Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16

شادی کا ہنگامہ سرد پڑ چکا تھا اور ہر کوئی اپنے معمولِ زندگی پہ واپس آ چکا تھا سوائے احواد کے اس دن کے بعد اس نے کسی سے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی وجہ زعیم کی دھمکی بھی تھی اور اس کی تربیت بھی تھی
اسے ہمیشہ سے بڑوں کا ادب و احترام کرنا سکھایا گیا تھا اس دن زعیم سے بدلہ لینے کے چکر میں وہ اماں سے بدتمیزی تو کر گئی تھی لیکن بعد میں گلٹ بھی ہوا تھا جس کے تحت اس نے جھجھکتے ہوئے معافی بھی مانگ لی تھی
انوشہ بھی کالج سے لیو پہ ہی تھی ابھی تک اس کی سرجری کا زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوا تھا اس لیے ابھی بھی اس کا علاج جاری تھا اسے لگ رہا تھا اس کا یہ سال ضائع ہی جائے گا اور نیکسٹ ائیر ہی وہ دوبارہ ایڈمیشن لی تھی
احواد بھی ابھی تک یونی سے چھٹیوں پہ ہی تھی تو اکثر اس کا موڈ ہوتا تو وہ انوشہ سے بات کر لیتی تھی ورنہ زیادہ تر کمرے میں ہی پائی جاتی تھی بس کھانے کے وقت ہی باہر آتی تھی یا جب لائیٹ آف ہوتی تو تب باہر آتی تھی
چونکہ یونی سے وہ شادی کی چھٹیاں لے چکی تھی اس لیے تھوڑی مطمئن تھی لیکن جلد ہی وہ اپنی اس روٹین سے اکتا گئی تھی اور یونی جانے کا سوچ ہی رہی تھی
رات کو زعیم کھانا کھانے کے بعد کمرے میں آ کر رجسٹر کھول کے بیٹھ گیا تھا احواد بھی وہی موجود تھی اس لیے اس نے زعیم سے بات کرنے کی ٹھانی تھی کیونکہ لانا اور چھوڑنا تو اسی نے ہی تھا
“مجھے یونی جوائن کرنی ہے دوبارہ” احواد کی بات سن کے زعیم نے سامنے پڑے رجسٹر سے سر اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟” اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے پا کر احواد نے ابرو اچکا کے پوچھا تھا
“محترمہ میں اگر میں اتنا امیر ہوتا کہ یہ سب افورڈ کر سکتا تو مجھے نہ ہی اپنی بہن کے علاج کے لیے آپ سے پیسے لینے پڑتے اور نہ ہی آپ سے کنٹریکٹ میرج کرنی پڑتی اور نہ ہی سب کی نظروں سے گرتا” اس کی بات سن کے احواد نے دانت پیسے تھے
“فار یور کائینڈ انفارمیشن مسٹر زعیم کے میرا سمسٹر ابھی ختم نہیں ہوا اور اس سمسٹر کی فیس پہلے ہی پے ہو چکی ہے اس لیے یہ سمسٹر تو میں پورا کر ہی سکتی ہوں اور نیکسٹ سمسٹر تک شاید میں یہاں ہوں ہی نہ اس لیے اپنی غریبی کی داستان سنانے کی ضرورت نہیں ہے” اس کی باتوں کے جواب میں زعیم کچھ دیر خاموش رہا تھا
“اب کیا ہوا؟” اسے چپ دیکھ کر احواد نے بےزاری سے پوچھا تھا
“ٹھیک ہے آپ تیار ہو جائیے گا صبح میں آپ کو چھوڑ آؤں گا” زعیم نے بات ختم کی اور دوبارہ رجسٹر پہ جھک گیا تھا
“کھڑوس کہی کا” احواد بڑبڑاتی بیڈ پہ جا کر کمفرٹر سر تک اوڑھ کے لیٹ گئی تھی زعیم نے اک نظر اسے دیکھ کے نفی میں سر ہلایا تھا
___________________________
اگلی صبح احواد یونی کے لیے تیار ہو کے آئی تو زعیم گیٹ سے باہر بائیک سٹارٹ کر کے کھڑا تھا احواد نے دھنگ نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ آج تک بائیک پہ بھی نہیں بیٹھی تھی
“یہ کیا ہے؟” احواد نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“ہیلی کاپٹر” زعیم نے بھی دانت پیستے جواب دیا تھا جواباً احواد نے اسے گھورا تھا
“میں اس پہ نہیں بیٹھوں گی میں آج تک کھبی بائیک پہ نہیں بیٹھی اگر میں اگر گئی تو؟” احواد نے خوفزدہ ہو کے کہا تھا
“تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ دو چار ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی اللہ کو پیاری آپ پھر بھی نہیں ہوں گی” زعیم کے طنز پہ احواد نے اسے گھور کے دیکھا تھا
“دیکھیں محترمہ اگر آپ کو جانا ہے یونی تو بیٹھیں میرے پاس بس یہی ہے اگر نہیں جانا تو مرضی آپ کی اب آپ کے ابا حضور جتنا امیر تو میں ہوں نہیں اور نہ ہی میرے پاس اللہ دین کا چراغ جسے رگڑوں گا اور اس میں سے جن نکلے گا اور آپ کہ ڈیمانڈ کے مطابق میں اس سے گاڑی منگوا لوں گا” اسے ہنوز کھڑے دیکھ کے زعیم نے اک اور طنز کیا تھا
“میں اس پہ بیٹھوں گی کیسے؟” احواد روہانسی ہوئی تھی
“بندر کی طرح چھلانگ لگا کے” زعیم نے جل کے کہا تو احواد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا
“دیکھو میری بات،،،،،”
“مجھے کچھ نہیں دیکھنا آپ نے اگر یونی جانا ہے تو بیٹھیں نہیں تو مرضی آپ کی میں جا رہا ہوں ڈیرے” زعیم نے کہتے ہوئے بائیک تھوڑی سی آگے بڑھائی تھی
“رکو آ رہی ہوں” احواد نے اسے رکنے کا کہا تو زعیم نے بائیک روکی تھی احواد آگے بڑھ کے ڈرتے ڈرتے بائیک پہ بیٹھی تھی بیگ گود میں رکھتے بلکل چوکنا ہو کر بیٹھی تھی
احواد کے بیٹھتے ہی زعیم نے بائیک فل سپیڈ پہ چھوڑی تھی جس سے ڈر احواد نے سختی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ جمایا تھا زعیم نے چونک کر اس کے ہاتھ کو دیکھا تھا اس کا چہرہ وہ دیکھ نہیں سکا تھا جس پہ ڈر صاف لکھا ہوا تھا
“پلہز آہستہ چلاؤ بائیک” اسے ہنوز اسی سپیڈ پہ بائیک چلاتے دیکھ کر احواد نے تقریباً چیختے ہوئے کہا تھا
“دیکھیں محترمہ یہ آپ کے بابا سائیں کی لینڈ کروزر نہیں ہے جو گاؤں سے شہر تک کا فاصلہ منٹوں میں طے کر لے وہ چار پہیوں والی گاڑی تھی اور یہ دو پہیوں والی موٹر سائیکل ہے اور اگر ٹائم پہ آپ کو چھوڑ کے واپس آنا ہے تو مجھے اسی سپیڈ پہ بائیک چلانی ہو گی کیونکہ آپ کو شہر چھوڑنے کے علاوہ بھی میرے بہت سے کام ہیں” زعیم کی باتیں سن کے احواد کا دل کیا اس کے کندھے پہ رکھے ہاتھ کو اس کی گردن تک پہنچاتے اس کا گلہ دبا دے
اس کی باتوں کا یہ اثر ہوا کہ احواد منہ پھلا کے چپ ہو گئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ آیت الکرسی کا ورد بھی شروع کر دیا تھا تا کہ وہ بحفاظت یونی پہنچ سکے
“روکو روکو بائیک روکو” ابھی وہ گاؤں کے خارجی رستے پہ پہنچے ہی تھا کہ احواد چیخی تھی زعیم نے جلدی سے بوکھلاتے اک جھٹکے سے بریک لگائی تھی اس کے اس طرح بریک لگانے سے احواد بےساختہ زعیم کے ساتھ ٹکرائی تھی اک لمحے کو دونوں کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی مگر دونوں نے ہی اسے نظرانداز کیا تھا
“کیا ہوا کیوں بائیک رکوائی ہے؟” زعیم نے گردن پیچھے موڑتے اس سے پوچھا تھا جو اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے تھوڑا سا آگے جا کر کسی کے سامنے رکی تھی زعیم کی نظروں نے اس کا تعاقب کیا تو وہاں کوئی اور نہیں وقاص تھا
“کیسے ہو ڈیر کزن؟ تم میری شادی میں نہیں آئے اور نہ ہی مجھے شادی کی مبارکباد دی ہے” احواد نے معصومیت سے وقاص سے پوچھا تھا جو اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا
“تمہیں مبارکباد دیتی ہے میری جوتی اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ احواد چودھری کا معیار اتنا گرا ہوا ہو گا کہ اس کی پسند اک کمی کمین ہو گا” وقاص کی حقارت سے بھرپور آواز اتنی اونچی تو ضرور تھی کہ زعیم کے کانوں تک پہنچ سکے اور اس کی سرخ پڑتی رنگت بتا رہی تھی کہ وہ سن چکا ہے
“میرے معیار کو چھوڑو تم سوچو تمہارا معیار کیا ہے کہ تمہاری بچپن کی منگیتر نے تمہیں چھوڑ کے کسی اور سے شادی رچا لی” احواد نے بھی اسے منہ توڑ جواب دیا تھا
“افففف کیا کروں میں ان کا خود تو چلی جائیں گی مگر جاتے جاتے میرے گلے میں وقاص نامی ڈھول ڈال جائیں گی” وقاص کا غصے سے سرخ چہرا دیکھ کر زعیم بڑبڑایا تھا اور بائیک بند کرتے اسے وہی کھڑے کرتے ان دونوں کی طرف بڑھا تھا
“میرے معیار کو چھوڑو تم میرا معیار دیکھنا ہے تو یہ دیکھو کے میں ابھی بھی بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہوں جبکہ تم تو گاڑی سے بائیک پہ آ گئی ہو اور جلد ہی بائیک سے گدھا گاڑی پہ بھی آ جاؤ گی” وقاص کا لہجہ مذاق اڑاتا ہوا تھا جسے سن کے احواد کو آگ ہی لگ گئی تھی
“چلیں احواد یونی سے دیر ہو رہی ہے” زعیم نے احواد کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے کہا تھا جبکہ وقاص کو اس نے صاف نظرانداز کیا تھا کیونکہ وہ اسے کچھ کہہ کے اک مزید مصیبت اپنے آپ پہ نہیں لے سکتا تھا
جہاں اس کی حرکت پہ وقاص کو تپ چڑھی تھی وہی احواد اس کی جرات پہ شاک میں آ گئی کہ اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا اور اس کو غنیمت جانتے زعیم اسے لیے بائیک کی طرف بڑھا تھا
بائیک کے پاس لاتے اس نے احواد کے گرد سے اپنا ہاتھ کھینچا اور بائیک پہ بیٹھتے اسے سٹارٹ کیا تھا لیکن اس دوران احواد ابھی تک شاک کی کیفیت میں ہی کھڑی تھی
“احواد بیٹھیں دیر ہو رہی ہے” زعیم کی آواز سن کے وہ ہوش میں آئی تھی اور اک خونخوار نظر اس پہ ڈالتے بائیک پہ بیٹھ گئی تھی
وقاص کی شعلہ جوالہ بنی نظروں نے دور تک دونوں کا پیچھا کیا تھا اور پورا رستہ ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی یونی کے آگے زعیم نے بائیک روکی تو احواد نے بائیک سے اترتے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے زعیم کو گھورا تھا
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہیں؟” زعیم نے اس کی نظروں سے مکمل انجان بنتے پوچھا تھا
“کس خوشی اور کسی حق سے آپ نے مجھے چھوا تھا؟” اس کے انجان بننے پہ اس کے غصے میں شدید اضافہ ہوا تھا
“خیر خوشی تو کوئی نہیں تھی اور رہی حق کی بات تو اسے رہنے ہی دیں کیونکہ میرے جو حقوق ہیں وہ آپ سے برداشت نہیں ہوں گے آخر کار دو دفعہ نکاح ہوا ہے ہمارا” زعیم نے اس کے غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا تھا
“شٹ اپ” غصے سے سرخ پڑتی وہ چیخی تھی
“فلحال مجھ پہ غصہ کرنے سے بہتر ہے اندر جائیں آپ کو بھی دیر ہو رہی ہے اور مجھے بھی انشاءاللہ ٹائم پہ لینے آ جاؤں گا اللہ حافظ” اپنی بات ختم کرتے زعیم بائیک کو کک مارتے اس کی سنے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا احواد بھی پاؤں پٹختی یونی کے اندر چلی گئی تھی
زعیم جب ڈیرے آیا تو اپنے معمول سے کافی لیٹ ہو چکا تھا بائیک کھڑی کر کے اندر آیا تو چودھری حشمت کی نظروں سے شرمندہ ہوتے اس نے جلدی سے سلام جھاڑا تھا جس کا جواب انہوں نے بس سر ہلا کے دیا تھا
“دیر سے آنے کی وجہ؟” انہوں نے سنجیدگی سے دو ٹوک لہجے میں پوچھا تھا
“سائیں وہ احواد بی بی کو یونی،،،،” ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ چودھری حشمت نے ہاتھ اٹھا کے اسے مزید بولنے سے روکا تھا
“مجھے کچھ نہیں سننا مجھے بس تم وقت پہ یہاں چاہیے ہو آج پہلی اور آخری دفعہ یہ غلطی معاف کر رہا ہوں آئندہ اگر دیر ہوئی تو اچھا نہیں ہو گا” چودھری حشمت نے کہا تو زعیم نے سر ہلا دیا اور پھر خاموشی سے رجسٹر لاتے انہیں اس مہینے جو جو خرچے ہوئے تھے ان سب کا حساب بتانے لگا تھا
________________________
یونی میں آ کر اس نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا تھا اک کلاس کے بعد دوسری فری تھی اور وہ اپنی مخصوص جگہ پہ بیٹھی پچھلے سارے لیکچرز دیکھ رہی تھی جو اس نے اپنی کلاس فیلو سے لیے تھے وہ ابھی دیکھ رہی تھی کہ فائز اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تھا
“شادی کیسی گزری؟” فائز کے سوال پہ فولڈر پہ پھسلتی احواد کی نظریں تھمی تھیں اور اس نے آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا
“اس سوال کا مطلب؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
“سادہ سا سوال پوچھا ہے اس میں مطلب کہاں سے آ گیا؟” اس نے بھی سوال کے جواب میں سوال کیا تھا
“فائز تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ شادی کیسے ہوئی ہے تو میں نہیں سمجھتی تمہیں ایسا کوئی سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا” فائز کو کہتے اس نے دوبارہ اپنی نظریں فولڈر پہ جمائی تھیں
“اس نے تم پہ اپنا کوئی حق تو نہیں جمایا؟” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فائز نے نظریں چراتے اک اور سوال پوچھا تھا جسے سن کے احواد کا چہرہ غصے اور حیا سے لال ہوا تھا
“فائز کیا بکواس کر رہے ہو تم جانتے ہو تم؟ تمہیں مجھ پہ اعتبار نہیں کرنا مت کرو مگر مجھ سے اس قسم کے گھٹیا سوال مت کرو” احواد دبے دبے لہجے میں چلائی تھی
“دیکھو احواد تم مجھے بھی تو سمجھنے کی کوشش کرو اک مرد کے لیے اپنی من پسند عورت کو کسی اور کی دسترس میں دیکھنا آسان نہیں ہوتا میں ہر روز یہ سوچ کے انگاروں پہ لوٹتا ہوں کہ تم پہ کسی اور کا حق ہے” فائز کے لہجے میں بےبسی اور جلن دونوں کا عنصر تھا
“تمہیں اس قسم کی سوچیں پالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ شادی بس کانٹریکٹ پہ ہوئی ہے اور زعیم کو میں بچپن سے جانتی ہوں وہ کھبی اپنی بات سے نہیں مکرے گا” احواد نے دو ٹوک لہجے میں کہتے اس کی پریشانی دور کی تھی
“احواد تم نادان ہو تم نہیں جانتی مرد کی سائیکی کو جب اک عورت پہ مرد پورا حق رکھتا ہو اک چھت تلے رہتے وہ کب تک اس عورت کے وجود سے نظریں چرا سکتا ہے” فائز کی سوئی بس اک جگہ ہی اٹک گئی تھی
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے جب دماغ ٹھکانے آئے تب آ کے مجھ سے بات کرنا فلحال میں جا رہی ہوں یہاں سے” احواد غصے سے اسے کہتے وہاں سے اٹھ گئی تھی پیچھے وہ بےبسی سے اس کی پشت دیکھتا بیٹھا رہ گیا تھا
وہ کیسے اسے سمجھا سکتا تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہا تھا اس کے لیے اس بات کو برداشت کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا کہ اس کی من پسند عورت کسی اور مرد کی دسترس میں ہے اس نے کافی دفعہ خود کو یہ دلیل دی تھی کہ یہ شادی بس اک کنٹریکٹ ہے جو جلد ہی ختم ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود اسے سکون نہیں آ رہا تھا
_______________________
زعیم نے شدید مصروف ہونے کے باوجود ٹائم پہ بھی دھیان رکھا تھا کہ اسے احواد کو یونی سے پک کرنے جانا تھا چودھری حشمت کے موڈ کو دیکھتے وہ ان سے پوچھنے میں جھجھک رہا تھا لیکن پوچھنا بھی ضروری تھا
“سائیں مجھے شہر جانا ہے تو کیا میں جاؤں؟” زعیم نے ٹھہر ٹھہر پوچھا تھا
“نہیں بہت کام ہے یہاں” انہوں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا تھا
“سائیں ضروری ہے جانا پہلے بھی تو جاتا تھا” زعیم نے بےبسی سے کہا تھا اس کی بات کے جواب میں چودھری حشمت نے جن نظروں سے دیکھا تھا وہ شرمندگی سے زمین میں گڑھ گیا تھا
“سائیں مجبوری ہے میں انہیں اکیلا وہاں نہیں چھوڑ سکتا آپ جانتے ہیں آج کل کے حالات” زعیم کی بات نے انہیں بھی سوچنے پہ مجبور کیا تھا ناراضگی اپنی جگہ لیکن وہ کھبی اس کو نقصان پہنچتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے
“جاؤ” انہوں نے اجازت دی تھی وہ جلدی سے بائیک سٹارٹ کرتے شہر کے لیے نکل گیا تھا چودھری حشمت کے دل میں آیا کے اسے کہہ دیں گاڑی لے جائے لیکن انا آڑے آ گئی تھی
بائیک فل سپیڈ پہ چھوڑنے کے باوجود جب وہ یونی پہنچا تو احواد کی کلاسز کا ٹائم ختم ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی اور وہ غصے اور گرمی میں جل بھن چکی تھی
اک فائز کے سوالوں اور دوسرا گرمی نے اس کا دماغ خراب کر دیا تھا اور زعیم کی شکل دیکھتے غصہ مزید بھڑکا تھا وہ جوالہ مکھی بنی اس کی طرف بڑھی تھی
“اب بھی آنے کی کیا ضرورت تھی” اس کے پاس پہنچتے احواد نے تقریباً غراتے ہوئے کہا تھا
“آپ سے نکاح کے بعد اب آپ کے ابا حضور کا میں لاڈلا نہیں رہا کہ جب مرضی منہ اٹھا کے چلا آؤں ابھی بھی ان کی منتیں کر کے آیا ہوں اور اوپر سے میڈم بھی مجھ پہ ہی بھڑک رہی ہیں” زعیم کا ارادہ بھی کوئی مروت نبھانے کا نہیں تھا
“میں مزید آپ کی کوئی گوہر افشانی نہیں سن سکتا بیٹھیں جلدی مجھے واپس جا کے آپ کے ابا حضور کے دربار میں پیش ہونا ہے” اسے منہ کھولتے دیکھ کر زعیم تیزی سے بولا تو وہ اسے گھورتے ہوئے منہ پھلائے بائیک پہ بیٹھ گئی تھی
گھر پہنچتے اسے گیٹ پہ چھوڑتے زعیم واپس ڈیرے چلا گیا تھا آج اس نے گھر کھانا کھانے کے لیے بھی نہیں رکا تھا احواد بھی اسے اک گھوری سے نوازتی گیٹ کھول کے اندر داخل ہو گئی تھی
جاری ہے___________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *