Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08

Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08

احواد نے یونی آنے کے بعد بس اک ہی کلاس لی تھی باقی سب بنک کر کے وہ گراؤنڈ کے بلکل سنسان کونے میں بیٹھ گئی تھی کہنے کو تو وہ اسے بہت دلیری سے آفر کر آئی تھی لیکن حقیقتاً اب اسے ڈر لگ رہا تھا کہ وہ کہی بابا سائیں کو ہی نہ جا کر بتا دے اور وہ آج ہی اس کا نکاح وقاص سے کروا دیں گے وہ انہی سوچوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی کہ فائز اسے ڈھوندتا وہاں آیا تھا
“کیا بات ہے یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ کوئی کلاس بھی اٹینڈ نہیں کی؟” فائز نے اس کے سامنے بیٹھتے پوچھا تو وہ چونک کے اپنے خیالات سے نکلی تھی
“کیا ہوا ہے؟” فائَز نے اس کا چوکنا محسوس کر کے پوچھا تھا
اس کے پوچھنے پہ احواد نے کچھ لمحے اسے دیکھنے بعد گہرا سانس بھرا تھا اور پھر آہستگی سے اسے پہلے اپنی اور چودھری حشمت پھر اپنی اور زعیم کی ساری باتیں اس کے گوش گزاری تھیں جنہیں سن کے فائز نے حیرت اور بےیقینی سے اسے دیکھا تھا
“یہ کیا کہہ رہی ہو تم احواد؟” بمشکل حیرت سے نکلتے فائز نے کہا تھا
“جو تم سن رہے ہو” اس نے شانِ بےنیازی سے اسے دیکھا تھا
“احواد یہ کوئی حل نہیں ہے مسئلے کا تم اس طرح نہیں کر سکتی میں اپنے والدین کے ساتھ آؤں گا تمہارے گھر کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا بس تم یہ بیوقوفی مت کرو” فائز نے اسے اس کے ارادوں سے باز رکھنا چاہا تھا
“نہیں میں سوچ چکی ہوں مجھے جو کرنا ہے اگر تم آؤ گے تو بابا سائیں کسی قیمت پہ راضی نہیں ہوں گے الٹا تمہاری جان لے لیں گے اور میرا نکاح وقاص کے ساتھ کر دیں گے جبکہ زعیم کو وہ اپنے بیٹوں کی طرح چاہتے ہیں اسے کچھ نہیں کہیں گے” احواد اپنے فیصلے پہ قائم تھی
“اور بابا سائیں زعیم پہ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتے ہیں مجھ سے بھی آگے رکھتے ہیں اچھا ہے نا زعیم بھی ان کی نظروں سے گرے گا” احواد کی بات پہ فائز نے افسوس سے اسے دیکھا تھا
“یہ تم اچھا نہیں کر رہی اپنے ساتھ ساتھ تم زعیم کی زندگی بھی برباد کر رہی ہو کیا گرینٹی ہے تمہارے بابا سائیں اسے کچھ نہیں کہیں گے اور زعیم کو ان کی نظروں سے گرا کے تمہیں کیا ملے گا؟” فائز کسی بھی طرح جو وہ کرنے جا رہی تھی اس سے روکنا چاہتا تھا
“سکون ملے گا جو اس کی وجہ سے کتنے سالوں سے برباد ہے جب دیکھو زعیم زعیم کرتے رہتے ہیں” وہ نخوت زدہ لہجے میں بولی تھی
“اور یہی زعیم نام کی مالا تم ہمیشہ کے لیے اپنے گلے میں ڈالنی والی ہو” فائز نے ٹیڑھی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“ساری زندگی کے لیے کیوں؟ مجھے یقین ہے نکاح کا پتہ چلتے بابا سائیں اس سے اور مجھ سے ناطہ توڑ لیں گے اور جب مجھے لگے گا کہ ان کی توجہ ہم پہ سے ہٹ گئی ہے تو مین زعیم سے طلاق لے لوں گی اور تم سے شادی کر لوں گی” احواد نے اسے اپنی پلاننگ بتائی تھی
“دیکھو احواد،،،،،” فائز نے کچھ کہنا چاہا تھا
“مجھے کچھ نہیں دیکھنا اور نہ ہی اس اس بارے میں مزید بات کرنی ہے” اس کے اٹل لہجے میں کہنے پہ فائز بھی چپ ہو گیا تھا
“تم بتاؤ تمہارے گھر والے کیسے ہیں؟” احواد نے ٹاپک چینج کیا تھا
“ٹھیک ہی ہیں بابا ریٹائر ہو گئے ہیں حالات مشکل ہو رہے ہیں تمہیں تو پتہ ہے یہاں بھی سکالر شپ پہ پڑھ رہا ہوں مجھے لگتا ہے جو سیکنڈ ہینڈ گاڑی ہے ہمارے پاس وہ بھی بیچنی پڑے گی” فائز نے سر جھکائے گھاس کو نوچتے جواب دیا تھا
“تم ٹینشن مت لو اتنے ذہین ہو تم تمہیں آسانی سے کوئی جاب مل جائے گی پارٹ ٹائم جاب لے لیے اپلائی کر دو ان شاءاللہ کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا” احواد کو افسوس ہوا تھا اس لیے اس نے فائز کا حوصلہ بڑھانا چاہا تھا فائز نے بھی پھیکا سا مسکراتے سر ہلایا تھا
_____________________________
زعیم احواد کے گاڑی سے نکلتے ہی گاڑی کو فل سپیڈ پہ چھوڑتے وہاں سے نکل گیا تھا اور اک سنسان جگہ پہ جا کر اس نے گاڑی روکی تھی اور بےبسی سے اپنا سر سٹیرنگ پہ رکھ دیا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اسے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے
“اس میں حرج ہی کیا ہے کنٹریکٹ میرج ہی تو کرنی ہے کر لیتا ہوں اگر اپنی بہن کی زندگی بچانے کے لیے اتنی قربانی دینی پڑے تو میں دے تو سکتا ہی ہوں” سٹیرنگ پہ ہی سر رکھے کھڑکھی سے باہر دیکھتے وہ بڑبڑایا تھا
“لیکن وہ چودھری صاحب کی عزت ہے اور انہوں نے ان کا رشتہ بھی طے کیا ہوا ہے اگر میں ایسا کچھ کر لیا تو ان کے بھائی اور خاندان کے سامنے ان کی کیا عزت رہ جائے گی” سر اوپر اٹھاتے اس نے بےبسی سے بالوں میں انگلیاں پھنسائی تھیں
“تو پھر کیا علاج کے لیے اتنی بڑی رقم تم مانگ لو گے چودھری صاحب سے؟” دماغ نے اک اور سوال اٹھایا تھا جس کا جواب یقیناً نہ تھا
خوددار لوگوں کا یہ بڑا مسئلہ کے انہیں اپنی مجبوری میں بھی کسی سے مانگنا اچھا نہیں لگتا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا ان کے لیے موت کے مترادف ہوتا ہے زعیم نے تب بھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا جب ابا کے مرنے کے بعد گھر میں کئی کئی دن فاقے ہوئے تھے اب کیسے اس کی خودداری گوارا کر لیتی
“تو جو تم احواد بی بی سے لو گے اس کے لیے تمہاری عزت نفس اور خودداری کو کچھ نہیں ہو گا؟” اس وقت زعیم کے دل اور دماغ میں شدید قسم کی جنگ چل رہی تھی
“وہ تو تمہیں خود دے رہی ہیں اور بدلے میں تم نے بھی تو ان کے کام آنا ہے تو پھر کیسی شرمندگی” دل کے مقابلے میں دماغ نے اک اور جواز پیش کیا تھا
“لیکن پھر بھی ان پیسوں پہ تمہارا کوئی حق نہیں تو کیسے لے سکتے ہو تم؟” دل نے اک اور دلیل دی تھی
“تو ٹھیک ہے پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کو موت کے منہ میں جاتے دیکھنا” ان ساری باتوں سے تنگ آ کر زعیم نے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے تھے
“یااللہ میں بہت مشکل میں ہوں میری مدد فرما تُو تو کہتا ہے نا اگر میرے بندے کو چھوٹی سی چھوٹی شے بھی چاہیے ہو تو وہ مجھ سے مانگے میں دوں گا تو میں مانگ رہا ہوں میری مدد فرما میرے مالک میری مدد فرما میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہن کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا” اس نے واپس سر سٹیرنگ پہ رکھ کے اپنے رب کو پکارا تھا
تھوڑی دیر اسی پوزیشن میں رہنے کے بعد اس نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور گاؤں کے رستے ہو لیے تھے لیکن اس کے دل و دماغ میں اک جنگ ہنوز جاری تھی جسے وہ پورا زور لگا کے نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا تھا حویلی گاڑی کھڑی کر کے وہ ڈیرے آیا تھا
“کیا بات ہے زعیم پتر آج تھوڑا لیٹ آیا؟” وہ ڈیرے آیا تو چودھری حشمت نے پوچھا تھا
“ہاں وہ بس رستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی اسی لیے لیٹ ہو گیا” زعیم نے نظریں چراتے کہا تھا جھوٹ بولنا وہ بھی ان سے جنہیں آپ پہ حد سے زیادہ یقین کرتے ہوں کتنا مشکل ہوتا ہے یہ کوئی اس وقت زعیم اکرم سے پوچھتا
پھر احواد کو یونی سے لینے جانے تک دل و دماغ کی جنگ میں الجھا رہا تھا گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جنہیں بمشکل وہ سٹیرنگ پہ جما رہا تھا اس کے یونی پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی احواد آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
“کیا سوچا پھر تم نے؟” گاڑی میں بیٹھتے ہی احواد نے اس سے پوچھا تھا جس کے جواب میں زعیم چپ ہی رہا تھا لیکن ابھی تک گاڑی سٹارٹ نہیں کی تھی
“مجھے منظور ہے آپ کی آفر” کافی دیر کی خاموشی کے بعد زعیم کی سپاٹ آواز گونجی تھی اک بھائی ہار گیا تھا اپنی بہن کی زندگی بچانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اس کے ہامی بھر لینے پہ احواد مسکرائی تھی جیسے اسے امید ہو کے زعیم کا یہی جواب ہو گا
“اوکے پھر گاڑی گاؤں کی بجائے کورٹ کی طرف موڑ لو” احواد کے لہجے میں خوشی اور مغروریت تھی کہ وہ پیسے کے زور پہ کچھ بھی کر سکتی تھی زعیم نے اپنی نم اور سرخ آنکھیں اٹھا کر مرر سے اسے گھورا تھا
“اور جو کورٹ میرج کی ریکوائرمینٹ ہے کہ دو گواہ لازمی ہونے چاہیے وہ کہاں سے آئیں گے؟” زعیم کی آواز کسی بھی تاثر سے پاک تھی اس کی بات سن کے احواد نے سر پہ ہاتھ مارا تھا اور اسے ویٹ کرنے کا کہہ خود گاڑی سے نکل گئی تھی
فائر ابھی یونی ہی تھا اس نے جا کر ساری بات اسے بتائی پہلے تو فائز نے اسے باز رکھنا چاہا تھا لیکن پھر اس کی ضد کے آگے ہار مان کے گواہ بننے کے لیے مان گیا تھا اور ساتھ ہی اپنی اک قابلِ بھروسہ دوست جو کہ کلاس فیلو بھی تھی اسے منایا تھا فائز اور اس لڑکی نے فائز کی گاڑی میں ہی جانا تھا ان کے مان جانے کے بعد احواد بھی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی
“میرے دو دوست آ رہے ہیں تو چلو وہ ہمارے پیچھے ہی ہیں” احواد نے کہا تو زعیم نے بغیر کچھ کہے گاڑی سٹارٹ کر گے آگے بڑھائی تھی اس کا انداز بلکل سرد و سپاٹ تھا اور احواد سے تو اپنی خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی کہ اس کی جان اب وقاص سے چھوٹ جائے گی اور وہ حویلی سے نکل کے اپنی مرضی کی زندگی گزارے گی
لیکن اس کے دماغ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ وہ اپنے باپ کا مان توڑ رہی تھی باپ جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں لیکن بیٹیاں ہمیشہ باپ کا مان ہوتی ہیں ان کی پگڑی کا اونچا شملہ ہوتی ہیں لیکن ابھی وہ یہ بات سوچنے سے قاصر تھی لیکن اسے اس بات احساس اک نا اک دن ضرور ہو گا لیکن کون جانے وہ دن کب آئے گا
کورٹ کی عمارت کے سامنے زعیم نے اک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی اور اپنی سرخ نظریں اٹھا کے اس عمارت کو دیکھا تھا اس کا دل کیا وہ یہاں سے غائب ہو جائے لیکن اپنی بےبسی اور مجبوری کا خیال آتے وہ گاڑی سے اتر گیا تھا ان کے پیچھے والی گاڑی سے فائز لوگ بھی نکلے تھے
فائز نے اک نظر زعیم کو دیکھا تھا اونچا لمبا قد چوڑے شانے گندمی رنگت گھنے بال ماتھے پہ پڑے ہوئے تھے سیاہ آنکھیں اور گندمی چہرہ بلکل سپاٹ تھا گھنی مونچھوں اور داڑھی کے درمیان لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے اسے دیکھ کر فائز کو ناجانے کیوں اس سے جیلسی ہوئی تھی
کورٹ میرج کے لیے سب سے ضروری چیز سی این آئی سی نمبر ہوتا ہے شادی والے جوڑے کا بھی اور گواہوں کا بھی اور ان چاروں کے پاس اپنے اپنے آئی کارڈ موجود تھے
پھر بغیر وقت ضائع کیے وہ چاروں کورٹ کے اندر چلے گئے تھے اپنے مطلوبہ وکیل کے پاس پہنچتے انہوں نے وہاں آنے کی وجہ بتائی تھی وکیل کے مشکوک نظروں سے گھورنے پہ انہوں نے بتایا تھا کہ گھر والے نہیں مان رہے اس لیے کورٹ میرج کر رہے ہیں خیر وکیل کو اس بات سے کیا مطلب تھا
دونوں اٹھارہ سے اوپر تھے اس لیے ان کی کورٹ میرج میں کوئی ایشو نہیں تھا وکیل نے ان دونوں کے سامنے میرج سرٹیفکیٹ رکھا تھا جو نکاح رجسٹرار سے رجسٹرڈ تھے احواد نے تو جھٹ سے سائن کر دیے تھے لیکن اک لمحے کو زعیم کے ہاتھ کانپے تھے اور چودھری حشمت اور چودھرائن کے چہرے اس کے سامنے آئے تھے لیکن اگلے ہی لمحے انوشہ کا چہرہ سامنے آیا تھا اور اس نے ناچاہتے ہوئے بھی سائن کر دیے تھے ان دونوں کے بعد فائز اور اس لڑکی نے گواہوں کے خانے میں سائن کیے تھے
“مبارک ہو اب آپ دونوں لیگلی ہزبینڈ ایند وائف ہیں” ان چاروں کے سائن کرنے کے بعد وکیل نے انہیں مبارکباد دی جس کے جواب میں زعیم نے مسکرانا بھی ضروری نہ سمجھا اور وکیل کو کورٹ میرج کی جو فیس ہوتی ہے وہ ادا کر کے (جو وہ آتے ہوئے لے کر آیا تھا) وہاں سے نکل گیا تھا
اس کی اس حرکت پہ احواد نے اس کی پشت کو گھورا تھا اور پھر ان دونوں کا شکریہ ادا کر کے ان کو بھیجنے کے بعد احواد بھی گاڑی میں آ گئی تھی اس کے کہنے پہ زعیم نے اب گاڑی بنک کی طرف موڑی تھی
احواد کے سارے کارڈ اور چیک بک ہمیشہ اس کے بیگ میں ہی ہوتے تھے اسے امید تھی کہ اس کے اکاؤنٹ میں اچھی خاصی رقم موجود ہو گی کیونکہ وہ تینوں اس کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرواتے تھے لیکن یوز اس نے کھبی نہیں کی تھی شاپنگ ہمیشہ وہ چودھری حشمت سے پیسے لے کے ہی کرتی تھی اور اس کی توقع کے عین مطابق اس کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے تھے کہ زعیم کو پیسے دینے کے بعد بھی پیچھے کافی پیسے تھے
کنٹریکٹ کے مطابق احواد نے کورٹ میرج کرتے ہی اسے دس لاکھ دیے تھے اور انہیں لیتے ہوئے زعیم کا دل کر رہا تھا دھاڑیں مار مار کے روئے اس کی آنکھیں خطرناک حد تک سرخ ہو چکی تھیں اور احواد اپنی خوشی میں یہ سب کچھ محسوس نہیں کر رہی تھی
“ابھی آپ پلیز اس شادی کے بارے میں کسی کو بھی کچھ مت کہیے گا اک دفعہ میری بہن کا آپریشن ہو جائے تو پھر بےشک بتا دیجیے گا کیونکہ اس کے آپریشن کے دوران میں کسی قسم کی کوئی ٹینشن افورڈ نہیں کر سکتا” حویلی کے ڈرائیو وے پہ گاڑی روکتے زعیم نے اس سے التجا کی تھی احواد نے اک لمحے کو رک کے اسے دیکھا تھا اور اثبات میں سر ہلاتی گاڑی سے نکل گئی تھی اس کے نکلتے اک گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے زعیم نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا تھا
______________________________
زعیم گھر آیا تو معمول کے مطابق دستر خوان لگائے اماں اور انوشہ اسی کے انتظار میں تھیں جو اپنی روٹین سے کافی لیٹ آیا تھا اور اب ان دونوں کو سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اماں اور انوشہ نے حیرانگی سے پہلے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر اک دوسرے کو دیکھا تھا
ایسا تو کھبی نہیں ہوا تھا کہ وہ بس سلام کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ جائے لیکن وہ اپنی حیرانگی میں اس کے ہاتھ میں موجود چھوٹا سا تھیلا نہیں دیکھ سکی تھیں زعیم باہر آیا تو دونوں حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھیں
“کیا ہوا آپ دونوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟” زعیم نے ان کے پاس بیٹھتے پوچھا تھا
“بھائی آج آپ نے ہمیشہ کی طرح اپنے ساتھ لگا کے سر نہیں چوما بس سلام کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے” انوشہ نے منہ پھلائے کہا تھا
“ارے میرا بچہ ادھر آؤ ابھی میں اپنے بچے کا سر چوم لیتا ہوں” زعیم نے کہنے کے ساتھ ہی اسے اپنے حصار میں لے کر اس کا سر چوما تھا
“آپ گھر آتے ہی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے” اس نے اک اور شکایت لگائی تھی
“وہ تو میں پیسے رکھنے گیا تھا” اس نے کہا تو اماں اور انوشہ دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا اماں تو جانتی تھیں کے اسے کس سلسلے میں پیسے چاہیے تھے اور وہ سوچ رہی تھیں کہ پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا ہے
“لیکن پتر پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا؟” اماں کی بات سن کے انوشہ نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا تھا
“بس ہو گیا ہے” اس نے انہیں ٹالا تھا
“بھائی کیسے پیسے؟ اور آپ کو کیوں چاہیے ہیں پیسے؟” انوشہ کے سوال پہ دونوں نے اسے دیکھا تھا اسے ابھی اپنی بیماری کے بارے میں نہیں پتہ تھا
“وہ اس دن ہم ڈاکٹر کے پاس گئے تھے نا تو وہ کہہ رہا تھا کہ آپ کہ بہن کو چھوٹی سی بیماری ہے اس لے لیے اک بلکل چھوٹی سی سرجری کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی بس اس کے لیے پیسے چاہیے تھے” اسے بچوں کی طرح بہلاتے زعیم نے کہا تھا
“کونسی بیماری اور بھائی مجھے سرجری نہیں کروانی” اس کے چہرے پہ ڈر واضح تھا
“بیماری چھوٹی سی ہے نا اسے چھوڑو اور میرا بچہ سرجری سے ڈرنا نہیں ہے میں ہوں نا اپنے بچے کے ساتھ” زعیم نے اس کا ڈر دور کرنا چاہا تھا
“لیکن بھائی،،،” اس نے کچھ کہنا چاہا تھا
“کیا تمہیں اپنے بھائی پہ بھروسہ نہیں ہے؟” اس کی بات کاٹ کے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے زعیم نے پوچھا تھا
“نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے” وہ جلدی سے بولی تھی
“تو پھر میرا بچہ اپنے بھائی پہ یقین رکھو کچھ بھی نہیں ہو گا اک بلکل چھوٹی سی سرجری ہو گی لیکن میں اور اماں ہیں نہ اپنے بچے کے ساتھ اور سب سے بڑھ کے اللہ ہے نا اس لیے میرا بچہ ڈرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے” زعیم نے کہا تو انوشہ نے سر ہلا دیا تھا لیکن ڈر اس کے چہرے پہ ابھی بھی موجود تھا
زعیم اماں کی کھوجتی نظریں خود پہ اچھی طرح محسوس کر رہا تھا لیکن وہ حقیقت انہیں بتا نہیں سکتا تھا اس لیے دونوں کا دھیان بٹانے کے لیے اس نے دونوں کو کھانے کی طرف متوجہ کیا تھا
جاری ہے_____________!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *