Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA)

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA)

وقاص کو گئے کافی دیر ہو چکی تھی مگر ابھی تک ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پہ ساکت کھڑا تھا سب سے پہلے چودھری حشمت کا سکتہ ٹوٹا تھا اور انہوں نے آگے بڑھ کے چودھری شجاعت کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا جس پہ چودھری شجاعت نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھا تھا
“تم بیٹھو یہاں اور غزل بیٹا جاؤ پانی لے کر آؤ” چودھری حشمت نے پہلے چودھری شجاعت کو بیٹھایا اور پھر غزل کو پانی لانے کا کہا وہ سر ہلاتے کچن کی طرف بڑھ گئی تھی
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرا بیٹا اس حد تک چلا جائے گا” چودھری شجاعت کے لہجے میں بےیقینی ہی بےیقینی تھی
ان کو یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وقاص کا کوئی ایسا بھی روپ بھی ہے اتنے میں غزل پانی لے آئی تھی چودھری شجاعت نے خاموشی سے گلاس پکڑا اور پانی پی کے گلاس واپس پکڑا دیا تھا
“دیکھو شجاعت اگر دیکھا جائے تو اسے یہاں تک پہنچانے میں تمہارا بھی ہاتھ ہے تمہیں کس نے کا کہا تھا کہ اس کا موازنہ دوسروں بچوں کے ساتھ کرو” چودھری حشمت نے نرمی سے کہا
“مجھے کیا پتہ تھا وہ ایسا ہو جائے گا مجھے لگا تھا کہ اگر میں ایسا کروں گا تو شاید ان جیسا بننے کے چکروں میں وہ سدھر جائے” چودھری حشمت نے ان کے نقطہ نظر پہ افسوس بھری نظروں سے انہیں دیکھا تھا
“ہر بچہ اپنی فطرت پہ پیدا ہوتا ہے وہ سب کچھ اپنی ماں کے پیٹ سے سیکھ کے نہیں آتا اگر وہ کچھ غلط کر رہا ہو تو اسے اس طرح سمجھانا چاہیے کہ اسے محسوس ہی نہ ہو کے آپ اس کے مطلق بات کر رہے ہیں مگر اک بچے کا موازنہ دوسرے بچے کے ساتھ کرنا اس کی شخصیت تباہ کرنا ہی ہوتا ہے اور دیکھیں ہو گئی وقاص کی شخصیت تباہ اسے لگتا ہے کہ ہر کوئی اس سے بہتر ہے اس لیے وہ اپنے آپ کو کور کرنے کے لیے ایسے کام کرتا ہے” جوں جوں چودھری حشمت بولتے جا رہے تھے توں توں چودھری شجاعت کا سر جھکتا جا رہا تھا
“اور بھرجائی آپ اسے ایسا بنانے میں آپ بھی برابر کی شریک ہیں جب اس کے سامنے دوسرے کے بچوں کی برائیاں کریں گی تو اسے یہی لگے گا نا کہ وہ ٹھیک ہے اور باقی سب غلط ہیں خدارا اس بات کو سمجھیں بچپن اک نہایت ہی حساس دور ہے جس میں بچوں کی شخصیت بنتی اور سنورتی ہے اور ہم بےدھیانی میں اس شخصیت کو تباہ کر دیتے ہیں” بیگم شجاعت جو ہر موقع پہ بھڑ چڑھ کے بولتی تھیں آج وہ بلکل خاموش تھیں
“خیر اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں بس ہم وقاص کی راہِ راست پہ آنے کی دعا ہی کر سکتے ہیں” چودھری حشمت نے اک افسوس بھری نگاہ چودھری شجاعت اور بیگم شجاعت کے جھکے سر پہ ڈالی تھی
تھوڑی دیر اور بیٹھنے کے بعد چودھری شجاعت اپنی فیملی کے ساتھ واپس چلے گئے تھے ان کے جاتے ہی زعیم نے بھی جانا چاہا تھا
“زعیم تم کچھ دنوں کے لیے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ یہی آ جاؤ کیونکہ میں نہیں چاہتا ہماری وجہ سے وقاص تم لوگوں کو کوئی نقصان پہنچائے” چودھری حشمت نے اسے روکتے ہوئے کہا تھا
“لیکن سائیں،،،،،،” اس نے کچھ کہنا چاہا تھا
“لیکن ویکن کچھ نہیں سلام جاؤ اور انہیں لے کر آؤ” چودھری حشمت اس دفعہ سختی سے بولے تھے جس پہ زعیم سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا تھا
گھر جا کے اماں اور انوشہ کو مختصر بات بتا کے انہیں اپنے ساتھ چلنے کا کہا کہ وہ کچھ دن حویلی رکیں گے وہ دونوں بھی ہچکچائی تھیں مگر زعیم نے کہا کہ چودھری حشمت نے سخت تاکید کی ہے پھر ان دونوں کو حویلی چھوڑتے فوراً ہی کہا چلا گیا تھا
انہیں چھوڑنے کے بعد جوں وہ نکلا رات گئے واپس آیا تھا احواد جو اس سے بات کرنے کا موقع تلاش کر رہی تھی دیکھتی رہ گئی تھی مگر رات اس نے کے آنے تک وہ جاگتی ہی رہی تھی کیونکہ اس نے ٹھان لیا تھا کہ بات تو لازمی کرے گی
اماں اور انوشہ کو اس روم میں ٹھہرایا گیا تھا جو مہمانوں کے لیے مختص تھا جبکہ زعیم کا قیام احواد کے روم میں ہی تھا یہ حویلی اس کے لیے نئی نہیں تھا اس نے لڑکپن سے جوانی کا سفر اسی حویلی میں طے کیا تھا لیکن وہ کھبی یہاں رکا نہیں تھا مگر آج اس حویلی میں داماد کی حیثیت سے رکتے جھجھک آڑے آ رہی تھی
حویلی آ کر پہلے وہ اماں اور انوشہ کو اک نظر دیکھنے گیا تھا انوشہ تو سو گئی تھی مگر اماں اس کے انتظار میں جاگ رہی تھیں ان کی طرف سے مطمئن ہوتے اماں کو دروازہ لاک کر کے سو جانے کی تلقین کرتے وہ احواد کے روم کی طرف بڑھا تھا دروازے پہ پہنچتے کچھ لمحے وہ ویسے ہی کھڑا رہا تھا احساسات عجیب ہو رہے تھے
مگر اندر تو جانا تھا اس نے گہری سانس بھرتے خود کو پرسکون کیا تھا اور دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا مگر سامنے ہی احواد کو بیڈ پہ نیم دراز کتاب پڑتے دیکھ کر وہ چونکا تھا کیونکہ اسے لگا تھا کہ وہ تو سو گئی ہو گی
یہ چونکنا بھی اک پل کے لیے ہی تھا اگلے ہی پل اسے نظرانداز کرتے وہ اس بیگ کی طرف بڑھا جو اماں اس کے لیے پیک کر کے لائی تھیں ورنہ وہ تو اپنے کپڑے بھول ہی گیا تھا اور احواد کے کچھ کپڑے یہاں موجود تھے تو اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا کپڑے نکال کے وہ واش روم گیا تھا فریش ہو کے واپس آیا تو بغیر اس کی طرف دیکھے صوفے پہ جا کر لیٹ گیا تھا
“زعیم مجھے تم سے بات کرنی ہے” احواد کو اپنا آپ اس طرح نظرانداز ہوتا دیکھ کر غصہ تو بہت آیا تھا مگر غصے کو دباتی زعیم سے مخاطب ہوئی تھی
“میں اس وقت بہت تھک چکا ہوں اور سونا چاہتا ہوں اس لیے برائے مہربانی آپ بھی چپ کر کے سو جائیں” زعیم اس دو ٹوک جواب دیتا آنکھوں پہ بازو رکھ گیا تھا
“تم مجھے اس طرح اگنور نہیں کر سکتے” احواد شدید طیش میں آئی تھی اس نے ہمیشہ زعیم کو اپنے کاموں کے لیے تیار دیکھا تھا اس کی جلی کٹی جیسی بھی بات ہوتی تھی وہ چپ چاپ سن لیتا تھا لیکن اب اس کا نظرانداز کرنا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
یہ نہیں تھا کہ اسے زعیم سے محبت تھی بلکہ اسے اس کی اٹینشن کی عادت ہو گئی تھی اور اب وہ عادت کے برخلاف کام کر رہا تھا تو احواد کو تھوڑا نہیں بہت زیادہ عجیب لگ رہا تھا اور ساتھ ہی غصہ بھی آ رہا تھا
“کیوں اگنور کرنے کا لائسنس بس آپ کے پاس ہے؟” زعیم نے آنکھوں سے بازو ہٹاتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا تھا
“نہیں میرا مطلب یہ نہیں ہے” اس کے براہِ راست اپنی آنکھوں میں دیکھنے سے وہ گڑبڑائی تھی
“آپ کا جو بھی مطلب ہے وہ بعد میں دیکھ لیں گے فلحال لائٹ آف کریں خود بھی سوئیں اور مجھے بھی سونے دیں ورنہ جو ہو گا وہ آپ کو پسند نہیں آئے گا” زعیم کا لہجہ انتہا درجے کا سرد تھا اس کی دھمکی پہ احواد نے جھٹ لائٹ آف کی تھی
“جانتا ہوں میری قربت بہت ناگوار ہے آپ کے لیے اب سب کچھ ٹھیک ہونے کے بعد بھی پتہ نہیں کیوں مجھے برداشت کر رہی ہیں” زعیم نے لب بھینچتے سوچا تھا پھر سر جھٹکتے سونے کی کوشش کی تھی
_____________________________
وقاص بڑی حویلی سے نکل کے سیدھا اپنے ڈیرے گیا تھا وہاں جا کر سب سے پہلے اس نے اپنا غصہ اپنے آدمی پہ نکالا تھا کہ وہ سب کچھ وہاں سے ہٹا نہیں سکتا تھا اسے بولنے کی اجازت نہیں تھی ورنہ وہ ضرور بتاتا کہ اسے الہام نہیں ہوتے کہ سب آنے والے ہیں ورنہ ہٹا دیتا
غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اس نے آگے کا لائحہ عمل سوچ کہ اسے کیا کرنا ہے سب سے پہلے وہ اس آدمی کے گھر گیا تھا جسے اس نے پیسے دے کر خریدا تھا مگر وہاں پہنچ کے گیٹ پہ لگے تالے نے اس کا منہ چڑایا تھا
غصے سے وہاں سے نکل کے وہ زعیم کے گھر گیا تھا تا کہ وہ ان کی بھی عقل ٹھکانے لگا سکے مگر اس کی بری قسمت کے وہاں پہ بھی تالا لگا ہوا تھا وہ غصے سے پاگل ہوتا دوبار ڈیرے پہ آیا تھا وہاں آ کر چیخنے چلانے کے بعد بھی اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
“ٹھیک کہتے تھے بابا سائیں میں ہوں ہی نکما میں ہوں ہی نکارا سب میرے ہاتھوں سے نکل گیا سب” دیوار پہ مکا مارتے وہ بڑبڑائے تھا اتنے میں اس کے آدمی نے چودھری شجاعت کے ڈیرے آنے کی اطلاع دی تھی
جس سے اس کا موڈ اور خراب ہوا تھا اس نے اسے وہاں سے جانے کا کہا اور خود کمرے لاک کر کے بیٹھ گیا تھا چودھری شجاعت نے دکھ سے بند دروازے کو دیکھا تھا اور دروازہ کھٹکھٹایا تھا
“وقاص دروازہ کھولو میری بات تو سن لو میں بس تمہیں سدھارنے کے لیے وہ سب بولتا تھا ورنہ کس کو اپنی اولاد سے بڑھ کے کوئی اور ہوتا ہے” انہوں نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اسے مخاطب بھی کیا تھا مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا تھا
“وقاص” کوئی بھی جواب نہ پا کر انہوں نے بےبسی سے دروازہ پیٹا تھا
کافی دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا تھک ہار کے وہ پیچھے ہو گئے تھے لیکن ڈیرے سے واپس نہیں گئے تھے وہی بیٹھے رہے تھے انہیں وہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی لیکن وقاص نے دروازہ نہیں کھولا تھا آخر کار وہ اس کے جانے کا یقین کر کے اس نے دروازہ کھولا تھا
تھوڑی دیر وہ وہی تازہ ہوا میں واک کرتا رہا تھا تا کہ تھوڑا فریش ہو جائے پورا دن اک کمرے میں بند رہ رہ کے اس کی تو جیسے سانس ہی بند ہو گئی تھی پھر جیسے ہی رات کا اندھیرہ چھایا اس نے گاڑی نکالی اس کا ارادہ شہر اپنی پسندیدہ جگہ جانے کا تھا جہاں وہ کب سے گیا نہیں تھا
گاڑی اس نے فل سپیڈ پہ چھوڑی ہوئی تھی تا کہ جلد از جلد شہر پہنچ سکے
گاڑی میں لگا میوزک انجوائے کرتے وہ اپنے آپ میں مگن ڈرائیور کر رہا تھا کہ اچانک گاؤں کی آخری حدود میں موڑ کاٹتے ہوئے اس سے گاڑی بےقابو ہوئی تھی اور برے طریقے سے جا کر سامنے لگے درخت سے ٹکرائی تھی
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ وقاص کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا اور اس کا سر سٹیرنگ سے ٹکرایا تھا اور بےتحاشہ خون نکلنا شروع ہو گیا تھا اور گاڑی کے شیشے ٹوٹ کے اس کے جسم کے مختلف حصوں میں پیوست ہوئے تھے اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چوٹیں لگی تھیں
وہ نیم بیہوش تھا اس وقت گاؤں کی بلکل سنسان جگہ پہ تھا جہاں دن میں بھی بہت کم لوگ آتے تھے اور اب تو رات ہو چکی تھی وہ بےبسی سے وہاں پڑا خود کو لمحہ با لمحہ موت کی طرف جاتے دیکھ رہا تھا
“یا اللّٰہ ” جب کوئی امید نہ رہی تھی اس کے لبوں نے بےآواز اللہ کو پکارا تھا یہ تو انسانی فطرت ہے خوشی کے موقع پہ اللّٰہ یاد آئے نہ آئے مگر غم اور مشکلات میں اللہ ضرور یاد آتا ہے اور انسان بےساختہ اپنے رب کو پکارتا ہے جو اسے سننے کے لیے پہلے ہی تیار ہوتا ہے
اللہ کے بعد اسے اپنے سارے گناہ یاد آئے تھے اپنے باپ کو آج دن بھر کروایا انتظار یاد آیا تھا ان سب کی یاد آتے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں اضافہ ہوا تھا
“اے اللہ مجھے معاف کر دے میں اپنے سارے گناہوں سے توبہ کرتے ہوں مجھے بس اک موقع دے دے میرے اللہ مجھے سدھرنے کا اک موقع،،،،،،” بولتے بولتے اس کا دماغ تاریکی میں ڈوبتا جا رہا تھا اور بات مکمل بھی نہیں ہوئی کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور دماغ مکمل تاریک ہو گیا تھا
رب کی صفات ہیں کہ وہ رحمان ہے وہ رحیم ہے وہ کریم ہے جو ہر دم اپنے بندے کی توبہ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے جو گناہوں کے باوجود بھی اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے جب اک ماں اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھ کر اس کا بڑے سے بڑا گناہ معاف کر سکتی ہے تو پھر وہ رب جو ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتا ہے وہ کیوں نہیں
تبھی وہاں سے اک موٹر سائیکل گزری تھی جس پہ سوار دو آدمی گاؤں کے ہی تھے شاید کسی کام سے شہر گئے تھے اور رات کو واپسی ہوئی تھی وہاں سے گزرتے موٹر سائیکل کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں درخت کے ساتھ اک گاڑی نظر آئی جس کے بونٹ سے دھواں اٹھ رہا تھا
وہ دونوں بےساختہ آگے بڑھے اور اس میں موجود آدمی کو دیکھا تھا جسے وہ اچھی طرح جانتے تھے وہ چودھری شجاعت کا بڑا بیٹا وقاص تھا ان میں سے اک نے جھٹ موبائل نکالتے وقار چودھری کا نمبر ملایا تھا اکثر زمینوں کے مسئلوں کی وجہ سے وہ اک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اس لیے ان کے پاس اس کا نمبر تھا
کال پک ہوتے ہی انہوں نے اسے صورتحال بتاتے جلد از جلد پہنچنے کا کہا تھا کال کرنے کے کچھ ہی دیر بعد حواس باختہ سے چودھری شجاعت اور وقار وہے آئے تھے گاڑی کی حالت اور خون میں لت پت وقاص کو دیکھتے چودھری شجاعت تو ڈھے ہی گئے تھے دکھ میں تو وقار بھی تھا مگر ابھی وقت ضائع کرنے کا موقع نہیں تھا
اس لیے ان دونوں آدمیوں کی مدد سے وقاص کو اس کی گاڑی سے نکال اپنی گاڑی میں ڈالا تھا چودھری شجاعت بھی اس کے ساتھ پچھلی سیٹ پہ بیٹھے تھے وقار ان دونوں آدمیوں کا شکریہ ادا کرتا زن سے گاڑی بھگا کے لے گیا تھا ریش ڈرائیونگ کرتا وہ جلد ہی شہر کی حدود میں پہنچ گیا تھا
ہاسپٹل پہچنے ہی اسے آئی سی یو میں لے جایا گیا تھا چودھری شجاعت غم سے نڈھال کرسی پہ گرے تھے اور ان کے لب مسلسل اس کی سلامتی کے لیے ورد کر رہے تھے ہاسپٹل لانے تک اس کا بہت خون بہہ چکا تھا وقار اور چودھری حشمت دونوں کے کپڑے خون سے رنگے ہوئے تھے
ان کے اس طرح اچانک کہی چلے جانے سے گھر سے کال پہ کال آ رہی تھی مگر وقار ابھی فون اٹھانا نہیں چا رہا تھا اس لیے اس نے فون سائلینٹ پہ کر دیا تھا کچھ دیر بعد اک نرس باہر آئی تھی اور خون دینے کے لیے کہا تھا وقار نے سب سے پہلے اپنا چیک کروایا تھا جو کہ میچ ہو گیا تھا پھر اسی نے ہی خون دیا تھا
پھر کافی دیر کے صبر آزما انتظار کے بعد ڈاکٹر باہر آئے تھے اور اس کے خطرے سے باہر ہونے کی خبر دی ہاں البتہ ابھی تک اسے ہوش نہیں آیا تھا ڈاکٹر کی بات سن کے چودھری شجاعت وہی سجدے میں گر گئے تھے اگر آج اسے کچھ ہو جاتا تو ان کے لیے عمر بھر کا اک پچھتاوا چھوڑ جاتا
جاری ہے_______!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *