Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14
چودھری حشمت کی کال کے بعد زعیم دل میں خوش فہمیوں کے جال بنتے ڈیرے آیا تھا اگر چودھری حشمت اسے بیٹا مانتے تھے تو زعیم نے بھی ہمیشہ انہیں باپ کا درجہ دیا تھا ان کا دل دکھا کے اسے خود چین نہیں مل رہا تھا وہ ڈیرے آیا تو چودھری حشمت اور ان کے ساتھ سلیمان بیٹھا ہوا تھا
“تم؟ تمہاری ہمت کیسی ہوئی یہاں آنے کی؟” سلیمان چودھری تو اسے دیکھتے ہی بپھر گیا تھا
“آرام سے بیٹھو سلیمان میں نے بلایا ہے اسے” چودھری حشمت کی بات پہ اس نے حیرانگی سے انہیں دیکھا تھا
“اس کی حقیقت جاننے کے بعد بھی آپ نے اسے بلایا؟” زعیم کی طرف اشارہ کرتے سلیمان نے غصے سے پوچھا تھا جبکہ زعیم جھکے سر سے کھڑا تھا
“سلیمان آرام سے بیٹھ جاؤ مجھے اچھی طرح پتہ ہے میں نے کیوں بلایا ہے اور اب اس کی کیا حیثیت ہے میرے لیے” چودھری حشمت کی بات سن کے زعیم نے جھٹکے سے سر اٹھا کے انہیں دیکھا تھا اور سلیمان ناچاہتے ہوئے بھی ان کی بات مان کے چپ کر کے اک طرف بیٹھ گیا تھا لیکن زعیم کو گھورنا نہیں بھولا تھا
“میں نے ہمیشہ تمہیں بیٹا کہا ہی نہیں بیٹا سمجھا بھی تھا مجھے یقین تھا کہ مجھے ساری دنیا دھوکا دے سکتی ہے مگر زعیم ایسا کچھ نہیں کر سکتا ہمیشہ اپنے رشتے داروں کی مخالفت کے باوجود تمہیں سب پہ فوقیت دی اور تم میرے ساتھ ایسا کرو گے مجھے تم سے بلکل یہ امید نہیں تھی” ان کی باتیں سن کے اک دفعہ پھر زعیم کا سر جھک گیا تھا وہ خود کا شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا محسوس کر رہا تھا
“بابا سائیں غلطی آپ کی بھی ہے جب آپ کو پتہ ہے جس طبقے سے اس کا تعلق ہے وہ موقع ملنے پہ دغا بازی کرنے سے باز نہیں آتے تو آپ نے بھروسہ ہی کیوں کیا اس پہ؟” سلیمان کے الفاظ زعیم کے سینے پہ تیر کی طرح پیوست ہوئے تھے بھینچی ہوئی مٹھیاں اور آہستہ آہستہ آنکھوں کی بڑھتی سرخی اس کے ضبط کی گواہی دے رہی تھی
“میں بات کر رہا ہوں تم چپ رہو” چودھری حشمت نے سخت لہجے میں اسے چپ رہنے کا کہا تھا
“میں اگر چاہوں تو احواد کو طلاق دلوا سکتا ہوں تم سے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں اب احواد سونے کی بھی بن کے آ جائے تو میرے بھائی بھابھی کھبی اسے اپنی بہو نہیں بنانا چاہیں گے اور اسے اپنے گھر میں اب میں نہیں برداشت کر سکتا اس لیے بہتر ہے کہ میں اسے تمہارے ساتھ ہی رخصت کر دوں” چودھری حشمت نے سنجیدگی سے کہا تھا
“لیکن میری معاشرے میں کچھ عزت ہے جو میں تم دونوں کی وجہ سے میں داؤ پہ نہیں لگا سکتا اس لیے کل اپنی ماں کو بھیجنا رشتے کے لیے اور اک ہفتے کے اندر اندر اپنی بیوی کو حویلی سے لے جانا اور تمہیں میں نوکری سے نکال نہیں رہا لیکن کوشش کرنا جب تک میں ڈیرے رہوں تم میری نظروں سے دور ہی رہنا” ان کی باتیں سنتا زعیم بس بےبسی سے انہیں دیکھ سکا تھا لیکن بولا کچھ نہیں تھا
وہ انہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ان کا وفادار تھا لیکن کچھ مجبوریوں کی وجہ سے اسے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا تھا لیکن ستم یہ تھا کہ وہ یہ بھی نہیں بتا سکتا تھا ورنہ وعدہ خلاف کہلاتا
“بابا سائیں آپ پھر اسے رکھ رہے یہاں تا کہ یہ اک دفعہ پھر ہمیں سانپ بن کے ڈس لے” سلیمان اک دفعہ پھر بھڑکا تھا
“میں بہتر جانتا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اگر تم لوگ میرے ساتھ ہوتے تو مجھے کیا پڑھی تھی کسی پہ بھروسہ کرنے کی لیکن تم لوگوں کو تو شہر جا کے نوکریاں کرنی تھیں باپ کی زمین سنبھالنے میں تم لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے بہتر یہی ہو گا کہ تم چپ ہی رہو اور یہ اپنے گھر کا واحد کمانے والے ہے اور میں کسی کی روزی نہیں چھین سکتا” ان کے دو ٹوک لہجے پہ سلیمان اپنی جگہ شرمندہ ہو گیا تھا
“فلحال جاؤ تم اور کل اپنی ماں کو بھیجنا اور کل ہی سے دوبارہ اپنی جگہ پہ واپس آنا کیونکہ آج میں مزید تمہاری شکل نہیں دیکھ سکتا” چودھری حشمت نے اسے جانے کا کہا تو وہ بغیر ادھر اُدھر دیکھے وہاں سے چلا گیا تھا
ڈیرے سے نکل کے وہ سیدھا گھر آیا تھا تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل ہوا تو برآمدے پریشان سی اماں اور انوشہ اسے اپنے انتظار میں بیٹھی نظر آئی تھیں زعیم بغیر کچھ بولے اماں کی گود میں سر رکھتے زمین پہ بیٹھ گیا تھا
“زعیم پتر کیا ہوا ہے تم اتنی عجیب عجیب حرکتیں کیوں کر رہے ہو؟” اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اماں نے محبت اور فکرمندی سے پوچھا تھا
“زعیم” کافی دیر جب وہ کچھ نہ بولا تو انہوں نے اسے پکارا تھا
“اماں میں نے احواد بی بی سے نکاح کر لیا ہے” زعیم نے سر اٹھاتے کہا تو اماں اور انوشہ کو حیرت اور صدمے کا جھٹکا لگا تھا کتنی ہی دیر وہ دونوں کچھ بول ہی نہیں پائی تھیں
“کیا کہا ہے تم نے؟” اماں کو لگا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط سن لیا ہے اس لیے انہوں نے پوچھا تھا
“میں نے کہا میں نے احواد سے نکاح کیا ہے کل آپ حویلی جائیں گی رخصتی کی تاریخ لینے” اس نے اپنی نظریں زمین پہ جمائے انہیں اطلاع دی تھی
“زعیم تُو ہوش میں ہے؟ تجھے پتہ ہے تُو کیا کہہ رہا ہے اور ہم تاریخ لینے جائیں گے تو کیا چودھری صاحب خوشی خوشی تاریخ دے دیں گے انہیں جب پتہ،،،، “
“انہیں پتہ ہے اور انہی نے آپ کو بھیجنے کا کہا ہے” زعیم کی بات پہ وہ چپ کی چپ رہ گئی تھیں
“زعیم مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تم یہ کیا کہہ رہو اور تم نے نکاح کیا ہی کیوں؟” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے سوال پوچھا تو زعیم نے سر اٹھا کے چند پل انہیں دیکھا تھا
“ہم دونوں اک دوسرے کو پسند کرتے تھے تو بس کر لیا نکاح آپ بس کل جائیں گی حویلی اور مجھے مزید کچھ نہیں کہنا” نظریں چرا کے کہتے ان کو کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر زعیم وہاں سے اٹھ گیا تھا اماں کی پرسوچ نظروں نے کمرے میں داخل ہونے تک اس کا پیچھا کیا تھا
____________________________
اگلے دن زعیم خود اماں کو حویلی چھوڑ کے گیا تھا کہنے کو تو وہ رخصتی کی بات کرنے آئی تھیں لیکن وہ حد سے زیادہ نروس تھیں کیونکہ جانتی تھیں ان کے اور سامنے والوں کی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے
انہیں آئے کافی وقت ہو چکا تھا لیکن دونوں طرف ہنوز خاموشی چھائی ہوئی تھی برآمدے میں تین نفوس ہونے کے باوجود لگ رہا تھا کہ وہاں کوئی ذی رخ نہیں ہے
سلیمان واپس شہر جا چکا تھا تا کہ اسے شادی میں شمولیت نہ کرنی پڑے جبکہ زین رک گیا تھا تا کہ لوگوں کو باتیں بنانے کا کوئی موقع نہ مل سکے کہ دونوں بھائی ہی بہن کی شادی میں شریک نہیں ہیں
“بہن جی آپ جانتی ہی ہیں کہ آپ کو کس سلسلے میں یہاں بلایا گیا ہے؟” کافی دیر کی خاموشی کے بعد حشمت صاحب نے خود ہی بات کا آغاز کیا تھا ان کی بات پہ اماں نے اثبات میں سر ہلایا تھا لیکن ان کے چہرے پہ کوئی الجھن صاف دکھ رہی تھی
“میں جانتا ہوں آپ کے دماغ میں سوال اٹھ رہے ہوں گے کہ ایسے حالات میں تو باپ بھائی غیرت کا مسئلہ بنا کے لڑکی اور لڑکوں کو مار دیتے ہیں جبکہ میں اپنی بیٹی کو آپ کے بیٹے کے ساتھ رخصت کر رہا ہوں” ان کے درست تُکے پہ اماں نے سر جھکایا تھا کیونکہ وہ واقعی ہی بہت دیر سے یہی بات سوچ رہی تھیں
“تو میں بتا دوں کہ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن سے ہمیں اتنی محبت ہوتی ہے کہ ہم انہیں ان کی غلطیوں پہ چاہ کے بھی سزا نہیں دے سکتے اور دوسرے اور سب سے بڑی بات ہے عزت میں اس گاؤں کا سرپنچ/سردار ہوں اس گاؤں کے ساتھ ساتھ کے کافی گاؤں میں عزت ہے میری اگر میں ان دونوں کو مار بھی دیتا ہوں تو میں اپنے لیے ساری زندگی کا عذاب اپنے گلے ڈال لوں گا کسی کے ساتھ بیٹھنے کے قابل نہیں رہوں گا بس اسی لیے میں یہ فیصلہ کرنے پہ مجبور ہوں جس کے بعد آپ کے بیٹے اور بہو سے میرا کوئی تعلق نہیں ہو گا” چودھری حشمت کی آخری بات پہ اماں کو حیرانگی ہوئی تھی لیکن وہ بولی کچھ نہیں تھیں
“میں نے فیصلہ تو کل ہی کر لیا تھا بس آج آپ کو بتانے کے لیے یہاں بلایا تھا کہ ٹھیک اک ہفتے بعد آ کر اپنی بہو کو لے جائیے گا” چودھری حشمت صاحب نے بتایا تو اماں نے سر ہلایا تھا
یہ عجیب سی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی جس میں نہ کسی کے دل میں خوشی تھی نہ مٹھائی کھلائی گئی اور نہ ہی مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا بس اک فیصلہ سنایا گیا تھا جسے سن کے اماں چپ چاپ اٹھ گئی تھیں
ان کے جانے کے بعد چودھری حشمت نے گہرا سانس بھرا تھا اور اپنی جگہ سے اٹھے تھے ساتھ ہی چودھرائن کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا تھا دونوں خاموشی سے باہر ہو لیے تھے ان کا رخ چھوٹی حویلی کی طرف تھا
ان کے جاتے کب سے اس طرف کان لگائے احواد خوشی سے جھوم اٹھی تھی یعنی کچھ ہی دنوں بعد وہ بلکل آزاد ہو گی اپنی مرضی سے زندگی گزارے گی بغیر کسی کے روک ٹوک کے یہی سب سوچ سوچ کے وہ خوش ہو رہی تھی
چودھری حشمت اور چودھرائن چھوٹی حویلی آئے تو سب سے پہلے ان کا ٹاکرا بیگم شجاعت سے ہوا تھا جنہوں نے انہیں دیکھتے ہی منہ کے زاویے بگاڑے تھے ان دونوں کو برا تو لگا تھا لیکن مصلحتاً خاموش رہے تھے ان کے بیٹھنے کے کچھ ہی دیر بعد چودھری شجاعت بھی آئے گئے تھے
“چودھری صاحب پوچھیں اپنے بھائی بھابھی سے کون سی کثر رہ گئی تھی جو پوری کرنے آئے ہیں” بیگم شجاعت نے تیر کا طنز چلایا تھا جس پہ چودھری شجاعت نے انہیں گھوری سے نوازا تھا
“بھائی صاحب کیسے آنا ہوا یہاں؟” چودھری شجاعت نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
“احواد کی رخصتی رکھی ہے اک ہفتے بعد اسے کے لیے دعوت دینے آئے تھے اور اک درخواست بھی کرنی تھی” بیگم شجاعت کی گھورتی نظروں کو نظرانداز کرتے انہوں نے چودھری شجاعت سے کہا تھا
“نہ بھائی صاحب جو ذلیل ہونے میں کثر رہ گئی ہے وہ اپنی بدزبان بیٹی کی رخصتی پہ بلا کے پوری کرنا چاہتے ہیں ہم اتنے بےغیرت تو نہیں کہ آپ بلائیں گے اور ہم دوڑے دوڑے چلے آئیں گے لوگ پوچھیں گے نہیں اس نے تو آپ لوگوں کی بہو بننا تھا؟” بیگم شجاعت نے چمک کے کہا تھا
“بیگم اپنی زبان پہ قابو رکھو اور بھائی صاحب یہ درخواست والا کیا معاملہ ہے؟” پہلے اپنی بیگم کو تنیہ کرنے کے بعد انہوں نے چودھری شجاعت سے پوچھا تھا
“احواد کا نکاح کیوں اور کیسے ہوا یہ ہمارے علاوہ کسی کو نہیں پتہ لگنا چاہیے میری درخواست ہے تم سب سے” چودھری حشمت نے دھیمے سے کہا تھا
چودھری شجاعت نے انہیں غور سے دیکھا تھا انہیں ان میں اک مجبور باپ نظر آیا تھا انہیں بےساختہ اپنے بھائی پہ ترس آیا تھا انہیں چودھری حشمت میں اپنا آپ نظر آیا تھا ایسے ہی وقاص نے بھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انہیں کافی دفعہ شرمندہ کروایا تھا
“میں سمجھ سکتا ہوں آپ کے جذبات آپ فکر نہ کریں کسی کو بھی اصل بات نہیں پتہ چلے گی” چودھری شجاعت نے تمام گے شکوے اک طرف رکھتے کہا تھا جس پہ چودھری حشمت نے انہیں مشکور نظروں سے انہیں دیکھا تھا
“پہلے بیٹی کی لگامیں کس کے رکھتے تو یہ دن دیکھنا ہی نہ پڑتا” بیگم شجاعت اک دفعہ پھر بڑبڑائی تھیں چودھری حشمت اور چودھرائن ان کی بڑبڑاہٹ کو پھر نظرانداز کرتے انہیں شادی میں آنے کی تاکید کرتے وہاں سے چلے گئے تھے
“بڑا بخار چڑھ ہے ہمدردی کا بھول گئے آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے انہوں نے” ان کے جاتے ہی بیگن شجاعت شروع ہو گئی تھیں اور چودھری شجاعت ہمیشہ کی طرح ان کی کسی بات پہ کان دھرے بغیر وہاں سے چلے گئے تھے اور بیگم شجاعت کڑھتی رہ گئی تھیں
________________________
اک ہفتہ بہت تیزی سے گزرا تھا اور رخصتی کا دن بھی آن پہنچا تھا دونوں طرف سے کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی تھی چودھری حشمت بس دنیا دکھاوے کے لیے احواد کو رخصت کر رہے تھے ورنہ تو جتنا غصہ انہیں اس پہ تھا وہ دھکے دے کر اسے نکالتے چونکہ بس سادگی سے رخصتی تھی اور گاؤں بھی اک تھا تو تقریب شام کو ہی رکھی گئی تھی
دونوں طرف سے بس چند قریبی رشتے دار بلائے گئے تھے چودھری حشمت نے اس چھوٹی سی تقریب کا سارا انتظام گھر پہ ہی کیا ہوا تھا جیسے جیسے لوگوں کو احواد اور زعیم کی شادی کا پتہ چل رہا تھا
ویسے ہی سب کو حیرانگی کے جھٹکے لگ رہے تھے کیونکہ کچھ لوگوں کو تو باقاعدہ پتہ تھا کہ چھوٹے چودھری کے بیٹے کی منگ ہے بڑے چودھری کی بیٹی لیکن یہاں تو گنگا الٹی بہہ رہی تھی اور لوگ عادت سے مجبور اک دوسرے کے کانوں میں مختلف سرگوشیاں بھی کر رہے تھے
اور ان سرگوشیوں سے چودھری حشمت کے کان بھی مستفید ہو رہے تھے مگر وہ سب کچھ نظرانداز کرنے پہ مجبور تھے اور ان کے دل میں احواد کے لیے خفگی بڑھتی ہی جا رہی تھی
جیسے دنیا دکھاوے کے لیے رخصتی کی جا رہی تھی ویسے ہی دنیا کو دکھانے کے لیے دونوں کا نکاح بھی دوبارہ پڑھوایا گیا تھا یہ سب دیکھتی بیگم شجاعت طنزیا ہنسی ہنسی تھیں ان کا ارادہ تو تھا منہ کھولنے کا لیکن چودھری شجاعت کی سختی سے دی گئی وارننگ پہ وہ خاموش تھیں
نکاح اور کھانے کے بعد دونوں کو اکھٹا لا کر بیٹھایا گیا تھا سفید کاٹن کا سوٹ پہنے زعیم بلکل سرد و سپاٹ تاثرات لیے بیٹھا تھا چوڑے ماتھے پہ موجود سلوٹیں اس کے اندرونی خلفشار کی نشاندہی کر رہی تھیں
احواد بھی کوئی روایتی دلہنوں کی طرح تیار نہیں ہوئی تھی بس سرخ سوٹ جس پہ تھوڑا بہت کام ہوا تھا پہنے اور جیولری کے نام پہ بس ہاتھوں میں کانچ کی سرخ چوڑیاں پہنے ہوئی تھی ہیوی میک اپ کی بجائے بس ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے تھے ہاں البتہ اپنی جیت کی خوشی اس کے چہرے پہ چمک بن کے دکھ رہی تھی
اتنی سادی دلہن اور اتنی سادی شادی سب کی نظروں میں کھٹک رہی تھی کہ گاؤں کے سردار کی اکلوتی بیٹی کی شادی اور وہ بھی اتنی سادگی سے اور اوپر سے اک ملازم سے یہ سب باتیں ہضم کرنا مشکل تھا
پھر اک دو رسموں کے بعد رخصتی کا شور ہوا تھا اس دوران زعیم بس سپاٹ تاثرات لیے ہوئے تھے رخصتی کے وقت ناچاہتے ہوئے بھی احواد چودھرائن اور زین کے گلے لگتی رو دی تھی چودھری حشمت نے اسے گلے لگانے کی بجائے بس اس کے سر پہ ہاتھ ہی رکھا تھا وہ بھی بس لوگوں کی خود پہ جمی ہوئی نظروں کی وجہ سے اس چیز نے احواد کے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا تھا
“ابھی تو آپ کی مرضی کی زندگی کا آغاز ہوا ہے ابھی سے رونا شروع کر دیا ہے ابھی تو آپ کی من پسند زندگی ساری آگے پڑھی ہوئی ہے” اس کے آنسو دیکھتے زعیم نے سرگوشی میں کہا تھا جس پہ احواد نے آنسو بھری نظروں سے اسے گھورا تھا
بارات کے گھر پہنچتے ہی احواد کو زعیم کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا لوگوں کے جھنجھٹ سے آزاد ہوتے ہی احواد نے تشکر بھری سانس لی تھی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے پورے کمرے کا جائزہ لیا تھا آج دوسری دفعہ وہ اس کمرے میں آئی تھی ہہلی دفعہ اسے ہاتھ پکڑ کے نکال دیا گیا تھا مگر اس دفعہ وہ پورے حق سے کمرے میں موجود تھی
کمرے میں بس سمپل سا فرنیچر تھا جو کہ اک ڈبل بیڈ، الماری، ڈریسنگ اور تین سیٹر صوفہ پہ مشتمل تھا اور اک طرف سٹڈی ٹیبل تھا کمرے بھی درمیانہ سا تھا
“گزارے لائق ہی ہے” ہر جگہ نگاہ دوڑانے کے بعد وہ بڑبڑائی تھی
“میں اس کے انتظار میں کیوں بیٹھوں اٹھ کے کپڑے چینج کرتی ہوں” ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اماں کے ساتھ دو تین عورتیں اندر داخل ہوئی تھیں
جو یقیناً دلہن دیکھنے آئی تھیں اس کے بعد تو یہ سلسلہ چل ہی نکلا تھا جو رات دس بجے تک چلتا ہی رہا تھا اس کے بعد جب کوئی بھی نہ آیا تو اس نے شکر ادا کیا تھا اور سادھے کپڑوں کے لیے وہ شش و پنج میں مبتلہ ہو گئی تھی کیونکہ چودھری حشمت نے بس اس کی رخصتی کی رسم ادا کی تھی اس کے علاوہ کچھ نہیں دیا تھا
پھر کچھ سوچ کے وہ الماری کی طرف بڑھی کے ابھی کے لیے زعیم کے ہی کپڑوں سے کام چلا لیتی ہے باقی کی بعد میں دیکھے گی لیکن جوں ہی الماری کھولی تو اسے مردانہ کپڑوں کے ساتھ کچھ لیڈیز سوٹ بھی ہینگ ہوئے نظر جو یقیناً اسی کے تھے جلدی سے اک بلکل سادا سوٹ کھینچتے اس نے اک نظر پورے کمرے میں دوڑائی تھیں اٹیچ واش روم یا ڈریسنگ روم کے لیے لیکن اسے کہی نظر نہیں آیا تھا
“اففف کیا مصیبت ہے اب باہر جانا پڑے گا” جھنجھلا کے بولتی دروازے کی طرف بڑھی تھی دروازہ کھول کے باہر جھانکا تو اسے کوئی نظر نہ آیا شکر ادا کرتی تیزی سے واش روم گئی تھی اور چینج کر کے واپس آئی تھی
واپس روم میں آتے وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں میں برش کر رہی تھی کہ دروازہ کھول کے زعیم اندر داخل ہوا تھا احواد نے سٹپٹاتے ہوئے جلدی سے پاس پڑا دوپٹا اوڑھا تھا زعیم کی نظر ابھی تک اس پہ نہیں پڑی تھی
“یہ کدھر منہ اٹھا کے آ رہے ہو؟” احواد کی بات پہ زعیم نے چونک کے آواز کی طرف دیکھا جہاں احواد کھڑی اسے گھور رہی تھی
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟ یہ کمرا میرا ہے تو میں یہی آؤں گا اور کہاں جانا ہے؟” زعیم نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے کہا تھا
“لیکن آج سے میں یہاں آ گئی ہوں تو تم اپنا ٹھکانہ کہی اور کر لو” احواد اطمینان سے بولی تھی
“آپ کے پاس عقل نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ سب کو یہ پتہ ہے کہ ہم نے لو میرج کی ہے اور ایسے میں میں جا کر باہر سوؤں؟ میری ماں اور بہن بھی اس گھر میں رہتی ہیں اور میں نہیں چاہتا ان کے سامنے آپ کا یا میرا امیج خراب ہو تو برائے مہربانی اسی روم میں برداشت کریں مجھے” زعیم نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا
جس پہ احواد منہ بناتے اس کی طرف سے منہ موڑ گئی تھی اس کے اس عمل سے اس کے پشت پہ بکھرے بال زعیم کے سامنے آئے تھے اک لمحے کو ناجانے کیوں زعیم کا دل چاہا کہ انہیں چھو کے دیکھے لیکن پھر سر جھٹکتے الماری سے کپڑے نکالتے باہر چلا گیا تھا
زعیم کا تھکن سے برا حال تھا اس لیے اپنے آپ کو فریش کرنے کے لیے اس نے شاور لیا تھا نہا کے واپس آیا تو بیڈ پہ احواد سر سے پاؤں تک چادر میں پیک ہوئے سوئی تھی جبکہ اک تکیہ صوفے پہ پڑا تھا جس کا مطلب تھا کہ اسے وہی سونا ہے زعیم گہری سانس بھرتے الماری کی طرف بڑھا تھا اور وہاں سے اپنی اک چادر نکالی تھی پھر پنکھا فل سپیڈ پہ چھوڑتے لائٹ آف کرتے چادر اوڑھتے صوفے پہ لیٹ گیا تھا وہ اس پہ فٹ تو نہیں آ رہا تھا لیکن کیا کرتا اور کوئی آپشن نہیں تھا
جاری ہے_____________!!
