Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13
چودھری حشمت برآمدے سے اٹھ کے سیدھا آپنے کمرے میں آئے تھے اور آتے ہی بیڈ پہ گرنے کے انداز میں بیٹھے تھے آج جو بھی ہوا تھا وہ ان کے لیے ناقابلِ قبول تھا وہ احواد سے تو اس بات کی امید کر سکتے تھے جانتے تھے وہ بہت ضدی ہے لیکن زعیم سے انہیں اس بات کی امید نہیں تھا
انہیں اس پہ اپنی اولاد سے زیادہ مان تھا انہیں لگتا تھا وہ کھبی کچھ غلط کر ہی نہیں سکتا لیکن اب جو بات ان کے سامنے آئی تھی اس نے انہیں توڑ رکھ کے دیا تھا ان کی بیٹی اور جس شخص کو انہوں نے ہمیشہ بیٹا سمجھا تھا دونوں نے مل کے انہیں دھوکا دیا تھا
وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا انہوں نے سر اٹھایا تو سامنے اپنی شریکِ حیات نظر آئی تھیں حشمت صاحب نے انہیں بےبسی سے دیکھا تھا
“نیک بخت میرا دل دکھ رہا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ پھٹ جائے گا آج میرے بچوں نے میرا مان توڑ دیا ہے” انہیں دیکھتے حشمت صاحب تھکے تھکے لہجے میں بولے تھے
“کس چیز کی کمی ہونے دی ہے میں نے احواد کو اس کی ہر خواہش منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کی اس کی خواہشات کی تکمیل میں نے اپنے بھائی بھابھی کی کتنی باتیں سنی کتنا کچھ سہا آخر میں مجھے یہ صلا ملا ہے؟” چودھری حشمت بول رہے تھے اور چودھرائن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ انہیں کس طرح تسلی دیں
“سب سے زیادہ دکھ تو زعیم نے دیا ہے مجھے مجھے سمجھ آ رہی ہے اس نے کیوں کیا ہو گا نکاح” چودھری حشمت نے کہا تو چودھرائن نے چونک کے انہیں دیکھا تھا
“کیوں؟” چودھرائن کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا
“کچھ دن پہلے بنک جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کے احواد نے اپنے اکاؤنٹ سے دس لاکھ نکلوائے ہیں” اتنا بول کے وہ پھر چپ ہو گئے تھے
“کیا دس لاکھ؟ کیا کیا اس نے دس لاکھ کا اور ہمیں بتایا بھی نہیں اور نکاح اور ان پیسوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟” چودھرائن نے چہرے پہ الجھن لیے پوچھا تھا
“زعیم کی بہن کا آپریشن تھا اور مجھے لگتا ہے احواد نے یہ پیسے اسے دیے ہوں گے اور نکاح کے پیچھے بھی انہی پیسوں کی کوئی سائنس ہو گی” چودھری حشمت کی بات چودھرائن کی سمجھ میں نہیں آئی تھی
“یہ تو سمجھ آتا ہے کہ احواد نے پیسے اسے دیے ہوں گے لیکن پیسوں کے لیے نکاح والی بات کی سمجھ نہیں آئی” چودھرائن نے کہا تھا
“چھوڑو نیک بخت سچ کب تک چھپا رہ سکتا ہے کھبی نہ کھبی تو آئے گا ہی سامنے فلحال تو میں ڈیرے جا رہا ہوں وہی بلاؤں گا اسے اور سارے معاملات طے کروں گا” چودھری حشمت کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھ گئے تھے
“تو کیا اب بھی آپ اسے نوکری پہ رکھیں گے؟” چودھرائن کے سوال پہ وہ رکے تھے
“میں آج سے اسے بس اک ملازم ہی سمجھا کروں گا بیٹا نہیں اور اللہ نے مجھے اس کے لیے روزی کا وسیلہ بنایا ہوا ہے اور یہ وسیلہ میں چھینوں گا نہیں” انہیں جواب دے کر چودھری حشمت وہاں سے چلے گئے تھے ان کے جاتے چودھرائن بھی اٹھی تھیں ان کا رخ احواد کے کمرے کی طرف تھا
__________________________
زعیم حویلی سے نکلتے غصے سے بھرا سیدھا گھر آیا تھا گھر پہنچتے ہی بغیر ادھر اُدھر دیکھے وہ اپنے کمرے میں گھس گیا تھا اماں اور انوشہ سے حیرت سے پہلے بند دروازے کو دیکھا اور پھر اک دوسرے کو دیکھا تھا
کمرے کا دروازہ بند کرتے زعیم کچھ دیر ویسے ہی کھڑا رہا تھا اور پھر آگے بڑھ کے بیڈ شیٹ تکیے صوفوں کے کشن ہر چیز زمین کو سلامی دے رہی تھی ان سب سے فارغ ہوتے وہ خود بیڈ پہ اوندھے منہ گرا تھا اور اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسانے انہیں تقریباً نوچا تھا
“کیوں ہر دفعہ غریب ہی کیوں پیسا جاتا ہے؟ کیا غریب ہونا اتنا بڑا گناہ ہے؟ اک ہماری مجبوریاں سے کھیلا جاتا ہے اور پھر بھی ہم ہی سب کی نظروں سے گرتے ہیں کیوں؟” یہ ساری باتیں سوچتے اس کے اپنے بالوں پہ گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی تھی
جب کسی بھی طریقے سے کھولتے دماغ کی کھولن کم نہ ہوئی تو ٹاول اور کپڑے لیے روم کا دروازہ کھولا اور برآمدے میں موجود اماں اور انوشہ پہ اک نظر ڈالے بغیر واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا
نہا کے نکلا تو غصے کی شدت تھوڑی کم ہو چکی تھی گیلے بالوں کو ٹاول سے سکھاتا وہ روم میں آیا تو سامنے اماں اور انوشہ کو دیکھ کے وہ اک پل کو تھما تھا لیکن دوسرے ہی پل آگے بڑھتے صوفے کے بازو پہ ٹاول پھیلایا تھا اور ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھتے برش اٹھا کے بالوں میں چلایا تھا
“زعیم پتر کچھ ہوا ہے؟” اماں کے سوال پہ اس کے چلتے ہاتھ رکھے تھے برش واپس ٹیبل پہ رکھتے وہ اماں کی طرف بڑھا تھا
“اماں آپ کے زعیم نے کسی کا اعتبار توڑ دیا” نیچے بیٹھ کے ان کی گود میں سر رکھتے اس نے دھیمے لہجے میں کہا تھا اماں اور انوشہ نے اک دفعہ پھر حیرت اور ناسمجھی سے اک دوسرے کو دیکھا تھا
“کیا کہہ رہا ہے پتر سیدھی طرح بتا کیا ہوا ہے؟” اماں نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے نرمی سے پوچھا تھا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا زعیم کا موبائل بجا تھا ان کی گود سے سر اٹھاتے اس نے موبائل کی تلاش میں ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو موبائل سائیڈ ٹیبل پہ پڑا نظر آیا تھا بےدلی سے موبائل اٹھا کے دیکھا تو سکرین پہ چمکتے نام کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی اور اس نے تیزی سے یس کا بٹن دباتے موبائل کان سے لگایا تھا
“السلام علیکم سائیں” موبائل کان سے لگاتے ہی زعیم جھٹ سے بولا تھا
“وعلیکم السلام جلدی ڈیرے آؤ” سنجیدگی سے اسے حکم دیتے فون کاٹ دیا گیا تھا زعیم کئی لمحے موبائل کو ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا تھا
“کیا ہوا ہے زعیم پتر؟” اماں نے اس کا کندھا ہلاتے پوچھا تو وہ چونکا تھا
“کچھ نہیں سائیں بلا رہے ہیں میں آتا ہوں” ان کو بتا کے وہ وہاں سے چلا گیا تھا اماں اور انوشہ نے سنجیدگی سے اس کی پشت دیکھی تھی
______________________
“افففف شکر ہے اک مرحلہ تو حل ہوا اور وہ بھی میری بہادری کی وجہ سے ورنہ وہ تو انتہا درجے کا بزدل انسان ہے” کمرے میں آتے احواد نے بیگ اور چادر پھینکی اور دونوں ہاتھ پھیلا کے اس نے اک لمبی سی سانس لی تھی پھر الماری سے کپڑے نکالے تھے اس سے پہلے کہ وہ واش روم کی طرف بڑھتی دروازہ ناک کر کے زین اندر داخل ہوا تھا جسے دیکھ کے احواد نے برا سا منہ بنایا تھا
“آئیے آئیے یقیناً کوئی تقریر ہی کرنے آئے ہوں گے” احواد کی بات پہ زین نے افسوس بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا
“احواد شرم تو نہیں آ رہی تمہیں ہم سب کا مان توڑ کے؟” زین کے لہجے میں افسوس ہی افسوس تھا
“نہیں آ رہی اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق ہر کسی کو ہوتا ہے میں نے بس اپنا حق استعمال کیا ہے” احواد نے بےنیازی سے کہا تھا
“جن آسائشات کی تم عادی ہو اگر وہ نہ ملیں تو یہی مرضی کی زندگی تمہیں عذاب لگے گی” زین نے استہزائیہ ہنسی ہنستے کہا تھا
“یہ آپ کا مسئلہ نہیں میرا ہے میں جیسے بھی اسے ہینڈل کروں اس لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں” احواد کی بات پہ زین نے دانت پیس کے اسے دیکھا تھا
“احواد اچھا نہیں کر رہی تم” زین نے بےبسی سے کہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے سمجھائے احواد کے کچھ بولنے سے پہلے چودھرائن اس کے کمرے میں آئی تھیں
“احواد بتاؤ ہم نے تمہیں کس چیز کی کمی ہونے دی ہے جو تم نے یہ قدم اٹھایا ہے؟” چودھرائن نے پوچھا تھا
“آپ لوگوں مجھے ہر چیز کی کمی دیتے لیکن بس آپنی مرضی کا ہمسفر چننے کی اجازت دے دیتے تو میں کھبی یہ قدم نہ اٹھاتی جس کے پلے آپ مجھے باندھنا چاہتے تھے اس کی نظروں سے ہی مجھے الجھن ہوتی تھی کجا کہ اس کے ساتھ شادی اس لیے مجھے جو ٹھیک لگا میں وہ کر لیا” احواد نے اپنا موقف ان کے سامنے رکھا تھا
“زعیم بھا کو کیسے مجبور کیا ہے نکاح کے لیے؟” زین کے پوچھے گئے سوال پہ احواد نے زرا سا چونک کے اسے دیکھا تھا
“آپ کے زعیم بھا کونسا ناسمجھ یا نادان ہیں جنہیں میں نے مجبور کرنا تھا میں نے کوئی مجبور نہیں کیا کسی کو” احواد ڈھٹائی سے کہا تھا
“احواد تجھے اپنے باپ کے جھکے کندھے نظر نہیں آ رہے؟ تجھے اپنے کیے پہ زرا سی بھی شرمندگی نہیں ہو رہی؟” چودھرائن نے افسردگی سے پوچھا تھا
“مجھے شرمندگی کیوں ہو گی کوئی غلط کام تھوڑی کیا ہے نکاح ہی تو کیا ہے” احواد نے نے کہا تو چودھرائن اور زین دونوں نے اسے غم و غصے سے دیکھا تھا
“چلیں اماں سائیں پتھر سے سر پھوڑنے کا کوئی فائدہ نہیں یہ لڑکی اپنے مفاد میں پاگل ہو چکی ہے اس لیے اسے کچھ نظر نہیں آ رہا” زین انہیں کندھوں سے تھامتا کمرے سے نکل گیا تھا ان دونوں کے جاتے احواد بھی سر جھٹکتے واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی
_____________________
چودھری شجاعت اپنی فیملی سمیت وہاں سے اٹھ گئے تھے اور اب گھر آ کے غصے سے ادھر اُدھر چکر کاٹ رہے تھے وقاص کا بھی غصے سے برا حال تھا زیادہ غصہ اسے اس بات پہ آ رہا تھا کہ احواد نے کتنی چلاکی سے اس کا استعمال کیا ہے
“میں تو پہلے ہی کہتی تھی بھائی صاحب کی اولاد کے ارادے کوئی اچھے نہیں لگ رہے مجھے لیکن میری بات تو کوئی سنتا ہی نہیں تھا اب دیکھ لیا نتیجہ” بیگم شجاعت نے جلتی پہ مزید تیل ڈالا تھا
“وقاص اپنی ماں سے کہو منہ بند رکھے میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہو چکا ہے مزید مت کرے” انہوں نے اپنی بیگم کو گھورتے وقاص سے کہا تھا
“ابا سائیں کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی اماں سائیں آپ کے بھائی اور بھتیجی نے اچھے نہیں کیا میرے مقابلے میں اس کمی کمین کو لا کر کھڑا کر دیا ہے” وقاص تو گویا جلتے توے پہ بیٹھا ہوا تھا
“تو کیا میں نے کہا ہے انہیں یہ سب کرنے کے لیے مجھے تو وہ لڑکا شروع سے ہی نہیں بھاتا تھا لیکن بھائی صاحب نے ہی بیٹا بیٹا کہہ کے اسے سر پہ چڑھایا ہوا تھا اب انجام بھگتیں” چودھری شجاعت نے انگارے چباتے ہوئے کہا تھا
“میری کیا اوقات رہ جائے گی جب سارے گاؤں والوں کو پتہ چلے گا کہ وقاص چودھری کی بچپن کی منگ کی شادی اک کمی کمین سے ہوئی ہے” وقاص کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زعیم کا وجود ہی اس صفحہ ہستی سے مٹا دے
“آپ دونوں آپس میں لڑ لیں آپ کے بھائی نے تو جو گیم کھیلنی تھی وہ کھیل گئے” ان دونوں کو آپس میں الجھتے دیکھ کر بیگم شجاعت بولی تھیں
“خیر اتنی آسانی سے تو میں بھی انہیں نہیں بخشوں گا اس کمی کمین کو اپنی حرکت کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی” وقاص غصے سے کہتا وہاں سے نکل گیا تھا
“چودھری صاحب روکیں اسے کہیں کچھ الٹا سیدھا ہی نہ کر بیٹھے” بیگم شجاعت نے پریشانی سے کہا تھا
“کچھ نہیں کرے گا یہ بس باتیں ہی بنا سکتا ہے” چودھری شجاعت نے جھلا کے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے ان کے جاتے کب سے خاموش تماشائی بنے وقار چودھری اور اس کی بیوی بھی اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے پیچھے بیگم شجاعت اکیلی بڑبڑاتی ہوئی رہ گئی تھیں
جاری ہے_____________!!
