Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20

“یہ فائز ناجانے کہاں غائب ہے نا کال اٹھا رہا ہے نہ میسج کا ریپلائی دے رہا ہے” احواد فائز کا نمبر کوئی دسویں بار ملا رہی تھی بیل جا رہی تھی لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا
“نہ اٹھاؤ تمہیں تو میں کل یونی آ کر پوچھوں گی” اک دفعہ پھر ٹرائی کرنے پہ پہلے والا ہی ریسپونس ملا تو وہ غصے سے موبائل بیڈ پہ پھینکتے بڑبڑائی تھی
تبھی زعیم اک جھٹکے سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا اور پھر زوردار آواز میں بند کرتے جا کر صوفے پہ بیٹھ گیا تھا احواد نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا وہ گھر یہی کہہ کے گیا تھا حویلی گاڑے دے کر وہ ڈیرے جائے گا لیکن گھر کیوں آ گیا تھا
“کیا ہوا ہے زعیم تم نے تو ڈیرے جانا تھا گھر کیوں آ گئے؟ غصے میں بھی لگ رہے ہو خیریت ہے؟” احواد نے اسے بار بار مٹھی کھولتے بند کرتے دیکھ کر اس سے پوچھا تھا
“زعیم میں کچھ پوچھ رہی ہوں؟” اپنے سوال کے جواب میں خاموشی دیکھ کر احواد نے اک دفعہ پھر اسے مخاطب کیا تھا
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے نہ میں آپ کی بات مانتا اور نہ ہی خود کو اتنا بےاعتبار بناتا” غصے سے کھولتے وہ اٹھ کے اس کے مقابل آتے دبی دبی آواز میں چیخا تھا
“ہوا کیا ہے زعیم؟” احواد حیران سی اسے شعلہ جوالہ بنے دیکھ رہی تھی
“ڈیرے پہ موجود لاکر سے دو لاکھ غائب ہوا ہے اور آپ کے بھائی اور بابا سائیں کو لگتا ہے وہ پیسے میں نے غائب کیے ہیں دس سال کی ریاضت کا یہ صلہ ملا ہے مجھے اپنی مجبوری کا سودا کرنے کی وجہ سے سب کی نظروں میں بےاعتبار ہوا ہوں” جتنے غصے اور جوش سے اس نے بات شروع کی تھی اختتام تک آتے آتے غصہ کہی غائب ہو گیا تھا بس بےبسی رہ گئی تھی
“کیا؟ بابا سائیں یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ پیسے تم نے چوری کیے ہیں تم سے جو میں خار کھاتی تھی وہ اپنی جگہ لیکن اس بات کا تو مجھے بھی یقین ہے کہس تم ایسا نہیں کر سکتے پھر بابا سائیں ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں؟” احواد کے لہجے میں بےیقینی ہی بےیقینی تھی
“بس آپ کی مہربانی ہے جو یہ ناچیز ہر طرف سے ذلیل و خوار ہو رہا ہے” زعیم نے غصے سے لفظ چبا چبا کر کے ادا کیے تھے
“ایکسکیوزمی اگر میرا فائدہ تھا اس نکاح میں تو تمہارا بھی تھا اس لیے تم اب صرف مجھے بلیم نہیں کر سکتے” احواد نے بھی اسے یاد دہانی کروانا ضروری سمجھا تھا
“ہاں ہو گئی غلطی اک دفعہ عزتِ نفس مار لیتا یہ روز روز کا عذاب سہنے سے تو بہتر تھا” شاید زعیم کو آج کچھ زیادہ ہی غصہ آیا ہوا تھا اس لیے وہ اس کا بلکل بھی لحاظ نہیں کر رہا تھا
“اور یہ آپ کا ارادہ کب تک جانے کا ہے تا کہ میں اک دفعہ ہی رج کے ذلیل ہو جاؤں بار بار ہوتے شاید میں اپنا ضبط کھوتے سچ ہی نہ بول دوں اس لیے بہتر ہے جتنی جلدی ہو سکے آپ یہاں سے چلی جائیں” زعیم نے کہا تو احواد نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ یہ زعیم نے کہا ہے
زعیم اس کی خود پہ جمی نظریں دیکھ کر اس سے نظریں چرا گیا تھا یہ بات اس نے اس لیے نہیں کی تھی کہ وہ اس کی وجہ سے خوار ہو رہا ہے بلکہ وہ سچ میں چاہتا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے وہ زیادہ دیر وہاں رہ کے اپنے اور اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہی تھی
وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنے وعدے سے مکر جائے کیونکہ آج کل اکثر اس کا دل اسے کنٹریکٹ توڑنے پہ اکسا رہا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس سے ایسا کچھ ہو جائے جو اسے احواد اور اپنی نظروں میں گرا دے اس لیے اس کا جانا ہی بہتر تھا
“جہاں اتنا برداشت کیا ہے وہاں تھوڑا سا اور کر لو بہت جلد یہاں سے چلی جاؤں گی” احواد نے اس کا نظریں چرانا دیکھ کر سنجیدگی سے کہا اور کمرے سے نکل گئی تھی
اس کے باہر جاتے زعیم نے غصے سے اک ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ پہ مارا تھا بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی وہ چاہتا تھا وہ جلد سے جلد چلی جائے لیکن وہ اسے یہ ایسے نہیں کہنا چاہتا تھا یقیناً اسے بہت برا لگا ہو گا اور یہی سوچ کے اسے اپنے غصے پہ غصہ آ رہا تھا
احواد روم سے نکل کر سیدھا چھت پہ گئی تھی اور چھت کہ اک کونے میں جا کر بیٹھ گئی تھی اور آنکھوں سے آنسو لگا تار بہہ رہے تھے زعیم کی بات سن کے اسے اپنا گھر اور بابا سائیں یاد آئے تھے اور ساتھ ہی اسے اپنے کالج کے زمانے کا اک واقعہ یاد آیا تھا
جب اک دفعہ زین نے تنگ کرنے کے لیے اسے کہا تھا کہ یہ اس کا گھر نہیں ہے جلد ہی وہ اسے گھر سے نکال دیں اس کا مطلب تھا کہ احواد شادی کر کے یہاں سے چلی جائے گی لیکن احواد نے مطلب سمجھے بغیر رو رو کے پورا گھر سر پہ اٹھا لیا تھا کہ زین نے کیسے کہا کہ گھر اس کا نہیں اور وہ اسے نکال دیں گے
تب چودھری حشمت نے زین کی درگت بنائی اور کہا تھا کہ یہ گھر احواد کا کہا ہے کوئی اسے یہاں سے نکالنے کی جرات نہیں کر سکتا ہاں البتہ وہ جسے مرضی گھر سے نکال سکتی ہے لیکن آج اس کی اک خواہش کی وجہ سے اُس گھر کے دروازے اس پہ بند تھے اور اِس کا گھر کا مالک بھی اسے یہاں سے جلد جانے کا کہہ رہا تھا
“بابا سائیں اماں سائیں” اس کے منہ سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے تھے اور اس نے ہاتھوں سے منہ کو ڈھانپتے ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا تھا
زعیم جو اپنے گلٹ کی کی وجہ سے اسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے چھت کے اک کونے میں بیٹھ کے روتا دیکھ کے اسے تاسف نے آن گھیرا تھا اپنی دو انگلیوں سے ماتھا سہلاتے وہ اس کی طرف بڑھا تھا
“احواد” اس کے پاس پہنچتے زعیم نے دھیمے سے اس کا نام پکارا تھا اپنے نام کی پکار پہ اس کا ہچکولے کھاتا وجود تھما تھا اور اس نے جلدی سے آنسو صاف کرتے خود کو کمپوز کیا تھا
“ایم سوری میں غصہ میں ناجانے کیا کیا کہہ گیا آپ سے آپ جب تک چاہیں رہ سکتی ہیں یہاں” زعیم نے اس کے زرا سے فاصلے پہ بیٹھتے پشیمانی سے کہا تھا
“اٹس اوکے ویسے بھی کوئی کسی کو اپنے گھر کتنا عرصہ رکھ سکتا ہے اک نہ اک دن تنگ آ ہی جاتا ہے تم فکر مت کرو میں جلد سے جلد یہاں سے چلی جاؤں گی تمہیں زیادہ تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی” سنجیدگی سے کہتے وہ اٹھ کے نیچے چلی گئی تھی پیچھے زعیم بیٹھا خود کو کوس رہا تھا کہ اس نے اپنی زبان پہ کنٹرول کیوں نہیں رکھا تھا
_________________________
زعیم کے جانے کے بعد وہ تینوں بھی حویلی واپس آ گئے تھے چودھرائن انہیں اتنی جلدی واپس آتے دیکھ کر حیران ہوئی تھیں جس پہ چودھری حشمت نے پوری بات انہیں بتائی تھی ساری باتیں سن کر چودھرائن کو بھی حیرت ہوئی تھی
“جو بھی ہے لیکن زعیم ایسا کھبی نہیں کر سکتا ہاں اس نے ہمارا بھروسہ توڑا ہے لیکن چوری وہ کھبی نہیں کر سکتا ان آنکھوں کے سامنے وہ جوان ہوا ہے اور اس کی تربیت میں اس کی ماں سے زیادہ ہمارا ہاتھ ہے تو ہم کیسے اپنی تربیت پہ شک کر سکتے ہیں” چودھرائن کا دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ زعیم چوری کر سکتا ہے
“لیکن نیک بخت پھر پیسے کیسے غائب ہو سکتے ہیں کیونکہ لاکر تو میرے اور اس کے فنگر پرنٹ سے ہی کھلتا ہے” چودھری حشمت کا لہجہ الجھن سے بھرپور تھا ان کی بات سن کے زین چونکا تھا اس کے مائنڈ میں کچھ کلک ہوا تھا
“اک منٹ بابا سائیں لاکر آپ کے بھی فنگر پرنٹ سے کھل جاتا ہے اور آپ کل بےہوش ہوئے تھے نا تو کیا آپ اک دم سے بیہوش ہوئے تھے یا پہلے بھی طبعیت کچھ گری گری لگی تھی؟” زین کے سوال پہ سب نے چونک کے اسے دیکھا تھا
“نہیں اس سے پہلے تو بلکل ٹھیک تھا بس اچانک سے سر گھومنے لگا اور میں بیہوش ہو گیا تھا جب آنکھ کھلی تو گھر تھا” چودھری حشمت نے سوچتے ہوئے جواب دیا تھا
“آپ ڈاکٹر کے پاس گئے تھے یا ڈاکٹر کو بلایا تھا؟” اس نے مزید پوچھا تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا
“ہو سکتا ہے یہ زعیم بھا کو پھنسانے کی کسی کی سازش ہو کیونکہ لاکر آپ کے فنگر پرنٹ سے بھی کھل جاتا ہے تو آپ کی بیہوشی کے دوران کوئی بھی آپ کے فنگر پرنٹ کا استعمال کرتے لاک کھول سکتا ہے” زین کی دلیل میں سب کو دم لگا تھا
“لیکن کوئی زعیم کو کیوں پھنسائے گا؟” چودھری حشمت نے اک نقطہ اٹھایا تھا
“معافی کے ساتھ لیکن مجھے وقاص پہ شک ہے” زین نے کہا تو وہ سب اک دفعہ پھر چونکے تھے
“آپ کی بیہوشی سے پہلے وہ ڈیرے آیا تھا اور وہ بھی اچانک پھر وہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانے کی بجائے حویلی لے آیا کیونکہ اگر وہ ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا تو ڈاکٹر نے جھٹ بیہوشی کی وجہ بتا دینی تھی اور زعیم بھا بھی کہہ رہے تھے کہ وقاص نے کل رات ان پہ حملہ کیا تھا ان سب باتوں میں کوئی نہ کوئی کنکشن تو ہے” زین نے کڑی سے کڑی ملائی تھی جس کے بعد سب وقاص کی طرف سے مشکوک ہونے پہ مجبور ہو گئے تھے
“میں ابھی وقاص کو بلاتا ہوں ساری بات کھل کے سامنے آ جائے گی” چودھری حشمت کے چہرے پہ دبا دبا غصہ تھا
“نہیں بابا سائیں اگر اس نے ہی یہ سب کیا ہو گا تو وہ آپ کی اس تفتیش سے الرٹ ہو جائے گا” زین نے جلدی سے ان کی بات کی تردید کی تھی
“تو پھر کیا ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھ کے تماشا دیکھیں” سلیمان نے غصے سے کہا تھا
“نہیں میں یہ بھی نہیں کہا سب سے پہلے تو آپ اسے پکڑیں جس نے آج پیسے لیے ہیں اسی نے بابا سائیں کی توجہ ان پیسوں کی طرف مبذول کروائی تھی ورنہ بابا سائیں کو تو ان پیسوں کا پتہ ہی نہیں تھا اس کے علاوہ اپنا اک آدمی وقاص کی جاسوسی پہ چھوڑیں کوئی نہ کوئی سراغ مل ہی جائے گا” زین نے تیزی سے اپنا دماغ چلایا تھا
“بابا سائیں اکیلے یہ سب کیسے کریں گے مجھے آج شام تک لازمی واپس جانا ہے کیونکہ میری تو کل میٹنگ ہے” سلیمان نے پریشانی سے پیشانی مسلی تھی
“کوئی نہیں آپ کی میٹنگ ہے میری تو نہیں میں یہی ہوں” زین نے اطمینان سے اسے تسلی دی تھی
“آلریڈی بہت چھٹیاں کر چکا ہے باس نے نکال دینا ہے تجھے آفس سے” سلیمان نے اس کی توجہ اس کی پہلی چھٹیاں کی طرف دلائی تھی
“نکال دیا تو میں کوئی نئی جاب ڈھونڈ لوں گا آپ ٹینشن نہ لیں” اس کے اطمینان میں زرا برابر کمی نہیں آئی تھی
“تُو یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ بابا سائیں کی زمینیں سنبھالے گا” سلیمان نے اک انکھ ونک کرتے اسے چھیڑا تھا
“نہ وہ سیٹ زعیم بھا کی ہے مجھے یقین ہے بابا سائیں اس سے بھی زیادہ کر لیں زعیم بھا کے ساتھ وہ کھبی بابا سائیں سے ناراض نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر بابا سائیں نے انہیں بیٹا سمجھا ہے تو زعیم بھا نے بھی انہیں ہمیشہ باپ کا درجہ دیا ہے” پیچھے کرسی سے ٹیک لگاتے اس نے کہا تھا اس کی بات سن کر چودھری حشمت کے اندر پچھتاوؤں نے سر اٹھایا تھا کیسے انہوں نے پل میں ہی زعیم کو چور مان لیا تھا جیسے وہ اسے جانتے نہ ہوں
____________________________
اس بات کو گزرے دو تین دن ہو چکے تھے اور ان دونوں کی بات چیت پھر سے بند ہو چکی تھی زعیم بس اسے یونی چھوڑ آتا اور پک کر لیتا تھا ان دو تین دنوں میں وہ اک دفعہ بھی ڈیرے نہیں گیا تھا گھر پہ رہ کے بس یہی سوچتا تھا کہ آخر ایسا کون کر سکتا ہے اماں اور انوشہ کو بھی اس بات کا پتہ چل چکا تھا اور انہیں بھی چودھری حشمت کے زعیم کو چور مان لینے پہ دکھ ہوا تھا
دوسری طرف احواد فائز سے نکاح کی بات کرنے کے لیے اتاولی ہو رہی تھی لیکن وہ تھا کہ یونیورسٹی آ کر ہی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی اس کے میسج اور کال کا ریپلائے دے رہا تھا اور نجانے کیوں احواد کا دل بیٹھا جا رہا تھا اک فائز کا پتہ نہیں چل رہا تھا دوسرا آج کل اسے شدت سے اپنے ماں باپ کی یاد آ رہی تھی جس کی وجہ سے بات بات پہ اس کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں
آج بھی معمول کے مطابق زعیم اسے یونی چھوڑ کے گیا تھا وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتے یونی میں داخل ہوئی تھی اور اک آس لیے اپنی مخصوص جگہ پہ نظر دوڑائی تھی کہ شاید آج فائز آیا ہو لیکن اسے پھر سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ سر جھٹکتے کلاس کی طرف بڑھ گئی تھی
پھر پورا دن کلاسز میں بزی رہنے کے بعد آخری کلاس میں گراؤنڈ میں اپنی مخصوص جگہ کی طرف آئی تو وہاں بیٹھے فائز کو دیکھتے اسے جھٹکا لگا تھا اس نے اپنی آنکھیں مسل کے دوبارہ سامنے دیکھا کہ کہی اس کی نظر کا دھوکا نہ ہو لیکن آنکھیں مسلنے کے بعد بھی وہ غائب نہ ہوا تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ سچ میں وہی ہے اس نے جلدی سے قدم اس کی طرف بڑھائے تھے
“فائز کہاں تھے تم میں کتنے دن سے تمہیں کال اور میسج کر رہی ہوں نہ تم میسج کا جواب دیتے ہو نہ کال اور نہ ہی یونی آتے ہو کہاں غائب تھے؟” اس کے سر پہ پہنچتے احواد نان سٹاپ شروع ہو گئی تھی لیکن اس کی سرخ اور سوجھی آنکھیں اور اس کا حد درجہ سنجیدہ چہرہ دیکھ کر وہ ٹھٹھکی تھی
“ک
فائز کیا ہوا ہے؟” اس کے سامنے بیٹھتے احواد نے تشویش سے پوچھا تھا
“بابا کی ڈیتھ ہو گئی” فائز مختصر جواب دیتے چپ ہو گیا تھا جبکہ احواد کا دل دکھ سے بھر گیا تھا
“اوہ ایم سوری بہت دکھ ہوا اللہ پاک تمہارے بابا کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تم لوگوں کو صبر دے آمین” احواد نے افسردگی سے کہا تھا جس پہ فائز نے بھی بس سر ہلایا تھا اور پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی تھی
“فائز یہ وقت تو نہیں ہے یہ بات کرنے کا لیکن کرنی بھی ضروری ہے” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد احواد نے جھجھکتے ہوئے کہا تو فائز کی سوالیہ نظریں اس کی طرف اٹھی تھیں
“وہ،، ،وہ،،،،” احواد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کیسے شروع کرے
“وہ دراصل بات یہ ہے کہ وہ زعیم پوچھ رہا تھا کہ ہم کب تک شادی کریں گے کیونکہ ہم جتنا لیٹ ہوں گے اس کے لیے اور ہمارے لیے مشکلات ہی بڑھیں گی” احواد نے ہاتھوں کو مسلتے بمشکل اپنی بات اس تک پہنچائی تھی جس کے جواب اسے جامد خاموشی ملی تھی
“فائز؟” کافی دیر کی خاموشی کے بعد احواد نے پریشانی سے اس کا نام پکارا تھا
“تم تو ہمارے گھر کے حالات جانتی ہو نا جب تک بابا تھے ان کی پینشن سے گھر کا نظام چل ہی جاتا تھا لیکن اب وہ بھی نہیں رہے تو ساری ذمہ داریاں میرے کندھوں پہ ہی ہیں دو جوان بہنیں ہیں ان کی شادی کا فرض بھی میرے کندھوں پہ ہے اگر ایسے میں، میں شادی کر لوں تو لوگ کیا کہیں کتنا خود غرض ہے باپ کو مرے ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا ہے اور اس نے شادی رچا لی ہے” فائز اپنے ہاتھوں کو دیکھتے بول رہا تھا
“فائز تم کہنا کیا چاہ رہے ہو کھل کے بولو” احواد نے خوفزدہ ہو کر پوچھا تھا وہ جو کہنا چاہ رہا تھا وہ بلکل سادہ اور آسان تھا لیکن وہ سمجھ کے بھی سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی
“کھل کے بولوں تو میری باتوں کا یہ مطلب ہے کہ میں ابھی شادی کی پوزیشن میں نہیں ہوں گھر کی اور بہنوں کی ذمہ داریاں میرے کندھے پہ ہیں تو میں پہلے باہر جاؤں گا بابا کے اک دوست ویزہ لے کر دے رہیں ہیں سارا خرچا وہ ہی کر رہے ہیں جو بعد میں مجھے ان کو سارے پیسے واپس لٹانے ہیں گھر کے حالات ٹھیک ہونے کے بعد بہنوں کی شادی کروں گا اور پھر اپنا سوچوں گا” اس کے سپاٹ لہجے پہ احواد نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا
جس کے لیے اس نے ماں باپ کا دل دکھا کے اک شخص سے کنٹریکٹ میرج کی تھی اور اب وہی شخص اپنی مجبوریوں کا رونا رو کے اپنا دامن چھڑا کے اسے بیچ منجدھار اکیلا چھوڑ رہا تھا جہاں سے نہ وہ آگے جا سکتی تھی نہ پیچھے
“دیکھو فائز یہ تو بس تم مجھ سے فرار حاصل کر رہے ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے نہ شادی کے بعد ہم دونوں مل کر ساری ذمہ داریاں پوری کریں ویسے بھی اتنا پڑھنے کا کوئی تو فائدہ ہو گا نا” احواد نے بدحواس ہوتے اسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی
“ایسا کچھ نہیں ہو گا احواد تم جانتی تو ہو اس ملک کا نظام کتنے ڈگری ہولڈر روز نوکری کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں اور ہماری تو ابھی ڈگری بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی تو ہمیں کہاں سے جاب مل جائے گی” فائز نے اس کی دلیل رد کی تھی
“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے” احواد کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کا گریباب پکڑ کے اسے جھنجھوڑتی لیکن اردگرد کے سٹوڈنٹس کے جمع ہونے کا خدشہ تھا اور وہ اپنی عزت کا کوئی تماشا نہیں لگا سکتی تھی
“احواد میری پوزیشن سمجھنے کی کوشش کرو یار اگر میں تمہارے ساتھ ٹائم پاس کر رہا ہوتا تو اب تک میں تمہارا یوز کر چکا ہوتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے مگر میں اپنے ساتھ تمہیں بھی کانٹوں پہ نہیں گھسیٹ سکتا میرا مستقبل کیا ہے مجھے ابھی خود نہیں پتہ” فائز نے دھیمے لہجے میں اسے سمجھانا چاہا تھا
“تو یہ بات تمہیں تب سوچنی تھی نہ جب تم مجھے اس راہ پہ لے کر آئے تھے تمہارے لیے میں نے اپنی زندگی داؤ پہ لگا دی ہے اور تم کہہ رہے ہو میں واپس پلٹ جاؤں کیسے واپس پلٹ جاؤں کیا رستہ بچا ہے میرے پاس اگر میں جاؤں گی واپس تو کیا میرے ماں باپ مجھے قبول کر لیں گے؟ اور اگر کر بھی لیں تو کیا مجھے وقاص سے شادی کرنی ہو گی جس سے کب سے میں بھاگ رہی ہوں؟” احواد اس کے سامنے سراپا سوال بنی کھڑی تھی
“تم اک دفعہ ٹرائے کرو اگر تمہارے ماں باپ مان جاتے ہیں تو ان کے پاس چلی جاؤ ورنہ زعیم تو ہے ہی مجھے یقین ہے وہ تمہیں زندگی میں کھبی تنہا نہیں چھوڑے گا” اس کی بےحسی پہ احواد اسے دیکھتے رہ گئی تھی
“میں جانتا ہوں اس وقت میں تمہیں بےحس، بےوفا اور اس دنیا کا سب سے برا انسان لگ رہا ہوں لیکن میرا یقین کرو احواد میں نہیں چاہتا کہ میں اپنے ساتھ تمہیں بھی کانٹوں پہ گھسیٹوں تمہیں آسائشات میں پلی بڑھی لڑکی ہو ان حالات میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکو گی مجھے اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے لیے کتنا عرصہ درکار ہے میں خود نہیں جانتا تم سب کچھ بھول کے زعیم کے ساتھ اپنی اک نئی زندگی کا آغاز کرو دیکھنا تم بہت جلد بھول جاؤ گی کہ کوئی فائز بھی تھا اب چلتا ہوں بس یہی سب سمجھانے آیا تھا اللہ حافظ” فائز اک الوداعی نظر اس پہ ڈالتا تیزی سے قدم اٹھاتا یونی سے نکل گیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اس کے آنسو سب کے سامنے گریں اور اس کا بھرم ٹوٹ جائے
اس کے جانے کے بعد کئی لمحے احواد وہی بےحس و حرکت خالی دماغ کے ساتھ وہاں بیٹھی رہی تھی کچھ دیر بعد وہ اٹھی تھی اور بلکل گم سم انداز میں یونی کا گیٹ کراس کر گئی تھی اور بغیر ادھر اُدھر دیکھے سڑک پہ اک طرف کو چلنے لگی تھی
جاری ہے___________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *