Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن سے نکاح کرنے کی؟ شرم نہیں آئی تمہیں جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا کیوں؟” وہ سر جھکائے کھڑا تھا سامنے والا شخص اس کا گریبان پکڑے اسے جھنجھوڑ رہا تھا جبکہ اس کے ساتھ کھڑا وجود بیزاری سے سب کچھ دیکھ رہا تھا
“میں زندہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں تمہاری غداری کی سزا صرف اور صرف موت ہے” اس شخص نے پسٹل نکال کے اس کے سر پہ تانتے ہوئے کہا تھا
“رک جاؤ” اس سے پہلے کے وہ گولی چلاتا پیچھے سے آتی آواز پہ ٹریگر پہ دباؤ ڈالنے سے پہلے ہی اس کی انگلی رکی تھی یہ آواز اس شخص کے باپ کی تھی
“نکاح تو ان لوگوں نے کر ہی لیا ہے پیچھے کیا بچتا ہے اسے اس کے ساتھ رخصت کر دو گھر کی بات گھر میں ہی رہ جانے دو باہر کسی کو پتہ چلا تو جگ ہنسائی ہماری ہی ہو گی جو مرضی کر لو ایسی باتیں کہاں چھپی رہ سکتی ہیں بھلا” ان کی باتیں سن کے وہ شرمندگی سے زمین میں گڑ گیا تھا وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا مگر ہائے رے یہ مجبوریاں انسان سے کیا کیا کروا جاتی ہیں
“یہ کیا کہہ رہیں آپ بابا” اس شخص نے تلملاتے ہوئے کہا تھا
“ٹھیک کہہ رہا ہوں میں جاؤ اور سارے جا کر تیاریاں کرو ٹھیک اک ہفتے کے بعد اس کی رخصتی ہو گی اور پھر اس کے بعد اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا” انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا اور سب کو وہاں سے ہٹنے کا کہا تھا وہ بھی سرخ چہرہ لیے وہاں سے ہٹ گیا تھا اور جس کی آفر کو قبول کیے یہ سب کیا تھا وہ بغیر کسی بات کو سر پہ سوار کیے اطمینان سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
____________________________
“سائیں یہ اس سیزن کا سارا حساب کتاب ہے کتنی لاگت لگی ہے کتنے کی گندم بکی ہے ساری کٹوتیاں کرنے کے بعد کتنا منافع ہوا ہے سب اس میں درج ہے” زعیم نے اک رجسٹر چوہدری حشمت صاحب کے سامنے رکھتے اس میں درج تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا تھا
“زعیم پتر کتنی دفعہ تجھے کہا ہے مجھے تجھ پہ پورا بھروسہ ہے تم اک ایماندار باپ کے ایماندار بیٹے ہو کھبی مجھے دھوکا نہیں دے سکتے اس لیے یہ سب مجھے مت دکھایا کرو” چوہدری حشمت نے اسے خفگی سے گھورا تھا
“سائیں یہ تو آپ کا پیار ہے لیکن یہ سب کچھ بتانا اور دکھانا میرا فرض ہے جیسے ہم اپنے ہر گناہ و ثواب کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہوتے ویسے ہی اگر کسی کی امانت آپ کے پاس ہو آپ اس کے لیے بھی اسے جواب دہ ہوتے ہیں یہ سب کچھ میرے پاس امانت ہے اس لیے میں آپ کو پل پل کی خبر دیتا ہوں” اس نے سنجیدگی سے اپنا موقف ان کے سامنے رکھا تھا
“یہ جو تیرے فلسفے ہیں یہ میری سمجھ سے بالاتر ہیں اس لیے انہیں میرے سامنے نہ جھاڑا کر” ان کے جھلا کے کہنے پہ وہ مسکرایا تھا
“احواد (سیاہ آنکھوں والی) کی چھٹی کا ٹائم ہونے والا ہے تُو اسے لینے نہیں گیا؟” چوہدری حشمت نے گھڑی پہ ٹائم دیکھتے اس سے پوچھا تھا
“جی سائیں بس جانے ہی والا تھا یہ آپ کو حساب دکھانا تھا تو بس اسی لیے ابھی تک نکلا نہیں” اس نے بتایا تھا
“اب جا تُو یہ رجسٹر میرے پاس رکھ جا بعد میں آ کر لے لینا میری دھی انتظار کر رہی ہو گی جا جلدی جا” حشمت صاحب کی فکرمندی پہ وہ مسکرایا تھا بےساختہ اسے کے ذہن میں اپنی بہن کا خیال آیا تو وہ مسکرایا تھا وہ خود بھی اپنی بہن کے معاملے میں اتنا ہی حساس تھا جتنا کے چوہدری حشمت اپنی بیٹی کے لیے
وہ جلدی سے ڈیرے سے نکلا تھا اس کا رخ حویلی کی طرف تھا ڈیرے سے حویلی کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا حویلی پہنچ کے گاڑی نکال کے گاؤں کے خارجی رستے کی طرف گاڑی موڑ کے اس نے گاڑی فل سپیڈ پہ چھوڑ دی تھی احواد کو یونیورسٹی سے لانے اور لے جانے کی ذمہ داری زعیم کی ہی تھی بلکہ حویلی کسی بھی عورت کو کہیں جانا ہوتا تو زعیم ہی لے کر جاتا تھا
گاؤں سے شہر کا رستہ آدھے گھنٹے کا تھا جسے پندرہ منٹ میں طے کرتے وہ شہر پہنچا تھا اور مزید دس منٹ یونی پہنچنے تک لگ گئے تھے وہ یونی پہنچا تو بلیک چادر میں لپٹی احواد اسے گیٹ پہ ہی کھڑی نظر آ گئی تھی اس نے پجارو اس کے پاس جا کر جھٹکے سے روکی تھی
احواد گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کے گاڑی میں بیٹھی تھی اور اک دھماکے سے اس نے گاڑی کا دروازہ بند کیا تھا جو اس کے غصے میں ہونے کی علامت تھی کیونکہ وہ دس منٹ لیٹ تھا زعیم نے بس سرسری سے نگاہ اس پہ ڈالی تھی اسے اس کی یہ حرکت زہر سے بھی زیادہ بری لگی تھی لیکن بولا کچھ نہیں تھا اور گاڑی سٹارٹ کے ریورس کی تھی اور واپس گاؤں کے رستے پہ ڈال دی تھی
“مسٹر زعیم اکرم کیا تمہیں میری یونی ٹائمنگ کا پتہ نہیں ہے؟” جب زعیم نے اس کی حرکت کا نوٹس نہ لیا تو اس نے چیختے ہوئے پوچھا تھا غصے اور گرمی میں کھڑا رہنے کی وجہ سے اس کا سفید چہرہ اس وقت سرخیاں چھلکا رہا تھا
“چوہدری صاحب سے کام تھا اسی وجہ سے لیٹ ہو گیا ہوں” زعیم نے اپنی نظریں سڑک پہ ہی مرکوز رکھے جواب دیا تھا
“ہاں بابا سائیں کے لیے تو ہر شے مجھ سے زیادہ اہم ہے” اس کی بات پہ زعیم نے افسوس سے اس ناشکری لڑکی کو دیکھا تھا جس سے ہر کوئی اپنی جان سے بڑھ کے پیار کرتا تھا لیکن اسے پہچان اور قدر ہی نہیں تھا
پھر اس نے سر جھٹکتے اپنی ساری توجہ ڈرائیونگ کی طرف مبذول کی تھی تا کہ جلد سے جلد گاؤں پہنچ سکے کیونکہ کوئی بعید نہیں تھا وہ پھر سے شروع ہو جاتی اور اس میں اس لڑکی کو برداشت کرنے کی زرا بھی ہمت نہیں تھی
چوہدری حشمت اپنے گاؤں کے رئیس اور سربراہ تھے ان کی تین اولادیں بڑا بیٹا سلیمان چوہدری اور اس سے چھوٹا زین چوہدری اور سب سے چھوٹی بیٹی احواد چوہدری ان کے چھوٹے بھائی کے چوہدری شجاعت کے بھی دو بیٹے تھے بڑا وقاص چوہدری اور چھوٹا وقار چوہدری احواد کی نسبت وقاص سے بچپن سے ہی طے تھی لیکن وہ اسے کوئی اتنا خاص پسند نہیں کرتی تھی
دونوں بھائی رہتے بھی علیحدہ تھے اور ان کی زمینیں بھی علیحدہ علیحدہ تھیں چوہدری شجاعت کی زمینیں ان کے بیٹے سنبھالتے تھے کیونکہ پڑھائی سے عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ جلد ہی سکول سے اٹھ گئے تھے جبکہ چوہدری حشمت کی زمینیں زعیم سنھبالتا تھا سب چوہدری حشمت کی حویلی کو بڑی حویلی اور چوہدری شجاعت کی حویلی کو چھوٹی حویلی کہتے تھے
چھوٹے وقار کی شادی ہو چکی تھی جبکہ وقاص اس لیے لٹکا ہوا تھا کیونکہ احواد مان نہیں رہی تھی ابھی شادی کے لیے وقاص اک نمبر کا کمینہ انسان تھا تقریباً وہ ہر روز شراب اور شباب کی محفل میں پایا جاتا تھا فلحال اس کے گھر والے اس بات سے انجان تھے چوہدری شجاعت کتنی مرتبہ لفظوں ہی لفظوں میں چوہدری حشمت کو کہہ چکے تھے کہ لڑکی ذات کو اتنا سر نہیں چڑھاتے لیکن چوہدری حشمت ہمیشہ خوبصورتی سے ان کی بات کو نظرانداز کر جاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے اک نا اک دن تو اس کی شادی وقاص کے ساتھ ہونی ہی تھی کہاں تک بھاگ سکتی تھی اس لیے وہ ابھی تک چپ تھے
احواد اکلوتی ہونے کی وجہ سے گھر بھر کی لاڈلی تھی لیکن پھر بھی حویلی اسے قید خانہ لگتی تھی
لیکن لاڈ بھی بس گھر کی حد تک ہی اس کے پورے ہوتے تھے جب وہ سکول سٹوڈنٹ تھی ان کا ٹرپ جا رہا تھا لاہور لیکن گھر سے اجازت نہ ملنے پہ سب دل مسوس کے رہ گئی تھی یہ سلسلہ یہی نہیں رکا تھا بلکہ سکول کالج کا کوئی بھی فنکشن ہوتا اسے جانے کی اجازت نہیں ملتی تھی اور یہ باتیں اسے مزید سب سے متنفر کر رہی تھیں
جب یونیورسٹی جانے کی بات آئی تب بھی گھر سے انکار ہی سننے کو ملا لیکن وہ اپنی بات پہ اڑ گئی کہ جب سلیمان اور زین یونیورسٹی جا سکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں اس کی بھوک ہڑتال اور اس کے آنسوؤں نے بالآخر حشمت صاحب کو موم کر ہی دیا تھا اور انہوں نے دل پہ پتھر رکھتے اسے اجازت دے دی تھی
اس نے تو پوری کوشش کی تھی کہ اسے ہاسٹل رہنے کی اجازت مل جائے تا کہ وہ زیادہ نہیں تو کچھ تو زندگی کے مزے حاصل کر سکے لیکن یہاں اس کی دال نہ گلی کیونکہ حشمت صاحب نے اجازت ہی اسی بنیاد پہ دی تھی کہ وہ روز آیا جائے کرے گی ورنہ یونی جانے کی اجازت ہی کینسل ہو جائے گی
چارو ناچار احواد کو ماننا ہی پڑا تھا اس لانے اور لے جانے کی ذمہ داری حشمت صاحب نے زعیم کو دی تھی جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ انسان تھا حشمت صاحب کے دونوں بیٹے تعلیم مکمل کرنے کے بعد شہر میں ہی رہتے تھے اور وہی نوکری کرتے تھے
زمینوں کا حساب کتاب چونکہ چوہدری حشمت سے خود نہیں ہوتا تھا اس لیے انہوں نے زعیم کو رکھا ہوا تھا زعیم کے والد پہلے ان کے ہاں کام کرتے تھے زعیم نے ابھی انٹر ہی کیا تھا کہ اس کے والد چل بسے وہ جیسے تیسے اسے پڑھا رہے تھے اور گھر کا خرچ چلا رہے تھے ان کی وفات کے بعد ماں اور بہن کی ذمہ داری زعیم کے کندھوں پہ آ گئی تھی
وہ کام کے لیے چوہدری حشمت کے پاس آیا تو انہوں نے اس کچھ معلومات لینے کے بعد اسے اپنی زمینوں کے حساب کتاب کے لیے رکھ لیا تھا اور اس کی وہ تنخواہ دیتے تھے آہستہ آہستہ وہ ان کے بہت نزدیک ہو گیا تھا اور وہ ان کے لیے سب سے بھروسے مند تھا
حویلی کے اندر کسی ملازم کو رسائی حاصل نہیں تھی لیکن زعیم جا سکتا تھا چوہدرائن اور احواد کو اگر کہی لے کر جانا ہوتا تو وہی لے کر جاتا چوہدری اور چوہدرائن کے لیے وہ ان کا بیٹا تھا انہوں نے کھبی اسے ملازم نہیں سمجھا تھا
حویلی میں صرف احواد کو ہی اس سے چڑ تھی کیونکہ اسے ہر جگہ اس کا دم چھلا بنا کر بھیج دیا جاتا تھا بقول اس کے گھر میں روک ٹوک کے لیے کیا لوگ کم تھے جو وہ ہر جگہ کہتا تھا یہ نا کرو وہ نہ کرو جبکہ سب گھر والے اس کی سوچ سے انجان تھے اب یہ اونٹ جانے کس کروٹ بیٹھنا تھا
____________________________
پجارو حویلی میں آ کر رکی تو وہ گاڑی سے نکل کے بدتمیزی سے دروازہ بند کرتی اندر چلی گئی تھی زعیم نے لب بھیبچ کے اس کی پشت کو گھورا تھا یہ لڑکی کچھ زیادہ ہی چوہدری صاحب نے سر پہ چڑھائی ہوئی تھی
اس کے پیچھے زعیم بھی اندر گیا تھا اسے پتہ تھا کہ چوہدری صاحب حویلی آ چکے ہوں گے اس لیے وہ ان سے رجسٹر لے کر گھر جانے کا ارادہ رکھتا تھا تا کہ دوپہر کا کھانا گھر جا کر کھا سکے اماں اور چھوٹی اس کے انتظار میں بیٹھی ہوں گی اس کی عادت تھی کہ وہ دوپہر کا کھانا گھر جا کر ہی کھاتا تھا
“بابا سائیں یہ کیسا ڈرائیور رکھا ہوا ہے آپ نے آپ کو پتہ ہے اس کی وجہ سے مجھے پورے دس منٹ دھوپ میں کھڑا رہنا پڑا ہے” اس نے اندر قدم رکھا ہی تھا کہ احواد کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی اور اک ناگواری کی لہر اس کے پورے جسم میں سرائیت کر گئی تھی
“احواد تم دن با دن بدتمیز ہوتی جا رہی ہو کیا ہم تمہیں اس لیے یونیورسٹی بھیجتے ہیں کہ تم چھوٹے بڑے کی تمیز بھول جاؤ اور وہ ڈرائیور یا ملازم نہیں ہے بلکہ میرے لیے میرے بیٹوں کی طرح ہے وہ” چوہدری صاحب کی بات پہ جہاں احواد کا غصے سے چہرہ سرخ پڑا تھا وہی زعیم کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی تھی
“وہی تو آپ کا بیٹا ہے میں کچھ نہیں لگتی آپ کی” بدتمیزی سے کہتی وہ دوڑ کے اپنے روم میں چلی گئی تھی
“سائیں وہ رجسٹر چاہیے تا کہ باقی رجسٹرز کے ساتھ رکھ کے میں کھانا کھانے گھر جا سکوں” زعیم کی آواز پہ چوہدری اور چوہدرائن نے چونک کے اسے دیکھا تھا پھر چوہدری صاحب نے پھیکا سا مسکراتے اسے رجسٹر تھمایا تھا جسے لے کر زعیم حویلی سے نکل آیا اس کا رخ ڈیرے کی طرف تھا وہاں موجود بیٹھک میں موجود اک تجوری پڑی تھی جس پہ فصل کے متعلق تمام ریکارڈ پڑا ہوا تھا جس کو زعیم نے فنگر پرنٹ لگوایا ہوا تھا دو فنگر تھے اک اس کا اور اک چوہدری صاحب کا ان دونوں کے علاوہ وہ کوئی بھی نہیں کھول سکتا تھا
رجسٹر وہاں رکھنے کے بعد اس نے اپنا رخ گھر کی طرف کیا تھا گھر پہنچ کے صحن میں لگے بیسن سے منہ ہاتھ دھوتے وہ اندر گیا تو اماں برآمدے میں دستر خوان لگائے بیٹھی اس کا ہی انتظار کر رہی تھیں وہ انہیں دیکھ کر مسکرایا تھا
آتے ہی اس نے سلام کیا تھا اور اماں اور انوشہ دونوں کے سر پہ بھوسہ دیا تھا اماں بےساختہ مسکرائی تھیں اس کی عادت تھی وہ چاہے گھر سے پانچ منٹ کے لیے ہی کیوں نہ باہر جاتا واپس پہ وہ ایسے ہی کرتا تھا شاید اپنے والد کی وفات کے بہت حساس ہو چکا تھا اور چاہتا تھا ان دونوں کو بلکل یہ محسوس نہ ہو کے وہ ان کی طرح ان دونوں کا خیال نہیں رکھتا
“آج میرا بیٹا تھوڑی دیر سے آیا ہے؟” اماں نے لہجے میں دنیا جہان کی محبت سموئے پوچھا تھا
“ہاں وہ بس پہلے چوہدری جی سے تھوڑا کام تھا اس وجہ شہر جانے کے لیے تھوڑا لیٹ ہو گیا اب احواد بی بی کو گھر چھوڑ کے سیدھا یہی آیا ہوں” زعیم نے انہیں جواب سنتے انوشہ کو دیکھا تھا خلاف معمول چپ تھی
“خیر تو ہے میرا بچہ چپ کیوں ہے؟” اسے کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے زعیم نے پوچھا تھا
“اماں آپ سے زیادہ پیار کرتی ہیں مجھ سے نہیں” انوشہ نے نروٹھے پن سے کہا تو اماں نے اسے گھورا تھا جبکہ زعیم ہلکا سا مسکرایا تھا
“تو کیا ہوا میں ہوں نا اپنے بچے کے لیے میں اماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں اپنے بچے کو” زعیم کی بات پہ وہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی وہ کوئی بچی نہیں تھی تھرڈ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی (کالج گاؤں میں ہی تھا) لیکن زعیم اسے بلکل بچوں کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا وہ پوری کوشش کرتا تھا کہ اپنی باپ کی کمی کو پورا کر سکے جو کھبی زندگی میں ختم نہیں ہو سکتی تھی لیکن کم ضرور ہو سکتی تھی
“کالج کیسا جا رہا ہے تمہارا؟” پلیٹ میں سالن ڈالتے اس نے انوشہ سے پوچھا تھا
“اے ون” اس نے چہکتے ہوئے جواب دیا پھر کھانا کھانے کے بعد زعیم دوبارہ ڈیرے چلا گیا تھا جہاں بہت سا کام اس کا منتظر تھا اب اس نے رات کو ہی واپس آنا تھا
جب زعیم نے زمینوں کا سارا کام سنبھالا تھا تب چوہدری حشمت نے اسے کہا تھا کہ وہ اگر چاہے تو وہ اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر سکتا ہے لیکن اس نے انکار کر دیا تھا کیونکہ گھر کے حالات ایسے تھے کہ وہ افورڈ نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ احسان لینا چاہتا تھا
چوہدری حشمت نے بھی زیادہ اسرار نہیں کیا تھا انہیں پتہ تھا وہ بہت خوددار انسان ہے نہیں مانے گا لیکن اب وہ اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اپنی بہن کو پڑھا رہا تھا گاؤں میں کالج بھی چوہدری صاحب نے احواد کے لیے بنوایا تھا اور اس کے لیے جتنے پاپڑ انہیں بیلنے پڑے تھے وہ وہی جانتے تھے
لیکن انٹر کے بعد احواد نے یونی جانے کی ضد شروع کر دی جس کے سامنے چوہدری صاحب کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے تھے لیکن اس کے ذریعے باقی گاؤں کی لڑکیوں کا بھلا ہو ہی گیا تھا احواد نہ سہی گاؤں کی بہت سے لڑکیاں وہاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں انوشہ بھی ان میں سے اک تھی
جاری ہے_________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *