Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18

جس دن سے زعیم اور احواد وقاص کو ملے تھے تب سے وقاص کو آگ لگی ہوئی تھی جب جب اس کے خیال میں زعیم کا احواد کے کندھے پہ بازو پھیلانا آنا اتا تب تب اسے مزید آگ لگتی تھی اب اس کا ارادہ احواد کے ساتھ ساتھ زعیم کو بھی سبق سیکھانے کا تھا
وہ کافی دنوں سے کسی موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ زعیم کو چودھری حشمت کی نظروں میں گرا سکے لیکن ایسا کوئی موقع اس کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا اس نے چودھری حشمت کے آدمیوں میں سے اک کو یسے دے کر خرید لیا تھا جو اسے ان کی پل پل کی خبر دیتا تھا
زعیم کی حویلی آمد و رفت پہ تو ویسے ہی پابندی لگی ہوئی تھی وقاص کے پاَس واحد ہربا ڈیرے پہ موجود ریکارڈ ہی تھا جسے غائب کر کے وہ زعیم کو چودھری حشمت کی نظروں میں مشکوک کر سکتا تھا اور وہ یہ بھی جانتا جس لاکر میں ریکارڈ موجود تھا صرف چودھری حشمت اور زعیم کے فنگر پرنٹ سے ہی کھل سکتا تھا
وہ کافی دن سے جس موقع کی تلاش میں تھا وہ اسے مل ہی گیا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس آدمی نے اسے فون کر کے بتایا تھا کہ زعیم ڈیرے سے چلا گیا ہے چودھری حشمت اکیلے ہی ہیں
اس کا پلان تھا کہ چودھری حشمت کو پانی میں بیہوشی کی دوائی دی جائے گی جس کی مقدار تھوڑی ہی رکھی جائے گی تا کہ بیہوش ہوتے تھوڑا ٹائم لگے اور کسی کو شک نہ ہو زعیم کی موجودگی ان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی تھی اس لیے اس کی غیر موجودگی میں وہ یہ کام سرانجام دینا چاہتے تھے
اس آدمی کی کال آتے ہی وقاص گھر سے نکل گیا تھا اور ساتھ ہی اسے سارا پلان بھی سمجھا دیا تھا اسے کیا کرنا ہے اور اس آدمی نے اس کے کہنے کے مطابق بہیوشی کی دوا پانی میں ڈال کے انہیں دے دی تھی جسے پینے کے بعد ان کا سر آہستہ آہستہ بھاری ہو رہا تھا
“السلام علیکم تایا سائیں” وہ ابھی اپنی کنپٹیاں دبا رہے تھے کہ وقاص نے وہاں آتے انہیں سلام کیا تھا اس کے پیچھے وہ آدمی بھی آیا تھا لیکن وہ دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا اور وقاص کے اشارے پہ اس نے اندر آنا تھا چودھری حشمت اسی کمرے میں موجود تھے جس میں لاکر تھا
“وعلیکم السلام وقاص تم آج یہاں کیسے؟” انہوں نے بمشکل اپنے حواس پہ قابو پاتے اس سے پوچھا تھا
“بس یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا آپ سے بھی ملتا چلا لوں لیکن لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب ہے” انہیں بار بار کنپٹی مسلتے دیکھ کر وقاص نے کہا تھا
“پتہ نہیں بس اچانک ہی سر بھاری ہو،،،، ” اتنا کہہ کے وہ اک طرف لڑھک گئے تھے
انہیں بیہوش ہوتے دیکھ کر اک شیطانی مسکراہٹ وقاص کے چہرے پہ چمکی تھی اس نے باہر سے اس آدمی کو آواز دے کر اندر بلایا تھا پھر دونوں چودھری حشمت کو اٹھا کے لاکر تک لے کر گئے تھے اور ان کی فنگر کی مدد سے لاکر کھولا اور پھر چودھری حشمت کو واپس چارپائی پہ ڈالا تھا
وقاص نے جوں ہی لاکر کھولا تو سامنے اسے پیسوں کی کچھ گڈیاں نظر آئی تھیں جنہیں دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکی تھیں اور اس نے گردن موڑ کے ساتھ کھڑے آدمی کو دیکھا تھا
“ان پیسوں کا تایا سائیں کو تو نہیں پتہ نا؟” وقاص نے اس سے پوچھا تھا
“نہیں یہ اک قرضہ دار کل واپس کر کے گیا ہے اس وقت چودھری صاحب ڈیرے نہیں تھے اور آج بھی پہلے وہ لیٹ آئے تھے پھر زعیم چلا گیا میں صبح سے ہی ان دونوں پہ نظر ہوئی ہے زعیم کو شاید یاد نہیں رہا چودھری صاحب کو بتانے کا” اس آدمی نے تفصیلی جواب دیا تھا
“تم تو گئے زعیم” ان پیسوں کو ہاتھ میں لیتا وہ بڑبڑایا تھا اور لاکر بند کیا تھا پہلے اس کا ارادہ ریکارڈ غائب کرنے کا تھا لیکن ان ریکارڈ کا تو چودھری حشمت کو پہلے سے ہی پتہ تھا لیکن ان پیسوں کا نہیں پتہ تھا اس لیے اس نے وہی غائب کرنے کا ٹھان لیا تھا
پیسے قمیض کی دونوں سائیڈ کی جیبوں میں ڈالتے سب کچھ کلئیر کرنے کے بعد اچانک ہی وقاص نے چلانا شروع کر دیا کہ چودھری حشمت کو کیا ہوا پھر انہیں اٹھا کے اپنی گاڑی میں ڈالا اور بڑی حویلی کی طرف چل پڑا تھا حویلی کے سامنے رکتے پہلے اس نے جیب سے پیسے نکالتے گاڑی میں رکھے تھے اور پھر چودھری حشمت کو لیے اندر کی طرف بڑھا تھا
حویلی میں چودھرائن اور غزل انہیں ایسے بیہوش دیکھتے پریشان ہو گئے تھے انہیں لٹانے کے بعد وقاص نے پانی منگوا کے اس کے چھینٹے ان کے منہ پہ مارے تھے تھوڑی دیر کی کوشش کے بعد وہ ہوش میں آ گئے تھے
“کیا ہوا؟ بیہوش کیسے ہو گئے آپ؟” ان کے ہوش میں آتے چودھرائن نے فکرمندی سے پوچھا تھا
“پتہ نہیں اک دم سے کیا ہوا تھا ابھی بھی سر بھاری بھاری لگ رہا ہے” اٹھ کے بیٹھتے چودھری حشمت نے جواب دیا تھا
“سارا دن ڈیرے میں سر جو کھپاتے رہتے ہیں کتنی دفعہ کہا ہے زعیم ہے وہاں وہ سب سنھبال لے گا مگر سنتے کہاں ہیں آپ کسی کی” چودھرائن نے خفگی سے کہا تھا
“ارے تائی جی کسی پہ اتنا بھروسہ بھی نہیں کرنا چاہیے پہلے بھی وہ اک دفعہ آپ لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل چکا ہے یہ نا ہو اک دفعہ پھر کوئی گیم کھیل جائے” وقاص کی ذومعنی انداز پہ ان چودھری حشمت اور چودھرائن نے نظریں چرائی تھیں
“اچھا تایا سائیں آپ اپنا خیال رکھیں مجھے تھوڑا کام ہے میں چلتا ہوں” انہیں خاموش دیکھ کر وقاص نے کہا اور ان کی اجازت ملتے وہ حویلی سے نکل آیا تھا گاڑی سٹارٹ کرتے اس نے اک نظر ساتھ والی سیٹ پہ پڑے پیسوں کو دیکھا تھا اور مسکرا کے گاڑی آگے بڑھا دی تھی آج اک کارنامہ کرنے کے بعد اس کا منصوبہ کل اک اور دھماکہ کرنے کا تھا
________________________
زعیم کے جانے کے بعد احواد پورا دن خوف کے حصار میں رہی تھی اس وقت کا نکلا زعیم شام کو گھر واپس آیا تھا اور اس کے کمرے میں آتے ہی احواد اس سے کنی کتراتے ہوئے روم سے باہر نکل گئی تھی اور سیدھا چھت پہ جا کر بریک لگائی تھی
کھانا تیار ہونے کے بعد انوشہ اسے بلانے آئی تھی لیکن اس نے انکار کر دیا تھا کیونکہ زعیم جاتے ہوئے جو دھمکی دے کر گیا تھا اسے سن کے اس کی بھوک پیاس سب اڑے ہوئے تھے
اسے وہاں کھڑے ہوئے کافی وقت ہو گیا تھا اب تو ہر طرف گہرا اندھیرہ چھا گیا تھا اور اسی اندھیرے میں دور خلاؤں میں گھورتی وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ کب تک یہاں کھڑی رہے گی لیکن کمرے میں جانے کا بھی رسک نہیں لے سکتی تھی
ابھی وہ یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ سیڑھیوں پہ قدموں کی چاپ سنائی دی تھی احواد کی دل کی دھڑکنیں فل سپیڈ پہ دوڑی تھیں جنہیں نظرانداز کرتے خود کو مضبوط ظاہر کرتے اس نے سیڑھیوں پہ نظریں جمائی تھیں جہاں کچھ ہی سیکنڈز بعد زعیم کا چہرہ نمودار ہوا تھا
اسے دیکھ کر خوف کی اک لہر اس کے اندر سرائیت کی تھی وہ یقیناً اسے کمرے میں لے جانے آیا ہو گا اور اس کے بعد جو ہوتا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس کے ہاتھ کپکپائے تھے جسے چھپانے کے لیے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائی تھیں
“آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ کھانا بھی نہیں کھایا؟” اس کے قریب آتے زعیم نے پوچھا تھا
“بس ویسے ہی” یہ مختصر سا جواب دیتے بھی اس کا لہجہ لڑکھڑایا تھا
اور اس نے زعیم کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کیا تھا اس کے اس گریز اور نارمل جواب دینے پہ بغور اسے دیکھا تھا جہاں باہر سے آتی ہلکی ہلکی روشنی میں اسے احواد کے چہرے پہ ڈر صاف دکھا تھا اور ڈر کے پیچھے کی وجہ کو سوچتے وہ ہلکا سا مسکرایا تھا
“اچھا! تو پھر کب تک یہی کھڑے ہونے کا ارادہ ہے؟ کمرے میں نہیں جانا آج کیا؟” زعیم نے متبسم لہجے میں پوچھا تھا
“نہیں” اس کی طرف دیکھے بغیر احواد نے یک لفظی جواب دیا تھا
“آپ بےفکر ہو کر کمرے میں جائیں میں خائن نہیں ہوں آپ میرے لیے بس اک امانت ہیں جس میں خیانت کرنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن شاید آپ نے میری چپ کو میری کمزوری سمجھ لیا تھا اس لیے آپ کو اک دفعہ احساس دلانا ضروری تھا کہ بنا سوچے سمجھے بولنے کا انجام کھبی کھبار بہت برا ہوتا ہے” اس پہ نظریں جمائے زعیم نے کہا تو احواد نے نظریں گھما کے اسے دیکھا تھا لیکن اسے خود کو دیکھتے پا کر نظروں کا رخ واپس پہلے زاویے پہ موڑ لیا تھا
“میری اک بات کو پلے باندھ لیں مرد کو کھبی اس کی مردانگی کا طعنہ نہیں دینا چاہیے یہ اسے اپنی انا اپنی عزتِ نفس پہ گہرا وار محسوس ہوتا ہے اور پھر وہ غصے میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک کھو دیتا اور اس کے بعد جو ہوتا ہے وہ بہت برا ہوتا ہے” زعیم نے سنجیدگی سے اسے سمجھانا چاہا تھا
“تو کیا صرف مرد کی ہی مردانگی ہوتی ہے عورت کی نسوانیت کیا؟ آج اک مرد کی مردانگی پہ سوال اٹھا تو وہ غصے میں بپھر گیا لیکن جو ہر روز کوئی نہ کوئی مرد کسی نہ کسی عورت کی نسوانیت کو کچلتا ہے کھبی اس پہ ہاتھ اٹھا کے، کھبی اسے سب کے سامنے ذلیل کر کے تو کھبی اس کی عزت تار تار کر کے اس کا کیا؟
اگر مرد کی مردانگی پہ سوال اٹھے تو اسے یہ اپنی توہین سمجھتا ہے اور اس کا بھرپور بدلہ بھی لے لیتا ہے لیکن جو عورت کی نسوانیت تار تار کی جاتی ہے تو وہ کیا کرے؟ وہ کیسے بدلہ لے بھئی وہ تو کمزور ہوتی ہے تم جیسے مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی نا اس لیے اسے یہی کہا جاتا ہے کہ وہ چپ رہے واہ بھئی واہ” احواد کی باتوں پہ زعیم کچھ پل خاموش رہا تھا
“ایسے مردوں کو تو میں مرد ہی نہیں سمجھتا پھر مردانگی کیسی؟ لیکن اگر میں اپنی بات کروں تو کب میں نے آپ پہ ہاتھ اٹھایا؟ کب آپ کو سب کے سامنے ذلیل کیا؟ کس کی عزت کو تار تار کیا؟ کب ماں اور بہن سے برا سلوک کیا جو آپ نے مجھے بزدلی اور مردانگی کا طعنہ دیا؟” زعیم کی سوالیہ نظریں احواد پہ جمی تھیں لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“اگر ماں اور بہن کی فکر کرنا بزدلی ہے تو ہاں میں ہوں بزدل اگر کسی ایسے شخص کو دکھ دینے سے ڈرنا جو آپ کو اپنے بچوں کی طرح چاہتا ہوں بزدلی ہے تو ہاں میں بزدل ہوں” زعیم بولتے بولتے کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا تھا
“خیر بات کچھ زیادہ ہی لمبی ہو گئی ہے المختصر یہ کہ آئندہ بولنے سے پہلے سو دفعہ سوچیے گا کیونکہ ہر دفعہ آپ بچ جائیں یہ ضروری نہیں ہے اب آپ کمرے میں جائیں” گہری سانس بھرتے زعیم نے کہا تو احواد نے جھٹ نفی میں سر ہلایا تھا
“میں آپ کو پہلے بھی کہا ہے میں خائن نہیں ہوں لیکن اگر آپ کو پھر بھی اعتبار نہیں ہے تو جائیں آپ آرام سے سوئیں میں کمرے میں نہیں آؤں گا آج” زعیم کی بات پہ اس نے جھٹکے سے سر گھماتے اسے دیکھا تھا
“اور تم کہاں سو گئے؟” اس کے منہ سے بےاختیار نکلا تھا اس نے اپنی بےاختیاری پہ زبان دانتوں تلے دبائی تھی جبکہ زعیم کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی
“شکریہ اس بندہ ناچیز کی فکر کرنے کے لیے لیکن آپ فکر نہ کریں میں کہی بھی سو جاؤں گا آپ کو مزید بےاعتبار تو نہیں کر سکتا نا” زعیم نے مسکراتے لہجے میں کہا تھا
احواد اس کی بات سن کے رکی نہیں تھی بلکہ خاموشی سے سر جھکائے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی سیڑھیاں اترنے سے پہلے اس نے مڑ کے اک نظر زعیم کو دیکھا تھا جو اسی طرف دیکھ رہا تھا احواد واپس گردن گھماتے تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی تھی اس کی تیزی پہ زعیم مسکرایا تھا
“چلو بھئی زعیم میاں تم آج رات یہی تارے گنتے اور خیالِ ناممکن یار کی یاد میں گزار دو” چھت پہ بچھی چارپائی کی طرف قدم بڑھاتے زعیم بڑبڑایا تھا
چارپائی پہ لیٹتے اس نے اپنی نگاہیں آسمان پہ چمکتے ستاروں پہ ٹکا دی تھیں جو آسمان کی کالی چادر پہ ٹمٹماتے بہت دلکش لگ رہے تھے اور ان ستاروں کے بیچ چاند بھی اپنی پوری آب و تاب سھ چمک رہا تھا انہیں دیکھتے اس کی ذہنی رو بھٹکتی ہوئی احواد کی طرف مڑ گئی تھی
احواد اسے چمکتے چاند کی طرح لگی تھی جو اسے نظر تو آ رہا تھا مگر اس کی دسترس سے بہت دور تھا اسی طرح احواد بھی اس کے آس پاس تو تھی لیکن اس کی دسترس سے بہت دور تھی وہ اس پہ تمام حق رکھتے ہوئے بھی کوئی حق نہیں رکھتا تھا
اس نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے اردگرد اپنی ماں اور بہن کو ہی عورتوں کے روپ میں پایا تھا رشتے داروں کے آنا جانا تو پہلے ہی کم تھا اور پھر اس کے والد کے انتقال کے بعد بلکل ہی بند ہو گیا تھا اس لیے اس کا عورتوں سے زیادہ واستہ نہیں پڑا تھا
پھر والد کے انتقال کے بعد اس نے چودھری حشمت کے پاس کام کرنا شروع کر دیا تھا اور وہاں چودھرائن نے ہمیشہ اسے اپنے بیٹوں کی طرح چاہا تھا اور احواد نے اسے پہلے دن سے ہی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا تھا اور زعیم کو بھی اس کے گھمنڈی پن کی وجہ سے اس سے چڑ گئی ہو گئی تھی
اسی چڑ میں وہ کئی کئی گھنٹے اس کے بارے میں الٹا سیدھا سوچتا رہتا تھا اور پھر یہی چڑ پسندیدگی میں کب بدل گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا لیکن وہ اپنی اور اس کی حیثیت میں فرق کو اچھی طرح جانتا تھا اس لیے اس نے اپنے تمام جذبات کو دل اک کونے میں بند کر دیا تھا جہاں کھبی اس نے بھولے سے بھی جھانکنے کی کوشش نہیں کی تھی
پھر جب نکاح ہوا تھا وہ کافی اس کا دل خوش فہم سا ہوا تھا لیکن کنٹریکٹ یاد کرتے اس کی ساری خوش فہمی اڑن چھو ہو گئی تھی اب ساتھ رہتے ہوئے وہ تمام جذبات جو اک کونے میں بند تھے وہ باہر آنے کو اتاولے ہو رہے تھے اور زعیم انہیں باہر آنے نہیں دینا چاہتا تھا
ابھی بھی ستاروں کے درمیان تنہا چاند کو دیکھتے اسے بار بار احواد کا خیال آ رہا تھا یہ چاند بھی اس کی دسترس دور تھا اور وہ اس کی ہوتے ہوئے بھی اس کی نہیں تھی یہی سب سوچتے ناجانے رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگی تھی
________________________
اگلی صبح ان سب کے لیے ہنگامہ خیز تھی کیونکہ فرش پہ پانی گرنی کی وجہ سے انوشہ کا پاؤں سلپ ہوا تھا اور وہ منہ کے بل فرش پہ گری تھی اور چوٹ اس کے عین سر پہ لگی تھی جہاں سے سرجری ہوئی تھی اور گرتے ہی بلیڈنگ شروع ہو گئی تھی
اس کی یہ حالت دیکھتے ان سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے زعیم بڑی حویلی کی طرف دوڑا تھا گاڑی کے لیے کیونکہ وہ جس حال میں تھی بائیک پہ تو جانے سے رہی تھی اس کے آنے تک اماں اور احواد خون روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں
زعیم انوشہ کی طبعیت خرابی کا مختصر بتاتے گاڑی لے کر آیا تھا اور پھر وہ تینوں اسے لیے ہاسپٹل روانہ ہوئے تھے احواد کو وہ اکیلے گھر نہیں چھوڑ سکتے تھے ناجانے انہیں کتنی دیر لگ جاتی اس لیے اسے بھی ساتھ لے گئے تھے
ہاسپٹل پہنچتے ہی اسے ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا جب تک ڈاکٹر اندر تھے تب تک اما اور زعیم کی جان سولی پہ لٹکی رہی تھی ڈاکٹر کے باہر آتے ہی وہ دونوں ڈاکٹر کی طرف دوڑے تھے
“ڈاکٹر کیسی ہے میری بہن کوئی خطرے والی بات تو نہیں ہے؟” زعیم نے تیزی سے پوچھا تھا
“ریلیکس ینگ مین وہ بلکل ٹھیک ہیں کوئی خطرے والی بات نہیں ہے بس خون بہہ جانے کی وجہ سے ہمیں انہیں اک دن انڈر ابزرویشن رکھنا پڑے گا لیکن آپ لوگ بھی دھیان رکھیے گا ایسی بےاختیاطی مہنگی پڑ سکتی ہے” ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتھپا کے کہتے آگے بڑھ گیا اس کی بات سن کے ان دونوں کی جان میں جان آئی تھی
وہ انوشہ کے روم میں آئے تو وہ دوائیوں کے زیرِ اثر سو رہی تھی زعیم نے آگے بڑھ کے اس کا ماتھا چوما تھا اس کے سر سے خون نکلتے وہ اک لمحے کو بہت زیادہ ڈر گیا تھا لیکن ڈاکٹر کی بات پہ اسے تھوڑا اطمینان ہوا تھا
احواد بس خاموشی سے زعیم کو دیکھ رہی تھی اسے نہیں پتہ تھا کہ زعیم انوشہ سے اتنا پیار کرتا ہے اس کے بھائی بھی اس سے بہت پیار کرتے تھے لیکن زعیم کا انوشہ کے لیے پیار دیکھ کے اسے وہ کچھ بھی نہیں لگا تھا
“جو شخص اپنی بہن سے اتنا پیار کرتا ہے وہ اپنی بیوی سے کتنا کرے گا؟ بہت لکی ہو گی اس کی بیوی” زعیم کو دیکھتے اس نے بےخیالی سے سوچا تھا
“بیوی تو تم بھی ہو اس کی” احواد کے کہی اندر سے آواز آئی تو وہ چونکی تھی لیکن جلد ہی اس نے اپنے خیال کو جھٹکا تھا کیونکہ یہ تعلق بلکل عارضی تھا
پھر پورا دن گزار کے شام کو زعیم نے اماں اور احواد کو واپس چھوڑ کے آنا چاہا تو اماں نے کہا وہ وہی رکیں گی زعیم احواد کو لے کر گھر چلا جائے زعیم نے بہت منع کیا لیکن اماں نہ مانی تو اسے مجبوراً احواد کو لیے گاؤں سے نکلنا پڑا تھا
“خیر سے گاؤں آؤ احواد چودھری تمہارے لیے اک سرپرائز تیار ہے جو یقیناً تمہیں بہت پسند آئے گا” ابھی گاڑی ہاسپٹل کی حدود سے نکلی ہی تھی کہ احواد کے سیل پہ وقاص کا مسیج آیا تھا جسے اس نے ناسمجھی سے پڑھا تھا بہت سوچنے کے بعد بھی جب کچھ پلے نہ پڑا تو اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے وہ بجائے آگے بیٹھنے کے پیچھے ہی بیٹھی تھی
وہ دونوں گاؤں کی حدود میں داخل ہوئے تو آگے وقاص اپنے آدمیوں کے ساتھ رستہ بلاک کر کے بہت آرام سے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اسے دیکھتے احواد کے ذہن میں وقاص کا میسج آیا تھا اور اسے وقاص کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگے تھے
“زعیم گاڑی ریورس کرو مجھے اس وقاص کے ارادے کچھ اچھے نہیں لگ رہے ابھی ہمارے ہاسپٹل َسے نکلتے ہی اس کا میسج مجھے ملا تھا کہ میرے لیے کوئی سرپرائز تیار کیا ہے اس نے” احواد نے تقریباً چیختے ہوئے کہا تھا
“تو یہ بات آپ مجھے پہلے نہیں بتا سکتی تھیں کچھ اور سوچ لیتا میں مصیبت کے منہ میں ضرور دھکیلنا تھا مجھے اور خود کو” زعیم نے گاڑی ریورس کرتے غصے سے کہا تھا
کیونکہ وہ نہ تو بلیک بیلٹ تھا نہ کوئی ٹام کروز جو اکیلا ان سب سے لڑ لیتا اور وہ بچہ بھی نہیں تھا جو وقاص کے ارادوں کو نہ سمجھ سکتا اس لیے اس نے گاڑی واپس موڑنا بہتر سمجھا تھا
“میں نے کہا ایویں ہی بکواس کر رہا ہے” احواد نے ہونٹ چباتے پریشانی سے کہا تھا اور ساتھ ہی اک نظر پیچھے بھی ڈالی تھی جہاں انہیں گاڑی ریورس کرتے دیکھ کر وہ بھی گاڑیاں سٹارٹ کر رہے تھے
زعیم نے گاڑی فل سپیڈ پہ چھوڑ دی تھی اور جو جو رستہ سامنے نظر آ رہا تھا وہاں گاڑی بھگاتا جا رہا تھا کافی دور جانے کے بعد آگے بس کھیت ہی کھیت تھے آگے گاڑی لے کر جانے کا کوئی رستہ نہیں تھا
زعیم نے گاڑی وہی کھڑی کی اور پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتے اس نے احواد کا ہاتھ پکڑ کے اسے باہر نکالا اور اسے لیے اک طرف بھاگنا شروع کر دیا تھا احواد حیران پریشان سی اس کے ساتھ بھاگ رہی تھی
ہر طرف کھیت ہی کھیت تھے اور زعیم ان کے درمیان چھپنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا کیونکہ پکڑے جا سکتے تھے اک کھیت کی پگڈنڈی پہ اک آم کا گھنا درخت نظر آیا زعیم کو اس نے کچھ سوچ کے اپنے قدم درخت کی طرف بڑھائے تھے اور اک نظر پیچھے بھی دوڑائی تھیں جہاں گاڑیاں نظر تو نہیں آ رہی تھیں مگر آوازیں مسلسل نزدیک آ رہی تھیں وہ کسی ٹائم بھی یہاں پہنچ سکتے تھے
آپ اس درخت پہ چڑھ سکتی ہیں؟” زعیم نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا تو احواد نے سر ہلایا تھا
بچپن میں اس کے یہی تو شوق ہوتے تھے پھل دار درختوں پہ چڑھ کے پھل کھانا اور وہ اچھی طرح اسی کام میں ٹرینڈ تھی اسے پتہ نہیں تھا اس کا یہ ہنر اس طرح اس کے کام آئے گا
اس نے ہاتھ میں پکڑا موبائل زعیم کی طرف بڑھایا تھا اور خود درخت پہ چڑھنا شروع کیا تھا زعیم نے تیزی سے اس کا اور اپنا موبائل آف کرتے جیب میں ڈالا تھا اور ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی چابی بھی اس کے درخت پہ چڑھنے کے بعد وہ خود بھی درخت پہ چڑھا تھا
یہ درخت کافی گھنا تھا شاید بہت پرانا تھا زعیم اور احواد بلکل درخت کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور پتوں سے اچھی طرح خود کو کور کیا تھا بھاگنے کی وجہ سے دونوں کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں
انہیں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بھاگتے قدموں کی آواز سنائی دی تھی یقیناً وہ گاڑی خالی دیکھ کر انہیں کھیتوں میں ڈھونڈنے نکلے ہوں گے احواد کی تو گویا سانس ہی سوکھ گئی تھی وہ وقاص سے کسی ایسے گھٹیا پن کی امید نہیں رکھتی تھی
“ڈھونڈو انہیں یہی کہی ہوں گے وہ دونوں وہ کمی کمین اسے لے کر کہاں تک بھاگ سکتا ہے اگر اس میں اتنا ہی دم خم ہوتا تو وہ بھاگتا ہی نہ” وقاص کی غصے سے بھرپور آواز سنتے احواد بےساختہ تھوڑا سا زعیم کی طرف کھسکی تھی جس سے پتوں میں ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی تھی وہ دونوں درخت کے اک موٹے سے تنے پہ بیٹھے ہوئے تھے
“کیا کر رہی ہیں؟ آرام سے بیٹھیں انہیں شک ہو جائے گا” زعیم نے ہلکی سی سرگوشی میں اسے ڈپٹا تھا
“سائیں یہان کہی نہیں ہیں ہم نے سارے کھیت چھان مارے ہیں” اک شخص کی خوف زدہ آواز گونجی تھی
“یہی کہی ہوں گے ڈھونڈو مجھے آج ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے” وقاص کی غصے سے چیخنے کی آواز آئی تھی اپنی عزت کو لے کر خوفزدہ ہوئی احواد مزید اس کے قریب ہوتی بلکل اس کے ساتھ چپکی تھی
زعیم نے چونک کے اسے دیکھا تھا اس کی اتنی قربت پہ زعیم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی وہ اسے پیچھے کرنا چاہتا تھا لیکن چاہ کے بھی ایسا نہ کر سکا تھا اور وہ اپنے خوف کے زیرِ اثر اس بات کو بھولے بیٹھی تھی کہ وہ اس کے کتنے نزدیک ہے
پھر کافی دیر ادھر اُدھر ڈھونڈنے کے بعد بھی وہ دونوں انہیں نہ ملے تو وقاص انہیں گالیاں نکالتا وہاں سے چلا گیا تھا اس کے جانے کے کافی دیر بعد بھی وہ اوپر بیٹھے رہے تھے کہ کہی وہ آگے ہی نہ کھڑا ہو
“اب آپ نیچے اترنا پسند کریں گی؟” احواد جو زعیم کی قمیض کو دونوں مٹھیوں میں جھکڑے خوف کے زیر اثر ماحول سے بیگانہ تھی چونک کے ہوش میں آئی اور شرمندہ ہوتے اس سے نظریں ملائے بغیر تیزی سے پیچھے ہوئی تھی اور اس تیزی کے زیرِ اثر اسکا توازن خراب ہوا تھا اس سے پہلے کہ وہ گرتی زعیم نے جلدی سے اس کا بازو پکڑا تھا
سچویشن کچھ اس طرح تھی کہ احواد تنے سے نیچے لٹک رہی تھی جبکہ زعیم نے اک ہاتھ سے اسے تھما ہوا تھا اور اپنا توازن برقرار رکھنے کے لیے دوسرے ہاتھ سے اپنے اوپر تنے کو پکڑا ہوا تھا اپنی پوزیشن دیکھتے احواد شرمندہ ہوئی تھی
زعیم نے اسے اوپر کھینچ کے تنے پہ بیٹھایا اور پھر خود رینگ کے تھوڑا نیچے جاتے درخت سے چھلانگ لگائی تھی سیدھا کھڑے ہوتے اس نے احواد کو دیکھا جو تھوڑا نیچے تو آ چکی تھی لیکن چھلانگ لگانے سے ہچکچا رہی تھی
“اب آ بھی جائیں نیچے یا اپنے کسی اور رشتے دار کا انتظار کر رہی ہیں” زعیم کے طنز پہ احواد نے اسے گھوری سے نوازا تھا اور چھلانگ لگا دیتی تھی نیچے زمین پہ گرتے ہی وہ تیزی سے ہاتھ جھاڑتے اٹھی تھی
پھر دونوں احتیاط سے قدم اٹھاتے کھیتوں سے نکلتے گاڑی کی طرف بڑھے تھے زعیم نے چاروں طرف نظریں دوڑاتے اس بات کا اطمینان کیا تھا کہ وقاص کہی نہیں ہے اور پھر گاڑی کی طرف بڑھے تھے
گاڑی کے پاس پہنچتے پہلے زعیم نے دیکھا تھا کہیں وہ گاڑی کو تو کچھ نہیں کر کے گیا کہ وہ ساری رات یہی رہیں لیکن گاڑی کو صحیح سلامت دیکھ کر اسے تھوڑا اطمینان ہوا تھا شاید غصے میں انہیں صلواتیں سناتے اسے گاڑی کو کچھ کرنے کا خیال ہی نہ رہا ہو
خیر جو بھی تھا یہ بات ان کے لیے بہت بڑی غنیمت تھی کہ اس نے گاڑی کو کچھ نہیں کیا تھا ورنہ وہ پوری رات یہی پھنسے رہتے اس دفعہ احواد پیچھے بیٹھنے کی بجائے آگے بیٹھی تھی شاید وہ ابھی تک خوف کے حصار میں تھی
زعیم گاڑی بلکل سلو سپیڈ پہ چلا رہا تھا کہ اگر وہ کہی رستے میں ہوں بھی تو ان سے پہلے پہنچ جائیں کیونکہ وہ اب مزید کوئی ڈرامہ افورڈ نہیں کر سکتا تھا پہلے انوشہ کا گرنا اور اب یہ سب وہ ذہنی طور پہ بہت تھک چکا تھا اور گھر جا کے بس سونا چاہتا تھا پھر گھر پہنچتے اس نے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ رستے میں اسے کہی بھی وقاص نامی بلا نہیں ٹکری اور وہ صحیح سلامت گھر آ گئے ہیں
جاری ہے_______!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *