Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22
رات کا وقت تھا سب اپنے اپنے کمروں میں موجود تھے چودھری حشمت احواد کی تصویر کو لے کر بیٹھے ہوئے تھے اور بس یک ٹک اسے دیکھے جا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ وقاص کے پیچھے چھوڑے گئے جاسوس کی باتیں ان کے دماغ میں گھوم رہی تھیں
“چودھری صاحب آپ کے کہنے کے مطابق میں وقاص صاحب پہ نظر رکھی تھی کہ وہ کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں اس دوران جو مجھ پہ انکشافات ہوئے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں” اس آدمی نے سر جھکائے بتایا تھا
“وقاص صاحب کے ڈیرے پہ اک کمرہ ہے جو ان کے لیے مختص ہے وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اور جہاں تک مجھے شک ہے وہاں شراب ہے اور اس کے علاوہ رات کے اندھیرے میں اک لڑکی کو ڈیرے لایا گیا تھا اور صبح اندھیرہ چھٹنے سے پہلے وہ چلی گئی تھی وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی اور کیوں آئی تھی یہ نہیں پتہ مجھے” اس کی باتیں سن کے چودھری حشمت سمیت زین اور سلیمان بھی حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں تھے
وہ آدمی اک دو اور باتیں بتانے کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ زین اور سلیمان بھڑکے ہوئے تھے وقاص سے باز پرس کرنے کے لیے جنہیں چودھری حشمت نے بمشکل ٹھنڈا کیا تھا وہ وقاص کے سارے کرتوت اس کے ماں باپ کے سامنے کھولنا چاہتے تھے
اب احواد کی تصویر دیکھتے انہیں شدت سے اس کی یاد آ رہی تھی اس نے بارہا کہا تھا کہ اسے وقاص سے شادی نہیں کرنی مگر انہوں نے اس کی اک بھی نہیں سنی تھی اب وہ سوچ رہے تھے اگر احواد یہ قدم نہ اٹھاتی اور وہ اس کی شادی وقاص کے ساتھ کروا دیتے اور اس کے بعد وقاص کی اصلیت کھلتی تو وہ کیا کرتے
پھر احواد سے ان کا دھیان ہٹتا زعیم کی طرف چلا گیا تھا انہوں نے ہمیشہ اسے بیٹا کہا تھا لیکن اب انہیں لگ رہا تھا انہوں نے اسے بس بیٹا سمجھا تھا مانا نہیں تھا اس نے دس سالوں سے ان کی زمینوں کا سارا نظام سنبھالا ہوا تھا اور کھبی اک پیسہ بھی ادھر اُدھر نہیں ہوا تھا مگر پھر کیسے اک لمحے میں ہی اسے بےاعتبار بنا دیا تھا
“کیا سوچ رہے ہیں؟” وہ اپنی سوچوں میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ چودھرائن کب کمرے میں آئی تھیں اب ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھنے پہ وہ چونکے تھے
“کچھ خاص نہیں” انہوں نے نفی میں سر ہلاتے دوبارہ نظریں احواد کی تصویر پہ جما دی تھیں ان کی نظروں کے تعاقب میں چودھرائن نے بھی ان کے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو دیکھا تھا
“نیک بخت آج مجھے تمہاری ساری باتوں میں سچائی نظر آ رہی ہے آج جب وقاص کی حقیقت سامنے آئی تو میں اپنی نظروں میں ہی گر گیا ہم ماں باپ سوچتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں ہم ماں باپ ہیں ان کا برا تو نہیں سوچ سکتے نا لیکن شاید ہم بھول جاتے ہم نے مستقبل میں جھانک کے نہیں دیکھا ہوا اگر بچوں کے فیصلے غلط ہو سکتے ہیں تو بعض اوقات ماں باپ کے بھی غلط ہو سکتے ہیں” تصویر پہ ہی نظریں جمائے وہ بول رہے تھے
“اور زعیم اسے تو میں نے ہمیشہ بیٹا کہا اور ہمیشہ یہی کہا کہ وہ مجھے اپنے بیٹوں سے بھڑ کے ہے لیکن غلط تھا میں میرے دل میں کہی نہ کہی یہ تھا کہ وہ بس ہمارا ملازم ہے اسی لیے میں نے جھٹ اسے چور مان لیا اگر میرے سگے بیٹوں پہ کوئی ایسا الزام لگاتا تو یقیناً میں فٹ سے اس کی بات کی تردید کرتا کہ میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا مگر زعیم کے لیے میں نے یہ نہیں کہا” ان کی آنکھ سے اک آنسو نکلا تھا
“جب ان دونوں نے نکاح کیا تھا تب میں دونوں کو مارنے سے بھی گریز نہ کرتا مگر عزت آڑے گئی تھی اب مجھے سمجھ آیا کہ ہمیں اپنی اولاد سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہوتی ہے زیادہ تر ہم ہی اولاد پہ اپنے فیصلے تھوپتے ہیں تا کہ خاندان جڑے رہیں اس دوران چاہے ہماری اولاد ٹوٹ جائے ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی” وہ بولتے جا رہے تھے چودھرائن نے بھی انہیں نہیں ٹوکا تھا تا کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں
“لیکن اولاد کو بھی تو ایسا نہیں کرنا چاہیے نا اپنی آخری حد تک زور لگانا چاہیے ماں باپ کا دل پسیج ہی جاتا ہے شاید میں بھی مان جاتا لیکن احواد نے تو میرا مان ہی توڑ دیا” اپنی غلطی ماننے کے ساتھ انہوں نے شکوہ بھی کیا تھا
“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ لیکن زیادہ تر ماں باپ کے دل نہیں پسیجتے وہ اپنی پرورش اپنے پیار محبت کا واسطہ دے کر اپنی اولاد کو منا ہی لیتے ہیں” چودھرائن نے نرمی سے کہا تو چودھری حشمت نے کچھ کہے بغیر احواد کی تصویر کو سینے سے لگا لیا تھا
__________________________
بہت زیادہ رونے اور ٹینشن کی وجہ سے اگلے دن احواد کو بخار نے آن گھیرا تھا اس کے رونے پہ زعیم مسلسل کڑھتا رہا تھا بارہا اس کا دل کیا کہ وہ احواد کو ٹوک دے وہ کیوں اس کے لیے رو رہی ہے مگر ہمیشہ کی طرح چپ ہی رہا تھا
زعیم کو لگ رہا تھا کہ وہ فائز کے لیے رو رہی ہے جبکہ وہ اس بات کو لے کر رو رہی تھی جب چودھری حشمت کو اصل بات کا پتہ چلے گا تو اسے کتنی شرمندگی ہو گی جس شخص اور جس زندگی کے لیے اس نے ماں باپ کو چھوڑ دیا وہ دونوں ہی اس کے ہاتھ نہیں آئے تھے
ٹھنڈے پانی کی پٹیوں اور میڈیسن سے بخار کا زور ٹوٹ چکا تھا مگر نقاہت ابھی باقی تھی شام کو زعیم اس کے لیے پرہیزی کھانا لے کر آیا تو احواد آنکھیں موندے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز تھی
“یہ کھانا کھا لیں” زعیم کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ہی زعیم کھانے کی ٹرے تھامے کھڑا تھا
“مجھے کھانا نہیں کھانا مجھے بابا سائیں اور اماں سائیں سے ملنا ہے وہ بھی ابھی” زعیم اس کی بےوقت کی فرمائش پہ حیران ہوا تھا
“یہ آپ کو بیٹھے بیٹھائے وہاں جانے کی کیا سوجی؟ اور ویسے بھی اس گھر کے دروازے ہم پہ بند ہیں” زعیم نے کھانے کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پہ رکھی تھی اور اسے یاد دلایا کہ ان دونوں کا حویلی جانا ممنوع ہے
“میں معافی مانگ لوں گی چاہے ان کے قدموں میں ہی کیوں نہ گرنا پڑے مجھے میں گر لوں گی مگر مجھے بابا سائیں اور سائیں سے ابھی کہ ابھی ہی ملنا ہے” اس کے لہجے میں ضد کا عنصر شامل تھا زعیم حیران ہو رہا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے نارمل تھی اور اب اچانک سے حویلی جانے کی ضد لگا کے بیٹھ گئی تھی
“پہلے تو فائز کے ساتھ جانا تھا اسی لیے یہاں رہ رہی تھیں اب تو یہاں رہنے کا کوئی جواز ہی نہیں بچا تو حویلی جانے کی ضد کریں گی ہی” زعیم کے دماغ میں یہ سوچ آئی تو اس نے لب بھینچے تھے
“آپ کھانا کھا کے میڈیسن لیں پھر لے چلتا ہوں” زعیم کی سنجیدگی سے بھرپور آواز گونجی تھی جسے سن کے احواد نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا کہ کہی جھوٹ تو نہیں بول رہا مگر اس کے چہرے پہ بس سنجیدگی چھائی ہوئی تھی
جس سے وہ کچھ بھی اخذ نہیں کر سکی تھی مگر پھر بھی خاموشی سے سائیڈ ٹیبل سے ٹرے اٹھا کر سامنے کی اور کھانا کھانے لگی کھانے کے بعد زعیم نے اسے میڈیسن دی اور اور ٹرے اٹھا کے خود ہی کچن میں رکھ آیا تھا
انوشہ کے گرنے کے بعد وہ اسے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا اور اماں کو آواز دینا اچھا نہیں لگا تھا اسی لیے وہ خود ٹرے رکھ آیا تھا واپس آ کر اس نے الماری سے چادر نکال کے احواد کو پکڑائی تھی اس دوران احواد بس خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی
پھر اماں کو بتا کے وہ حویلی کے لیے نکل گئے تھے پی جانے کی بجائے زعیم اسے بائیک پہ لے گیا تھا حویلی کے سامنے رکتے دونوں کی دھڑکنیں اک دم تیز ہوئی تھیں زعیم نے دروازہ کھٹکھٹایا تو چوکیدار نے کھولا تھا
پہلے تو اس نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا تھا کیونکہ وہ شادی کے بعد پہلی دفعہ آئے تھے پھر جلد ہی حیرت پہ قابو پاتے اک طرف ہوتے انہیں اندر آنے کا رستہ دیا تھا وہ دونوں اندر گئے تو سبھی برآمدے میں بیٹھے نظر آ گئے تھے
“احواد میری بچی” سب سے پہلے چودھرائن کی نظر ان پہ پڑی تھی اور والہانہ انداز میں ان کی طرف بڑھی تھیں باقی سب نے بھی چونک کے انہیں دیکھا تھا
چودھرائن احواد کو گلے لگا کے رو دی تھیں احواد بھی رو رہی تھی زعیم صحن میں ہی کھڑا ہو گیا تھا اور سر جھکائے پاؤں سے ہلکے ہلکے فرش پہ ٹھوکریں رسید کر رہا تھا چودھری حشمت انہیں دیکھ کے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ان سے الگ ہو کے احواد اپنے بھائیوں کی طرف بڑھی تھی
“زعیم تم کیوں وہاں کھڑے ہو اندر آؤ نا” چودھرائن اسے وہی سر جھکائے کھڑا دیکھ کر نرمی سے بولی تھیں
“میں سمجھا شاید اک چور کے کیے آپ کے گھر میں جگہ نہ ہو اس لیے میں پیچھے ہی رک گیا” زعیم نے سر اٹھا کے اک زخمی مسکراہٹ چہرے پہ لیے کہا تھا
اس نے کوئی طنز نہیں کیا تھا مگر وہ سب شرمندہ ہو گئے تھے سلیمان احواد کو چھوڑ کے اس کی طرف بڑھا تھا اور پیچھے زین بھی جبکہ زعیم خاموشی سے ان دونوں کو اپنی طرف آتے دیکھ رہا تھا انہیں زعیم کی طرف بڑھتے دیکھ کر احواد بھی پریشان ہوئی تھی کہ جانے وہ کیا کرتے
“بھئی غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں نا ہم سے بھی ہو گئی کہ بنا تحقیق کے اتنا بڑا الزام لگا دیا تم پہ ہم شرمندہ ہیں اور معافی بھی مانگ لیں اور تم نے بھی ہماری سب سے قیمتی شے چوری کی ہے لیکن ہمیں منانے کے لیے سوری ابھی تک نہیں بولا” سلیمان کے شرارتی انداز میں کہنے پہ احواد اور زعیم نے حیرانگی سے پہلے اک دوسرے کو دیکھا اور پھر سلیمان کو دیکھا تھا
وقاص کی اصلیت جاننے کے بعد سلیمان کا زعیم کے لیے غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا تھا جیسے بھی تھا زعیم نے ان کی بہن کو وقاص سے بچا ہی لیا تھا نہیں تو وہ اس کی زندگی جہنم بنا دیتا
“اس طرح حیرانگی سے دیکھ کے شرمندہ مت کرو ہمیں پتہ چل چکا ہے وقاص کس قماش کا ہے اور پیسے بھی اسی نے ہی چرائے ہیں” اس کی حیرانگی دیکھتے سلیمان نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تو اک طنزیہ ہنسی اس لے لبوں پہ آئی تھی یعنی انہیں گواہیوں پہ یقین تھا لیکن اس پہ نہیں تھا
“اماں سائیں بابا سائیں؟” اس کے کچھ کہنے سے پہلے احواد کی روہانسی آواز وہاں گونجی تھی
“اپنے کمرے میں گئے ہوں تم دونوں وہی جاؤ شاباش کچھ نہیں کہیں گے وہ” چودھرائن نے انہیں پکارتے ہوئے اندر جانے کا کہا تو وہ دونوں دھڑکتے دل کے ساتھ چودھری حشمت کے کمرے کی طرف بڑھے تھے
وہ دونوں کمرے میں آئے تو چودھری حشمت سر جھکائے بیڈ پہ بیٹھے ہوئے تھے انہیں اس طرح بیٹھے دیکھ کر دونوں کے دل دکھے تھے زعیم تو دروازے کے نزدیک ہی کھڑا ہو گیا جبکہ احواد تقریباً بھاگتے ہوئے ان کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئی تھی ان تینوں کے سوا کوئی کمرے میں نہیں تھا
“بابا سائیں مجھے معاف کر دیں پلیز بابا سائیں میں مانتی ہوں میں آپ کی اچھی بیٹی نہیں ہوں مگر پھر بھی مجھے معاف کر دیں پلیز” ان گھٹنے پہ سر رکھتے احواد نے روتے ہوئے کہا تھا
“نہیں تم معافی مت مانگو معافی تو مجھے مانگنی چاہیے میں نے تم دونوں کے ساتھ غلط کیا ہے تمہاری بات نہ مان کے اور زعیم پہ اعتبار نہ کر کے” چودھری حشمت نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کے سر پہ رکھا تو احواد نے بےیقینی سے سر اٹھا کے انہیں دیکھا تھا اور ان کی آنکھوں میں موجود آنسو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی تھی
“میں پہلے سوچتا تھا اگر تم دونوں نے شادی کرنی بھی ہے تو مجھے بتاتے میں کچھ دیر ناراض رہتا مگر پھر مان جاتا بس تم لوگ میرا مان نہ توڑتے مگر اب اس بات کا احساس ہوا میں تب بھی نہ مانتا اور شاید غصے میں تمہارا نکاح وقاص سے کروا دیتا” چودھری حشمت کے معافی مانگنے پہ وہ دونوں تڑپ اٹھے تھے
“نہیں بابا سائیں آپ معافی مت مانگیں اور زعیم کا تو کوئی قصور بھی نہیں ہے ان سب میں بس میں اپنے سواد کے لیے بےحس ہو گئی تھی جو اپنے مان باپ کی بھی پرواہ نہیں کی اور اسی بات کی سزا ملی ہے مجھے” اس کی بات پہ چودھری حشمت نے چونک کے اسے دیکھا تھا
“احواد نہیں” زعیم نے سختی سے اسے کچھ بھی بتانے سے منع کیا تھا مگر احواد نے اس کی بات کو نظرانداز کیا تھا کیونکہ بقول اس کے آج تک جو بھی کیا تھا زعیم نے کیا تھا اسے بھی اس کے احسانوں کا کچھ بدلنا چکانا چاہیے اس لیے وہ اس کی پوزیشن کلئیر کرنا چاہتی تھی
“میں اور زعیم اک دوسرے کو پسند نہیں کرتے بلکہ میں اپنے کلاس فیلو کو پسند کرتی تھی میں نے بہت دفعہ آپ سے کہا تھا کہ مجھے وقاص سے شادی نہیں کرنی مگر آپ نہیں مانے تھے تبھی اک دن میں نے زعیم کو کسی کے ساتھ بات کرتے سنا تھا کہ اسے اپنی بہن کے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے تو میرے دماغ میں آئیڈیا آیا کہ زعیم کو پیسے میں دیتی ہوں اور بدلے وہ مجھ سے نکاح کرے گا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ آپ اسے کچھ نہیں کہیں گے جبکہ فائز کو آپ مارنے سے بھی گریز نہ کرتے نکاح اس شرط پہ ہوا تھا کہ میں اسے پیسوں دوں گی بدلے میں وہ مجھ سے نکاح کر کے کچھ عرصہ مجھے ساتھ رکھے گا” احواد سانس لینے کے لیے رکی تھی جبکہ چودھری حشمت کی بےیقین نظریں اس پہ جمی تھیں
“کیونکہ اس کی جاب نہیں تھی اور تب تک میں زعیم کے ساتھ ہی رہتی لیکن کل وہ مجھے چھوڑ گیا یہ کہہ کے اس کے باپ کے مرنے کے بعد ساری ذمہ داری میری ہے اور میں پہلے باہر جا کر اپنے پیروں پہ کھڑا ہوں گا پھر اپنی بہنوں کی شادی کروں گا پھر اپنا سوچوں گا اور تم اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ اور یہی ہونا چاہیے تھا میرے ساتھ کیونکہ ماں باپ کا دل دکھا کے کھبی کوئی خوش نہیں رہ سکتا” اپنی بات کے اختتام پہ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی
“احواد کا تو مجھے پتہ تھا کہ وہ نادان ہے لیکن زعیم مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی اگر تم مجھے سے مانگتے پیسے میں نے تمہیں نہیں دینے تھے؟” ان کے سوال پہ زعیم کا سر جھکا تھا
“اور تم احواد میں تمہیں میں کیا کہوں غلط بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ کہی کہ کہی ہماری بھی غلطی ہے تمہیں دنیا کے سرد و گرم سے بچانے کے لیے ہم نے تم پہ کچھ زیادہ ہی سختی کر دی اس بات سے انجان کہ یہی چیز تمہیں ہم سے دور کر دے گی اور تم یہاں سے جانے کے لیے ہر حد پار کر جاؤ گی” چودھری حشمت کے تھکے تھکے لہجے میں کہنے پہ احواد کے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا تھا
“اچھا چلو اب رونا بند کرو جو ہونا تھا ہو گیا اسے بار بار دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اور ہوتا وہی ہے جو اس رب کی ذات چاہتی تھی تم دونوں کا ملنا ایسے ہی لکھا تھا اور ہمارے سامنے وقاص کی اصلیت بھی ایسے ہی آنی تھی اس لیے کچھ بھی فضول سوچ کے تم لوگ خود کو دکھی مت کرو” احواد کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے انہوں نے نرمی سے کہا تھا
“سائیں میں چاہتا ہوں یہ بات ہمارے درمیان رہے نہ آپ کے گھر والوں کو پتہ چلے نہ میرے گھر والوں کو” زعیم نے درخواست کی تو چودھری حشمت نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا پھر جھک کے احواد کے بال چومے تھے
“آپ دونوں باتیں کریں میں باہر ہوں” زعیم انہیں اکیلا چھوڑتے باہر نکلا تھا
“بابا سائیں مجھے زعیم کے ساتھ نہیں رہنا” دروازہ بند کر کے وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اندر سے آتی احواد کی آواز پہ اس کے قدم تھمے تھے یقیناً زعیم کی غیر موجودگی کا یقین ہوتے ہی اس نے یہ کہا تھا
“دماغ درست ہے تمہارا احواد” چودھری حشمت کی غصے سے بھرپور آواز گونجی تھی زعیم کے چہرے پہ کئی رنگ آ جا رہے تھے اس سے پہلے کے اس کی ذات مزید ارزاں ہوتی وہ بغیر کچھ سنے اور آگے ب٤ھ گیا تھا اور پھر وہاں رکنے کی بجائے بائیک بھگا کے لے گیا تھا
“درست ہے دماغ بابا سائیں مگر اس کے پہلے ہی بہت سے احسانات ہیں مجھ پہ اور میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ ہمیشہ میرے نام کا ڈھول اپنے گلے میں ڈال کے بجائے اس کے اپنے بھی تو کوئی ارمان ہوں گے نا” بولتے ہوئے اس کا لہجہ بلکل پست تھا
“اس بات کا پہلے تو نہیں خیال آیا” چودھری حشمت نے کہا تو گہرا سانس بھرتے اس نے آنکھیں موندتے سر دوبارہ ان کے گھٹنوں پہ رکھا تھا
“اسی بات کا تو افسوس ہے میں نے اپنی خواہشات کی تکمیل میں اس شخص کے ساتھ بہت ناانصافی کی ہے وہ بہت اچھا انسان ہے میں اس کے لائق نہیں ہوں اس کے لیے تو کوئی بلکل اس جیسی ہونی چاہیے” بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے بےشمار آنسو ٹوٹ کے گرے تھے
“ہاں بلکل وہ بہت نایاب ہے مگر جیسی باتیں تم نے اب کی ہیں اس کے سامنے نہ کر دینا یقیناً اللہ تم دونوں کی جوڑی ہی بنائی ہے اسی لیے تو نکاح کے اسباب بنائے اس نے اور اس لڑکے کا بھی تم لوگوں کی زندگیوں سے نکل جانا اسی سلسلے کی کڑی ہے اس لیے ساری باتیں بھلا کے اک نئی شروعات کرو” چودھری حشمت نے اس کا سر تھپتھپایا تو اس نے بس سر ہلایا تھا
“زعیم کو کہنا کے کل صبح تمہیں لے کر آئے وقاص کے کرتوت کھولنے ہیں اور تم دونوں اس کی گھٹیا حرکت کے گواہ ہو اس لیے تم لوگوں کا ہونا بھی ضروری ہے” چودھری حشمت نے اسے کل زعیم کے ساتھ آنے کی تاکید تھی
“اچھا چلو اب باقی سب کے ساتھ بھی تھوڑی دیر بیٹھ لو پھر تم لوگوں کو گھر بھی جانا ہو گا” چودھری حشمت نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
پھر وہ دونوں باہر آئے تو انہیں زعیم کہی نہیں دکھا تھا پوچھنے پہ پتہ چلا کہ وہ جا چکا ہے احواد مزید کچھ دیر ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی تھی پھر چودھری حشمت کے کہنے پہ زین اسے گھر چھوڑنے گیا تھا چودھرائن تو دوبارہ اپنی بیٹی کو حویلی میں چلتے پھرتے دیکھ کر اور دونوں باپ بیٹی کے درمیان اب کچھ ٹھیک ہونے پہ بےتحاشا خوش تھیں
پورے رستے زین اسے ستاتا ہوا آیا تھا گھر پہنچ کے دروازہ بجانے پہ زعیم نے ہی دروازہ کھولا تھا اور زین کے ساتھ احواد کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی جس پہ جلد قابو پاتے اس سے بلکل لاتعلق ہوا تھا اور زین کو زبردستی اندر بلایا تھا جو گیٹ سے ہی باہر جا رہا تھا
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد زین واپس چلا گیا تھا زعیم نے انوشہ کو میڈیسن دے کر اسے سلایا تھا اور اماں کو بھی سونے کی تاکید کرتے وہ اپنے کمرے میں آیا تھا جہاں آج اسے کا آنے کا بلکل دل نہیں کر رہا تھا وہ کمرے میں آیا تو احواد سونے کے لیے بیڈ پہ تکیہ سیٹ کر رہی تھی
“آپ صوفے پہ سوئیں گی آج سے کیونکہ اب میں مزید صوفے پہ نہیں سو سکتا” زعیم کی آواز پہ اس کا تکیہ درست کرتا ہاتھ تھما تھا اور اس نے گردن گھما کے زعیم کو دیکھا تھا جس کے چہرے پہ خطرناک حد تک سنجیدگی چھائی ہوئی تھی
احواد کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا اس نے کھبی اسے صوفے پہ سونے کا نہیں کہا تھا آج تو اس کی طبعیت بھی خراب تھی مگر پھر بھی وہ اسے صوفے پہ جانے کا بول رہا تھا وہ بھی خاموشی سے تکیہ اٹھاتی صوفے پہ آئی تھی زعیم بغیر کچھ کہے بیڈ کی طرف بڑھا تھا
“بابا سائیں کہہ رہے تھے کہ کل ہم دونوں نے حویلی آنا ہے تا کہ وقاص کو ایکسپوز کیا جا سکے اور اگر وہ مکر جائے تو ہم اسے اس کی اس رات والی حرکت یاد دلائیں” احواد نے چودھری حشمت کا پیغام اسے دیا تھا
“چلے جائیں گے” مختصر جواب دیتے پہلے سوئچ بورڈ کے پاس آتے لائٹ آف کی تھی پھر بیڈ پہ لیٹتے سر پہ چادر تان لی تھی اس کے ہر انداز سے سرد مہری صاف عیاں تھی
“یہ ایسے بیہو کیوں کر رہا ہے؟ کہی اس نے میری بات تو نہیں سن لی” احواد نے خود ہی سوال کیا اور خود ہی جواب دیا مگر یہ جواب اس کو پریشان کر گیا تھا اگر ایسا ہوا ہو گا تو بہت برا ہو گا
جس کے لیے اتنا کچھ کیا اگر اس کے منہ سے ہی اپنے لیے سنو کے وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو کتنی انسلٹ فیل ہوئی ہو گی احواد شدید ٹینشن کا شکار ہوئی تھی اور انہی سب سوچوں میں اس کی آنکھ لگ گئی تھی
_________________________
اگلے ہی دن چودھری حشمت نے وقاص سمیت اس کے سارے گھر والوں کو اپنے گھر بلایا تھا وہ سارے چودھری حشمت کے یوں اچانک بلانے پہ حیران تھے اس وقت برآمدے میں چودھری حشمت اور چودھری شجاعت دونوں کی ساری فیملی بیٹھی ہوئی تھی احواد اور زعیم بھی تھے مگر وہ برآمدے کی بجائے روم میں تھے
“بھائی صاحب آپ نے بتایا نہیں آپ نے ہمیں کیوں بلایا ہے؟”اپنے سارے گھر والوں کے دلوں میں میں مچلتا سوال چودھری شجاعت نے پوچھ ہی لیا تھا
“تمہیں تمہارے بیٹے کے کرتوت بتانے کے لیے بلایا ہے یہاں” چودھری حشمت نے اطمینان سے کہتے وقاص کو بےچینیاں سونپی تھی
“بھائی صاحب اگر آپ کی اولاد نے آپ کے سر میں خاک ڈالی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کی اولاد آپ کی اولاد جیسی ہے” بیگم شجاعت تو بھڑک اٹھی تھیں
“میری اولاد نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے میرا سر جھکے اک نے بےسہارا لڑکی کو سہارا دیا ہے اور بیٹی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے پہلے دکھ ہوا تھا لیکن وقاص کی اصلیت جان لینے کے بعد تو وہ دکھ بھی ختم ہو گیا ہے اب تو میں بھی اس کے فیصلے سے مطمئن ہوں” چودھری حشمت نے انہیں حیرت کا اک اور جھٹکا دیا تھا سب سے بری حالت تو وقاص کی تھی لیکن کنٹرول کر کے بیٹھا ہوا تھا تا کہ اس کی اندرونی حالت کسی پہ عیاں نہ ہو
“تایا سائیں آپ نے اپنی بیٹی اور داماد کو معاف ہی کرنا ہے تو ویسے ہی کر دیں یوں مجھے سب کے سامنے مشکوک تو مت بنائیں” وقاص نے معصومیت کا پتلہ بنتے ہوئے کہا تھا اس کی اس ایکٹنگ پہ سلیمان اور زین کا خون کھولا تھا مگر چودھری حشمت کی وجہ سے چپ ہو گئے تھے
“اچھا میں مشکوک بنا رہا ہوں تو کیا تم نے میرے لاکر میں سے پیسے نہیں چرائے؟ کیا تم نے رات کے اندھیرے میں زعیم اور احواد پہ حملہ نہیں کیا؟ کیا رات کو تمہارے ڈیرے پہ لڑکیاں نہیں آتیں؟ کیا ڈیرے میں موجود اس کمرے میں شراب نہیں ہے جس میں تمہارے علاوہ کوئی نہیں جا سکتا؟” چودھری حشمت کے سوالوں پہ وقاص کا رنگ اڑا تھا جو کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہا تھا
“وقاص یہ بھائی صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟”چودھری حشمت نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھتے پوچھا تھا
“نہیں بابا سائیں تایا سائیں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے” وقاص نے اپنے ماتھے پہ چمکتا پسینا صاف کیا تھا بیگم شجاعت ان سب کو کچا چبا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں
“اچھا غلط فہمی ہوئی ہے زین تم اس آدمی کو لے کر آؤ اور سلیمان تم جاؤ احواد اور زعیم کو بلاؤ” چودھری حشمت نے دونوں بھائیوں کو حکم دیا تو وہ دونوں سر ہلاتے اٹھ کھڑے ہوئے تھے زین باہر چلا گیا جبکہ سلیمان اندر کی طرف بڑھ گیا تھا تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس کے ساتھ احواد اور زعیم بھی تھے پنکھے کے نیچے بیٹھنے کے باوجود وقاص پسینے میں نہایا ہوا تھا
“احواد بیٹا زرا اپنے تایا سائیں کو بتانا کہ اس رات کیا ہوا تھا” وقاص پہ نظریں جمائے انہوں نے احواد کو کہا تھا
“کچھ دن پہلے کا ہی واقعہ ہے یہ زعیم کی بہن طبعیت خراب تھی ہم اسے لے کر ہسپتال گئے تھے اس کی بہن کو ایڈمٹ کر لیا گیا تھا اس لیے رات کو ہم دونوں ہسپتال سے واپس آ رہے تھے تو یہ اپنے آدمیوں کے ساتھ گاؤں کے داخلی رستے پہ کھڑا تھا اور اس سے پہلے اس نے مجھے میسج بھی کیا تھا کہ تمہارے لیے اک سرپرائز ہے یہ دیکھیں” احواد نے اپنے موبائل سے اس کا میسج نکال کے سب کے سامنے کیا تھا
“اس کا ارادہ اپنے ہی خاندان کی عزت کو تار تار کرنا تھا مگر زعیم نے اس کا ارادہ ملیا میٹ کرتے گاڑی ریورس کی تھی اور اس نے ہمارا پیچھا کیا تھا ہم نے بمشکل چھپ کے اس سے اپنی عزت اور جان بچائی تھی” اس نے اک نفرت بھری نگاہ وقاص پہ ڈالی تھی چودھری شجاعت تو صدمے کی حالت میں یہ سب سن رہے تھے باقی سب کی بھی حالت ان سے مختلف نہ تھی اتنے میں زین بھی اک آدمی کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا
“بتاؤ انہیں کہ میرے لاکر سے دو لاکھ کس نے چرائے ہیں؟” چودھری حشمت نے اس آدمی کو اچ بتانے کا کہا تھا
“مجھے وقاص صاحب نے پیسے دیے تھے کہ میں چودھری حشمت اور زعیم کی پل پل کی خبر انہیں دوں اور میں نے ایسا ہی کیا پھر اک دن زعیم طبیعت خرابی کی وجہ سے گھر چلا گیا تو میں نے وقاص صاحب کو کال کی انہوں نے مجھے چودھری حشمت کو بیہوشی کی دوا پلانے کا کہا میں نے ایسا ہی کیا تھا پھر جب وہ ڈیرے آئے تو ان کے آنے کے کچھ دیر بعد ہی چودھری صاحب بیہوش ہو گئے تھے پھر میں اور وقاص صاحب انہیں پکڑ کے لاکر تک لے گئے تھے اور ان کے انگوٹھے سے لاک کھول کے اس میں موجود دو لاکھ نکالا اور پھر چودھری صاحب کو حویلی لے آئے تھے یہ سب انہوں نے اس لیے کیا تھا تا کہ زعیم چودھری صاحب کی نظروں سے گر سکے” اس آدمی نے سر جھکائے ساری بات ان کے گوش گزار دی تھی اس کے بات مکمل کرتے چودھری حشمت نے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا فلحال اسے کچھ عرصے کے لیے روپوش کیا جا رہا تھا تا کہ وقاص اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے
“یہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے یقیناً تایا سائیں نے اسے پیسے دے کر یہ سب کرنے کا بولا ہے” وقاص چیخا تھا
“ٹھیک ہے یہ ثبوت تھوڑے ہیں تو چلو ڈیرے جا کر اس کمرے کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہاں کیا ہے پھر دیکھتا ہوں میں تم کتنے ثبوت جھٹلاتے ہو” چودھری حشمت اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ساتھ ہی چودھری شجاعت کو بھی اٹھنے کا کہا تھا اور وقاص کو لیے وہ ڈیرے چلے گئے تھے اس دوران اسے اتنا بھی موقع نہیں ملا کے وہ اپنے آدمی کو کال کر کے وہ سب ہٹانے کا بولتا
وہ سب ڈیرے پہنچے تو وہاں موجود تمام مزارعوں نے انہیں حیرت سے دیکھا مگر اپنے کام سے کام رکھا تھا ان کے معاملات میں وہ کیسے بول سکتے تھے
چودھری شجاعت نے وقاص کے آدمی کو دروازہ کھولنے کا حکم دیا تھا جسے وہ رد بھی نہیں کر سکتا تھا اس لیے بےبس نظروں سے اسے دیکھتے دروازہ کھول دیا تھا چودھری حشمت اور چودھری شجاعت اندر داخل ہوئے تو کمرے میں موجود دیوار گیر الماریوں میں شراب کی بوتلیں پڑی ہوئی تھیں
دیواروں پہ کچھ عریاں پوسٹرز چسپاں تھے چودھری شجاعت گنگ سے سب کچھ دیکھ رہے تھت وقاص نے یہ کہہ کے کمرہ ہمیشہ بند رکھا تھا کہ اکثر اس کے یار دوست آتے رہتے ہیں تو وہ انہیں لے کر حویلی تو جا نہیں سکتا اس لیے یہاں اک روم بنایا تھا اور وہ ڈسٹ سے گندہ نہ ہو جائے اس لیے کمرہ بند رکھا جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ بھی ہو گا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے
چودھری شجاعت نے غصے سے بےقابو ہوتے وقاص کے چہرے پہ اک تھپڑ جڑا تھا اور غصے سے باہر نکل گئے تھے وقاص نے اک غصے بھری نظر چودھری حشمت پہ ڈالی اور ان کے پیچھے نکل گیا تھا ان دونوں کے نکلتے چودھری حشمت بھی باہر آ گئے تھے اور پھر دوبارہ حویلی واپس گئے تھے
“یہ سب کیوں کیا تم نے وقاص؟” حویلی پہنچتے ہی چودھری شجاعت سراپا سوال بنے کھڑی تھے
“آپ کی وجہ سے آپ کے ہمیشہ مجھے نکما نکارہ سمجھا آپ کو تایا کے بیٹے اور وقار ہی مجھ سے قابل لگتے تھے آپ ہمیشہ میرا موازنہ دوسروں سے کرتے تھے تبھی میں نے غصے میں سوچا کہ برا تو آپ لوگ مجھے ویسے ہی سمجھتے ہیں تو اب میں اصل میں آپ کو برا بن کے دکھاؤ گا اک دن میرا دوست مجھے کوٹھے پہ لے گیا تبھی پہلی دفعہ میں نے شراب اور شباب کا نشہ کیا اور تب سے اب تک یہ دونوں چیزیں میرے ساتھ چل رہی ہیں” اس نے چودھری شجاعت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بغیر کسی خوف کے کہا تھا جبکہ چودھری شجاعت دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
“میں سوچتا تھا کہ میں اپنے سارے بدلے ان کی بیٹی کے ذریعے لوں گا مگر یہاں یہ کمی کمین باذی لے گیا اور میرے سارے ارادوں پہ پانی پھیرتے ان کی بیٹی سے نکاح کر لیا اور یہ جو ہر وقت غیرت کا پرچار کرتے رہتے تھے انہوں نے بھی بغیر اسے کوئی سزا دیے اس کمی کمین کے ساتھ رخصت کر دیا” اس نے چودھری حشمت اور زعیم کو نفرت بھری نظروں سے دیکھا تھا
“تبھی میں نے اسے سب کی نظروں میں گرانے کے لیے پیسے چوری کیے اور اسی رات ان دونوں پہ حملہ کیا میں نے اچھی طرح سبق سکھاتا مگر یہ دونوں میرے ہاتھ سے بچ نکلے مگر کب تک اک نہ اک دن یہ میرے ہاتھ ضرور آئیں تب اپنا ہر بدلہ لوں گا” اپنی ساری نفرت ان پہ انڈیلتے وقاص وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ باقی سب اپنی اپنی جگہ ساکت کھڑے تھے
جاری ہے____________!!
