Tu Jaane Na by Arfa Ijaz NovelR50828 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04
Rate this Novel
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode01 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode02 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode03 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04 (Watching)Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode05 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode06 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode07 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode08 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode09 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode10 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode11 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode12 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode13 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode14 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode15 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode16 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode17 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode18 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode19 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode20 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode21 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode22 Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartA) Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Last Episode(PartB)
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04
Tu Jaane Na by Arfa Ijaz Episode04
اگلے دن چوہدری حشمت کا سارا خاندان اور تقریباً پورا گاؤں بڑی حویلی میں آن وارد ہوا تھا جو بھی سنتا کہ چوہدری حشمت کے بڑے بیٹے سلیمان چوہدری نے شادی کر لی اور اس کی دلہن شہری ہے تو وہ جھٹ بڑی حویلی پہنچتا تا کہ شہری ووہٹی (دلہن) کو دیکھ سکے جیسے وہ تو کوئی آٹھواں عجوبہ ہو
دلہن دیکھ کر سب کا پہلا یہی سوال ہوتا ہے کہ یوں اچانک اور بن بتائے کیسے شادی ہو گی اور سب سے پہلے یہ سوال پوچھنے والی چوہدری شجاعت کی بیگم تھیں جو چوہدرائن اور ان کے بچوں کو زیادہ پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ ہر کوئی ان کے دونوں کا موازنہ چوہدرائن کے تینوں بچوں کے ساتھ کرتا تھا اور وہ اس چیز سے خار کھاتی تھیں سب کو یہی بتایا گیا تھا کہ غزل کے بابا کی پہلے ہی وفات ہو چکی تھی اور اک ماں تھیں جن کی خواہش پہ نکاح کیا گیا تھا اور اب وہ بھی اس دنیا میں نہیں رہی تھیں
زعیم کو بھی اس بات کی خبر صبح ہی ہوئی تھی جب وہ احواد کو یونی کے لیے لینے آیا تھا تب چوہدری حشمت نے آج اس کی چھٹی کا بتایا اور ساتھ ہی چھٹی کی وجہ بتائی تھی زعیم انہیں مبارکباد دے کر ڈیرے چلا گیا تھا ویسے بھی کل ان کے درمیان ہوئی تلخ کلامی کے بعد زعیم کا بھی دل نہیں کر رہا تھا اس کی شکل دیکھنے کا کم از کم اک دن تو اس کی یہ خواہش پوری ہو رہی تھی
“ویسے بھرجائی لگتا ہے بہو میں نخرہ بہت کب سے ہم بیٹھے ہیں مجال ہے جو کوئی بات کی ہو اس نے؟” جب اور کچھ نہ سوجھا تو بیگم شجاعت نے اک نیا اعتراض کیا تھا
“ارے چچی سب میری اور آپ کی طرح تھوڑی ہوتے ہیں کچھ لوگ بھابھی کی طرح خاموش طبع کے ہوتے ہیں” چوہدرائن نے کے بولنے سے پہلے احواد بول اٹھی تھی
اکثر اس کی زبان کے جوہر دیکھ کر چوہدرائن اس سے کہتی تھیں کہ تم ناجانے کس پہ چلی گئی ہو تو وہ فٹ سے کہتی تھی کہ چچی پہ چلی گئی ہوں وہ بھی اگلا کا لحاظ کیے بنا جو منہ میں آتا تھا وہی بول دیتی تھیں ابھی بھی اس نے اسی بات کا حوالہ دیا تھا چوہدرائن نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں جبکہ غزل نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا تھا
“اس کو چھوڑو تم یہ تو بس بکواس کرتی رہتی ہے اک بہو بولتی کم ہے دوسرا یہاں پہ سب اس کے لیے نئے ہیں تو بس جھجھک ہے تھوڑی” بیگم شجاعت کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھتے چوہدرائن نے بات سنبھالنی چاہی تھی جبکہ بیگم شجاعت کی چھوٹی بہو بہت خوش ہوئی تھی اسے تو وہ بولنے نہیں دیتی تھیں اور احواد کے سامنے ان کی اپنی نہیں چلتی تھی
“لگتا ہے بھرجائی آپ کے، بھائی صاحب اور بھائیوں کے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے اس لیے یہ دن با دن منہ پھٹ ہوتی جا رہی ہے” بیگم شجاعت نے اسے گھوری سے نوازا تھا لیکن سامنے پرواہ کسے تھی
“ارے نہیں تو چچی جان میں تو بہت معصوم ہوں لیکن پتہ نہیں کیوں جس سے بات کرتی ہوں وہ مجھے اپنے بچوں سے ملانا شروع کر دیتے ہیں” اس نے درپردہ ان کے بچوں پہ طنز کیا تھا
“احواد اٹھو یہاں سے اور جاؤ کچن میں سب کے لیے چائے بنا کے لاؤ” چوہدرائن نے غصے سے کہتے اسے وہاں سے اٹھانا چاہا تھا
“ارے اماں سائیں آپ کو تو پتہ ہے پہلے یونی اور پھر گھر آ کے اسائنمنٹس میرے پاس کہاں ٹائم ہوتا گھر کے کام سیکھنے کے لیے لیکن اگر پھر بھی آپ لوگوں کو چائے پینی ہے تو میں تیار ہوں آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کا شاہکار پیلانے کے لیے جسے پینے کے بعد آپ ساری عمر بھول نہیں سکے گئی” احواد نے مسکراہٹ دباتے بیگم شجاعت کو دیکھا تھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“نہیں رہنے دو تم میں نے جو تمہارے ہاتھ کی اک دفعہ چائے پی ہے وہی بہت ہے مجھے مزید کی تمنا نہیں ہے” اس پہلے کہ وہ کچن کی طرف بڑھتی بیگم شجاعت کے تیزی سے بولنے پہ وہ رکی تھی
اور اپنا پلان کامیاب ہونے پہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی تھی وہ بیگم شجاعت کے سامنے خود کو بہت زیادہ پھوہڑ اور بدتمیز ظاہر کرنے کی کوشش کرتی تھی تا کہ وہ خود ہی اس رشتے سے انکار کر دیں اور اس کی وقاص نامی بلا سے اس کی جان چھوٹ جائے
“بھرجائی ہانڈی روٹی بھی سیکھائیں اسے کچھ یا ہمارے گھر آ کر پڑھائی کا اچار بنا کر ہمارے سامنے رکھا کرے گی ماشاءاللہ سے میرا وقاص تو نت نئے کھانوں کا شیدائی ہے” بیگم شجاعت نے چوہدرائن کو اپنے نایاب مشورے سے نوازا تھا
“زہر نہ کھلا دوں میں آپ کے چہیتے وقاص کو نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری” احواد دانت پیستے ہوئے بڑبڑائی تھی
“جی چچی آپ بےفکر رہیں آپ کے بیٹے کو تو میں ایسے کھانے کھلاؤں گی کے اسے میرے علاوہ کسی اور کے ہاتھ کا کھانا پسند ہی نہیں آئے گا” احواد نے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے کہا تھا بیگم شجاعت نے مشکوک نظروں سے اس کی مسکراہٹ کو دیکھا تھا
“دیکھیں گے” سر جھٹکتے انہوں نے احواد کی بات کو ہوا میں اڑایا تھا جیسے انہیں یقین ہو کے ایسا کچھ نہیں ہو گا کیونکہ ان کے نزدیک وہ بس اچھے طریقے سے زبان ہی چلا سکتی تھی
“چلیں دیکھ لیجیے گا مگر فلحال مجھے اسائنمنٹ بنانی ہے اس لیے اپنے کمرے میں جا رہی ہوں میں” احواد نے کہا اور وہاں سے اٹھ گئی تھی جبکہ بیگم شجاعت کی گھورتی نظروں نے اس کا دور تک پیچھا کیا تھا
______________________________
احواد صبح یونیورسٹی جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی تو زعیم کو دیکھ کر اسے تھوڑی حیرت ہوئی تھی اسے لگا تھا اس دن کی باتوں کے بعد وہ اس ڈیوٹی کو خیر آباد کہہ دے گا لیکن وہ یہ بھول رہی تھی کہ اس کے معاملے میں چوہدری حشمت زعیم کے علاوہ کسی پہ بھی بھروسہ نہیں کر سکتے تھے
یونیورسٹی پہنچ کر فائز کو دیکھتے اسے پھر اپنی اور حشمت صاحب کے باتیں یاد آ گئی تھیں جن سے یہ واضح تھا کہ وہ اس کی شادی وقاص کے سوا کسی سے نہیں کریں گے اس نے فائز سے بات کرنی چاہی تھی لیکن کلاسز کی وجہ سے وہ کر نہیں پائی تھی پھر فری کلاس میں وہ اسے لیے ڈیپارٹمنٹ کے بلکل الگ تھلگ گوشے میں آ کر بیٹھے تھے دوست ہونے کے باوجود وہ اک دوسرے سے کم ہی بات چیت کرتے وجہ وہی تھی کہ کوئی احواد کے کریکٹر کو لے کر کوئی بات نہ کہہ دے
“پرسو زعیم نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا تھا” بیٹھتے ہی احواد نے کہا تھا جسے سن کے فائز کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات ابھرے تھے
“پھر؟ کچھ کہا تو نہیں اس نے تمہیں؟ یا گھر جا کے تمہارے بابا سائیں کو تو نہیں بتا دیا کچھ؟” اس نے پریشانی سے پوچھا تھا
“نہیں بابا سائیں کو تو اس نے کچھ نہیں کہا اگر کچھ کہا ہوتا تو وہ لازمی مجھ سے باز پرس کرتے لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا لیکن زعیم نے ضرور کہا تھا کہ یہ دوستی ہم دونوں کے لیے مہنگی ہو سکتی ہے” اس کی پہلی بات سن کے جہاں اسے تھوڑا اطمینان ہوا تھا وہی آخری بات پھر پریشانی کا باعث بنی تھی
“فائز کیا تم مجھ سے مح،،، میرا مطلب کیا تم مجھے لے کے سیریس ہو مطلب کیا تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو” فائز کے کچھ بھی بولنے سے پہلے احواد بولی تھی شکل سے صاف گھبراہٹ عیاں ہو رہی تھی
وہ چاہے جتنی بھی بولڈ بنتی لیکن جس ماحول میں اس کی پرورش ہوئی تھی اس کا ہی اثر تھا یہ بات پوچھتے ہوئے فطری شرم و گھبراہٹ آڑے آ رہی تھی لیکن پوچھنا بھی ضروری تھا تا کہ وہ اس سارے معاملے کے بارے میں کوئی حل نکال سکے
“نہیں ٹائم پاس کر رہا ہوں” فائز کی بات سن کے احواد نے جھٹکے سے سر اٹھا کے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا
“اب ایسے آنکھیں پھاڑ کے کیا دیکھ رہی ہو جیسا بےتکا تم نے سوال پوچھا ہے ویسا ہی بےتکا میں نے جواب دیا ہے ظاہر سی بات ہے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ورنہ مجھے کیا پڑی ہے میں ویسے ہی تمہارے اردگرد گھومنے کی اور اگر تم سمجھ رہی ہو کے میں بھی باقی سب لڑکوں کی طرح ٹائم پاس کروں گا اور پھر چھوڑ دوں گا تو تم غلط سمجھ رہی ہو کیونکہ میں خود دو بہنوں کا بھائی ہوں میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس کا مکافات عمل میری بہنوں کو بھگتنا پڑے” فائز کی باتوں سے وہ کافی حد تک مطمئن ہو گئی تھی
“مگر بابا سائیں نہیں مانیں گے” حشمت صاحب کی باتیں یاد کرتے اس نے افسردگی سے کہا تھا فائز کے کچھ بھی پوچھنے سے پہلے اس نے اپنے اور حشمت صاحب کے درمیان ہوئی باتیں اس کے گوش گزار دی تھیں
“اگر تم کہو تو میں اپنے پرینٹس کے ساتھ آؤں تمہارے گھر تمہارے بابا سائیں سے بات کرنے شاید وہ مان ہی جائیں” فائز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
“بلکل بھی نہیں ایسا کر کے تم ان کے عتاب کو دعوت دو گے اور میں نہیں چاہتی کے میری وجہ سے تمہیں یا تمہارے پرینٹس کو کوئی تکلیف یا ذلت اٹھانی پڑے” احواد نے جھٹ اس کی بات سے انکار کیا تھا
“تو کیا پھر ہمارا معاملہ ایسے ہی لٹکا رہے گا؟” فائز نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
“میں اک دفعہ پھر کسی بہانے سے بابا سائیں سے بات کرنے کی کوشش کروں گی پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے” احواد نے کہا تو فائز نے سر ہلایا تھا
“اچھا تم کل چھٹی پہ کیوں تھی؟” فائز نے ٹاپک چینج کرتے پوچھا تھا
“ہاں وہ میرے بھائی کا نکاح کر کے آئیں ہیں تو کل گھر میں سب رشتے دار جمع تھے اس لیے نہیں آ سکی تھی” احواد نے اسے نکاح کی اصل وجہ نہیں بتائی تھی بس نکاح کا بتایا تھا اور ساتھ ہی اپنی اور اپنی چچی کی گفتگو بھی سنائی تھی جسے سن کے فائز کافی دیر تک ہنستا رہا تھا
“اوہ تو احواد صاحبہ شادی کے بعد وقاص صاحب کے لیے اپنے ہاتھوں سے نت نئے کھانے بنایا کریں گی اور کیا اپنے ہاتھوں سے ہی کھلایا کرو گی؟” فائز نے شرارت سے اسے چھیڑا تھا
“اسے اپنے ہاتھوں سے زہر نہ کھلا دوں تا کہ اک ہی دفعہ اس سے جان چھوٹ جائے اور ساتھ تھوڑا سا تمہیں بھی کھلا دوں گی” احواد نے اسے گھورتے ہوے کہا تھا اور غصے سے وہاں سے اٹھ گئی تھی پیچھے فائز کو اک بار پھر ہنسی کا دورا پڑ گیا تھا
________________________________
زعیم احواد کو یونی سے لینے آیا تھا اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی زعیم نے زن سے گاڑی گاؤں کی طرد بگائی تھی اس نے اک نظر بھی احواد پہ ڈالنا گوارا نہیں کی تھی اسے احواد کی باتوں سے دکھ ضرور ہوا تھا لیکن پھر اس نے سوچا تو اسے احواد کی باتیں ٹھیک ہی لگی تھیں وہ ان کے گھر کا ملازم تھا اور ان کے نجی معاملات میں دخل دینے والا وہ کون ہوتا تھا
احواد نے اک دو دفعہ زعیم پہ نگاہ ڈالی تھی جو لب بھینچے سڑک پہ نظریں گاڑے خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا وہ حویلی پہنچے تو حویلی کا گیٹ پہلے ہی کھلا ہوا تھا جہاں سے اک گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی
“زین بھائی” گاڑی کو پہچانتے احواد چلائی تھی اس کے چلانے پہ زعیم نے بس اک سرسری سی نظر اس پہ ڈالی تھی اور اس گاڑی کے پیچھے جا کر گاڑی پارک کی تھی گاڑی رکتے ہی احواد تیزی سے گاڑی سے نکلی تھی اور بھاگتے ہوئے جا کر زین کے گلے لگی تھی
“واٹ آ سرپرائز آپ نے اپنے آنے کا بتایا ہی نہیں” اس نے کہا تو زین نے مسکراتے ہوئے اس کا سر چوم کے اسے پیچھے کیا تھا
“میں آفس کے کام سے دو دن کے لیے آؤٹ آف سٹی گیا ہوا تھا اس لیے مجھے بھائی کے کارنامے کا پتہ نہیں چلا تھا اب پتہ چلا تو بغیر وقت ضائع کیے چھٹی لے کر یہاں پہنچ آیا تا کہ میں بھی بھائی کو ان کی خانہ بربادی کی مبارکباد دے سکوں” زین نے شرارت سے کہا تو احواد ہنس پڑی تھی اتنے میں زعیم بھی ان کے نزدیک آ چکا تھا
“السلام علیکم زعیم بھا کیسے ہیں آپ؟” اس کے گلے لگتے زین نے پوچھا تھا اس کے انداز میں گرمجوشی تھی جسے محسوس کرتے زعیم مسکرایا تھا جبکہ احواد کے منہ کے زاویے بگڑے تھے
زین اس کے ساتھ بہت اٹیچ تھا جب زعیم ان کے ہاں آیا تھا تو وہ سکول سٹوڈنٹ تھا ان دونوں کی آپس میں اچھی خاصی بنتی تھی اور زین اسے پیار سے زعیم بھا کہتا تھا اور شہر جانے کے بعد بھی اس کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی وہ جب بھی زعیم سے ملتا تھا گرمجوشی اور محبت سے ہی ملتا تھا
“وعلیکم السلام اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں تم سناؤ” زعیم نے سنجیدگی اور محبت سے جواب دیا تھا
“میں بھی فرسٹ کلاس” زین نے پیچھے ہوتے جواب دیا تھا
“اس چوہیا کو یونی لانے اور لے جانے کی ابھی تک آپ کی ہی ڈیوٹی ہے؟” شرارت سے احواد کو دیکھتے اس نے زعیم سے پوچھا تھا جس نے بس سر ہلایا تھا جبکہ احواد نے اسے گھورا تھا
“کیا زعیم بھائی آپ ابھی تک کھڑوس کے کھڑوس ہی ہیں پتہ نہیں کب ہماری بھابھی ملیں گی دعا کروں گا کہ وہ تو تھوڑی نٹ کھٹ ہوں تا کہ آپ کا بھی یہ کھڑوس پن زرا کم ہو” زعیم کے بس سر ہلانے پہ زین نے جھلا کے کہا تھا
“تم فضول بکواس مت کرو اور اندر جاؤ میں بھی ڈیرے جا رہا ہوں” زعیم نے اسے آنکھیں دیکھاتے کہا تھا اور گیٹ کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ زین بھی ہنستے ہوئے احواد کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا
“السلام علیکم ایوری ون” حویلی کے وسیع برآمدے میں اس وقت سلیمان، غزل، چوہدری حشمت اور چوہدرائن بیٹھے ہوئے تھے زین کی آواز سن کر سب نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا تھا اور سب باری باری اٹھ کے اسے ملے تھے
“تم نے آنے کا بتایا نہیں تھا” سلیمان نے اس کی اچانک آمد کے بارے میں پوچھا تھا
“میں نے کہا بھائی نے شادی کا سرپرائز دیا ہے میں سب کو اپنی شکل مبارک دکھا کے سرپرائز دے دیتا ہوں” اس نے شرارت سے کہا تو سب ہنس دیے تھے اور غزل جھینپ گئی تھی
“بکواس نہ کر” سلیمان نے اسے گھورا تھا
“ویسے بھابھی دو دن ہو گئے آپ کو اس چوہیا کی صحبت میں رہتے ہوئے ابھی تک آپ بولنا نہیں سیکھیں؟ اس کی بک بک کے سامنے تو مردے بھی بولنے لگ جاتے ہیں آپ تو پھر انسان ہیں” زین نے بظاہر سنجیدگی سے پوچھا تھا لیکن آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں
“زین بھائی آپ کی ہونے والی بیوی ہو گی چوہیا خبردار جو مجھے چوہیا بولا تو” احواد نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا
“ارے میری بیوی تو بلکل غزل بھابھی جیسی معصوم ہو گی اور تمہارا دولہا ہو گا چوہا کیونکہ چوہیا کا دلہا چوہا ہی ہوتا ہے ویسے آپس کی بات ہے وقاص لگتا بھی چوہا ہے” اونچی آواز میں کہتے آخر میں اس نے بلکل دھیمی آواز میں احواد کے کان میں کہا تھا
اونچی آواز میں کہنے پہ اسے چوہدری حشمت سے جوتے بھی پڑ سکتے تھے کہہ کے وہ وہاں رکا نہیں تھا بلکہ اس نے دوڑ لگا دی تھی اور احواد چیختے اس کے پیچھے بھاگی تھی غزل آنکھیں پھاڑے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اس کے لیے یہ سب کچھ نیا تھا جبکہ ان تینوں کے لیے یہ سب معمول کی بات تھی اس لیے وہ نارمل بیٹھے ہوئے تھے
جاری ہے_____________!!
