Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15
جب سے وقاص کو پتہ چلا تھا کہ احواد کی رخصتی ہو رہی ہے تب سے وہ انگاروں پہ لوٹ رہا تھا اس نے اپنے پورے گھر کو شادی پہ جانے سے روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا تھا مگر چودھری شجاعت نے اس کی ہر بات رد کر دی تھی
ان کے انکار پہ وہ غصے سے کھولتا ڈیرے پہ چلا آیا تھا جوں جوں وہ زعیم اور احواد کے بارے میں سوچ رہا تھا توں توں اس کے دل میں لگی آگ میں مزید اضافہ ہوتا تھا یہ سوچ کے کہ اس کی من پسند ہستی کسی اور کی دسترس میں ہے
“اچھا نہیں کیا تم نے احواد چودھری مجھے چھوڑ کے اس کمی کمین کو چنا تم نے تمہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی چھوڑوں گا نہیں میں تم دونوں کو” کمرے میں موجود ہر شے کو تہس نہس کرتے وہ بڑبڑایا تھا
جب غصہ حد سے سوا ہوا تو اپنا پسندیدہ مشروب نکالتے بوتل منہ سے لگا لی تھی اور پل بھر میں ہی اس کے نشے میں ڈوب کے وہ احواد اور زعیم کو بھول گیا تھا
_____________________
سارے کاموں اور مہمانوں سے فارغ ہو کے چودھرائن کمرے میں آئیں تو سامنے ہی چودھری حشمت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے نیم دراز تھے آنکھیں بھی بند تھیں اپنی مٹھی کو بند کر کے اسے ہلکے ہلکے اپنے ماتھے پہ مار رہے تھے
چودھرائن خاموشی سے آگے بڑھی تھیں اور بیڈ پہ بیٹھتے ان کو متوجہ کرنے کے لیے ان کی ٹانگ پہ ہاتھ رکھا تو چودھری حشمت نے چونک کے آنکھیں کھولتے انہیں دیکھا تھا
“کیا بات ہے کیا سوچ رہے ہیں؟” ان کے متوجہ ہونے پہ چودھرائن نے پوچھا تھا
“سوچ رہا ہوں بیٹیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں اور اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ اپنی زندگی کا ہر فیصلہ بھی خود کر لیتی ہیں” انہوں نے پھیکا سا مسکراتے جواب دیا تھا ان کی بات سن کے چودھرائن نے کچھ لمحے انہیں دیکھا تھا
“آپ کو بھی بچپن میں اس کا رشتہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا کتنا کہا تھا میں آپ کو پتہ نہیں بڑے ہو کر اس کا مزاج کیسا ہو یہ قبل از وقت بات ہے لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی تھے” گہری سانس بھرتے چودھرائن نے دھیرے سے کہا تھا
“تو تمہارا مطلب یہ ہے کہ ساری غلطی میری ہے؟” چودھری حشمت نے حیرت سے اپنی طرف اشارہ کرتے پوچھا تھا
“نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا میں بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اس نے بہت دفعہ کہا تھا کہ اس نے وقاص سے شادی نہیں کرنی اگر آپ اس کی بات مان لیتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور اس کا شرعی حق بھی تھا کہ شادی کے لیے اس کی رضامندی پوچھی جائے” ان کی طرف دیکھتیں وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھیں کیونکہ چودھری حشمت کے غصے میں آ جانے کا بھی خدشہ تھا
“میں باپ ہوں اس کا اور ماں باپ کھبی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہتے اور اسے اتنے سال پڑھایا لکھایا ہے پال پوس کے اتنا بڑا کیا ہے اور بدلے میں اس نے کیا کیا ہے؟” چودھری حشمت نے اپنی بات کے اختتام پہ سوال پوچھا تھا
“ہر ماں باپ کرتے ہیں فرض ہوتا ہے یہ ماں باپ کا میں یہاں یہ بھی نہیں کہہ رہی کہ احواد نے اچھا کیا ہے اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ہمارے معاشرے میں ایسی کتنی لڑکیاں ہیں جو اپنے ماں باپ کی عزت اور خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں اپنے خواب قربان کر دیتی ہیں لیکن ایسا کب تک ہو گا؟ ہم کیوں نہیں سمجھتے بیٹیاں بھیڑ بکریاں یا کوئی اور بےزبان جانور نہیں ہیں
جنہیں ہم کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیں ساری زندگی تڑپنے کے لیے ماں باپ کی اس بھلائی سوچنے کا کیا فائدہ جس میں اولاد ہمیشہ سسک سسک کے رہے؟ ہمارا پوری زندگی ان کے لاڈ اور نخرے اٹھانے کا کیا فائدہ جب انہوں نے اپنی اگلی ساری زندگی گھٹ گھٹ کے گزارنی ہو؟ پھر تو یہی حل نکلتا ہے ہمیں بیٹیوں کو لاڈ پیار دینا ہی نہیں چاہیے ہمیشہ انہیں ان کی اوقات میں رکھنا چاہیے تا کہ وہ غلطی سے بھی اپنی آنکھوں میں کوئی خواب نہ سجائیں” چودھرائن جب بولنے پہ آئیں تو بولتی چلی گئی تھیں
“اپنی بیٹی کو درست ثابت کرنے کے لیے اچھی تقریر کی ہے” چودھری حشمت طنزیا ہنسی ہنسے تھے
“وہ صرف میری نہیں آپ کی بھی بیٹی ہے اور ہمیشہ سے وہ آپ کے زیادہ قریب رہی ہے اور اس کے ہر اچھے برے کا فیصلہ آپ نے خود کیا ہے جس میں مجھے شامل کرنا کھبی آپ نے ضروری نہیں سمجھا اور اب جب اس کے حق میں آپ کو تھوڑے دلائل دیے تو وہ میری بیٹی ہو گی” چودھرائن تو جیسے اپنی ساری بھڑاس نکالنا چاہ رہی تھیں جو ناجانے کب سے ان کے اندر بھری ہوئی تھی
“لائٹ آف کرو مجھے بھی سونے دو اور خود بھی سو جاؤ” چودھری حشمت سیدھا ہو کے لیٹے تھے اور کمفرٹر کھینچ کے سر تک لیا تھا
چودھرائن تھوڑی دیر انہیں دیکھتی رہی تھیں اور پھر گہری سانس بھرتے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں لائٹ آ کرتے وہ بھی اپنی سائیڈ پہ آ کر دراز ہو گئی تھیں
_______________________
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب شدید گرمی کے تحت احواد کی آنکھ کھلی تھی کچھ دیر وہ ناسمجھی سے کمرے میں چھائے گپ اندھیرے کو دیکھتی رہی تھی پھر جب تھوڑی حواس بیدار ہوئے تو اسے یاد آیا وہ کہاں ہے
لائٹ آف ہونے کی وجہ سے پنکھا بند ہو گیا تھا اور کمرے میں شدید گرمی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے احواد کی آنکھ کھل گئی تھی احواد نے کوفت سے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کے ٹائم دیکھا تھا جہاں صبح کے دو بج چکے تھے
اس نے موبائل کی ٹارچ آن کرتے اس کا رخ اوپر کی طرف کرتے پنکھے کو گھورا تھا اور پھر اس کا صوفے پہ سوئے زعیم کی طرف کیا تھا جو شدید گرمی میں بھی آرام سے سویا ہوا تھا اسے دیکھتے احواد کو حیرت ہوئی تھی
“یہ اتنے آرام سے کیسے سویا ہوا ہے؟” زعیم کو دیکھتے وہ بڑبڑائی تھی
پھر کندھے اچکاتے چادر خود سے ہٹاتی بیڈ سے نیچے اتر کے صوفے کی طرف بڑھی تھی اس کا ارادہ اب زعیم کو اٹھانے کا تھا جیسے واپڈا والے اس کے رشتے دار تھے
“زعیم زعیم” صوفے سے تھوڑی دور کھڑے ہوتے احواد نے اسے آواز دی تھی لیکن اس پہ کوئی اثر نہ ہوا تھا
“اففف یہ تو جیسے نشہ کر کے سویا ہوا ہے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا” تھوڑی دیر اور آوازیں دینے کے بعد اس نے کوفت سے سوچا تھا
“زعیم زعیم اٹھو” احواد نے آگے بڑھے کے اس کا کندھا ہلایا تو زعیم نے مندھی مندھی آنکھیں کھولی تو موبائل کی ٹارچ سیدھا اس کی آنکھوں میں گھسی تھی جس سے بچنے کے لیے زعیم نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھا تو احواد نے ٹارچ کا رخ دوسری طرف کیا تھا
“ملکہ عالیہ بتانا پسند کریں گی اس نوکر کو اتنی رات کو جگانے کا تردد کیوں کیا ہے؟” زعیم نے اٹھ کے بیٹھتے طنز کے تیر برساتے کہا تھا
“لائٹ نہیں ہے کچھ کرو” زعیم جو اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں بمشکل کھولنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی بات پہ جھٹکے سے اس کی طرف دیکھا تھا یعنی اس لیے اسے جگایا گیا تھا
“آپ بتانا پسند کریں گی کہ کیا کروں میں؟” زعیم نے دانت پیستے پوچھا تھا
“کچھ بھی کرو بس پنکھا چلاؤ اک تو یہاں اے سی بھی نہیں ہے اوپر سے لائٹ بھی آف ہو گئی ہے میں سوؤں کیسے؟” احواد نے منہ بسورتے کہا تھا
“یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا میں اتنا امیر کبیر ہوتا تو آپ کا احسان کیوں لیتا” زعیم کی بات پہ احواد نے اسے گھورا تھا جو اب صوفے سے اٹھ کے الماری کی طرف بڑھ رہا تھا
“یہ لیں” الماری سے ہاتھ سے چلنے والے پنکھا نکال کے اس نے احواد کو دیا تھا جسے وہ دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی
“اس کا کیا کروں میں؟” احواد کے سوال پہ زعیم کا دل کیا اپنا سر کسی دیوار پہ دے مارے اک نیند سے برا حال تھا اوپر سے احواد کے اوٹ پٹانگ سوال مزید دماغ گھما رہے تھے
“اپنے سر میں ماریں تا کہ اس میں موجود دماغ تھوڑا کام کرنا شروع کرے” وہ یہ بس سوچ ہی سکا تھا
“دیکھیں فلحال میں یہی ارینج کر سکتا ہوں اپنی مدد آپ کے تحت اس سے خود کو ہوا دیں اور سو جائیں لائیٹ بھی بس آنے والی ہو گی” ضبط کا مظاہرہ کرتے اس کہہ کے وہ صوفے کی طرف بڑھا تھا
“کیا پہلے بھی لائٹ جاتی ہے؟” احواد کے سوال پہ زعیم نے دانت کچکچائے تھے
“نہیں آج واپڈا والوں کو پتہ چلا ہے کہ محترمہ احواد صاحبہ نے زعیم کے غریب خانے میں اپنے قدم رنجا فرمائے ہیں تو بس اسی خوشی میں انہوں نے بجلی بند کی ہے” زعیم نے میٹھے انداز میں اس پہ طنز کیا تھا جسے سن کے احواد کے پاس ضبط کرنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا
“زعیم” وہ واپس لیٹنے ہی لگا تھا کہ احواد کی آواز پھر گونجی تھی
“فرمائیے” زعیم کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا
“پیاس لگی ہے” اس نے کہا تو زعیم خاموشی سے باہر نکل گیا کچن سے اک ٹھنڈی پانی والی بوتل اور اک گلاس لے کے واپس آیا تھا
“یہ لیں اور اب مجھے آپ کی آواز نہ آئے ورنہ اچھا نہیں ہو گا” بوتل اور گلاس اسے تھماتے زعیم نے کہا اور صوفے پہ جا کر لیٹ گیا تھا احواد نے اسے گھوری سے نوازا اور پانی پی کے لیٹ گئی تھی پھر جب تک لائٹ نہیں آئی وہ سوئی نہیں تھی ہاتھ سے چلنے والے پنکھے کو تھوڑی دیر جھلانے کے بعد ہی اس کی بس ہو گئی تھی اس لیے اس نے رکھ دیا تھا
_____________________
اگلی صبح احواد کی آنکھ کھلی تو رات کی بےسکونی کی وجہ سے اس کا انگ انگ درد کر رہا تھا پہلے جگہ کہ چینجنیگ کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی جب نیند آئی تو لائٹ چلی گئی اور اوپر سے زعیم کی جلی کٹی سن کے کڑھتی ہوئی سوئی تھی
زعیم کا خیال آیا تو تیزی سے اٹھ کے بیٹھی تھی اور نظریں سیدھی صوفے پہ گئی تھیں جو خالی پڑا ہوا تھا نہ زعیم تھا نہ اس کا تکیہ یہ دیکھ کے تشکر بھری سانس خارج کرتے احواد نے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائی تھی
“ٹھیک کہا تھا زین بھائی نے جن آسائشات کی عادی ہوں ان کے بغیر رہنا مشکل ہو گا اور ابھی تو شروعات ہوئی ہے آگے ناجانے اور کیا کیا دیکھنا ہے” احواد بڑبڑائی تھی
“کوئی بات نہیں احواد عادت ہی ہو گی فائز کے گھر بھی وہ سہولیات نہیں ہوں گی جو میں بچپن سے دیکھتی آئی ہوں یہاں رہنے کے بعد مجھے وہاں ایڈجسٹ ہونے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی” اس نے خود ہی اپنے آپ کو تسلی دی تھی
وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی جسے سن کے اس نے جھٹ سرہلانے پڑا دوپٹہ اٹھا کے سر پہ اوڑھا کے دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں توقع کے عین مطابق زعیم ہی تھا جو شاید نہا کے آیا تھا کیونکہ ہاتھ میں پکڑے ٹاول سے وہ بال سکھا رہا تھا
“میں نے کل بھی کہاں تھا روم میں دروازہ ناک کر کے آیا کرو” وہ جو اپنے دھیان میں بال سکھا رہا تھا احواد کی ناگواری بھری آواز سن کے اس نے اپنی نظریں بیڈ کی طرف گھمائی تھیں
“محترمہ احواد صاحبہ میں نے کل بھی بتایا تھا کہ یہ میرا روم ہے اور اپنے روم میں کوئی دروازہ ناک کر کے نہیں آتا” زعیم نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا
“میں نہیں تھی پہلے یہاں اس لیے تم بغیر ناک کیے آ جاتے تھے لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اب تمہارے روم میں اک عدد لڑکی رہتی ہے اس لیے تمہارا بغیر ناک کیے آنا مینرز کے خلاف ہو گا انڈرسٹیند” احواد نے انگلی اٹھا کے اسے کہا تھا
“یہ لڑکی اس گھر اور میرے کمرے میں کس حیثیت سے آئی ہے؟” زعیم نے سینے پہ ہاتھ باندھتے اس سے پوچھا تھا
“کیا مطلب ہے اس سوال کا؟” احواد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“آپ بتائیں یہ لڑکی کس حیثیت سے یہاں موجود ہے؟” اس کی بات کو نظرانداز کرتے زعیم نے دوبارہ پوچھا تھا
“تمہاری بیوی کی حیثیت سے” کافی دیر چپ رہنے کے بعد اس نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا تھا
“میاں بیوی اک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور اس کے باوجود آپ چاہتی ہیں کہ میں دروازہ ناک کر کے آیا کروں” اک استہزائیہ مسکان چہرے پہ لیے زعیم نے کہا تھا
“تم،،،،”
“مجھے بعد میں کوس لیجیے گا پہلے اٹھ کے فریش ہوں یہ نہ ہو پھر کوئی دلہن دیکھنے آ جائے” اس کی بات کاٹتے زعیم نے دلہن پہ زور دیتے ہوئے کہا تھا
اسے گھورتے احواد اٹھ گئی تھی اور الماری سے اک بلکل سادا سوٹ اور ٹاول نکال کے دروازے کی طرف بڑھی تھی زعیم نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر چپ ہو گیا اور آئینے میں دیکھتا اپنے بال بنانے لگا تھا
احواد نہا کے واپس آئی تو زعیم صوفے پہ بیٹھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا احواد نے اپنے بال سکھانے تھے جو کہ زعیم کی موجودگی میں اسے مشکل ہی لگ رہا تھا ڈرائیر بھی نہیں تھا ٹاول کے ساتھ ہی سکھانے تھے جیسے بھی سکھانے تھے
وہ اسے باہر جانے کا بولنا چاہتی تھی لیکن جانتی تھی پھر کوئی الٹا جواب دے گا اس لیے خاموش تھی ابھی وہ اسی کشمکش میں تھی کہ دروازہ کھٹکھٹا کے اماں اندر آئی تھیں ان کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی زعیم انہیں دیکھتے اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر ان کی طرف بڑھا تھا
“ارے اماں آپ نے کیوں تکلف کیا ہم باہر آپ کے ساتھ ہی ناشتہ کرتے” ان کے ہاتھ سے ناشتے کی ٹرے لے کر صوفے کے آگے پڑھے ٹیبل پہ رکھتے زعیم نے کہا تھا
“نہیں ہمیشہ تم ہمارے ساتھ ہی کرتے ہو آج یہی کر لو” اماں مسکراتے ہوئے بولی تو زعیم بھی مسکرا دیا تھا
جبکہ احواد نے اک بےزار نظر دونوں ماں بیٹے پہ ڈالی تھی اور دوسری ناشتے کی ٹرے میں جس میں پراٹھے ہاف فرائی انڈہ اچار پانی اور لسی کا جگہ تھا ٹرے کو دیکھتے احواد کی آنکھیں چمکی تھیں کل رات سے زعیم اسے سنائی جا رہا تھا اب اسے بھی حساب برابر کرنے کا موقع ملنے لگا تھا
“یہ کیا ہے؟” احواد کی آواز سن کے دونوں نے اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں ناشتے کی ٹرے کو دیکھا تھا
“ناشتہ ہے اور کیا نظر آ رہا ہے آپ کو؟” زعیم نے سنجیدگی سے کہا تھا
“یہ ایسا ناشتہ تم جیسے لوگ کرتے ہوں گے میں تو صبح ناشتے میں بس بریڈ جیم اور اک گلاس دودھ لیتی ہوں” اس کی بات سن کے اماں کا چہرہ پھیکا پڑا تھا جبکہ زعیم کا غصے سے سرخ ہوا تھا ان دونوں کے چہرے دیکھ کے احواد اندازہ لگا سکتی تھی کہ تیر نشانے پہ لگا ہے
“مجھے نہیں پتہ تھا بیٹی ورنہ میں نہیں لے کر آتی” اماں نے افسردگی سے کہا تھا
“ارے میری پیاری اماں آپ کے ہاتھ کے پراٹھے تو کوئی دشمن بھی نہ چھوڑے اتنے لذیذ ہوتے ہیں یہ تو پھر آپ کی بہو ہے ضرور کھائے گی آپ جا کے دیکھیں انوشہ کیا کر رہی ہے” زعیم نے ان کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے انہیں اطمینان دلایا اور ان کا دھیان بٹانے کے لیے انوشہ کا سہارا لیا تو اماں سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی تھیں
“یہ کیا بدتمیزی تھی؟” ان کے روم سے نکلتے زعیم نے غرا کے پوچھا تھا احواد نے حیران ہو کر اس کا یہ روپ دیکھا تھا
“بدتمیزی نہیں بس اپنی پسند بتائی ہے میں تو” احواد نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا تھا
“یہ کوئی طریقہ نہیں اپنی پسند بتانے کا آپ کو جب تک یہاں رہنا میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گا لیکن اگر آپ نے میری ماں اور بہن کے ساتھ زرا بھی بدتمیزی کی تو یہ یاد رکھیے گا آپ میرے نکاح میں اور آپ کو تمیز اچھی طرح سیکھا سکتا ہوں میں” سخت لہجے میں بولتے بولتے آخر میں زعیم کا لہجہ معنی خیزی ہوا تھا
“دھمکی دے رہے ہو مجھے؟” احواد ڈری تو تھی مگر ظاہر نہ ہونے دیا تھا
“نہیں سمجھا رہا ہوں میں سب برداشت کر سکتا ہوں مگر اپنی ماں اور بہن کی اداسی اور ان کی آنکھ میں آنسو برداشت نہیں کر سکتا اس لیے آئندہ دھیان رکھیے گا” زعیم نے اسے وارننگ دی تھی
“چلیں اب آئیں ناشتہ کریں” زعیم نے صوفے کی طرف قدم بڑھائے تو احواد نے بھی مرے مرے قدموں سے اس کی تقلید کی تھی
جاری ہے____________!!
