے وضاحت دینے کی کوشش نے جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام کیا تھا انوشہ نے بھی پہلے زین کو نہیں دیکھا تھا اس لیے وہ بھی اس بات سےانجان تھی کہ وہ کون ہے
“چپ کر جاؤ لڑکی تم جانتی ہو یہ کون ہیں؟” اس کے پیچھے کھڑے ملازم نے انوشہ کو گھورتے ہوئے سخت آواز میں کہا تھا
“کون ہے؟ نااعوزباللہ خدا تو نہیں ہے نہ جس کا ڈروا تم مجھے دے رہے ہو میں کسی سے نہیں ڈرتی” اس نے انگلی اٹھا کے اسے کہتے اپنی بہادری دکھائی تھی
“چوہدری حشمت کے چھوٹے صاحبزادے زین چودھری ہیں چاہیں تو تمہاری اس بدتمیزی کے لیے تمہاری،،،،” ابھی وہ مزید بولتا کہ زین نے ہاتھ اٹھا کے اسے چپ ہونے کا اشارہ کیا تو وہ خاموش ہوا تھا
“ہاں تو چھوٹے چوہدری ہی ہیں اس میں،،، کیا؟” وہ جو اپنی دھن میں بول رہی تھی کہ اچانک اس کے دماغ میں اس کی بات گھسی تو اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے زین کو دیکھا تھا جو مسکراتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“ایم سوری چھوٹے چوہدری جی وہ بس میری زبان پھسل گئی آپ پلیز بھائی کو مت بتائیے گا کہ میں آپ سے بدتمیزی کی ورنہ وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے” انوشہ نے کان پکڑتے اس سے سوری کرنے کے ساتھ گزارش کی تھی زین کچھ حیرت اور کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا تھا یعنی اسے اب بھی اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی بس اپنے بھائی کی ناراضگی کو لے کر فکرمند تھی
“کون ہے تمہارا بھائی؟” زین نے پوچھا تھا
“زعیم اکرم حویلی کے سب سے بھروسے مند آدمی ہیں وہ” انوشہ نے گردن اکڑا کر کہا تو اس کے ہونٹ او کی شیپ میں کھلے تھے اور پھر وہ مسکرا دیا تھا
“ٹھیک ہے میں نہیں بتاؤں گا لیکن فلحال آپ کو دیر ہو رہی ہے اس لیے جائیں گھر” زین نے کہا تو وہ جھٹ سے گردن ہلاتی وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئی تھی جبکہ زین بس اس کی تیزی کو دیکھ کر مسکرا دیا تھا
_____________________________
شام کا وقت تھا غزل شدید بور ہو رہی تھی اپنی بوریت ختم کرنے کے لیے اس نے چوہدرائن کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹانا چاہا تھا لیکن انہیں منع کر دیا تھا کہ وہ دو دن کی دلہن سے کام کرواتی اچھی لگیں گی
وہاں سے نکل کے غزل باہر صحن میں آ گئی تھی جہاں پہلے سے احواد بیٹھی ہوئی تھی غزل کو تین دن ہو گئے تھے حویلی آئے لیکن وہ ابھی تک احواد کو سمجھ نہیں سکی تھی جب اس کا مؤڈ ہوتا تو سرسری سی بات کر لیتی تھی اور کھبی اسے منہ ہی نہیں لگاتی تھی ابھی بھی وہ احواد کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھی جو کوئی بک پڑھ رہی تھی غزل نے اسے مخاطب نہیں کیا تھا بلکہ خاموشی سے آ کر وہاں بیٹھ گئی تھی
“کیا بات ہے بھابھی بندہ بات ہی کر لیتا ہے آپ تو خاموشی سے آ کر بیٹھ گئی ہیں” احواد کتاب بند کرتے بولی تھی
“نہیں تم اپنے موڈ کے مطابق بات کرتی ہو مجھے نہیں پتہ تھا تمہارا موڈ کیسا ہے اس لیے میں خاموشی سے بیٹھ گئی” غزل نے سادگی سے کہا تو احواد شرمندہ ہوئی تھی
“ایم سوری یار بھابھی وہ بس میری عادت نہیں کسی سے جلدی گھلنے ملنے کی لیکن اب آپ تو میری بھابھی ہیں اس لیے مجھے لگتا ہے ہمیں دوستی کر لینی چاہیے” احواد نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا
جسے پہلے غزل نے حیرت سے دیکھا تھا اور پھر مسکرا کے تھام لیا تھا ابھی ان دونوں میں سے کوئی کچھ کہتا کہ وقاص وہاں آن وارد ہوا تھا اسے دیکھ کے احواد کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے
“بابا سائیں، سلیمان بھائی اور زین بھائی میں سے کوئی بھی گھر نہیں ہے” احواد نے اس کے قریب آتے ہی کہا تھا مطلب صاف تھا کہ یہاں سے دفعہ ہو جاؤ
“لیکن میں ان تینوں میں سے کسی سے ملنے بھی نہیں آیا میں تو بھابھی سے سلام دعا کرنے آیا تھا” وقاص نے چھچھورے پن سے کہا تھا غزل نے حیرت سے جبکہ احواد نے دانت پیستے ہوئے اسے دیکھا تھا
“لیکن بھابھی کسی ایرے غیرے سے بات نہیں کرتیں بھابھی آپ اندر جائیے میں بھی آتی ہوں” احواد نے پہلے وقاص کو کہا پھر غزل کو اندر جانے کا کہا وہ ان دونوں کو حیرت سے دیکھتی اندر چلی گئی تھی
“تم آج مجھے بتا ہی دو آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ہر وقت یہاں ٹپک آتے ہو؟” احواد نے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے ناگواری سے پوچھا تھا
“تم بھول رہی ہو یہ میرے تایا کا گھر ہے” وقاص لہجہ بہت کچھ جتاتا ہوا تھا
“ہاں تو جن تایا گھر ہوتے ہیں تب آیا کرو” احواد بھی بنا لحاظ کے بولی تھی وقاص کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا
“اکڑ لو جتنا اکڑنا ہے بس کچھ عرصہ اور پھر تمہاری ایسی اکڑ نکالوں گا کہ اس لہجے میں کیا تم کسی بھی لہجے میں بات کرنے کے قابل نہیں رہو گی” وقاص نے انگلی اٹھا کے اسے دھمکی دی تھی
“تو پھر تم بھی میری اک بات سن لو کان کھول کے شادی تو میں تم سے مر کے بھی نہیں کروں گی اس لیے تمہیں بھی جتنے خواب دیکھنے ہے دیکھ لو” اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے احواد بےخوفی سے بولی تھی
“تمہاری یہی دیدہ دلیری زہر لگتی ہے مجھے تایا سائیں نے تمہیں کچھ زیادہ ہی سر پہ چڑھایا ہوا ہے لیکن میں نے بھی تمہیں سر کے تاج سے پاؤں کی جوتی نہ بنایا تو وقاص چوہدری نام نہیں میرا” وقاص نے سلگتے لہجے میں کہا تھا
“خواب اچھے ہیں تمہارے وقاص چوہدری لیکن وہ کیا ہے نہ ہر خواب کو حقیقت کا رنگ نہیں چڑھتا” احواد کے لبوں پہ اک استہزائیہ مسکراہٹ آئی تھی
“تو تم بھی سن لو احواد چوہدری کے تایا سائیں تمہارے جتنے مرضی لاڈ اٹھا لیں لیکن شادی وہ تمہاری مجھ سے ہی کریں گے آخر زبان دی ہوئی ہے انہوں نے اور تم جانتی ہو ہمارے خاندان میں اپنی زبان سے مکر جانا کتنی توہین کی بات ہوتی ہے” اور یہاں آ کر احواد بےبس ہوئی تھی
اور اسے رونا بھی آیا تھا کہ یہ کیسی رسومات ہیں لڑکی کو بچپن میں ہی کوئی بےجان شے سمجھ کے کسی کے نام سے منسوب کر دو اور پھر وہ چاہے جیسا بھی ہو اسے قبول بھی کرنا پڑتا ہے لیکن وہ بھی احواد چوہدری تھی جس نے جھکنا تو سیکھا ہی نہیں تھا
“تو پھر تم بھی جانتے ہو کہ میں بھی اسی خاندان کا حصہ ہوں میں نے کہا کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گی تو کسی قیمت پہ نہیں کروں گی” احواد نے کہا تو وقاص نے اک زوردار قہقہہ لگایا تھا
“چلو پھر دیکھتے ہیں تم مجھے ٹھکرا میری توہین کرو گی یا میری قید میں آ کر اپنی اکڑ اور اس بےجا اعتماد سے ہاتھ دوں گی” وقاص نے اسے مسکراتے ہوئے چلینج کیا تھا
“وقاص تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” سلیمان کی آواز پہ چونک کے دونوں نے آواز کی سمت دیکھا تھا جہاں چوہدری حشمت، سلیمان اور زین کھڑے تھے اک دوسرے کو چیلنج کرنے میں وہ اتنے مصروف تھے کہ وہ ان کی آمد کو محسوس ہی نہیں کر سکے تھے
“کچھ نہیں تم لوگوں کے لیے ہی آیا تھا لیکن تم گھر نہیں تھے احواد یہاں مل گئی تو اس سے حال احوال پوچھنے لگا تھا” وقاص نے نارمل انداز میں کہا تھا
“وقاص بھائی جب ہم تینوں میں سے کوئی گھر نہ ہو تو آپ یہاں مت آیا کریں” زین نے سنجیدگی سے کہا تھا احواد کا چہرہ دیکھ کر اسے اندازہ ہو رہا تھا کوئی نہ کوئی بات ہوئی ہے دونوں کے درمیان وہ احواد سے بعد میں پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا
“اور وہ جو تم لوگوں کا چہیتا زعیم آتا ہے وہ؟ میں تو پھر تم لوگوں کا چچا زاد ہوں وہ تو کچھ بھی نہیں لگتا” وقاص کی بات پہ ان تینوں کے چہروں پہ ناگواری پھیلی تھی جبکہ احواد وہاں سے جا چکی تھی
“زعیم میری غیر موجودگی میں حویلی میں کھبی نہیں آیا” چوہدری حشمت کی سخت آواز پہ وقاص کو احساس ہوا تھا وہ ان کے سامنے غلط بول گیا ہے
اسے ان کا ڈر وغیرہ نہیں تھا کہ وہ ناراض ہو جائیں گے یا کچھ اور بس شادی تک وہ بلکل نہیں چاہتا تھا کہ ان کے دماغ میں وقاص کو لے کر کسی بھی قسم کا شک آئے شادی کے بعد وہ کھل کے ان سامنے آئے گا اور سب کو اپنی انگلیوں پہ نچائے گا
“معذرت خواہ ہوں تایا سائیں غلطی سے منہ سے نکل گیا تھا” اس نے جھٹ چاپلوسی کا سہارا لیتے ان سے معذرت کی تھی
جس پہ حشمت صاحب نے بس سر ہلایا تھا تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وقاص وہاں سے چلا گیا تھا اس کے جاتے وہ تینوں باپ بیٹا بھی برآمدے میں آ گئے تھے ان کے آتے ہی دستر خوان لگا دیا تھا وہ تینوں باپ بیٹے ہاتھ دھو کر دستر خوان پہ آ گئے تھے
“برخوردار نکاح تو کر لیا ہے اب ولیمے کا کیا ارادہ ہے؟ سارے گاؤں کے لبوں پہ یہی سوال ہے ولیمہ کب ہے؟ تم اپنی رائے بتاؤ پھر اسی حساب سے کوئی تقریب رکھ لیتے ہیں” کھانا کھاتے چوہدری حشمت نے سلیمان سے پوچھا تھا
“ابھی نہیں بابا سائیں اس دن بس افراتفری میں آنا پڑا اور آفا کال کر کے بہت مشکل سے دو تین دن کی چھٹی لی تھی اب واپس جاؤں گا شادی کے لیے لیو لوں گا پھر آؤں گا تب ہی رکھیے گا ولیمہ ابھی تھوڑا مشکل ہے” سلیمان نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا حشمت صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ہلکی پھلکی باتوں کے دوران سب نے کھانا کھایا تھا زین کا سارا دھیان احواد کی طرف ہی تھا جو خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی اور ایسا بہت کم ہوتا تھا
پھر اس کے کھانے کے ٹیبل سے اٹھ کے اپنے کمرے میں جانے تک زین کی نظروں نے احواد کا پیچھا کیا تھا تھوڑی دیر تک زین کا ارادہ بھی اس کے پیچھے ہی جانے کا تھا اور جو بات اسے تنگ کر رہی تھی اس کا پتہ لگانا تھا
جاری ہے________________!!
