Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02

رات کو احواد حویلی کے صحن میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک وقاص وہاں آیا تھا چوہدری حشمت ڈیرے پہ تھے اور چوہدرائن کچن میں موجود تھیں وقاص کو دیکھتے احواد کا حلق تک کڑوا ہوا تھا
“ہائے احواد یہاں اکیلی بیٹھی کیا کر رہی ہو؟” وقاص اس کے سامنے ہمیشہ ماڈرن بننے کی کوشش کرتا تھا
“صحن میں اُگی گھاس کھود رہی ہوں آ جاؤ تم بھی کھود لو” اس کے بےتکے سوال کا جواب اس نے جل بھن کے دیا تھا وہ اسے ہمیشہ سے تم کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھی کیونکہ وہ اسے اتنی بھی عزت کے لائق نہیں سمجھتی تھی کہ اسے آپ کہا جائے
“ہاہاہاہاہا واؤ نائس جوک” وقاص کو غصہ تو بہت آیا لیکن بظاہر اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“تم سے کس نے کہا یہ جوک تھا؟ کہی سے بھی تمہیں میرے چہرے پہ مسکراہٹ یا ہنسی نظر آ رہی ہے جس سے تمہیں لگا کہ میں نے بہت ہی کوئی مست جوک مارا ہے؟” اس کے سنجیدگی سے پوچھی گئی بات کا وقاص کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لیے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تھا
“اچھا یہ چھوڑو بتاؤ کیا پڑھ رہی ہو؟” اس نے بات بدلنی چاہی تھی
“کیوں! تم نے بھی پڑھنی ہے؟” احواد نے الٹا اسی سے سوال کیا تھا
“ہاں پڑ لوں گا اس میں اتنی بڑی کون سی بات ہے” اس نے خود کو بہادر ظاہر کیا تھا حالانکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ احواد کی زبان کھینچ لے جو قینچی کی طرح چلتی ہے
“لو پڑو پھر” اس نے کتاب وقاص کی طرف بڑھائی تھی جسے دیکھ کے وقاص کے طوطے اڑے تھے کیونکہ وہ کوئی انگلش ناول تھا اگر اردو کی کتاب ہوتی پھر بھی اس کی کوئی عزت رہ جانی تھی انگلش کی تو اسے اے بی سی نہیں آتی تھی
“تم مجھے دے دو میں گھر جا کر پڑھ لوں گا” اس نے اپنا بھرم رکھنا چاہا تھا
“نہیں ابھی پڑھو اور اونچی آواز میں پڑھنا تا کہ مجھے بھی تو پتہ چلے میرے ہونے والے شوہر کی انگلش کیسی ہے؟” احواد صحیح اس کی عزت کا فالودہ بنانے پہ تلی ہوئی تھی
“کیا باتیں ہو رہی ہیں بھئی؟” حشمت صاحب کی آواز آج سے پہلے وقاص کو کھبی اتنی میٹھی نہیں لگی تھی جتنی اب لگ رہی تھی وہ ابھی باہر سے آئے تھے اور ان دونوں کو صحن میں بیٹھے دیکھ کر ان کی طرف بڑھے تھے ان کی آواز سن کے وہ دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے
“کچھ خاص نہیں تایا سائیں بس ویسے ہی” وقاص زبردستی مسکرایا تھا
“ہاں بابا سائیں کچھ خاص نہیں میں بس وقاص کو بتا رہی تھی کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے کیوں وقاص؟” اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر وقاص سلگ اٹھا تھا لیکن فلحال وہ کر کچھ نہیں سکتا تھا
“جی جی” اس نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی بات کی تائید کی تھی
“وقاص یہ میری بک مجھے واپس کر دو وہ کیا ہے نہ کہ تم چاہ کے بھی اس کا اک لفط نہیں پڑھ سکتے” اس کے ہاتھ سے بک لیتے اس پہ طنز کے تیر برسا کے وہ وہاں سے چلی گئی تھی پیچھے وقاص کا چہرہ اہانت کے احساس سے بلکل سرخ پڑ گیا تھا حشمت صاحب کو بھی احواد کی یہ حرکت ناگوار گزری تھی
“وقاص بیٹا تم برا مت منانا بچی ہے اور ناسمجھ ہے وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گی” حشمت صاحب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا تو اس نے بمشکل اپنا غصہ دباتے سر ہلایا تھا
“جو کچھ کرنا ہے احواد بی بی کر لو ابھی شادی کے بعد ہر شے کا بدلہ نہ لیا تو میرا نام بھی وقاص چوہدری نہیں” وقاص نے بھرپور نفرت سے سوچا تھا
” آ جاؤ اندر چلتے ہیں کھانا ہماری طرف سے کھا کے جانا” حشمت صاحب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسے اندر لے کر جانا چاہا تھا
“نہیں تایا سائیں مجھے بہت ضروری کام ہے پھر کھبی کھانا کھاؤں گا ابھی چلتا ہوں” انہیں کہہ کر وہ بغیر ان کی سنے وہاں سے چلا گیا تھا حشمت صاحب نے تاسف سے اس کی پشت دیکھی تھی اور خود بھی اندر کی طرف بڑھ گئے تھے
ان کو آتا دیکھ کر چوہدرائن نے جلدی سے کچن میں موجود ڈائننگ ٹیبل پہ کھانا لگاوایا تھا حشمت صاحب ہاتھ دھو کے ٹیبل پہ آئے تھے تھوڑی دیر تک احواد بھی آ گئی تھی پھر سب نے کھانا شروع کیا تھا
“احواد تمہیں وقاص کو ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا جانتی ہو اسے برا لگا ہو گا” کھانا کھاتے ہوئے اچانک حشمت صاحب بولے تھے احواد نے پلیٹ سے سر اٹھا کے انہیں دیکھا تھا
“بابا سائیں ایسا بھی کیا کہہ دیا ہے میں نے جو اسے برا لگا اور ویسے بھی میں جو کہا ہے سچ ہی کہا ہے” احواد نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے
“تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے نا کے جہالت کے اندھیروں میں اور میں دیکھ رہا ہوں جب سے تمہیں یہ شہر کی ہوا لگی ہے تم دن با دن بدتمیز ہوتی جا رہی ہو لیکن یہ بات مت بھولو کہ اگر میں تمہیں آزادی دے سکتا ہوں تو چھین بھی سکتا ہوں” حشمت نے اسے بہت کچھ باور کروانا چاہا تھا
“بابا سائیں آپ کو مجھ سے زیادہ اپنا بھتیجا عزیز ہے؟” اس نے منہ کی طرف بڑھتا نوالا واپس رکھتے دبے دبے غصے سے پوچھا تھا
“نہیں مجھے تم سے اور زعیم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ہے حتیٰ کے میرے بیٹے بھی نہیں لیکن جو غلط ہے وہ غلط ہے میں کھبی غلط کو صحیح نہیں کہوں گا چاہے پھر وہ غلط کہنے والی میری اپنی اولاد ہی کیوں نہ ہو” ان کے لہجے کی سختی میں زرا برابر فرق نہیں پڑا تھا
“زعیم زعیم زعیم تنگ آ گئی ہوں میں اس زعیم سے وہ بس اک ملازم ہے اور میں آپ کی بیٹی لیکن آپ ہمیشہ اسے مجھ پہ فوقیت دیتے ہیں” زعیم کے زکر نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا اور اس کا ذہن وقاص سے ہٹ کے زعیم کی طرف مڑ گیا تھا اور اونچی آواز میں چیختی روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی
“آپ اسے کھانا تو کھا لینے دیتے بھوکی ہی اٹھ کے چلی گئی” چوہدرائن نے تاسف سے اس کی پلیٹ دیکھی تھی
“نیک بخت چھوڑو اسے تم خود کھانا کھاؤ اس کا دماغ فلحال جگہ پہ نہیں ہے جب ہو گا تو وہ خود ہی کھا لے گی” چوہدری حشمت نے انہیں کھانا کھانے کا کہا تھا کیونکہ وہ اپنی بیٹی کو جانتے تھے تھوڑی دیر تک اس نے خود ہی ٹھیک ہو جانا تھا
______________________________
وقاص وہاں سے غصے سے سیدھا اپنے ڈیرے آیا تھا اور اپنے مخصوص کمرے میں آتے ہی اس نے کمرے کی ہر شے تہس نہس کر دی تھی اور الماری سے اک شراب کی بوتل نکالتے اس نے منہ سے لگائی تھی
“سالی سمجھتی کیا ہے خود کو اس نے میری بےعزتی کی وقاص چوہدری کی” آدھی شراب کی بوتل پینے کے بعد وہ چیخا تھا اور دوبارہ بوتل منہ سے لگائی تھی
“اک دفعہ میری دسترس میں آ جاؤ تم ایسی اکڑ نکالوں گا تمہاری کہ ساری زندگی یاد رکھو گی” اس نے شراب پیتے نفرت سے سوچا تھا
اچانک ہی اسے ہر طرف احواد کا عکس نظر آنے لگا جو اس پہ ہنس رہا تھا اس نے آنکھیں مسل کے دیکھا تھا لیکن وہ عکس ویسے ہی ہنس رہا تھا جس سے اس کے طیش مین اضافہ ہو رہا تھا
“سالی مجھ پہ ہنسے گی جان سے مار دوں گا میں تجھے” اس کے عکس کو شراب کی خالی بوتل مارتے وہ چیخا تھا لیکن اس سے بھی عکس غائب نہ ہوا تو باقی کی بوتلیں بھی وہ اٹھا کے اس کے عکس کو مارنے لگا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا
باہر اس کے وفادار ملازم کو بھی اس کے چیخنے اور بوتلیں ٹوٹنے کی آواز آ رہی تھی لیکن وہ اس کی اجازت کے بغیر اندر جانے کا مجاز نہیں تھا اس لیے وہ باہر ہی کھڑے رہ کے اندر ہوتی توڑ پھوڑ کی آوازیں سنتا رہا تھا
یہ اس کا سپیشل روم تھا جو ہمیشہ لاک رہتا تھا جہاں جانے کی اجازت صرف وقاص اور اس کے وفادار ملازم کو تھی باقی کوئی بھی اس کمرے میں نہیں جا سکتا تھا اس لیے کسی کو نہیں پتہ تھا کہ اس کمرے میں کیا ہے اور کیوں ہمیشہ بند رہتا ہے
_____________________________
کل رات سے احواد کا موڈ بری طرح آف تھا صبح یونی بھی وہ بغیر ناشتے کے آ گئی تھی اور ڈرائیونگ سیٹ پہ موجود زعیم کو دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہوا تھا اور پھر پورا دن خراب ہی رہا تھا آج اس کی لاسٹ کلاس فری تھی تو کینٹین آ گئی تھی باہر اس لیے نہیں گئی کہ اسے یقین تھا زعیم ابھی آیا نہیں ہو گا
وہ بھوکے پیٹ کی دہائیاں سنتے چاٹ اور کوک سے انصاف کرنے میں مصروف تھی جب کوئی اس کے ٹیبل پہ آ کر بیٹھا تھا اچھی طرح جانتی تھی کہ کون ہے اس لیے بغیر سر اٹھائے وہ پلیٹ پہ جھکی رہی تھی
آنے والے نے بغور اس کا جائزہ لیا تھا جو ہمیشہ کی طرح بلیک چادر میں تھی وہ چادر اوڑھتی تھی لیکن چہرہ نہیں ڈھانپتی تھی مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے اس کی رنگت سرخ پڑ چکی تھی لیکن وہ پھر بھی مسلسل چھاٹ کھائے جا رہی تھی
“آج کس نے کیا کہہ دیا ملکہ عالیہ کو جو اتنا ظلم کیا جا رہا ہے خود پہ” احواد کا سرخ چہرہ دیکھ کر اس نے پوچھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ احواد ویسے تو تیکھی چیزیں کھاتی نہیں تھی لیکن اگر کسی پہ غصہ ہو تو وہ تیکھی چیزیں کھا کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی تھی یہ بھی اس کی عجیب عادت تھی لیکن یہ بات وہ اسے کہہ نہیں سکتا تھا
“فائز تم اپنا منہ بند رکھو ورنہ یہ چارٹ کی پلیٹ میں تمہاری آنکھوں کی زینت بنا دوں گی” اس کا لہجہ اس کے شدید غصے میں ہونے کا پتہ دے رہا تھا
“اچھا اب بتا بھی دو نہ کیا بات ہے؟” تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فائز نے پھر پوچھا تھا
“ہونا کیا ہے بس بابا سائیں کے ہر وقت زعیم زعیم کی گردان سے تنگ آ چکی ہوں میں جہاں بھی جاؤ وہ ساتھ میں دم چھلا بن کے گھوم رہا ہوتا ہے” احواد نے شدید غصے سے کہا تھا لیکن جگہ کا لحاظ کرتے آواز دھیمی ہی رکھی تھی
“تم اسے اتنا سر پہ سوار ہی کیوں کر رہی ہو؟ بس اگنور کرو یار وہ تمہاری جگہ کھبی نہیں لے سکتا” فائز نے ٹھنڈے لہجے میں اسے سمجھانا چاہا تھا
فائز اس کا کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اچھا دوست بھی تھا شاید دوست سے کچھ آگے ہی اس دوستی کی شروعات فائز کی طرف سے ہی ہوئی تھی اسے احواد کا چادر میں لپٹے رہنا اور سب سے لیا دیا انداز بہت بھایا تھا
پہلے تو احواد نے اسے بہت نظرانداز کیا تھا پھر آہستہ آہستہ ان کی دوستی ہو ہی گئ تھی اور وہ حویلی کی ساری فرسٹریشن اس کے سامنے نکالنے لگی تھی شاید اسے لگا تھا کہ وہ اسے حویلی سے نکالنے زریعہ بن سکتا ہے بس وہ اسی لیے اس سے مانوس ہوئی تھی لیکن اللہ بہتر جاننے والا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے
“جس طرح بابا سائیں اور اماں سائیں اسے امپورٹنس دیتے ہیں مجھے لگتا ہے اک نہ اک دن وہ میری جگہ بھی لے ہی لے گا” اس نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا جیسے اس کے دانتوں کے بیچ میں زعیم کی گردن ہو
“ہاہاہاہا یار بس کرو خوامخواہ میں اس سے جیلس ہونا” فائز نے ہنستے ہوئے کہا تھا لیکن اس کی گھورتی نظریں خود پہ محسوس کرتے چپ کر گیا تھا
“اچھا ٹھیک ہے پھر تم یہاں بیٹھ کے جلو بھنو اب کوئی کام نہیں میں تو چلا گھر” فائز شرارت سے کہتا چئیر سے اٹھ گیا تھا
“چلو میں بھی چلتی ہوں وہ مسٹر زعیم بھی آنے والا ہو گا” احواد نے اپنا بیگ اٹھایا اور اس کے ساتھ ہو لی تھی
دونوں ہنستے مسکراتے باتیں کرتے ہوئے باہر آئے تھے فائز اسے بائے بول کے اپنی کار کی طرف بڑھ گیا تھا اور احواد نے مسکراتے ہوئے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا تھا اور اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی کیونکہ سامنے ہی ان کی بلیک پجارو کھڑی تھی جس میں یقیناً زعیم بھی موجود تھا جو یقیناً آج جلدی آ گیا تھا
اسے اک لمحے کے لیے پریشانی ہوئی تھی لیکن اگلے لمحے ہی وہ ہوتا کون تھا سوچ کے خود کو تسلی دی تھی اور دھیمے قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی گاڑی میں بیٹھتے اس نے چور نظروں سے زعیم کو دیکھا تھا جو گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا
“وہ لڑکا کون تھا؟” زعیم کو چپ دیکھ کر اس نے اطمینان سے ابھی ونڈو سے باہر دیکھنا شروع کیا ہی تھا کہ اس کی سرد آواز احواد کے کانوں سے ٹکرائی تھی
“تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟” احواد کے بدتمیزی سے کہنے پہ زعیم نے بیک ویو مرر سے اسے گھورا تھا
“احواد بی بی آپ اپنے گھرانے کو اچھی طرح جانتی ہیں اس طرح کی دوستیاں آپ کو زیب نہیں دیتیں اور یہ آپ کی اور آپ کے دوست کی جان کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہیں” زعیم نے اسے وارننگ دیتے بہت کچھ سمجھانا چاہا تھا
“تم ہماری حویلی کے ملازم ہو وہی بن کے رہو تو اچھا ہے میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے؟” احواد کی بات پہ زعیم کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا اور اس نے اک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی
جھٹکے سے گاڑی رکنے کی وجہ سے احواد آگے کی طرف لڑھکی تھی سنبھل کے بیٹھتے جوں ہی اس نے نظریں اٹھا کے سامنے دیکھا تو آنکھیں زعیم کی سرخ آنکھوں سے ٹکرائی تھیں احواد اک لمحے کو ڈری تھی لیکن خود کو مضبوط بنائے بیٹھی رہی تھی
“مس احواد چوہدری آپ اپنی زبان کو قابو میں رکھا کریں ورنہ کسی نہ کسی دن یہ زبان آپ کو کہی کا نہیں چھوڑے گی” زعیم نے سرد لہجے میں کہا تھا اور دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرتے فل سپیڈ پہ چھوڑ دی گاؤں پہنچنے تک گاڑی ہواؤں سے باتیں کتی رہی تھی حویلی پہنچتے ہی احواد نے سکون کا سانس لیا تھا ورنہ جس طرح وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا احواد کو لگا نہیں تھا کہ وہ صحیح سلامت گھر آئے گی
_____________________________
حشمت صاحب کو یہی لگا تھا کہ وہ تھوڑی دیر تک ٹھیک ہو جائے گی لیکن وہ کھانے کے ٹیبل سے اٹھنے کے بعد اپنے کمرے میں ہی بند رہی تھی صبح ناشتے کے ٹیبل پہ بھی نہیں آئی تھی اور انہیں اللہ حافظ کہے بغیر ہی یونیورسٹی چلی گئی تھی
جب وہ یونیورسٹی سے واپس آئی تھی تب بھی وہ گھر نہیں تھے ان کے کچھ جاننے والے آئے تھے اور وہ سارا دن انہی کے ساتھ بزی رہی تھا اور اب شام میں گھر آئے تھے اور وہ انہیں اپنی محسوس جگہ یعنی صحن میں پڑی لکڑی کے ٹیبل اور کرسیوں میں سے اک کرسی پہ بیٹھی ہوئی تھی
وہ اسے دیکھ کر اس کی طرف بڑھے تھے جبکہ وہ انہیں دیکھ کر بھی انجان بن کے بیٹھی رہی تھی حشمت صاحب نفی میں سر ہلاتے اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھے تھے وہ اچھے سے اس کی ناراضگی سمجھ رہے تھے
“ناراض ہے میرا بچہ اپنے بابا سائیں سے؟” انہوں نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے پوچھا تھا
“آپ کو کیا فرق پڑھتا ہے میری ناراضگی سے آپ کے پاس ہے نا وہ زعیم تو میری ناراضگی کہاں محسوس ہو گی” اس نے کتاب پہ نظرین جمائے ہی کہا تھا
“ارے میرے بچے وہ میرے لیے میرے بیٹوں جیسا ہے اور تم میری سگی بیٹی تو یقیناً میں تم سے ہی زیادہ پیار کرتا ہوں” انہوں نے اس کے بالوں کو تھپکتے کہا تھا
اور وہ سچ کہہ رہے تھے زعیم ان کے لیے بیٹوں جیسا تھا اور وہ اپنے بیٹوں سے زیادہ اسے پیار کرتے تھے لیکن احواد سے زیادہ وہ کسی کو بھی پیار نہیں کرتے تھے زعیم کو بھی نہیں
“آپ سچ کہہ رہے ہیں؟” کتاب سے نظریں ہٹا کے اس نے مشکوک لہجے میں پوچھا تو حشمت صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تھا وہ خوشی سے چیختی ان سے لپٹ گئی تھی
“بابا سائیں آپ سے اک بات پوچھوں؟” اس کے دماغ میں زعیم کی بات کھٹک رہی تھی اس کی بات کی صداقت جاننے کے لیے اس نے ڈرتے ڈرتے چوہدری حشمت سے پوچھا تھا
“اگر میں وقاص سے شادی نہ کرنا چاہوں تو؟” اس نے آنکھیں بند کر کے جلدی سے سوال کیا تھا حشمت صاحب نے چونک کے اسے دیکھا تھا
“تو پھر بھی تمہیں اس سے ہی شادی کرنی ہو گی میرے پیار کا یہ مطلب نہیں کہ تمہاری ہر ناجائز خواہش بھی پوری کروں” انہوں نے بظاہر تو دھیمے لہجے میں کہا تھا لیکن ان کے لہجے میں چھپی سختی احواد نے شدت سے محسوس کی تھی
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی گیٹ پہ گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا دونوں کی نظریں گیٹ کی طرف گئی تھیں جہاں سے اک کرولا اندر داخل ہو رہی تھی اسے دیکھ کر دونوں کے چہروں پہ مسکراہٹ آئی تھی کیونکہ اس کا گھر بڑا سپوت گھر تشریف لایا تھا لیکن اس کے ساتھ اترتی کسی لڑکی کو دیکھ کر دونوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی اور انہوں نے اک دوسرے کو دیکھا تھا اتنے میں چوہدرائن بھی باہر آ چکی تھیں انہوں نے بھی یقیناً ہارن کی آواز سنی تھی
چوہدری حشمت اور احواد کی طرح وہ بھی حیرانگی سے سلیمان چوہدری کے ساتھ اک لڑکی کو آتا دیکھ رہے تھے ان دونوں کا رخ ان تینوں کی طرف ہی تھا سلیمان نے ان کے پاس پہنچتے ہی سلام کیا تھا لیکن وہ سلام کا جواب دینے کی بجائے وہ تینوں اس لڑکی کو دیکھے جا رہے تھے
وہ لڑکی پہلے ہی گھبرائے ہوئی تھی اور ان کے مسلسل دیکھنے کے مزید گھبراتی سلیمان چوہدری کے پیچھے ہوئی تھی
“یہ لڑکی کون ہے اور تمہارے ساتھ کیوں ہے؟” حشمت صاحب نے کچھ اور بولے بنا ڈائریکٹ سب کے ذہنوں میں مچلتا سوال پوچھا تھا
“آپ کی بہو اور میری بیوی ہے اور کیوں ساتھ ہے تو بیوی ہمیشہ شوہر کے ساتھ ہی رہتی ہے” اس نے وہاں کھڑے تینوں لوگوں کے سروں پہ بمب پھوڑا تھا سب کی بےیقینی سے پھیلی نظریں اس پہ جمی ہوئی تھیں
جاری ہے_____________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *