Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03
“کیا بکواس کر رہے ہو؟” تھوڑی دیر کے سکتے کے بعد حشمت صاحب غرائے تھے
“میں سچ کہہ رہا ہوں یہ آپ کی بہو اور میری بیوی غزل سلیمان چوہدری ہے” ان کی غراہٹ سن کے بھی سلیمان کے لہجے کی مضبوطی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا
“اپنے خاندان کی روایات کو جانتے بوجھتے تم شادی کر آئے اور ماں باپ کو پوچھنا تو کیا بتانا بھی گورا نہیں کیا” حشمت صاحب دبے دبے لہجے میں چلائے تھے
“میرا ایسا کوئی ادارہ نہیں تھا میرے لیے آپ لوگوں کی اجازت بہت معنی رکھتی ہے لیکن حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ آپ لوگوں کو کال کرنے کا ٹائم ہی نہیں ملا” سلیمان نے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی تھی
“دیکھیں آپ انہیں کچھ مت کہیں ان کا کوئی قصور نہیں ہے بس میری منحوسیت کا سایہ ان پہ پڑ گیا ہے” حشمت صاحب کے کچھ بولنے سے پہلے غزل کے کانپتی آواز میں کہا تھا سب نے چونک کے اسے دیکھا تھا
“غزل آپ چپ رہیں میں کر رہا ہوں نہ بات” سلیمان چوہدری نے سختی سے اسے ٹوکا تھا
“تمیز سے” حشمت صاحب نے اسے گھورا تھا
بےشک ابھی اس کی پوزیشن کلئیر نہیں ہوئی تھی لیکن وہ بیٹیوں سے بہت پیار کرتے تھے وہ اس مقلولے پہ یقین رکھتے تھے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اگر وہ یہ نہیں پسند کرتے تھے کہ ان کی بیٹی سے کوئی اونچی آواز میں یا بدتمیزی سے بات کرے تو انہیں یہ بھی نہیں پسند آیا تھا کہ ان کا بیٹا کسی لڑکی سے اونچی آواز میں بات کرے کیونکہ وہ بھی کسی کی بیٹی تھی اسی لیے وہ اسے ٹوک گئے تھے
“بابا سائیں بات دراصل یہ ہے کہ یہ محترمہ مجھے آج ہی ملی ہیں آج سے پہلے میں انہیں جانتا تک نہیں تھا آج صبح آفس جاتے ہوئے یہ محترمہ میری گاڑی کے سامنے آ گئی تھی انہیں زیادہ تو چوٹیں نہیں آئی تھیں لیکن جو چوٹ ماتھے پہ لگی تھی وہ زیادہ گہری تھی اس لیے مجھے انہیں ہاسپٹل لے کر جانا پڑا جہاں یہ دو تین گھنٹے بے ہوش رہی تھیں” سلیمان چوہدری رٹو طوطے کی طرح بولے جا رہا تھا جب ایکسیڈنٹ والی بات سن کے ان تینوں نے غور سے اسے دیکھا تو اس کے سر پہ واقعی ہی پٹی بندھی ہوئی تھی جو اس کے سر پہ چادر ہونے کی وجہ سے زیادہ واضح نظر نہیں آ رہی تھی منہ پہ بھی کہی کہی خراشیں تھی اور ہلکی سی سوجھن بھی تھی
“اللہ اللہ کر کے انہیں ہوش آیا تو ان کے گھر کا پتہ پوچھ کے انہیں گھر ڈراپ کرنے گیا تو وہاں ان کی گمشدگی کو لے کر پہلے ہی بہت ہنگامہ برپا تھا اور اوپر سے میرے ساتھ ہونے پہ ان کے کردار پہ سوال اٹھایا گیا تھا گھر سے تو کزن کو سکول چھوڑنے گئی تھی اور تین چار گھنٹوں کے بعد آ اک اجنبی جوان مرد کے ساتھ رہی ماں باپ کے مرنے کے بعد وی ماموں ممانی کے در پہ پڑی تھی جو اس سے جان چھڑوانا چاہ رہے تھے انہیں موقع مل گیا اس لیے اسی وقت محلے والوں شہہ اور زبردستی اکسانے پہ ان کا نکاح مجھ سے کر کے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگیوں سے نکال پھینکا” سلیمان کے زبانی ساری کہانی سننے کے بعد انہیں اس لڑکی پہ ترس آیا تھا جو اب رونے میں مصروف تھی
“ظاہر سی بات ہے اب نکاح کر کے میں انہیں پھر سے در در بھٹکنے کے لیے چھوڑ تو سکتا نہیں تھا اس لیے اپنے ساتھ لے آیا ہوں تا کہ آپ لوگ بھی اپنی بہو سے مل سکین ورنہ میرے لیے اس نکاح کو چھپا کے رکھنا کوئی مشکل کام نہیں تھا” ساری بات بتانے کے بعد سلیمان نے اپنی پوزیشن کلئیر کی تھی
“ادھر آؤ” سلیمان کی ساری باتیں سننے کے بعد چوہدری حشمت نے اسے اپنے پاس آنے کا کہا تھا غزل نے اک نظر سلیمان کو دیکھا تھا اس کے سر ہلانے پہ وہ ڈرتے ڈرتے ان کی طرف بڑھی تھی
“آج سے تم ہماری بیٹی ہو جیسا پیار ہم احواد کو کرتے ہیں ویسا ہی تمہیں کریں گے اور اگر یہ ناہنجار تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی کرے تو سیدھا آ کر مجھے بتانا پھر دیکھنا میں اس کی کیا حالت کرتا ہوں” اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے چوہدری حشمت نے نرمی سے کہا تو وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہلا سا مسکرائی تھی
“بابا سائیں اتنا پیار کھبی بیٹوں کو بھی دے دیا کریں” سلیمان چوہدری نے جل کے کہا تھا یہ واقعی ہی سچ تھا کہ انہوں نے احواد کے مقابلے میں ان دونوں کو کھینچ کے رکھا ہوا تھا اکثر وہ دونوں بھائی احواد سے بہت جیلس ہوتے تھے
“اچھا بس بس چپ رہو تم دونوں اور بچے تم ان سے ملو یہ تمہاری اماں سائیں ہیں اور یہ تمہاری بہن ہے” انہوں نے سلیمان کو گھوری سے نوازنے کے بعد اس کا تعارف ان دونوں سے کروایا تھا
چوہدرائن تو بہت پیار سے اسے ملی تھیں کیونکہ انہیں حقیقتاً اس کے لیے بہت دکھ ہوا تھا اتنی پیاری بچی اور اتنے دکھ دیکھ رہی تھی جبکہ احواد کے انداز میں کچھ زیادہ جوش نہیں تھا پھر چوہدری حشمت کے کہنے پہ وہ سب اندر کی طرف بڑھ گئے تھے
_____________________________
زعیم رات کو گھر آیا تو ہمیشہ کی طرح اماں برآمدے میں ہی اس کی منتظر بیٹھی ہوئی تھیں انہیں دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا اسے معلوم تھا اگر وہ رات کے دو بجے بھی گھر آئے گا تب بھی اسے وہ یہی اپنے انتظار میں بیٹھی ملیں گی
“میری پیاری اماں آپ تھکتی نہیں ہیں ایسے میرے انتظار میں بیٹھ کے؟” انہیں اپنے حصار میں لے کر ان کا سر چومتے اس نے پوچھا تھا
“مائیں اپنے بچوں کے لیے کھبی نہیں تھکتی” انہوں نے اپنی مخصوص بات دہرائی تھی زعیم روز گھر آ کر یہی سوال پوچھتا تھا اور اماں روز یہی جواب دیتی تھیں
ابھی وہ کوئی مزید سوال پوچھتا کہ انوشہ پانی کا گلاس لیے وہاں آئی تھی زعیم نے پانی پی کے اس کا شکریہ ادا کیا تھا اور گلاس اسے واپس دیا تھا انوشہ واپس کچن میں جانے کی بجائے وہی بیٹھ گئی تھی
“بھائی آپ کو پتہ ہے اماں مجھے جلد سے جلد گھر سے نکالنے پہ تلی ہوئی ہیں” اماں سمجھ رہی تھیں وہ کیوں بیٹھی ہے اس سے پہلے کہ وہ اسے وہاں سے جانے کا کہتیں انوشہ نے جھٹ سے کہا تھا اس کی بات سن کے زعیم کے ماتھے پہ بل آئے تھے
“کیا مطلب اس بات کا؟” وہ کچھ کچھ سمجھ گیا تھا کیا معاملہ ہے لیکن پھر بھی پوچھ لیا تھا
“کچھ نہیں بس ایویں بولتی رہتی ہے اس کی عادت کا تو پتہ ہے تمہیں اور تم اٹھو کھانا گرم کے دسترخوان پہ لگاؤ بھائی تھکا ہارا آیا ہے یہ نہیں اسے کوئی چائے پانی پوچھو بیٹھ گئی ہو باتیں بھگارنے” اماں نے پہلے زعیم سے کہا پھر انوشہ کو آنکھیں دیکھا کر وہاں سے بھیجنا چاہا تھا
“مجھے پتہ ہے اماں آپ کے ذہن پہ اس کی شادی ہی سوار رہتی ہے لیکن ابھی میں اس کی شادی کے حق میں بلکل نہیں ہوں پہلے اپنی تعلیم مکمل کر لے پھر سوچتے ہیں اس کے بارے میں” زعیم نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو انوشہ تھینک یو کہتے اس سے لپٹ گئی تھی
“لیکن بیٹا لڑکیاں جلد ہی اپنے گھر کی ہو جائیں تو اچھا ہوتا ہے اور پھر اس کی شادی کے بعد تمہارا بھی تھوڑا بوجھ کم ہو گا” اماں نے فکرمندی سے کہا تھا
“پہلی تو بات یہ کہ اماں یہ میرے لیے بوجھ نہیں ہے میری بہن ہے اور بہنیں ہمیشہ خوش بختی کی علامت ہوتی ہیں اور رہی بات اپنے گھر کی تو یہ کونسا پرایا گھر یہ میرے بچے کا گھر ہے اور ہمیشہ اسی کا ہی رہے گا” اس کے باتیں سن کر اماں نے محبت سے اسے دیکھا تھا اور ان کے دل سے دعا نکلی تھی کہ اللہ ہر بہن کو ایسا ہی بھائی دے تا کہ کھبی کوئی بہن بےمول نہ ہو
“اچھا چلیں اب میری شادی کی بات تو گئی دب تو کیوں نہ اب بھائی کی شادی کی بات چھیڑ لی جائے؟” انوشہ نے شرارت سے کہتے اماں کی توجہ اس کی شادی کی طرف مبذول کی تھی
“ہاں زعیم پتر اب تو بھی کر لے شادی جب سے تمہارے ابا مرحوم کی وفات ہوئی تب سے تُو ہماری فکروں میں ہی گھل رہا ہے اب اپنا بھی کچھ سوچ لے” اماں کی بات سن کے وہ مسکرایا تھا
“میرا سوچنے کے لیے آپ دونوں ہیں نا تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے سوچنے کی” زعیم نے سارا فیصلہ انہی پہ چھوڑا تھا
“ماں صدقے جائے تُو فکر نہ بہت جلد دیکھنا میں تیرے لیے بلکل تیرے جیسے لڑکی ڈھونڈوں گی” اماں نے خوشی سے نہال ہوتے اس کا ماتھا چوما تھا
“اچھا آج باتوں سے ہی پیٹ بھر لوں یا کھانے کو بھی کچھ ملے گا؟” زعیم کی بات سن کے انوشہ تیزی سے اٹھی تھی لیکن اک دم چکر آ جانے سے دوبارہ نیچے بیٹھ گئی تھی
“کیا ہوا بچے تم ٹھیک ہو؟” اماں اور زعیم دونوں نے فکرمندی سے اسے دیکھا تھا
“ہاں میں ٹھیک ہوں بس وہ آج کالج میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا دن میں بھی کھانا نہیں کھایا اور ابھی بھی آپ کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی شاید تھوڑی کمزوری ہو رہی اسی لیے چکر آ گیا” ان دونوں کو پریشان دیکھ کر اس نے تسلی دی تھی
“پاگل اک لگاؤں میں تمہیں جب سارا دن کچھ نہیں کھایا تو اب تک کھا لینا چاہیے تھا تمہیں کھانا میرے انتظار میں کیوں بیٹھی ہو” زعیم نے اسے ڈانٹا تھا جس کے جواب میں وہ ہنستے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی تھی اور زعیم نے بس تاسف سے اسے دیکھا تھا اور خود بھی اس کے پیچھے گیا تھا تا کہ اس کے ساتھ کھانا دستر خوان پہ لگوا سکے
_________________________________
احواد غزل کو سلیمان کے روم میں چھوڑ گئی تھی جبکہ سلیمان باہر ہی تھا احواد کے جانے کے بعد ان سب کا اھا رویہ یاد کرتے غزل کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آ گئے تھے
کہاں اپنے تھے جو اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور کہاں یہ غیر جو اس کے لیے اپنوں سے بھی بھڑ کے ثابت ہوئے تھے تھوڑی دیر بعد سلیمان کمرے میں آیا تو غزل کو پھر سے روتا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی
“کیسی لڑکی ہیں آپ؟ جب سے مجھے ملی ہیں بس روئے ہی جا رہی ہیں کیا سب لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ بلکہ احواد بھی تو ہے نا وہ تو نہیں روتی بلکہ وہ تو رولانے والے کو رلا دیتی ہے” سلیمان نے خود ہی سوال کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب بھی دے دیا تھا
“اس کے پاس ہر رشتہ ہے جس کی بناء پہ وہ بہت ایسا کرتی ہے اور جن کے سر پہ ماں باپ نہ ہوں تو وہ بہادر بننے کی بجائے بزدل ہی بنتے ہیں” غزل نے روتے ہوئے جواب دیا تھا
“اب تو آپ کو بھی مل گئے ہیں بابا سائیں اماں سائیں احواد میرا چھوٹا بھائی زین مجھے یقین ہے وہ سب آپ کی سائیڈ ہی لیا کریں گے تو اب کیوں رو رہی ہیں آپ؟” سلیمان نے چہرے پہ الجھن لیے پوچھا تھا
“یہ تو بس خوشی اور تشکر کے آنسو ہیں” غزل نے کہا تو سلیمان نے اک بار پھر حیرت سے اسے دیکھا تھا
“بھئی عجیب ہیں آپ بھی غم ملے تب بھی رونا ہے اور خوشی ملے تب بھی” وہ بڑبڑایا تھا
“اچھا چلیں آپ یہ کپڑے تو چینج کر لیں گندے ہو رہے ہیں لیکن نہایے گا مت زخم خراب ہو جائے گا” سلیمان اسے کہتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
“لیکن میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں ہیں” غزل نے دھیرے سے کہا تھا
“ہاں یہ تو مجھے خیال ہی نہیں رہا اچھا آپ ٹھہریں ابھی میں آپ کو احواد کا کوئی جوڑا لا دیتا ہوں کل اماں سائیں کو کہوں گا وہ آپ کے لیے کپڑے خرید لائیں گی” سلیمان اپنی بات مکمل کرتے کمرے سے باہر نکل گیا تھا اور تھوڑی دیر بعد احواد کا اک سوٹ لیے کمرے میں آیا تھا
غزل نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے تھے اور واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی چینج کر کے واپس آئی تو سلیمان بھی چینج کر چکا تھا اسے دیکھتے غزل بیڈ پہ بیٹھ کے انگلیاں چٹخانے لگی تھی
“میں سمجھ رہا ہوں آپ کی الجھن یقیناً آپ ہمارے رشتے کو لے کر خود کو الجھا رہی ہیں” سلیمان کی آواز کمرے میں گونجی تو غزل نے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“یہی سوچ رہی ہوں گی آپ کے آپ کو میرے سر پہ زبردستی مسلط کیا گیا ہے اب ناجانے اس رشتے کا مستقبل کیا ہو گا وغیرہ وغیرہ تو آپ میری اک بات جان لیں کے ہم پینڈو لوگ ہیں اک دفعہ اگر کوئی ہمارے نام سے جڑ جائے تو ہم اسے بیچ چوراہے اکیلا نہیں چھوڑتے اس لیے اپنے دماغ میں چلتی فضول سوچوں کو نکال دیں” اس کی باتیں سن کے غزل کو اطمینان ہوا تھا ورنہ وہ سچ میں سوچ سوچ کے پاگل ہو جاتی کے اس رشتے کا مستقبل کیا ہو گا
“لیکن فلحال اس رشتے کے تقاضوں کو نبھانے کے لیے نہ آپ تیار ہیں نہ میں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم اس رشتے کو تھوڑا ٹائم دیں اور جب تک آپ اور میں دل سے اس رشتے میں بندھ نہیں جاتے تب تک میں ہمارے درمیان کوئی تعلق استوار نہیں کروں گا” اس کے اتنے کھلم کھلا کہنے پہ غزل حیا سے سرخ ہوئی تھی
“چلیں فلحال باہر چلتے ہیں سب کھانے پہ ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے” سلیمان نے کہہ کے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے غزل نے بھی اس کی تقلید کی تھی باہر نکلنے سے پہلے اس نے نظریں اٹھا کے اوپر دیکھا تھا گویا رب کا شکر ادا کیا تھا بےشک کمرے کی چھت کی وجہ سے آسمان نظر نہیں آ رہا تھا لیکن وہ رب پھر بھی دیکھ رہا تھا یقیناً اس کی تشکر بھری نگاہ بھی دیکھی گئی تھی
جاری ہے__________________!!
