Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12
احواد کو کہنے کو تو کہہ دیا تھا وقاص نے کہ وہ کر لے گا بات لیکن اس دن کے بعد اسے کوئی موقع ہی نہیں ملا تھا بات کرنے کا سب تیاریوں میں مصروف تھے لیکن اس سے پہلے کہ چودھری حشمت صاحب چودھری شجاعت کے کان میں یہ بات ڈالتے اس سے پہلے وقاص نے ان تک پہنچنا تھا
کیونکہ بقول اس کے اب عزت کا سوال ہے ولیمے میں بس دو چار دن رہ گئے تھے اس لیے وقاص آج وقت نکال کے ڈیرے پہ آیا تھا تا کہ چودھری حشمت سے بات کر سکے اور کیسے بھی کر کے انہیں منائے وہ ڈیرے آیا تو سامنے رجسٹر رکھے زعیم اور چودھری حشمت کچھ ڈسکس کر رہے تھے
“السلام علیکم” وقاص نے ان کے قریب جاتے سلام کیا تو دونوں نے چونک کے اسے دیکھا تھا
“وعلیکم السلام آؤ وقاص آؤ آج کیسے یاد آ گئی اپنے تایا کی؟ ورنہ تم نے کھبی ادھر منہ بھی نہیں کیا کہ کہیں کوئی کام ہی نہ کہہ دیں تمہیں” چودھری حشمت نے سلام کا جواب دیتے ساتھ ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا
“وہ بس تایا سائیں تھوڑا مصروف تھا” اس نے کھسیاتے ہوئے کہا تو چودھری حشمت نے بس سر ہلایا تھا
“تایا سائیں مجھے اک ضروری بات کرنی ہے آپ سے” وقاص نے انہیں کہتے اک نظر زعیم پہ ڈالی تھی جس کا مطلب تھا کہ تم یہاں سے جاؤ
“سائیں میں بعد میں آ جاؤں” انہیں کہہ کے زعیم رجسٹر اٹھا کے وہاں سے چلا گیا تھا
“ہاں بولو برخوردار کیا بات ہے؟” زعیم کے جاتے چودھری حشمت نے اس سے پوچھا تھا
“وہ تایا سائیں میں نے سنا ہے کہ سلیمان کے ولیمے پہ آپ میرا اور احواد کا نکاح کروانا چاہتے ہیں” اتنی بات بول کے وقاص چپ کر گیا تھا جبکہ چودھری حشمت تھوڑا چونکے تھے کیونکہ انہوں نے یہ بات ابھی تک اپنے بھائی سے نہیں کی تھی تو وقاص کو کیسے پتہ چلا تھا
“کیوں تمہیں کوئی اعتراض ہے؟” گہرا سانس بھرتے انہوں نے پوچھا تھا
“نہیں مجھے اعتراض تو کوئی نہیں ہے لیکن احواد کے بھائی کی شادی ہے تو وہ اس طرح وہ اس کی شادی سے اچھی طرح لطف اندوز نہیں ہو سکے گی اس لیے آپ سلیمان کے ولیمے کے بعد رکھ لیجیے گا ہمارا نکاح” وقاص نے جھجھکتے ہوئے کہا تھا جس پہ اک دفعہ پھر چودھری حشمت چونکے تھے
“تمہیں احواد نے کہا ہے مجھ سے بات کرنے کے لیے؟” اصل بات کو سمجھتے چودھری حشمت نے پوچھا تھا ان کے اس قدر درست اندازے پہ وقاص کچھ لمحے خاموش رہا تھا
“تو اس میں ہرج ہی کیا ہے تایا سائیں دلہن بن کے بیٹھ کے وہ اپنے بھائی کی شادی سے لطف اندوز تو نہیں نہ ہو سکتی تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس کے ولیمے کے بعد رکھ لیں نکاح” وقاص ہر حال میں انہیں منانا چاہتا تھا یہ جانے بغیر کے وہ خود اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار رہا ہے
“چلو دیکھتے ہیں” انہیں نے ہنکارا بھرتے کہا تھا
“نہیں تایا سائیں بس دیکھنا نہیں عمل بھی کرنا ہے میری عزت کا سوال ہے میں اسے کہا تھا کہ میں تایا سائیں کو منا لوں گا” وقاص نے بےچاری سی شکل بناتے انہیں کہا تھا جس پہ چودھری حشمت کچھ دیر اسے دیکھتے رہے تھے
“وہ بات میں ویسے ہی احواد سے کہی تھی میرا اس کی پڑھائی مکمل ہونے تک اس کی شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے” چودھری حشمت کی سنجیدگی سے کہی بات پہ وقاص کھسیاہٹ کا شکار ہوا تھا اور ساتھ ہی احواد کو بھی کوسا تھا
“جی تایا سائیں” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا اور بیچارہ کہہ بھی کیا سکتا تھا پھر مزید وہ وہاں نہ رہا بلکہ چودھری حشمت سے اجازت لے کر چلا گیا تھا
چودھری حشمت کافی دیر اس جگہ کو دیکھتے رہے تھے جہاں سے وہ گزرا تھا انہیں امید نہیں تھی کہ احواد وقاص سے اس بارے میں کوئی بات کرے گی پھر اپنا سر جھٹکتے انہوں نے زعیم کو بلایا تھا اور دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو گئے تھے
شام کو وہ گھر آئے تو احواد انہیں صحن میں ہی مل گئی تھی کانوں میں ائیر پوڈز لگائے میوزک انجوائے کرتے ادھر سے اُدھر مارچ کر رہی تھی حشمت صاحب اندر جانے کی بجائے اس کی طرف بڑھے تھے
احواد اپنا چکر مکمل کر کے واپس مڑی تو سامنے کھڑے حشمت صاحب کو دیکھ کے جلدی سے میوزک آف کیا اور ائیر پوڈز کانوں سے نکالے تھا اور مصنوعی سا مسکرا کے انہیں دیکھا تھا
“تم نے وقاص کو بھیجا تھا میرے پاس یہ کہنے کے لیے کہ ولیمے پہ تم لوگوں کا نکاح نہ کروں میں؟” چودھری حشمت نے بغیر کسی لگی لپٹی کے پوچھا تھا ان کے سوال پہ احواد چونکی تھی
“یعنی پہنچ ہی گیا وہ نمونہ بابا سائیں لے کے پاس” وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی تھی
“وہ بابا سائیں میں اسے کچھ کہنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن اس دن میں یہاں بیٹھی رو رہی تھی وہ آیا تھا اس نے پوچھا تو میں نے بتا دیا مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ آپ کے پاس چلا جائے گا” احواد نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا تھا
“باپ ہوں تمہارا میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں اس لیے زیادہ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہے” کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھنے کے بعد چودھری حشمت نے سنجیدگی سے کہا اور اندر کی طرف بڑھ گئے تھے
“اوہو بابا سائیں نے بتایا تو ہے نہیں کہ کیا فیصلہ کیا ہے؟ چلو خیر ابھی دو تین دن ہیں خود ہی پتہ چل جائے گا” خود ہی سوال کرتے اور خود ہی اس کا جواب دیتے احواد بھی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی
____________________________
باقی کے دو تین دن بہت تیزی سے گزرے تھے اور ولیمے کے دن بھی آن پہنچا تھا احواد نے چودھرائن سے پوچھا تھا نکاح کا ہے یا نہیں اور ان کا جواب نفی میں سن کے اسے تھوڑا سکون حاصل ہوا تھا لیکن جب سے اس نے نکاح کیا تھا تب سے فائز نے اپنے ساتھ ساتھ اس کا بھی سکون برباد کیا ہوا تھا
پہلے نکاح کے کچھ دنوں بعد تو وہ یونی گئی نہیں تھی اور پھر جب جانا شروع کیا تو فائز کی زعیم زعیم کی رٹ سے وہ تنگ آ گئی تھی ناجانے وہ کن تحفظات کا شکار تھا شاید نہیں یقیناً وہ رقابت کی آگ میں جل رہا تھا بےشک نکاح کنٹریکٹ پہ ہوا تھا لیکن زعیم احواد پہ پورا حق رہتا تھا اور یہی چیز فائز کو کھٹکتی اس لیے اپنے ساتھ اس نے احواد کو بھی تنگ کر کے رکھا ہوا تھا
ولیمے کا انتظام گاؤں کے باہر پنڈال میں کیا گیا تھا اس کام کے لیے شہر سے ویڈنگ پلینرز کا بلایا گیا تھا عورتوں اور مردوں کے بیٹھنے کا انتطام الگ الگ کیا گیا تھا چودھری حشمت کے بیٹے کا ولیمہ تھا اس لیے پورے گاؤں کو مدعو کیا گیا تھا اس لیے سب خوش نظر آنے کے ساتھ ساتھ چودھری حشمت کی تعریفوں کے پل بھی باندھ رہے تھے
بیوٹیشن کو بھی گھر بلایا گیا تھا جس نے دلہن سمیت سب کو تیار کیا تھا غزل نے پنک شرارہ زیب تن کیا ہوا تھا جس کی پنک ہی کرتی پہ سکن کلر سے دیدہ زیب کام ہوا تھا پنک سادہ دوپٹہ جس کے اطراف سکن کلر کا گوٹہ لگایا گیا تھا
احواد کا ارادہ زعیم سے ساری باتیں کلئیر کرنے کا تھا اس لیے وہ چاہتی تھی کہ وہ پنڈال تک زعیم کے ساتھ ہی جائے تا کہ وہ اس سے ساری بات کلئیر کر لے اور وہ جلد سے جلد بابا سائیں کو یہ ساری بات بتائے اور پھر وہ جلد ہی فائز کے ساتھ چلی جائے اور اس کی یہ روز کی چک چک تو بند ہو
اسی مقصد لے لیے وہ جان بوجھ کے آہستہ آہستہ تیار ہو رہی تھی کھبی کوئی بہانہ کر رہی تھی تو کھبی کوئی زین چودھری حشمت اور چودھرائن پہلے ہی پنڈال جا چکے تھے کیونکہ انہیں انتظامات بھی دیکھنے تھے اور مہمانوں کو بھی ویلکم کرنا تھا اور سلیمان خود دلہا تھا اس لیے اسے ان کی کوئی اتنی خاص ٹینشن نہیں تھی
اس کی اس ٹال مٹول میں بالآخر سب چلے گئے تھے اور وہ اکیلی ہی حویلی میں رہ گئی تھی اپنے پلان کے مطابق انتہائی معصوم بنتے اس نے چودھری حشمت کو کال کی کہ سب اسے چھوڑ کے خود چلے گئے ہیں اور وہ اکیلی ہے حویلی میں اس کی توقع کے عین مطابق چودھری صاحب نے اسے لینے زعیم کو ہی بھیجا تھا
ہارن کی آواز سنتے وہ جلدی سے باہر آئے تھی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے زعیم کی نظریں کچھ پل کے لیے اس پہ ٹھہری تھیں ریڈ اور بلیک کنٹراس کی فراک جو بلکل سادھی تھی بس گلے پہ تھوڑا سا کام ہوا تھا پہنے سر پہ آج چادر کی بجائے ریڈ اور بلیک دوپٹہ تھا میک اپ اور جیولری میں وہ معمول سے ہٹ کے بہت پیاری لگ رہی تھی
اس کے گاڑی کے نزدیک آتے ہی زعیم نے بمشکل اس پر سے اپنی نگاہیں ہٹائی تھیں کیونکہ وہ اچھی طرح اپنی اوقات جانتا تھا اس لیے اپنے دل میں وہ کسی خوش فہمی کو پالنا نہیں چاہتا تھا احواد کے بیٹھتے اس نے تیزی سے گاڑی آگے بڑھائی تھی
“آہستہ چلاؤ گاڑی کوئی پیچھے نہیں لگا ہوا مجھے تم سے بات کرنی ہے” اس کے گاڑی بگھانے پہ احواد نے اسے گھوری سے نوازا تھا
“آپ کی باتیں تو کھبی ختم ہوں گی نہیں لیکن مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں اس لیے میں اپنا وقت یہاں برباد نہیں کر سکتا” زعیم نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا تھا احواد نے اپنی آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھا تھا
“میں دیکھ رہی ہوں جب سے نکاح ہوا ہے تم کچھ زیادہ ہی بولنے لگ گئے ہو اگر کسی خوش فہمی میں ہو تو اسے اپنے دل سے نکال دو یہی بہتر ہے تمہارے لیے” احواد نے دانت پیستے کہا تھا
“مجھے اپنی اوقات اچھی طرح معلوم ہے اس لیے میں اپنے دل میں کسی خوش فہمی یا غلط فہمی کو غلطی سے بھی جگہ نہیں دوں گا” بات مکمل کرتے زعیم کے لبوں پہ اک استہزائیہ مسکان بکھری تھی
“مجھے تمہارا لیکچر نہیں سننا بس اتنا بتانا ہے کہ یہ ولیمے کے فوراً بعد تم یہ نکاح والی بات بابا سائیں کو بتاؤ گے تا کہ میں بھی آگے کا کوئی لائحہ عمل طے کر سکوں” احواد کی بات پہ زعیم نے چونک کے اسے دیکھا تھا یعنی اس کے دماغ میں پھر سے کوئی کیڑا کلبلانے لگا تھا
“اگر ملکہ عالیہ کا حکم ہو تو ابھی ہی نہ بتا دوں جا کر” زعیم نے طنز کیا تھا روز کی اک ہی بات سن سن کے وہ تنگ آ گیا تھا
“اس سے بہتر کیا ہو گا” اس نے لاپرواہی سے کہتے کندھے اچکائے تھے اسی وقت زعیم نے پنڈال کے سامنے گاڑی روکی تھی اور بولا کچھ نہیں تھا
“یہ جو تم نکاح کے بعد کچھ زیادہ ہی چوڑے ہو گئے ہو نا بس کچھ دن اور اس کے بعد پھر سے اپنی اوقات میں آؤ گے بلکہ اس سے بھی جاؤ گے” اس کے جواب نہ دینے پہ اسے دھمکی دیتے گاڑی سے اتر کے زوردار آواز میں دروازہ بند کرتے اندر چلی گئی تھی اس کے جانے کے بعد زعیم نے بھی گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکایا تھا
“مجھے سائیں کی نظروں میں گرا کے اچھا نہیں کریں گی آپ” احواد کے عکس کو مخاطب کرتے وہ بڑبڑایا تھا کچھ دیر اسی پوزیشن میں بیٹھنے کے بعد وہ بھی مردوں والی سائیڈ پہ چلا گیا تھا
احواد عورتوں والی سائیڈ پہ آئی تو سٹیج پہ غزل اور سلیمان بیٹھے تھے اور فوٹو شوٹ چل رہا تھا کیونکہ اس کے بعد سلیمان نے مردوں والی سائیڈ پہ جانا تھا چودھرائن احواد کو دیکھتے اس کی طرف بڑھی تھیں
“تم اتنا لیٹ کیوں آئی ہو؟” اس کے قریب پہنچتے انہوں نے تھوڑے غصے سے پوچھا تھا
“جو مجھے چھوڑ کے آئے ہیں ان سے پوچھیں مجھ پہ کیوں غصہ کر رہی ہیں” اس نے لاپرواہی سے کہا تو چودھرائن نے اسے گھوری سے نوازا اور اس کا ہاتھ پکڑتے سٹیج کی طرف بڑھ گئی تھیں
پھر پورے فنکشن لے دوران اسے زعیم کہی نظر نہیں آیا تھا فنکشن کے ختم ہوتے وہ اپنی اماں اور انوشہ کو لے کر چلا گیا تھا اور پیچھے احواد بس پیچ و تاب کھا کے رک گئی تھی فنکشن کے دوران وقاص اک دو دفعہ عورتوں والی سائیڈ آیا تھا اور اس نے پوری کوشش کی تھی احواد سے بات کرنے کی مگر احواد نے اسے کوئی موقع ہی نہیں دیا تھا
رات کو جب سلیمان کمرے میں آیا تو غزل بیڈ پہ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی وہ اک گہری سانس بھرتا دروازہ بند کرتے بیڈ پہ اس کے سامنے آ کر بیٹھا اور بغور اسے دیکھا تھا اسے خود کو دیکھتا پا کر غزل کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا
“ہماری شادی کو کافی عرصہ ہو گیا ہے مجھے لگتا ہے میں نے اور آپ نے اس رشتے کو دل سے قبول کر لیا ہے تو ہمیں اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہیے آپ کا کیا خیال ہے؟” سلیمان نے اس کی لرزتی پلکوں پہ نظریں جمائے کہا تھا لیکن غزل کچھ نہ بولی بس اپنے ہاتھوں کو ہی مسلتی رہی تھی
“مجھے لگتا ہے آپ ابھی تک مینٹلی تیار نہیں ہیں کوئی بات نہیں میں آپ پہ کوئی زبردستی نہیں کروں گا” اس کی خاموشی کا اپنے پاس سے مطلب اخذ کرتے سلیمان نے اٹھنا چاہا تھا
لیکن اس سے پہلے ہی اس کے ہاتھ پہ غزل نے ہاتھ رکھا تھا سلیمان نے نظریں اٹھائیں تو سیدھی غزل کی نظروں سے ٹکرائی تھیں اور اس میں موجود رضامندی دیکھتے وہ بھرپور مسکرایا تھا
“مجھے بڑے بڑے وعدے تو نہیں کرنے آتے بس یہی کہوں گا میں ہمیشہ آپ کو وہ ساری خوشیاں دوں گا جو میرے بس میں ہوں گی میں ہمیشہ آپ کا وفادار بن کے رہوں گا اور بدلے میں آپ کی وفا چاہوں گا” سلیمان نے اس کا اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان لیتے کہا تو غزل نے سر ہلایا تھا اور پھر وہ دونوں مسکرا دیے تھے
__________________________
ولیمہ ہوئے دو دن گزر چکے تھے ہر چیز اپنے معمول پہ آ چکی تھی زین اور سلیمان نے بھی اک دو دن تک چلے جانا تھا کیونکہ وہ بہت زیادہ چھٹیاں کر چکے تھے
احواد یونی سے واپس آئی تو تھوڑی بجھی بجھی تھی زعیم نے نوٹ تو کیا تھا لیکن بولا کچھ نہیں تھا احواد کے پیچھے وہ بھی حویلی کے اندر آیا تھا کیونکہ اسے چودھری حشمت سے رجسٹر لینا تھا جو انہوں نے کل منگوایا تھا
وہ دونوں صحن عبور کر کے برآمدے کے پاس آئے تو وہاں موجود چودھری شجاعت کی پوری فیملی کو دیکھ کر وہ دونوں ٹھٹھکے تھے احواد نے اک نظر زعیم کو دیکھا تو وہ نظریں چرا گیا تھا کیونکہ وہ دونوں اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ وہ کیوں آئے ہیں برآمدے میں بیٹھے کس نفس کا دھیان ابھی ان کی طرف نہیں گیا تھا
“بھائی صاحب ہم چاہتے ہیں کہ وقاص اور احواد کا نکاح کر دیا جائے اور رخصتی آپ کے کہے کے مطابق اک سال بعد کر لیں گے اس طرح ہمارے وہم بھی دور ہو جائیں گے اور آپ کو ہماری روز روز کی اک ہی بات سننی نہیں پڑے گی” چودھری شجاعت کی بات سن کے احواد نے دانت پیس کے زعیم کو دیکھا تھا جو ہنوز نظریں چرا رہا تھا
“لیکن چچا سائیں لڑکی کا نکاح پہ نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟” چودھری حشمت سے پہلے احواد کی آواز وہاں گونجی تھی سب نے چونک کے صدمے اور بےیقینی سے آواز کی طرف گردنیں گھمائی تھیں جہاں احواد اطمینان سے کھڑی تھی جبکہ زعیم نے سختی سے آنکھیں میچتے آنے والے لمحوں سے بچنے کی دعا کی تھی
“کیا بکواس کر رہی ہو تم؟” سلیمان نے اٹھ کے ان کے پاس آتے غرا کے پوچھا تھا
“جو سچ ہے وہ بتا رہی ہوں میرا نکاح ہو چکا ہے اور اب نکاح پہ نکاح تو نہیں ہو سکتا نا” احواد کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا تھا
“کس سے کیا ہے تم نے نکاح بتاؤ مجھے میں آج ہی تمہارے ساتھ اس کی بھی قبر کھودوں گا” سلیمان اس کے بالوں کو پکڑتے غرایا تھا باقی سب ابھی تک صدمے کی کیفیت میں بیٹھے تھے سلیمان کے بال پکڑنے پہ زین خوش میں آتا تیزی سے ان کی طرف بڑھا تھا
“بھائی، بھائی کیا کر رہے ہیں چھوڑیں اس کے بال آپ بھی تو خود ہی نکاح کر کے آئے تھے اب اس طرح ری ایکٹ نہیں کر سکتے آپ اور کیا پتہ یہ سب مزاق ہو” زین نے اس کے بال چھڑواتے کہا تو سلیمان نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا
“میں بتایا تھا میں نے نکاح کیوں کیا تھا لیکن پھر بھی تم نے ایسا کہا؟” اس کے لہجے میں بےیقینی ہی بےیقینی تھی جیسے اسے زین سے اس بات کی امید نہ ہو
“میں بھی وقاص سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھی اس لیے کر لیا نکاح لیں میں نے بھی بتا دی وجہ بات ختم” احواد نے اس کی بات پکڑتے کہا تھا اس کی بات سن کے چودھری شجاعت کی فیملی کو تپ چڑ گیا تھا
“کس سے کیا ہے نکاح؟” چودھری حشمت نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تو سب کا دھیان ان کی طرف ہوا تھا جو سرخ آنکھوں سے احواد کو ہی دیکھ رہے تھے
“آپ کے لاڈلے چہیتے زعیم سے” احواد نے زعیم کا بازو پکڑتے اسے آگے کرتے اک اور بمب ان کے سر پہ پھوڑا تھا اس دفعہ سب کی پھٹی پھٹی نظریں زعیم کی طرف اٹھی تھیں جو گردن اور نظریں جھکائے کھڑا تھا
“دیکھ لیں بھائی صاحب اپنی اولاد اور اپنے نوکروں کو سر پہ چڑھانے کا نتیجہ ہمیشہ میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن آپ نے تو کھبی میری سنی ہی نہیں بھگتیں اب اٹھو چلو سب اب ہم مزید یہاں رہ کے اپنی بےعزتی نہیں کروا سکتے” چودھری شجاعت نے چودھری حشمت کو باتیں سنائی اور پھر اپنی فیملی کو کہا تو وہ سب جلتے بھنتے اٹھ گئے تھے وقاص نے احواد کے پاس سے گزرتے اک گھوری سے اسے نوازا تھا بدلے میں احواد نے اک مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتے اسے مزید جلایا تھا
“کیوں زعیم؟” ان کے جاتے چودھری حشمت نے زعیم کو دیکھتے دکھ سے پوچھا تھا زعیم نے اپنی سرخ آنکھوں کو بند کرتے مزید گردن جھکائی تھی
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن سے نکاح کرنے کی؟ شرم نہیں آئی تمہیں جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا کیوں؟” زعیم سر جھکائے کھڑا تھا سلیمان اس کا گریبان پکڑے اسے جھنجھوڑ رہا تھا جبکہ احواد بیزاری سے سب کچھ دیکھ رہی تھی
“میں زندہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں تمہاری غداری کی سزا صرف اور صرف موت ہے” سلیمان تیزی سے اندر گیا اور پسٹل لا کر اس کے سر پہ تانی تھی اس دوران باقی سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے
“رک جاؤ” اس سے پہلے کے وہ گولی چلاتا پیچھے سے آتی چودھری حشمت کی آواز پہ ٹریگر پہ دباؤ ڈالنے سے پہلے ہی اس کی انگلی رکی تھی
“نکاح تو ان لوگوں نے کر ہی لیا ہے پیچھے کیا بچتا ہے اسے اس کے ساتھ رخصت کر دو گھر کی بات گھر میں ہی رہ جانے دو باہر کسی کو پتہ چلا تو جگ ہنسائی ہماری ہی ہو گی جو مرضی کر لو ایسی باتیں کہاں چھپی رہ سکتی ہیں بھلا” ان کی باتیں سن کے زعیم شرمندگی سے زمین میں گڑ گیا تھا وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا مگر ہائے رے یہ مجبوریاں انسان سے کیا کیا کروا جاتی ہیں
“یہ کیا کہہ رہیں آپ بابا” سلیمان نے تلملاتے ہوئے کہا تھا
“ٹھیک کہہ رہا ہوں میں جاؤ اور سارے جا کر تیاریوں کرو ٹھیک اک ہفتے کے بعد اس کی رخصتی ہو گی اور پھر اس کے بعد اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا” انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا اور سب کو وہاں سے ہٹنے کا کہا تھا زعیم بھی سرخ چہرہ لیے وہاں سے ہٹ گیا تھا اور جس کی آفر کو قبول کیے یہ سب کیا تھا وہ بغیر کسی بات کو سر پہ سوار کیے اطمینان سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
جاری ہے______________!!
